Mirza Meer Hakim Urdu Novels

Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 4

Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim
Written by Peerzada M Mohin

آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 4

آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 4

–**–**–

{چوتھا باب}
…خزاں کے بعد…

پھولدان کی ہری پتیاں دھوپ میں نہا رہی تھیں اور کمرے کی خاموشی گھڑی کی ٹک ٹک سے ہم کلام تھی۔ بادلوں نے سورج کی آنکھوں پر چند لمحوں کے لیے ہاتھ رکھا لیکن سورج نے ہاتھ ہٹائے اور پھر تیر چلانے شروع کر دیئے اور پھولدان کی ہری پتیاں پھر سے دھوپ میں نہانے لگیں۔
پچھلے کافی دیر سے وہ میز پر بازو ٹکائے کھڑا تھا۔ اس کی وردی ویسی کی ویسی تھی جیسے اس کو پسند آتی ہے۔ نیٹ اینڈ کلین، ٹائیٹ اینڈ شارپ۔فون بجنے لگا اس دھیان لاہور سے گھومتا ہوا واپس اس کے آفیس آگیا۔
’’کچھ پتہ چلا، کچھ۔۔۔۔۔ تو پتہ کرو نا!!! یو ایڈیٹس مجھے وہ مردہ چاہیے مردہ!سمجھے تم، ڈیڈ اور صرف اور صرف ڈیڈ، صرف چند گھنٹے ہیں تمہارے پاس، ورنہ یو آر فائرڈ!‘‘ اس نے فون پٹخا اور گہری گہری سانس کھینچنے لگا۔ٹیبل پر سے ریوالور اٹھا کر دیکھا ۔ریوالور رکھ کر وہ دھیرے دھیرے اس کونے میں چلا گیا جہاں اس کے بیٹے کی تصویر لگی تھی۔خاور تصویر میں دو تین اور افسروں کے ساتھ میز پر بیٹھا تھا۔ دو کوکا کولا کی بوتلیں پڑی تھیں پاس ہی۔ کوئی پارٹی تھی، سب کے گلاس ہوا میں بلند تھے، یہ تو سب ہی اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ان گلاسوں میں کوکا کولانہیں تھی، تھی تو رم یا وسکی۔
چہرے پر نحیف سی اداسی لیے وہ تصویر کو چھونے لگا، لیکن آدھے راستے میں ہی رک کر ہاتھ واپس کھنچ لیا۔
’’تمہارا بدلہ میں ضرور لوں گا، چاہے اس کے لیے مجھے کسی بھی حد سے گزرنا پڑے‘‘ٹیلیفون کی گھنٹی پھر سے بجی۔
’’یس!ہاں ہاں، آئی ٹولڈ یو ۔۔۔۔مردہ اور صرف مردہ، جلد سے جلد ۔۔۔۔ ہاں اور میرے ساتھ بھی، میں اسی وقت جا رہاہوں وہاں‘‘میجر جنرل کمال الدین تصویر پر سرسری سی ڈالتا ہوا باہر نکل گیا جہاں دس بارہ فوجی کھڑے تھے۔
٭٭٭
نوکر دیکھتے کہ نمرہ نے گھر رو رو کر سر پر اٹھا رکھا ہے اور بڑی ماں کی دیکھنے کی طاقت اور بھی کمزور ہو گئی ہے تر چھی چال کی کم فہم اکھڑنوکرانیاں یہی سمجھتی ہوں گی کہ ماضی کا کوئی پاپ ہے جو یہ مصیبت لایا۔ بہت لوگ آئے اور چپ بیٹھے رہے ۔ نواز ٹیلیفون پہ ٹیلیفون پکڑتا اور اگر وہ دیکھتا …کہ بڑی ماں کی آنکھیں،نمرہ کی آہیں اور اجالاکی سسکیاں وقت وقت کے بڑھتی چلی جارہی ہیں۔مگر وہ مصروف تھا ، مصروف رہنے کی کوشش کر رہا تھا۔
گلشن کے پلے ساروں کو سہارا دینے کا کام تھا۔وہ یہ امید جوڑتی کہ یہ سارا مسئلہ ختم کیا جارہا ہے،ابھی کوئی افسر آنند کو گھسیٹتا ہوا لے کر آئے گا اور ایک گولی چلے گی …زور دار گولی!…جیسی اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی……
وہ تھک ہار کر ایک کرسی پر بیٹھ گئی اور اپنے بائیں کان کے بیہ پر انگلی پھیرتے ہوئے اجالا کو دیکھنی لگی۔باہر سے پولیس گاڑی کے سائرن کی آواز آئی۔
’’پولیس اپنے ساتھ اپنے خاص بندے بھی لائی ہے ‘‘ اس نے کھڑکی سے دیکھا تو اجالا کو خبر کی۔اسے دیکھنے پر احساس ہوتا جیسے اس پر رنڈاپا ٹوٹ کر گرا ہے ۔بنجر آنکھیں…کھوکھلے ہونٹ جن کا رنگ اب ہلکا نیلا ہورہا ہے اورماتھے پر پھسلی ہوئی بالوں کی لٹیں…نہ جانے گھر والوں کو حقیقت کا پتہ چلے گا تو کیا ہوگا ان آنکھوں کے ساتھ…ان ہونٹوں ، ماتھے پہ پھسلی ان بالوں کی لٹوں کے ساتھ…ابھی تک تو نواز چپ ہے مگر جب منہ کھولے گا تو گینڈے کی طرح کھولے گا…تب کیا ہوگا……
’’دیکھو کیا انجام ہوتا ہے …‘‘ اجالا نے پلنگ سے نکلے دھاگے چھانٹتے ہوئے کہا۔
’’کہیں گے کہ تمہارا کوئی قصور نہیںاور نواز…‘‘
اجالا نے اس کی بات کاٹی ؛’’میں اپنی نہیں اس کی بات کر رہی ہوں ‘‘
’’تو تمہارے یہ آنسو؟‘‘
’’ یہ آنسو مرنے والوں کے لیے نہیں ہیں گلشن…یہ…یہ تو ان کے لیے ہیںجو ابھی زندہ ہیں‘‘
’’چپ ! …چپ !‘‘ گلشن اٹھ کر پاس بیٹھ گئی پلنگ پر۔
پھر بولی؛’’گھر والوں نے سن تو کیا کہیں گے ؟‘‘
’’کہیں گے کہ تم بے قصور نہیں،چھوڑیں گے نہیں تمہیں…پیارجو کیا ہے ،کسی سے عشق جو کیا ہے…اور اب جب عشق کیا ہے تو عذاب بھی بھگتنا پڑے گا تمہیں ‘‘
’’گلشن !!‘‘ باہر سے کسی نے آواز دی ۔وہ چلی گئی اور اجالا کھڑی کے باہر دیکھنے لگی۔ہلکی ہلکی روشنی آرہی تھی باہر سے ۔
’’آنند…آنند‘‘وہ بڑبڑائی۔
’’بس ! اجالا ! بس! بہت ہوگیا…‘‘ نواز بھنا کر اندر داخل ہوا۔
’’…بہت چل گیا تمہارا یہ ناٹک …وہ قاتل ! اس سے پیار کرتی ہو تم …وہ مجرم ! جس نے پیٹھ دیکھائی ہے تمہیں اور بھا گ گیا ہے معلوم نہیں کہاں! وہ ! اس سے محبت کرتی ہو تم …تم اتنی گر کیسے سکتی ہو اجالا …اور وہ لوگ جو تم سے پیار کرتے ہیں…ان کو تم پیٹھ دیکھاتی ہو؟…کیوں!‘‘
اجالا سہمی سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
اس نے سرگوشی کی ؛’’یہاں کسی کو نہیں معلوم کہ کیا کیا ہے تم نے …تم بے قصور ہو ان کی نظروں میں… اگر میں چاہوںتودو لمحوں میں تمہیں یہاں سے چلتا کرواوں!‘‘ اجالا نے دوسری طرف منہ پھیر لیا اور کچھ دیر خاموشی رہی۔
وہ نیچے جھک کر اس کے قدموں کے پاس بیٹھ گیا اور نرمی سے بولا؛’’اجالا ، اجالا،اجالا…اے ، ہش! ادھر دیکھو ، میری طرف دیکھو…‘‘اس نے نرمی سے اس کامنہ اپنی طرف پھیرا۔
’’پاگل تم نے یہ بھی نہیں سوچا کہ وہ دوسرے دھرم کا ہے؟‘‘
’’وہ محبت جو دھرم بھی جان کر کی جائے …وہ کیسی محبت!‘‘
’’ میں تم سے پیار کرتا ہوں…جتنا آنند سے تم پیار کرتی ہو اس سے کہیں زیادہ ‘‘
’’تمہیں کیا پتہ نواز میں اس سے کتنا پیار کرتی ہوں؟‘‘
’’جان دے سکتی ہوں اس کے لیے ؟……میں جان دے سکتا ہوں تمہارے لیے !‘‘
وہ ہنس پڑی اورپھر روتے ہوئے بولی ؛’’جان …جان دینا چھوٹی بات ہے ان لوگوں کے لیے جن سے آپ خود سے زیادہ پیار کرتے ہوں …اصل غم…اصل چوٹ تو وہ ہے جو آپ کو زندگی بھر سسکا سسکا کر مارے … آپ کے پیار کو درد ملتا رہے زندگی بھر اور آپ بس خون کے گھونٹ پیئں اور بے بس رہیں…‘‘
’’تمہارے لیے یہ بھی کرسکتا ہوں‘‘ اس نے تقریباَ روتے ہوئے جواب دیا۔اجالا چپ رہی۔
’’کر لوں گا تمہارے لیے میں…کر لوں گا!‘‘ نواز نے اجالا کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’جاو یہاں سے تم ، دور ہو جاو مجھ سے !‘‘ اجالا نے پیچھے ہو کر کہا۔
’’پر بعد میں تمہیں میرے ہی قریب آنا …کمال الدین صاحب سے بات ہوئی میری …یہ معملہ حل ہوجائے اس کے بعد تمہارا اور میرا نکاح ہوگا اجالا ! ‘‘ باہر سے تھالی گرنے کی آواز آئی۔نوازبوکھلا کر اٹھ کھڑا ہوااوراجالا اپنے گھٹنوں میں سر دے کر بیٹھ گئی۔
’’دِھیرج رکھو سب ٹھیک ہوجائے گا!‘‘ وہ یہ کہہ کر چلا گیاباہر جہاں گلشن دوسری طرف منہ کیے رو رہی تھی۔
٭٭٭
ٹیلیفون کافی دیر بجا۔
’’کمال الدین صاحب کا نہ آیا ہو ؟ انہوں نے کہا تھا کریں گے(فون)‘‘ اس نے بڑبڑا کر فون اٹھا لیا۔
دوسری طرف اگر پولیس کا مشہور افسر نہ ہوتا تو وہ ضرور چھ سات موٹی موٹی گالیاں بکتا ۔
’’مل جائے گاوہ ‘‘ یہ سن کر اس نے فون رکھ دیااور باہر کھڑے ملازموں کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ سارے تو بس چل رہے ہیں پھر رہے ہیں اور جی رہے ہیں…پہلے کی طرح گائے بھینسوں کی زندگی۔وہ خود کو بہلانے کے لیے سوچنے لگا۔ابھی ان کی چھٹی ہوگی ،گھر جائیں گے …نہیں! آج ان کی چھٹی دیر سے ہوگی یہ گھر پہنچیں گے تو ان کی بیویاں اپنے درجن بچوں کو کوٹنے کے بعد ان سے پوچھیں گی کہ اتنی دیر گئے کہاں سے آ رہے ہو؟…کوئی جواب ملا تو بیویاں جھوٹ سمجھیں گی اور اگر چپ رہے تولازمی طور پر دال میں کچھ کالا ہے ! پھر تو رات بھر جھاڑو اور چپلوں کے ساتھ وہ دھما چوکڑی ہوگی کہ ان بیچارے شوہروں کو گھر جانا پسند ہی نہ رہے گا ، بس گلیوں میں آوارہ پھرتے رہیں گے ،رات کو کسی کونے میں ایک کتے کے ساتھ پڑے پڑے سو جائیں گی ! کتوں کے ساتھ رہنے سے یقینَ بیماری لگے گی اور جب بیماری لگے تو تب وہ گھر بیوی سے ملنے جائیں گے تا کہ اس کو بھی بیماری لگ جائے…بدلے کا بدلہ، آزادی کی آزادی!
ہوا کہیں سے خون کی بو لائی ۔یہ کہاںسے آئی ہے ؟ضرور خاور کی لاش سے نکلی تھی ۔وہ ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ اس کی لاش سے ان لاکھوں شراب کے گھونٹوں کی سرانڈ آئے گی جو وہ طوائفوں کے کو ٹھوں پہ پیتا تھا۔اس نے غلطی کی تھی قتل کرکے ،اپنا قتل ہوتے وقت شاید اس کو خیال آیا ہوگا ۔ممکن ہے آخری لمحے اس نے توبہ کی ہو ۔۔۔۔ اس کے کرتوت بچتائے ہوں گے ۔کرتوت۔۔۔۔کون جانے کہ ان آخری اٹکتی سانسوں پہ کیا وہ بچتائے؟
دنیا چھوڑتے وقت دل تڑپتا ہے ، دل روتا ہے ان لوگوں کا، جن کا دل صرف دنیا میں ہوتا ہے ۔۔۔۔
اب اس سے سوال جواب ہو رہے ہیں ۔۔۔وہ روتا ہوگا ، چلاتا ہوگا ۔۔۔ کیا پتہ فرشتوں کو بھی رشوت دینے کی کوشش کرتا ہوگا ۔
’’کبھی تو ہم سب بھی مر جائیں گے ، جس طرح اچانک دنیا میں آگئے اسی طرح اچانک چلے بھی جائیں گے، اور جو زندہ ہوں گے ہمارے بعد ۔۔۔ وہ بھی ہماری طرح ، بچپن معصومیت میں ، جوانی میں نادانیوں میں اور بڑھاپا بچتاوئے میں گزارتے ہوئے ہمارے ساتھ مل جائیں گے! ‘‘ بڑی ماں نے نمرہ سے کہا جس کے گال ابھی تک پر نم تھے ۔
٭٭٭
وہ شام اس کی زندگی کی بدترین شام تھی۔وہ بہت روئی ۔دماغ پچھلے کئی گھنٹوں سے من لرزانے والے گمان لاتا آیا تھا۔
…کیا پتہ اب بھی ان دونوں کاملاپ ممکن ہو …کیا پتہ اب ہی ان کا ملاپ ممکن ہو …
الہام ہو ا!… وہ زندہ ہے ، سلامت ہے اور اس کی نظریں میری متلاشی ہیں ۔
’’اس طوفان میں بھی کیااس کا دل میری طرف کشش کھا رہا ہوگا ؟کیا اب بھی ان خواہشات کی فہرست میں میرا نام اول آتا ہوگا ؟‘‘اس نے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لیے تاروں بھرے آسمان کی طرف دیکھا۔
پتہ نہیں…ابھی کوئی پولیس والے گشت لگائیں گے اور مجرم کو پکڑتے ہوئے لے جائیں گے …اور پھر … اور پھر …کچھ بھی ہو، انصاف نہیں ہوگا!
اس کی ٹانگیں بے چین تھیں ۔ایک زخمی کبوتر کی طرح وہ تڑک رہی تھی۔ جسم پہلے بہت گرم تھا ، بہت گرم ، اب وہی جسم بے ٹھنڈاہوگیا ہے اور بے انتہا پیاس لگتی ہے ۔جتنا پانی پی لو بجھتی ہی نہیں۔ کہیں دور سے کسی انگریزی گاننا بجنے کی ہولی ہولی آواز آنے لگی ؛
“Cry maintained the jolting pain of loss
God avert the stinging sense of pause”
اسے بے اختیار رونا آگیا۔
٭٭٭
شب بیداری میں کٹی ۔جاگ جاگ کرعصاب سخت پڑگئے۔دل بالکل جامد ہوگیا تھاجیسے کسی جالے نے اپنی لپیٹ میں لے کر سلا دیا ہو۔اس نے سڑک کی طرف دیکھا۔ اکا دکا تانگے ہیں ،ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی پاس کی کسی مسجد میں اذان ہوئی ہے اور دور کھمبے کے پاس چند کتے ابھی سونے سے اٹھے ہیں اور بھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جاڑا پوری رات سے اپنے پنجے سخت کرتا آیا تھا۔
’’او! چنٹو ! بھگ بھگ کے آ! جلدی‘‘سامنے کی ایک بلڈنگ کے سامنے دو بھنگی جھاڑو لگا رہے تھے اور اپنے ساتھی کو پکار رہے تھے۔وہ فٹ پاتھ پر ایک بلی کے ساتھ بیٹھ گیا۔
میاوں …میاوں …بلی اس کے پیروں کے ساتھ اپنا منہ رگڑنے لگی جیسے پیار کر رہی ہو۔اس کے بعد وہ چلی گئی ۔دفعتاَ پولیس کی سامنے سے آتی دیکھائی دی ۔وہ تھوڑا سا بوکھلایا۔گاڑی ان بھنگیوں کے سامنے رکی ۔
وہ ایک پرچہ دیکھا کر کچھ پوچھ رہے تھے یقینَ اس کے چہرے کا نقشہ ہوگا۔ایک بھنگی نے زور زور سے سر ہلایا اور الٹی طرف اشارہ کیا ۔
سارے پولیس والے گاڑی میں لپکے اور گاڑی کلکاریاں بھرتی گھڑی بھر میں غائب ہوگئی۔کچھ دیر وہ چپ بیٹھا رہا ، روہت کے خیال آتے رہے ،اب وجئے کے بھی آنے لگے تھے۔
وہ اٹھ کر ان بھنگیوں کے پاس گیا ۔جھاڑو لگانا بند ہوچکا تھا اور چائے کا دور دورہ شروع ہوچکا تھا ۔ایک درخت کے نیچے تینوں بیٹھے گندی کچندی پیالوں میںخون جیسی لال چائے پی رہے تھے …چائے ہی تھی۔تینوں نے نظر بھر اس کو دیکھا پھر ایک دوسرے کی طرف پھر اس رہ کر طرف جہاں پولیس کی گاڑی گئی تھی پھر دوبارہ اس کی طرف اور پھر ایک دوسرے کی طرف ۔
اس نے یہ سلسلہ توڑنے کے لیے پوچھا؛’’کیا پوچھتے تھے پولیس والے ؟‘‘
’’کا؟‘‘تینوں نے ایک ہی لہجے میں چنگھاڑ کر کہا۔
’’کیا پوچھتے تھے ؟‘‘
’’کچھ ناہی پوچھتے تھے ساب ، تم بیٹھو چائے پیو! میں ابھی آیا‘‘ایک بھنگی بولا ،باقی دونوں کو آنکھوں ہی آنکھوں میں کچھ کہا اور اٹھ کر چلا گیا۔وہ دونوں سمجھ گئے ۔
فورا َ آنند کو پکڑ کر پاس بیٹھا دیا۔ایک تو مسلسل اسے گھور رہا تھا …وہ پرچہ !…اسے یاد آیا۔
’’میں جاتا ہوں!‘‘اس نے اٹھنا چاہا لیکن بھنگی نے بازو سے پکڑ لیا۔
’’کدھر جاتا ہے ساب!‘‘ دوسرا بھنگی نے چلا کر جیب سے چاقو نکال لی۔آنند نے زناٹے دار دھکا دیا اور خود کو چھڑا کر بھاگنے لگا۔ایک اس کے پیچھے دوڑنے لگااور دوسرا چلا چلا کر کسی دوسری زبا ن میں کچھ کہنے لگا۔وہ دوڑ تا رہا اور دوڑتا رہا اور پلٹ کر نہیں دیکھا۔
جب پھیپھڑوں سے ہوا ختم ہوگئی تو وہ رکا اور مڑ کر دیکھا ۔وہ بھنگی ابھی تک چاقولیے دوڑتا ہوا آرہا تھا!
٭٭٭
اس نے دیکھا کہ گھڑی کل شام سے رکی ہوئی ہے۔اس کی سوئیاں ٹک ٹک تو کر رہی ہیں مگر آگے نہیں بڑھ رہیں بس اپنی جگہ موجود ہیں ، وہیں آگے پیچھے ہوتی رہتیں ہیں،بھلا ایسی گھڑی کا کیا فائدہ ۔
’’کل شام سے بند ہے ‘‘ اس نے گھڑی کی طرف اشارہ کرکے چاچا سے کہا جو گھٹنوں میں سر دئیے، بیڑی پیتے ہوئے دھواں اڑا رہا تھا۔جواب میں سر کی جنبش ملی۔گھڑی پر دھول کا ناصاف پردہ چڑھ چکا ہے لیکن اس گدلے پردے پر تین انگلیوں کے نشان سبط ہیں …روہت کی انگلیاں …
اس نے پہنچان لیا ۔ روہت کی انگلیاں ایسی ہی نظر آتی ہیں ، نہ جانے اب وہ کہاں ہیں۔
’’پتہ ہے …‘‘ چاچا نے اپنی دھنک جیسی ابروں کو سیدھا کرتے ہوئے کہا۔
’’کیا؟‘‘
’’جب جب یہ گھڑی رکتی ہے تب تب کوئی مصیبت آتی ہے ‘‘ چاچا منمنایا۔
’’ہاہا ،میں نہیں مانتا ‘‘ وجئے ہنس پڑا۔
’’کیا مانتے ہو پھر؟‘‘ چاچانے اس کو ایک بیڑی دیتے ہوئے پوچھا۔
’’کہ جب جب کوئی مصیبت آتی ہے تب تب یہ گھڑی رکتی ہے !ایسا لگتا ہے کہ وقت رک گیا ! ایسا لگتا ہے زمانہ رک گیا! مگر چاچا ! وقت بھی کبھی رکتا ہے ! نہیں ، نہیں ، نا نہیں!‘‘ وہ بیڑی پیتے ہوئے بولا۔
’’جوانی کے نشے میں کیسے چُور ہو تم … کسی زمانے میں ہم بھی تمہارے جیسے ہوتے تھے …‘‘
’’کیسے ؟‘‘ وجئے کو لگا کوئی تعریف ہوگی۔
’’جاہل ،بیوقوف ، مکار! ‘‘ مٹر چاچا نے ایک ادا سے دھواں اڑا کر کہا۔
’’ایک بات پوچھوں ؟‘‘
’’پوچھو۔‘‘
’’اکیلے کیسے رہ لیتے ہو؟‘‘
’’بھئی ہمارا کیا ہے ،نا دھن ہے نا دھرم !قسمت میں اڑتے ہیں ہم ایک کٹی پتنگ کی طرح …‘‘
وجئے کو ایسا لگا کہ چاچا کے ماتھے کی جھریاں مزید بڑھ گئی ہیں ۔اچانک پولیس کی گاڑیوںکی د ھنکار سنائی دی، گاڑیاں ایک کتے کے سامنے رکیں اور ایک افسر گاڑی سے نکلا منہ میں ایک بڑا سا پان گھسیڑتے ہوئے ۔
’’دھُوت ! دھت ! ہٹ!‘‘ افسر کے چیلے نے کتے کوہاتھ سے چپل کا اشارہ کرتے ہوئے بھگایا ، وہ دونوں کھڑے ہوگئے اور دیکھنے لگے۔
افسر ایک دم پھسپھسا سا آدمی ہے ،دیکھنے پر عین ہاتھی جیسا نظر آتاہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اپنے موٹے جسم پر اس نے دھوتر کپڑے سے بنی شرٹ پینٹ پہن رکھی ہے ۔بیڑی کے دھوانسے برآمدے میں وہ داخل ہوا اور کونے میں بکھرے غلظ کپڑوں کو اپنی پدی پدی آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
’’جی؟‘‘ چاچا نے سب کوچپ پایا تو پوچھا۔
’’یہ آدمی …‘‘ افسر نے کہا اور ایک پولیس والا آنند کا سکیچ لے کر آگے بڑھا۔
’’…نظر آیا کہیں ؟‘‘ وجئے اور چاچا ایک دوسر ے کو حیر ت سے دیکھتے رہ گئے۔
’’نہیں کوئی ،کوئی وجہ ؟‘‘
’’قتل کیا ہے اس نے !‘‘ افسر نے اپنی انگلی کے رنگ برنگے چھلے کو گھماتے ہوئے کہا۔ ان کے منہ سے جیسے زبان چھن گئی ہواور چہرہ کا رنگ دِگرگُوں ہوگیا۔
’’تم کیوں ٹھنکتے ہو ؟ اس علاقے میں دیکھا گیا تھا یہ کل …انعام ہے اس کو قتل کرنے پر …نظر آئے تو ماڑ ڈالنا …پورے پانسو ملیں گے ‘‘اس نے ہاتھ کو پھیلا کربتایا۔پولیس والے چلے گئے اور وہ ایک دوسرے کا منہ کافی دیر تکتے رہے۔
٭٭٭
کمال الدین نے اجالا کوصا ف نظر انداز کردیا۔کئی گھنٹے وہ یہی سوچتی رہی کہ کوئی بات کریں گے آ کے اس سے لیکن وہ باہر ہی رہے ۔اندر آتے تو بڑی ماں اور نواز اور نمرہ سے بات چیت کر کے دوبارہ باہر چلے جاتے۔ وہ سویرے سویرے ہی آگئے تھے ۔بیٹے کی موت کا پورا پورا غم تھا انہیں ۔ جب جب وہ نواز کو ان کے آس پاس پھد کتا ہوا دیکھتی جی لرزا اٹھتا ۔اس کو سننے میں آیا کہ کسی ہندو نے اس کے شوہر سے بٹو ا چھیننے کی کوشش کی ، جب نہیں دیا تو دے دی اس نے دماغ میں تین چارگولی…دھایں ! دھایں! دھایں!
اور بٹوا لے کر بھاگ گیا کمبخت ۔ گلشن نے اس کے ساتھ ہی تھی ایک دن سے ۔گلشن سو گئی دونوںراتیں لیکن وہ راتیں جاگتی رہی۔ سو بھی کیسے سکتی تھی۔ سونے کی کوشش کرتی تو ہڑبڑا کر اٹھ جاتی ۔ بجلی پورے دودن سے غائب تھی۔موم بتی کی روشنی سے جو دیوارپر سائے بنتے تھے وہ سارے تبدیل ہو کر اور اور شکلوں میں رچ جاتے …کبھی کمال الدین …کبھی خاور …کبھی نواز……تو کبھی آنند !
ڈر کے مارے میں وہ موم بتی بجھا دیتی تو اور بھی زیاد ہ ڈر لگنے لگتا ۔ایسے ایسے خیال آتے کہ دل تڑپ اٹھتااور کبھی کمرے میں خاور کی روح ہونے کا خدشا سر پر چڑھ کر ناچنے لگتا۔وہ دوبار ہ ڈر کے مارے موم بتی جلادیتی اور اس بار صاف فیصلہ کرتی کہ اب کی باری موم بتی نہیں بجھائے گی۔
کھڑکیاں بن رہیں باہر سے آنے والے دھند کے بھبوکوں نے اس کو دھندلا دیا ۔اسی وجہ سے جب وہ کھڑکی سے باہر ٹہلنے والے ان لوگوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی تو باوجود آنکھیں سکیڑنے کے کچھ نظر نہ آتا ۔ باہر جلتی روشنیوں کا ایک موٹا بھداسا دائرہ نظر آتا …اور بس!
اذانیں ہوئیں اس نے نماز پڑی لی اور یہ امید لگا کر ٹک گئی کہ سورج جلدی نکل آئے۔ساڑھے سات بج گئے اور سورج نہ نکلا۔عنقریب سورج کو نکلنا تھا مگر باہر دھند بڑھ گئی اور سورج غیر حاظر رہا۔وہ بہت دیر کمرے کے اندر ٹہلتی رہی اور گلشن کو سوتے ہوئے دیکھتی رہی ۔ نمرہ آپا کا کمرہ تھا وہ ۔ نہ جانے رات ہوتے ہی انہوں نے کہہ دیا تھا کہ تم دونوں اوپر چلے جاو میرے کمرے میں…
کتنی سہلیاں آئی تھیں اس کی ، وہ یاد نہ کر پارہی تھی…وہ یاد کرنے کی کوشش کرتی اور آٹھ کے ہنسے پر وہ رک جاتی …شاید اس لیے کہ اس کی سہیلیاں آٹھ سے زیاد ہ تھیں ہی نہیں۔
اچانک اس کو کہیں دور سے کویل کے گانے کی آواز سنائی دینے لگی…کویل اور نومبر میں؟ کویل تو آموں کے موسم میں آیا کرتی ہے ۔ کیا یہ صرف میرا وہم ہے کیا میں…؟ وہ اتنا بڑبڑا کر خاموش ہوگئی۔
اس نے اپنی دائیں آنکھ کے کوئے کو تھوڑا سا رگڑا اور کھڑکی زرا سی کھولی اورباہر جھانکا۔
ٹھنڈی ہوا اور موٹی دھند کی چادریں…کھڑکی اس نے بند کردی۔
اسی وقت دو کویلوں کے گنگنانے کی آوازآنے لگی اور اس کے بعد تین کویلیں…چار …شاید…
پھر سے تین ہوگئیں…اب دو باقی رہ گئی… اب صرف ایک …اوراسکے بعد بالکل خاموشی چھاگئی…
٭٭٭
’’او ر جھوٹ کیوں بولوں گا آپ سے… بس… یہی قصہ ہے سارا… ‘‘ و ہ کہتے ہوئے آہستہ آہستہ اگے میز کی طرف جھک گیا ۔باہر سے آتا شورپہلے کی طرح روانی سے آرہا تھا۔
’’کُجا؟(کس جگہ)‘‘
’’گھر کے باہر گلی کے نکڑ پر‘‘ اس نے گہری سانس لی۔باہر کوئی کہرام مچاکوئی قیامت ٹوٹی ۔لوگ چلاکر خاموش ہوگئے۔کمال الدین سوچ میں پڑے اور وہ میز پر پڑے گلوب کی طرف دھیان سے دیکھنے لگا۔اس کے بعد اس کی نظر ان کے چہرے پر پڑی ۔وہ میز پر کونیوں کی تلون بنائے بیٹھے تھے ۔
نواز نے غور کیا… ابرو اور کان کتنے ملتے ہیں ہمارے، اور بال…ماتھا ان کا بھی بالکل صاف ہے ، بال ان کے سفید لیکن میرے سیاہ ہیں …ہاں ! بیچ بیچ میں کچھ سفید بھی ہیں پر کیا کریں، اندھیری ترین راتوں میں بھی اکا دکا تارے تو ہوتے ہیں …گال ان کے تھوڑے اندر کو دھنسے ہیں ، کنپٹیاں بھی عجیب سی لگتی ہیں، اور ان کی آنکھیں…سخت بے جان آنکھیں! کوئی رمق نہیں ! کوئی روشنی نہیں ! کوئی غم کوئی خوشی کوئی جذبا نہیں ! ان آنکھوں کو کوئی فتح نہیں کرسکتا…کیا پتہ یہ آنکھیںاگر سچ جان لینے پر مجھ پر تیر برسانے لگیں مجھے اجنبی نظروں سے دیکھنے لگیں …تو میرا کیا ہوگا ؟…رشتے کا کیا ہوگا؟…نہیںمجھے بتا دینا چاہے سچ انہیں کیاہوگا…ہاں ! کہیں اجالا کویہ جان سے نہ مار دیں ! نہیں!نہیں! ایک چپ سو سکھ!
’’پانی پلاو!‘‘ وہ اپنے جبڑے کو تھپتھپاتے ہوئے بولے ۔کرسی پر ٹیک لگا دی اور چھت کو گھورنے لگے۔سفید چھت جس پر الگ الگ رنگوں کے دھبے خوبصورتی بڑھانے کے لیے بنائے گئے تھے لیکن وہ ایسے تھے جن سے سادہ انسانوں کو چڑ ہوگی ، کیسے وہ رنگ رنگ کے دھبے سیدھے سادھے سفید رنگ کی خوبصورتی بگاڑ رہے ہیں …کتنا اچھا ہوتا اگر یہ بدنما داغ اس چھت پر نہ ہوتے ۔
’’پانی!‘‘ وہ چونک پڑے ۔نواز نے گلاس سامنے رکھ دیا۔بڑے بڑے چار گھونٹوں میں وہ پورا کا پورا گلاس خالی کرگئے اور واپس کرسی پر ٹیک لگا کر اپنے ٹھنڈے جھریوں سے بھرے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے چھت کو تکنے لگے۔پاس کی الماری میں کلاسک گانوں کی لائن لگی ہوئی تھی ۔نیچے کے حصے میں بہت سے کپ ٹرافیز پڑی تھیں…سکول کی تھیں …تیسری جماعت فرسٹ…چوتھی جماعت فرسٹ… پانچویں جماعت فرسٹ… دس ٹرافیز تھیںکالج کے اختتام تک۔
’’دادا جان کیا سوچا ہے آپ نے پھر ؟‘‘اس نے نہایت مستند لہجے میں پوچھا۔
’’کس بارے میں…‘‘
’’ میں کس بارے میں پوچھوں گا آپ سے …‘‘ یہ سن کر وہ تھوڑاسا ہنسے۔
’’کہانی سناوں ایک…‘‘
وہ چڑگیا کہنے لگا؛’’ میں کیا پوچھتا ہوں آپ سے اور …‘‘
انہوں نے بات کاٹی’’کل! …کل کا ذکر ہے کہ نواز کا نکاح ہوا اجالا کے ساتھ ‘‘
’’کل کلاں کو انکار کر دیا اس نے تو…‘‘
’’مجال ہے اس کی کہ انکار کرے !‘‘
تھوڑی دیر بعد وہ مسکرا تا ہوا ان کے پرانے آفس سے نکلا۔ اس کے نکلتے ہی بہت سے افسر دروازے کو لپکے ۔وہ سیدھا کلب چلا گیا اپنے دوستوں کے پاس ۔ اس کے دوست تو سبھی جیسے وہیں کلب میں ہی رہتے تھے ۔
’’ کل کا ذکر ہے کہ نواز کانکاح ہوا اجالا سے …پھر …پھر بچے ہوئے نو دو گیارہ ! ہاہا !‘‘
راستے بھر میں وہ بڑبڑاتا رہا ۔نواز کو لگ رہا تھاکل کائنات اچھل رہی ہے خوشی سے ۔اس کے سامنے آنے والی گاڑیاں ، تانگے جان بوجھ کے اس کے سامنے سے ہٹتے جارہے ہیں کیونکہ آج اس کی زندگی کا سب سے اچھا دن ہے ۔ کلب میں دوستوں کے ساتھ وہ کافی دیر تک شراب پیتا رہا …شعر کہتا رہا …اپنے دوستوں کی واہ !واہ ! سنتا رہا اور جب اس کا اس سب سے جی بھر جاتا تووہ دوسرے کمرے میں بیٹھی لڑکیوں کے قدموں میں بیٹھ جاتا ۔ ان سے باتیں کرتا انہیں چھیڑتا۔ کھلم کھلا ان کے جسموں پر تبصرہ کرتا ۔اگر کوئی ناراضی کا اظہار کرتی تو اسے پکڑتا ہوا دوسرے الگ کمرے میں لے جاتا اور اندر سے دروازہ بند کر کے…!
کلب سے کئی گھنٹوں بعد وہ نکلا ۔ گاڑی وہیں رہی ۔وہ پیدل سڑکوںپر گھومتا رہا… پھرتا رہا…
وہ مانگھنے والے فقیر بچوں کو دور سے چلا چلا کر بلاتا اور جب وہ قریب آتے تو گالیاں دے دے کر بھگا دیتا، اور ہنستا زور زور سے …اور کبھی کبھی تو ان کی تھالیوں میں موجود سکے چھیننے کی بھی کوشش کرتا ۔
وہ بچے دم دبا کے بھاگ جاتے ۔اس نے کئی سگریٹوں کی کئی ڈبیاں پی ڈالیں۔ بہت گھنٹے گزر گئے ۔اس کا دل چاہ رہا تھا گلشن سے ملے …لیکن کیوں ملے …وہ دوبارہ کلب چلا گیا۔
٭٭٭
جامن کے پیڑوں کے پار وہ دونو ں کافی دیر باتیں کرتے رہے …پھر خاموشی ٹک گئی دونوں کے بیچ۔
مٹی سے معلوم نہیں کیوں اتنی اچھی خوشبو آرہی تھی ۔شاید وہ گند اس تالاب میں موجود کنول کے پھولوں سے آرہی ہوگی جو مٹیالے مٹیالے سے ہورہے تھے ۔مثنی چٹھی مل کر وہ پہلے تو بہت ڈری لیکن پھر چلی گئی …جہاں اس نے بلایا تھا ۔
کوئی دیر بعد وہ بولا ؛’’مٹی کے مول بیچ رہی ہوخود کو؟‘‘
’’اور کیا کرسکتی ہوں؟‘‘
’’مجھے کیوں نہیں دے دیتی اپنے آپ کو ؟اجالا تم…تم اس گاہک کی مانند ہوجو چیزوں کے مول تو جانتا ہے… لیکن انہیں خریدنے کی ہمت نہیں کرسکتا !‘‘ اس نے روہت کی گھڑی اپنے ہاتھوں میں اچھالتے ہوئے کہا۔
’’اور تم کیا ہوآنند؟…تمہارے پاس ہمت ہے ،سکے ہیں لیکن ان کی حیثیت نہیں جانتے ‘‘ آنند مسکرایا۔
تھوڑی دیر بعد بولا؛’’وہ لڑکا …‘‘
’’نواز …کہتے ہیں کہ نکاح ہوگا زبردستی کا ،لیکن پہلے تمہیں ماریں گے ‘‘
’’تم طوفان سے کیوں ڈرتی ہو! …ہم ساتھ ساتھ ہوں گے تو کٹ جائے گا طوفان بھی!‘‘وہ جامن کے پیڑوں کودیکھ رہی تھی جو تیز ہو ا ، تیز دھوپ اور ہلکی ہلکی خنکی میں جھوم رہے تھے ۔
’’ڈرتی نہیں ہوں…ڈروں گی کیوں …مگرمیں مسلمان اور …‘‘
’’اور میں ہندو نہیں !‘‘ اجالانے گردن گھما کر اس کودیکھا ۔اس کی آنکھیں دیکھیں۔اس کو یقین نہیں آرہا تھا۔ کیوں ؟ کیا ہوا آخر ؟ …وہ کچھ بول نہ پائی۔
’’ہاں ! ہاں ! اجالا!…میں آنند نہیں دانیال ہوں!‘‘
’’کیا ؟ کیسے؟ تم تو… ‘‘
’’انہوں !‘‘ دانیال ہلکا سا مسکرایا اور گردن کوخم دے کر کنول کے پھولوں کو دیکھنے لگا۔
’’پولیس کے پانچ آدمی تھے …میں اکیلا!…انہوں نے مجھے بہت مارا، بہت پیٹا ،ساتھ لے جانے لگے لیکن پھر …نہ جانے مجھ میں کیسی طاقت آگئی…میں گنڈاسااٹھا کر ان پر ٹوٹ پڑا…گولیاں چلائیں انہوں نے…ایک لگی مجھ کو…‘‘ اس نے کندھے پر ہاتھ رکھ لیا۔اجالا نے غور کیا تو کپڑے کے پار کندھے پہ بندھی وہ پٹی نظر آگئی۔
’ـ’زخمی تھا میں بہت…بہت زیادہ !…پورا زورلگا کر چلتا رہا گر جاتا پھر کھڑا ہوجاتا … مسلسل خون رس رہا تھا…کافی چلنے کے بعد جب آخری بار میں گرا تو میرے آنکھوں کے سامنے پردہ چھا گیا … بے ہوش ! … ہاہا! پھر کسی نے مجھے اٹھا یا!لے گئے اپنے ساتھ…ایک عالم تھے وہ…میں نہیں جانتا کون سے …میں نے پوچھا ہی نہیں… انہوں نے جب میرے بارے میں پوچھا تو میں ڈر گیا … کہہ دیا کہ مسلمان ہوں، یہ سن کروہ مسکرائے … ان کی وہ مسکراہٹ ! اجالا!…میں جانتاتھا کہ وہ جانتے ہیں کہ میں مسلمان نہیں ہندو ہوں…لیکن پھر بھی انہوں نے میرے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا…تین دن! تین دن بعد مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے انہیں سچ بتا دیا…ان کا سلوک اور بھی اچھا ہوگا!ہاہا!جیسے مجھے جھوٹ بولنے کا انعام مل رہا ہو!…میں جانتا رہاتمہارے دین کے بارے میں…اسلا م کے بارے میں! دن رات ! … اور…اور ‘‘
’’اور تم مسلمان ہوگئے صرف اپنے لیے ‘‘
’’اور میں مسلمان ہوگیا صرف اپنے لیے‘‘
کافی دیر تیزہوا چلتی رہی اور اس کے بال بکھرتے رہے۔
وہ بولا ؛’’حیرت کی بات ہے !مجھے لگا تھا جیسے وہ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں گے ‘‘
’’وہ کرتے ! بھلا کیوں نہ کرتے ! اگر ان کو سچ معلوم ہوگیا ہوتاتب‘‘
’’یہ کرم ہواکیسے؟‘‘
’’یوں سمجھ لو جیسے جھوٹ بولنے کا انعام ملاہے!‘‘
’’ہاہا! تم ! …جھوٹی !‘‘اس نے کہااور دونوں ہنس پڑے۔
’’نا میں نہیں …نواز، نواز!‘‘
’’اچھا تو ایک اور پروانا بھی شمع پہ مرتاہے! ‘‘ دانیال نے اس کو دیکھتے ہوئے کہا اور اجالا کے بالوں کی ایک لٹ پھسل کر ماتھے پر بکھر گئی ۔
اجالا نے نظریں اٹھائیں ؛’’پر شمع کو اس پروانے کی کوئی پروا نہیں! شمع کو تو اس پروانے کی پروا ہے جس پہ وہ خود مرتی ہے !‘‘
وہ اس کے بالوں کی لٹ میں ادھ چھپی آنکھوں کو دیکھتا رہا ۔دھیرے دھیرے اس نے دائیاں ہاتھ بڑھایا اور اس کی آنکھوں کو چھیڑنے والی گنہگار لٹ کو اس کی جگہ پر پہنچا دیااور اجالا نے ہاتھ بڑھا کر اس کے دائیں گال کو چھوا ۔ اور اس کو جیسے محسوس ہوا کہ گال گرم ہورہے ہیں ، تپتے ہوئے لال لال ہورہے ہیں۔۔۔
’’بہت دیر ہوگئی ہے …میں جاتی ہوں آنند‘‘
’’آنند نہیں…دانیال…‘‘دانیال ہنس پڑا۔
’’او ،ہاں! ‘‘ وہ مسکرائی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’ کہاں گئی نظر تو نہیں آرہی‘‘ وہ جامن کے پیڑوں کے پار گلشن کو ڈھونڈلنے لگا۔
’’وہ ادھر ہے وہاں دیکھو‘‘ وہ چلی گئی گلشن کے ساتھ ۔ جاتے وقت اس نے اسے یہ کہتے نہ سنا کہ پھر ملیں گے۔ کہنے کو تو وہ اس سے ہر وقت ملتا تھا ۔اس کی ہر دھڑکن میں وہ مچلتی تھی اور وہ اس کے ساتھ ہر وقت رہتا تھا، اس کے پہلو میں …
وہ خالی راستے پہ چلتی جانے والی گاڑی کو دیکھتا رہا پھر وہ گاڑی نظروں سے اوجھل ہوگئی۔وہ واپس پلٹ کر اسی بینچ پر آ بیٹھا ۔وہی بینچ تھا …وہی مٹی کی خوشبو…وہی کنول کے پھول تھے …وہی ہوا ، وہی دھوپ ،وہی جامن کے پیڑ… لیکن وہ،وہ پہلے جیسا نہ تھا اور بظاہر پہلے جیسی دیکھنے والی چیزیں بھی اسے پہلے جیسی نہیں دیکھائی دے رہی تھیں۔
کنول کا پھول اپنا رس کھوچکا تھا…جامن کے پیڑ اپنا جھومنا بھول چکے تھے …دھوپ اپنی تپش …ہوا اپنی تازگی …اور وہ مٹی اپنی گند، اپنی خوشبو…کون جانے کہ وہ خوشبو مٹی کی تھی ، کنول کے پھولوں کی یا اجالا کی۔
دفعتاَ چار پانچ گاڑیاں ان پیڑوں کے پاس رکیں ۔۔۔ پولیس!
نواز اور وجئے !…وہ حیر ت سے انہیں دیکھتا رہا۔
٭٭٭
جن لوگوں نے اسے پکڑا تھا وہ یقین َ رحم نہیں کرنے والے تھے۔درد سے جسم کا جوڑ جوڑ چیخ رہا تھا۔اس کی شرٹ آدھی پھٹ چکی تھی ۔وہ لال سرخ شرٹ اور اس پر وہ خون کے موٹے موٹے دھبے ۔ اس نے ہاتھ بڑھانا چاہا…لیکن ہاتھ بندھے ہیں پیچھے کرسی سے…
آس پاس کے سیاہ اندھیرے میں اوپر جلتی چیز کو دیکھا …بڑاسا بلب…آنکھیں چندھیا گئیں۔
وہ آنکھیں سکیڑ کرآس پاس دیکھنے لگا۔وہ بتا سکتا تھا کوئی نہ کوئی تو کمرے میں موجود ہے …
وہ گھورتا رہا اندھیرے میں…ایک سایہ ہے !
نہیں دوسائے ہیں…نہیں تین سائے!!…تین ہی ہیں! اندھیرا کچھ کم ہوگیا۔
نواز …جنرل کمال الدین…اور وہ فوجی جلال جِن، جس کے ایک ہاتھ میں درا تھا اور دوسرے میںبلیڈ۔روشنی ڈم ہوگئی…ایک سائے نے دوسرے سائے کے کان میںکچھ کھسر پھسر کی…
روشنی پھر تیز ہوگئی اور اس نے دیکھا کہ ا س کے چہرے کے قریب کمال الدین کا چہرہ ہے ، وہ اسے ٹکر ٹکر گھور رہا ہے۔اسی وقت کمال الدین نے اس کے منہ تھوک دیا۔چپچپی تھوک ابرو سے پھسل کر نیچے آنکھ میں جانے کی کوشش کرنے لگی۔
’’یو بچ!‘‘ اس بار تھوک گردن پر پڑی ۔وہ پھنکارتا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔مدھم اندھیرے میں ا س کو نواز کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھائی پڑگیا۔
’’یہ بکھیڑا بکھیر دے گاتمہیں،خود سے چمٹی جنجال محسوس ہوگی تمہیں اپنی زندگی!…آنند !‘‘
دانیال مسکرایا۔نواز غصے سے بڑھا اور ایک زناٹے دار مکا اس کے منہ پہ دے مارا۔
پورے جسم میں ایک درد کی لہر سی اٹھی اور مسوڑوں سے چبھنے والا خون نکلنے لگا۔ہونٹ خون آلود ہوگئے۔نواز اپنامکاہوا میں لہراتا ہوا واپس چلا گیا ۔ کمال الدین پھر آگے آئے اور پیچھے سے کچھ نکالا۔۔۔ ریوالور!
’’اپنی موت دیکھ لو…‘‘ریوالور کو اس کی آنکھوں کے سامنے سے وہ نچانے لگا۔دانیال کی نظریں جھکی ہوئی تھیں ۔
کمال الدین نے اس کے دائیں گال پر زور کی چپت ماری ۔اس کے دماغ میں جیسے سوئیاں سی جبھنے لگیں اور اس کو جیسے محسوس ہوا کہ گال گرم ہورہے ہیں ، تپتے ہوئے لال لال ہورہے ہیں۔۔
وہ دوبارہ ریوالور کو اس کی آنکھوں کے سامنے نچانے لگا۔
’’اب پینتیس منٹ ہیں…پینتیس!…پینتیس! …چالیس منٹ ہونے سے پہلے تم اس دنیا میں نہیں ہو گے،روح کہیں اور ہوگی…جسم یہیں ہوگا…ہم گدھوں کو کھلائیں گے،کتے تمہارا گوشت پسند نہیں کریں گے ہاہا !ہے نا نواز!ہاہا!……تم بے حس نہیں! کیا موت سے ڈر نہیں لگ رہا؟‘‘
’’کون منحوس محبت کرنے کے بعد بھی اپنی موت سے ڈرتا ہے !…میرا دل رحم مسلتا ہے ایسے منحوسوں کے لیے !…مسلسل روتا ہے ایسے محبت کرنے والوں کے لیے …مسند آرا ہو جو تمہارے دل پہ ، مرنے میں بھی کیا ڈر ہو اگر مرنا ہو ان کے لیے …ان کے لیے !…ہا!تم ! تم ! نواز کیسے مسکین ہوتم! کہ تمہیں پتہ ہی نہیں کہ وہ تمہاری کبھی نہیں ہوسکتی ! نا کبھی بھی نہیں! تم نکاح کروگے تو اس کے ساتھ جس کی ساری محبتیں میرے لیے ہیں …تم راتیں گزارو گے تو ان آہوں کے ساتھ جو میرے لیے ہیں…تم جیوں گے اس کے ساتھ جس کے دل میں مچلتے سپنے صرف میرے لیے ہیں! صرف میرے سپنے ہیں! …‘‘
’’یو باسٹرڈ!‘‘ کمال الدین نے تیزی سے ریوالور کا رخ اس کے ماتھے کر طرف کیا۔
’’نہیں!‘‘ نواز نے گولی چلنے سے پہلے ریوالور کا رخ تبدیل کردیا۔ گولی جھولتے بلب کی تار کو چھو کے نکل گئی ۔بلب ہلنے لگا ۔روشنی ہلنے سی لگی۔
’’آر یو میڈ!یہ کیوں کیا ؟‘‘ کمال الدین غرایا۔
’’نا جنرل ! نا!…اس کی سزا کچھ اور ہے…اس سے بھی بدتر ہے ! اس سے بھی بری ہے!‘‘
’’اس سے کیاسزا بری ہے ؟‘‘ کمال الدین نے جیب سے سگریٹ نکال کر سلگائی۔نواز ٹہلتے ہوئے ہنسنے لگا۔
’’جان دیتے ہوئے تویہ نہیں ڈر رہااور …‘‘ اس سائے نے کہا جو دروازے کے پاس کھڑا تھا۔ کمال الدین نے بات کاٹی؛’’ نونونونو۔ یہ دیکھا رہا ہے کہ ڈرتا نہیں ہے …ورنہ اس خاموش زمین کے نیچے لاوا چلا چلا کر خدا سے دعائیں مانگ رہا ہے !…جان دیتے ہوئے یہ ڈر رہا ہے ‘‘
نواز نے کمال الدین کے ہاتھوں میں موجود ڈبی سے سگریٹ نکالی اور ماچس جلا کے سلگایا۔
بہت دھیرے دھیرے اس نے کہا؛’’جان! دادا جان! …جان !…جان دینا چھوٹی بات ہے ان لوگوں کے لیے جن سے آپ خود سے زیادہ پیار کرتے ہوں …اصل غم…آہا!…اصل چوٹ تو وہ ہے جو آپ کو زندگی بھر سسکا سسکا کر مارے … آپ کے پیار کو درد ملتا رہے زندگی بھر اور آپ بس خون کے گھونٹ پیئں اور بے بس رہیں…‘‘ اس نے دانیال کے منہ کے قریب آکر اپنے منہ سے سگریٹ کا دھواں نکالا۔
’’(سرگوشی کرتے ہوئے)گڈ بائے آنند ! وعدہ رہا کہ تمہارے پیار کی زندگی جہنم بنا دوں گا!پورے پندرہ بچے اور پھر… طلاق! ‘‘
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: