Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 1

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 1

–**–**–

“ماما میں آپکی کچھ ہیلپ کر دوں؟؟”۔ عمارہ بیگم کچن میں کھانا بنا رہیں تھیں جب مشائم کچن میں داخل ہو کر کہنے لگی۔
“نہیں مشی کوئی کام نہیں ہے”۔ عمارہ بیگم نے پرمسرت انداز میں کہا۔
“اچھا’ چلیں پھر میں پیٹ پوجا ہی کر لیتی ہوں”۔ بولتے ہی اسنے سائیڈ پہ رکھے ٹیبل کی چیئر گھسیٹی اور اس پہ بیٹھتے ٹیبل پہ پڑی فروٹ باسکٹ سے چھری اٹھاتے فروٹس کو پلیٹ میں کاٹنا شروع کیا۔
“ویسے میں نے کیا تو غلط ہے”۔ مشائم خود سے لگی تھی جب عمارہ بیگم نے اسے مخاطب کیا۔
“کیا غلط کیا ہے؟؟”۔
“ک۔ ک۔ کچھ نہیں ماما’ میں تو بس ایسے ہی بول رہی تھی”۔ مشائم نے ادل بدل سے کام لیا۔
“احد میرا ویٹ کر رہا ہو گا۔۔ لیکن میں نے اسے میسج بھی تو جان کے کیا تھا”۔ سوچ کی گھاٹی میں خیال کے گھوڑے دوڑاتی وہ کہیں دور نکل گئی تھی۔
اسے اس بات کا علم ہی نا ہو سکا کہ کب وہ فروٹس کے ساتھ اپنا ہاتھ بھی کاٹ چکی ہے۔
ہاتھ سے خون رستے فروٹس سے مخلوط ہوتے پلیٹ میں گرنے لگا تھا۔
“مشی کہاں دھیان ہے تمھارا؟”۔ عمارہ بیگم ہڑبڑاہٹ میں مشائم کی طرف آئیں۔
“احد کے بارے میں سوچ رہی تھی ماما اور یہ سب ہو گیا”۔ مشائم نے بالک پن کا مظاہرہ کیا۔
“رکو میں فرسٹ ایڈ باکس لے کر آتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ کچن سے نکل گئیں تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میم مشائم آپ ہر دفعہ دیر سے آتی ہیں اور مجھے آپکی وجہ سے اتنا انتظار کرنا پڑتا ہے”۔ سنسان جھیل کے کنارے بیٹھے اسنے قریب سے پتھر اٹھایا اور پوری قوت سے جھیل میں پھینکا جسکے گرتے ہی “ڈبک” کی آواز کیساتھ بھنور بھی بنے تھے۔
اسکی بائیں جانب ایک درخت تھا’ عمر رسیدہ درخت جس پہ شاخوں اور پتوں کا بوجھ اسکی بساط سے زیادہ تھا۔ شاخوں اور پتوں میں لت پت وہ جھکا ہوا تھا’ جھکنے کے باعث اسکی کچھ شاخیں جھیل پہ گری ہوئیں تھیں جس سے جھیل کے پانی پہ سایہ سا اترا تھا۔ شام کا وقت تھا، سورج ڈھل کر کچھ ہی دیر میں اہل زمین پہ اندھیرے کے راج کا پیغام دے رہا تھا۔
ٹھنڈی ہوا آئیں شائیں کرتی تیزی سے اسکے وجود سے ٹکرا کے واپس چلی جاتی’ ہوا کی رت پہ اسکے بال بھی لہرا رہے تھے۔
“ریہرسل ہی کر لیتا ہوں”۔
بولتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا اور پینٹ جھاڑتے کار کی طرف قدم اٹھانے لگا’ جو سڑک کے کنارے تھوڑا فاصلے پہ کھڑی تھی۔
کار سے گیٹار نکالتے وہ واپس آیا اور بیٹھ کر گیٹار اپنے سامنے رکھ کر گلا کھنکھارنے لگا۔
“رہنڑاں تو پل پل دل کے پاس
جڑی رہے تجھ سے ہر اک سانس”
گیٹار کے تار چھیڑتے اسنے تان اٹھائی تھی۔
جونہی اسنے گنگنانا شروع کیا ہوا کی ایک تیز لہر اسکے کانوں کے پاس دوڑ گئی جیسے کسی کی خاموش دستک کا پیام لائی ہو۔
“نال تیرے اک گھر میں سوچاں
باری کھولاں تے چن دکھ جاوے
اکھاں تے بیتنڑ راتاں ساریاں
جے اکھ لاگے تے من نا لاگے”
اسکی انگلیاں مستقل گیٹار پہ چلت پھرت کر رہی تھیں اور آواز ہوا میں سر کی لپیٹ میں جھوم رہی تھی۔
“سینے سے تیرے سر کو
لگا کے
سنتا میں رہوں نام اپنا”
احد کو ایسا محسوس ہوا جیسے موجود نا ہونے پر بھی کسی نے اسکے سینے پہ اپنا لمس چھوڑا ہے۔
ادھر ادھر دیکھنے کے بعد وہ اٹھا اور خیال سمجھتے کار کی جانب بڑھا۔
“سینے سے ۔۔ تیرے سر کو
لگا کے
سنتی ۔۔۔ میں ۔۔۔ رہوں ۔۔۔ نام ۔۔۔ اپنا”
کار کے قریب پہنچتے احد کی سماعتوں سے ایک باریک نسوانی آواز ٹکڑائی جس پہ وہ سرعت سے پلٹا’شام ڈھل کر گہری تاریک رات میں بدل چکی تھی۔
ایک ادھورا چاند جو سیاہ بادلوں کی اوٹ سے جھانک رہا تھا’ ڈرا ڈرا ۔۔ سہما سہما معلوم ہو رہا تھا۔
اپنی راہ میں رکاوٹ تمام خشک پتوں کو پیروں تلے روندتے وہ ان پہ چلتی آ رہی تھی’ بے نام وجود کی مہیب سرسراہٹ۔
احد کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا۔
“کون ہے وہاں؟؟”۔ خوف کے شکنجے میں اسنے بمشکل تھوک نگلا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پرانے طرز کی قدیم حویلی جسکے احاطے میں لوہے کا دروازہ لگا تھا جو پرانا ہونے کے باوجود صحیح حالت برقرار رکھے ہوئے تھا مگر رات کی سیاہی میں خاموشی کے باعث چلاہٹ کے ساتھ کھلتا تھا۔
انٹرنس تک پہنچنے کیلئے پتھروں سے بنی گزرگاہ پہ خاصی مسافت طے کرنا پڑتی تھی’ راہداری کے دونوں طرفیں ہلکی ہلکی گھاس سمیٹے مستطیل لان تھے جہاں بائیں جانب چھت کے نیچے کھلا جم نما روم تھا اور دائیں طرف پورچ کے ساتھ لان میں صوفے والا جھولہ اور بیٹھنے کی غرض سے چیئر ٹیبل لگے تھے۔
ایک واچ مین جو ہما وقت گیٹ پہ موجود رہتا کار کی آواز پہ اٹھ کر گیٹ کی جانب بڑھا اور گیٹ کھول کر سائیڈ پہ کھڑا ہوا تب کار حویلی میں داخل ہوتی پورچ میں کھڑی ہوئی۔
کار سے نکلتے اسنے کار لاک کی پھر واچ مین کے نزدیک آیا۔
“پاپا آ گئے؟؟”۔
“جی صاحب”۔ واچ مین نے دو حرفی کہا۔
حویلی کی ایک بتی جو نجانے کب سے اپنی خدمات سر انجام دے رہی تھی’ اب مدھم ہو گئی تھی۔
انٹرنس کے خارج پہ سیڑھیاں تھیں جو شمار میں پانچ تھیں۔۔۔ دروازہ جو اسکی قامت سے کئی گنا بڑا تھا’ کھولتے ہی اسکے قدم تھمے۔
اندھیرے کا جال آنکھوں کے سامنے بچھا دیکھ وہ دنگ رہ گیا۔
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔۔ ہیپی برتھ ڈے ڈیئر احد ہیپی برتھ ڈے ٹو یو”۔ چند ہی لمحوں میں اندھیرے کی جگہ لائٹوں نے لے لی تھی۔۔ پارٹی بلاسٹ پھٹنے کے بعد احد پر رنگا رنگ کلیاں بکھیرنے لگا تھا۔
احد کی فیملی کے ساتھ ساتھ وہاں احد کے قریبی دوست، مشائم کی فیملی اور چند رشتے دار ہجوم میں کھڑے’ تالیاں بجاتے گلا پھاڑ کر احد کو مبارک باد دے رہے تھےجس پہ دل موہ لینے والی مسکراہٹ نے احد کے لبوں کا احاطہ کیا۔
“ہیپی برتھ ڈے احد”۔ من پسند چہرہ ہجوم سے نکلتا احد کے مقابل آ کھڑا ہوا۔
“مشی یہ سب؟”۔ خوشی کی زیادتی پہ اب احد کی بتیسی نمایاں ہوئی۔
“صرف مشائم ہی نہیں یہ میرا بھی پلین تھا اور مشی کے ساتھ ساتھ اسکا کریڈٹ مجھے بھی جاتا ہے دوست”۔ دائیں جانب سے حمزہ چلتا مشائم کے برابر آ کھڑا ہوا۔
“اور اسکے لیئے تم نے مجھے میسج کرکے ملنے کا جھوٹ بولا؟”۔ مشائم کی طرف دیکھتے احد نے کہا جس پہ مشائم نے تائید سے “ہاں” میں سر کو جنبش دی۔
“چلو بھئی کیک کاٹنا ہے گپ شپ بعد میں کر لینا”۔ شہریار جو احد کا بڑا بھائی تھا’ نے آواز بلند کرتے کہا۔
“آ رہے ہیں بھائی”۔ احد نے قدم اٹھائے۔
“احد جب یہاں سے فارغ ہو جاو تو روم میں جا کر دیکھ لینا تمھارے لیئے ایک اور سرپرائز ہے”۔ احد کا دائیاں ہاتھ پکڑتے مشائم نے اسے روکا جس پہ احد کی نظر مشائم کے ہاتھ پر گئی جہاں بینڈیج لگی تھی۔
“مشائم یہ کیا ہوا؟؟”۔ احد نے بے قراری سے کہا۔
“کچھ نہیں وہ فروٹ کاٹتے کٹ لگ گیا”۔
“دھیان سے کام کیا کرو مشی پلیز”۔ مشائم کا چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیتے احد نے سختی سے تاکید کی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم احد کے والد سمعان احمد کے دوست عامر احسان کی بیٹی تھی جنکا رشتہ بچپن سے ہی طے تھا۔ موسیقی میں رحجان کے سبب احد نے موسیقی کو دل و جان سے قبول کرتے ایک گلوکار کی حیثیت سے فرائض انجام دینا شروع کیئے اور گھر والوں نے اسکے شوق کو سراہتے احد کی حوصلہ افزائی کی۔ اسکے برعکس پڑھائی میں رحجان کے باعث مشائم نے پڑھائی کا سلسلہ رواں رکھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پارٹی سے فارغ ہوتے ہی پہلی فرصت میں وہ اپنے روم میں آ گیا تھا۔۔ کچھ نا کرتے ہوئے بھی اسکا بدن ہلکے سے درد میں مبتلا تھا’ روم میں داخل ہوتے ہی سامنے بیڈ تھا جسکی پائینتی بائیں جانب تھی، پائینتی سے تھوڑا فاصلے پہ کاوچ رکھا تھا جسکی پشت پہ دیوار میں کھڑکی لگی تھی جو اس وقت کھلی تھی ہلکی ہوا کے باعث کھڑکی کے سامنے لگے پردے پھڑپھڑا رہے تھے۔۔ کاوچ پہ ایک گیٹار رکھا تھا جو ظاہری حلیے سے ہی نیو لگ رہا تھا۔ احد نے اسے اٹھا کر دیکھا تو سائیڈ پہ اے- ایس کندہ تھا۔۔۔ گیٹار کو جگہ پہ رکھتے احد واش روم کی جانب بڑھا جو بیڈ کے برابر فاصلے پہ بنا تھا’ ساتھ ہی ڈریسنگ روم منسلک تھا۔
پینٹ شرٹ کو ٹی شرٹ اور ٹراؤزر سے تبدیل کرتے وہ منہ دھونے کی غرض سے بیسن کی طرف آیا جہاں مقابل دیوار پہ لگے شیشے پہ خون سے “ایچ بی ڈی میری جان” لکھا تھا۔
“بالکل پاگل ہے مشی”۔
احد پہلے حیران ہوا پھر مشائم کا خیال آتے ہی کوفت آمیز انداز میں کہا۔
بیسن پہ جھکتے احد نے منہ پہ چھینٹے مارے پھر سائیڈ پہ ٹنگا ٹاول اتارا جس سے ایک گلاب احد کے قدموں میں آ گرا۔
منہ صاف کرتے اسنے ٹاول جگہ پہ لٹکا دیا پھر جھک کر گلاب اٹھایا’ گلاب کا لال گلال رنگ احد کی آنکھوں میں چبھا۔۔۔ پل پل احد کا ذہن مشائم کی جانب دوڑ جاتا۔ جونہی اسنے گلاب کی پتی پہ لب رکھے گلاب کی سحر آفرینی خوشبو ہوا کی لہروں سے اٹکیلیاں کرتی احد کے نتھنوں میں آ سمائی۔
کچھ ہی لمحوں میں واش روم کا ماحول اس سحر زدہ گلاب کی خوشبو سے معطر ہو گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد واش روم سے نکلتے بیڈ کی جانب آیا’ سائیڈ ٹیبل پہ رکھے فون کی چنگاڑتی رنگ ٹون خاموشی میں مخل ہوئی تب احد نے فون اٹھایا جہاں سکرین پہ مشائم کا نمبر دمک رہا تھا۔
“اسلام و علیکم”۔ کال ریسیو ہوتے ہی مشائم نے پرتپاک انداز میں کہا۔
“و علیکم اسلام مشی گھر پہنچ گئی؟”۔ گرچہ مشائم کا گھر زیادہ دور نہیں تھا’ احد نے یونہی پوچھ لیا۔
“ہاں پہنچ گئی تم بتاو کیسا لگا میرا سرپرائز؟”۔ مشائم نے دل آویزی سے کہا۔
“کافی عجیب سرپرائز ہے مشائم، آج ایسا کیا ہے خدا کا واسطہ ہے نیکسٹ ٹائم ایسا نا کرنا”۔ التجا کرتے وہ بیڈ پہ بیٹھ گیا تھا۔
“تمھیں میرا سرپرائز پسند نہیں آیا؟؟”۔ مشائم کو عجیب لگا تھا۔
“مشائم یار تم اچھے سے جانتی ہو کہ میرے دل میں تمھارے لیئے کونسے جذبات ہیں۔۔ میں نہیں چاہتا کہ تمھیں میری وجہ سے کسی قسم کی تکلیف اٹھانی پڑے یا تم کوئی اذیت اٹھاو’ بس آج ایسا کر دیا ہے آئیندہ خیال رکھنا”۔ احد نے بے زارگی سے کہا جبی گلاب کی خوشبو دوبارہ سے احد کے نتھنوں کے پاس آ رکی۔
“میں خود کو اذیت کیوں دوں گی احد؟؟ تمھارا برتھ ڈے تھا مجھے تمھارے لیئے ایک گفٹ خریدنا تھا سوچا ایک راکسٹار کیلیئے گیٹار سے اچھا تحفہ ہو ہی نہیں سکتا تو میں نے وہ خرید لیا۔ تم بول رہے ہو کہ آئیندہ میں ایسا نا کروں، خود کو تکلیف نا دوں۔ کیسی تکلیف یار؟؟اس میں برائی کیا ہے؟”۔ مشائم متحیر ہوئی۔
مشائم کی تفصیل اور ناراضگی پہ احد بیڈ سے اٹھتے کاوچ کی طرف آیا اور گیٹار کو ایک نظر دیکھتے واش روم کی جانب بڑھا۔ واش روم کے دروازے پہ ہی اسکے قدم اور آنکھیں یکدم ساکت ہوئیں۔
“احد کیا ہوا؟؟ چپ کیوں کر گئے؟؟”۔ دوسری جانب مشائم کی آواز مستقل آ رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد اور مشائم حویلی کے سامنے والے لان میں بیٹھے ایک دوسرے سے گفت و شنید کر رہے تھے اسی دوران احد گزشتہ روز ہوئے واقعے کے متعلق سوچنے لگا۔
“احد کیا ہوا؟ کیا سوچنے لگ گئے؟”۔ احد کو خیالوں میں ڈبکی لگاتا دیکھ مشائم نے اسے پکارا جسے اسنے ان سنا کر دیا۔ “احد”۔ ہلکا سا اسکے قریب ہوتے مشائم نے اسے جھنجوڑا جس پہ وہ ہکلایا۔
“ہ۔ ہ۔ ہاں؟”۔
“کیا ہوا ہے؟ میں کافی دیر سے اوبزرو کر رہی ہوں تم کہیں کھوئے ہوئے ہو۔۔ از ایوری تھنگ آل رائٹ؟”۔ مشائم نے مضطرب دل سے کہا۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں”۔ مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ سجا لی گئی۔
“کوئی تو بات ضرور ہے جو تم مجھ سے چھپا رہے ہو’ احد بتاو مجھے آخر کونسی بات ہے جو تمھیں پریشان کر رہی ہے؟”۔ احد کے چہرے کے تاثرات بھانپتے مشائم نے کہا۔
“مشائم وہ ۔۔۔”۔ وہ زبان جو مشائم کے اصرار پہ بمشکل حرکت پہ آمادہ ہوئی تھی اب دوبارہ سے رکی۔
“نہیں اگر مشائم کو بتا دیا تو مشائم بھی پریشان ہو جائے گی’ فلحال اسے کچھ نہیں بتاتا”۔ مشائم کے چہرے کی زیارت کرتے احد نے سوچا۔ ” کچھ نہیں مشی وہ بس میں کنسرٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا”۔ احد نے صفائی سے بات کو ٹال دیا۔
“کنسرٹ کے بارے میں فکر مند ہونے کی کیا ضرورت؟ تمھارا کنسرٹ تو ہمیشہ ٹاپ پہ رہا ہے اور تو اور تمھارے چینل کی ریٹنگ بھی بڑھ گئی ہے”۔ مشائم کی آنکھیں حیرت سے کھلیں پھر لبوں نے ہنسنے کی گستاخی کی۔
“کیا واقعی وہ میرا وہم تھا یا کوئی حقیقت؟”۔ احد کا دھیان دوبارہ سے بھٹکا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سٹیج کی پچھلی جانب بنے مخصوص پرائیویٹ روم میں احد کنسرٹ کیلیئے تیار بیٹھا تھا جو کچھ ہی دیر میں شروع ہونے والا تھا’ علاوہ ازیں وہ مشائم کی راہ میں شدت سے پلکیں بچھائے بیٹھا تھا جو اب تک نہیں پہنچی تھی۔
زندگی میں پہلی بار ایسا ہونے کی وجہ سے وہ گھبرا گیا تھا۔۔ روم میں بے تاب دل کے ساتھ چہل قدمی کرتے’ ہاتھ میں سیل پکڑے وہ مشائم کا نمبر ملا رہا تھا جو مستقل “آوٹ آف کوریج” آ رہا تھا۔
“پتہ نہیں مشائم کہاں رہ گئی”۔ وہ بڑبڑایا پھر فون ٹیبل پہ رکھ دیا۔
دروازے پہ دستک کے ساتھ سیکٹری نمودار ہوا۔
“سر شو کا ٹائم ہو گیا ہے”۔ سیکٹری نے مطلع کیا۔
“ٹھیک ہے تم جاو میں آتا ہوں”۔ سیکٹری کو بھیجتے احد نے صوفے پہ رکھا گیٹار اٹھایا اور روم سے نکل گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کیا مصیبت ہے یار اس کار کو بھی ابھی خراب ہونا تھا”۔ مشائم کی کار’ جھیل کے پاس’ بیچ راستے میں اسکا ساتھ چھوڑ چکی تھی جس پہ وہ برہم تھی۔
“اب میں کیا کروں؟ یہاں تو دور دور تک کوئی نظر بھی نہیں آ رہا کہ جس سے مدد طلب کروں”۔ بے چینی میں وہ خود سے ہم کلام یاس کی ڈور تھامے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جہاں دور تک سڑک سنسان پڑی تھی۔
“سگنلز بھی نہیں آ رہے ۔۔ احد کا کنسرٹ بھی شروع ہو چکا ہو گا”۔ نیم مردہ حالت میں اسنے فون کی سکرین پہ دیکھا جہاں سگنلز بلینک تھے اور گھڑی پانچ بجا رہی تھی۔
کار کا بانٹ کھولے وہ اس پر جھکتے مسئلے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش میں تھی جب بائیں جانب جنگل سے کسی کے رونے کی آواز آئی جس پہ وہ بوکھلا کے سیدھی ہوئی۔
سورج پہ جھریاں پڑنا شروع ہو چکی تھیں’ گھنا بیلا جس کے اونچے’ موٹے درختوں کی ٹہنیاں وجد میں جھوم رہیں تھیں۔ “ک۔ ک۔ کون ہے؟”۔ زبان میں لکنت کے ساتھ پیشانی پہ اوس کے قطرے آ ٹھہرے’ جواب میں آواز مدھم سے مدھم ہوتے دم توڑ چکی تھی۔
ہوا کا تیز جھونکا مشائم کے بالوں سے ٹکڑا کر گیا جس سے اس پہ ہیبت طاری ہوئی۔۔ مشائم فورا سے کار میں جا بیٹھی تھی۔
“یہ کیسی آواز تھی؟ ۔۔ شاید کسی جانور کے رونے کی؟”۔ خود سے مخاطب وہ اندازے لگانے لگی۔
خیال سمجھتے مشائم نے دوبارہ سے کار سٹارٹ کی جو اب سٹارٹ ہو چکی تھی۔
مشائم کو زور دار جھٹکا لگا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد ۔۔۔ احد ۔۔۔ احد”۔ اسکے سٹیج پہ آتے ہی ہوٹنگ شروع ہو گئی تھی اور ہر جا اسی کا نام فضا میں رقصاں تھا۔
“تیرے جانے کا غم
اور نا آنے کا غم
پھر زمانے کا غم کیا کرے
راہ دیکھے نظر
رات بھر جاگ کر
پر تیری تو خبر نا ملے”۔
بینڈ گروپ کے سامنے کھڑے ہوتے اسنے گیٹار سیٹ کیا اور اسکے تار چھیڑے’ احد کی سریلی آواز پہ فینز نے شور و غل ہوا میں بلند کیا۔
“بہت آئی گئی یادیں
مگر اس بار تمہی آنا
ارادے پھر سے جانے کے
نہیں لانا ۔۔۔ تم ہی آنا”۔
قدموں کو حرکت دیتا احد فینز کے درمیان بنی گزرگاہ پہ آ کھڑا ہوا جو سٹیج سے منسلک ہونے کی بدولت اونچی تھی’ احد کے قریب آتے ہی فینز نے ہاتھ ہوا میں لہرانا شروع کیئے۔
“میری دہلیز سے ہو کر
ہوائیں جب گزرتی ہیں
یہاں کیا دھوپ کیا ساون
بہاریں بھی برستی ہیں
ہمیں پوچھو کیا ہوتا ہے’ بنا دل کے جیئے جانا”۔
موسیقی کی دھن کی حرمت میں احد نے ترنم میں وقفے کے بعد اگلا مصرعہ گنگنانا شروع کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پرائیویٹ روم میں داخل ہوتے ہی اسکی نظر یکلخت سامنے ٹیبل پہ رکھے بکے پہ پڑی’ لال گلال گلابوں کا مہکتا خوبصورت مجموعہ جو یقینا احد کیلیئے وہاں رکھا گیا تھا۔ ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے مشائم کو جیلسی فیل ہوئی جس پہ وہ دروازے کی جانب پشت کیئے قوت سے چلائی۔
“سیکیورٹی”۔
چند لمحوں کے توقف پہ ایک نفوس یونیفارم میں ملبوس مشائم کے سامنے وارد ہوا۔
“یہ بکے یہاں کس نے رکھا ہے ؟؟”۔ مشائم عتاب میں اسکی جانب گھومی۔
“میم مجھے نہیں پتہ”۔ احتراما سر جھکائے اسنے نفی کی۔
“کیا مطلب نہیں پتہ؟ اگر تمھیں نہیں پتہ تو کیا مجھے پتہ ہوگا؟”۔ مشائم مزید طیش میں آئی۔
“میم سچ میں مجھے نہیں پتہ کہ یہ یہاں کیسے آیا۔ میں کب سے باہر ہی کھڑا ہوں میں نے یہاں کسی کو آتے نہیں دیکھا”۔ اسنے خود اعتمادی سے کہا۔
“جاو تم”۔ اسکے وہاں سے جاتے ہی مشائم ٹیبل کی طرف آئی اور بکے اٹھا لیا’ بکے کے سائیڈ پہ ایک کارڈ لگا تھا جو اندر سے خالی تھا۔
حیرت مآبی میں وہ سوچ میں ڈوبی۔ اس دم قدموں کی چاپ پہ اسنے فورا سے بکے سے گلاب نکالا اور بکے صوفے کے پیچھے پھینک دیا
“ارے مشی تم’ تم یہاں کیا کر رہی ہوں؟ تمھیں تو وہاں کنسرٹ میں ہونا چاہیئے تھا”۔ دروازہ کھلا تو احد مشائم اور اپنے درمیان فاصلہ طے کرتا اس طرف آیا۔
“آنا چاہ رہی تھی ان فیکٹ میں گھر سے تمھارے کنسرٹ کیلیئے ہی نکلی تھی مگر راستے میں کار خراب ہو گئی۔ وقت کی قلت کے باعث سوچا یہیں تمھارا انتظار کر لیتی ہوں”۔ مشائم نے خوش کن انداز میں کہا۔
“یہ گلاب تم نے کہاں سے لیا؟”۔ مشائم کے ہاتھ کی جانب نظر اٹھتے احد کو فورا سے گزشتہ رات والا واقعہ برق رفتاری سے یاد آیا کیونکہ وہ گلاب اس گلاب سے خاصی مشابہت رکھتا تھا۔
“تمھارے لیئے ہے”۔ بولتے ہی اسنے گلاب احد کی جانب بڑھایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
روم میں آتے ہی مشائم نے کمر پہ پھیلے بالوں کو جوڑے میں مقید کیا’ ڈریسنگ کے سامنے آتے آویزے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھے پھر وارڈ روب کی جانب گھومی۔
جونہی سوٹ نکالتے مشائم وارڈ روب بند کرنے لگی اسکی نگاہ کپڑوں کے مابین پڑے بکے پہ گئی۔
“یہ تو وہی بکے ہے جو پرائیویٹ روم میں احد کیلیئے کسی نے رکھا تھا لیکن یہ یہاں کیسے؟؟”۔ پل بھر کو وہ سوچ میں ڈوبی’ سوٹ کو سائیڈ پہ رکھتے اسنے بکے اٹھایا۔
جونہی اسنے ناک کو بکے تک رسائی دی’ سڑی ہوئی درگندھ نے اسکے نتھنوں کے سامنے بین کیا جس سے اسنے بکے فرش پہ پھینکا۔ فرش پہ گرتے ہی گلابوں سے خون نکلنا شروع ہوا جس نے مشائم کے پیروں کا رخ کیا۔
مشائم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جیسے ہی اسنے چلانے کی غرض سے منہ کھولا’ آواز جیسے اسکے حلق میں دب کے رہ گئی تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اسکی پشت کسی کے سینے سے ٹکڑائی ہے۔۔۔ خود پہ کسی کی سانسوں کی تپش محسوس کرتے اسکے خوف میں دگنا اضافہ ہوا۔
سانس لینے میں دشواری کے سبب اسنے ہاتھ گردن کی جانب اٹھایا جس پہ اسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اسکے گلے پہ ہاتھ رکھا ہے اور اسکے نوکیلے ناخن مشائم کی گردن کے آر پار ہو رہے ہیں۔ مشائم کا خون رستے اسکے کپڑوں کو بھگونے لگا تھا۔
“یو ول بی ڈیڈ”۔ غیبی قوت نے مشائم کے دائیں کان کے قریب حتمی سرگوشی کی تھی۔
اگلے ہی لمحے مشائم کی آنکھ کھلی’ ہڑبڑاہٹ اور ہیبت جوں کی توں برقرار تھی۔ روم میں اے سی کی خنکی کے باوجود پسینے سے اسکے بال بھیگے ہوئے تھے اور چہرہ بھی نم تھا۔
“شاید احد سے کی گئی محبت کے گہرے اثرات ہیں جو ڈراونے خواب آنے لگ گئے”۔ خود کو پر سکون کرتے وہ منمنائی۔
سائیڈ ٹیبل سے پانی اٹھانے کی کوشش میں گلاس اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پہ جا گرا۔۔ گلاس کے تعاقب میں اسنے نظر دوڑائی جہاں فرش پہ رکھا بکے اسکے گلے سے نکلی حلق پھاڑ چیخ کا سبب بنا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: