Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 2

0
آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 2

–**–**–

{دوسرا باب}
…تاریکیاں…

وجئے نے باغ سے گزرتے ہوئے جو گلاب چرایا تھا اس سے ایک پتی الگ کرکے اس کے ٹکڑے کرنے لگا۔گذشتہ گھنٹے کے نظارے کی پرزے اچھل اچھل کر اس کے تخیل میں داخل ہوتے اور اپنی مستقل جگہ پا جاتے۔وہ سڑک پر مہمل پھرنے لگا۔جچی تُلی حقیقتیں دل پہ لگی ضرب سے اٹھ رہی تھیں اوروہ اپنے آپ سے بولا؛
’’آخر اس دل پر کس کا زور چلتا ہے …آئینہ آنند…آنند یہ وہ آئینہ ہے جو کسی کے قابو میں نہیں، اس پر تو بس جذبات کاہی رنگ چڑھتا ہے،جس پہ تمہارا دل …اسی پہ میرا دل بھی مرتا ہے …
یہ !…یہ ٹسوے نہیں دنیا…یہ سچ مچ کے آنسو جو میرے گالوں پر لڑھک رہے ہیں… یہ …یہ اس انجام کے نہیںجو ہوا ہی نہیں …یہ اس ابتدا کے ہیں جو ابھی جمی ہی نہیں …تم ہوبے بس آنند…
ہوں ، ہوں ، ہاہا … آنند میں بھی بے بس ہوں !…لیکن میں اب بتاتا ہوںمیںکروں گا کیا …اگر مجھے دوا نہ ملی تو …تو میں تمہیں چوٹ دوں گااور تمہارے گرم خون سے اپنے زخم سینکوں گا ،کیونکہ کیونکہ پیار اورجنگ میں سب ! ہاہاہا ! کیونکہ جنگ اور پیار میں جائز ہے سب کچھ سوائے بازی کے بعد جینے کے… جنگ لڑو تو یا تو جیت جاو یامیدان میں ہی مارے جاو …پیار کرو…تو یا توپا لو…… یاپاتے پاتے مر جاو! !! ہاہاہاہا ،مر جاو!‘‘
٭٭٭
اس نے دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھا۔دس۔گھڑی کی ٹک ٹک کی ساتھ ساتھ دل دھڑک رہا تھااور گھڑی کی وہ معمولی ٹک ٹک اس کے لیے کسی ہتھوڑے کی ٹھونک سے کم نہ تھی۔ ادھ کھلی کھڑکی کے باہر سے بس جھینگروں کی چرچر سنائی پڑ تی رہی اور سامنے میز پر پڑا لیمپ جلتا رہا۔لیمپ کی تیز روشنی میں چند چٹھیاں پڑی تھیں۔ نوازنے رومال سے اپنا منہ پونچھا۔اس پورے چوبیس گھنٹے میں وہ پلنگ اور میز کی مکھی بنا رہا ۔
پلنگ پر سوتا ہے ، پلنگ پر کھاتا ہے،میز پر بیٹھتا ہے ،شراب کے گھونٹ پی کر چند چٹھیوں کا جواب لکھتاہے لیکن ان چٹھیوں میں ایک چٹھی ایسی تھی جو صبح سے ویسے کی ویسی پڑی تھی ۔وہ کئی با ر پڑھ چکا تھا اب بھی وہی کھلی تھی ۔
لکھا تھا؛ ’’ آصف پلازاکے ساتھ،سپرنگ ہوٹل میں ، بارہ بجے کسی کو تمہارا انتظار رہے گا ‘‘
تو وہ جانتی ہے کہ وہ بارہ سے دو بجے تک مصروف نہیں ہوتا۔سوچتے ہی وہ مسکرایا۔ قلم کھول کر اس نے بارہ کو کاٹ کر اس کی جگہ ساڑھے بارہ لکھ دیا ۔ وہ کرسی کے ساتھ ٹیک لگاکر دو شعر گنگنانے لگا جو اس نے کچھ دن پہلے ایک ریڈیو پروگرام میں سنے تھے؛

جیتا کس امید پہ اب تک ہوئے دامن اپنے خون سے بدتر
ٍ لاکھوں تڑپے ہم ہر موج پہ ساقی روئے کتنی بارہم ہزار ہا ساقی

وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور سنگھار میز کے دراز سے شراب نکالی، ڈھکن کھولا اور منہ سے لگا دی۔ موٹے موٹے پانچ گھونٹ حلق میں اتارے پھر بوتل ویسے ہی میز پر رکھ دی، کھلی ہوئی اور واپس جا کر کرسی پر بیٹھ گیا اور لکھنے لگا ؛
’’ میری برداشت کے ہاشیے کم ہورہے ہیںاجالا،اور اجالا آپ کے وہم ہمیں کافی کم سمجھتے ہیں…گلشن آہ! …آہ!گلشن ،دشواری پیدا کر رہی ہو، اپنے لیے صرف اپنے لیے۔تمہاری اس دقت سے میں بس کھیل سکتا ہوں اور کچھ نہیں۔میں داغیلا نہیں لیکن سانپ سے کھیلو گی تو ڈس لے گا، دوسروں کی رگوں میں زہرگھولنا اس کا پیشہ نہیںلیکن اپنے راستے میں آنے والے ہر ایک کی رگوں میں زہر گھولنا میرا پیشہ ضرور ہے ! بچ کے رہتی تو بہتر تھا مگر اب جب قریب آئی ہو تو ڈسوں کا ضرور !
دل ہے گلشن !دل !جو تم پر نہیں آیا …پر جس پر آیاہے اس کا دل مجھ پر نہیں آیا…اجالا!…میری زندگی کا اجالا‘‘روشنی میں گھورتے رہنے کی وجہ سے آنکھیں جلنے لگیںاور موٹے موٹے دوآنسو پھسل کر گالوں سے نیچے گرگئے۔
٭٭٭
ڈرائیور بڑے ہی انہماک سے موٹر چلا رہا تھا۔دیکھنے پر لگتا جیسے نگاہ اس کی ونڈ سکرین سے چپک گئی ہے ۔اس کی منشا ہے کہ کسی خالص مشین کی طرح گاڑی چلانی ہے ،بنا پلک جھپکائے ، بنا جمائی لیے ، بنا ہلے جلے اور بنابات کیے اس لیے کہ باتیں دھیان بھٹکاتی ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ لحظہ بھرکے لیے اس نے پلک جھپکائی اور گاڑی کسی ٹرک میں جامری ۔گاڑی تو بچ جائے گی لیکن ٹرک چل بسے گا ۔کیوں ؟
کیوں کہ جوانی سے اسے پختہ یقین ہے کہ جب گاڑی اور ٹرک ٹکراتے ہیں تو کار بچ جاتی ہے جبکہ نامراد ٹرک کا کچومر کے ساتھ ساتھ پیٹرول تک نکل جاتا ہے۔وجہ وہ کمبخت بتاتا ہی نہیں۔
پچھلی سیٹ پر بیٹھے ایک صاحب نے یوں ہی خاموشی کی پرت توڑنے کی غرض سے ڈرائیور سے پوچھ ڈالا؛ ’’غفور میاں ، جانتے ہو یہ کون ہیں؟ایں؟ ‘‘۔انہوں نے شہادت والی انگلی سے اشارہ خاور میاں کی طرف کیاجو پچھلے آدھے گھنٹے سے پان کی جگالی کر رہے تھے اورکسی بات پہ موڈ آف تھا۔
ڈرائیور نے بلی کی دم کی طرح گردن ترڑا کر کہا؛ ’’میجر میجر جنرل کمال الدین کے بیٹے ہیں؟ ہیں ناہیں ‘‘
’’ھاں ، ہاہا، ھاں، ھیں ٹو ‘‘ خاور یہ کہہ کر آپ ہی آپ ہنسا اورپان کی جگالی تیز کرتے ہوئے سیٹ کی سطح سے نکلنے والے دھاکے توڑنے لگا۔
’’ الَم نشرح،نہیں آپ کے حالات ہم سے،سب کچھ شیشے کی طرح شفاف ہے ‘‘ ڈرائیور ہنس پڑا اور ایک سنسنی سی خاورکے چہرے پر دوڑ گئی اور بھیجے میں سوئیاں سی جبھنے لگیں۔اس نے گردن گھما کر ڈرائیور کو دیکھا جس کی ناک اور آنکھ کے حلقوں کے گرد پسینہ ابھر رہا تھا۔
مصنوعی غصے سے دھاڑا؛ ’’ اڑے کیا شفاف ہے ؟بکو بھی!‘‘ یہ کہتے ہوئے پان زدہ تھوک فضا میں نکلی اور ڈرائیور ڈر کرسوچنے لگا کہ صاحب کیوں خفا ہوتے ہیں۔آخر ایک معمولی ڈرائیور کو کیا معلوم ہے کہ اتنا بڑا عہدے دار پردوں کے پیچھے کیا کیا گل بوٹے کھلاتا ہے۔
کھرا کھوٹا پن ،جیسے سونے کا بس سنار جان سکتا ہے اسی طرح دلوں کا بس خدا …
’’ کہ سرکار آپ کتنی محنت سے کام کرتے ہیں ہم گریبوں کے لیے ،کبھی چھٹی نہیں لی آپ نے، ساری پھوج جانتی ہے‘‘۔ ڈرائیور نے اپنی ناک سے مکھی اڑا کر نہایت ہی دور اندیش لہجے میں کہا۔خوشامد کام کر گئی ۔
’’ارے یہ تو بالکل عوج بن عنق ہے !جتنا وہ زمین سے دوراتنا یہ عقل سے ! اچھا دوست تم یہ بتاو کہ کوئی چھم چھم چھم کا منصوبہ ہے ؟‘‘ پیچھے بیٹھے صاحب نے ہاتھ سے گھنگرو کا اشارہ کر تے ہوئے کہااور ہنسنے لگے۔ڈرائیور کے کان کھڑے ہوگئے اور خاور کسی قدر خفگی سے باہر دیکھنے لگا۔
گاڑی کی رفتار نہایت کم ہوئی۔اس نے سائن بورڈ پڑھا۔لاہور دس کلو میٹر۔
عَو ! عَو!عَو !عَو!…بورڈ کے کافی دور درخت کے نیچے بیٹھے دو کتے بھونک رہے تھے جیسے ان کا استقبال کر رہے ہوں۔وہ پیچھے پلٹا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کچھ کہنا چاہا۔ شریر آنکھیں۔ انگارہ اگلتی آنکھیں۔
موٹر کے ھم کے نیچے اس نے کچھ کھسر پھسر کی، ان صاحب نے زور سے اچھا کہا۔ ڈرائیور نے ان کی کھسر پھسر جانے کی سر توڑکوشش کی تھی مگر وہ صرف لفظ کڑک اورطوائف اور مشہور ہی سن پایا تھا۔
٭٭٭
’’ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک ساتھ رہتے ہیں ، ان کے رسم و رواج کہنے کو الگ سہی مگر وہ ایک دوسرے پر اپنی اپنی چھاپ چھوڑے ہوئے ہیں ، گوروں کے آنے سے پہلے ہم… ‘‘ ریڈیو کا پہیا
بے پروائی سے اس نے گھوما دیا۔
’’گاندھی کے اس عمل پہ مسلمانوں کو…‘‘ ریڈیو کا پہیا پھر گھوما۔
’’میجر جنرل کمال الدین کا کہنا تھا کہ ہم ہندووں سے …‘‘
ہر طرف بس ایسی ہی خبریں تھیں۔وہ ریڈیو پٹاخ سے بند کرکے پھسکڑا مارے بیٹھ گیا ۔گاڑی لیٹ تھی ۔ابھی بیس منٹ پہلے ہی وہ سٹیشن پہنچے تھے۔ریل کی ننگی پٹڑیوں سے نظریں سر پیٹ پیٹ کر اکتا چکیں تھیں۔ روہت اس کے سامنے سے گزرا۔اس نے روہت کو غور سے دیکھا ۔وہ کسی فلاسفر کی طرح سر جھکائے پیچھے ہاتھ باندھے ہوئے ٹہل رہا ہے اور اپنے خیالات میں لاپتہ ہے ۔یقینَ کسی دقیق اور بے نتیجہ بات پہ سر کھپا رہاہوگا۔عادت سے مجبور، اسکے دل میں …بے شک ان لاتعداد کٹھن لمحوں سے ملنے کا انتظار ہوگا جو لاحاصل ہیں، جو انسان کو لایموت بننے پر بھی نصیب نہیں ہوتے …جیسے…جیسے موت!
انسان مر تو سکتا ہے لیکن مٹ نہیں سکتا،سجدے کر ے نہ کرے لیکن وہ خدا بن نہیں سکتا…
آنند نے دیکھا کہ وجئے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے جیسے اس کی نظریںکوئی جواب مانگتی ہیں لیکن انہیں جواب مل ہی نہیں چکتا۔کئی گھنٹوں سے تینوں میں چُپ کی گانٹھ بند گئی تھی۔اوریہ چُپ تو تب لگی جب روہت لان میں ان سگار پیتے گوروں کی طرف گیا اورآنند اس لڑکی کے پیچھے اندر کی طرف اور وجئے درمیان میں چند گھڑی ٹکنے کے بعد آنند کے پیچھے لپکا تھا ۔ر وہت کو ان گوروں نے اپنے پاس بیٹھا کر کیا بات بتائی، کیا راز فاش کیا تھا اور وجئے اسے اس طرح خون آلود نگاہوں سے کیوں دیکھتا ہے؟آنند کے ذہن میں سوال اور سوالوں کی ہی گونج تھی مگر جواب نہیں۔ نگاہیں اوپر اٹھاتے ہی سورج کی تیز روشنی سے آنکھیں چندھیا گئیں۔وہ ہولے ہولے روہت کے پاس گیا ۔
’’کیسے ہوروہت؟ طبعیت ٹھیک ہے؟‘‘اس نے ایسے ہی چھوٹی سی ہیچ بات کی ۔ روہت خاموش کھڑا رہا اور سوال بے سود ہوکر ہوا میں حل ہوگیا۔
’’میں نہیں چاہتا کہ تم چلتے پھرتے ہوئے بھی جوانی کی موت مر و،میں نہیں جانتاکہ انہوں نے تم سے کیا بات کی ،اگر تکلیف دہ ہے ، بس اسے دفنا دو،اور، اور اگر مجھے اپنا دوست سمجھتے ہو تو وہ بات بتا دو جو بات جاننے کے لیے تم اتنے بے تاب تھے ،روہت !مجھے راز رکھنے آتے ہیں‘‘ آنند کے دھوپ سے دھمکتے چہرے پر نرم سی مسکراہٹ بکھری۔روہت غصے سے تمتما اٹھا،ایک جوالا مکھی تھا جو پھٹ پڑا۔
’’راز؟ کون سے راز رکھنے آتے ہیں تمہیں!نفرت کے ریزہ ریزہ پتھر پھیلے پڑے ہیں ان محلوں کے چاروں اور …جن میں تم راز رکھتے ہو‘‘
’’روہت یہ تم …!‘‘
’’شش !!!بس آنند بس!‘‘روہت نے انگلی اٹھاکر اسکی بات کاٹی۔وہ لہو پانی ایک کر رہا تھا اور آنندآنکھوں میں ابھرتے سمندر کو لیے اس کو مروتوں کے مزار توڑتے ہوئے دیکھتا رہا۔ آنندبے زبان بن گیا تھا اور روہت با زبان سے کچھ زیادہ۔وجئے ٹہلتا ہوا کہیں سے آنکلا۔
’’ اپنے راز چھپا کر دوسروں کے راز کیوں سنتے ہو؟‘‘
’’روہت میں نے تم سے کوئی راز نہیں چھپائے‘‘ اس کی آواز رندھ گئی تھی ۔زرا ہٹ کر کھڑ ی چار پانچ عورتیں ان کی طرف متوجہ ہو گئی تھیں۔
’’پھر یہ کیوں نہیںبتاتے کہ کیا ہواتھا اس وقت تمہیں ! کیوںاس لڑکی کے علاوہ کچھ نظر نہیں آیا تمہیں ! میں وجہ جانتا ہوں ، میں جان گیاتھا لیکن یہ نہیں جانتاتھاکہ تم مجھ سے چھپاو گے …‘‘ روہت تھوڑا ٹھنڈا ہوگیااور آنندکو گلے لگا لیا۔
’’بتاو گھونچو بتاو، کون ہے وہ؟‘‘روہت ہنس پڑا۔
’’ میری کھوئی ہوئی زندگی ہے وہ جو پھر سے کھو گئی! میرے غم کی بے ہوشی ، میرے درد کی مدہوشی اور دکھ کی بدمستی تھی وہ… جو پھر سے کھو گئی !‘‘ دل شکستہ مسکراہٹ لیے ایک آنسو اس کی آنکھ سے موتی بن کر گر پڑا۔
’’میںوعدہ کرتا ہوںمیری جان ، تمہیں وہ سکھ ، وہ دوا ، وہ چین ملے گا …پھرسے ،میںوعدہ کرتاہوں،وعدہ کرتاہوں میں!‘‘ روہت نے وجئے کی طرف دیکھا وہ بھی ہنس کر دونوں کے ساتھ بغل گیر ہوگیا۔
٭٭٭
’’جانتے ہو ، وہ میری دوست ہے پر میں وہاں صرف اس غرض سے جاتی ہوں کہ نظر بھر تمہیں دیکھ سکوں! لیکن تم سامنے ہی نہیں آتے تمہیں دیکھنا بہت مشکل ہے، تم تو ہر وقت میرے پاس ہوتے ہو لیکن یہ خواہش ہر وقت مچلتی ہے کہ میں بھی تمہارے پاس ہوں ، تمہارے پاس جی سکوں ،تمہیں دیکھ سکوں، زندگی کو دیکھ سکوں ‘‘ گلشن اس کی آنکھیں دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔اس کے گلابی ہونٹ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے ۔
کوکاکولا کی بوتل وہ کھانے کے فوراَ بعد ہی پی چکا تھا اور دو سگریٹیں بھی۔ اگرچہ اس کا سگریٹ پینے کا جی نہیں چاہ رہا تھا لیکن صرف اس خیال سے پی لیںکہ گلشن کو سگریٹ پسند نہیں، اس کو تو چڑھائیں، دھواں سونگھ لینے پر بس کھاوں کھاوں کیے جاتی ہے۔
’’ گلشن اجالا تم سے کیا باتیں کرتی ہے؟ ‘‘ نواز یہ کہہ کرنے میز پربازو ٹکا کر تکون بنا دی۔
’’بس کچھ نہیں یہی عام سی باتیں ہوتی ہیں، اسے چھوڑو، یہ بتاو تم کہاں چھپے ہوتے ہو،پل بھر کو چہرہ ہی دیکھا دیا کرو، کوئی پگلی خوش ہوجائے گی‘‘۔ نواز دل ہی دل میں چلایا، بڑی آئی پگلی، ڈھنگ سے لپ اسٹک لگانی تک نہیں آتی۔ہونٹ ہیں جو لپ سٹک میں بھی برے لگتے ہیں اور ایک اس اجالا کے ہونٹ ہیں کہ لپ اسٹک کے بغیر بھی بالکل مونالیسا کے جیسے لگتے ہیں، بے اختیا انہیںچومنے کو جی چاہتا ہے۔
نواز کے منہ سے بے اختیار رال ٹپکی جو اس نے رومال سے صاف کر لی اور سوال گل کرتے ہوئے وہ کہنے لگا؛ ’’تم آجایا کرو گھر ہمارے جب دل کرے، اچھا یہ بتاو تم نے اپنے اور میرے بارے میں کبھی اجالا سے ذکر تو نہیں کیا؟‘‘ اس نے نہایت ٹھمکے ٹھمکے لہجے میں کہا۔نگاہیں گلشن کے آر پار ہوگئیں۔
بولی ؛’’نہیں کبھی نہیں کیا! ہاں تین چار دفعہ میں نے اس سے تمہارے بارے میں پوچھنا چاہا لیکن وہ ٹال گئی، لیکن نواز میں کہتی ہوں اس بیچاری کو مجھے بتا دینا چاہے آخر دوست کہتی ہوں میں اسے اپنا ! اسے کو بتانے میں کیا حرج ہے آخر تو پتہ چل جانا ہے دنیا کو ‘‘
ٹھن ٹھن نواز کے چہرے پر گھنٹیاں بجیں؛’’نہیں گلشن نہیں، میری بات غور سے سنو، تمہیں کچھ نہیں معلوم، بہت معصوم ہو تم…‘‘
گلشن شرمائی لیکن چہرے کی سرخی فورا َ گم ہو کر سوال میں بدل گئی۔نواز بن بن کر کہا رہا تھا؛’’ بہت معصوم ہو تم، اب یہ ایسا راز ہے جو میں نے اپنے سب سے اچھے دوست تک کو نہیں بتایا، تمہیں بتا رہا ہوں کیوں کے تم سے محبت کی ہے اس لیے سب سے بڑی دوست ہو، اور محبت میں یوں باتیں چھپی رہیں ،اچھا نہیں ہوتا، اس لیے کہہ دیتا ہوں، اجالا کی شادی یہی تین سال پہلے ہوئی، تب وہ سترہ برس کی تھی، یتیم ہے کوئی نہیں اس کا، ماموں کے ساتھ رہتی تھی مگر اب وہ بھی اس دنیا میں نہیں، جو کچھ ہے وہ یہیں ہے، خاور میاں واپس فوج چلے گئے…اور پھر …تم تو جانتی ہو…آہ!‘‘
’’کیانواز؟ کیا بات ہے ؟‘‘ گلشن کہے بنا نہ رہ سکی۔
’’ بہت سی لڑکیوں کا دل ایسا ہی ہوتا ہے گلشن،بہت کا زیادہ تر کا، جب ان کے شوہر دور چلے جاتے ہیں تو محبت کی خالی جگہیں پر کرنے کے لیے وہ آس پاس دیکھتی ہیں، اجالا نے بھی آس پاس دیکھا اور جب اجالا نے آس پاس دیکھا تو اسے صرف میں نظر آیا…میں ! گلشن صرف میں! مجھ سے محبت کر بیٹھی ہے اوریہ اقرار کرنے کے بعد اس نے مجھ سے بہت سے تقاضے کیے بہت! کہنے لگی مجھے بھگاکے لے جاو میں نے اسے ٹکا سا جواب دے دیا کہ میں ایسی خیرمذہبی حرکت نہیں کرسکتا، مانا کہ عمر میں تم مجھ سے چھوٹی ہو مگر ایسا رشتہ بنانے کی جرات میں نہیں کرسکتا، بھابھی کہنا چاہیے مجھے تمہیں لیکن میں تمہیں بہن کہتا ہے، چھوٹی بہن کہتا ہوں…یہ سننے کے بعد بھی اس کے جذبات سرد نہ ہوئے گلشن!…گلشن !اس دنیا میں تم جیسی خوبصورت لڑکیوں کی پارسائی اور پاک دامنی پر کوئی درندہ ہاتھ صاف کرتا ہے مگر اس لڑکی نے، اونہہ، توبہ، اونہہ یہ کب کہاں ہوا کہ کوئی لڑکی اس لڑکے کو اپنی آبرو، اپنی عصمت لوٹنے کا کہے جس نے اس کے سر پر بہن کہہ کر ہاتھ رکھا ہو ! ‘‘
گلشن کا منہ کھلتا ہی چلا جارہا تھا۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگائے بیٹھا تھا اور استغفار بڑبڑا رہا تھا۔بنا پلک جھپکائے وہ اسے تکتے ہوئے پیچھے کرسی پر کھسک گئی۔ دماغ میں پتہ نہیں کیا کچھ سائیں سائیں کر رہا تھا۔
’’او! منحوس لڑکی !‘‘گلشن نے ٹھنڈا گرم دیکھے بغیر کہہ کر منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
نواز نے سمجھ لیا کہ وہ بس ٹھگی جا چکی ہے ، تیر عین سینے میں لگا ہے۔
٭٭٭
کچھ وقت تسبی ٹھک ٹھک کرتے گزر جاتا تھا اور بچے وقت میں وہ اپنے منہ سے اپنے بھائی کے لیے دعائیں ہی نکالتی رہتی تھیں۔ بڑی ماں کے جسم سے ہمیشہ دواوں کی بدبو کے شرارے سے ابھرتے رہتے۔ سطح سمندر کے نیچے میل کی پرتیں ٹھاٹھیں مار ا کرتی تھیںخصوصاََ پیروں پر جہاںمیل کچیل کے چاپڑ جم چکے تھے ۔
ویسے تو انہوں نے بھی اپنی جوانی میں سب اتار چڑھاو دیکھے تھے پر وہ اجالا کے بارے میں کافی فکر مند رہتیں تھیں۔جانتی تھیں کہ بیچاری کی قسمت کچھ زیادہ فراخ نہیں۔ اس کے علاوہ وہ نواز کے متعلق بہت غور کرتیں اور نواز کااجالا کے کمرے کے دروازے کا مکھی ہونے کا بھی انہیں خوب علم تھا۔
نواز پر وقت بے وقت کی برہمی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے وہ بے قرار نظریں پڑھ لی تھیں جو اجالا پر ٹکی ہیں۔ بس ایک دفعہ یوں ہی نواز یہ کہہ دیا کہ بیٹا نظریں جھکائے رکھا کرو، عورت کا احترام لازم ہے ۔ اتنی سی بات پر وہ بھڑک اٹھا۔ کہنے لگا کہ میں کوئی کنواری لڑکی ہوں جو نظریں جھکائے رکھوں اور جہاں تک احترام کی بات ہے وہ تو میں خوب کرتا ہوں…مجھ سے زیادہ با ادب اور شریف انسان اس دنیا میں نہیں!
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی انہوں نے نواز کو اجالا اور نمرہ کی باتیں سنتے دیکھ لیا۔ وہ کونے سے آنکھ لگائے دیکھتی رہیں کہ کیا کرتا ہے لڑکا۔ پانچ منٹ گزرنے پر وہ اپنے بال کھجلاتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا اور بڑی ماں بالکونی میں دھوپ سینکنے چلی گئیں۔ دھوپ میں بھی بیٹھے بیٹھے ایک ہی خیال ان کا جی کھائے جا رہا تھا کہ اس صورت حال میں وہ مورچہ پکڑیں تو کون سا ۔
خواہش ابھرتی کہ کاش کمال بھیا ہی یہاں ہوتے، انہوں نے نہ جانے کیوں آنا جانا بند رکھا ہے، پلٹ کر دیکھا تک نہیں کہ گھر میں بہن ، بیٹا اور سوھاگ لٹی بہو کس حال میں ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ خون کی رشتہ والوں کو بس عید کے عید ہی اپنا منہ دیکھا دیا۔ اگر وہ یہاں ہوتے تو سب کو کس کر رکھتے۔
’’ او، ککوکی ماں ! ‘‘انہوں نے برا سا منہ بنا کر لان میں سے گزرتی ملازمہ کو پکارا۔ کالی کلوٹی ملازمہ اوپر دیکھتی اپنا جووں سے برا میلا سرکھجلانے لگی اور جلدی جلدی پیر چلاتی ہوئی لان پھلانگ گئی۔ سانپ کی طرح لمبی سیڑھیاں چڑھی اور بالکونی میں قدم جماتے ہی بڑبڑا اٹھی؛ ’’جی بڑی ماں ‘‘
’’یاں مر، کندھے داب میرے، درد سے مرے جارہے ہیں، اور اتنی دیرکیوں لگا دی آج آنے میں،ویسے تو سویرے سویرے ہی آدھمکتی ہو‘‘ بڑی ماں نے تیوری چڑھا کر کہا اور ججو کی ماں بھانپ گئی کہ آج پھر کوئی نہ کوئی بات ایسی ہوئی ہے جو ان کے پسند کی نہیں تھی۔
’’ بس کیا بتاوں بڑی ماں، پڑوس کی چھوکری ہے ایک، انگریجی کے چار پانچ لفظ کہیں سے سیکھ آئی اور میرے معصوم بچے کو فٹا لیا، اب میں ماری ماری پھرتی ہوں، جمانہ بہت خراب ہے میں کہے دیتی ہوں ، کسی کا بھروسا نہیں ‘‘ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے سیاہ ہاتھوں سے زور زور سے کندھے دباتے ہوئے بولی ۔ ایسے ہی ایک خیال بڑی ماں کے دماغ میں آیا، کہیں نواز تو… نہیں نہیں، اپنا خون ہے اتنی گری ہوئی حرکتیں کیوں کرے گا۔اگر باپ نہیں رہا تو کیا ہوا ماں ہے نا۔ نمرہ نے اچھی تربیت کی ہے اس کی، کسی حد تک میں گواہ بھی ہوں۔
بڑی ماں کو اس طرح گم سم پا کر وہ ملازمہ مزید کہنے لگی؛ ’’ میں نے لڑکی کے گھر والوں کو کھری کھری سنا دی، جب تک جہیج میں سائیکل نہیں دو گے، سادی کوبھول جاو‘‘ وہ شانے اچکا کر بولی ۔
’’کیا کہتے ہیں فر؟‘‘
’’کہتے ہیںکہاں سے لائیںپھوٹی کوڑی نہیں ان کے پاس‘‘
’’پھر رشتے کا کیا ہوگا؟‘‘
’’نہیں ہوگاہر گز نہیں ہوگا، میں تو اپنے ککو کے لیے چاند سی دلہن لاوں گی جو بہت سا جہیج دے گی ہمیں،لیکن بڑی ماںککو ہے ایک دم پھوہڑ ، چھوکری نے ایسے ایسے ٹونے کیے ہیں کہ وہ تو بنا جہیج کے لینے کو تیار بیٹھا چھپکلی کی کٹی دم کی طرح تڑپ رہا ہے !مچل رہا ہے! اب سے کیا پتہ اچھی چھوکریاں کیسی ہوتی ہیں ‘‘
وہ بولتی چلی گئی اور بڑی ماں اپنے تخیل میں کالے کلوٹے ککو کو الٹنے پلٹنے لگیں۔
٭٭٭
سٹیشن پر فصلوں کے خوشبو یا بدبو جو آپ کہہ لیں، ہر طرف پھیلی۔ میر پور میں انسانوں سے زیادہ کھیتوں کی آبادی تھی ۔جدھر دیکھو کھیت۔ گنے کے کھیتوں میں کسان منجھلے ڈالے ادھر ادھر لاٹھیاں ٹیکتے ہوئے پھر رہے تھے۔ اتنے میں ایک قلی آیا اور روہت کے چھوٹے سے بیگ پر نظر تاڑ کر اپنا میلا سر کھجلانے لگا، جس میں یقینَ سو فیصد جوئیں ہوں گی۔ چند چھوٹی موٹی چیونٹیاں تو اس کی دھوتی پر بیٹھی تھیں جو اس نے پٹی بنا کر سر پر باندھ رکھی تھی، اس لیے کہ یہ قلیوں کا نیا فیشن تھا۔
دستیاب بھی اور جھکاس بھی …سب غریب قلی مسرور ہوجاتے کیونکہ سب کی پہنچ میں تھا، البتہ اس میں صورت اور بھی بد لگنے لگتی ،لیکن انہیں کیوں کوئی پروا ہو۔جیسے فیشن کی دلدادا لڑکیاں جب دیکھتی ہیں کہ کوئی نیا فیشن چل اٹھا ہے، حالاں کہ وہ فیشن ان کے بوتھے کے ساتھ ججتا تک نہیں لیکن وہ پہنیں گی، جیسے نہ پہنا تو پتہ نہیں قیامت آجائے گی، مرجائیں گے اور عاشق منہ پھیر لیں اور شوہر طلاقیں دے دیں گے۔
’’چلو جاو، جاو نہیں چاہیے‘‘ وجئے قلی کو اس طرح بیگ گھورتا ہوا دیکھ کر غرایا۔ قلی بیچارہ بلی کے بچے کی طرح سہما سہما منہ پھسارے دوسرے طرف چلا گیا جہاں اس کو چند سکے موٹے موٹے دو سندھیوں کی صورت میں نظر آرہے تھے۔
٭٭٭
شام ہونے والی تھی اور جیسے ہی گھر کے بچے کھیلتے کودتے چلے گئے تو اباجان نے آنند کا منہ غور سے دیکھا اور کہنے لگے؛ ’’ارے بھئی تمہارا منہ ایسا کیوں بنا ہوا ہے، بالکل چیچک زدہ طوطا!‘‘
باہر گلیوں سے بچوں کا اپنے کسی غیر دلچسپ کھیل پر جھگڑا ہو رہا تھا، تبھی کسی بڑے نے سب کو ڈنٹ پلائی، سب بچے چپ ہوگئے، کوئی تو صاحب تھے جو شیر ہاتھی کی طرح دھاڑ دھاڑ کر کہہ رہے تھے کہ مہمان کیا کہیں گے کیسے جاہل لوگ ہیں ۔بچے اس ڈر سے کہ کہیں مہمان نہ چلے جائیں،دور فصلوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح اچھلتے کوددتے چلے گئے۔
’’ سفر کی تھکان‘‘اس نے مختصر ساجواب دیا۔ ابا کا ماتھا ٹھنکا۔گوند سے اپنی نظریں اس پر چسپاں کر دیں۔
’’ایک چوتھائی دن گزر گیا اب تک تھکان نہیں گئی؟‘‘اس نے ناں میںسر ہلایا۔
ماں جو تو تھوڑی دیر پہلے ہی اپنے لال کا منہ ماتھا چوم چاٹ کرچلی گئی تھی باہر کھڑی پڑوسنوں سے آنند کی تعریفیںکر رہی تھی ۔ کتنی خوش لگ رہی تھی ماں اور ہوں بھی کیوں نا؟۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ اب بوڑھی بھی ہونے لگی ہے اور زیادہ تر بیمار رہتی ہے کتنے عرصے سے خواہش ہے کہ ماں کی سیواکرنے کے مواقع ملیں۔
اباجان کی تجربہ کار آنکھیں تاڑ گئیں کہ لڑکا اپنے تار کہیں جوڑ آیا ہے کمبخت !
لیکن خاموش رہے ۔دبلی سی مسکراہٹ چھن سے غائب ہو گئی اور اسکی جگہ ایک جاندار ناراضی اور ڈر اور نہ جانے کون کون سے منفی جذبات نے لے لی۔
بولے ؛’’پتر !تجھے معلوم ہوگیا ہے تو بتا دے تیری مرضی کیا ہے ؟‘‘
’’کس بارے میں باو جی؟‘‘
’’ارے تیری اور بجو کے بیاہ کے بارے میں!‘‘
’’کیا !! کبھی نہیں ! ہاہاہا ! اس پاگل سے میں کیوں شادی کرنے لگا آخر دنیامیں کیا لڑکیاں مر گئی ہیں جو میں اس لڑکا جنگجو سے شادی رچانے کا خواب بُن بیٹھا، ہاہا ہا ! نہیں ،نہیں کبھی نہیں!‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہو اور گھڑے سے پانی بھرنے لگا۔ابا بھی کھڑے ہوگئے ۔
’’وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا تو اس رشتے سے خوش نہیں ،لیکن یہ رشتہ کرنے کا تیری ماں نے فیصلہ کیا ہے‘‘
’’وہ کون ہوتی ہیںفیصلہ کرنے والیں !!‘‘ اس نے پانی سے بھرا گلا س زورسے زمین پر پٹخا۔
پھر وہ یک دم سہم گیا جیسے اپنی غلطی پہ ندامت کرنے ہی لگ گیاہو۔آہستہ آہستہ وہ چارپائی پر بیٹھ گیا۔
’’نا ! وہ بہت کچھ ہوتی ہیں میری زندگی کے فیصلے کرنے والیں،لیکن باو جی میں اس رشتے سے خوش نہیں ، میں نہیں جی پاوں گا اس کے ساتھ جس کے ساتھ میری دھڑکنیں نہیں چلتیں ،بس ! ماں سے کہہ دیں ! میں ان کے قدموں کی خاک ! مگر یہ رشتہ قبول نہیں! ‘‘
’’آنند عزت کا سوال ہے!‘‘
’’کوئی پروا نہیں‘‘ اس نے لاپروائی سے کہا۔
’’آنند اسی میں تمہاری زندگی کا بھلا ہے !‘‘
’’ایسے بھلے کی مجھے کوئی ضرورت نہیں جو مجھے خود سے دورکردے …مجھے میرے پیار سے دور کردے‘‘
’’ آنند قسم ! تمہاری ماں نے قسم کھائی ہے !‘‘
’’ماں کی قسم چھوٹی نہیں لیکن میں نے محبت کی قسم کھائی ہے !اور ماں کی ممتا !…اور ماں کی ممتا اسی محبت کاایک ٹکڑا ہے ،اسی پیار کا ایک حصہ ہے… جو میرے دل میں ہے ، میری جان میں ہے!‘‘
ابا بے زبان ہوگئے۔چند لمحے خاموشی طاری رہی ۔ الفاظ ان کے منہ سے نکل ہی نہیں رہے تھے۔
’’ماں کی بددعا لوگے …مرنے کے لیے کوئی چوکھٹ بھی نصیب نہیں ہوگی !‘‘
’’اس رشتے کے بعد میری ماں کو میرا سرور ، میری خوشی، میرا نشاط ،میری شادمانی بھی نصیب نہیں ہوگی ‘‘
’’چونکہ میں بہتر جانتی ہوں! اس لیے ہاں ! نصیب ہوگی !ہوگی آنند !تمہارے آنگن میں خوشیاں ہوں گی ، سرور ہوگا ،شادمانی ہوگی !‘ ‘پیچھے سے ماں خون جگر پیتی ہوئیںاندر داخل ہوئیں ۔ ان جھریوں سے بھرے چہرے پر آنسوں کے انبار تھے اور ماتھے کا سندور سلوٹوں کی نظرتھا ۔
آنند کی آنکھوں میںبے اختیار آنسو آگئے ۔اس نے آگے بڑھ کر ماں کے بوڑھے ہاتھ تھام لیے اورانہیں چوماہی تھا کہ انہوں نے پیچھے کھینچ لیے اور خوں ریز سرد نگاہوں سے اس کا چہرہ تکنے لگیں۔
’’چُوکتے ہوئے اگر اس طرح نادانی میں کلائیوں سے چوڑیاں اتارو گے تو ٹوٹ جائیں گی … خون بہے گا …جذبات کے جلتے چولھوں میں ہاتھ دو گے تو جل جاوگے ،ایک بار جل کے بھی باربار جلو گے‘‘ماں روتے ہوئے کہہ رہی تھی اور قطرے ندی کی طرح رخسار پر بہہ رہے تھے۔
’’ماں ! ماںتمہارے روٹھنے کے خیال ہی سے بچپن میں دل دہل جاتا تھا…اب تک یہ اسی طرح دہل جاتا ہے ……دُہرا ہو جاتا ہے …… دہک جاتا ہے !محبت کی دھار لے جاتی ہے اسے کہیں دور… جہاں صرف سکون ہوتاہے ،جہاںکوئی نہیں ہوتا ……جہاں صرف تم ہوتی ہو،میں ہوتا ہوں اور خدا ہوتا ہے !…پر ماں؟…… کیا تمہاری وہ قسم تمہارے لیے میری خوشی سے بڑی ہے ؟…کیا نادان قسمیں ٹوٹنے کے لیے نہیں پیدا ہوتیں؟‘‘
انہوں نے آنند کے گال پر اپنے ہاتھوں سے آنسوپونچھے ۔تھوڑا ہنس کرپھر روتے ہوئے بولیں؛
’’تمہارے لیے میں ایک لمحے میں جان دے سکتی ہوں لیکن اپنی زبان پر پورا اترنے کے لیے ہزارکیا لاکھ سال سسک سسک کر مرنے مارنے کو تیار ہوں !ہا ! یہ بیاہ ہوگا ، اس گھر میں چوڑیاں چھمکیں گی اور ڈھول بجیں گے اورتمہارے چہرے پر دھان پان سی بھی نفرت اور جھلاہٹ نہیں ہوگی ! ورنہ…ہا! ورنہ ! اس ، اس دہلیز پر میری زندگی پڑی ہے !‘‘ انہوں نے میز پر پڑی چھری کی طرف اشارہ کیا۔آنند نفی میںسر ہلاتا رہا ،روتا رہا۔
ابا بیچ میں آئے ، ہاتھ جوڑنے لگے ؛’’ او بھگوان کا واستہ ہے او آنند ، یہ ہاتھ جنہوں نے تجھے پالہ ہے پوسا ہے ، آج صرف تیرے ہی لیے نہیں ،دواور زندگیوں کے لیے بھی تیرے آگے جڑے ہیں ، ہمارا خیال کر ‘‘ ابا رو رہے تھے بہت رورہے تھے ۔
اس نے انہیں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔ اب وہ کیسے مچل گئے تھے ،کیسے جذبات کی ظغیانی اچھل پڑی تھی،کیسے موت کا فام چہرے پر چڑھ گیا تھا۔رن کے کھیتوں میں سخت رنجش میں آکر ماں چھری کی طرف لپکی ۔ابا نے زورسے پکڑ لیا ۔ چیخنے چلانے لگے۔
’’جانے دومجھے ! یہ نہیں مانے گا ! اس سے بہتر ہے میں مر جاوں ! ہٹیے ہٹیے !‘‘
’’ارے کیا کررہی ہو ! ہوش میں آو !آنند !‘‘انہوں نے بڑی مشکل سے ماں کو قابو میں کیا۔
باہر سے جو چاچا ،چاچی سب گھر والوں نے چیخ و پکار سنی تو دوڑتے ہوئے آگئے اور وہ نیچ بیٹھتے ہی سر پکڑ کر رونے لگیںاور آنند اپنے گال رگڑتا باہر چلا گیا۔
وہ جب تیزی سے رنجش و ملال کے لیے سامان سمیٹنے لگاتو وجئے اورروہت بھونچکے رہ گئے ۔ان کی حمت نہیں بندھی کہ اس سے زیادہ کچھ پوچھیں۔
’’کیا کررہے ہو؟ کیا ہوا ہے ؟ آنند!؟‘‘
’’ہم یہاں نہیں رہیں گے ، واپس جا رہے ہیں ہم !‘‘
’’لیکن ہوا کیا ہے ؟‘‘
’’بس !!!چلو یہاں سے!! !‘‘اس نے چلا کر کہا اور بیگ کندھے پر ڈالتا زور زورسے چلتا باہر نکل گیا۔وہ دونوں تیزی سے اپنا سامان سیمٹ کر اس کے پیچھے بھاگے ۔
وہ سٹیشن پہنچے اور معلوم ہوا کہ لاہور جانے والی گاڑی آدھے گھنٹے میں پہنچنی تھی۔
نمی سے بھری زمین میں دبے بیجوں کو کونکلنے سے کون روک سکتا ہے … آخر سورج مکھی کو سورج کی طرف دیکھنے سے کون روک سکتا ہے…آخر عاشق کولاحاصل کو حاصل بنانے کی تلاش میں نکلنے سے کون روک سکتا ہے …بس صرف ایک ……بس صرف ایک خاموش خدا !…اورکوئی نہیں۔
عشق نے کتنوں کو بگاڑا، کتنوں کو سنوارا۔ جواب جو بھی ہو لیکن سچ ہے کہ پیاسا پانی کے بغیر نہیں رہ سکتا اور عاشق معشوق کے ،ا نسان خدا کے، زندگی موت کے ، دن رات کے اورآنند… اور آنند اجالا کے…
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: