Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 11

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 11

–**–**–

حمزہ تیز رفتاری میں بائیک ہوا میں اڑاتا حویلی پہنچا’ بائیک پورچ میں کھڑے کرتے دوڑ لگاتا انٹرنس کی سیڑھیاں پار کرتے ہال میں پہنچا۔
“ارے حمزہ تم؟؟”۔ حرا جو ہاتھ میں چائے کی ٹرے لیئے اپنے روم کی جانب بڑھ رہی تھی’ حمزہ کو دیکھتے ہی رک گئی۔
“جی بھابی وہ احد سے ملنے آیا ہوں کہاں ہے وہ؟؟”۔ پھولتی سانس بحال کرتے حمزہ نے کہا۔
“میں نے صبح سے احد کو دیکھا نہیں شاید اپنے روم میں ہے”۔ حرا نے اندازہ لگایا۔
“چلیں ٹھیک ہے میں چل کے دیکھ لیتا ہوں”۔ بولتے ہی وہ سیڑھیوں کی طرف قدم رکھنے لگا۔
احد ایبراڈ کنسرٹ کیلیئے اپنی پیکنگ کر رہا تھا جب حمزہ اسکے روم کی دہلیز پہ آ کھڑا ہوا۔
جونہی احد ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑا ہوا آئینے سے حمزہ کا عکس دیکھتے مبہوت رہ گیا پھر سرعت سے پلٹا۔
“کیا ہوا؟؟ تیرے چہرے کے رنگ کیوں اڑ گئے”۔ سنجیدگی میں بولتے حمزہ قدم اٹھاتا احد کے قریب آ کھڑا ہوا۔
“ک کچھ نہیں سناو کیسے آنا ہوا؟”۔ احد نے چہرے کے نقوش ڈھیلے کیئے۔
“کیوں نہیں آ سکتا؟”۔ احد کے چہرے کے عجیب النوع تاثرات دیکھتے حمزہ عجیب کشمکش کا شکار ہوا۔
“میں نے ایسا کب کہا تم میرے دوست ہو اور دوست ہونے کی حیثیت سے تم جب چاہو یہاں آ سکتے ہو اور اسکے لیئے تمھیں کسی کی پرمشن کی ضرورت نہیں”۔ حمزہ کے شانوں پہ ہاتھ رکھتے احد نے خنداں روئی سے کہا۔
“اور مشائم؟ اسکے حوالے سے کیا کہنا چاہو گے تم”۔ بولتے ہی اسنے احد کے ہاتھ کندھوں سے ہٹائے تھے۔
“مشائم”۔ احد نے لعب نگلا۔
“ہاں مشائم کیا ہوا بھول گئے؟؟”۔
“نہیں”۔ نظریں چرائے احد نے ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی پرفیوم کی شیشیاں اٹھائیں اور بیڈ پہ رکھے بیگ میں رکھنے لگا۔
“پیار کرتے ہو نا اس سے عشق کا دعوی کرتے ہو؟ ایسے ہوتے ہیں عاشق جو خوش کنار کو تکلیف میں دیکھ کر بھی پرسکون اپنی زندگی میں مست رہتے ہیں”۔ احد کی طرف مڑتے حمزہ نے تپ کر کہا۔
“پلیز حمزہ میں اس حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا”۔ لاپرواہی میں بولتے احد ڈریسنگ روم کی طرف گھوما جب حمزہ نے اسکا راستہ روکا۔
“میں تم سے بات کر رہا ہوں احد”۔
“حمزہ دیکھ یہ میرا پرسنل میٹر ہے تو اس سے دور رہ”۔ انگلی کے اشارے سے وارن کرتے احد نے اسے گھوری سے نوازا۔
“صحیح کہا تم نے’ یہ تمھارا ذاتی معاملہ ہے میں تو تمھارا دوست ہوں صرف دوست آخر مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ تمھارے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کروں”۔ احد کی بات پہ حمزہ نے تاسف سے کہا۔
“دیکھ حمزی میرا وہ مطلب نہیں ۔۔۔۔”۔
“ایم سوری”۔ احد کی بات سنے بنا ہی حمزہ فورا سے دروازے کی طرف بڑھا۔
“حمزہ یار میری بات تو سن”۔ احد نے آواز لگائی جبکہ حمزہ روم سے جا چکا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاتھوں میں سر گرائے احد بیڈ پہ بیٹھا تھا اور حمزہ سے کی گئی تلخ کلامی پہ پشیماں تھا۔ فون اٹھا کر اسنے حمزہ کا نمبر ڈائل کیا جو وہ رنگ جانے کے باوجود دانستہ نہیں اٹھا رہا تھا۔ احد نے عتاب میں فون بیڈ پہ پھینکا’ اٹھ کر شرٹ کے بٹنز بند کیئے پھر عجلت میں روم سے نکل گیا۔
“احد بیٹا تم مشائم کی طرف نہیں گئے؟؟”۔ احد سیڑھیاں پار کرتے ہال میں پہنچا ہی تھا کہ ہال میں موجود راضیہ بیگم نے اسے مخاطب کیا۔
“وہ ماما میں ۔۔۔”۔
راضیہ بیگم کے سوال نے اسکے قدموں میں زنجیر ڈالی۔
“میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں احد’ جواب دو”۔ راضیہ بیگم صوفے سے اٹھتی اس طرف آئیں۔
“نہیں ماما”۔ احد نے نظریں جھکا لیں۔
“وجہ جان سکتی ہوں؟؟ تمھاری مشائم کے ساتھ شادی طے تھی احد وہ اتنے بڑے حادثے سے گزری ہے تمھیں اسکی خبر گیری کرنی چاہیئے تھی اور تم گئے ہی نہیں”۔ راضیہ بیگم طیش میں آئیں تھیں۔ “ابھی جاو فورا اسکی طرف”۔ راضیہ نے قطعی کہا۔
“ایم سوری ماما لیکن میں مشائم سے ملنے نہیں جا سکتا”۔ حتمی فیصلہ سناتے احد انٹرنس کی طرف بڑھ گیا۔
“احد میری بات سنو’ احد”۔ راضیہ بیگم احد کا نام پکارتے رہ گئیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ڈور بیل بجی تو حمزہ نے دروازہ کھولا جب احد کو دیکھتے اسکی آنکھیں ناراضگی میں ابھریں۔
“حمزہ یار مجھے تجھ سے بات کرنی ہے”۔ احد نے ہچکچاتے کہا جب حمزہ نے سائیڈ پہ ہوتے احد کو راستہ دیا پھر اندر کی طرف بڑھنے لگا’ احد بھی اسکے متعاقب چل پڑا۔
ڈرائنگ روم میں جاتے ہی حمزہ چپ سادھے صوفے پہ بیٹھ گیا تھا جبکہ احد اسکے دائیں جانب رکھے کاوچ پہ بیٹھا تھا۔
“کہو کیا کہنا ہے؟”۔ احد کی طرف چہرہ اٹھائے حمزہ نے آزمودہ کاری سے کہا۔
“حمزہ یار ایم سوری میرے کہنے کا وہ مطلب نہیں تھا”۔ احد نے شروعات کی۔
“اٹس اوکے”۔ حمزہ نے ریزرو رہتے جواب دیا۔
حمزی وائے آر یو بیہیونگ لائک دس؟”۔ احد نے چڑ کر کہا۔
“میں ایسے بیہیو کیوں کر رہا ہوں؟”۔ حمزہ عتاب میں صوفے سے اٹھا۔
“ریلکیس حمزہ کیا ہو گیا ہے؟”۔ احد حیرت میں صوفے سے اٹھا۔ “اوکے ایم سوری اٹس آل مائی مسٹیک’آئی ایڈمٹ”۔ احد نے لہجے میں ٹھہراو لاتے کان کو ہاتھ لگایا۔
حمزہ نے کچھ پل اسے گھورا پھر تنے ہوئے نقوش ڈھیلے کرتے ہنس دیا۔
“جا تجھے معاف کیا’ دوستی کی راہ میں مجھ کو یوں جھاڑنے والے”۔ حمزہ شریر ہوتے گنگنانے لگا تھا۔
“تھینکس بڈی”۔ احد فورا سے حمزہ کے گلے لگا۔
“لیکن میں تم سے ابھی تک ناراض ہوں”۔ احد سے الگ ہوتے ہی حمزہ نے کہا جس پہ احد اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا۔
“تمھیں میری بات ماننی ہوگی تبھی میں تمھارے ساتھ راضی ہوں گا’ بول منظور ہے؟”۔ حمزہ نے شرط رکھی۔
“ہاں قبول ہے”۔ کچھ پل سوچنے کے بعد احد نے ہامی بھری۔ “بول کونسی بات؟؟”۔ احد نے مزید کہا۔
“دوست ہونے کی حیثیت سے یہ تو میں جانتا ہوں کہ تو مشائم سے کتنی محبت کرتا ہے لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا کہ تو اسے آوائیڈ کیوں کر رہا ہے؟ اسکے پیچھے کی ریزن کیا ہے؟”۔ حمزہ احد کے مقابل آ کھڑا ہوا۔
“یار حمزہ میں تجھے ابھی اس بارے میں کچھ نہیں بتا سکتا”۔ احد نے دھیرے سے کہا۔
“دیکھ احد یار تجھے اگر کوئی پریشانی ہے تو’ تو مجھ سے شیئر کر سکتا ہے”۔ احد کے دائیں دوش پہ ہاتھ رکھتے حمزہ نے اسے جیسے یقین دہانی کرائی تھی۔
“فلحال تو بس اتنا جان لے میں مشائم سے دور اسی کی خاطر ہوں مشائم مجھے میری جان سے بھی زیادہ پیاری ہے اور اسکی جان کیلیئے مجھے اس سے دور رہنا ہی ہوگا۔ میں جانتا ہوں یہ میرے اور اسکے لیئے کافی مشکل ہے مگر میں چاہ کر بھی اس کے قریب نہیں جا سکتا”۔ احد کی آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔
“احد کیا ہوا ہے؟؟”۔ احد کے چہرے پہ بے بسی دیکھتے حمزہ کو دھچکا لگا۔
“یہ میں تجھے نہیں بتا سکتا’ تو میرا اک کام کرے گا؟”۔ احد نے التجا کی۔
“ہاں کیوں نہیں کہو کیا کام ہے”۔
“مشائم کو پلیز اس بات کا یقین دلا دو کہ میں اس سے دور اپنی مرضی سے نہیں۔ وہ اپنا بہت خیال رکھے اور ٹینشن نا لے”۔
“تم فکر نا کرو میں مشائم سے بات کر لوں گا”۔ حمزہ نے اسے باور کرایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“سمعان آپ اس لڑکے کو سمجھاتے کیوں نہیں ہیں پہلے جتنا آرام سے بات سن لیتا تھا اب اتنا ہی بگڑتا جا رہا ہے’ اپنی من مانی کرنے لگا ہے”۔ مشائم کی احوال پرسی کے بعد راضیہ بیگم اور سمعان صاحب حویلی کی طرف جا رہے تھے’ سمعان صاحب کار ڈرائیو کر رہے تھے جبکہ راضیہ بیگم انکے ہمراہ بیٹھی تھیں۔
“راضیہ بیگم آپ خواہ مخواہ پریشان ہو رہی ہیں احد ایک رسپانسیبل لڑکا ہے اگر وہ مشائم سے ملنے نہیں آیا تو ہو سکتا ہے کوئی مصروفیت رہی ہو تبھی وہ نہیں آ سکا”۔ سمعان صاحب نے اپنی رائے پیش کی۔
“سمعان جہاں رشتہ جڑ جائے وہاں چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے اور تو اور’ احد اور مشائم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں انکی پسند سے رشتہ ہوا ہے اصولا احد کو وہاں جانا چاہیئے عامر بھائی کیا سوچیں گے؟”۔ راضیہ بیگم نے مخالفت کی۔
“راضیہ بیگم میرا خیال ہے کہ آپ کچھ زیادہ ہی سوچنے لگی ہیں”۔ سمعان صاحب نے بےزارگی ظاہر کی۔
“آپکا بیٹا بالکل آپ ہی پہ گیا ہے بات سمجھنے کی بجائے ہوا میں اڑا دیتا ہے”۔ راضیہ بیگم نے منہ بسورا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشی تم سونے لگی ہو؟؟”۔ مشائم سونے کی غرض سے بیڈ پہ لیٹ گئی تھی جب فروا اسکے روم میں داخل ہو کر اس طرف آئی۔
“ہاں بس سونے کی تیاریوں میں ہوں تم کیوں جاگ رہی ہو؟؟”۔ فروا جب اسکے قریب آئی تو مشائم اٹھ بیٹھی تھی۔
“نیند نہیں آ رہی”۔ مشائم کے سامنے بیٹھتے فروا نے کہا۔
“تو کیا اب میں تمھیں لوری دوں تم تب سو گی؟؟”۔ مشائم نے شرارت سے کہا۔
“کوئی مضائقہ نہیں”۔ فروا نے فورا سے کہا۔
“لیکن ابھی مجھے سونا ہے تم زہرہ آپی کو بول دو”۔ کمفرٹر سیٹ کرتے مشائم نے کہا۔
“وہ تو اللہ کو پیاری ہو چکیں”۔
“اللہ نا کرے فروا کیسی باتیں کر رہی ہو”۔ مشائم نے ناگورای سے کہا۔
“میرا کہنے کا مطلب ہے کہ وہ سو چکی ہیں”۔ فروا نے تصحیح کی۔
“سوچ سمجھ کے بولا کرو فروا”۔ مشائم نے دھیرے سے کہا۔
“اچھا نا غلطی ہو گئی”۔ فروا نے کہا۔ “اچھا مشی ایک بات تو بتاو کیا احد بھائی کی کال آئی؟؟”۔ خیال آتے ہی فروا نے کہا۔
“نہیں اور اب آئے بھی تو میں نے اس سے بات نہیں کرنی”۔ پہلی بار احد کے نام پہ مشائم جھنجھلا اٹھی تھی۔
“پتہ نہیں مشائم میں صحیح سوچ بھی رہی ہوں یا غلط مجھے لگتا نہیں کہ احد بھائی جان نے بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ مرد کے بارے میں یہ لاکھ مشہور سہی کہ مرد کبھی وفا نہیں کرتا لیکن احد بھائی کی آنکھوں میں جو محبت تمھارے لیئے میں نے دیکھی ہے وہ شاید کسی اور کے لیئے کبھی نہیں ہوگی۔ میرا مشورہ ہے کہ تم ان سے بات کرکے سب کلیئر کر لو کہ وہ تم سے ملنے کیوں نہیں آئے”۔ فروا نے احد کی سائیڈ لیتے تجویز دی۔
فروا کی باتوں نے مشائم کو سوچنے پہ آمادہ کیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد مشائم سے دور ہوتا جا رہا ہے چڑیل کی ہر بات ماننے لگا ہے اگر ایسا چلتا رہا تو ایک دن ان دونوں کی زندگیاں خراب ہو جائیں گیں”۔ حرا حویلی کی انٹرنس کی جانب اپنے پرسوچ قدم اٹھا رہی تھی۔ “احد میرے چھوٹے بھائیوں جیسا ہے وہ دکھ میں ہے’ اسکی زندگی داو پہ لگی ہے ایسے میں’میں چپ کیسے بیٹھ سکتی ہوں۔ اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے اور دنیا میں یہ کوئی پہلا کیس تو نہیں ہے۔ اس چڑیل کو احد سے غرض ہے اور احد کے ساتھ منسلک لوگوں کو اس کی خوشی سے۔ مجھے انکل آنٹی کو بتا دینا چاہیئے ممکن ہے کوئی حل نکل آئے”۔ انٹرنس کی دہلیز پہ کھڑے ہوتے حرا نے حویلی کے لان میں بیٹھے راضیہ بیگم، سمعان صاحب اور نگینہ بیگم کو دیکھا جو آپس میں بحث و مباحثہ کر رہے تھے۔
“میں چپ نہیں رہ سکتی مجھے انہیں بتانا ہی ہوگا”۔ ہمت کی ننھی ٹکڑیوں کو آپس میں یکجا کرتے حرا سیڑھیاں اترنے لگی تھی۔ راہداری سے دو سیڑھیوں کے فاصلے پہ پہنچتے ہی حرا توازن کھو بیٹھی اور سیڑھیوں سے نیچے جا گری۔
حرا کی چیخ کی آواز پہ سمعان صاحب کے متعاقب نگینہ بیگم اور راضیہ بیگم بھی اس جانب لپکیں۔
“کیا ہوا حرا بیٹا تم گر کیسے گئی؟؟”۔ راضیہ بیگم ہواس باختہ سی اس طرف آئیں۔
“پتہ نہیں آنٹی مجھے سمجھ نہیں آئی”۔ پاوں پہ ہاتھ رکھے حرا نے بمشکل کہا۔
“میں گاڑی نکالتا ہوں راضیہ بیگم آپ حرا کو لے کر آئیں ہم ابھی ہوسپٹل جائیں گے”۔ سمعان صاحب بولتے ہی پورچ کی طرف بڑھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میں نے چیک اپ کر لیا ہے سب نارمل ہے صرف انکے پاوں میں فریکچر آیا ہے”۔ لیڈی ڈاکٹر حرا کی جانچ کرنے کے بعد اپنی چیئر پہ آ بیٹھی تھی جہاں مقابل میں راضیہ بیگم براجمان تھیں۔
اللہ کا شکر ہے کہ کوئی سنگین مسئلہ نہیں ہے لیکن ڈاکٹر فریکچر کیسے ہو سکتا ہے؟ میرا مطلب ہے کہ حرا اونچائی سے نہیں گری”۔ راضیہ بیگم نے شکر ایزد کیا پھر متحیر سی ڈاکٹر سے کہنے لگیں۔
“پتہ نہیں اس حوالے سے میں آپکو کچھ بھی نہیں بتا سکتی جیسا آپ بتا رہی ہیں کہ اونچائی زیادہ نہیں تھی اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر انکے پیر میں فریکچر کیسے آیا؟؟”۔ ڈاکٹر بھی حیران رہ گئی۔
“فریکچر کیسے ہو گیا؟؟ میں تو دو سیڑھیوں کی اونچائی سے گری ہوں جو نا ہونے کے برابر تھی’ ہو نا ہو یہ کام اسی چڑیل کا ہے وہی نہیں چاہتی کہ اسکے متعلق کسی کو پتہ چلے”۔ حرا لنگڑاتے ہوئے راضیہ بیگم کے برابر آ بیٹھی تھی۔
“حرا بیٹا میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا؟؟”۔ راضیہ بیگم نے کنفرم کیا۔
“ج ج جی آنٹی”۔ حرا جو سوچ میں ڈوبی تھی ہکلا اٹھی۔
“چلیں کوئی بات نہیں آپ پریشان مت ہوں فریکچر ایک ماہ تک ٹھیک ہو جائے گا”۔ راضیہ بیگم اور حرا کے چہرے کے تاثرات بھانپتے ڈاکٹر نے انہیں دلاسہ دیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“حرا کی طرح مشائم بھی ایک دفعہ ایسے ہی سیڑھیوں سے گر گئی تھی’ ایک بار گملے کا وار جس نے احد کے کندھے کو زخمی کیا’ مشائم کا ایکسیڈنٹ ہو گیا’ احد مشائم سے دور ہو رہا ہے’ بات بات پہ عجیب بیہیو کرنے لگتا ہے جیسے چھوٹی چھوٹی بات پہ غصہ کھاتا ہو۔ آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے؟”۔ راضیہ بیگم خیالی دنیا میں سوچ کے گھوڑے دوڑاتیں اپنے روم کی طرف قدم رکھ رہی تھیں۔
“شاہ صاحب سے بات کرتی ہوں”۔ ہزار سوچوں کے بعد راضیہ بیگم کی الجھن جیسے سلجھنے کی راہ دیکھنے لگی تھی۔
“سمعان میری بات سنیں”۔ روم میں داخل ہوتے ہی راضیہ بیگم سمعان صاحب کے قریب آئیں جو بیڈ کے کراون سے ٹیک لگائے فون کے ساتھ لگے تھے۔
“کہیئے کیا بات ہے؟ آپ فکر مند لگ رہی ہیں سب خیریت ہے؟؟”۔ فون سے نگاہ اٹھا کر سمعان صاحب نے راضیہ بیگم کے چہرے کو دیکھا جو ہنوز سوچ کے بھنور میں پھنسی تھیں۔
“سمعان کل ہم شاہ صاحب کے پاس چلیں گے آپ کل آفس سے جلدی آ جائیے گا”۔ راضیہ بیگم نے قطعی کہا پھر سمعان صاحب کے مقابل تھوڑا فاصلے پہ بیڈ پہ بیٹھ گئیں۔
“شاہ صاحب کے پاس؟”۔ سمعان صاحب دنگ رہ گئے۔ “لیکن کیوں راضیہ بیگم؟؟ اچانک سے آپکو شاہ صاحب کا خیال کیسے آ گیا؟ وہ بھی یوں بیٹھے بٹھائے”۔ سمعان صاحب نے مزید کہا۔
“آپ اس بات کو چھوڑیں سمعان بس آپ کل آفس سے جلدی آ جائیے گا اور ہاں کسی کو بتائیے گا مت”۔ راضیہ بیگم نے تنبیہ کی۔
“ٹھیک ہے کل چلے چلیں گے شاہ صاحب کے پاس اب آپ پریشان نا ہوں رات کافی ہو گئی ہے جا کے سو جائیں ورنہ طبیعت خراب ہو جائے گی آپکی”۔ سمعان صاحب نے انہیں تسلی دیتے کہا۔
“جی”۔ راضیہ بیگم بھی وہاں سے اٹھتے بیڈ کی دوسری جانب جا بیٹھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشائم ایم سوری کہ تمھیں بلاوجہ ڈسٹرب کر رہا ہوں”۔ مشائم فریش ہوکر واش روم سے نکلتے بیڈ کی طرف آئی ہی تھی کہ اسکا فون بجا جس پہ اسنے فون اٹھا کر دیکھا جہاں حمزہ کا نمبر درخشاں تھا۔کال ریسیو کرتے مشائم نے فون کان کے ساتھ لگایا۔
“اٹس اوکے کہو فون کیسے کرنا ہوا؟؟”۔ مشائم نے سنجیدگی سے کہا۔
“مشائم میں جانتا ہوں کہ احد تم سے ملنے نہیں آیا نا ہی کال کرکے تمھاری احوال پرسی کی اس بات کو لے کر تم بہت اپ سیٹ ہو اور کہیں نا کہیں اس سے ناراض اور خفا بھی”۔ حمزہ نے بات سنبھالنے کی کاوش میں بات کا آغاز کیا۔
“نہیں حمزہ میں نا ہی احد سے ناراض ہوں اور نا ہی خفا”۔ مشائم نے فی الفور کہا۔
“مشائم تم احد سے پیار کرتی ہو اور اگر آپکا چاہنے والا آپکی خبر گیری نا کرے خاص کر اس وقت جب آپکو اسکی ضرورت ہو’ آپ کو برا تو لگتا ہے نا”۔
“بھول تھی میری مجھے لگتا تھا جس انسان سے میں محبت کرتی ہوں وہ بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے لیکن شاید ایسا نہیں تھا اور یہ بات راکسٹار احد سمعان نے مجھے بتا دی بلکہ جتا بھی دی کہ اسے مجھ سے محبت نہیں تھی’ صرف لگاو تھا جو ختم ہوا”۔ مشائم کی آنکھوں میں اشک اتر آئے۔
“مشائم ایسی بات نہیں ہے احد کے دل میں صرف ایک ہی لڑکی ہے اور وہ تم ہو’ نا ہی وہ کسی اور کا سوچ سکتا ہے نا ہی تصور کر سکتا ہے۔ تمھاری جگہ اور پیار وہ کبھی بھی کسی کو نہیں دے گا’ میں اسکا دوست ہوں اسے اچھے سے سمجھتا ہوں باقی رہی بات تمھارے دل میں موجود اس تلخی تھی تو وہ میں امید کرتا ہوں کہ تم نکال باہر کرو گی کیونکہ جہاں پیار اور چاہت سے رہنے کا’ گھر بسانے کا سوچا جائے وہاں تلخیوں، رنجشوں اور نفرتوں کو سپیس نہیں دی جاتی۔ گھر بننے سے پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے”۔ حمزہ نے وضاحت کرتے مشائم کو قائل کرنے کی جدوجہد کی۔
“اگر ایسی بات ہے حمزہ تو تمھیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ وہ مجھ سے ملنے کیوں نہیں آیا؟؟”۔ مشائم تلملا اٹھی تھی۔
“مشائم مجھے اسکی کوئی خبر نہیں کچھ دن ویٹ کرو وہ خود ہی بتا دے گا”۔ حمزہ نے جوابا کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سمعان صاحب اور راضیہ بیگم کار سے نکلتے یکجا شاہ صاحب کے ہجرے میں داخل ہوئے تھے جہاں سکوت کا ڈیرہ تھا۔ اگر بتی کی بھینی بھینی سی خوشبو چار سو ہوا سے آمیزش اختیار کیئے ہوئے تھی۔
سمعان صاحب اور راضیہ بیگم فاصلہ طے کرتے شاہ صاحب کے مقابل جا بیٹھے تھی جو مسلسل ورد کرنے میں محو تھے’ انکے قریب جاتے ہی شاہ صاحب نے آنکھیں کھول لیں تھیں۔
“اسلام و علیکم شاہ صاحب”۔ سمعان صاحب اور راضیہ بیگم نے یکجا کہا۔
“وعلیکم السلام سمعان کیسے ہو؟”۔ شاہ صاحب نے مزید کہا۔
“میں ٹھیک ہوں شاہ صاحب لیکن کچھ۔۔”۔
“پریشان ہوں”۔ شاہ صاحب نے متبسم انداز میں سمعان صاحب کی بات کاٹی جس پہ راضیہ بیگم حیران ہوئیں۔
“شاہ صاحب میں امید کرتی ہوں کہ آپ ہمیشہ کی طرح ہمیں ہماری پریشانی کا کوئی نا کوئی حل ضرور بتائیں گے”۔ راضیہ بیگم نے آس لگاتے کہا۔
“بیٹی مسئلہ بیان کرو”۔ شاہ صاحب نے راضیہ بیگم کو مخاطب کرتے کہا۔
راضیہ بیگم نے اول تا اخر تمام کہانی سنا دی تھی۔ کہانی سننے کے بعد شاہ صاحب نے آنکھیں بند کیں اور ورد کرکے سمعان صاحب اور راضیہ بیگم پہ پھونکنے لگے۔
“بیٹی آپ کے گھر چڑیل کا سایہ ہے وہ کوئی معمولی قوت نہیں جسکا مقابلہ کیا جا سکے’ اس میں طاقت بہت زیادہ ہے میں صرف اسکو کچھ دن آپ سے دور رکھ سکتا ہوں۔ میرے بس میں نہیں کہ مستقل اسے آپکے گھر سے نجات دلا سکوں”۔ شاہ صاحب نے تفصیل دینا شروع کی جس پہ سمعان صاحب کے ساتھ ساتھ راضیہ بیگم کی آنکھیں حیرت سے کھلیں۔
“شاہ صاحب چڑیل کا سایہ پہلے تو نہیں تھا اس گھر پہ آپ یہ بات اچھے سے جانتے ہیں”۔ راضیہ بیگم سہم گئیں تھیں۔
“بیٹی وہ چڑیل احد پہ عاشق ہے اور اسی کی بدولت اس گھر میں آئی ہے”۔ شاہ صاحب نے جواب دیا۔
“احد پہ”۔ راضیہ بیگم بے یقینی میں سمعان صاحب کو دیکھنے لگیں۔
“ہاں بیٹی احد پہ’ میں نے احد کو ایک تعویذ دیا تھا ساتھ ہی چند ہدایات بھی کیں تھیں شاید اس قوت نے اسے دھمکا کے اپنا پیروکار بنا لیا ہے”۔ شاہ صاحب نے اعتقاد سے کہا۔
“لیکن شاہ صاحب وہ قوت احد پہ عاشق کیسے اور کیوں ہوئی؟؟”۔ راضیہ بیگم ہنوز بے یقینی کی گرفت میں تھیں۔
“بیٹی مجھے اسکا علم نہیں نا ہی میں بتا سکتا ہوں بس جو جانتا تھا اس سے آپکو باخبر کر دیا”۔ شاہ صاحب نے معذرت کی۔ “میں نے آپکو بھی اس بارے میں مطلع کر دیا ہے وہ قوت آپکو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے’ آپ دونوں یہ تعویذ اپنے بازووں پہ باندھ لیں امید ہے یہ آپکو اس قوت کے شر سے محفوظ رکھے گا باقی حفاظت کرنے والی تو صرف خدا کی پاک ذات ہے”۔ بولتے ہی شاہ صاحب نے دو تعویذ انکی طرف بڑھائے جنہیں راضیہ بیگم نے تھام لیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“زہرہ بیٹا میں ایک بات سوچ رہی تھی”۔ زہرہ فروا کے ساتھ لان میں بیٹھی گپ شپ میں مشغول تھی جب عمارہ بیگم انکے قریب آ کر کہنے لگیں۔
“کونسی بات امی؟ کیا ہوا؟”۔ عمارہ بیگم کی آواز پہ زہرہ انکی طرف متوجہ ہوئی۔
“زہرہ مشائم احد کی وجہ سے بہت پریشان اور افسردہ رہنے لگی ہے یوں تو وہ بیمار پڑ جائے گی”۔ عمارہ بیگم نے خدشہ ظاہر کیا جس کے تاثرات عمارہ بیگم کے چہرے پہ نمایاں تھے۔
“امی بات تو آپکی بالکل ٹھیک ہے لیکن وہ ہمارے ساتھ آ کے بیٹھتی ہی نہیں۔ فروا اور میں نے بہت کوشش کر لی کہ اسکا دھیان بھٹکا دیں لیکن وہ ہے کہ سنتی ہی نہیں”۔ زہرہ نے اکتاہٹ سے کہا۔
“بیٹا مشائم میری بیٹی اور تمھاری بہن ہے ہمیں ہی تو اسکی دیکھ بھال کرنی ہے’ کیئر کرنی ہے اگر ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا؟”۔
“جی امی ایسی ہی بات ہے تو پھر ہم کیا کریں؟؟”۔ زہرہ نے ایک نظر فروا کو دیکھا۔
“بیٹا تم لوگ ایسا کرو کہ اسے گھومانے پھرانے لے جاو ایسا کرنے سے اسکا دل بھی بہل جائے گا اور دھیان بھی بھٹک جائے گا”۔ عمارہ بیگم نے تجویز دی۔
“ہاں زہرہ آپی یہ ٹھیک رہے گا”۔ فروا نے مداخلت کی۔
“جی ٹھیک ہے امی ہم دونوں اسے آج ہی باہر لے جائیں گے”۔ زہرہ نے حامی بھری۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“زہرہ آپی آپ اور فروا جا کر شاپنگ کر لیں میرا دل نہیں ہے ویسے بھی مجھے کچھ نہیں خریدنا”۔ مشائم’ فروا اور زہرہ سے ساتھ مال کے باہر کار میں موجود تھی جو ڈرائیور چلا رہا تھا۔ مشائم نے کار میں بیٹھنے پر ہی اکتفا کرنا چاہا لیکن فروا کے ساتھ زہرہ نے اسکی یہ خواہش رد کر دی تھی۔
“بالکل نہیں ہم تمھارے ماتحت نہیں ہیں مشائم کہ تم جو کہو گی ہم دونوں وہی کریں گے”۔ زہرہ نے چڑ کر مشائم کی دیکھا جو ان دونوں کے مابین بیٹھی تھی۔
“مشی زہرہ آپی ٹھیک بول رہی ہیں اب اتنا دور ہمارے ساتھ آئی ہو تو مال میں بھی آ جاو”۔ فروا نے زہرہ کی تائید کی۔
فروا اور زہرہ کے اصرار پہ مشائم بھی انکے ہمراہ کار سے اتر کر مال کے اندرونی جانب بڑھنے لگی تھی۔
بذریعہ ایلیویٹر وہ تینوں فہرسٹ فلور پہ پہنچیں جہاں مختلف سٹورز تھے جن میں سے ایک انسٹرومنٹل سٹور بھی تھا۔
انسٹرومنٹل سٹور کے قریب سے گزرتے مشائم نے یکلخت نگاہ سٹور کی اندرونی جانب اٹھائی جہاں احد کو دیئے گئے گیٹار کی طرح کا ہوبہو گیٹار دیکھتے ہی گیٹار پہ اسکی نظر کے ساتھ فرش پہ اسکے قدم ٹھہر گئے تھے۔ اسکے برعکس زہرہ اور فروا اس بات سے بے خبر کہ مشائم بھی انکے ساتھ ہے’ تھوڑا آگے نکل گئیں تھیں۔
“یہ گیٹار ۔۔۔۔ یہ گیٹار تو میں نے احد کو اسکا برتھ ڈے پلیزنٹ دیا تھا لیکن یہ یہاں؟”۔ مشائم کا ذہن ماضی کی سنہری یادوں کی ڈوریوں سے الجھا۔
پھر خیال جھٹکتے مشائم سٹور میں داخل ہوئی۔
“ہیلو میم ہاو کین آئی ہیلپ یو؟؟”۔ سیلز مین نے مشائم کو مودبانہ انداز میں مخاطب کیا۔
“مجھے یہ گیٹار چاہیئے”۔ مشائم نے فورا سے معاملے کے قہر تک جانے کی کاوش کی۔
“سوری میم یہ گیٹار آپ کو نہیں مل سکتا یہ گیٹار آرڈر پہ تیار کیا گیا ہے”۔ سیلز مین نے نفی کرتے آگاہ کیا۔
“کس نے آرڈر دیا ہے؟؟”۔ مشائم نے تجسس بھرے لہجے میں پوچھا۔
“میم یہ گیٹار راکسٹار احد سمعان کی فرمائش پہ تیار کیا گیا ہے”۔ سیلز مین کی بات پہ مشائم ششدر رہ گئی۔
“آپ یہ گیٹار مجھے دے دیں میں احد کو دے دوں گی”۔ مشائم نے پھر سے کہا۔
“لیکن میم آپکو؟؟”۔ سیلز مین مشائم کی بات پہ حیران ہوا۔
“میں احد کی منگیتر ہوں اس لیئے آپ مجھ پہ ٹرسٹ کر سکتے ہیں”۔ مشائم نے ہولے سے کہا۔
“جی میم آپ کاونٹر پہ رابطہ کریں”۔ سلیز مین نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد اپنے روم میں بیڈ پہ دائیاں بازو پیشانی پہ رکھے آرام فرما تھا جب کھڑکی کے پٹ زور دار آواز پیدا کیئے کھلے جیسے کسی کی دھماکے دار انٹری کا سندیس ہو۔
احد بغیر آنکھیں کھولے جوں کا توں پرسکون لیٹا تھا شاید اسکی زندگی کا سکون مستقل اس سے چھین لیا گیا تھا جو اسے مشائم سے بات کر کے’ اسے جی بھر کر دیکھ لینے سے ملتا تھا لیکن اب اسے کسی چیز کی کوئی پرواہ نا رہی تھی۔
“میں یہاں غصے میں ہوں اور تم یہاں آرام سے سو رہے ہو”۔ گپت آواز نے طیش میں احد کے وجود کو ہوا میں معلق کر دیا تھا۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے؟ کامن سنس نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ نیچے اتارو مجھے’میں نے کہا نیچے اتارو مجھے”۔ احد جھنجھلا اٹھا تھا۔
“نیچے اترنا ہے تمھیں ۔۔۔۔ یہ لو”۔
“آ”۔ غیبی قوت نے اگلے ہی لمحے احد کا وجود دیوار کے ساتھ مارا تھا جس سے احد اپنی پیٹھ پکڑ کے رہ گیا۔
“تمھارے ماں باپ کو ویسے ہی پتہ چل گیا میرے بارے میں اب چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مجھے کچھ اور سوچنا ہوگا لیکن کیا؟؟”۔ غیبی قوت کا عتاب برقرار تھا جو اسکی بھاری آواز سے پہچانا جا سکتا تھا۔
اگلے ہی پل غیبی قوت نے احد کے وجود میں پناہ لی جس سے اسکے بدن کو ایک زور دار جھٹکا لگا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: