Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 1

0
آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 1

–**–**–

{پہلا باب}
…قمقمے…

ہوسٹل کی چھت پر بیکار دو گھنٹے کھڑے رہنے کے بعد عام طور پر نیند کے آثار نظر آنے لگتے ہیں ، اسے بھی آنے لگے ۔ رات کے پونے بارہ تھے اور چاندنی ہر طرف دل کھول کر برس رہی تھی۔ سستائے ہوئے دلوں کو رک جانے کا ایک اور موقع فراہم کرتی ہوئی اور وہ جو کسی کی ایک عام سی رات کو خاک سے خاص اور خوبصورت بنا دیتی ہے اور بجھے ہوئے چراغوں میں ایک انجانی سی روشنی بھر دیتی ہے … وہی چاندنی جو کچھ کچھ امید امید سی اور کچھ کچھ ناامید ناامید سی نظر آتی ہے۔
اس نے چوتھا سگریٹ سلگایا، ایک عجیب بے ڈھنگا ساکش لیا اور پھر گذشتہ تین سگریٹوں کی طرح پھر کش لگانا بھول گیا۔سگریٹ اور خیال کچھ دیر کے لیے جلتے رہے اور تب نیچے سیڑھیوں پر سے کسی کے قدموں کی مدھم آواز سنائی دینے لگی۔ کوئی چھت پر آگیا ، وہ مڑا نہیں ۔
سر کو اک جھٹکا دے کر اس نے صرف اتنا کہا؛’’ جاگ رہے ہو؟ ‘‘ سننے والے کو ایسا لگا جیسے اس کے چہرے پرمسکراہٹ ہو ، اسے نظر تو نہیں آئی لیکن الفاظ کی ملائمت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لیا جاسکتا تھا۔
آنے والا وہیں رک گیادروازے کے پاس اور بولا؛’’ ہاں جاگ رہا تھا…سوچا باقی سب سو رہے ہوں گے اس لیے گئے رات چھت پر جا کر سگریٹ پیتا ہوں ‘‘
وہ دونوں ہنس پڑے ۔ہنسی خاموشی میں گھل گئی اور چاند نے بھی چاندنی بڑھا کر مسکرانے کا اظہار کردیا ۔اس نے چاند کی طرف دیکھا اورسوچا …
نہ جانے کیوں اپنی اداسی میں چاند بھی اداس اور خوشی میں خوش نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں نہ چاند کا خوشی سے تعلق ہے اور نہ اداسی سے مگر دیکھنے والے اس کو ان چیزوں جوڑے جاتے ہیں جن سے وہ دور دور تک آشنا نہیں۔
’’کیا کررہے ہو یہاں؟ ‘‘وہ لڑکا یہ کہہ کر دروازے کے ساتھ فرش پر ہی بیٹھ گیا۔ نیچے بیٹھتے ہی اس کے منہ سے ایک چھوٹی سی آہ نکلی، یقینََ فرش بے حد ٹھنڈا لگا ہوگا، نومبر شروع ہو چکا تھا یعنی راتوں کوٹھنڈ پڑنی شروع ہو چکی تھی ۔نومبر کی ابتدا سے ہر رات ہلکی ہلکی پھوار آسمان سے اترتی ہے اور دن میں آنے والی سردی کے لیے بنیادیں ڈالتی ہے کسی عام باپ کی طرح جسے بیٹی کے جہیز کی خاطر بیس سال پہلے ہی سے فاقے شروع کرنے پڑتے ہیں…
سہنے والے جتنا سہہ لیں دنیا کی تاب نہیں لا سکتے، اس کا معیار انوکھا ہے جو وہ خود بھی پرکھ نہیں سکتی!
’’ توکچھ نہیں، چلیں‘‘ سگریٹ پھینک کر وہ واپس مڑا اور اپنی پتلون کی جیبوں میں ہاتھ ٹھونس کر کھڑا ہوگیا۔ کتنا پیارا لگتا ہے نا جب کوئی ایسا کرتا ہے عموما لڑکے کیونکہ لڑکیاں پینٹ شرٹ یہاں پاکستان اور ہندوستان میں بہت کم پہنا کرتی ہیںجو پہنتی بھی ہیںتولڑکوں کو بری لگتی ہیں۔
دو چار گھڑی وہ فرش پر بیٹھے اپنے دوست کو دیکھتا رہا۔ چاند کی تیز سبز روشنی ،دورکے ان پہاڑوں کے پاس والے سمند رکی ہواوں کو چومتی ہوئی اس کے بالوں میں بکھر رہی تھی ۔
’’آنند! (Aanand) ‘‘ اس لڑکے نے اسے جاتے ہوئے روک لیا ۔
’’ہاں کیا ہے؟ ‘‘۔ہوا کی سائیں سائیںبڑھ گئی۔
’’ روہت (Rohit) بتاو مجھے نیند آرہی ہے بہت، ویسے بھی صبح کالج میں فنکشن ہے جلدی پہنچنا ہے ہمیں‘‘اس ہلکی روشنی میں کوئی قمقمے اس کی آنکھوں کے قریب لاتا تو اس کی لال لال آنکھیں اسے صاف نظر آجاتیں ۔ہوسٹل جب سے تبدیل ہوا تھا نیند اس کے ہاتھ سے ایسے گئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ ، ورنہ پہلے نہ اس نے اتنی رات کو سگریٹ پی تھی اور نہ ہی اتنی رات کو چھت پر ٹہلنے کی عادت پالی تھی۔ روہت خاموش رہا ، کافی دیر … اسے دیکھنے پر ایسا لگتا تھا کہ اس نے زندگی میں کبھی کوئی رنگ نہیں دیکھا ہوگا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی یہ آنند کا پکا یقین تھا ۔ روہت زیادہ تر بے ر نگ لگتا ہے اور کسی نہ کسی دن یہ احساس بھی دل سے ٹکراتا ہے کہ دنیاکے سبھی رنگ اس نے اپنے اندر جذب کر لیے ہیں، مانو ایک ایسا رنگ ہے جو اتنا گاڑھا ہے کہ بالکل سیاہ لگتا ہے ، پر نظر ڈالنے والوں کو یہ شبہ تک نہیں ہوتا کہ اس کا رنگ سیاہ نہیں تھا، وہ تو کوئی اور تھا۔ وہ سیاہ نہیں ہوسکتا، وہ گاڑھا نیلا تھا یا سرخ یاپھرچاند کی طرح سبز یا سورج کی طرح سنہرا ،جو اب ان میں سے کوئی نہیں بھی رہا۔
’’ میں کل چلا جاوں گا‘‘ روہت نے آخر کار اپنے ہونٹ ہلائے۔
’’ کہاں؟‘‘
’’ وہ …آدمی تمہیں یاد ہے جس سے کچھ مہینے پہلے لاہور سٹیشن پر ملاقات ہوئی تھی۔وہ جس کی یہ موٹی سی عینک تھی (ہاتھ سے عینک کی چوڑائی دیکھا کر) ،یاد ہے تمہیں؟‘‘ روہت کہتا گیا اور آنند سوچ میں ڈوبتا گیا۔ اس کا ہاتھ جیب سے نکل کر ہونٹوں کے قریب پہنچ گیا۔
’’ ہاں ہاں یاد ہے کیا نام تھا ان کا…ڈاکٹر؟… ڈاکٹر؟ ‘‘
’’ ڈاکٹر راجندر!‘‘
’’ ہاں ڈاکٹر راجندر،لیکن کیا ہوا؟‘‘اس نے ہنس کر کہا۔
’’ مجھے آج سویرے ہی بشیر عالم کی چٹھی ملی ہے اس نے بتایا کہ ان کا انتقال ہوگیا ہے یہی چند دن پہلے ، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ… ‘‘روہت بات کرتے کرتے یک دم رک گیا، ہوا کا رخ بدلا اور چاند نے بادلوں کا لحاف اوڑھ لیا۔
’’کیا بات؟‘‘
’’کہ وہ مرنے سے پہلے مجھے کچھ بتانا چاہتے تھے! …پتہ نہیں کیا ہوگا‘‘
’’کیسے ہوئی موت ؟‘‘ آنند چاندکی طرف منہ پھیر کر بولا۔
روہت خاموش تھا، ایک چھوٹا سا جھکڑچلا جس سے ریت کے کچھ زرے آنند کی ایک آنکھ میں داخل ہوگئے۔آنکھ میں فوراَ سے پہلے ہی سیلاب آگیا۔ جراثیم آنکھوں میں دخل ہوں تواس کی نمی بڑھ جاتی ہے اور وہ نمی جسم کا ردعمل ہوتا ہے ،یہ ردعمل ہمیشہ فائدہ مند رہے گا، جسم کی صحت کی طرح رشتوں میں بھی کبھی کبھی ایسے جراثیم داخل ہوتے ہیں، اور جن رشتوںکی Immunityکمزور ہوتی ہے وہ مر جایا کرتے ہیں۔
’’مرڈر …بشیر عالم نے یہی بتایا ہے‘‘
آنکھ ملتے ہوئے وہ بولا؛ ’’ لاہور جانے کا ارادہ رکھتے ہو؟‘‘
’’ ہاں لیکن…‘‘
آنند نے فوری طور پر جواب دیا؛ ’’ لیکن کیا ، K2 ٹرپ پر بھی تمہارے ساتھ تھے وہ، اچھی خاصی دوستی تھی تمہاری ان کے ساتھ ، تمہیں جانا چاہیے ‘‘روہت نے جسم کو دھیرے دھیرے سیدھا کرتے ہوئے ہولے سے کہا؛ ’’آنند… میں چاہتا ہوں تم بھی میرے ساتھ آو، لاہور ‘‘
آننداچھل پڑا اور آنکھ ملنی بند کردی۔ ’’ میں؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا! ‘‘
’’آنند میری بات سنو ، آنند! ‘‘۔روہت نے لگ بھگ چیخ کر اس کو روکا۔ دروازے کے پاس رک کروہ مڑا اور اندھیرے میں بھی آنکھیں سکیڑ کر بولا ؛ ’’ میرا کیا کام ہے وہاں، تم نے جانا ہے تو جاو، تمہاری دوستی تھی ان سے میری تو نہیں تھی! اگر لازمی کسی کو لے کر جانا ہے تو وجئے کو لے جاو ، ویسے بھی اسے لاہور دیکھنے کا بہت شوق ہے ‘‘
اس کے بعد وہ قدرے نرم لہجے میں بولا؛ ’’دیکھو روہت، اگر تم کو جانا ہے تو چلے جاو، ویسے بھی وہ بات کونسی خاص ہو سکتی ہے ، امتحان قریب ہیں پٹ پٹ کے فیل ہوگے ،اونھ‘‘
روہت ایک بچے کی طرح التجا کرنے لگا؛ ’’آنند پلیز آ جاو میرے ساتھ، تم لاہورکے چپے چپے سے واقف ہو ،تمہارا تو گھر ہے لاہور میں ، مجھے تمہارے گھر والوں سے ملنے کا بھی موقع مل جائے گا ‘‘۔ آنند پر ایسے ہی حربے بہت چلتے تھے اس لیے روہت نے جذباتی داو پیچ استعمال کیے۔
’’آنند پلیز!دوست کے لیے اتنا بھی نہیں کرو گے؟ ‘‘ وہ کسی فلمی ہیرو کی طرح آنند کا ہاتھ تھام کر بولا۔ ہاتھ بے حد یخ تھا لیکن اس نے محسوس کیا کہ صرف دو انگلیاں تھیں جو گرم تھیں ۔ ایک مڈل فنگر اور دوسری انڈیکس فنگر۔ (سگریٹ کی وجہ سے)
چاند نے بادلوں کا نقاب چاک کیا اور آنند کا جواب سننے کے لیے ہوا ایک لمحہ خاموش ہوگئی ۔ آنند کی بے جان آواز نکالی ؛ ’’ ٹھیک ہے کل جائیں گے اور جلدسے جلد واپسی ہوگی ہماری، امتحانات ہماری گردن تک پہنچ گئے ہیں پہلے تو میں کالج کے فنکشن کے خلاف ہوں اور اب جناب…‘‘
روہت نے بات کو بیچ میں کاٹا؛ ’’ ہاں ہاں !اب ہم دونوں چند دنوں کے لیے کہیں جارہے ہیں تو پڑھائی کو بھاری نقصان ہوگا، تم بھی بالکل پروفیسر ہٹلر کی طرح بنتے جارہے ہو ‘‘۔
آنند دروازے کی جانب بڑھا لیکن روہت نے دوبارہ روکا۔
’’اب کیا ہے؟ ‘‘وہ چڑ گیا۔
’’کچھ نہیں ‘‘روہت نے مسکرا کر یہ دو الفاظ ادا کئے اور آنند کے چلے جانے کے بعد وہ کافی دیر ان سیاہ بابوں کے متعلق سوچتا رہا جو قسمت اور زمانے نے ان کے منہ پر مارنے تھے۔چھپے راز اور اندھیری حقیقتیں کبھی اچھی نہیں ہوتیں… اسے معلوم ہونے والا تھا کہ بچپن میں سنا محلے کے ایک بھنگی کا فلسفہ …کیا سچ تھا یا جھو ٹ یا فلسفے سچے یا جھوٹے ہوتے ہی نہیں … وہ تو اسی میں ڈھل جاتے جس پہ آپ یقین کرنا چاہتے ہوں …
٭٭٭
کھڑکی میں تاروں سے لدا آدھا آسمان دیکھائی دے رہا تھا ۔ وہ چمکتے ننھے ننھے سفید تل اس کی کلائی پر بندھی گھڑی کی طرح… آسمان کے ماتھے کی بندیا کے آس پاس بھٹک رہے تھے۔ وہ صوفے پر بیٹھی، ٹیلیفون کافی دیرہوئے کان سے چپکائے ہوئے تھی۔کبھی ایک کان تو کبھی دوسرا کان ۔ دوسری طرف سے کسی نے فون اٹھا لیا۔
’’ ہیلو …ہاں! (مسکراتے ہوئے)… ایک دن بعد، اچھا بہتر …سالگرہ پر آوں گی نا تب دیکھا دینا… اس نے بتایا کہ رابعہ اور سلمہ بھی آرہی ہیں …یہ تو بہت اچھا ہوا… اچھا، چلو ٹھیک ہے…بائے‘‘ فون رکھ کر وہ اپنے ناخن دیکھتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔
کھڑکی جو صوفے کے پشت میں تھی اور جو لان کی طرف کھلتی تھی اس میں سے کوئی پرچھائی گزری ۔ پرچھائی نے ایک لمحہ کھڑکی کے اندر دیکھا۔ روشنی بس اس کے آدھے دھڑ پر پڑ رہی تھی ، اوپر کا حصہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔سیاہ جوڑا اور سفید چمڑی ، کلائی پر گھڑی کے بجائے سفید رنگ کی چوڑیاں تھیں جنہوں نے کھڑکی کے پاس معمولی سی چھن چھن کی ۔دو لمحے ٹھہرنے کے بعد وہ ہٹ گئی۔
یقینَ وہ پرچھائی پاس کے دروازے کی طرف بڑھی ہوگی۔وہ اٹھی اور میز پر پڑے جگ سے پانی کو ایک گلاس میں انڈیلنا شروع کیا۔ دروازہ کھلنے کی آواز پھر قدموں کی زرا سی چاپ سنائی دی۔
’’ ہیلو! ‘‘سیاہ جوڑے والے نے اندر جھانک کر تقریباَ چلا کر کہا۔ پانی کا گلاس ڈر کے مارے ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور نیچے ٹھاہ کی آواز سے گرا ۔ایک اٹھارہ بیس سال کی لڑکی … خوبصورت مگر زیادہ نہیں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ تین بٹہ پانچ تھی وہ۔
’’ ارے گلشن! تم !‘‘ اس نے چہک کر کہا اور پیاس کو حیرت و مسرت کے صحرا میں کہیں گم ہونا پڑا ۔
اب آئیروز کوئی نہ کوئی مہمان آن مرتا ، زیادہ تر نمرہ باجی سے ملنے آتے اور کچھ تھیں جو اس سے ملنے آتی تھیں۔ نواز بھائی کے دوست آتے لیکن ان کی آ جا صرف بیٹھک میں ہوتی، وہ تو ان میں ایسا اڑا رہتا کہ دن بھر سر کھجلانے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔ اور کبھی کبھی وہیں بیٹھک میں رات گزرانی پڑتی جس پر بڑی ماں ہر وقت چڑتی کڑتی رہتیں اور کوئی سنے نہ سنے بس چک چک کرتی رہتیں۔
وہ دونوں لان میں ٹہل ہوتے باتیں کرنے لگیں۔ اجالا نے خاکستری رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور دبٹہ سفید رنگ کا ۔ بننے سنورنے کی وہ زیادہ شوقین نہ تھی ۔ جو شوق تھے مثال کے طور پر اپنی ڈھائی درجن سہیلیوں سے باتیں کرتے رہنا ، خطوط اور اپنی ڈائری پر قلم گھسنا اور گھر کا اکادکا کام کرنا اور بس …
بڑے سے لان میں ہر طرف بلب جلنے لگے، ایک ایسی تصویر بن گئی جسے دیکھنے پر دل کو راحت کی ٹھیس پہنچتی ہے اور جی چاہتاہے کہ سارے رات اس میں ٹہلتے ہوئے گزار دی جائے۔ مالی نے کچھ ہی گھنٹے پہلے پانی دیا تھا اور سبزے کے زیادہ تر حصے اب بھی گیلے تھے۔ ہر چیز پر اس مہک کا لبادہ بیٹھا تھا جو خشک مٹی پر پانی پڑنیکے بعد اٹھاکرتی ہے ، جو بہت ہی اچھی لگتی ہے ، جسے سونگھنے پر بچپن میں مٹی کھانے کاجی چاہتا تھا ۔
’’تم کیوں نہیں جا رہی؟ ‘‘ اجالا نے گلاب توڑتے ہوئے پوچھا ۔ گلشن نے نہیں سنا، اس کی نگاہیں دوسری منزل پر موجود نواز کے کمرے کی کھڑکیوں پر منڈلا رہی تھیں۔
’’گلشن …کہاں کھو گئی ‘‘ گلشن کا خیال اجالا کی طرف لوٹاآیا، اس نے زبردستی مسکرا کر کہا؛ ’’آوں گی ضرور آوں گی، کس نے کہہ دیا تم سے ‘‘
اس کی نگاہیں دوبارہ انہی کھڑکیوں کے آس پاس گردش کرنے لگیں ، کھڑکیوں سے وہ گیلری کی طرف اور پھر گیلری سے پاس کے گیراج کی طرف ، جس میں ایک گاڑی کھڑی تھی اور دوسری گاڑی کی جگہ خالی تھی ۔
’’ حیرت ہے ابھی شمائلہ سے بات ہوئی تھی وہ تو کہہ رہی تھی کہ تم نہیں آو گی ‘‘ اجالا گلاب سونگھتے ہوئے بولی ، گلشن نے اس سے گلاب لے کر اپنے ہونٹوں سے لگایا ۔ باہرسے گاڑی کے ہارن بجنے کی آواز آئی۔ نوکر نے دوڑ کر بڑا سا گیٹ کھولا ، گیٹ نے اپنا منہ کھولتے ہوئے چاں کی آواز نکالی اور ایک چھوٹی ، پچکی لیکن خوبصورت سی گاڑی اندر داخل ہوئی۔ لان سے روشنی وہاں تک پہنچ رہی تھی ، اس مدھم روشنی میں وہ کار ہلکے مالٹائی رنگ کی لگی، شاید رنگ پیلا ہو یا سبز جو گرد و دھول کی وجہ سے بدل گیا ہو۔
اس کار میں سے ایک نوجوان نکلا ، عمر اس کی لگ بھگ اجالا جتنی ہوگی، یعنی بیس سال۔ وہ دلکش تو نہیں تھا لیکن اس کے کپڑے ضرور دلکش تھے۔ سانولی رنگت، جینز کے اوپر اس نے لیدر کا کوٹ پہن رکھا تھا، چھوٹی باریک مونچھیں جنہیں کبھی کبھار دیکھنے پر ایسا لگتا گویا ایک لکیر ہے جو کسی نے مارکر سے کھینچی ہے اور نظریں… نظریں اس کی خصوصی طور پر تیز تھیں، یعنی ایسی تھیں جو تیر چلا دیں، عام تام سی لڑکیوں کے دلوں میں سے آر پار ہوجائیں۔
نواز، ان کی طرف آرہا تھا۔ گلشن ٹہلتے ہوئے جم گئی، اس کی نگاہیں اس نوجوان کے چہرے پر ٹھہر گئیں اور گلاب اس کے ہاتھ چھوٹ سے کر نیچے گر گیا۔وہ گاڑی کی چابی اپنے انگلی میں گھماتا ہوا آیا۔ گلاب پربوٹ رکھ کرگلشن پر مسکراتے ہوئے نظر ڈال کر نکل گیا اور گلشن مڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
’’ ڈنگر ‘‘ بے اختیار اجالا زیرلب بولی۔
’’آو گلشن، ہم جھولے پر بیٹھتے ہیں ‘‘ زمین سے اجالا نے وہ پسا ہوا گلاب اٹھا لیا۔
٭٭٭
دیر ہوئی تو تھی مگر زیادہ نہیں۔ وہ دونوں بھنائے ہوئے تھے حالانکہ پروفیسر زکی نے انہیں جلد جانے کی اجازت دے دی تھی۔ان کے نزدیک کالج کا فنکشن بالکل بھوسا تھا، سارا وقت وہ دونوں پرفارمرز کی غلطیاں نکالتے رہے۔ جہاں باقی لڑکے کڑکیاں اچھل کود رہے تھے جیسے سب کے پیروں میں سپرنگ لگے ہوں وہاں یہ دونوں ایک کونے میں منہ پھلائے کھڑے تھے۔
وہ بار بار گھڑی کی جانب دیکھتا اور پھر نظر اٹھا کر ٹیکسی کے باہر جھانکنے لگتا۔ بارہ بج کر بیالیس منٹ … ٹرین دوپہر ایک بجے پلیٹ فارم چھوڑا کرتی ہے ۔ اس نے سوچا، اکثر اوقات ایسا بھی ممکن کی حدود میں آجایا کرتا تھا کہ ٹرین ایک بجے سے پہلے پلیٹ فارم کی جان چھوڑ دے۔ یہ ریل گاڑیاں بھی نا، کتنی وقت کی نا پابند ہوتی ہیں۔ کبھی پہلے کھس جاتی ہیں تو کبھی بچارے مسافروں کو لمبی پٹڑی پر جھانک جھانک کر ان کے آثار دیکھنے پڑتے ہیں۔
’’اس الو کی دم کو بولا بھی تھا کہ ہمیں دیر ہو سکتی ہے تم سیدھا سٹیشن چلے جانا لیکن نہیں۔ ‘ ‘ روہت جھنجھلا کر چنگھاڑا۔
’’کیوں نہیں؟ ‘‘ آنند کو کچھ ہنسی آئی روہت نے غصے سے اس کی طرف دیکھا تو اسے کھوں کھوں ، کھانسی آگئی۔
’’سالہ بولتا ہے کہ اس کے پاس تو بس میں کالج تک آنے کے بھی پیسے نہیں ہیں‘‘
’’اوئی ! یہ کیابات ہوئی؟ کالج میں تو وہ چپڑاسی سے بھی پہلے پہنچ جاتا ہے ‘‘آنند نے سیٹ پربازوں کا تکیا بنایا اور سر رکھا۔
’’ تمہیں چپڑاسی نے بتایا ؟ ‘‘
’’نہیں میں ہی ہوں…تمہارا چپڑاسی ‘‘ آنند نے کہا اور وہ ہنسنے لگے ، ٹیکسی ڈرائیور بھی ہنسنے لگا۔
’’صاحب اب آگے کدھر کو جانا ہے؟‘‘ڈرائیور کہنے لگا۔
’’یہاں سے دائیں لے لیں پھر اس کے بعد بائیں اور پھر گلی کا نکڑ آئے گا وہاں سے دوبارہ دائیں‘‘ ٹیکسی والے نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور گاڑی کا رخ بدل دیا ۔ ایک چھوٹے سا بازار میں سے گزرنے کے بعد وہ آبادی میں گھس گئے۔ ویسے بازار اور آبادی ایک دوسرے کے اندر اندر ہی تھے ، ایک دوسرے میں بغل گیر۔
آبادی کے ایک کونے میں تو رنڈیوں کا چکلا تھا۔ آنند نے دیکھا کہ پیشہ ور عورتیں بالکونی میں کھڑی نیچے چلنے والے چند مردوں کی غلیظ نگاوں کا جواب اشاروں سے دے رہی تھیں
…اوپر آ تو پھر بتاوں… تیری ماں کا!
دو تین جملے سنتے ہی آنند کا چہرہ لال ہوگیا اور گاڑی تیزی سے گزر گئی۔
٭٭٭
’’اتنی مہنگی! کب خریدی؟ ‘‘ ایک سوال جس کی وہ توقع کر چکی تھی ۔ نمرہ آپا اس کی کلائی اپنی گرفت میں کیے بیٹھی تھیں۔ نیچے ہال میں نواز کسی نوکر کو ڈانٹ رہا تھا۔
’’ جی پرسوں خریدی…جب مال گئی تھی گلشن کے ساتھ ‘‘ اجالا نے جھجک کر جواب دیا۔
’’ جب اگلی بار جانا تو مجھے بھی لے جانا میں بھی ایسی ہی خریدوں گی ،یہاں سے رنگ دیکھو نا اور …‘‘ وہ بیچاری جسے اجالا اپنی آپا کہتی تھی ہر بار کوئی نئی خوبصورت چیز دیکھنے کے بعد یہی کہتی تھی البتہ سستی کے باعث کبھی کچھ خرید نہ پائیں ، یہ اس کی شاید بچپن سے عادت رہی ہوگی جو جوانی اور جوانی سے نیم بڑھاپے میں زندگی کی تلخیوں کے ساتھ ساتھ پختہ سے پختہ ہوتی چلی گئی۔ تلخیاں اس کی زندگی میں بہت تھیں۔ صرف ہفتے بھر میں اس بیچاری کی دنیا کٹ کر صفر ہوگئی۔
سوموار کو شوہر جو فوج میں کوئی کیپٹن تھا، شہید ہوگیا۔ منگل کو اس کی ماں چل بسی، بدھ کو باپ بھی چل بسا اور جمعرات والی رات اس کی بہن کو طلاق ہوگئی اور وہ جمعہ کی نماز کے وقت اپنے چھوٹے بچے کو گود میں لیے ان کے گھر آدھمکی۔ آخر وہ جاتی بھی تو کہاں جاتی اور نمرہ جو پہلے سے نڈھال تھیں اسے کہتی بھی تو کیا کہتی۔ انہیں خود سہارے کی ضرورت تھی، وہ کسی کو کیا سہارا دیتیں۔ اگلے ہی دن باپ لڑبھڑ کر بچے کو لے گیا اور ہفتے کی شام کو اپنے بچے کی جدائی نہ برداشت کرتے ہوئے ماں نے چھت پر خودکشی کر لی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ نواز نے چھت پرچیلیں کووے منڈلاتے دیکھ لیے اور جب چھت پر سب پہنچے تو لاش کا منہ چیلوں کووں نے آدھا نوچ کر لہو لوہان کر دیا تھا۔
’’آپ کو پسند آئی ہے تو آپ یہ لے لیں۔‘‘ اجالا نے مسکرا کر کہا۔
’’ نہیں نہیں یہ تم پہنو، تم پر ججتی ہے میں نئی لے لوں گی ‘‘
’’کیا بات ہو رہی ہے؟ ‘‘ ایک بوڑھی سی آوازکمرے میں گونجی…بڑی ماں۔
وہ اسی سالہ بوڑھی لاٹھی سہارے کھڑی تھی۔ اس کی کمر جھکی ہوئی مگر اس کی نگاہوں میں فخر کوٹ کوٹ کر بھر ا ہوا تھا، نگاہیں اجالا کی کلائی پر اڑ چکی تھیں۔اجالا نمرہ نے فورا َ سلام کیا کیونکہ وہ برا مان جاتیں اگر کوئی چھوٹا سلام میں پہل نہ کرتا۔
’’کچھ نہیں بس یہی گھڑی کی بات کر رہے تھے آپ آئیں نا ‘‘ نمرہ منمنائی۔بڑی ماں دھیرے دھیرے اندر داخل ہوئیں۔
’’ تمہارے نئے کپڑے ککو کی ما ں دے گئی ہے ، میں نے نیچے رکھوا دئیے ہیں ‘‘
’’نوا ز کے کپڑے بھی لانے تھی…وہ نہیں دئیے‘‘
’’نہیں، ہوا کے گھوڑے پر سوار تھی ، میرے ہاتھ میںکپڑے تھماتی ، اڑن چھو ہو گئی قطامہ !‘‘
’’کل آتی ہے تو خبر لیتی ہوں اسکی ، ارے مہینہ ہونے کو ہوگیا پر درزی کے یہاں سے کوئی خیر خبر ہی نہیں ، جو تاریخ دیتا ہے اس دن کمبخت دکان ہی بند ہوتی ہے‘‘ نمرہ بھنائی۔
’’ ہی ہی …خی غی …غی خی ‘‘بڑی ماں ہنس پڑی اوراجالا وہ بھی۔
بڑی ماں اصل میں دادی کہلائے جانے کی حقدار تھیں۔ڈھیلا ڈھالا جوڑا پہن رکھا تھا جس پر الگ الگ پھولوں نقش تھے…
چنبیلی ، گلاب ،کنول،سنبل،گل لالہ اور گیندے کے پھول… عموماَ بچوں کے کپڑے اسی طرح ہوتے ہیں لیکن کہتے بوڑھے بھی نفسیاتی طور پر بچے ہوتے ہیں۔ان کی لاٹھی فرش پر بار بار ایک ’’ ٹھک ‘‘کی آواز پیدا کرتی ہے جب جب وہ چلا کرتے ہیں۔ گھروں میں ایسی آواز کا اٹھنا ایسی فضا پیدا کرتا ہے جس میں رہنے والے کے دل میں آواز آتی ہے کہ تم محفوظ ہو۔ اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ حقیقت میں وہ خود بھی محفوظ ہوں یانہ ہوں۔بڑی ماں جھولنے والی کرسی پر بیٹھ گئیں۔
’’کیا بات ہو رہی ہے؟ ‘‘اس بار ایک مردانہ آواز۔
’’کچھ نہیں ہو رہا !‘‘بڑی ماںنے ٹکا سا جواب دے دیااور وہ دروازے پر سے ہی پلٹ گیا ۔
٭٭٭
موٹر سڑک پر تقریباَ اڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔اس گاڑی کے چھوٹے پہیوں کو اتنی تیزی سے گھومتے دیکھ کر سڑک کنارے چلتے لوگوں کے دلوں میں یہ خوف سر اٹھاتا ہوگا کہ اس گاڑی کے پہیے ابھی باہر کی جانب نکل جائیں گے اور ایک بھیانک سا حادثہ رونما ہوجائے گا۔
…ڈرائیور آخر جتنا بھی کمال ہو لیکن جب تک گاڑی بھی کمال نہ ہوگی تو سفر بھی کمال نہ ہوگا۔ خدا چاہے جتنا بھی کمال ہو جب تک انسان کمال نہیں ہوگا… سجدے بھی کمال نہیں ہوں گے…
گاڑی ایک لڑکے کے سامنے رکی جو سیاہ چشمہ لگائے کھڑا تھا۔تیز روشنی اس کی استری شدہ نیلی شرٹ میں خوبصورتی کی ایک اور تہہ گاڑھ رہی تھی اور اس کے ماتھے پسینے کے بے تحاشا قطرے جمع ہو چکے تھے۔ ہاتھ میں ایک چمڑے کا بیگ تھا۔ موٹر کا دروازہ کھلا اور وہ تیزی سے اندر داخل ہو گیا۔
’’چلیں جی! ‘‘ اس لڑکے نے بیٹھتے ہی ڈرائیور سے کہا ۔ ڈرائیور بڑی عمروں کا تھا، جس کو دیکھنے پر لگتا جیسے اس نے پچھلے چند ہفتوں سے شیو نہیں بنائی۔ٹیکسی پھر سے سڑک پر پہلے جیسی دوڑنے لگی۔ آج اس روڑ پر ٹریفک کسی وجہ سے بہت کم تھی۔
’’ دیر کر دی تم دونوں نے!دیکھو اب تمہاری وجہ سے گاڑی نہ چھوٹ جائے ، خیال کیا کرو اور وقت کی پابندی بھی ،میں پچھلے پندرہ منٹوں سے وہاں کھڑا تھا ‘‘ اس لڑکے نے اپنی گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے تیز تیز کہہ ڈالا۔
’’ تمہیں بولا تو تھا کہ تم سیدھا وہیں چلے جاتے تو کتنی آسانی ہو جاتی!‘‘ روہت نے احتجاج کیا اس کی بات سن کر۔
ٓ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا آنندمڑ کر کہنے لگا ؛’ ’اے وجئے سنو … وقت کیا ہوگیا ہے ؟‘‘ وجئے نے چڑ کر منہ پھیر لیا ۔ اس کی کلائی پر خوبصورت سی گھڑی بندھی تھی …لیکن …لیکن وہ چلتی نہیں تھی ، دو سا ل ہوئے بند ہوگئی ، جڑوانے کی بہت کوشش کر مگر نہیں جڑی ، اب وہ ایسے ہی بند گھڑی پہنے پھرتا ہے اور روہت آنند اور باقی دوست اسے چھیڑتے ہیں اسی ایک بات پر۔روہت ہنس پڑا اور آنند کی کلائی کی جانب نگاہ دوڑائی ۔
… بارہ بج کر باون منٹ…صرف آٹھ منٹ باقی ہیں!
’’بھائی صاحب، تھوڑا تیز چلائیں ‘‘ آنند نے ڈرائیور سے کہا۔ ٹرین اگر ایک کے بعد ہی پہنچے تو کتنا اچھا ہوگا، آنند نے سوچا ۔ ان سب کی آج پہلی بار خواہش تھی کہ ٹرین لیٹ ہو جائے۔ڈرائیور نے زور زور سے آنکھیں جھپکائیں اور گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ وہ ڈرائیور کسی قدر ٹھنڈے مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا ، موٹر چلاتے ہوئے کتنا بھلا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کو ڈرائیوری کرنے کے لیے ہی جنا گیا ہے۔وجئے اور روہت کسی بات پر الجھنے لگے اور آنند یہ سوچنے لگا کہ کاش وہ نہ جانے کا فیصلہ کرتا۔ پر کسی بیرونی قوت کے اثر میں آکر اس کے زبان کو تالے ڈل گئے …اسے لگا جیسے لاہور چیخ چیخ کر اسے بلا رہا ہو… جیسے لاہور میںکوئی خاص بسنے والے اسی کا انتظار کر رہے ہوں۔
وہ جب سٹیشن پہنچے تو پتہ چلا ، ٹرین لیٹ ہے۔ٹکٹ خریدا اور دس منٹ بعد ٹرین بھی آگئی۔وہ جس ڈبے میں تھے وہاں ان کے ساتھ موجود لوگوں میں دو آدمی ایسے تھے جن کی شکل ایک دوسرے سے بہت ملتی تھی۔ کہنے کو ایک اندھا بھی بتا سکتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ سیاہ رنگت، چھوٹی داڑھی جسے کبھی شیو نہیں کیا گیا تھا ،کلائی پر کوئی سستی سی گھڑ ی اور سرمئی نفیس کپڑوں پر کوئی بھونڈا سا عطر …اور ایسے باتیں کر رہے تھے جیسے وہ اس ٹرین میں اکیلے ہوں یا کوئی انہیں دیکھ نہ سکتا ہو۔
دونوں بھائی…آپ میاں صوبے دار،گھر میں بیوی جھانکے بھاڑ…
دونوں میں جو اکڑ تھی ، کوئی بتا نہ سکتا تھا کہ یہ شاخ ِ زعفران کیوںاور کیسے لگی ہے …
’’ میں نے تو کہا تھا مگر ابا نہیں مانے، وہ رشتہ مانیں نہ مانیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘ بڑا بھائی تو آپ ہی آپ بولے جا رہاتھا۔بالکل دوسرے کی طرح۔
آدھا سفر دونوں اسی قسم کی باتیں کرتے رہے …بحثیں ہوئیں کہ کیوں اور
کیسے ان کے گاوں کالڑکا’’شعلہ‘‘ کسی شہری لڑکی ’’کرنٹ‘‘کے چنگل میں پھنس کر برباد ہوگیا، کیسے ببلو اور تتلی کی شادی میں تایا دھویں نے ٹانگ اڑادی تھی مگر جب تتلی نے خود کشی کی اور ببلو نے تایا کوکوٹنے کی دھمکی دی تووہ کیسے بالکل پھیکے پڑ گئے تھے …بس کچھ ایسی ہی فضول باتیں ہوتی رہیں جن کا مقصد فقط آپا دھاپی تھا۔آنند سوچنے لگا کہ وہ کہاں آپھنسا۔ ایسے آتش زیرپا رہنے سے اچھا نہیںکہ وہ ٹرین سے کو د جائے!
کافی دیر گزرگئی ، سب خاموش ہوگئے مگر گاڑی کی کھٹ کھٹ بدستور جاری تھی۔
’’ وجئے…‘‘گاڑی کی کھٹ کھٹ کے ساتھ اس نے سرگوشی کی۔
وجئے پر کوئی اثر نہیں ہوا۔کتنے دنوں سے سہی طور پر نہ سونے کی وجہ سے …اب اس وقت اسے بے تحاشا نیند آنے لگی تھی۔ اپنی ڈبڈباتی ہوئی سرخاسرخ آنکھوں سے اس نے باقی مسافروں کی طرف دیکھا۔ سب سو رہے تھے۔ کھڑکی میں سے سورج کی کرنیں آرہی تھیں اور باہر سرسوں کے کھیت نظر آرہے تھے۔ان سرسوں کے کھیتوں کے پار کسی ولی کا روضہ اپنا بڑا سا گنبد لیے کھڑا تھا …جہاں انہیں رکنا تھا ، وہ میر پور سٹیشن تھا…بہت چھوٹا ساسٹیشن ۔ گاڑی نصف دو منٹ سے زیادہ نہ ٹھہرتی۔
’’وجئے!‘‘
’’ہاں کیا ہے؟ ‘‘ وجئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
’’ میر پور سٹیشن پر رکنا ہے ٹھیک ہے ، شام سے پہلے پہنچ جائیں گے‘‘
’’ ارے کیوں گھبراتے ہو دوست،رک جائیں گے جہاں کہو گے ،میرپور سٹیشن پہ رکنے کا کہوگے تو وہاں بھی رک جائیں گے پر ایک بات بتاو،تمہارا گھر تولاہورمیں تھا نا ،یہ تبدیلی کب لائی؟ ‘‘ سورج کی کرنوںسے وجئے کا چہرہ دمک رہا تھا۔
’’ میرپور لاہور کے پاس ہی ہے ، ان کھیتوں کے بعد دو تین اور شہر آئیں گے، پھر میر پور آئے گا ، داخل ہوتے ہوئے تم زمین کا روکھا پن محسوس کر لو گے ، لیکن زمین زرخیز بہت ہے ‘‘ آنند نے رک رک کر کہا ۔اس نے دیکھا کہ وجئے کے ہونٹ ہلکے نیلے ہورہے تھے اور اس کی ہلکی مونچھیں ناک سے نکلنے والے شربت میں ڈوبنے لگی تھیں۔حالات قابو میں کرنے کے لیے اس کی ناک نے شوں سے سب کچھ اوپر کھینچ لیا۔
اچانک ٹرین کے پاس والے ڈبے سے شور و غوغا کی آوازیں اٹھیں ۔کوئی ٹکٹوں کا بکھیڑا پڑ ا تھا جو دو منٹوں میں ہل ہوگیا۔اس نے سامنے بیٹھے دونوں بھائیوں کے ماتھوں پر بکھری سلوٹیں دیکھ کر یہ سوچتے ہوئے آنکھیں بھینچ لیں کہ پتہ نہیں انہو ں نے کیا روگ پال رکھے ہیں…
٭٭٭
عام سی شام تھی لیکن چاند بادلوں کا بُکل مارے بیٹھا تھا۔اس چاند کے پاس …کوئی درجن تارے تھے جنہیں دیکھ کر لگتا کہ کسی ماہر نقاش نے برش سے آسمان کے تاریک کاغذ پر نقش کیے ہیں۔
بڑی ماں لکڑی ٹیکتے ہوئے لان میں قمقموں کے بیچ گھوم پھر رہی تھیںاوراندر بیٹھے نمرہ اور اجالا کھانا کھانے لگے تھے۔ٹیبل پر بڑی ماں کی کرسی خالی تھی اورسامنے پڑی چورن سفوف کی ڈبیا بند پڑی تھی۔ نواز کسی ملازمہ سے جھک جھک کرتا ہوا اندر داخل ہوا۔
بڑی ماں کوبھی ایسا ہی لگ رہا تھاجیسابہت سے انسانوں کو زندگی کے بعض موڑوں پرمحسوس ہوتا ہے …یعنی …احساس…کہ زندگی اپنی کتنی تتر بتر ہے …کتنی منتشر ہے ،کتنی پریشان ہے …کہ زندگی اپنی کتنی خستہ ہے کتنی بُھر بُھری ہے…بس ایک ہی جگہ مرتے دم تک بیٹھے رہ جانے کا جی چاہتا ہے پر یہ خیال جب آئے کہ بگڑا وقت بھی گزر ہی جاتا ہے تو دل کو بڑا سکون ملتا ہے ۔
وہ سوچنے لگیں کہ نواز کواسکی ماں نے لاڈ سے بگاڑا ہے،خاور میاں کوماں باپ کی دوری نے اور اجالا کو …اجالا کواس کے شوہر نے اپنے بیگانہ پن سے…
’’ ارے واہ بھئی! نیا مسالہ تو کمال ہے ،کیاخوب کھانا پکا ہے اس میں ،واہ!‘‘نمرہ نے زبان چٹخا کرکھانے کی تعریف کی اور پھر دریچے سے باہرلان میں گھورنے لگیں۔ نہ جانے کیا دیکھنے لگیں۔
’’ نہیں امی مسالہ نہیں،یہ تو ان کے ہاتھوں کمال ہے ، ایسے ہاتھ ہیں جو مٹی کو بھی چھوئیں تو سونا بن جاتی ہے ،مسالوں میں کہاں دم ہوتا ہے ‘ ‘ نواز ایک دم بے شرم انداز میں بولا اور اجالاکے قدم دروازے کی طرف بڑھے مگر نواز نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بچ کر نکل گئی۔ اس کے ہاتھ سنہرے دبٹے میں سے پھسل کر رہ گئے ۔
نواز کو اجالا پر بڑا فخر تھا ،حالاں کہ وہ اسکی بھابی تھی پراس کی نگاہیں مستقبل کے رشتوں پر گڑھی تھیں…نواز کا فخربس’’ بگانی کھیتی پر جھینگر ناچے ‘‘کا مفہوم تھا۔
نمرہ پلٹ کر منمنائی ؛’’ بڑی ماں کے معدے کا مسئلہ مٹانا کتنا کٹھن ہو گیا ہے، یہ چورن سفوف کی ڈبیا ں بھی جو پہلے کام کیا کرتی تھیں اب کام کرنا چھوڑ گئیں ہیں ،معلوم نہیںانہیں کیا ہوگیا ہے !‘‘
’’یہ پڑھاپازندگی کی دوڑکو دوا کرتا ہے پراس کے بدلے جسم کو کافی درد بھی دیتا ہے…یہ درد و دوا کافی پیچیدہ ہے …عمر لمبی ہوجائے تو یہ دوا پینی ہی پڑتی ہے میری ماں،تم بھی جلدہی پیو گی دیکھنا،خی غی…غی خی‘‘۔نواز کھسیانی ہنسی ہنسا۔
’’غم کے ماروں کو تو بڑھاپا بھی نصیب نہیں ہوتا…ان کا کیا؟‘‘
’’غم کے مارے …ہائے……ہائے !غم کے ماروں کو تو زندگی ہی نصیب نہیںہوتی ماں‘‘
’’تمہیں کیا غم ہے ؟بولو ،جواب دو‘‘نمرہ چمچ رکھ کر آگے جھک گئی۔
’’ہنھ غم،ہاں …ہاں جس لڑکی سے میں پیار کرتا ہوں ،اس کی شادی ہوچکی ہے…بس یہی غم ہے پر یہ غم میرے لیے بہت بڑا ہے ،میں اس کے ساتھ زیادہ نہیں جی پاوں گا ماں‘‘
’’دوسری لڑکیاں بھی ہیںنا ، اپنی توجہ بدلو تو یہ گھاو بھر جائے گا، میںکیاکہتی ہوں یہ اجالا کی دوست ہے نا …گلشن!…مجھے بہت پسند ہے ،کیسی لگتی ہے تمہیں ؟‘‘
’’گلشن نا،نہیں،وہ میری حالت بالکل بکوٹ ڈالے گی ،ہاہاہا‘‘ نواز کرسی دھکیلتا ہوا چلا گیا۔بڑی ما ں نے اندرگھستے ہوئے ایک دو بات سن لی تھی ۔ سنتے ہی ان کے ذہن میں جھماکے کے ساتھ پینسٹھ برس پرانی یاد یں تازہ ہوگئیں ،تصویروں کی پٹی چلی …وہ پندرہ سالہ لڑکی ہے ۔ درخت کی نیچے پینگ جھول رہی ہے اور بہن دوڑتی ہوئی آئی اورچلا کر اعلان کیا شادی کا فیصلہ ہوگیا ہے ، اسے سنتے ہی کیسے چہرے کی سرخی بڑھی اوروہ ہنسی شرماتی ہوئی اپنی دادی کی پلنگڑی پر جا کر ڈھیر ہوگئی ہے۔اور دل کی دھڑکنیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، میری شادی کافیصلہ کر لیا بابو جی نے ، انہوں نے دس دفعہ خوش اور اداس ہو کر اپنے آپ سے کہاتھا ۔
بڑی ماں ٹیبل پر پڑی چورن سفوف کی ڈبیااپنے مرجھائے ہوئے ہاتھوں میں لے کر کھولنے لگیںاور غمگین بیٹھی نمرہ کے دل میں پیوند گانٹھنے لگیں۔نواز اونچی آواز میں اپنی پسندیدہ فارسی غزل سننے لگا ،جب سے اس نے فارسی سیکھی تھی تب سے یہ جملے اس کے من کو بھا گئے تھے ۔۔۔۔
تا تو بمن می رسی،من بخدامی رسم
(جب تک تو میرے پاس پہنچے گا میں خدا کے پاس پہنچ جاوں گا،یعنی مر جاوں گا)
پے درپے بڑی ماں کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں پانی کے ننھے قطرے امنڈنے لگے تھے۔
٭٭٭
’’فون آیا تھا اس کا، تمہارا پوچھ رہا تھا، تم بات کیوں نہیں کرتی بیچارے سے؟اتنا نہ ترسایا کرو ‘‘ نمرہ آپا اس کی شفاف آنکھوں دیکھ رہی تھی جیسے اس کی روح دیکھ رہی تھی۔
’’ ہر بار اتفاق سے اسی وقت گھنٹی آتی ہے جب میں نہیں ہوتی ‘‘۔ اجالا نے جھوٹ بولا ۔ وہ موجود ہوتی تھی ہر بار۔ ٹیلی فون کی گھنٹی کانوں میں پڑتی تو جان بوجھ کر ادھر ادھر گھسک جاتی۔ یہاں ٹیلی فون بجا اور چادر اوڑھ کر گہری نیند میں ہونے کی اداکاری کرنے لگی۔ یہاں ٹیلی فون بجا اور وہ نہانے چلی گئی۔ یہاں ٹیلی فون بجا اور وہ گلا خراب ہے کا بہانا اڑا کر آپا کو ٹال گئی۔ کیوں ٹالتی تھی اور کیوں کتراتی تھی؟۔ اس کا جواب پیچیدہ نہیں۔
ہر نازک پھول جھڑی لڑکی کو جب اس کا میاں مہینوں مہینوں یاد نہیں کرتا تو وہ اسی طرح ناراض ہوتی ہے۔ آخر فوج کی ڈیوٹی، ڈیوٹی نہ ہوئی بس بیوی بھولنے کا بہانہ بن گیا۔ پچھلے دوسالوں میں خاور میاں کے بس پانچ ٹیلیفون اور ایک چٹھی آئی۔ اور وہ بھی بڑی ماں کے نام تھی۔ لکھا تھا کہ ان کے ڈاکٹر نے یہ کہا ہے کہ ٹانگوں کی جو ٹیوب دی تھی اس کی مالش جاری رکھی جائے اور بس۔
’’ویسے کیا بات کی؟‘‘ اجالانے ابرو اچکا کر پوچھااس امید سے کہ ا س کی کوئی خبر ہی لے رہتی۔
’’یہ کہہ رہا تھاکہ میں آرہا ہوںلاہور کافی عرصہ رہوں گا،یہ کیا تجھے خوشی نہیں ہوئی سن کر؟ ‘‘اس نے اجالا کے چہرے کی جانب دیکھ کر کہاجس کا رنگ بدل رہا تھامگر وہ اپنے آپ سے کہہ رہی تھی …جو ہو سو ہو،مجھے کیا پروا…پر حقیقت میں تھی پروا … جب وہ آئے گا تو جذبات کی کچہری لگے گی ، سنوائی ہوگی اورہر حال میںمجرم کو سزا نصیب ہوگی۔
’’اچھا وہ تم نے…مس راجیشوری کا نام سنا ہے …‘‘
’’نہیں …وہ تو نہیں جو اس دن گھر بھی آئی تھیںاپنی دوستوںکے ساتھ‘‘
’’ہاںوہی ہیں وہی ہیں، میں سویر ے ان کے گھر جاوں گی ،بیچاری کا بیٹا مرڈر ہوگیا ہے ،کافی ینگ ڈاکٹر تھا…نام یاد نہیں آرہا بتایا تو تھا انہوں نے …ڈاکٹر؟‘‘نمرہ نے کچھوے کی رفتار سے کہااور اپنی کہنی کھجلانے لگی۔
’’ڈاکٹر راجندر ؟‘‘
’’ہاں ۔۔۔۔بیچارے ۔۔۔تم سے پوچھ رہی تھی چلو گی میرے ساتھ؟‘‘
اجالا کچھ سوچنے لگی پھرنظر اٹھا کرکچی کلی کی طرح بولی ؛’’جی چلوں گی‘‘نمرہ کے جاتے ہی اس نے دروازہ بند کر دیا،گزرتے ہوئے اس کی نظر آئینے پر پڑ گئی۔ اس کے سامنے کھڑے ہوکر وہ اپنی آنکھیں دیکھنے لگی۔ وہ بڑی بڑی ہلکی نیلی آنکھیں جن میں نہ ہونے کے برابر سرما تھا لیکن وہ تھیں کتنی سندر۔
’’کتنی سندر آنکھیں ہیں تمہاری ‘‘ خاور نے پہلی رات پہلی اور آخری بار کہا تھا۔ وہ اپنی آنکھیں دیکھتے ہوئے مسکرا دی اور یہ ٹھان لیاکہ وہ اب کچے دھاگے میں نہیں بندھے گی ۔
٭٭٭
ٓآسمان کی سیاہ چادر پر چھوٹے چھوٹے موتی پھوٹنے کی کدوکاوِش کر رہے تھے ۔ ٹرین کی کھٹا کھٹ متواتر جاری تھی اور وہ ہلکے ہلکے خراٹے لے رہا تھا۔ریل گاڑی نے چیخ ماری اور وجئے کی آنکھ کھل گئی۔ نیند کے مارے پپوٹے میلے کچیلے ڈبے میں دوڑنے بھاگنے لگے ۔کونے میں روہت سکٹرا ہوا سو رہا تھا۔ اس کی نظریں پلٹا کھا کرآسمان کی طرف اٹھیں۔وہ دودھیا ستاروں کو تکنے لگا… شام سے پہلے پہنچ جائیں آنند نے بولا تھا مگر اب تو رات ہو رہے ہے…ایک چھناکے سے اسے یادآیا اور وہ ہڑبڑا کر آنند کی طرف لپکا۔ اس نے آنند کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
’’آنند اٹھو، آنند! ‘‘ وہ نہ اٹھا مگر دونوں بھائی جاگ گئے اور اسے طرار فرار نگاہوں سے تکنے لگے۔
’’کیا ہوا؟پہنچ گئے وجئے؟ کیا کیا‘‘اس نے جب باہر دیکھا تواس کے ہونٹ لٹک گئے۔وہ بگٹٹ بھاگتا ہوا ٹی ٹی کی طرف بڑھ گیا۔
’’ اب کیاہوگا ، ارے رکو میں بھی آتا ہوں‘‘ وجئے نے اٹکتے ہوئے کہا۔ڈبے رنگ برنگے لوگوں سے بھرے پڑے تھے ۔چندبچوں جو بیٹھے مونگ پھلی کھا رہے تھے آنند کو دیکھتے ہی دھاڑیںمار ما رکر رونے لگے جیسے کوئی ہووا دیکھ لیا ہو ۔اتفاق سے ٹی ٹی پاس ہی تھا۔ بالکل بد وضع سا آدمی،چھیلی ہوئی موم بتی ،چنچل لڑکیوں کی ادا لیے کھڑا تھا۔
’’سنیں! ‘‘ آنند بولا اور ٹی ٹی نے خوب سن لیا تھا مگر اپنا طرہ جمانے کے لیے ان سنا کرتے ہوئے بیڑی پیتا رہا۔آنند پھر بولا؛ ’’ سنیں…کیا میر پور سٹیشن گزر گیا؟ ‘‘
’’ ہنوں ہنوں …چارشٹیشن پہلے ہی گزر گیا ہے! ‘‘ ٹی ٹی نے اپنے طعنہ آمیز لہجے میں کہااور دوبارہ بیڑ ی پینے لگا۔اس نے اگلے سٹیشن کے بارے میں پوچھا۔
’’ لاہور شٹیشن …نصف گھنٹہ مزید لگے گا ، چپ کر کے بیٹھ جاو وہاں‘‘
٭٭٭
گھنٹے بعدوہ تینوں لاہور کی ایک سڑک پہ کھڑے تھے ۔ اس شام آسمان دھند کی شکل میں زہر اگل رہا تھاپر لوگ اس کو نظر انداز کرتے چلے جا رہے تھے۔پان اور سگریٹیںپر وہ خاصے روپے خرچ چکے تھے۔روڑ کی دوسری طرف زیب وزینت کی بہت سی دکانیں تھیں۔وہ سگریٹ پیتے ہوئے ان غمگین دبلی پتلی لڑکیوں کی چھوٹی سی ٹولی کو دیکھنے لگا جوکسی دکانوں کی طرف دیکھتی جار ہی تھیں، لڑکیوں کے بیچ میں اک ہم عمر لڑکاتھا جسے دیکھ کر وجئے نے بے اختیار کہا؛ ’’زہے نصیب،زہے نصیب‘‘اور آنند کھلکھلا اٹھا۔
ٓ و ہ سگریٹ کو زیر و زبر کرنے لگا… ایک کش اندر… اور دھواں باہر، ٹھنڈی ہوا دھویں کو لے گئی …ایک کش اندر اوردھواں باہر… ایک بہت بڑا کش اندر… اور بے تحاشا دھواں باہر…ایک اور بڑا سا کش اندر … اور روہت نے اس کے منہ سے سگریٹ اور دھواں نکال کر دور پانی کے ٹکڑے میں پھینک دیا ۔ آنند مزے سے اس کی بوکھلاہٹ دیکھنے لگا۔ بدصورت سے ماتھے پر اتنی ٹھنڈ میں بھی پسینے کی بوندیں چلمل کر رہی تھیں اور اس کی لکنت بھری زبان باربار وجئے کو سہی سے روپے گننے کا کہہ رہی تھی۔روپے تھے نہایت کم ۔وجئے تیسری بار روپے گننے لگا؛ ’’ایک…ایک… دو…‘‘
چند سکے دیکھ کر اس کا منہ لٹک گیا، لیکن یک دم ذہن میں کوئی خیال آیا اور آنند نے زرا فاصلے سے آتے تانگے کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تانگہ رکا۔
’’شاہد مال کتنے فاصلے پر ہے؟ ‘‘ آنند نے پوچھا۔
’’پاس ہی ہے بس اس سامنے والی چوک سے ہے کوئی دس منٹ کا فاصلہ‘‘
وہ چڑھ گئے تانگے پر اورتانگہ لاہور کی سڑک پر بھاگنے دوڑنے لگا۔منزل پر پہنچ کر آنند نے تانگے والے کو دام دیئے، بیچارے نے بہت کم دام لیے۔ وہ جگہ شہر کی بھیڑ بھاڑ سے زرا ہٹ کر تھی۔ اندھیرا تھا گلیوں میں۔ جگہ جگہ کتے گشت مار رہے تھے ۔ کوئی کسی دوسرے پر بھونک رہا تھا اور کوئی ایسے بھی تھے جو اپنے آپ پر بھونک رہے تھے۔ سامنے دو منزلہ عمارت تھی۔ اوپر کی منزل کے دریچوں میں سے لالٹین کی روشنی آرہی تھی۔
’’ارے یہ تو بتا دو کس کے پاس لے کے جارہے ہو ہمیں؟ ‘‘ وجئے نے آخر اس سے پوچھ ہی لیا۔
’’ میرے ابا کا جاننے والا ہے مگر…میرے ابا نے قرض لیا تھا جب وہ یہاں رہتے تھے ، کافی عرصہ پہلے کی بات ہے، مجھے ڈر ہے ابا نے اس کاقرضہ واپس نہیں کیا تھا،چلو دیکھتے ہیں‘ ‘ لحظہ بھر بعد وہ زینوں پہ چڑھ گئے۔
اس آدمی یعنی’’ مٹرچاچا‘‘ کو آنندنے دو تین بار ہی دیکھا تھا۔وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اسے مٹر چاچا کیوں کہتے ہیں ،سنی سنائی تھی کہ ان کو مٹر بے حد مقبول تھے اس لیے ان کانام مٹر چاچاپڑ گیا اور دو ایک باتیں تھیںجیسے …زندگی بہت بھاری ہے ا ن کی ، اس لیے زندگی سے خفا رہتا ہیں…’’میرا خون چوس گئے ‘‘ ہانکتی سو کلو کی بیوی اس کی زندگی درہم برہم کرکے چلی گئی تھی ، بال بچہ کوئی نہ تھا۔
’’تمہارے ابا اگر تمہارے جیسے نہ ہوئے تو ضرور قر ضہ واپس کر دیا ہوگا‘‘ وجئے کی بات سن کر روہت ہنس پڑا۔چوتھے دروازے کے سامنے آنند نے قدم روکے اور کھٹکھٹایا۔دروازے کے پار کھسر پھسر کی آوازیں آئی۔ساتھی کمرہ کسی مراسی کا ہوگا ، ہار مونیم کی آواز گونج رہی تھی۔چالیس پینتالیس کا آدمی بنیان پہنے دروازے سے نکلا۔ چھوٹی سی کسی ہوئی توند اورژولیدگی سے بھری آنکھیں جو جاگنے کے باعث عجیب عجیب سی ہو رہی تھیں۔ آنند نے بات بیان کی خالص بھونڈے انداز میں…
’’تماری بات کی مجے کچھ سمجھ نہیں آئی، پھر سے کہنا کیا کہا؟ ‘‘ مٹر چاچا نے الفاظ چبا کر نہایت ہی خشم ناک انداز میں کہا۔
’’جی …‘‘آنند کا منہ اتنا سا نکل آیا۔ آنند کے باپ نے قرضہ نہیں لوٹایا تھالیکن اسے یقین تھا کہ وہ اس کو سات پانچ کر لے گا۔مگراس نے بھی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی تھیں، ان سات پانچ حربوں کو خوب جانتا تھا۔
’’او جی کے بچے، مجے بتاو میں کیا کرو؟ ۔ مجھ کو قرضہ واپس نہیں ملا، سو روپے کا… کتنے روپے کا؟ سو روپے کا! تمہارا میں کیا کروں؟ تم تینوں کی ملا کر قیمت بیس روپے سے زیادہ نہیں ہوگی! ‘‘۔ وہ بنیان پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔
’’معاف کرنا… دس روپے!… دس روپے سے زیادہ نہیں ہوگی… دو روپے اس لمبو کے (وجئے) جو سوٹ کیس اٹھائے کھڑا ہے پیچھے اور سات روپے اس سفید شرٹ پتلون والے کے (آنند)، اور! تمیں تو میں فری میں بھی نہیں لیتا…‘‘ وہ روہت پر جنگھاڑا اور روہت اپنا چھوٹا منہ چھپاتا واپس آندھیرے میں دیکھنے لگا۔
آنند نے کافی منت سماجت کی،اوروہ مان گیا۔بنیان پرا نگلی پھیر کر اس نے کچھ سوچا اور بات کی؛ ’’ ٹھیک ہے، مگر مری اک شرت ہے ‘‘
وجئے جلدی سے بول پڑا؛’’شرط جوبھی ہو منظور ہے !‘‘
ان کے چہرے پر تھوڑی طنزیا مسکراہٹ نمودار ہوئی ، کہنے لگے؛’’ تم تینوں میں سے دو کو میں رکھ سکتا ہوں، تیسرے کی جگہ نہیں،اس کو جمشید کے پاس سونا پڑے گا ‘‘
’’وہ کون؟ ‘‘ روہت منمنایا۔
’’وہ دیکھو! ‘‘۔ وہاں ایک لمبا تڑنگا کالا آدمی روٹیاں لے کر جا رہا تھا۔ اتنی سردی میں اس نے بھی بنیان پہن رکھی تھی۔ تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر آنند اور وجئے اور وہ بوڑھا روہت کی طرف دیکھنے لگے۔
’’ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں ‘‘ روہت نے بے دلی سے کہا اور پلٹا۔ وہ دونوں اس بوڑھے کے پیچھے اندر داخل ہوگئے۔اندر ریڈیوچل رہا تھا ، جو اس نے بند کردیا اور سونے کی تیاری کرنے لگا۔ چارپائی پہ لیٹتے ہی آنند کی نظریں گیلی چھت سے ٹکرائیں…لالٹین بجھی ،اندھیرا چھایا اور اس کی آنکھیں بند…
٭٭٭
’’میری طبعیت ٹھیک نہیں تم لوگ جاو‘‘ وجئے نے ترِاہ ترِاہ کر واویلا مچایاتھا لیکن وہ پھر بھی اس کو گھسیٹتے ہوئے بنگلے تک لے گئے تھے ۔باہر موٹروں کا تانتا بندھا تھا۔نئی سے نئی قسم کی موٹریں۔ وہ چند آدمیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے۔ بنگلہ تھابڑا خوبصورت … ہر طرف سلسلہ وار گملے رکھے ہیں ، درجہ بہ درجہ نوکر چائے کی پیالیاں لیے اندر باہر نکل رہے ہیں اور پاس ہی بڑا سا لان ہے اور اس بڑے سے لان میں درجن بھر گورے بیٹھے سگار پی رہے ہیںلیکن ان کی کرسیوں کا کوئی ڈھنگ نہیں ، پہلی کا منہ چوتھی کی طرف ہے اور چوتھی کادسویں کی طرف ،دوسری کا چوتھی کی طرف اور آٹھویں کا دیوار کی طرف جس پر انگور کی ترچھی ترچھی بیلیں رینگ رہی ہیں، یہ بانکی بیلیں باقی بنگلے کی اس ترتیب اس ڈھنگ میں کافی بڑا شگاف ڈال رہی ہیں ۔
’’ Hello! Come here Rohit! Rohit!‘‘ اچانک ایک گورا انہیں دیکھتے ہی چلا اٹھالیکن جیسے ہی انہوں نے اسے نظر انداز کیا تو وہ گورا غصے سے ترِ بَھر ہو گیااور اپنے ساتھیوں سے کچھ پھنپھنانے لگا۔آنند نے دیکھا کہ روہت بہت بے چین کھڑا ہے ، اپنی کف پہ کی گئی ناقص سیلائی کو اپنے چھوٹے چھوٹے ناخنوں سے مزید کھریدنے کی کوشش کر رہا ہے۔اسی وقت ایک لڑکی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی ؛’’ارے آپ؟ آپ روہت ہیں !؟‘‘ روہت کا منہ بھینس جتنا کھل گیا۔
’’ جی، لیکن ‘‘ روہت کا لاجواب پا کر وجئے نے بات کی۔
’’آپ میرے ساتھ چلیں بڑی بے صبری سے آپ کا انتظار ہو رہا تھا ‘‘ وہ چہک کر بولی لیکن کچھ سوچ کر بجھ گئی۔ بڑی بڑی روشن آنکھوں میں اچانک سے اداسی کی لہریں ٹھاٹیں مارنے لگیں۔
’’Hey!! Rohit!! Here!‘‘اسی گورے کی آواز پھر کہیں پاتال سے نکل کر آئی۔
روہت پس و پیش جذبات لیے ان کی طرف بڑھنے لگااور آنند اس کے پیچھے جانے ہی لگا تھا کہ لڑکی نے اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا ۔اور وجئے بیچ میں سوچتا رہ گیا کہ کس کے پیچھے جائے۔
٭٭٭
وہ دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھ رہے تھے اوراسے محسوس ہوا کہ گزرے دن اتنے بے قرار کیوں تھے۔خیالِ پیار اور چمکتے ہوئے گال۔ پتہ نہیں اس وقت آنکھوں میں اشک کیوں نہیں آتا…جب پہلی بار انجام کا خیال ہی دماغ میں نہیں آتا۔سمجھ آجاتی ہے کہ کیوں کچھ چیزیں حد سے زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔ آنکھوں میں لکھا تھا کہ …تمہارے سوا یہ دنیا سنسان ہے،بے اشک نگاہیں اور وہ دل تھا کہ سمجھا …ہوش تمہارے بنا بیکار ہے۔
روشنی جو ہر طرف تھی ، سیاہ چادروں میں بدل رہی تھی اور آسمان سے پھول اتر رہے تھے جیسے پھولوںکی بارش ہو…پھول گل شمس و قمر سارے ہی ٹوٹ کہ سپنا بن گئے… وہموں کا شور تھا!… مگر سارے ہی ٹوٹ کہ اپنا بن گئے۔اس کی نگاہیں سیاہ و سفید پہ رکی تھیں اور آنکھیں دل چیرتی ہوئیں جگر بوس ہوگئیں ، وہ تاب نہ لائی اور چپکے سے شرمائی ۔لحظہ بھر مزید اور جو کوئی خو ف بچا تھا وہ بھی رخصت ہوگیا… شاید…شاید ذمہ داریاں بیچ میں آتیںمگر کس ڈھب میں پہلے کے لیے دوسرا کمال ِعلفت ہوگیا۔
بیماری ایسی ہے یہ عشق کہ دوا و درماں کچھ کام نہیں آتیں۔فُرج ِ درد بھی ہے ایک دوا …مگر ایسی دوائیں تو ہزار بار پہ بھی کام نہیں آتیں ……
متواتر گر رہے تھے پھول …دودھ جیسی چنبیلی …خون جیسا گلاب …کاسنی کنول…سنبل سبز،گل لالہ اور گیندے کے سنہرے پھول……
بے فکرِ انجام کی روشنی کڑک کر پیالوں میں گری اورشراب کا گھونٹ سمجھ کردونوں نے اسے پی لیا…
کوئی آواز آرہی ہے …کوئی دور سے چلا رہا ہے …آوازیں بڑھ رہی ہیں اور شور بڑھ رہا ہے۔
’’محبت روگ ہے‘‘…’’محبت بلا ہے‘‘ …’’ جنس ناروا ہے‘‘…’’دو عالم فراموش ہے‘‘ …’’اس سے دولخت ہوتی ہے دو پارہ ہوتی ہے قسمت ‘‘
…پھٹے کاغذ جو سارے جہان میں بکھرے،کہیں یہ بھی پھٹے …کہیں یہ بھی بکھرے!
آنکھوں کے قمقمے ایک دوسرے پہ ٹکے رہے اور کتنی دیر ٹکے رہے !
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: