Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 10

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 10

–**–**–

شتابی میں کار ہوسپٹل کے پارکنگ ایریا میں پارک کرتے احد اسی آن کار سے نکلتا ہوسپٹل کی اندورنی جانب دوڑا۔
“یہاں ابھی ایک پیشنٹ کو لایا گیا ہے جسکا’ جسکا ایکسیڈنٹ ہوا ہے کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں؟”۔ تھکے’ گرتے پڑتے قدموں سے احد ریسیپشن پہ پہنچا جہاں ریسیپشنسٹ سامنے ٹیبل پہ رکھے مانیٹر پہ نظر گاڑھے پوئے تھی۔
“جی سر وہ ابھی آئی سی یو میں ہے”۔ ریسیپشنسٹ نے سامنے رکھے رجسٹر پہ سرسری نظر دوڑائی۔
“تھینک یو”۔ بوکھلاہٹ میں احد دائیں جانب مڑ گیا جہاں تھوڑا فاصلے پہ سمعان صاحب، راضیہ بیگم، عامر صاحب، عمارہ بیگم اور شہریار کو دیکھ کے رک گیا۔
“پاپا احد”۔ شہریار کی نظر جونہی احد کی طرف اٹھی اسنے اپنے مقابل کھڑے سمعان صاحب کو مخاطب کیا جس پہ سمعان صاحب نے احد کو بے بسی میں دیکھا۔
سمعان صاحب کے متعاقب باقی سبکی نگاہیں بھی احد پہ جمی تھیں۔
احد لڑکھڑاتے قدموں سے انکے قریب آیا۔
مستقل رونے کے سبب آنسو احد کی پلکوں میں جیسے بستہ ہو کے رہ گئے تھے۔
“احد بیٹا حوصلہ کرو اللہ بہتر کرے گا”۔ سمعان صاحب نے آگے بڑھ کر احد کو گلے لگایا۔
راضیہ بیگم’ عمارہ بیگم کو تسلی دینے کی غرض سے انکے ہمراہ بینچ پہ بیٹھی تھیں۔
“مجھے مشائم سے ملنا ہے”۔ سمعان صاحب کو سائیڈ پہ کرتے احد دائیں جانب آئی سی یو کے دروازے کی طرف بڑھا۔
دروازے میں لگے گلاس سے مشائم کا بےجان پڑا وجود دیکھتے احد کی آنکھوں میں آنسوؤں نے سر اٹھایا تھا۔ کپکپاتے ہاتھوں سے دروازہ کھولتے احد آئی سی یو میں داخل ہوا اور ہلکے قدم رکھتا مشائم کے بیڈ کے قریب آ کھڑا ہوا۔
“آئم سوری مشو”۔ مشائم کے پیروں پہ ہاتھ رکھتے احد کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ “مجھے تمھیں یوں تنہا نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا تمھارے ساتھ رہنا چاہیئے تھا تمھیں مجھ سے ملنا تھا اور میں ۔۔۔۔ مجھے میری ریکارڈنگ کی پڑی تھی”۔ مشائم کے چہرے کو دیکھتے احد نے الفاظ کے ذریعہ اپنے اندر مقید بے بسی کو عیاں کرنا شروع کیا۔
سانس میں دشواری کے سبب مشائم کے منہ پہ مصنوعی آکسیجن کی غرض سے ماسک لگا تھا۔
“میں نے تمھیں کہا تھا کہ یہ تعویز اتار دو مگر تم نہیں مانے انجام تمھارے سامنے ہے”۔ گپت آواز دوبارہ سے احد کے کانوں میں گونجی۔
“تمھاری ہمت کیسے ہوئی ایسا کرنے کی”۔ احد چلایا تھا۔
“اس چڑیا میں تمھاری جان بسی ہے نا”۔ مشائم کے چہرے پہ لگا ماسک خود نویس آہستہ آہستہ اترنا شروع ہوا جس سے مشائم کو سانس لینے میں دقت ہونے لگی تھی۔
“نہیں ایسا مت کرو میں تمھاری بات مانوں گا”۔ مشائم کی اکھڑتی سانسیں احد کے دل کی دھڑکنوں کو روکنے لگیں تھیں۔
“شاباش تم سے اسی بات کی بعید تھی”۔ غیبی قوت نے دھیمے سے بولتے ماسک دوبارہ سے مشائم کے چہرے پہ ترتیب سے لگا دیا۔
“یہ لو میں نے یہ تعویز اتار دیا”۔ احد نے بازو سے تعویز کھینچ کر اتارا اور سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔
“یہ میری پہلی خواہش تھی لیکن اس لڑکی کی خیر و عافیت کیکیئے اب تمھیں میری دوسری بات ماننی ہوگی”۔ گپت آواز نے قطعی کہا۔
“ک ک کونسی بات؟؟؟”۔ احد کے دل میں ہزار طرح کے وبال اٹھنے لگے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“زہرہ آپی مشائم کی کوئی خبر آئی؟”۔ زہرہ پریشان حالی ٹیرس پہ ٹہل رہی تھی جب فروا اسکے قریب آکر کہنے لگی۔
“نہیں فروا ابھی تک تو مشائم کی کوئی خبر نہیں آئی دعا کرو کہ اسے کچھ نا ہو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے نجانے کیا ہوگا”۔ زہرہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
“فکر مند نا ہوں خدا نے چاہا تو مشی کو کچھ نہیں ہوگا اور آپ دیکھنا انشاء اللہ مشائم ایک دن پہلے کی طرح اس گھر میں دوڑتی بھاگتی سب کو تنگ کرتی نظر آئے گی”۔ زہرہ کے قریب آتے فروا نے طمانیت سے کہا۔
“انشاءاللہ فروا’ اللہ کرے ایسا ہی ہو”۔ زہرہ نے اتفاق رائے سے کام لیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“یا اللہ میں تیرا بہت گناہگار بندہ ہوں میرے کاندھوں پہ گنہاہوں کا بوجھ گرچہ بہت زیادہ ہے لیکن تیری رحمت کی چادر اسے ڈھانپ سکتی ہے تو رحیم ہے تو وہ سب کچھ کر سکتا ہے جسکا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اے میرے پاک پروردگار تیرا یہ بندہ تجھ سے ہاتھ پھیلائے مشائم کی زندگی کی بھیک مانگتا ہے تو اپنے بندوں کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا جو بھی تیرے در پہ آیا ہے تونے اسے اپنی بساط سے زیادہ نوازا ہے۔ یااللہ تجھے تیری محبوب ہستی خاتم المرسلین کا واسطہ مشائم کو زندگی عطا کر دے۔ میری مشائم کو زندگ ۔۔۔۔ میں تجھ سے التجا ۔۔۔۔۔”۔ مسجد کا یہ وسیع صحن جس پہ اس وقت گنے چنے نمازی تھے ان میں سے اکثر و بیشتر نماز کی ادائیگی کے بعد اپنے گھروں کی جانب چل پڑے تھے سوائے انکے جنکا دل دنیاوی دکھ، رنج و غم سے پر تھا اور احد بھی ان میں سے ایک تھا جو رب کی بارگاہ میں ہاتھ پھیلائے مشائم کی زندگی کیلئے دعاگو تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد کہاں گیا شہریار؟؟”۔ شہریار جو ہوسپٹل کے باہر کھڑا تھا’ کے قریب آتے سمعان صاحب نے مخاطب کیا۔
“پاپا پتہ نہیں بتا کر نہیں گیا”۔ سمعان صاحب کی آواز پہ شہریار اس طرف گھوما۔
“بیٹا تم نے اسے جانے کیوں دیا تم جانتے ہو مشائم کے ایکسیڈنٹ کا سن کر اسکی حالت بہت خراب تھی ایسے میں اگر وہ ڈرائیونگ کرے گا مجھے ڈر ہے کہیں خود کو نقصان نا پہنچا لے”۔ سمعان صاحب نے سرزنش کرتے خدشہ ظاہر کیا۔
“پاپا آپ فکر نا کریں میں ابھی اسے کال کرکے پتہ کرتا ہوں”۔ سمعان صاحب کو مطمئن کرتے شہریار نے پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر احد کا نمبر ڈائل کیا جو دوسری رنگ پہ اٹھا لیا گیا تھا۔
“ہیلو احد تم کہاں ہو؟”۔ کال ریسیو ہوتے ہی شہریار نے جھٹ پٹ کہا۔
“بھائی میں گھر جا رہا ہوں”۔ مستقل رونے کے سبب احد کے گلے میں سوز پیدا ہو گیا تھا جو اسکی آواز میں محسوس کیا جا سکتا تھا۔
“چلو ٹھیک ہے تم گھر جا کر آرام کرو اور کہیں مت جانا”۔ شہریار نے سختی سے ہدایت کی۔
“جی بھائی آپ مشائم کا خیال رکھیئے گا’ بائے”۔ شہریار کو تنبیہ کرتے احد نے کال کاٹ دی۔
“کیا ہوا شہریار؟ احد کہاں ہے؟؟”۔ سمعان صاحب نے فورا سے کہا۔
“پاپا احد گھر جا رہا ہے میں نے بول دیا ہے کہ گھر جا کر آرام کر لے”۔ شہریار نے جوابا کہا۔
“بیٹا ایسی سچویشن میں اسے کہاں آرام ملے گا؟ اللہ اسے ہمت اور صبر دے”۔ سمعان صاحب نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اشنان کے بعد احد واش روم سے نکلتا بیڈ کی طرف آیا اور بیٹھ گیا۔ سائیڈ ٹیبل پہ پڑی اپنی اور مشائم کی تصویر پہ نظر جاتے ہی احد روانسا ہوا۔ آنکھوں کے پردوں میں مخفی بے رنگ پانی باڑ توڑتے رخسار پہ بہہ نکلا تھا۔
جو ہو سکے تو چلے آو آج میری طرف
ملے بھی دیر ہوئی اور جی بھی اداس ہے💔
ہاتھ بڑھاتے احد نے فوٹو فریم اٹھا کر اس پہ ہاتھ پھیرا جبکہ احد کی آنکھ سے بہتا جھرنا مسلسل اسکا دامن بھگو رہا تھا۔
نم رخسار، بھیگی پلکیں ملول چہرہ لیئے احد کراہ کر رہ گیا پھر دائیں ہاتھ کی پشت کی مدد سے آنسو رخسار میں جذب کرنے کی غیر ممکن کاوش کی۔
“میرے حصے کی خوشی کو ۔۔۔۔۔۔ ہنسی کو تو ۔۔۔۔۔۔ چاہے ۔۔۔۔۔۔ آدھا کر
چاہے لے لے تو ۔۔۔۔۔۔۔ میری زندگی ۔۔۔۔۔۔۔ پر تو مجھ سے ۔۔۔۔۔۔ وعدہ کر
اسکے اشکوں پہ ۔۔۔۔۔ غموں پہ ۔۔۔۔۔۔ دکھوں پہ ۔۔۔۔۔۔ ہر اسکے ۔۔۔۔۔ زخم پر
حق میرا ہی رہا ۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ ۔۔۔۔۔۔ ہر گھڑی ۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ عمر بھر
اب فقط ۔۔۔۔۔ ہو ۔۔۔۔۔ یہی
وہ ۔۔۔۔ رہے مجھ میں ۔۔۔۔۔ ہی
ہو جدا ۔۔۔۔ کہنے کو
بچھ ۔۔۔۔۔ بچھڑے نا ۔۔۔۔ پر ۔۔۔۔۔ ک کبھی”۔
تاہنوز رونے کے باعث مشائم کی تصویر کا عکس احد کی آنکھوں میں دھندلا سا گیا تھا اور گنگنانے کی آواز آنسوؤں کی آڑ میں مدھم ہوتی چلی جا رہی تھی۔
گلے کے تار رونے کے سبب اب خراب ہو گئے تھے کہ گانے کے الفاظ کے ساتھ احد کی رنجیدہ آواز بھی سننے والے کو بآسانی رونے پہ آمادہ کر سکتی تھی۔
اس دم احد کے روم کا دروازہ زوردار آواز پیدا کیئے یوں کھلا جیسے کسی نے عتاب میں دھکا دے کر کھولا ہو۔
احد نے فوٹو فریم سینے سے لگا کر آنکھیں موند لیں تھیں مگر کیفیت جوں کی توں برقرار تھی۔
“تم اس لڑکی کیلیئے اپنے انمول اور قیمتی آنسو کیوں برباد کر رہے ہو؟”۔ گپت آواز نے خفگی سے پوچھا۔
احد نے جواب میں خاموش رہنا ضروری سمجھا۔
کچھ ہی لمحوں میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھا سٹول ہوا میں اڑتا احد کے سامنے آ ٹھہرا اگلے ہی لمحے سفید لباس میں ملبوس حسین لڑکی کا جان لیوا حسن آشکار ہوا۔
“تم رونا بند کرو مجھے غصہ آتا ہے جب تم روتے ہو”۔
“کیا ملا تمھیں یہ سب کر کے؟ تم نے اسکا ایکسیڈنٹ کروا کے اچھا نہیں کیا”۔ احد نے آنکھیں کھولتے غصے میں کہا۔
“تم نے میری بات نہیں مانی تھی مجھے غصہ آ گیا اور غصے میں تو کچھ پتہ نہیں چلتا ویسے بھی پیار اور غصے میں سب جائز ہوتا ہے”۔ گپت آواز نے ہنستے ہوئے کہا۔
“پیار اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے انسان جس سے پیار کرتا ہے اسے تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا اسی وجہ سے مشائم کو تکلیف میں دیکھ کر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے مگر تم کہاں سمجھو گی کیونکہ تم نے پیار کیا جو نہیں”۔ احد نے بولتے ہی فوٹو فریم سائیڈ پہ رکھی۔
“میں تم سے پیار کرتی ہوں اور تمھارے پیار کیلیئے ہی ایسا کیا ہے”۔ غیبی آواز نے تپ کر کہا۔
“جھوٹ’ جھوٹ بولتی ہو تم اگر تم مجھ سے پیار کرتی ہوتی تو مشائم کو نقصان پہنچانے کے بارے میں سوچتی ہی نہیں”۔
“میں تم سے پیار کرتی ہوں مشائم سے نہیں”۔ غیبی قوت طیش میں آئی تھی۔
“لیکن میں مشائم سے پیار کرتا ہوں اور مرتے دم تک اسی سے کروں گا”۔ احد نے سنجیدگی سے کہا۔
“میں تمھیں مجبور کر دوں گی اور اسکے لیئے مجھے جو بن پڑا میں کروں گی”۔
تم زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتی ہو میری جان لے سکتی ہو بس تم اور کچھ نہیں کر سکتی۔ ایک یہی کام تو کرنا جانتی ہو تم”۔ احد طنزیہ ہنسا تھا۔
“تمھاری نہیں تمھارے چاہنے والوں کی لوں گی”۔
“نہیں تم ایسا کچھ نہیں کرو گی”۔ احد کے جسم میں پھریری دوڑ گئی۔
“پھر تمھیں مشائم سے دور رہنا ہوگا”۔ گپت آواز نے قطعی کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات یونہی بیڈ پہ بیٹھتے’ کھلی آنکھوں سے کاٹ دی گئی تھی۔ کوئی ایسا لمحہ’ کوئی ایسا پل نا گزرا تھا جب احد کا ذہن مشائم کے خیال سے مبرا ہو۔
جب آفتاب کی کرنوں کے ساتھ پرند کے چہچہانے کی آواز اسکے روم میں پہنچی تو اسنے خود کو روم کے فرش پہ اوندھا پایا۔ ساری رات جاگنے کے باعث اسکا بدن تھکن اور درد سے چور تھا۔
“احد بیٹا تم فرش پہ کیوں سو رہے ہو؟؟”۔ راضیہ بیگم جو احد کے روم میں داخل ہوتے ہی اس طرف آئیں تھیں’ احد کو فرش پہ لیٹا دیکھ متحیر ہوئیں۔
“ماما میں رات کو سو نہیں سکا بس پتہ نہیں کب آنکھ لگ گئی اور میں یہیں لیٹ گیا”۔ احد آنکھیں ملتا ہوا اٹھ بیٹھا تھا۔
“اچھا اٹھو شاباش”۔ بیڈ کی پائینتی پہ بیٹھتے راضیہ بیگم نے کہا۔
احد فرش سے اٹھتا راضیہ بیگم کے برابر بیٹھ گیا پھر خود کو پرسکون کرتے راضیہ بیگم کی گود میں سر رکھ لیا۔
“احد تمھیں ایک بات بتانے آئی تھی”۔ احد جو ملول راضیہ بیگم کی گود میں سر رکھے ہوئے تھا’ کے بال سہلاتے راضیہ بیگم نے کہا۔
“کونسی بات ماما؟”۔
“مشائم کو ہوش آ گیا ہے”۔
“وٹ؟؟”۔ احد سرعت سے سیدھا ہوا۔ “آپ سچ بول رہی ہیں؟؟؟”۔ احد کے چہرے پہ خوشی کی دلربا لہر دوڑ گئی تھی۔
“جی میری جان ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی شہریار کی کال آئی ہے تمھاری دعا قبول ہو گئی احد”۔ احد کا چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیتے راضیہ بیگم نے کہا۔
“تھینک یو سو مچ ماما اتنی بڑی خوشخبری سنانے کیلیئے”۔
راضیہ بیگم کے گلے لگتے وقت احد کی آنکھیں رو رہی تھیں جبکہ لب ہنس رہے تھے۔
“میں ابھی مشائم سے ملنے جاتا ہوں”۔ احد عجلت میں بیڈ سے اٹھتے واش روم کی طرف بڑھا جب یکلخت اسکے قدم واش روم کی دہلیز پہ جمے۔
“اگر مشائم کی بھلائی چاہتے ہو تو تمھیں اس سے دور رہنا ہوگا ورنہ اس بار تو وہ بچ گئی آئیندہ تم اسکی صورت دیکھنے کیلیئے بھی ترسو گے”۔ خیال آتے ہی احد کی آنکھیں خوف و ہراس سے ابھریں۔
“کیا ہوا احد بیٹا؟”۔ راضیہ بیگم احد کی اس حرکت پہ متعجب اسکی طرف آئیں۔
“ک ک کچھ نہیں ماما”۔ جبرا مسکان لبوں پہ سجاتے احد اس طرف مڑا۔
“ٹھیک ہے بیٹا تم فریش ہو کر آجاو میں تمھارے لیئے ناشتہ بناتی ہوں”۔ راضیہ بیگم اسے باور کراتے روم سے نکل گئی تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشی میری بچی کیسی ہو؟”۔ مشائم کو ہوش میں آنے کے بعد کامن روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ عمارہ بیگم روم میں داخل ہوتے ہی بےقراری میں مشائم کے قریب آ کر کہنے لگیں۔
“ماما میں ٹھیک ہوں”۔ مشائم نے ہولے سے کہا۔
“آنٹی میں میڈیسنز، فروٹس اور جوس لے آیا ہوں اسکے علاوہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بتائیے گا”۔ شہریار ہاتھ میں شاپنگ بیگز پکڑے روم میں داخل ہوا۔
“بہت شکریہ بیٹا”۔ عمارہ بیگم نے خوش کن لہجے میں کہا۔
“کوئی بات نہیں آنٹی’ مشائم اب تمھاری طبیعت کیسی ہے؟؟”۔ عمارہ بیگم کے بعد شہریار نے مشائم کو مخاطب کیا۔
“میں ٹھیک ہوں’ شہریار بھائی احد کہاں ہے؟؟”۔ آنکھوں میں دید کی آرزو لیئے مشائم نے سوال کیا۔
“مشائم احد گھر ہے”۔
“گھر ہے؟”۔
“ہاں میں گھر جا کر اسے بھیجتا ہوں”۔ بولتے ہی شہریار روم سے نکل گیا تھا۔
“احد کو تو ہوسپٹل میں ہونا چاہیئے تھا لیکن وہ گھر ہے”۔ شہریار کی بات پہ مشائم سوچ میں پڑ گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما احد کہاں ہے؟؟”۔ احد کو روم میں تلاش کرنے کے بعد اب شہریار سمعان صاحب اور راضیہ بیگم کے روم میں آیا تھا جہاں راضیہ بیگم وارڈ روب میں کپڑوں کی ترتیب سیٹ کر رہی تھیں۔
“احد ہوسپٹل گیا ہے’ کیا وہاں نہیں پہنچا؟؟”۔ راضیہ بیگم وارفتہ وارڈ روب بند کرتیں اس طرف آئیں۔
“نہیں ماما میں ابھی ہوسپٹل سے ہی آ رہا ہوں مشائم بہت بار احد کا پوچھ چکی ہے لیکن احد ہوسپٹل نہیں پہنچا”۔ شہریار نے تفصیلا کہا۔
“پتہ نہیں بیٹا پھر کہاں گیا تم اسے کال کر کے پوچھ لو نا”۔ راضیہ بیگم نے مزید کہا۔
“ویسے مجھے لگا تھا شاید آپکو بتا کر گیا ہو لیکن وہ آپکو بھی بتا کر نہیں گیا چلیں ٹھیک ہے میں اسے کال کر کے پوچھ لیتا ہوں”۔ بولتے ہی شہریار روم سے نکل گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشی زہرہ آپی تمھارے لیئے بہت فکر مند تھیں ہر وقت لب پہ صرف ایک ہی دعا یااللہ میری بہن کو جلدی سے ٹھیک کر دے”۔ زہرہ ،فروا اور جبار بھی شہلا بیگم’مشائم کی خالہ’ کے ہمراہ ہوسپٹل پہنچ گئے تھے جب فروا نے مشائم کو مخاطب کرتے اپنے مقابل کھڑی زہرہ کی جانب دیکھا۔
جواب میں مشائم دھیرے سے مسکرا دی۔
“مشائم احد کہاں ہے؟ کیا باہر گیا ہے؟؟”۔ خیال آتے ہی زہرہ نے پوچھا۔
“آپی وہ ۔۔۔۔”۔
“زہرہ بیٹا وہ احد ابھی تک نہیں آیا”۔ عمارہ بیگم نے مشائم کی بات کاٹتے کہا۔
“نہیں آیا؟؟”۔ زہرہ کا منہ حیرت سے کھلا۔ “لیکن احد کیوں نہیں آیا وہ تو مشائم کے بغیر ایک منٹ بھی نہیں رہ سکتا تھا اور وہ اس سے ملنے نہیں آیا”۔
زہرہ کی بات پہ مشائم سر جھکا کے رہ گئی اور اشک اسکی آنکھوں سے بہہ کر دامن پہ گرنے لگے تھے جسے عمارہ بیگم نے فورا سے اوبزرو کیا تھا۔
“مشی”۔ مشائم کے بائیں شانے پہ ہاتھ رکھتے عمارہ بیگم نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
مشائم نے جھٹ پٹ اپنے آنسو صاف کیئے پھر سر اٹھایا۔
“ملنے دو اسے ایک بار اچھے سے خبر لوں گی اسکی”۔ مشائم کو دلاسہ دینے کی غرض سے زہرہ نے چڑ کر کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد عرفان سے ملنے اسکے گھر آیا تھا۔ دوڑ بیل بجا کر انتظار کرنے لگا’ دروازہ کچھ ہی دیر میں کھل گیا تھا جو عرفان نے بذات خود کھولا تھا۔
“ارے احد تم؟”۔ احد کو دیکھتے عرفان حیرت انگیز حد تک خوش ہوا۔
“سوری یار تجھے شام کے اس پہر ڈسٹرب کر رہا ہوں ایکچوئلی مجھے تم سے ایک ضروری کام ہے”۔ احد نے پس و پیش کہا۔
گزشتہ دو دن سے مستقل رونے کے سبب احد کے گلے کے تار خراب ہو چکے تھے اور آنکھیں لال ہو چکی تھیں۔ احد کی حالت عرفان کو قدرے معیوب لگی۔
“اندر چل کے بات کرتے ہیں’ آو”۔ سائیڈ پہ ہوتے عرفان نے احد کو راستہ دیا پھر اسکے ہمقدم گھر کی اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
ڈرائنگ روم میں احد کشادہ صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
“کیا لو گے ٹھنڈا’ گرم’ چائے’ کافی؟؟”۔ بیٹھنے سے پہلے عرفان نے اسے مخاطب کیا۔
“نتھنگ’ تھینکس”۔ احد جبرا مسکرا دیا۔
“اچھا چلو بتاو کیا کام ہے؟؟”۔ احد کے بائیں ہاتھ پہ رکھے چھوٹے صوفے پہ بیٹھتے عرفان نے کہا۔
“عرفان مجھے ایبراڈ کنسرٹ کرنا ہے اور اسکے لیئے مجھے تمھاری مدد کی ضرورت ہے”۔ احد نے مدعا بیان کیا۔
“ایبراڈ کنسرٹ کرنا ہے وہ بھی اچانک؟ احد تم جانتے ہو اسکے لیئے وقت درکار ہے یوں اچانک یہ سب مینیج کرنا مشکل ہوگا”۔ عرفان نے وضاحت کی۔
میں جانتا ہوں’ عرفان دیکھ یار میں تیرے پاس بڑی امید لے کر آیا ہوں میرے پاس اسکے علاوہ کوئی حل نہیں ہے نا ہی کوئی چارہ”۔ احد نے مرجھائے ہوئے لہجے سے کہا۔
“ٹھیک ہے احد میں کچھ کرتا ہوں تم فکر نا کرو”۔ احد کے چہرے کے تاثرات بھانپتے عرفان نے ہامی بھری۔
تھینک یو سو مچ یار”۔ احد کو آس کی کرن نظر آئی تھی۔
“لیکن ایک پریشانی ضرور ہوگی”۔ عرفان نے آزمودہ کاری سے کہا۔
“کونسی؟”۔ احد ششدر رہ گیا۔
“تمھاری یہ حالت’ تمھیں اپنی حالت میں بدلاو لانا ہے ورنہ ایسی حالت میں کنسرٹ نہیں عاشقی تھری ہی بن سکتی ہے”۔ بولتے ہی عرفان نے قہقہ لگایا۔
“نہیں نہیں اسکی نوبت نہیں آئے گی”۔ احد بھی ہنس دیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے بارہ بج رہے تھے گرچہ مشائم ہوش میں آ گئی تھی مگر اسکا دل یونہی اذیت کی پکڑ میں دھڑکنا بھول سا گیا تھا۔ سینے کی دیواروں سے سر پٹختے وہ باہر آنے کو بے چین تھا۔ آنکھیں رو رو کر نڈھال ہو گئیں تھیں’ لیمپ کی مدھم روشنی میں اسکا آنسووں سے تر چہرہ قدرے ڈراونا معلوم ہو رہا تھا۔ آنکھ سے گرتے اشکوں نے رخسار سے بہتے مشائم کے تکیے کا رخ کیا تھا جنہیں اب اسنے صاف کرنے کی بجائے اپنے حال پہ چھوڑ دیا تھا۔
“کیسا پیار ہے تمھارا؟؟ کیا واقعی تمھاری کوئی مجبوری ہے یا تمھارا دل مجھ سے اچاٹ ہو گیا ہے۔ میں کچھ سمجھ نہیں پا رہی۔ مجھ سے ملنا تو درکنار تم نے مجھ سے کال پہ بات کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اس سے تو بہتر تھا کہ میں مر جاتی کم از کم محبت کی اس اذیت سے میں ہرگز دوچار نا ہوتی”۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم کے گھر کے باہر بائیک کھڑی کرتے حمزہ نے بائیک سے اتر کر ڈور بیل بجائی۔
“آپ کون؟”۔ فروا نے گیٹ کھولا تو حمزہ کر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
کالی فلیکسیبل جینز پہ سفید ٹی شرٹ، بال ہمیشہ کی طرح تھوڑا منتشر تھے، ہاتھ میں بکے اور پیروں میں سنیکرز۔
“میں حمزہ مشائم سے ملنے آیا ہوں”۔ حمزہ نے سنجیدگی سے کہا۔
فروا سائیڈ پہ ہوئی تب حمزہ گھر میں داخل ہوا پھر فروا کے تعاقب میں گھر کے اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
“اسلام و علیکم”۔ انٹرنس پار کرتے ہی حمزہ کا ٹکڑاو زہرہ سے ہوا جو حمزہ کی انجان صورت دیکھ کر فروا کو اشارہ کرنے لگی۔
“جی میں مشائم کا دوست ہوں اسکی خیریت معلوم کرنے آیا ہوں”۔ حمزہ نے زہرہ کے ذہن میں اٹھتے سوالات کا جواب دیتے کہا۔
“او اچھا’ وعیلکم اسلام فروا اسے مشائم کے روم میں ہی لے جاو۔ کیا ہے نا کہ وہ ابھی اس قابل نہیں کہ چل سکے”۔ فروا کے بعد زہرہ نے حمزہ کی طرف دیکھا۔
“مشی دیکھو تم سے کون ملنے آیا ہے؟”۔ فروا کی آواز پہ بیڈ پہ لیٹی مشائم کے دماغ میں پہلا خیال احد کا آیا جس پہ مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا لیکن حمزہ کو دہلیز پہ کھڑا دیکھ مشائم کی ہنسی پل میں اڑ گئی۔
“ارے حمزہ تم؟”۔ مشائم نے افسردگی سے کہا۔
“ہاں وہ تمھارے ایکسیڈنٹ کا سنا تو تم سے ملنے چلا آیا سوری تمھیں بتایا ہی نہیں”۔ قدم اٹھاتا حمزہ مشائم کے قریب آیا۔
“نہیں کوئی بات نہیں”۔ مشائم بولتے ہی فی الفور سیدھی ہوئی اور دوپٹہ کندھوں پہ برابر کیا۔
“تمھارے لیئے”۔ بولتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑا بکے مشائم کی طرف بڑھایا۔
“تھینکس”۔ مشائم مجبوری کے تحت مسکرا دی۔
“اب تمھاری طبیعت کیسی ہے؟”۔ بیڈ کے قریب رکھی چیئر پہ بیٹھتے حمزہ نے کہا۔
“پہلے سے بہتر ہے”۔ مشائم نے دھیرے سے کہا۔
“اللہ کا شکر ہے کہ تمھیں زیادہ چوٹ نہیں آئی”۔
“جی”۔ بولتے ہی مشائم نے چہرے پہ آئی لٹ کان کے پیچھے اڑسی۔ “احد تمھارے ساتھ نہیں آیا؟؟”۔ مشائم نے ہچکچاتے کہا۔
“احد؟؟ کیا مطلب احد میرے ساتھ کیوں آئے گا؟”۔ مشائم کے سوال پہ حمزہ دنگ رہ گیا۔ “وہ ابھی تک تم سے ملنے نہیں آیا؟؟”۔ حمزہ کو شاک لگا تھا۔
“نہیں”۔ مشائم کے دل کی کیفیت اسکے چہرے پہ آشکار تھی جسے حمزہ بھانپ گیا تھا۔
بغیر کچھ کہے حمزہ فورا سے چیئر سے اٹھا اور روم سے نکل گیا تھا۔
مشائم اسے کیا ہوا؟؟”۔ فروا جو حمزہ کے تعاقب میں کھڑی تھی حمزہ کا رویہ دیکھ کر حیران ہوئی۔
“پتہ نہیں”۔ مشائم نے شانے اچکا دیئے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: