Aakhri Bahar Novel by Mirza Meer Hakim – Last Episode 8

0
آخری بہار از مرزا میر حاکم – آخری قسط نمبر 8

–**–**–

{آخری باب}
…زخم اور دوا…

کراچی جانے والی گاڑی لیٹ تھی ۔اس نے ننگی پٹڑیوں کو تکنا بند کردیا اور آہستے سے دانیال کے ساتھ جا بیٹھی جو میر پور جانے والے گاڑی کو روانہ ہوتے دیکھ رہا تھا۔
دور دو بزرگ بیٹھے ریڈیو سن رہے تھے؛
’’میجر جنرل کمال الدین کی موت …(ریڈیو میں کچھ گڑبڑ ہوئی)…پولیس تلاش کر رہی…(پھر سے کوئی گڑبڑ)…پکڑ لیا جائے گا! اب آپ سنئیے…‘ ‘ بوڑھے نے ریڈیو بند کر دیا اور آپس میں کھسر پھسر کر نے لگے۔بوڑھوں کے پاس ہی ایک میلے کچیلے برقعے میں لپٹی عورت بچے کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کامیلا برقعہ سیاہ رنگت رکھنے کی وجہ سے زیادہ برا نہیں لگ رہا تھا۔دو سال کا وہ سویا ہوا بچہ کلکاریا ںمارتے ہوئے اٹھ بیٹھا اور رونے لگ گیا۔
’’پھر زہر کاکیا ہوا؟‘‘ گلشن نے اجالا سے پوچھا تو دانیال اور عقیل چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔اجالا برقعے میںتھی ۔سفید رنگ کا برقعہ جو اس کو گلشن نے دیا تھا ۔
’’میںپینے لگی تھی تو…تو نواز نے روک لیا تھا …سارا نیچے گر گیا …‘‘ وہ بولی۔ہواکے تیز تیز جھونکے چلے اوربچہ کو چپ کرنے والی عورت کا سیاہ برقعہ پھڑ پھڑانے لگا۔اب وہ جھونکے گاڑی کی آواز اپنے ساتھ لانے لگے ۔ چیختی چلاتی مسافروں سے لدی ہوئی ٹرین سٹیشن پرپہنچ گئی۔ وہ جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔
٭٭٭
تاروں سے آسمان بھرا ہوا تھا ۔گاڑی سے اترتے ہوئے مسافروں کی بھیڑلگ گئی۔ وہ چاروں سٹیشن سے نکلے۔ تلاش کیا بنا ہی ٹیکسی مل گئی۔
اجالا کا چہرہ شہر کی جگماتی روشنیوںکی طرف تھا ۔ ٹریفک کا شور ، گاڑی کے ہارن ، عقیل گلشن کی باتیں …اس کی خوشی کے خیالوں کے نیچے دھنستے چلے جا رہے تھے ۔اس نے اگلی سیٹ پر بیٹھے دانیال کی طرف دیکھا اور دل کو بیش بہا آنند ملا (سکون)۔
گاڑی ٹریفک میں پھنس گئی تو وہ مسکرا مسکرا کر ان پھول بیچنے والے بچے بچیوں کو دیکھنے لگی۔ دو دوڑتے ہوئے دانیال کے گئے ۔ شیشہ کھٹکھٹایا تو اس نے کھل دیا۔
’’فھول لے لو صاب‘‘ اس نے ایک گلاب خریدااور دوگیندے کے پھول خرید لیے اورمڑ کر ان تینوں کو دے دئیے۔
عقیل بول اٹھا ؛’’ یہ کیا ! ہمیں گیندے کے پھول اور اجالا آپاکو گلاب !‘‘ گلشن ہنس کر اس کی کمر پر چپت ماری اور اجالا کھلکھلا کر گلاب کو سونگھنے لگی۔اب ان گلابوں کو کوئی نہیں کچل پائے گا ، وہ سوچ کر کھل اٹھی۔
لمبی سیڑھیاںچڑھ کروہ ان کے لکڑی کے دروازے تک پہنچے۔ گلشن نے ہنس کر دروازہ بجایا۔خالہ بڑی ہنس مکھ عورت تھیں۔ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں وہ بلکل بڑی ماں کی طرح لگ رہی تھیں۔ہاتھ میں ویسی ہی ایک تسبی تھی ۔ ا ن کو دیکھ کروہ کیسے خوشی سے اچھل پڑی تھیں۔
ان کا مکان چھوٹا سا تھا ۔جب ان کو عقیل گلشن نے سب بتایا تو وہ پہلے سر جھکا کر کوئی دعائیںپڑھتی رہیں۔ پھر جلدی سے اٹھ کر باہر چلی گئیں اور جب وہ آدھے گھنٹے بعد لوٹیں تو کوئی مولوی صاحب تھے ان کے ساتھ!دانیال اور اجالا کانکاح ہوگیا !
نہ شہنائیاں بجیں، نہ ڈھول بجے ،نہ تالیاں بجیں، لیکن دونوں کو لگ رہا تھا جیسے پورا جہان ہی ان کے سنگ ہنس رہا ہے ،مسکرا رہا ہے اور وہ چاند …
وہ چاند ان کی خوشی میں خوش ہورہا ہے جیسے مسکرا رہا ہے ۔
٭٭٭
’’اور روہت نے بات کیا جانی تھی؟‘‘کافی دیر چپ رہنے کے بعدوہ بولی ۔وہ چھت پرپڑی چارپائی پر بیٹھے تھے ۔ ہلکی خنکی اور تیز دھوپ تھی جس سے آنکھیں چندھیا جا تیں۔اس نے سائے میں گھور کر جواب دیا؛ ’’نہیں کچھ نہیں پتہ، میں نہ پوچھ پایا اور نہ اس نے مجھے بتایا‘‘دانیا ل کی بھوری آنکھیں دھوپ میں لرزیں ۔ اس نے سر جھکا لیا ۔وہ کریم رنگ جرسی جو اس نے پہن رکھی تھی گرم ہو کر جیسے جلانا شروع کر رہی تھی ۔ ٹھنڈی ہوا کا جھکڑ چلا او راجالا کے ملائم بالوں کی ایک لٹ پھسلی ۔وہ مسکرایا اور آگے بڑھ کر اس لٹ کو اس کی جگہ پر پہنچا دیا۔
٭٭٭
(دو ہفتے بعد)
بکھرے بال… بکھری بکھری آنکھیں… اس نے جلتے پردوں کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ہاتھ جل گیا۔ وہ چیخ مار کر پیچھے ہٹ گئی ۔ پھر کھلکھلائی اور دوبارہ آگ کو چھونے کے لیے ہاتھ بڑھایا مگر آدھے راستے میںہی واپس کھینچ لیا۔
جلتے پردوں کے پیچھے کھڑکی میں اس نے گھورا۔بڑی ماں چند نوکروں سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ پلنگ کے ساتھ ہی نیچے گرگئی ۔پھر دھیرے دھیرے سجدے میں پہنچی اور رونے لگی۔ روتی رہی اور روتی رہی اور دوبارہ اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے… سینہ نوچ ڈالا اور بالوں کا گچھااکھیڑ ڈالا…
وہ بے ہوش ہو گئی ! نوکر دروازہ بجاتے رہ گئے۔پھر دروازہ توڑا گیا۔
اس کو ہوش آیا۔جل چکے پردوں کے ساتھ والی کھڑکیوں سے شام کی مدھم روشنی آرہی تھی۔بڑی ماں جھولنے والی کرسی پر بیٹھی تسبی پڑھ رہی تھیں۔اس نے اٹھنے کی کوشش کی اور بڑی ماں چونک پڑیں۔
’’لیٹی رہو،لیٹی رہو‘‘ انہوں نے اسے بڑے سے پلنگ پر دوبارہ لیٹاتے ہوئے کہا۔
وہ سوچتی رہی اور پھر سو گئی۔کوئی پہلی آذان ہورہی تھی اور ا س کی آنکھ کھل گئی ۔کمبل کو اس نے دھکیلا اور پاس دیکھا ۔بڑی ماں ہاتھوں میں تسبی پکڑے پکڑے سو گئی تھیں ۔
ان کی پلنگ کے ساتھ ٹیک لگی ہوئی تھی۔اس نے باریک اجالے میں سامنے میز پر پڑی ہوئی نواز کی تصویر دیکھ لی ۔دو آنسو!…اور پھر ان کی جگہ بھیانک غصے نے لی ۔
دفعتاََ اس نے اپنے سر کے نیچے سے سرہانہ نکالا اور بڑی ماں کے منہ پر رکھ دیا۔ وہ جاگ پڑیں اور مدافعت کرنے لگیں۔وہ پھٹی پھٹی آنکھیں لیے مزید مزید دبائوں دیتی جارہی تھی۔ اور پھر تسبی ہاتھوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوٹ گئی۔ان کا جسم ایک طرف لڑھک کر پلنگ سے نیچے ایک دھماکے کے ساتھ گر گیا۔اس نے پوری قوت سے سرہانہ نوازکی تصویر کی طرف پھینکا۔تصویر گرگئی اور شیشے ہر جگہ پھیل گئے۔
وہ پلنگ سے اتری اور لاش کو چیخ چیخ کرکافی دیر لاتیں مارتی رہی۔وہ تصویر کی طرف بھاگی اور اس کو اٹھا کر سینے سے لگایا ۔شیشے کا ایک بڑاٹکڑا پاس پڑا تھا ۔اس نے اٹھا کرا پنی شاہرگ پر چلادیا۔
ابلتا ہوا لاوا کی طرح خون نکلنے لگا۔ہاتھ سرخ ہوگیا ۔اس نے گلے میں شیشہ گاڑھ دیاپھر اپنی بائیں آنکھ میں…اور مسکرا تے ہوئے وہ ایک طرف گرگئی……
٭٭٭

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: