Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 5

0
آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 5

–**–**–

{پانچواں باب}
…پہلے پھول…

سناٹے میں کہیں کسی کتے کے بھونکنے کی آواز آجاتی ورنہ سُن خاموشی تھی ۔ نہ ہوا کے چلنے کی آواز آتی نہ اس کو اپنے قدموں کی ۔نہ جانے کیوں اتنی ویران سڑکیں ہیں ۔ وہ سوچتا جب جب وہ ان کو روشنوں میں خالی خالی دیکھتا۔ایک جھرجھری سی اس پر طاری ہوجاتی ۔کئی دکانوںکے سامنے سے وہ گزرا ۔مشہور مشہور ٹیلرز کی دکانیں تھیں ۔وہ اگر چاہتا تو ایک نہیں نہ جانے سینکڑوں کوٹ خرید سکتا تھا ۔پیسے جو تھے اس کے پاس…پورے پانسو…ٹھنڈ سے کانپتے ہوئے اس کو وہ شام یاد آگئی جب وہ آئے تھے لاہور ۔روپے نہیں تھے ان کے پاس۔اس نے اپنی جیب میں ہاتھ مارا …وہی سکے …
دھیان بٹا نے کے لیے اس نے پان والے سے سگریٹ خرید ی ۔پینے کے بعد اس کوتلاش کیا، مزید پانچ ڈبیاں خریدلیں۔ وہ ایک کے بعد ایک سگریٹ پیتا گیا یہاں تک کہ نیچے سگریٹوں کی لاشوں کا انبار لگ لگا۔ہوش اس کا دھویں کے ساتھ ساتھ ہی اڑتا جارہا تھا ۔سڑکیں جن پر باریک باریک ٹریفک چلنے لگی تھی اسے دھندلی دھندلی سی نظر آتی تھی …اس ہوش آتا اور سڑکوں پر چڑھے دھندلے جالے اتر جاتے ۔
ہوا جو بہت ٹھنڈی تھی یک دم سموم زہریلی گرم ہوجاتی اور اس کے بعد جھٹ پٹ دوبارہ ٹھنڈی ہوجاتی۔
وہ سگریٹ پیتا رہا …تین ڈبیاں ختم شد…وہ سڑکوں کودیکھتا تو اس کو احساس ہوتا جیسے وہ کسی سمندر کے بیچ و بیچ ہے یا زمین و سمندر ایک دوسرے میں گھل گئے ہیں…سڑکیں اپنی جگہ پر ہلتی ہوئی معلوم ہوتیں…
’’میں نے شراب تو نہیں پی…کیا میںپا گ ،نہیں نہیں !‘‘ وہ بڑبڑا کر بھاری بھاری کش لینے لگا۔اس کو کوئی سایہ سا نظر آیا اپنے طرف آتے ہوئے ۔دھند ہونے لگی تھی اس کو چہرہ صاف نظر نہ آیا۔
’’آنند ! آنند !یہ کیسے ! تم تو!‘‘وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتا رہا ۔خوف سے اپنے آنکھوں کے کووے دبائے ۔چہر ہ اور صاف ہوگیا ، وہی بال ، وہی ناک ، وہی آنکھیں…چہرے کو سگریٹ کے دھویں نے لپیٹ میں لے لیا ۔
’’وجئے !‘‘ایک زنانہ آواز۔
’’تم …تم…کیا کر رہی ہو یہاں؟‘‘ اس نے گلشن کو پہچانتے ہی تیوری چڑھا لی اور دھندلاہٹ سے بھرتی سڑک کودیکھتے ہوئے سگریٹ پیتا رہا۔
’’نہ مجھے تمہاری پروا ہے نہ تمہیں میری ہونی چاہیے‘‘
’’مجھے تمہاری کوئی پروا نہیں‘‘ ڈھٹائی سے جواب ملا۔
’’تم نے خبر کی تھی نواز کو…ہے نا!تم ہی تھے ،دیکھو تمہاری وجہ سے وہ کس حالت میں ہے ‘‘
وہ تھوڑی دیر چپ رہنے کے بعد بولا؛’’وہ کیسی ہے ؟‘‘
’’تڑپ ،تڑپ رہی ہے …سونے کی ڈلی کو تم جاہل لوگ کس طرح کوئلے کی کھدان میں پگھلا رہے ہو‘‘ وجئے خاموش رہا۔گلشن نے سگریٹ اس کے منہ کھینچ کر باہر پھینک دی۔ کوئی ردعمل نہیں۔ایک ساکت بت کی طرح کھڑا ہے۔
’’دیکھنا وجئے ،قسمت کے راستے میں ڈگمگا کر ناکامی کی دلدل میں پھنسو گے، زمانے کی غلاظت میں لتھڑے تم آوارہ ،مارے مارے پھرو گے!‘‘
وہ کہنے لگا؛’’گفت گُو کرنے کا سلیقہ نہیں آتا تم کو ،شریفوں میں دستور ہے کہ اونچی آواز میںبات نہیں کی جاتی ‘‘
’’شریفوں میں یہ بھی دستور ہے کہ دوستوں کو دغا نہیں دی جاتی‘‘
’’میں نے اس کو دغا نہیں دی‘‘
’’پھر کیوں کیا اس کے ساتھ ویسا سلوک ، کیوں ؟‘‘ وہ مڑ کر گلشن کو دیکھنے لگا مسکراتے ہوئے۔
مسکراہٹ سے لگا جیسے وہ کوئی بڑی بازی جیتا ہے ۔پانسو کی بازی۔کیا یہ پانسو اس کے نزدیک دوستی سے زیادہ اہم ہیں۔
’’اجالا کی وجہ سے…وہ لڑکی نہیںہے ‘ ‘ وہ نیا سگریٹ سلگاکر دھواں اڑانے لگا۔
پوچھا؛’’پھر کیا ہے …‘‘
’’وہ Dynamite ہے !اور میرا دل میرا دماگ میرا غرور وہ محل ہے جس کے اس نے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ہیں…سمجھتی تو ہوگی میری بات کو …‘‘ وہ اس سے کے بہت قریب ہوگیا۔گلشن اس سے آنے والی گند کو سونگھ سکتی تھی۔
وہ اور قریب آیا،گلشن پیچھے نہ ہٹی ،نظریں چرا لیں اور وہیں کھڑے کھڑے منہ دوسری طرف کرلیا ؛’’آخر تم نے بھی کسی سے پیار کیا ہے، کیوں گلشن ، کیا ہے نا پیار ، کی ہے نا محبت ! کھائی ہے نا چوٹ !‘‘گلشن ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اس کو مسکراتے ہوئے دیکھتی رہی۔
’’تم بے بس ہوجیسے ، بس ویسے ہی، میں بے بس ہوں‘‘ وہ پیچھے ہٹا اور دوبارہ سگریٹ اپنے ہونٹوں سے لگالی۔
’’پیار کرنا تو کوئی تم سے سیکھے …‘‘ کافی دیر بعد وہ طنزیا اندازمیں بولی۔
’’yeah,yeah,yeah‘‘ وہ ہنس پڑا۔
’’آنند کی مددمیں نہیں کرسکتا کیونکہ اگر باہر نکلا تو پہلے پہل مجھے جان سے مارے گا ،ہاں! ہاں اگر اجالا کا کوئی بھلا ہوسکتاہے تو کہو‘‘
وہ اسکے قریب ہوئی؛’’طوفان میں ڈبکی لگانے کو تیار ہو؟‘‘
’’کیسا طوفان کیسی ڈبکی؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔سگریٹ انگلیوں سے نکل کر نیچے گرگئی۔
وہ ہنس پڑی، کہنے لگی؛’’رہنے دو تمہاری بس کی بات نہیں…لیکن کہنے کو کہہ دیتی ہوں، رقیب کو قتل کر سکتے ہو؟‘‘
’’ہاہاہا!ڈپلومیٹ ! ڈپلومیٹ! ڈپلومیٹ! …انہوں!‘‘وہ ناں میں سرہلانے لگا۔
’’کسی کی زندگی بن جائے گی‘‘
’’کسی کی بگڑ بھی جائے گی ،اگر بگڑنے کوبچی تو…‘‘
وہ جل کر بولی؛’’تم عاشق لوگ ایک رقیب کو کیسے برداشت کر لیتے ہو؟‘‘
’’تم بھی تو عاشق لوگوں میں سے ہو ! اپنی رقیبہ کو برداشت کر رہی ہو! …پتہ ہے مجھے سب پتہ ہے ‘‘
’’کیا سب پتہ ہے !؟‘‘ اس نے قدرے غصے سے پوچھا۔
’’چار لفظ…‘‘
’’کیا چار لفظ؟‘‘
اس کی نظر آسمان کو اٹھی پھر نیچے اجالا کی طرف،مسکرا کر بولا؛’’نواز میرا دوست ہے ‘‘
گلشن کی ابرویں اٹھ گئیں؛’’اوہو!…لیکن تم یہ دیکھ نہیں پائے کہ تمہارے جیسا دوغلا انسان ہے وہ، دغا کرے گا تمہارے ساتھ‘‘
وہ جلدی سے کہنے لگا؛’’نا! میں پہلے دغا کروں گا!میرا پہلا وار ہوگا…اور وہ وار پہلا اور آخری وار ہوگا،جیت میری ہوگی،اجالا میں ہوگی‘‘ وجئے نے نرمی سے گلشن کے بالوں کو چھو کر کہا۔سڑک کی دوسری طرف چند لوگ ترتیب وار گزرتے ہوئے باتیں کررہے تھے۔
’’کچھ نہیں ملے گا تمہیں اتنا دوڑ کر، جیت تم سے ڈر کے بھاگتی ہے اور اجالا تم سے نفرت کرتی ہے حالاں کہ اس نے تمہیں ایک بار بھی نہیں دیکھا اورتمہارا سوچ کہ ہی اس کا دل بھڑک اٹھتا ہے ‘‘
وہ پہلے نرمی سے بال چھو رہا تھا یک دم اس نے سختی سے پکڑ لیے اور سرگوشی کی ؛’’دُربچن ! دُربچن ، بدلگام، کھوٹی بات کرتی ہو !درِ شہوار کو اگر خود نہ پا سکو تو کسی دوسرے کو بھی نہ پانے دو…وہ اجالا! اگر میری آنکھوں کو نصیب نہیں، تو سب لوگوں کو اندھیرے میں بھٹکنے دو!‘‘
’’تا کہ سب لوگ تمہاری طرح ٹھوکریں کھاتے ہوئے دراڑوں میں جا گریں؟‘‘ گلشن نے خو د کو اس سے دور کر لیا ۔
وہ مثبت میں سر ہلاتے ہوئے قہقہے مارنے لگا ،چلایا؛’’ہاں تاکہ سب لوگ میری طرح ٹھوکریں کھاتے ہوئے دراڑوں میں جاگریں …ان دراڑوں میں جا گریں جہاںانہیں تم جیسی موم بتیاں بھی نہ ملیں،ہا آہ!‘‘
معلوم نہیں کیوں گلشن کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور تیوری چڑھائے سرخ چہرہ لیے وہ تیزی سے چلی گئی۔
٭٭٭
جب بڑی ماں اور اس نے ایسی بات سنی تو پہلے ہاتھ ہونٹوں کو اٹھ گئے لیکن تھوڑی دیر بعد ہی وہ ہاتھ بالکل تالیاں بجانے کے لیے تیار ہوگئے ۔لڑکی کے پیچھے کوئی نہیں ہے ۔کہاں دربدر ہوتی رہے گی ۔اور اوپر سے خوبصورت بھی بلا کی ہے ۔سب سوچنے کے بعد یہ نیکی کرنے کے فیصلہ انہوں نے بھی خوشی خوشی مان لیا اور وہ خاور میاں کی موت کا غم نمرہ آپا کو اپنے بیٹے کی خوبصورت بہو دیکھتے ہی بھول گیا ۔وہ تو ہولے ہولے بڑبڑایا کرتیں کہ دونوں ہم عمر ہیں ،خوش شکل بھی ہیں ، جوڑی خوب جمے گی۔
اور بڑی ماں کو جو خاور کی موت کا صدما پہنچا تھا وہ اس کے زخم ان باتوں سے نہ بھرے پر دوسروں کی مسکراہٹوں کا رنگ ان پر بھی چڑھ گیا ۔گلشن نے بڑی ماں کو منا یا اورنمرہ کو بھی کہ اجالا کو نکاح ہونے ان کے گھر میں نہیں رہنا چاہیے ۔بڑی ماں مان گئیں اور وہ اجالا کو اپنے گھر لے آئی۔گلشن کے ماموں بس سارا دن کام پہ ہوتے ۔رات کے کسی پہر واپس آتے ،کھانا گرم کرتے ،کھاتے اور سو جاتے ، صبح ناشتہ سب مل کر کرتے اور دوبارہ وہی سلسلہ شروع ہوجاتا جو گذشتہ پانچ چھ برسوں سے چلتا آرہا تھا بنا کسی تبدیلی کے۔
وہ اپنے لوفر لفنگے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر لوٹا تو حسبِ عادت گلشن کو چائے بنانے کا کہہ کر وہیں پلنگ پر ڈھیر ہوگیا۔اجالا کو جیسے ہی اس نے دیکھا تو ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا ۔گلشن نے اسے سمجھایا ۔بظاہر تو وہ ناسمجھ لڑکا سمجھ گیا لیکن اجالا کودیکھتے ہوئے اس نے یہ ضرور جان لیا کہ یہ کسی بڑے رنج میں گھل رہی ہے۔
ناصاف نا شفاف ، کچیلی میلی سی سفید کرکٹ یونیفارم پہن رکھی تھی اس لڑکے نے ۔گلشن نے اس کا تعارف ہی نہ کروایا ۔اجالا کو برا لگا تو اس نے بیچارے سے خود ہی پوچھ لیا۔
’’عقیل اور آپ کا؟‘‘
’’اجالا‘‘ اجالا نے مسکرانے کی کوشش کی۔
’’یعنی روشنی؟ اردو کی کتاب میں تو یہی مطلب تھا ‘‘اجالا ہنس پڑی ۔
’’کون سی کلا س ہے تمہاری عقیل ؟‘‘
’’آٹھویں فیل ہیں حضرت! اب دوسری بار اپنا سر پھوڑنے جارہا ہیں …کیوں عقیل؟‘‘ گلشن اندرآتے ہوئے بول پڑی اور اجالا کے ساتھ پلنگ پر نیم دراز ہوگئی۔عقیل جو کوئی الجھا ہوا جواب دینے والا تھا آ س پاس چوروں کی سی نظروں سے دیکھنے لگا ۔گلشن ہنستی رہی ۔کھی کھی کھی۔
’’میری چائے ؟‘‘ جب کوئی جواب نہ سوجھا توپوچھنے لگا۔
’’پتی ختم ‘‘
’’میں لے آتاہوں ، آپا بھی تو پئیں گی‘‘ اس نے اجالا کی طرف انگلی کرکے کہا۔اجالانے کچھ بولنا چاہا مگر گلشن نے کہہ ڈالا؛’’ختم توچینی بھی ہے‘‘
’’اچھا ‘‘ عقیل منہ بسورے اٹھ کر چلا گیا ۔
’’خواہ مخواہ میں چکر لگ جائے گا بیچارے کا، کتنی دور ہے بازار‘‘
’’خواہ مخواہ کا کیوں؟ چائے کیا نہیں پئیں گے ‘‘ گلشن نے ہنس کر کہا۔باہر سے کا ر کے ہارن کی آواز کانوں میں پڑی ۔گلشن کا چہرہ اتر گیا۔دونوں کھڑی سے باہر دیکھنے لگیں۔ایک سپاٹ سی گاڑی۔
گلشن پوچھنے لگی؛’’نواز کی گاڑی تو…‘‘
’’نہیں ، نہیں!نوازکی نہیں ، ہاں دیکھنے میں ایک جیسی ہیں پر گاڑیوں کارنگ بھی مختلف ہے اور گاڑی چلانے والے بھی‘‘ اجالا واپس پلنگ پر بیٹھ گئی ۔گلشن نے اس گاڑی کو رفتار پکڑتے ہوئے دیکھا اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
کافی دیر اجالا کو آئینے میں دیکھنے کے بعد وہ بولی ؛’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ یہ دعائیں جو پڑھتی ہو اسے بچالیں گی؟‘‘
’’دعاوں سے کیا نہیں ہو سکتا گلشن ؟‘‘
’’اور بددعائیں ، بد دعاوں سے کیا کچھ نہیں ہوسکتا؟‘‘ اسے نواز کا خیال آیا تو پوچھا۔
’’نہیں و ہ بھی اثر رکھتی ہیں ،لیکن قبول کرنے والاتو ایک ہی ہے او ر دعائیں اور بددعائیںدینے والوں سے زیادہ جانتا ہے …یہ دعائیں ہی تو بدنصیبی کو دباتی ہیں، یہی تو خوش نصیبی کی دایہ گری کرتی ہیں،اور ان ساری دعائوں کو قبول کرنے والے میں اتنی طاقت ہے کہ وہ ہزار محبت کرنے والوں کو بھی ایک جھٹکے میںملا دے‘‘
’’نہ ملایا تو کیا محبت کم ہوگی تمہاری‘‘
’’صرف ملنا ہی تو محبت نہیں … زمین…زمین کی طرح…‘‘
’’زمین کی طرح؟…‘‘
’’زمین کی طرح میرا عشق بھی، خلا میں گھومتاوہ دائمی دائرہ ہے جس کا محورصرف اورصرف آنند ہے ، ہم دونوں میں فاصلہ چاہے کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو،مجھ تک اس کی روشنی پہنچتی ہے ،اور اگر…اوراگر اسے کچھ ہوا تو میں نہ جی پائوں گی…میں نہ جی پائوں گی گلشن‘‘
’’صبر کرو ! دعا کرو! سب ٹھیک ہوگا‘‘ گلشن پاس بیٹھ کر اپنی تر آنکھوں سے اجالا کی آنسووں سے بھر ی آنکھیں دیکھنے لگی جیسے ان میں دوبتی جارہی ہو۔گلشن نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور تھپتھپانے لگی۔
’’آپا ! پتی چینی کے لیے روپے تو آپ نے دئیے ہی نہیں‘‘ اچانک آواز آئی ۔دونوں نے نظریں اٹھا کر دیکھا۔ عقیل دروازے سے جھانک رہا تھا ۔وہ مسکرارہا تھا لیکن اس کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔
’’گدھے ! تم ہماری باتیں سنتے رہے !ٹھہرومیں بتاتی ہوں تمہیں‘‘ گلشن نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے اسے اشارے سے بلایا۔وہ پاس آکر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھیں گلشن کے دوبٹے سے صاف کرنے لگ گیا۔
’’ گلشن ایک کام ہے کروگی میرا؟‘‘ اجالا نے کہا۔
’’بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے ،تم کام بتاو‘‘
’’آج تم جانا وہاں بڑی ماں سے ملنے کے بہانے سے …‘‘
’’ہوں! اچھا!‘‘ گلشن نے سر ہلایا اور عقیل اپنے ہاتھوں سے اپنی ناک صاف کرنے لگا۔
’’اور جب نواز پاس ہو تو بڑی ماں یا نمرہ آپا سے یہ بات کرنا کہ آنند قید سے نکلنے والا ہے ‘‘
’’وہ قید سے نکلنے والا ہے ؟‘‘ گلشن حیران ہوئی۔
’’نہیں،نہیں…کاش…یہ بات کرنا تم ٹھیک ہے ۔نوا ز کے کانوں میں بات پڑے گی تووہ اس کو دوسری جیل بھیجیں گے …بڑی جیل…‘‘ گلشن سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیوںایسا کرنا چاہیے۔
’’میرا دل کہتا ہے کسی نہ کسی طرح وہ راستے میں ہی خود کو چھڑا لے گا!دل کہتا ہے میرا‘‘
٭٭٭
باہرپولیس والوں کا طنطنہ بلند تھا ۔ایسا لگتا تھا جیسے کوئی میلا لگا ہوا ہے ۔پیاس سے گلا کانٹا بن رہا تھا ۔دس منٹ پہلے ہی وہ طنازی ادائوں والا پولیس گارڈ اسے پانی کے چند گھونٹ دے کر گیا تھا ۔لیکن ان سے پیاس نہ بجھنی تھی نا بجھی۔جسے پانی کا نام دیا گیا تھا پینے میں بھی وہ معائع پانی نہیںمعلوم ہوتا تھا ۔زبان سے ملتے ہی اس کو یہ پختہ احساس ہوا کہ اس میں کچھ نہ کچھ ملا کر دیا گیا ہے ۔ وہ کھانے پر بھی کچھ چھڑک کر دیتے تھے ۔کھانا تھا ہی کیا ، بس روٹی کے چند ٹکڑے اور گول گول سی کوئی چیزیں جنہیں کھا کر اس کو فورا َالٹی آجاتی تھی۔وہ تو اس دوسرے دن ہی کھانے بند کردیئے تھے ۔ ڈبا نما بیت الخلا کونے میںموجود رہتا ۔
باہر ہنسنے والے دو لوگوں کی باتیں اس کے کانوں میںایک بار پڑیں کہ گدھوں اوربکروں کی آنکھیں اسے کھانے کو دی جاتی ہیں۔ انہیں وہ اس اوپر والی اس چھوٹی سی کھڑکی سے باہر پھینکنے کی کوشش کرتا جس کا حجم تین کتابوں سے بڑا نہ ہوگا ۔کھڑی کی سلاخوں پر جالے جم چکے تھے ۔کھڑی بہت اوپر تھی اس کی پہنچ سے بہت دور۔روٹی کے میلے کڑوے ٹکڑے نگلنے کے بعد وہ ان گول گول چپچپی سی چیزوں کو ان سلاخوں کے باہر بھیجنے کی کوشش کرتا ۔زیادہ تر وہ دیواروں سے ٹکرا کر واپس نیچے آجاتے ۔
رات کوچند لوگ جب اسے پیٹ پیٹ کے جاتے تو درد سے فرش پر پڑے پڑے کانپتے ہوئے اسے باہر سے قہقہوں اور دور بھونکے والے کتوں کی آوازیں سنائی دیتیں ۔پسلیوں ، دل اور آنتوں میںایسا محسوس ہوتا جیسے کَس کے گرہیں باندھ دی گئی ہوں۔تمام رات اسے نیند نہ آتے اور دن میں جاگتے ہوئے اس کا دماغ سنہرے خیالوں کاطواف کرتا ۔
ایسے خیال آتے رہتے اور پھر اس کو ایک دم سے ہوش آجاتا اور کچھ سوچ کر اس کا دل گھبرانے لگتا۔ پر وہ منہ ایک آواز نہ نکالتا اور لوہے کے اس بند دروازے کودیکھ کر نظریں جھا لیتا۔دسمبر تھا اور شام تک کمزورسی دھوپ رہتی تھی جس میں وہ سردی کو برداشت کرلیتا۔لیکن جب شام ہوتی تو سردی بھی طول پکڑتی جس سے اس کے ننگے سینے کو ڈھانپنے والی پتلی چادر ناکارہ سی لگتی۔
اس کی حالت طور بے طور ہو رہی تھی لیکن داروغہ کی اسے بیڑیاں نہ لگانے کا حکم اسے جہنم کے مزید گہرے درجے سے بچا رہا تھا۔دن بھر اجالا کے خیال آتے رہتے …اور پھر…
’’ماں کی بددعا لوگے …مرنے کے لیے کوئی چوکھٹ بھی نصیب نہیں ہوگی ! ‘‘ ماں کا یہ جملہ اس کے خیالوں پرطوفانی تھپڑکی طرح پڑتا۔وجئے کے خیال کم آتے ۔روہت کی موت کے آتے اوردل رونے لگتااور یہ خیال بھی آتا کہ کاش وہ روہت سے یہ تو پوچھ لیتا کہ ڈاکٹر راجندر مرنے سے پہلے اسے کیا بات بتانا چاہتے تھے …
لیکن اب جاننے کا کوئی راستہ نہیں تھا…یا کم از کم نظر نہیں آرہا تھا…
٭٭٭
بڑی ماں کے سامنے بیٹھے وہ سگار پی رہے تھے ۔کیسی شان سے بیٹھے تھے جیسے کوئی بادشاہ اپنے تخت پہ بیٹھتا ہے ، لیکن وہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور ان انگاروں کی طرح سرخ آنکھیں بہت ہی ڈراونی لگ رہی ہیںجنہیں دیکھنے پر بھوت پریت کاخیال ایک دم دماغ میں آجاتا ہے ۔
وہ جب کھانستے ہیں تو کھانسی میں بلغم کا شرارہ پھوٹتا ہے ، دوا انہوں نے کچھ دیر پہلے ہی لی ہے ، اور اب بڑی ماںیعنی اپنی بہن سے باتیں کرتے ہوئے سگار پی رہے ہیں۔اس سگار پر، جو وہ پی رہے ہیں ، جس پرسرخ رنگ کی دھاریاں سی بنی ہوئی ہیں جیسی کوئی ندیاں ہوں جو سخت بنجر زمینوں کو کاٹتی ہوئی آگے بڑھتی جارہی ہوں۔’’Davidoff Cigars 707 Royal Series‘‘ان سرخ ندی جیسی لکیروں والے سیاہ سگارپر گلولڈن حرف میں یہ چھوٹا چھوٹا سا لکھا ہے ۔وہ سیاہ لباس پہنے ہیں اور ان کے وہ بال ، مونچھیں جو پہلے سفید تھیں اب رنگنے کی وجہ سے سیا ہ ہوچکی ہیں۔اسی وجہ سے وہ کوئی پچاس برس کے مرد ہورہے ہیں۔
نواز تھوڑی دیر پہلے ہی پاس بیٹھ بیٹھ کر گیا تھا۔پلنگ پر اس کے بیٹھنے کے نقوش ابھی تک ثبت تھے۔ ڈھیلی ڈھالی سبز چادر پر شکنیں پڑی ہوئی تھیں۔
’’تو ہاجرہ آپا آپ بھی اس رشتے سے خوش ہیں‘‘ سگار ایشٹرے میں رکھتے ہوئے بولے۔
’’ہاں میں توہوں لیکن ایک بار لڑکی سے بھی…‘‘
انہوں نے بات کاٹی ؛’’ارے لڑکی کا کیا؟…وہ کیوں انکار کرے گی،غریب خاندان کی لڑکی ہے ، پیچھے کوئی نہیں بچا اس کا ،کہاں ٹھوکریں کھاتی پھرے گی‘‘
’’یہ بات آپ نے بالکل ٹھیک کہی، کافی پیاری بچی ہے‘‘
’’ہوں!‘‘ انہوں نے یہ کہہ کر دوبارہ سگار اٹھا لیا اور پینے لگے۔
’’اس کا کیا ہوا؟(آنند)‘‘
’’ہوناکیا ہے میں مارنے والا تھا سالے کو ،یہ نواز بیچ میں آگیا ، کہنے لگا کہ جان سے نہ ماریں ، اس نے بہت بڑا جرم کیا ہے اس طرح آسانی سے رہائی نہ دیںاس کو ، اس کو آپ سسکا سسکا کرماریں، ایک ہی بار پہ مارنے سے اچھا ہے …ھے ھے ھے ھے!‘‘
بڑی ماں ہنسنے لگیں؛’’کھی کھی !… ‘‘
’’میجر صاحب آئے ہیں آپ نے بلایا تھا جنہیں ‘‘ نواز نے اندر جھانک کرکہا ۔ وہ اس کے ساتھ اٹھ کر چلے گئے ۔ باہرپولیس کی تھوڑی بہت نفری موجود تھی۔ جب وہ لوٹا تو بڑی ماں کے ساتھ گلشن بیٹھی تھی ۔وہ تھوڑا سا ٹھٹھکااور دراز سے کمال الدین کی ٹیبلٹس ڈھونڈنے لگا۔
گلشن دھیرے سے بولی ؛’’بڑی ماں، معلوم ہے وہ آنند بھاگنے والا ہے ،جیل کے کچھ لو گ ہی مدد کریں گے اس کی ‘‘ نواز کے کان کھڑے ہوگئے۔وہ دراز کھنگالتارہا۔
’’اے ہے ! یہ کیسے ؟ تمہیں کس نے بتایا‘‘
’’بس بڑی ماں مجھ سے نہ پوچھیئے کہ کیسے پتہ ہے مجھے ، جس جیل میں وہ ہے وہ تو چھوٹی سی ہے بہت ‘‘
’’لیکن تمہیں بتایا …‘‘
نواز نے مسکرا کربڑی ماں کی بات کاٹی؛’’نہیں نکلے گا نہیں نکلے گا، گلشن پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں‘‘
اس نے دوا ڈھونڈ لی ۔جاتے ہوئے وہ دروازے کے پاس رک گیا اور مڑ کر گلشن کو دیکھا ۔
کہنے لگا؛’’ویسے بڑی جیل میں گلنے سڑنے کے لیے بھیجنے میں بھی کوئی برائی نہیں! یاد رکھو گلشن ! آزادی کا آنند(سکون) ، اس کمینے آنند کی قسمت میں نہیں!‘‘ وہ یہ کہہ کر جلدی سے چلا گیا۔
٭٭٭
کونے میں اپنی رضائی میں دبکا بیٹھا وہ اپنا سکول کا سبق یاد کررہا تھا ۔موم بتی جل رہی تھی جو کھڑکی سے آنے والی ہوا کی لہروں سے لڑکھڑاتی اور سنبھل جاتی۔ماموں جان تھوڑی دیر ہوئی آئے تھے اور عقیل پر اپنا رعب داب جھاڑ کر چلے گئے۔اجالا کو وہ قطعی اچھے نہ لگے ۔
ایسے ہی خواہ مخواہ میںاکبر بادشاہ بننے کی کوششیں کر رہے تھے ۔جیسے وہ ٹھاٹ سے تخت پر بیٹھتے تھے اسی طرح ماموں جان نیچے دری پر شان و شوکت سے اٹھتے بیٹھتے رہے۔ اوپر سے ان کی صحت… توبہ ! سر پر سفید رنگ کی نمازی ٹوپی ، کینگرو کی طرح آگے کو جھکے ہوئے کندھے ، اور چھوٹا سا قد ۔ بالکل مرغی کا چوزا لگتے تھے۔
اجالا سے تو انہوں نے کئی بار صرف اس کا نام پوچھا کیونکہ انہیں بھولنے کی عادت تھی۔ اجالا کا انہوں نے پورا انٹرویو کیا ۔اس کے بعداپنے کاروبار کے مرثیے پڑھنے شروع کر دیئے ۔ اجالا کوسننا پڑا کہ کیسے پورے شہر میں ان کی دکان کے کددئوں اور بھنڈیوںکی مانگ دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔
پھر وہ سیاست پرچھڑ گئے اور ایسے چھڑے کہ اجالاسے Communism پربحث کروا کے چھوڑی۔اعلیٰ درجے کے اڑیل انسان تھے ۔آخر تک اڑے رہے یہ کبھی نہ مانا کہ کمیونزم چارلس ڈارون نے ایجاد نہیں کی ۔
اجالا کو تھکا ہرا کر آخر وہ چلے ہی گئے لیکن عقیل کو یہ دھمکی دے کر گئے کہ اگر نو بجے سے پہلے تک اگر سبق نہ یاد کر لیا تو ، تو،تو کیا ہوگا یہ بتانا انہوں نے گنوار ا ہی نہ سمجھا۔
’’آپا…‘‘ عقیل بولا اور اجالا چونک پڑی ۔اس کا دھیان حال میں لوٹ آیا۔
’’جی میری جا ن ، بولو،کیا بات ہے ؟‘‘ وہ پیار سے بولی۔
’’آنند…میرا مطلب ہے دانیال بھائی ، وہ مریں گے تو نہیں نا؟‘‘
کچھ دیر ہوا کھڑکیوں سے آتی رہی اور کچھ دیر موم بتی کا شعلہ پھڑ پھڑاتا رہا ۔
’’نہیں، بچ جائیں گے …‘‘ اس کی آوازمیں روہانسا پن شامل ہوگیا۔
تیز ہوا کا ایک جھونکا آیا اور جیسے موم بتی کے شعلے پر رعشہ سا طاری ہوگیا ہو ۔روشنی لڑکھڑاتی رہی اور پھر اگلے ہی لمحے اندھیرا چھا گیا۔
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: