Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 6

0
آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 6

–**–**–

{چھٹا باب}
…کیسی بہاریں؟…

وہ اندر آئے اور گھسیٹتے ہوئے اسے باہر لے گئے۔گاڑی میں دھکے دے کر ڈالا اور گاڑی چل دی۔ آنکھوں پر پٹی کَس کر بندھی تھی۔گاڑی اوبڑ کھابڑ راستوں سے گزرہی ہوگی ، بہت جھٹکے لگ رہے تھے ۔پھر اچانک کچھ چیزیں ٹکرانے کی آواز آئیں جیسے گدی پہ کوئی ڈنڈے مار رہا ہو اور جیسے دو انسان آپس میں لڑ رہے ہوں۔کسی نے آنکھوں پر بندھی پٹی پھاڑ ڈالی۔تیز روشنی،آنکھیں چندھیا گئیں۔دیکھا تو ایک پولیس والا گھبرا یا کھڑا ہانپ رہا تھا۔
جلدی سے بولا ؛’’آپ جلدی بھاگو جلدی پیچھے سے اور گاڑیاں بھی آرہی ہیں‘‘ دو پولیس والے پیچھے بے ہوش پڑے تھے۔
’’لیکن آپ ہیںکون؟‘‘ اس نے پوچھا ۔
’’میں اس بچی کا باپ ہوں ، جسے گولی لگی تھی ،وہ زندہ ہے ،سلامت ہے ، اب آپ جلدی کریں وہ آنے والے ہوں گے !‘‘ وہ پستول اٹھا کرجلدی سے باہر نکلا ۔پاس ہی بہت سے پیپل کے پیڑ تھے ، وہ ان کی طرف بھاگ پڑا۔پیچھے سے مدھم مدھم گاڑیوں کا شور سنائی دیا ۔ کچھ چیخ و پکار پھر ایک تڑاکے دار گولی کی آواز گونجی۔وہ دوڑتا رہا ۔ایسا محسوس ہوا جیسے پولیس پیچھے آرہی ہے ، شور شرابا!
کمزور جسم کو کھینچنا مشکل لگ رہا تھا لیکن وہ پورا زور لگائے دوڑتا رہا۔
٭٭٭
اس گول گھڑی سے منعکس ہونے والی روشنی جہاں پڑتی ہے وہاں دو بند الماریاںہیں۔ان الماریوں کے نیچے ہی وہ گدلااور ملول ساصندوقچہ ہے جس پر بہت ہی منفرد انداز کی دلکش عربی تحریریں لکھی ہوئی ہیں ۔ اور یہ تحریر ہاتھوں سے خطاطی کی گئی تھیں ۔یوں لگتا تھا جیسے کسی نے اپنی زندگی کے دو تین سو گھنٹے اس چھوٹے صندوقچے کو بنانے میں صرف کیے تھے۔یہ صندوقچہ ایساہے جو نفرت کے احساسات کو منعدم کرکے ان کے جگہ محبت اورپزیرائی کے بیج بو دیتا ہے ۔کتنا کمال لگتا ہے ۔
تحریر مختلف رنگوں سے لکھی گئی ہیں۔ نیلا ، ہرا ،سفید ، اور مالٹائی۔اب تو یہ صندوقچہ جالوں کی زینت بن چکا ہے۔ پر بڑی ماں کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب یہ شاخ در شاخ تتر بتر نہ ہوا تھااور عیاں کرنا بہت مشکل کام تھا تب اس میں بہت خوفیا چیزیں چھپائی جاتی تھیں۔ یہ چھوٹا صندوقچہ بلا کا مضبوط تھا ۔اس کو چت کرنے کے منصوبے جو وہ بچپن میں بنا کرتی تھی سب غارت جاتے تھے ۔مجال تھی جو کبھی اس پر آنچ بھی پڑ جاتی ، اینٹوں کے وار، اٹھانا پٹخنا ، دیواروں پہ مارنا ، پتھروں میں کچلنا …سب بیکار جاتا۔ تب یہ صرف ضروری کاغذ محفوظ کرنے کا ذمہ دار تھا مگر آج اس کی حالت بھی بدل گئی ہے اور ذمہ داری بھی۔ آج اس کا کام صرف بڑی ماں کے طلاق کے کاغذات اور ان کے پرانے خطوط کو سنبھالنا تھا جو ان کے شوہر نے لکھے تھے جو ان کے محبوب نے لکھی تھے اور یہ سارے خط شادی سے پہلے کے تھے ۔
بچھڑنے سے پہلے دونوں جتنا عرصہ ساتھ رہے خوش رہے ۔پھر ان کے شوہرکو کوئی دوسری عورت پسند آگئی اورایک رات غصے میں انہوں نے اپنی بیوی کو اپنی بیوی نہ رہنے دیا اور سب ذمہ داریوں سے آزاد ہوگئے ۔ جب کمال الدین کو خبر ہوئی تو انہوں نے سابقہ شوہر کو دنیا کے جھنجھٹ سے ہی آزاد کردیا!
’’کا ہے اس میں بڑی مالکن؟‘‘ ککو کی ماں نے کندھے دابتے ہوئے پوچھا۔
بڑی ماں چونکیںپھر بپھر کر بولیں؛’’ تمہیں کیا،سہی سے کندھے دابو!‘‘
’’نائیں! نائیں! کوئی بات جرورہے ‘‘ ان کالے ننھے ہاتھوں نے کندھے دابنے تیز کر دئیے۔ بڑی ماں کچھ نہ بولیں۔ایک دم چپ۔
’’میں بتاوں کاہے !‘‘ اچانک وہ آگے جھک آئی۔
’’آئے ہائے ، پیچھے مر! اچھا بتا کیا ہے اس میں‘‘ بڑی ماں اس کو پیچھے دھکیل کر بولیں۔
’’آپ کے میاں کی کوئی یادیں ہوں گیں…ہی ہی، خی غی …غی خی!‘‘
’’چپ !ایک دم چپ! اب کچھ نہیں بولو گی تم‘‘ بڑی ماں اسے ڈانٹ کر اپنے خیالوں میں کھوگئیں جب وہ محبت کیا کرتیں تھیں، جب ان کو بھی محبت ہوئی تھی۔
انہوں نے خاصے فالتوانداز میں پوچھا ؛’’وہ تمہارا میاں ،کیا نام تھا اس کا ؟کچھ یا د نہیں!‘‘
’’ککو کے ابا!‘‘ وہ پیچھے سے چلائی۔
’’یہی نام ہے !؟‘‘
’’نہیں…‘‘ اس نے معصومیت سے جوا ب دیااور کندھے دابنے بند کردئیے۔
’’جہاں تک اپنے کو یا د پڑتا ہے ، دھنوا نام ہے اس کا ‘‘وہ بول کر کمر بازو دابنے لگی۔
’’آج کل کیا کرتا ہے؟‘‘ سوال ہوا۔
’’وہی سگریٹوں بیڑیوں والا بیوپار ، پر مالکن مجھے ایک پھوٹی کوڑی نہیں دیتا ‘‘
’’گھرتو آتا ہے نا‘‘
’’نائیں!‘‘ اس نے زورزور سے سر ہلایا۔کافی دیر خاموشی رہی۔
پھر وہ خودہی ہونٹ لٹکاکر کہنے لگی؛’’گھر کاہے کو آئے گا کیسی میم صاحب کے چکر میں جو پھنس گیا ہے دھنوا‘‘بڑی ماں نے مڑ کر اس کالی کلوٹی بھدی عور ت کو دیکھا اور تخیل میں اس کا موازنہ اس میم صاحب سے کرنے لگیں۔
’’وظیفہ بھانتی ہوں دیکھنا ایک دن جرور اپنے دن پھریں گے‘‘
٭٭٭
اس کے سامنے وہ سگار پینے والے صاحب بیٹھے تھے جن سے اس کی پہلی ملاقات وہی تھی ۔نواز دروازے سے لگا کھڑا سگریٹ پی رہا تھا ۔سامنے میز پر پڑے چند کاغذ ہوا کی مدد سے اس بھاری بھرکم کتاب کے نیچے سے نکلنا چاہتے تھے ۔اس نے چائے کی ایک چسکی بھری ۔
کمال الدین آگے جھکے او ر بولے؛’’ٹھیک ہے بھئی ، اگر اسی میں تمہاری خوشی ہے وجئے تو میںانکار نہیں کرتا، مگر تم اس کو اپنے دھرم کا بناو گے یا تم …‘‘
’’اس کو اپنے دھرم کا بنائے گا، Come On ‘‘ نوازنے آگے بڑھ کر وکالت کی۔
’’ٹھیک ہے پھر فیصلہ ہو چکا ہے تمہارے نکاح کے دن ،ان کے بھی ساتھ پھیرے ہوں گے … گلشن کے ساتھ…او ہو!مادھوری کے ساتھ ! ھے ھے ھے !‘‘ وہ سارے قہقہے مارنے لگے۔کافی دیر بعد وہ نکل آئے باہر ۔وجئے سگریٹ پیتا رہا اور نواز ٹیلیفون پربات چیت کرتا رہا۔باتوں کے دوران وہ وقفے وقفے سے اپنے چہرے ہاتھ پھیرکرتا جیسے پریشان ہورہا ہو۔اس کو ہر صورت ڈھونڈو !۔ صرف یہ چار پانچ دفعہ چلا چلا کر کہا۔وجئے نے اس سے پریشانی کی وجہ پوچھی۔
’’ارے یار وہ کمبخت ! بھاگ گیا چھوٹ کے‘‘ سگریٹ وجئے کی انگلی جلاتے ہوئے نیچے گرگئی۔
’’آنند! ضرور کسی نے مدد کی ہوگی ورنہ…‘‘
’’جس نے مدد کی تھی اس کو قتل کروادیا میں نے سالہ!غدار!‘‘ آوا ز میں بڑی گرج تھی او ر دائیاں ہاتھ مضبوطی سے ٹیلیفون کے گرد لپٹا ہوا تھا۔ جیسے کوئی اژداہا اپنے شکار ہرن کے گرن لپٹتا ہوا اور اپنی پکڑ مضبوط سے مضبوط کرتا جاتا ہے ، یہاں تک کہ ہرن بیچارے کی ہڈیوں کے چٹخنے کی آواز آنے لگتیں ہیں۔
وہ نئی سگریٹ سلگانے لگا۔
٭٭٭
کتنے دن ہوئے وہ ٹھیک سے نہ کھا پارہی تھی پر جیسے ہی اس کے کانوں میں ایسی خبر پڑی تو رہی سہی بھوگ اور نیند بھی ہاتھوں میں سے پانی کی طرح بہہ گئی اور پیچھے کوئی نام و نشان ہی نہ چھوڑا۔ویسے تو اسے معلوم تھا کہ ماموں جان یہ رشتہ کبھی نہیں مانیں گے لیکن یہ خوف کھائے جاتا کہ کہیں کمال الدین سے ٹکر لینے کے خوف سے ماموں جان اس کی جان سے ہاتھ نہ کھڑے کردیں اور وہ درندا اس پر ہاتھ صاف کرتا پھرے ، خبر کے بعدسے ہی سے اس کو اپنی ماںکی یاد ستاستا کر ہلکان کر رہی تھی ۔ماموں جان سے چمٹ کر وہ گھنٹوں روئی ، ان کی شکل تک تک کر اپنی ماں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی ۔ کبھی آبرو، ناک ، آنکھیں ، ہونٹ اور گال تبدیل ہو کر کسی جن کی شکل لے لیتے اور کبھی اس کو وہ وجئے کی مورتی میں ڈھلتے ہوئے نظر آتے …
اللہ!کیسے ڈرپوک ہیں ماموں، ڈر ڈر کہ آدھا خون انڈے کی زردی کی طرح سفید ہوچکا ہے اور یہ حامی بھرنے کو تیار نہیں کہ بھانجی کو ہر صورت بچائیں گے ۔ یہ خیال بھی آجاتا کہ کراچی میں جو ان کی خالہ رہتی ہیں ، بڑی ہی نیک اللہ والی ہیں ، کیوں نہ انہی کہ پاس بھیج دیا جائے گلشن کو اور ساتھ اجالا بھی ہولے گی۔ دونوں بلائیں ایک ساتھ ماموں جان کے سر سے ٹلیں گی لیکن وہ اس خیال سے تھر تھر کانپ جاتے کہ اگر کمال الدین کو کہیں سے خبر ہو گئی …وہ تو ہو ہی جانی تھی ، اور ان سے بچ کر وہ کہاں جاتے ،آخر پورا ملک جیسے ان کی ہتھیلی میں ہے ۔کسی کو بچانے میں وہ خود اتنی بری طرح پھنس گئی ۔کیا ہی ہوجاتا کہ اگر وہ وجئے کو منہ ہی نہ لگاتی ۔ گلشن کو پورا پورا احساس تھا کہ شادی کا مقصد فقط اجالا تک کی رسائی تھی۔وہ نواز کا دوست… اور وہ گلشن کی سہیلی ۔ آگے کہیں نہ کہیں تو وہ آستین کا سانپ ڈسے گا تینوں کے تینوں کو اور بیچ میں کمال الدین اور نمرہ کو بھی وہ اجگر بن کر نگل جائے گا ۔بس رہ جائیں گی تو بڑی ماں…اور ان کی کھٹ کھٹ تسبی!
باہر درختوں کے پتے ایک دوسرے سے کندھے بھڑانے لگے ، کسی کے دوڑنے کی آواز آئی ، بھر تین کتوں کے ایک ساتھ بھونکنے کی جن کو اگلی ہی گھڑی چپ لگ گئی۔شام کے بچھتے اندھیروں میں کہیں دور کوئی بھاگا قیدی بھی بھاگ رہا ہوگا نہ صرف اپنے لیے بلکہ ایک اور جان کے لیے ۔
٭٭٭
پیاس سے گلا خشک تھا ۔ راستے میں اس کو ایک گہر لیکن ا خشک کنوں نظر آیا تھا۔ٹانگیںشل ہوچکی تھیں بلکہ اب توکانپنے لگیں تھیں جیسے ابھی وہ نیچے اس بھر بھری مٹی پر گر جائے اور کم ازکم تین گھنٹوں تک تو کوئی اس کی لاش کو نہیں اٹھائے ۔دل کی گھبراہٹ اور بھی زیادہ تھی۔جسم بیچ میں آدھا کٹتا ہوا محسوس ہوتا۔
اس نے مڑکر پیچھے دیکھا ۔ و ہی ویرانی جو صحرائوں میں ہوا کرتی ہے ۔وہی ویرانی۔تین چار ٹرک گزرے سامان سے لدے ہوئے لیکن دور سے انہیں دیکھتے ہی وہ ایک طرف بھاگ کر چھپ جاتا اس خوف سے کہ کہیں پولیس نہ ہو ۔ایک گاڑی آئی اوراس کے پاس زور سے بریک لگا دی ۔ گاڑی دھیرے دھیرے جھٹکے کھاتی ہوئی پہنچ گئی لاہور۔
اس نے نگاہ اٹھا کر سرمئی آسمان کوایک گھڑی دیکھا ۔ چیلیں اور کووے منڈلا رہے تھے جیسے ان کو معلوم ہو گیا تھا کہ شکار مرنے والا ہے اور پھر اس کا لذیزگوشت ان کے کھانے کے لیے تیار ہوگا۔ایک تانگے والا لپکا۔ دانیال نے لوٹا دیا۔ دوتین ٹیکسی والے بھی اس کو دیکھ کر بڑھے مگر وہ سب کو ٹالتا گیا۔لگ رہا تھا جیسے وہ لاہور میں اکیلا ہے ۔لوگوں کا ہجوم تھا مگر سوُنا سونا لگتا تھا ۔
٭٭٭
اندھیرے میں بیٹھے بیٹھے جی گھبرانے لگا اس لیے وہ اٹھ کر ماموں جان کے پاس چلا گیا ۔ وہ میز کے سامنے کرسی پر التی پالتی مارے بیٹھے آنکھیں سکیڑ کر اخبار پڑھ رہے تھے ۔سفید کپڑے ۔ اخبار کی پشت پر بنے گاندھی جی کی طرح ۔ وہ دروازے آڑ سے ادھر ادھر جھانکتا رہا پھر نیچے سامنے ہی سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ گیا ۔ ابھی پوچھیں گے کیا ہوا اور پھر میںان کو سچ سچ بتا دوں گا کہ بات ہے کہہ دوں گا کہ نانا جان کی پرانی بندوق میں کارتوس ڈال کررکھ لیں ، استعمال کرنے کی ضرورت پیش تو کرلیں استعمال بھی ۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے ناخن چباتے ہوئے سوچنے لگا ۔ ماموں جان نے ایک نظر خفگی سے دیکھا پھر اخبارمیں اپنا منہ چھپا لیا۔ عقیل کو ان کی بس سفید ٹوپی ہی ا س قومی اخبار کے اوپر نظر آرہی تھی ۔ وہ کھانسا۔
ماموں صاحب نظر انداز کرگئے۔
کھاوں کھاوں !… پھر نظر انداز…
ٹخوں ٹخوں ، آآآآ چھیں! ٹخوں ٹخوں!!…
’’ابے کیا ہوگیا!‘‘ماموں جان اخبار کی دوسری طرف سے دھاڑے۔
عقیل ڈر کے اپنا سر کھجلانے لگا ۔ پہلے کتنا آسان لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی حکمران ہو اورماموں جان کو حکم دے گا اور وہ چپ چاپ نظریں جھکائے اس کا حکم کوپورا کردیں گے ۔
’’وہ…نانا جان کی بندوق جو تھی، اس کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوئی تو…میں نکال دوں؟‘‘ ان کی چیتے جیسی نظروں سے بچنے کے لیے اس نے کھانسی کا دورہ اپنے سرکر لیا۔پھر اچانک اس کو جیسے جوش کا غلبہ سوار ہوگیا ۔آنکھیں جل کر انگارہ ہوگئیں۔ بہن کی محبت خوف پر حاوی ہوگئی ۔ وہ اٹھا ، بھنا کہ اور ماموں جان کی اخبارجھپٹ کر شیشے کی میز پر دے ماری ۔ ماموں خونی نظروں سے اسے کانپتاہوا دیکھنے لگے۔
’’ابے چوزے…‘‘ آنکھیں مزید سکیڑ کر انہوں نے اس کے جسم کی طرف اپنا ہاتھ اٹھا کر کہا۔ عقیل ان سے دور پھسلنے لگا لیکن انہوں نے اپنے سفید بغلے جیسے لمبے لمبے بازو بڑھاکر اس کو قریب کھینچا اور ایک چپت اس کے گرم گرم گدگدے گالوں پر ماری ۔عقیل کو لگا گال پھڑ پھڑا رہے ہیں۔
اس کا گلا اور آنکھیںبھر گئیں ،بولا؛’’آپ کیسے کرسکتے ہیں ؟ کیوں ! بچا لیں انہیں‘‘
’’بچایا ان سے جاتا ہے جن سے بچا جاسکتا ہو!…ابے چوزے! آج شام نکاح ہے آج شام ! باہر پولیس والے مجھے بھی کہیں نہیں جانے دیتے! تمہیںساتھ بھگا کے لے جانے کو تو میں کوشش کروں، کہنا آسان لگتاہے لیکن کوئی ایسی جگہ ہی نہیں جہاں چھپا جاسکتا ہو!‘‘
’’کیا کوئی نہیں بچا سکتا‘‘ وہ ان کے گھٹنوں پکڑ کر بیٹھ گیا۔
’’نہیں!‘‘ جھک کر نرمی سے بولے۔
’’ کیا خدا بھی نہیں بچا سکتا ؟‘‘
’’خدا بندوں کو بندوں کے زریعے ہی بچاتا ہے !…ہم پر کوئی کرامت ہوگی مجھے نہیں لگتا‘‘انہوں نے دھیرے سے اخبار اٹھا لی اور اپنے چہرے کے آگے کر کے آنکھوں میں آنے والے موٹے موٹے آنسو چھپانے لگے۔ وہ کافی دیر ان کے گھٹنے پر سررکھے بیٹھا رہا اور ان کاگھٹنا گرم اور گیلا ہوتا گیا۔
’’ٹھیک ہے آپ کچھ نہیں کریں گے لیکن میں ضرو ر کروں گا ،ان وحشیوں کو مار نہ سکا خود کو ضرور مار ڈالوں گا!‘‘ وہ گیلے گال پونچھتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔ ایک سنسنی سی ان کے جسم میں دوڑ گئی۔اخبار فرش پر پھینک کر انہوں نے اس کو بازئوں سے پکڑا اور اس کو گھورنے لگے۔ وہ بے اختیار سسکیاں لیتے ہوئے رو رہا تھا ، ماموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا تھا لیکن ان خوف زدہ آنکھوں سے قطرے نکل نکل کر گالوں پر تیرتے جارہے تھے ۔ا س کے بازوں کے گرد گرفت مضبوط ہوئی …پھر مزید مضبوط …اس کے منہ سے دبی دبی چیخ نکلی اور رخسار پر بہتی ندی کی رفتار تیز ہوگئی۔
’ ’ نمرود آگ میں پھینکے تو خدا بچا سکتا ہے ! خود کو آگ میں پھینکوں گے تو نمردہ کیا خدا بھی نہیں بچا سکتا!‘‘
سسکیاں رک گئیں یک دم اور بانہوں کے گرد بندھے ہاتھ کی گرہ بھی کھل گئی۔ انہوں نے عقیل کو ایک جھٹکے کے ساتھ چھوڑا اور جھک کر فرش سے اخبار اٹھا کر چلے گئے۔وہ نیچے کافی دیراپنی ٹانگیں بازئوں میں پکڑے بیٹھارہا۔
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: