Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 3

0
آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 3

–**–**–

{تیسرا باب}
…آنسو اور شمع…

گھڑی منہ پھاڑے اس کی طرف دیکھ رہی تھی، جیسے چڑھا رہی ہو۔ اس کی ٹک ٹک کہہ رہی ہو وہ تمہاری سہیلی جو نام کی سہیلی تھی اب وہ بھی نہیں رہی۔ اب وہ ڈائن ہے جو اس خزانے کے ساتھ رہتی ہے جس کی اسے تمنا ہے، جسے وہ جی جان سے چاہتی ہے، جس کے بارے میں سوچے بغیر نہ اس کی صبح ہوتی ہے اورنہ شام۔ اس کا دل کبھی کبھی تو وہ نام تسبی کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے۔ وہ اسے جھڑکتی ہے لیکن چند گھڑیوں بعد وہ اپنے ہونٹ، نواز نواز نواز کرتے ہوئے پاتی ہے۔ ہفتے بھر میں کئی بار تو نیند میں اس کا نام بڑبڑاتی ہے۔
اگر گلشن کے ماں باپ نہ چل بسے ہوتے اور وہ اکیلی اپنے بھائی اور چچا کے ساتھ نہ رہتی ہوتی تو ضرور سب جان جاتے کہ وہ راتوں کو کیا کچھ بڑبڑاتی ہے اور چھت پہ بیٹھ کر چاند تکتے ہوئے کس کے خواب بنتی ہے۔
ٹک ٹک… ٹک ٹک… گھڑی کی سوئی کے ساتھ ساتھ دل دھڑک رہا تھا۔کالج میں کوئی امتحان تھا، خود کوتیار کرنے کے لیے کوئی کتاب اٹھائے بیٹھی تھی وہ۔ اس نے ہرایک طریقہ استعمال کر لیا جو اس کی استانی نے، پڑھائی میں جی لگانے کے نسخوں، میں بتایا تھا۔ خیال آتے ساتھ ہی بھٹک جاتے۔وہ پلنگ سے اٹھی اور کمرے میں مضطربانہ ٹہلنے لگی۔
سٹڈی ٹیبل جس پر چند کتابوں کا ڈھیر لگا تھا، اس کے ساتھ ہی دو تین گلاب پڑے تھے۔
اجالا، اجالا بڑی کمبخت ہو … وہ زیر لب بڑبڑائی۔ کیسی جاہل ہو، اور میں تمہیں کیا سمجھ بیٹھی تھی، مانا کہ میں زیادہ ہمدردی نہیں رکھتی تھی تم سے پہلے لیکن نفرت بھی تو نہیں تھی، میرے لیے تم ایک عام سی لڑکی تھی جسے کسی دوست کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہمدردی چاہیے ہوتی ہے، مگر جو آج میں نے حقیقت جانی ہے… افو!! تم کیسی بھدی ڈائن ہو اجالا…اجالا ایک بیسوا ہو تم !‘‘
’’گلشن زرا چائے تو بنا دو ‘‘ ایک لمبا تڑنگا سا لڑکا اندر داخل ہوا اور اسے اس طرح بیکار کھڑا دیکھ کر کہنے لگا۔اس کا بھائی جس کی عمر زیادہ سے زیادہ پندرہ برس ہوگی، اپنے لوفر دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کھیل کر اب گھر لوٹ رہا تھا۔
گلشن پہلے ہی کڑوی ہو رہی تھی، تیوری چڑھا کر بولی؛ ’’نگوڑے، خود بنا لو، ہاتھ پاوں نہیں معزور ہو کیا؟ ‘‘
لڑکا سہما سہما پاس بیٹھ گیا اور گلشن پتیاں گلاب سے جدا کرتی غصے سے باہر چلی گئی۔
٭٭٭
اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ نمرہ آپا کو سب کچھ بتا دے گی سچ سچ۔اب بس حمت باندھنی تھی ۔فلاکت زدہ انسان کے لیے سب سے مشکل کام ہمت باندھناہوتا ہے اور ہمت والے انسان کے لیے سب سے آسان کام فلاکت و بد نصیبی سے نکلنا۔اس نے وہ جذبات بیان کرنے تھے جنہیں وہ زمانے کی امیدوں کی گٹھڑی کے نیچے دبانا چاہتی ہے لیکن وہ نہیں دبتے اور اس گٹھڑی کو اٹھا کر الٹا دیتے ہیں ۔ایسے زمانے کی امیدوں کی گٹھڑی الٹانے والے جذبات و انسان کوئی امکا ڈھمکا نہیں ہوتا …وہ تو وہ ہوتا ہے جس سے پریم ہوتا ہے …جس سے پیارہوتا ہے ، جس میں اپنی جان ہوتی ہے …اپنی دھڑکن ہوتی ہے …
ایک حد ہوتی ہے یہ بوجھ میں نہیں سہہ سکتی۔اس نے اپنے آپ سے کہا۔ کیوں وہ اپنی مرضی کی زندگی نہیں جی سکتی۔کیوں لڑکیوں کو شیشہ اور کاغذ سے بنا سمجھا جاتا ہے کہ زرا سی آنچ آئی اور وہ ٹوٹ جائیں گی۔ جذبا ت کے تیز بہاو میں اس کو اپنا آپ گم ہوتا ہو امحسوس ہوا۔
جب سے اس کے دل میں کسی کا تصور آتے ہی آہیں نکلنی شروع ہوئی تھیں تب سے گلشن اسے سپاٹ گھسیٹتی ہوئی کہیں لے جاتی …سنیما، پارکس ، ساحل سمندر اور سنیما ، پارکس اور ساحل سمندر۔
پروہاں بھی کچھ فرق نہ آتا…فلم کے ہیرو کا چہرہ ہٹ جاتا اور دل کے ہیرو کا چہرہ آجا تا ہے اور اسے دیکھتے ہی جذبات فوارے کی طرح پھوٹ پڑتے،پارک کے پھول دیکھ کر اس کے ہونٹ یاد آجاتے اور ساحل سمندرکی لہروں کے پرسکون شور کو سن کر کسی کی آوازیں سنائی دیتیں تخیل میں وہ کسی سے باتیں کرتی ۔
وہ نوجوان وہ سب کچھ تھا جو اس کا شوہرنہیں تھا اگرچہ انہوں نے کبھی بات تک نہیں کی تھی، ایک دوسرے کا نام تک معلوم نہیں تھا مگر اس کی آنکھیں…وہ تیز آنکھیں…وہ جاں بہ لب آنکھیں…وہ تو کتنے لاکھ لفظ چند لمحوں میں کہہ گئیں… آنکھیں جھوٹ نہیں بولتیں…
زندگی میں پہلی بار اس کی نبض اتنی زور سے اچھلی تھی۔ بیس سال تک دوسرے اس کی زندگی کا فیصلہ کرتے آئے تھے…یوں لگتا ہے جیسے لڑکیوں کی زندگی پہلے سے ہی مرتب ہوتی ہے ۔
وہ جانتی تھی کہ ماموں نے شادی کے لیے ہامی کمال الدین کے دباو میں بھری چوں کہ وہ غریب تھے اس لیے سر نہ اٹھا سکے۔ شادی کے چند مہینوں بعد ہی کسی بیماری سے چل بسے… شاید ٹی بی یا کینسر ۔
وہ جیسے ہی گھر میں آئی ،خاور کا رویا بہت حد تک بدل گیا۔ وہ شریف شرماتی مسکراہٹ بدل کر شیطانی ہوگئی ۔اس نے دوسرے روز ہی حکم دے دیا کہ وہ جارجٹ کی ساڑھیاں پہنا کرے، چٹاخ پٹاخ سی چوڑیاں اور آنکھوں میں کاجل ڈالا کرے اور نظروں میں بے حیائی انڈیلا کرے۔ خاور نے اس کے بات کرنے کے ڈھنگ تک کو قابل قبول نہ سمجھا… یہ بات کیوں کڑوے انداز میں کرتی ہو، میٹھے انداز سے کرو، مجھے دیکھ کہ مسکراتی کیوں نہیں، ڈرتی کیوں ہے،جب جب مجھے دیکھو تو مسکرانہ ، اور جب میں تمہیں بلاوں تو بنا کسی جھجک کے آکر مجھ سے چمٹ جانا…اور پتہ نہیں ایسا کیا کیا تھا۔
ایک دن تو وہ چھری لے کر آگیا، پتہ نہیں کس بات پر مرچیں لگی ہوئی تھیں۔بدن شعلوں کی طرح قلانچیں بھر رہا تھا۔ وہ چپ رہی اس ڈر سے کہیں بات کی تو زبان ہی نہ کاٹ ڈالے۔
ماضی کی یاد سے اس کی آنکھوں میں گرمائش پیدا ہوئی۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کی زبان جل رہی ہے۔ اس نے فوراَگرم تھوک نگلی اور باہر چلی آئی۔ نواز کا کمرہ اوپر تھا، نمرہ آپا کے پڑوس والا۔ دونوں کمرے بند پڑے ہیں ۔یہ دیکھتے ہی وہ سیڑھیوں پر سے آہستہ آہستہ اترنے لگی۔
بڑی ماں!… اس کے ذہن میں یک دم خیال آیا…کیوں نہ ان سے بات کروں، وہ سمجھیں گی میری بات، بھلا پرانے زمانے کی سوچ ہے لیکن وہ لڑکیوں کے جذبات جانتی ہیں، دنیا دیکھی ہے انہوں نے ۔ مگر مریل سی ہمت ٹوٹ گئی اس خوف سے کہ کہیں پرانی روایات نے آنکھ کھول لی تو آفت نہ ٹوٹ پڑے ۔ گھر ہی ٹوٹ جائے گا، نہ وہ ادھر کی رہے گی نہ ادھر کی۔بڑے تگڑے بھئے نے جی پست کردیا۔
’’اجالا!‘‘ آواز آئی۔ گلشن بڑے بڑے قدم بھرتی ہو ئی دروازے کے پاس نظر آئی۔ وہ یک دم کھل اٹھی ۔
گلشن مسکرا رہی تھی، بالکل ہی چبھنے والی مسکراہٹ جسے کوئی گلی کا لڑکا گالی دینے کے ساتھ ملائے گا، لیکن اجالا خوش تھی۔
عام طور پر گلشن شاموںسے پہلے ہی آیا کرتی تھی لیکن آج صبح صبح آ ٹپکی۔ دونوں کی ملاقات نصف سال پہلے ہی ایک پارٹی میں ہوئی تھی۔ جب گلشن نے نواز کو دیکھا تھا تب اسے اجالا سے دوستی کرنی پڑی۔ دل سے نہیں پر دل پہ پتھر رکھ کے۔ کڑوی دوا جس کا اثر میٹھا ہوتا ہے اور دیرپا ہوتا ہے۔
اجالا اس کو اپنے کمرے میں لے گئی۔ گلشن نے چاروں طرف دیکھ کر کمرے کا جائزہ لیا پھر پوچھا؛ ’’نمرہ آپاکا کمرہ اوپر ہوتا ہے ‘‘
’’ہاں ان کا اوپر ہی ہوتا ہے ، یہاں آو ادھر بیٹھو… ‘‘ اس نے جواب دیا۔گلشن پاس بیٹھ گئی۔ نوکرانی گلشن کے لیے چائے لے آئی، اجالا نے لے کر گلشن کے ساتھ میز پر رکھ دی۔
’’اور بڑی ماں کا؟ ‘‘
’’ ان کا وہ ساتھ والا کمرہ ہے، کبھی کبھی اگر مجھے رات کو اکیلا محسوس ہو یا ڈر لگے، میں انہی کے پاس چلی جاتی ہوں ‘‘ اس نے کھڑکی سے پردہ ہٹاتے ہوئے کہا۔ تیز کرنیں اس کے چہرے پر پڑیں۔
’’ہی ہی ، ڈر کس بات کا؟ …نواز… بھائی جو ہوتے ہیں، ان کا کمرہ کون سا ہے ‘‘ گلشن نے چائے کی زور سے پُر چسکی لگائی ۔نام سنتے ہی اجالا کی الجھنوں کا بٹاوارا ہوا،مراد اور واضع ہوگئیں۔
’’ہاں اوپر والا ہے ‘‘ اس نے جلدی جلدی جواب دے دیا اور گلشن کے پاس بیٹھ گئی۔
گلشن نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور سوچا؛ کیسا پھیکا پھیکا سا ہو رہا ہے، لگتا ہے رات بھر جاگی ہے، کیا اسے یہ تو پتہ نہیں چل گیا کہ نواز مجھ سے پیار کرتا ہے …نہیں… نہیں یہ کوئی اور ہی سوگ منا رہی ہے، اس کی آنکھیں بولتی ہیں۔لگتی ہیں کہ پھٹ پڑیں گی ، بہہ جائیں گی …ساحل کی لہروں کی طرح۔
’’کیا ہوا؟‘‘گلشن نے میٹھے لہجے میں کہا۔اجالا خاموش رہی۔
اسے شک پڑا کہ اجالا جذبات سے ابل پڑنے کی آخری سیڑھی پر کھڑی ہے، اس نے اپنی بات کو زیادہ تاو دینے کا سوچا۔ کہنے لگی؛ ’’ دیکھو اگر تم مجھے اپنی بہن سمجھتی ہوتو…بتا دو مجھے جو دل میں ہے، دل کا بوجھ ہی ہلکا ہو جائے گا… اور ، اور اگر مجھے اپنی بہن نہیں سمجھتی توروہنے دو!‘‘ اس نے بڑے رقت بھرے انداز سے آخری جملہ کہا۔
اجالا اپنا سر جھکائے بیٹھی تھی، اس کی باتیں سنیں تو کہہ دیا؛ ’’نہیں نہیں تم میری بہن ہو، بلکہ بہن سے بڑھ کر ہواور …‘‘اجالابیچ میں رک گئی اور گلشن نے چائے کی چسکی لے کر دل ہی دل میں کہا کہ اب آئی نہ ڈائن لائن پہ۔
کافی دیر خاموشی رہی اور لان میں چہچہاتی چڑیوں کے گانے کی آوا ز آتی رہی۔ گلشن نے اس کا ہاتھ تھام لیا جو برف کی طرح ٹھنڈا تھا۔ اجالا نے نظریں اٹھیں، آنکھوں میں گہرے گہرے آنسو تھے برسنے کو تیار اور روشنی کی دھندلی کرنیں ان میں پڑ رہی تھیں جس سے آسمانی رنگ کی پتلیوں کا خوبصورت رنگ اور بھی واضع ہو گیا تھا۔
’’ گلشن، مجھے معلوم ہے تم یہ باتیں کسی کو نہیں بتاو گی…اصل میں بات ہی کچھ ایسی ہی ہے جو رشتوں کو جلا دے گی اور میں نہیں چاہتی کہ رشتے جلیں لیکن گلشن اگر رشتے نہ جلے تو میرا دل جلے گا ،جلتا رہے گا ساری عمر…مجھے پیار ہے کسی سے گلشن …میں عشق کرتی ہوں کسی سے!…یہ دل جھلس رہا ہے جل رہا ہے کسی کی یاد میں… کانوں میں کوئی چیختا ہے جاو!اس کے پاس جاو!…آنکھیں بند کروں تو اس کی تصویر سامنے آجاتی ہے، کھلی ہوںتو ہر طرف نظر آتاہے!…اب بھی وہ یہاں ہے میرے پاس ہے ، یہاں میرے پاس بیٹھا ہے وہ!… اس کی آنکھوں کی چمک دیکھو کتنی سندر ہے کتنی مکمل ہے، میں نہیں رہ سکتی اس کے بغیر گلشن ، مرجاو گی اس کے بغیر!میںمر…‘‘وہ بولتے بولتے رک گئی۔
’’سماج مار ڈالے گاتمہیں…کیا کرو گی …معاشرہ نگل جائے گا تمہیں‘‘
’’سماج نے مارنا اورمعاشرے نے نگلنا ہی توہے …پیار جو کر بیٹھی ہوں…لوگوں سے کہاں دیکھا جانا ہے !‘‘ یہ باتیں کرتے ہوئے اس کے دم کا ٹھہراو ختم ہونے لگا ۔آنکھوں سے موٹے موٹے قطرے جھولی میں گرے۔
’’ جانتی ہوکون ہے وہ؟ ‘‘ گلشن نے محسوس کیا کہ ہاتھوں کی ٹھنڈک ختم ہورہی ہے۔ وہ تپنے لگے ہیں جیسے پگھل رہے ہوںاوراس کی آنکھیںایسی ہیں جیسے ہو بہ ہو درد اور بے بسی کی تصویر ہوں۔
آنسو پونچھ کر وہ بولی؛’’دل پہ دستک ہوئی ہے …بجانے والا دیکھا ہے … جانتی نہیں کہ کون ہے…مگر جاننا چاہتی ہوں کہ کون ہے‘‘
’’اجالااجالا،میری جان…دل پھیر جاو ، کیا ایسا ممکن نہیں ، انسان اگر چاہے تو کچھ بھی کرسکتا ہے … اس عشق کو اگر دم نہ دو تو مر جاتا ہے …‘‘
’’نا! نا!اس کمبخت کو دم نہ دو گے تو اور دم پکڑے گا …یہ ایسی آگ ہے جو رشتوں کو لکڑی سمجھ کر کھائے گا…اور بھڑکے گا اور آگ لگائے گا! اور ،اوردم پکڑے گا!‘‘
’’تمہاری طرف تو آگ ہے اگر دوسری طرف بھی لگی تو رشتے ناطے، سب کچھ جل کہ راکھ ہو جائے گا ،دین دنیا سب بھسم ہو جائیں گے…اپنے ان رشتوں کو سانس کا قرار تو پکڑلینے دو، سب ٹھیک ہوجائے گا ‘‘گلشن کچھ دیر خاموشی میں اس کے گالوں پہ ڈھلکتی گیلی لکیریں دیکھتی رہی ۔
اجالا یک دم سسکیاں بھرتے ہوئے گلشن کے ساتھ چمٹ کرپھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ روتی جارہی تھی اور روتی جارہی تھی۔ کہیں کوئی آ نہ جائے،سن نہ لے ، ڈر کے مارے گلشن اسے چپ کراتی رہی اور اس کی بھی آنکھیں آنسووں سے بھرنے لگیں۔
٭٭٭
نمرہ نے جو قمیض نکالی اس کے سب بٹن ٹوٹے ہوئے تھے ۔ جی جل کر راکھ ہو چکا تھا اور مغض میں چیونٹیاں رینگنے لگیںاورجی چاہا کہ فوراَ جا کر دھوبن کو دو لاتیں رسید کرے۔ آہ کوئی فائدہ نہیں، اتنی دور جانا محض حماقت ہے، وہ آپ ہی آپ کہنے لگی۔صندوق سے پلٹی تو نظر میزپر رکھی تصویر پر ٹھہر گئی۔
کوئی شوخ و شنگ جوان تھا جس کی آنکھیں نواز جیسی تھیں اور ہونٹ بالکل بڑی ماں کے جیسے تھے۔
بے اختیار اس کا رونے کو جی چاہا۔ وہ سوچنے لگی ، اسی ہفتے دونوں کو بچھڑے پورے چھ سال ہو جائیں گے اور نواز بھی بیس کا ہوجائے گا، کتنا اچھا ہوتا کاش آپ بھی یہاں ہوتے، دیکھتے آپ کے جانے کے بعد کتنا کچھ بدل گیا ہے، خوشیاں جو پہلے ہمارے آنگن میں کھیلتی تھیں، انجانی چڑیوں کی طرح دانا چگ کر اڑ گئیں اور پلٹ کر نہیں دیکھا، تو کیا ہوا جو ہمارے پاس مال ہے، دولت ہے، عزت ہے لیکن جو نہیں ہے وہ محبت ہے، وہ خوشی ہے، وہ سکون ہے، اس چار دیواری میں آکر دیکھتے آپ کہ کس طرح ہم اجنبیوں کی طرح گھٹ گھٹ کہ مر رہے ہیں،کس طرح موت کے منہ میں جانے کا خیال مجھے سہانہ لگ رہا ہے… موت اگر ایسی زندگی سے نجات کا راستہ ہے تو میں دعا کرتی ہوں کہ جلد مر جاوں۔فریم کو وہ منہ کے پاس لائی اور بوسہ دیا اور سینے سے لگائے سسک سسک کر رونے لگی۔ چند بوندیں گالوں سے پھسل کر فریم پر گرگئیں۔
’’خدا تمہیں مجھ جیسے لوگوں پر خودکشی حرام نہیں کرنی چاہیے تھی، کیا ہوجاتا جو ہمیں زرا سکون مل جاتا، ہمارا بھی وہی انجام ہوجاتا جو ہمارے پیاروں کا ہوا،کیا شان میں بٹہ لگ جاتا جو ہمارے بارے میں بھی کچھ سو چ لیتے ، یہ کسی وحشت ہے جو مجھے زندگی سے ہونے لگی ہے، یہ کیسی عزت ہے جو میرے گلے کا پھندا بن گئی ہے،یہ کیسی دنیا جو جہنم کا نمونا لگتی ہے ،زندگی گزار کرہم تو عادی ہوچلیں گے ان دکھوں کے ان تکلیفوں …روز گھٹ گھٹ کے مرنے کے …جہنم میںپھینک کر آپ کو میری نفرت ہی ملے گی بچتاوے
نہیں…کاش کہ میں غلط ہوں!کاش آپ میرے بارے میں بھی سوچتے ہوں !کاش کوئی راحت تیار ہومیری بھی زندگی کے لیے ‘‘ موٹے موٹے آنسو بے تحاشا گالوں پر برسنے لگے جن پر جھریاں نمودار ہونے لگیں تھیں۔
٭٭٭
’’او تم پھر آگئے، لالچی مکار ، اس دفعہ تو میں تم سے کرایہ لوں گا، کرایہ، پوری… پورے تین روپے روز کے اور روٹا کپڑی کے الگ سے پیسے ہوں گے اور میرا کمیشن الگ ، او راگر نہیں دے سکتے تو تمہیں اجازت ہے کہ تم جمشید کے پاس سو لو، تم اُدھر سو گے تو میں تمہیں تین روپے دوں گا، جاو جاو، چپ کیوں ہوگئے…بولتی بند ہوگئی سپیروں کی… پھوٹی کوڑی نہیں ہوگی غریبوں کے پاس، آجاتے ہیں یہاں، چاچا، چاچا کرتے، یہاں چاچا نے کوئی نوٹوں کی فیکٹری کھود رکھی ہے ، ایں!‘‘ مٹر چاچا کی بات ختم ہونے میں کافی وقت لگ گیا۔ انہیں اس طرح خاموش دیکھ کر ان کا ماتھا ٹھنکا۔ نفرت اور غصہ آنند کی آنکھیں دیکھنے کے بعد باہر ہوتی بوندا باندی میں گھل گیا۔
’’ اندر آجاو، جھوٹے لالچی مکار !‘‘ وہ اپنی تشریف کھجلاتے اندر لوٹ گئے۔
جس کمرے میں وہ کچھ دن پہلے رہے تھے اس میں انگیٹھی جل رہی تھی اور لکڑیوں کی، کڑ کڑ تڑ تڑ، کی دلکش آواز آرہی تھی ۔ پاس ہی برتن میں دودھ پڑا تھا۔ گرم دودھ کیونکہ دھواں نکل رہا تھا پر وہ دھواں ہوا کو چھوتے ہی فنا ہوجاتا، نا کہ انگیٹھی کے دھویں کی طرح جو اوپر اوپر چھت کی طرف اٹھتا اور کمرے میں کھڑے ہونے والوں کی آنکھوں میں مرچیں چھڑکتا اور گلے کو پھانسی لگاتا۔
وہ تینوں کھانستے ہوئے نیچے بیٹھ کر دودھ تاڑنے لگے۔ چاچا نے تین پیالیاں نکالی الماری سے اور ان میں دودھ انڈیلا۔
وجئے کو پیالیاں غور سے دیکھا تو وہ پھنکارے؛ ’’او، دھو کے رکھی تھیں مفت خورے…‘‘ وجئے سہم گیا۔ دودھ کی پیالیاں اس نے ان کی طرف بڑھا دیں اور خود اٹھ کر کچھ منمناتا، دھویں میں کھانستا ہوا باہر نکل گیا۔ آنند نے اپنا سیاہ کوٹ اتار کر پاس کرسی پر رکھ دیا، باہر سے ہلکی ہلکی بوندا باندی کی آواز آرہی تھی۔
٭٭٭
گاڑی میں بیٹھے ہوئے وہ اپنی ایک بند آنکھ دبا رہی تھی جبکہ دوسری میں پانی کی واضع تہہ سامنے تھی ، کمر جھکی ہوئی تھی اور پھیپھڑے ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری طرح اپنے اندر ہوا نہیں بھر رہے۔ ہوا اندر کچھ محسوس کروائے بنا واپس لوٹ جاتی۔ گلشن نے بہت کوشش کر چکی تھی کہ نواز کی بات کو سچ ماننے کی لیکن اس کے خیال ان آنکھوں پر آکر اٹک جاتے۔ بھیگی بھیگی آنکھیں اس گیلی سڑک کی طرح جس پر وہ گاڑی جا رہی تھی۔
اور اجالا جو اسے بتا رہی تھی اگر وہ سچ ہوا، وہ کیوں جھوٹ بولے گی اور نواز، نواز کیوں جھوٹ بولے گا، اسے کیا ضرورت پڑی ہے وہ تو مجھ سے محبت کرتا ہے، وعدے کیے ہیں اس نے مجھ سے…
وہ ذہن کو بھٹکانے کی نا کام کوشش کرتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جس پر دھندلے دھبے پڑنے لگے تھے اور بارش کی بے تحاشا بوندیں اپنا منہ کھڑکی سے رگڑتی ہوئی نیچے جارہی تھیں۔ ڈرائیور ایک ہاتھ سٹیرنگ پہ رکھے دوسرے ہاتھ سے منہ میں بیڑا دھکیل رہا تھا۔اس نے جیسے ہی آنکھیں بند کیں اجالا کی سسکیاں کانوں میں پڑیں وہ انہیں بھلانے کی کوشش کرتی رہی۔کاش اس نے وہ سب کچھ سنا ہی نہ ہوتا ، اب ان دونوں میں سے کوئی ایک تو جھوٹا تھا، نواز…نہیں وہ محبت کرتا ہے اور اجالا… وہ آنکھیں!
اچانک گاڑی جھٹکے کھاتے ہوئے رک گئی۔
٭٭٭
’’اجالا کیسا لگ رہا ہے مجھے گھر میں پا کر… ‘‘ وہ بولا۔غروب ہوتے سورج کی کرنیں سامنے والے کھلے دروازے پر پڑ رہی تھیں۔
’’ اچھا!‘‘ اس نے خاور کا منہ دیکھ کر جھوٹ بولا۔
’’بہت انتظار کیا ہوگا نا میرا، خی غی… غی خی، اب میں آگیا ہوں، پورا ہفتہ رہوں گا ‘‘
’’ہفتہ ؟‘‘
’’ہاں پورا ہفتہ…‘‘خاور نے یہ کہتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔اجالا نے کوئی مزاحمت نہیں کی، اور نہ ہی شرمائی۔ پہلے کی طرح نہیں جب وہ ہر بار دوبارہ سے مزاحمت کرتے کرتے نہ تھکتی تھی، خاور نے دانت نکالے ۔اس کے ہاتھ، بازو، آنکھیں بے جان، ساکت اور جذبات سے عاری تھیں ، ایسا لگ رہا تھا وہ مردہ ہو یا چابی سے چلنے والی کوئی گڑیا ہو۔وہ نظریں جھکائے بیٹھی تھی اور وہ سامنے بیٹھا اسے گناہ گار نگاہوں سے تاڑرہا تھا۔ خاور نے غور کیا تو اسے معلوم ہوا کہ اجالا کے جسم کے انگوں کے آکار پرکار کافی حد تک بدل چکے ہیں۔ چھاتیاں پہلے سے زیادہ سندر لگ رہی ہیں اور نظریں پہلے سے زیادہ قاتل۔ اس کے جسم کا درجہ حرارت کافی حد تک بڑھ گیا۔
’’مجھے بہت سُونا سُونالگتا ہے یہاں،ویرانی ویرانی سی ہے ،میرے بہت سے دوست ہیں جو کہتے ہیں مجھ سے کہ…‘‘وہ بات کرتے کرتے رک گیا اوراجالا بھی خاموش رہی ۔اسے شاید لگا ہوگا کہ اجالا پوچھے گی کیا؟مگر وہ خاموش اپنی جھولی کی طرف دیکھتی رہی۔
’’کہتے ہیں مجھ سے کہ…آپ کے یہاں کوئی بچہ کیوں نہیں؟‘‘اجالا گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
’’اس جیسے سُونے سُونے پن کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے …بچے !…بچے ہوں گی تو کتنا ہنگامہ رہے گا یہاں ، کتنی خوشیاںآجائیں گی یہاں……کیوں ؟‘‘
اجالا کو دوبارہ چپ دیکھ کر اسے بہت غصہ آیا ۔ جی میں آیا کہ لگائے دو جھاپڑ گال کے نیچے! مگر صبر کرگیا۔
اجالا کو ہلکے ہلکے چکر آنے لگے اور سینا غیر اراداتن سکڑنے لگا۔
خاور میاں نے اسے ہاں سمجھ لیا۔ کان لال ہوئے تو اس نے کف کے بٹن کھولتے ہوئے حکم دیا؛ ’’دروازے کو چٹخنی چڑھا دو! ‘‘بے اختیار وہ گھبرائی۔اس کا میاں ہی توہے ۔دوسری لڑکیاںکیسے خوش ہوتی ہیں جب ان خاوند واپس آتے ہیںپر اسے تو گھن آتی ہے خاورسے۔جان نکلتی ہے اس سے۔ اس کو ضرور اب تک خاور سے محبت ہو گئی ہوتی اگر خاور کے کرتوتوں کی پول نہ اس کے سامنے کھل گئی ہوتی ۔کئی باراس نے خاو ر کو اتفاقََ رنڈیوں سے باتیں کرتے سن لیا تھا۔وہ گالیاں ، وہ تعریفیں ، وہ کھلم کھلا جسم کی باتیں کرنا۔اس کو سن کر غصہ نہیں آیا تھا بس بے بسی سی محسوس ہوئی، محبت اور پست ہوگئی اور خاور کی عزت کرنا اور ہاتھوں سے نکل گیا۔
خاور کی نظروں کی تپش نا برداشت کرتے ہوئے اس نے آہستہ آہستہ دروازے پر چٹخنی چڑھا دی۔ پلٹی ہی تھی کہ خاور اسے بازو سے پکڑکر پلنگ کے پاس لے گیا جس کے ایک کونے پر سبز رنگ کی جائے نما ز پڑی تھی۔اجالا کا دل پاگلوں کی طرح دھڑکنے لگا اورہونٹ کانپنے لگے۔ اس کے کندھے بے حد کس گئے۔ دفعتاََ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
خاور میاں نے سرخ منہ لیے جب دروازہ کھولا تو سامنے نواز اور نمرہ آپا کو پایا…جاہل کہیں کے۔وہ دل ہی دل میں چلایا۔ وہ دونوں بے انتہا خوش لگ رہے تھے باچھیں کھلی ہوئی تھیں۔
’’کیا بات ہے؟ ‘‘انہیں خاموش پا کر اس نے پوچھا۔
’’بھائی، کمال الدین صاحب آرہے ہیں، ایک دو دن میں ، ہے نا جشن منانے کی بات ‘‘ نواز پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا جبکہ نمرہ چیخ چیخ کہہ اعلان کر رہی تھی۔
وہ تھوڑا سا مسکرایا اور کہنے لگا؛’’ہاں ہے جشن منانے کی بات…‘‘اس نے اجالا کو مڑ کر دیکھا ۔وہ سہمی ہوئی باہر چلی گئی۔
نہ جانے رات ہوتے ہی خاور میاں گھر سے نکل گئے ۔اجالا کو بتایا تک نہیں اور جب بڑی ماں نے ان کے بارے میں پوچھا تو اس نے ایسے ہی کہہ دیاکہ کسی دوست کے گھر گئے ہوئے ہیں۔وہ پوری رات نہ لوٹا۔
٭٭٭
’’کچھ بتاتے کیوں نہیں؟ ‘‘گیلی زمین پر بکھرپتے بارش میں نہا رہے تھے۔ وہ دونوں کتنی دیر خاموش رہے۔
’’کچھ پتہ نہیں اس لیے ‘‘ آسمان اچانک زیادہ آنسو بہانے لگااور پتوں کی چیخ و پکار اور زیادہ ہو گئی۔
’’ کچھ کیوں پتہ نہیں ‘‘روہت کہنے لگا۔
’’کیا؟‘‘
’’بندر کی جوں! بتاو، کچھ کیوں پتہ نہیں، کریں کیا اب؟ ‘‘
اس نے جیب سے سگریٹ نکال کر منہ میں ڈالا اور ماچس جیبوں میں تلاشنے لگا۔ نہیں ملی…روہت ایک ٹک اسے دیکھتا رہا۔ ابھی کچھ کہے گا۔
جب اسے جواب نہیں ملا اور آنند کو ماچس نہیں ملی، وہ بپھرکر بولا؛’’ڈر نہیں لگ رہا ؟‘‘
’’جہاں پیار ہو، وہاں بھئے نہیں ہوتا ‘‘۔آنند سگریٹ منہ سے نکال کر جیب میں ٹھونستے ہوئے کہنے لگا۔
’’نہ ملی تو…‘‘روہت بولا۔آنند نے بارش میں ہاتھ کیااورچند قطرے اس کی شرٹ پر گرے۔
’’بارش رکتی ہے اور میں جاتا ہوں وہاں ‘‘۔ آنند مسکرا کر بولا اورروہت خاموش ہو گیا۔۔اچانک انہیں وجئے کے ساتھ ایک ڈرائیور مکینک کے پاس جاتے دیکھائی دیئے۔ان کے پیچھے ایک لڑکی آئی……گلشن !
٭٭٭
تین چار بجے وہ لوٹ آیا وہاں سے جہاں وہ گیا تھا ۔اس نے بتایا نہیںکہ کہاں گیا تھا اور اجالا نے پوچھا بھی نہیں لیکن اس کو دیکھنے پر اجالا کو شبہ ہوا کہ جیسے کسی نے نچوڑ لیا ہواسے۔ وہ بالکونی میں بیٹھی تھی بڑی ماں کے ساتھ۔ لان میں نوازاور خاور میاں بیٹھے تاش کھیل رہے تھے اور ساتھ ساتھ چائے کا دور چل رہا تھا۔جیسے ہی اس نے جھانک کر دیکھا نواز کی میٹھی میٹھی نظریں اس سے ٹکرائیں۔ و ہ پلٹ آئی۔
’’کیا بات ہے، رے نگوڑی ؟ ایں ! میرے سر پر کیوں کھڑی ہے جا اپنے میاں کے پاس ، تاش واش کھیل ، وقت بِتا اس کے ساتھ ،ایں ؟ خی غی…غی خی‘‘ بڑی ماں ہنس کر بولیں اور تسبی کھٹکھٹاتی رہیں۔
وہ بولی ہی تھی کہ بڑی ماں نے ایک اور سوال پوچھ لیا ؛’’وہ کہاں گئی تیری سہیلی قطامہ ؟‘‘
’’گلشن ؟‘‘
’’وہاں وہی نگوڑی ! ‘‘
’’کہہ کر گئی تھی کہ آئے گی آج شام ، گھر دور نہیں اسکا،پاس ہی ہے‘‘
بڑی ماں ڈوبتے سورج کو دیکھنے لگیں۔پھر پوچھا ؛’’اچھا لگ رہا ہے ڈوبتے سورج کودیکھ کر ، ہے نا‘‘
’’جی، اچھا لگ رہا ہے ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھ کر‘‘
دونوں نے گیٹ سے گھستی گلشن کو دیکھا۔اس نے اندر آکر تاش کھیلنے والوں کو سلام کیا اور اندر چلی آئی۔
وہ تیزی سے نیچے کی طرف گئی۔گلشن کی مٹھی میں کاغذ بھنچا ہوا تھا۔ نظریں ہچکچاتی ہوئیں آس پاس کے پڑے پھولدانوں میں سے نکلتی مہک کو تلاش رہی تھیں پر ناکام رہیں۔اس نے آج کا چہک کر سلام کیا نہ سہی سے ملی، اکھڑی اکھڑی سانسیں لیے اجالا کا ہاتھ کس کے پکڑ کر اندر اس کے کمرے کی طرف دھکیلتی ہوئی چلی گئی۔ ہاتھ بے حد ٹھنڈے تھے۔شدت میں اضافہ ہو رہا ہے ، موسم کی بھی اور ان کی زندگی کی بھی۔
وہ پلنگ پر بیٹھ کر اس کا اسے کاغذ کے بارے میں بتانے کا انتظار کرنے لگی۔اس نے پہلے دروازہ بند کیاپھر اس کے ساتھ پلنگ پر بیٹھ کر چٹھی کو کھولا اور بولی؛
’’مجھے نہیں معلوم کیا لکھا ہے، جلدی پڑھو ‘‘
’’ہاہا …کس نے لکھی ہے؟‘‘ اجالا نے ہنس کر پوچھا۔
’’آنند کا خط ہے…آنند کا!‘‘ یہ الفاظ کتنی آسانی سے کہہ دیئے گئے تھے ، ایسا نام پہلی بار سنتے ہوئے بھی اسے لگا جیسے وہ برسوں سے آنندکو جانتی ہے اس نام کا انتظار کرتی رہی اور یہ شاید وہی نام تھا جو راتوں کو بڑبڑایا کرتی تھی۔ یہ وہی نام ہوگا یہ وہی نام ہوگا۔
اس کی زبان بند رہی، اور باہر چنبیلی کے پھولوں کی مہک اچانک زیادہ ہوگئی۔ دودھ کی طرح سفید کاغذ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑے بیٹھی رہی اور اسکا دل پسلیوں سے دیوانہ وارٹکراتا رہا۔
’’میں نے تو اسے دیکھا ہوا بھی نہیں تھامگر اسے پہلی بار دیکھتے ہی …معلوم نہیں تمہاری یاد آگئی …اس کے دوست نے ڈرائیور کو پہچان لیا …ڈرائیور سے انہوں نے تمہارے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی …میں نے سن لیا اور اب …‘‘
’’اور اب…‘‘
ؔ ’’اور اب وہ اور اس کا دوست باہر گلی کے نکڑ پر کھڑے ہیں، کہتا ہے کہ جب تک جواب نہیں ملے گا وہ نہیں جائے گا ‘‘ گلشن نے مسکرا کر کہا اور اجالا ہنس پڑی ۔دل پگھل رہا تھا، گھبراہٹ سے، چنبیلی کی مہک سے اور اس چٹھی سے۔
’’پڑھو…‘‘ گلشن نے خوش ہو کر کہا۔اس نے پڑھنا شروع کیا؛

اجالا! میری زندگی کا اجالا، آپ کے قرب میں رہنا قبول ہے چاہے اس میں
میں جل بھی جاوں،شاید آپ کو مجھ سے اتنا پیار نہیں جتنا مجھے ہے،آپ کو پانے کے
لیے ان کانٹوں بھری راہوں سے نہیں ڈرتا جن پر چلنے سے شاید مر بھی جاوں،
ہم نے کل ایک دوسرے کو پہلی بار دیکھا تھا تب سے اب ہزاروں سال گزرے ہیں
اور میں نے آپ کو لاکھوں باردیکھا ہے، آپ کی ان بے قرار آنکھوں میں ڈوبا ہوں،
اور ان بے قرارآنکھوں نے میرا قرار لوٹاہے، میرا……

دفعتاَ دروازہ ٹھاہ کی آواز سے کھلا اور خاور اندر داخل ہوا۔ پیچھے نواز تھا۔ اس کی آنکھیں حیرت و غصے سے پھٹی ہوئی تھیں اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ خاور نے زور سے اس کے ہاتھ سے چٹھی چھین لی اور جلدی جلد ی پڑھنے لگا۔خاورکے جسم سے غصے کے شرارے پھوٹتے رہے۔ اجالا زور زور سے سانس لینی لگی اور جسم بے اختیار کانپنے لگا۔چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا۔اس نے گلشن کا ہاتھ کانپتے ہوئے تھام لیا۔ وہ دوڑتا ہوا باہر کی طرف لپکا اور نواز دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر اسے گلشن کے ساتھ سسکتے ہوئے دیکھنے لگا۔ایک لمحے کے لیے اسے لگا جیسے اس نے خاور کو ان کی باتیں سننے کا مشورہ دے کر غلطی کی !۔
٭٭٭
اسے کوئی آدمی آتا دیکھائی دیا جس کے ہاتھ میں پستول تھی۔ دیکھنے پر ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بہت ہی غصے میں آرہا ہے اور اسے ہی مارنے آرہا ہے۔ روہت نے پلٹ کرآنند کی طرف دیکھا۔ وہ کونے میں بیٹھی ایک سات سال کی بچی سے ہنس ہنس کر بات کر رہاتھا۔اچانک وہ آدمی دوڑنے لگا… وہ بہت قریب پہنچ گیا۔
’’آنند، آنند!‘‘اس نے کسی قدر چیخ کر کہا اس سے پہلے کہ آنند واپس دیکھتا، گولی چلنے کی آوازآئی ۔گولی روہت کی کھوپڑی چیرتی ہوئی دماغ میں سے گزر گئی… مزید تین گولیاں چلیں، تینوں کی تینوں منہ پہ …
آنند بوکھلا کر اس کی طرف بڑھا، کونے میں بیٹھی وہ سات سالہ بچی بلک بلک کر رونے لگی۔ خاور کی آنکھیں آنند پر ٹھہرتے ہی حیرت اور نفرت سے چوڑی ہوگئیں۔ اس نے پستول کی نالی کا رخ اس کی طرف موڑا۔
لیکن گولی چلنے سے پہلے کسی نے پستول کا رخ موڑ دیا……نواز!
’’ یہ کیا کر رہے ہیں!یہ کیا کر دیا آپ نے، اف خدا یہ کیا کردیا آپ نے بھائی، کیسے، افوہ ‘‘ نواز چلاتا ہوا اس کے ہاتھ سے پستول چھیننے لگا مگر اس نے نواز کو زناٹے دار دھکا دیا۔ اس کا سر دیوار سے ٹکرایا اور وہ ایک چیخ مار کر بے ہوش ہوگیا۔پستول کی نالی ایک بار پھر آنند کی طرف مڑی اورپھر……
اس بچی نے ریت کی مٹھی خاور کی آنکھوں میں پھینکی۔ وہ چلا چلا کر گالیاں دیتا اپنی آنکھیں ملنے لگا اور آنند نے پاس کونے میں پڑی اینٹ اٹھالی اور اس پر جھپٹا۔ خاور نیچے گر گیا۔ تین اندھی گولیاں چلیں ، جن میں سے ایک اس بچی کے ننھے سینے میں اتر گئی۔ آنند دھڑا دھڑا اینٹ اس کی سر میں مار رہا تھا……ناک ٹوٹنے اور دانت ٹوٹنے کی آوازیں پہلے آئیں… وہ اینٹ مارتا رہااور مارتا رہا یہاں تک کے خاور کا بھیجا باہر نکل آیا اور اینٹ مکمل طور پر سرخ ہو گئی۔
وہ روہت کا سر اپنی گودمیں رکھ کر کافی دیر آنسو بہاتا رہا۔
٭ ٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: