Mirza Meer Hakim Urdu Novels

Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Episode 7

Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim
Written by Peerzada M Mohin

آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 7

آخری بہار از مرزا میر حاکم – قسط نمبر 7

–**–**–

{ساتواں باب}
…بچھڑتی سانسیں…

چھوٹی سی شیشی جس میں نیلے رنگ کا مادہ ہلتا جلتا رہتاہے ، بلبلے مسلسل بنتے رہتے ہیں اور مرتے رہتے ہیں۔شیشی آدھی انگلی سے قدرے بڑی تھی۔ سرخ ڈھکن کارخ کبھی وہ آسما ن کی طرف کرتی اور شیشی کے تہہ میں دو چار بلبلے سے بن جاتے اور جب سرخ ڈھکن کا رخ زمین کے سینے کی طرف ہوتا تب ڈھکن سے بلبلے خود کو جوڑتے اور فنا ہوجاتے ۔نیلا مائع بالکل آسما ن کے نیلے رنگ کی طرح لیکن ایسا تھا جس میں کسی حد تک سیاہی ملائی گئی تھی ۔ گاڑھے نیلے سے کچھ کم اور ہلکے نیلے سے کچھ زیادہ۔
زہر کی شیشی!… Havoc Amatoxin … اس نے شیشی کو اپنی آنکھوں کے قریب کرکے دیکھا۔کسی کے قدموں کی چاپ!۔نیلی شیشی کو آستین میں چھپنا پڑا۔
نمرہ اندر آئی بجھے ہوئے کلیجی کپڑوں میں۔اجالا نے ہاتھوں کی طرف دیکھا معمول کے خلاف چند چوڑیاں ، چھنن چھنن ، کر رہی تھیں۔
’’نکاح کہ وقت پہنو گی کیا؟‘‘ اجالا نے جواب نہ دیا اورخالی خالی نظروں سے انہیں دیکھتی رہی جیسے کہہ رہی ہو کہ کون پوچھتاہے کہ مرنے کے لیے کیا پہنو گی۔کون سے جوڑے میں مرتے ہوئے اچھی لگو گی۔
اس نے منہ پھیرا اورکھڑکی سے باہر دیکھنے لگی اور اس کا سر جو وہ گھٹنوں میں دئیے بیٹھی مزید ایک طرف ڈھل گیا اور بالوں نے بھی سر کی نقل اتاری۔
’’میں لائی ہوں ،وہ پہننا تم‘‘ ایک ماں اپنے بیٹے کی شادے کی بچے کھچے ارمان سمیٹنے کی کوشش میں کہتی ہوئی چلی گئی ۔دروازہ بند ہوا اور Havoc Amatoxcin کو وہ ایک بار پھر الٹا سیدھا کرنے میں لگ گئی ۔ وہ امیدیں ڈھونڈنے لگی ان ٹوٹتے بنتے بلبلوں میں کہیں …کہیںآنند ڈھونڈنے لگی، کہیں سکون ڈھونڈنے لگی۔اور پھر یکا یک باہر سے گاڑیوں کی چیخ و پکار سنائی دینے لگی ۔ مدھم لیکن بہت آوازیں تھیں۔ کوئی لڑکیاں ، کوئی مرد،بڑی ماںاورپھر نواز اور پھر کمال الدین اور پھر ایسا لگا جیسے خاور کہیں کانوں کے اندر گھس کر سرگوشی کر رہاہے ، اس کو کاٹ دوڑنے کی کوشش کر رہا ہے اور خی غی …غی خی والی ہنسی ہنس رہا ہے ۔ اس کا دم گھٹنے لگا ۔
تپتی شیشی کو اپنی مٹھی میں سختی سے بھینچ کر اس نے چپل پہنے اور ہولے ہولے پرانے پردوں کے ساتھ لگ کر کھڑکی سے باہر جھانکے کی کوشش کی جو مکان کے شمال میں کھلتی تھی ۔ مشررق میں گیٹ تھا ۔ ایک لمحہ وہاں ٹھہر کر دیکھے بناہی لوٹ آئی۔ دھڑکنیں پست ہوتی گئیں۔ جب کچھ دیر ویران کمرے میں بھٹکنے سے بات نہ بنی تو وہ پھر کھڑکی کی آڑ سے آنکھ لگا کراپنا جنازہ دیکھنے لگی۔
نظر ایک چہرے سے اچھل کر دوسرے پر جا بیٹھتی ۔ پولیس والے بھی دور کھڑے بغل میں بندوقیں دبائے چند سائیکل سواروں کو روک کر کچھ کہتے ہوئے ہاتھوں سے اشارے کر رہے تھے۔
گلشن کمرے میں آئی اور اس کے ساتھ جا کر کھڑی ہو گئی۔
’’ ہم کراچی جارہے ہیں ، اپنا سامان باندھو‘‘ وہ میز دوسرے پلنگ پر بکھری چیزیں سمیٹنے لگی ۔
’’کراچی؟‘‘
’’میری خالہ کے یہاں رہیں گے ہم، ساری تیاری ہوچکی ہے جلدی کرو‘‘
ٍ’’کیاکروگی کراچی جاکر؟‘‘ دونوں چونک پڑے ۔ دیکھا تودروازے سے نواز ٹیک لگائے کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ کافی تیار تھا وہ ۔نئی سفید شلوار قمیض اور کلائی پر بندھی سیاہ رنگ کی گھڑی ۔ ہاتھوں میں کوئی سفید ڈبیا تھی جس کو وہ ایک لٹو کی طرح گھما رہاتھا۔ وہ دھیرے سے اندر آیا اور پلنگ کی چادر کو ہاتھوں سے جھاڑ کر بیٹھ گیا ۔
’’نوازمیاں آپ نکلیں یہاںسے !‘‘ گلشن نے دروازے کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
’’No Problem Madhuri … میں نکل بھی گیا تو کوئی آنندتم دونوں کو بچانے کے لیے نہیں آنے والا …ہاہا چھے !‘‘ وہ چٹکی بجا کر قہقہہ لگاتے ہوئے چلا گیا ۔
گلشن نے مڑ کر اجالا کو دیکھا ۔ قہقہہ مدھم ہوتا گیا اور لڑکیوں عورتوں کا شوہر بڑھتا چلا گیا ۔
Hovac Amatoxin کی نیلی شیشی ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرگئی اور گلشن نے چونکی اور غور سے شیشی کو دیکھنے لگی۔
’’اونھ…کیوں ، دعائوں پر سے یقین اٹھ گیا؟‘‘ گلشن نے جھک کر شیشی اٹھا تے ہوئے کہا۔
’’دعا ئیں قبول نہ ہوئیں تو اس کے بعد ملنے والے زخموں کی دواہے یہ!‘‘ اجالا کی پلکیں لرزنے لگیں اور مہندی سے خالی ہاتھ آنکھوں میں ابھرتی سمندر کو روکنے لگے۔
’’یقین نہ ہو تو کب قبول ہوتی ہیں یہ دعائیں ‘‘
’’تم بتاو کیا کریں گے اب ! کیا کریں گے ؟!‘‘ وہ پاس کرسی پر بیٹھ گئی او ر کانپتی پلکوں سے نیچے دیکھنے لگی۔
’’اجالا نہیں کتنے بھی ستم ٹوٹ پڑیںہم دونوں پر ، کتے کتنی ہی بوٹیاں اڑا لے جائیں ، اتنا بڑا ستم نہ کرنا اپنے آپ پر…مجھ پر‘‘ اس نے اجالا کے ہاتھ میں شیشی واپس تھما کر مٹھی بند کردی اور جلدی سے منہ پھیر لیا ۔ چند لڑکیاں داخل ہوئیں نمرہ کے پیچھے۔ ان کے پاس جوڑے تھے اور بھی بہت سی چیزیں تھیں۔ پورے کمرے میںالگ الگ خشبوئیں پھیل گئیں۔کپڑوںکی ، لڑکیوں کی ، مہندی کی ۔ایک لڑکی نے دروازہ بند کردیا۔
’’نکاح جلدی ہوگا… تھوڑی دیر باقی ہے ‘‘ نمرہ نے کہا اور مڑ کر ایک لڑکی کو دیکھا جس نے آگے بڑھ کر پلنگ پر تین چارمختلف رنگوں کے جوڑے رکھ دئیے۔
٭٭٭
سورج ڈوب چکا تھا ۔اس نے گلی کے نکڑ پررکتے ہوئے بنگلے کو دیکھا ۔ یہاں سے صرف بالکونی نظر آرہی تھی۔ بیچ میں موٹے موٹے پیڑ راستہ روکے ہوئے تھے ۔’’یہ گرم ہوجائے گی کیونکہ اس سے تھوڑی دیر میں گولیاں نکلیں گی ‘‘ وہ پستول کی ٹھنڈی نالی پر انگلی پھیرتے ہوئے بڑبڑایا۔
اس کے بوٹوں کے پاس ہی وہ جگہ تھی جہاں وہ روہت کا سر اپنی گود میں رکھ کر رویا تھا ۔روہت سے ماتھے سے نکلتا خون اس کے کپڑوں پر لگا تھا ۔وہ داغ کپڑوں پر اب بھی موجود تھے لیکن اندھیرے میں نظر نہیں آتے تھے ۔ پاس ہی وہ کونا تھا جہاں اس بچی کو گولی لگی تھی ۔دیوار پر خون کے چھینٹے اسی طرح موجود تھے۔ یہ تعجب تھا کہ اتنی چھوٹی سی بچی اتنے قریب سے گولی لگنے کے باوجود بھی بچ گئی تھی۔ اس نے آس پاس دیکھا ۔چند شاپر ہوا سے تنگ کر دیوار سے اپنا سر ٹکرا رہے تھے ۔کوئی بھی اینٹ موجود نہ تھی ۔ نہ جانے وہ اینٹ کہاں ہوگی جس نے کسی کا سر توڑا تھا ، اس سے بھیجا نکالا تھا اور اپنی بھوری رنگت کو سرخ سے سرخ تر بنا دیا تھا ۔ نہ جانے وہ اینٹ اب کہاں ہوگی۔ وہ سوچتے سوچتے رک گیا اور بنگلے کی جلتی روشنیوں کو دیکھنے لگا۔
پانچ گولیاں! اس نے دوبارہ دیکھیں اورٹریگر پر انگلی رکھ کر وہ بنگلے کی طرف چلنے لگا ۔چند گاڑیاں باہر کھڑی تھیں ۔دو قہقہوں کی آواز آئی۔دو نوکر کرسیوں پر باہر بیٹھے میٹھائی کھا رہے تھے ۔
وہ دھیرے دھیرے روشنی کی طرف بڑھنے لگا۔انگلی ٹریگر پر جمی ہوئی تھی ۔پھر کچھ سوچ کر اس نے ٹریگر سے انگلی ہٹائی اور پستول کوپتلون میں چھپا کر وہ روشنی میں داخل ہوگیا۔دو نوکر کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں اور وہ چپ ہوکر میٹھائی کھانے لگے۔
’’میں نواز کا دوست ہوں، وہ …‘‘
نوکر نے بات کاٹی ؛’’ارے ساب ، آپ اب آرہے ہو، نکاح تو کب کا ہوگیا!‘‘ دل اور دماغ کوایک جھٹکا سا لگا اورٹانگیں بے اختیار لڑکھڑاگئیں ۔وہ ٹھنڈی زمین پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا ۔
دونوں نوکر میٹھائی چھوڑ کر خاموش اسے تکنے لگے ۔
’’کا ہوا!کا ہوا ساب؟!‘‘ وہ آہستہ آہستہ پیروں پرکھڑا ہوا۔
’’اب کہاں ہیں؟اب…نواز؟‘‘ نوکر ایک دوسرے کامنہ دیکھنے لگے ۔دفعتاَ دور کسی گاڑی کا ہارن بجا ۔ ہیڈ لائٹ کی تیزپیلی روشنی میں اندر بیٹھنے والے نظر نہ آئے۔ دونوں نوکر بھاگتے ہوئے چلے گئے اوروہ تیزی سے اندر داخل ہوگیا۔ پستول پتلون سے نکل کر اس کے ہاتھوں میں پہنچ چکا تھا اور ٹریگر پر انگلی خاصے تنائوں میں رکھی ہوئی تھی ۔
لان خالی پڑا تھا ۔ گھاس پراوپرٹھنڈکی پتلی سفید سی تہہ چڑھی ہوئی تھی۔چند قدموں کے نشان واضع تھے ۔ گیرج میں دو گاڑیاں کھڑی تھیں ۔سامنے ایک کھڑکی سے روشنی باہر آرہی تھی۔وہ لان میں سے گزرتے ہوئے اس کھڑکی کی جانب بڑھنے لگا۔ اندر چندسے لڑکیوں کی آوازیں آرہی تھیں ۔پھر چند قہقہے بالکونی والے حصے سے آئے ۔
وہ جلدی سے پودوں کے ساتھ ہو کر اندھیرے میں شامل ہوگیااور کھڑکی کے اندر دیکھنے کی کوشش کرنے لگا…وجئے!…کمال الدین! اور دو اور آدمی تھے ۔ کمال الدین سگار پی رہے تھے اور سامنے کی میز پر چند بندوقیں پڑی تھیں ان گلاسوں کے پاس جن مین وجئے شراب انڈیل رہا تھا۔
چھ گولیاں! …اس نے دوہرایااور ہولے سے دروازے کو کھولا ۔ دروازہ نے ہلکی سی ’’چراں‘‘ کی آواز نکالی اور پستول پر ہتھیلیوں کی گرفت مضبوط کی جن پر پسینہ آنے لگا تھا۔گیلری میں آدھی روشنی پڑ رہی تھی کچھ ساتھ والے کمرے سے آرہی تھی اورکچھ سیڑھیوں کے اوپرسے۔
پیچھے سے کسی نے اس پر گولی چلائی ! گولی کندھے کو چھوتی ہوئی دیوار میں جالگی ۔ وہ بھاگ کراندر داخل ہوگیا۔دو تین اور گولیاں!پاس والے کمرے سے کوئی چیزیں اٹھانے رکھنے کی آوازیں آنے لگیں ۔
باہر والا آدمی گیرج کی طرف بڑھ رہا تھا ۔دانیال نے ایک گولی چلائی جو سیدھی اس کی کمرمیں جا کر لگی ۔اس کی کمر اکڑی ،درد کی وجہ سے چہرہ آسمان کی طرف اٹھا اور وہ نیچے گر گیا ۔ کمرکے دھبے کا رخ آسمان کی طرف تھا جو حجم میں بڑھتا جا رہا تھا اور مزید بڑھتا جارہا تھا۔
سیڑھیوں کے اوپر سے چند چیخوں کی آواز سنائی دی ۔پستول اس نے دروازے سے آتی روشنی کی طرف تان دیا جس میںکچھ سائے ہل جل رہے تھے۔وہ دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہوگیا۔پھر اچانک اندر گھس کر جب اس نے پستول کا نشانہ اندر باندھا تواندر کوئی نہیں تھا ! سامنے ایک دروازے بند پڑا تھا۔وہ قدم بڑھاتے بڑھاتے رک گیا جب اس نے ایک سیاہ صوفے کو ایک جھٹکا کھاتے دیکھا۔
یکا یک اس سیاہ صوفے کے پیچھے سے ایک آدمی بندوق اٹھائے بلند ہوا۔دانیال نے فوراَ دیوار کی آڑ لے لی ۔اوپرسے آتی چیخیں بندوق کی گھن گرج کے نیچے دب گئیں۔شراب کے گلاس پورے زور سے ٹوٹنے لگے اور دیوار اور درواز ہ گولیوں سے چھلنی ہوگئے ۔
بندوق جیسے ہی رکی اس نے اندر جھانک کر فائر کیا جو سیدھا اس آدمی کے بالوں سے بھرے سینے میں جا لگا ۔بندوق اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گئی ۔وہ بھی پاس ہی ڈھیر ہوگیا۔اس کے پاس والا آدمی اس کی بندوق اٹھا رہا تھا ۔ دانیال نے گولی چلائی جو اس کی موٹی گردن میں لگی ۔اس کا سر دیوار سے ٹکرایا اور وہیں گر گیا ۔ گردن سے نکلتا فوارا دیوا ر کولال کرنے لگ گیا۔
’’ٹھاہ ‘‘ کی آواز سے بند دروازہ کھلا…وجئے نے دھاڑ کر پستول کی پانچ گولیاں چلائیں ۔تین چوک گئیں ۔ ایک گولی نے پنڈلی میں سوراخ کر دیا جبکہ دوسری اس کے بازو میں جالگی۔
کلک ۔کلک ۔ کلک ۔گولیاں ختم، وجئے کا چہرہ اتر گیا ۔
دھائیں! دھائیں!… دانیال نے پنڈلی پر جھکے جھکے دو گولیاں چلائیں! دونوں وجئے کے چوڑے ماتھے میں گھس گئیںاور وہ دیوار پرپھسلتا ہوا نیچے گر گیا۔دانیال نے اس کی پھٹی پھٹی آنکھوں کو دیکھا جو اسے دیکھ رہی تھیں اور جن میں مسلسل خون گھستا چلا جارہا تھا ۔ دانیال بڑی بڑی سانسیں لیتا ہوا دیوار کے ساتھ لگ گیا ۔پستول کا رخ کبھی ان صوفوں کی طرف ہوجاتا تو کبھی اس درواز ے کی طرف جہاں سے وجئے نکلا تھا ۔ٹریگر پر جمی انگلی کانپ رہی تھی اور چہرے پر بری طرح پسینہ آرہا تھا۔ پستول کو دنوں ہاتھوں میں پکڑے وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔
پستول میں ایک گولی باقی تھی…
زمین پر پڑی شراب پر بوٹ رکھ کر وہ گزرا ۔بوٹ کے نیچے سے چھوٹی سی چھپ کی آواز آئی۔دروازہ ایک تاریک کمرے میں کھلتا تھا ۔وہ تیزی سے اندر گھسااور بجلی کے بٹن ٹٹولے ۔بلب روشن ہوگیا۔اچانک پردے کے پیچھے سے کمال الدین نکلا اورچھری زور دانیال کے ہاتھ میں گاڑھ دی ۔ ٹریگر دب گیا!
گولی بلب کو جا لگی ! اس نے پستول پھینکا جو دور جا گرا ۔کمال الدین ان اس کے سینے میں چھری مارنے کی کوشش کی لیکن چھری بازو میں داخل ہوگئی جہاں خون کے دھبے تھے ،جہاں گولی لگی تھی۔
کمال الدین چھری واپس کھینچ کر پستول کی جانب لپکااوردروازے سے آتی روشنی میں اسے ادھر ادھر ڈھونڈنے لگا ۔ دانیال دروازے کے سامنے وجئے سے ایک قدم دور پڑااکٹھا ہوتا جارہا تھا ۔
وجئے کا پستول!سامنے اس کو نظر آیا ۔ وہ اس کی طرف رینگنے لگا لیکن پستول پر وجئے کی انگلیاں جنبش کررہی تھیں۔معلوم نہیں وہ کیسے زندہ تھا سیدھی ماتھے میں گولیاں لگی تھیں لیکن وہ زندہ تھابس کچھ دیر کے لیے زندہ تھا ۔
دانیال وجئے کی طرف دھیرے دھیرے رینگا پر آدھے راستے میں ہی اچانک کمال الدین کا بھاری بوٹ اس کی کمر پر پڑا ۔ وہ بالکل ہل نہ سکااوراسے سینے میں خون رستہ محسوس ہوا۔کمال الدین نے زور سے بازو پر لان ماری ۔ و ہ تڑپا۔ دو اور زور دار لاتیں ماریں اور دانیال تڑپتے ہوئے سیدھا ہوگیا۔کمال الدین کا بھاری بوٹ اب اس کی چھاتی پردھرا تھا۔ایک چیخ اس کے منہ سے نکلی۔
’’تو آنند…‘‘کمال الدین جھکا اور پستول اس کے دل کے اوپر رکھتے ہوئے بولا۔
’’تو ڈر لگ رہا ہے نہ اب!‘‘ اس نے ایک زناٹے دارتمانچہ دائیں گال پرمارا۔وہ اس کی ڈوبتی آنکھیں دیکھتا رہا پھر قہقہہ لگاتے ہوئے کہنے لگا؛’’اب تمہیں زندگی بھر سسکا سسکا کرمارنے کا کوئی فائدہ نہیں ! ایک ہی بار پہ مارتے ہیں! وہ تم سے پیار ہی نہیں کرتی ! ہاہا! اور میں سمجھاتھا وہ کرتی ہے ! ہاہا! اصل چوٹ تو تمہارے لیے یہی ہے کہ یہ جان کرمرو کہ جس کے تم دیوانے بنے پھرتے ہو …اس کو تم سے کوئی محبت بھی نہیں! … آہا !چچ چچ چچ !!… اب تم بھی وہیں جائو جہاں خاور کوبھیجا تھا تم نے !‘‘
کلک !کلک !کلک!…کمال الدین نے آنکھیں پھاڑ کر پستول کی نالی کو دیکھا۔پھر پستول پھینک دیا اور ساتھ پڑی سرخ چھری اٹھا لی ۔دانیال پر جھکا اور گلے پر چھری رکھ دی۔
’’خدا حافظ!‘‘ دانیال کو چھری میں آتے تنائو کا احساس ہوا۔چھری چلنے ہی والی تھی کہ گولی چلنے کی آوا ز آئی ۔ کمال الدین دھک سے پاس گر گئے ۔ ۔۔ وجئے!
اس نے لیٹے لیٹے پستول کو الٹا کر گولی چلا ئی تھی۔دانیال کی قسمت تھی کہ وہ فائر اس کے بجائے کمال الدین کولگ گیا ۔ ۔گولی گردن پرپڑی تھی ۔کمال الدین کا منہ بھنچا ہوا تھا اور گردن پوری لال ہو رہی تھی۔ دانیال کہنی کا سہارا لے کر بیٹھا اور مڑ کر وجئے کی طرف دیکھا جس کے چہرے پر ایک اداس مسکراہٹ تھی ۔اس کے ہونٹ ہل رہے تھے ۔ دانیال قریب ہوا۔
’’معا…ف…کردین…ا…آہ!‘‘ اور اس کی گردن ایک طرف گر گئی۔دانیال نے اپنا بازو پکڑ کر آہستہ آہستہ اٹھنے کی کوشش کی ۔وجئے کا پستول اٹھا کر وہ کچھ کھڑا اکھڑی اکھڑی سانسیں لیتا رہا پھر سیڑھیوں کی طرف بڑھنے لگا۔لان سے جھینگروں کی چرچر کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔ اس نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ۔پنڈلی سے خون کے موٹے موٹے قطرے سفید سیڑھیوں پر گر ے۔
اوپر سے ہلکی کھسر پھسر کی آواز آرہی تھی ۔ کسی کے رونے کی ۔نیم کھلے دروازے سے دودھ کی طرح سفید روشنی نکل رہی تھی ۔ وہ دروازے کے سامنے جا کر رک گیا ۔ پستول کو اپنے خون آلود ہاتھوں میں سہی سے پکڑا اور دروازے کو دھکا دیا۔دروازہ دیوارسے ٹکرا کر وہیں رک گیا۔
نوازپلنگ پر مردہ پڑاتھا!…کمرے کے ایک کونے میں نمرہ فرش پر بے ہوش پڑی تھی اور بڑی ماں اس کے پاس بیٹھیں خاموش آنسو بہا رہی تھیںاور اجالا…اجالا بیٹھی تھی پلنگ پر دوسری طرف منہ کیے ! اس کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے ! کمر پر ناخنوں کے نشان تھے اوربال بگڑ ے ہوئے تھے ۔
بڑی ماں نے چونک کر اس کو دیکھا اور زور زور سے رونے لگیں۔ وہ اندر داخل ہوا کمرے کے بیچ میں جا کر کھڑا ہوگیا جہاں نیچے ایک نیلے رنگ کا دبٹہ پڑا تھا۔ پستول ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے سفید فرش پر گر گیا۔ہاتھ سے چند قطرے خون کے اتر کر اس پستول پر پھیل گئے۔
اس نے نواز کی طرف دیکھا…
گریبان کھلا ہوا ہے۔ بٹن ٹوٹے ہوئے ہیں ۔ وہ قمیض جو کبھی سفید تھی اب بالکل لال ہونے والی ہے ۔ اِزار بندپلنگ سے نیچے جھول رہا ہے اور دائیں ٹانگ نیم برہنہ ہے!
چھری سینے میں اور بائیں آنکھ میں گاڑھی گئی تھی ۔ وہ چھری پاس ہی پلنگ کی چادر کی سلوٹوں میں چھپی پڑی تھی جس کی نوک پر سرخ مائع جم چکا تھا ۔اس کی نظر نواز کے منہ پر بھبھناتی دو مکھیوں اورمچھروں پر گئی۔ بائیں آنکھ پر اور سینے پر مچھر مکھیاں پھدک رہے تھے ۔
وہ اجالا کی طرف بڑھا جو پتھر بنی بیٹھی تھی۔وہ کانپتی ٹانگیں لیے اس کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ اجالا کی نیم بند آنکھیںجھکی ہوئی لرز رہی تھیں۔ دائیں گال پر ناخنوں کے اور بائیں گال پر کسی کے دانتوں کے نشان تھے ۔اجالانے اوپرنہ دیکھا۔
اس کے ہاتھ میں کوئی شیشی تھی چھوٹی سی، جس میں چند قطرے بچے ہوئے تھے ایک نیلے رنگ کے مائع کے …دفعتاَ جیسے اس کو ہوش آیا ۔ نظریں اٹھیں!اور پھیلتی چلی گئیں!
شیشی ہاتھ میں سے پھسل گئی اور نیچے گر کرٹکڑوں میں بکھر گئی۔ وہ بنا پلک جھپکائے اس کو دیکھتے ہوئے اٹھی اور اس کے سینے کے ساتھ لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔دانیال نے اس کے ملائم بالوں پر اپنا خون آلو د ہاتھ رکھ دیا ۔وہ بہت بری طرح سسکیاں لے کر رو رہی تھی۔
’’میرا بچہ ! آہ ! میرا بچہ !‘‘ اچانک نمرہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھی اور نوازکی طرف بھاگی۔ وہ پلنگ پر چڑھ گئی ۔ کبھی وہ سینے پر ہاتھ رکھ کہ آنسو بہاتی تو کبھی وہ خون زدہ آنکھیں چومتے ہوئے روتی ۔ وہ بائیں آنکھ پر سے مکھیاں مچھر اڑاتی جس پر ایک ترچھی لکیر سی بنی ہوئی ۔مکھیاں مچھر واپس بائیں آنکھ پر آ بیٹھتے۔
’’میر ابچہ ! میرا نواز! …میرا! میرا نواز!! ‘‘وہ سینے پر سر رکھتے ہی دھاڑیں ما ر مار کر رونے لگی۔کونے میں بیٹھی بڑی ماں سر جھکا کر آنسو بہانے لگیں۔
اسی لمحے کہیں دور مدھم شور کی آواز سنائی دینے لگی!…دانیال اس کا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی طرف لے گیا ۔بیچ میں وہ پستول پڑی۔دانیال نے نیلا دبٹہ اٹھایا اور اجالا کے سر کو ڈھانپ دیا پھر نیچے سے پستول اٹھا کر اس کا ہاتھ پکڑے وہ کمر ے سے باہر نکل گیا۔
٭٭٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: