Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 12

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 12

–**–**–

احد اپنی دھن میں تیزی سے سیڑھیاں اتر کر ہال میں پہنچا ہی تھا کہ سمعان صاحب اور راضیہ بیگم انٹرنس پار کرتے اس طرف آئے۔
احد کو دیکھتے ہی راضیہ بیگم کے دل میں محبت میں ڈھکا خوف سر اٹھانے لگا۔ آنکھوں سے چھلکتا خوف راضیہ بیگم کی پنہاں کیفیت بخوبی اجاگر کر رہا تھا۔ سمعان صاحب نے راضیہ بیگم کو دیکھا اور شاہ صاحب کے کہے الفاظ یاد کیئے۔
“احد بیٹا کہاں جا رہے ہو؟”۔ سمعان صاحب نے مجبورا پہل کی کیونکہ سورج ڈھل چکا تھا اور تاریکی اپنے کالے پر چارسو پھیلانے لگی تھی ایسے میں سمعان صاحب کے ساتھ راضیہ بیگم بھی نہیں چاہتیں تھیں کہ احد حویلی کی حد پار کرے۔
“باہر”۔ احد نے مختصر جواب دیا۔
“لیکن بیٹا اس وقت؟ ابھی تو شام ہو گئی ہے تم ابھی باہر کیوں جا رہے ہو؟”۔ راضیہ بیگم نے بےقراری سے کہا۔
“بڑھیا تم سے مشورہ نہیں مانگا اس لیئے اپنا منہ بند رکھ سمجھی”۔ احد کی آنکھوں میں طیش کی آتش دہک رہی تھی۔
“احد یہ تم اپنی ماں سے کس لہجے میں بات کر رہے ہو؟”۔ سمعان صاحب نے مداخلت کی۔
“تم لوگوں سے سر کھپانے کیلیئے روم سے باہر نہیں آیا تھا بلکہ اپنا ذہن تازہ کرنے کیلیئے آیا تھا تم لوگوں سے الجھنا نہیں چاہتا”۔ احد نے چڑ کر کہا۔
بولتے ہی احد انٹرنس سے نکل گیا تھا۔
“سمعان’ شاہ صاحب ٹھیک بول رہے تھے یہ اسی قوت کی حرکت ہے جو احد ہمارے ساتھ بدتمیزی پہ اتر آیا ہے”۔ احد کے جاتے ہی راضیہ بیگم نے سمعان صاحب کی طرف مضطرب ہوکر دیکھا۔
“راضیہ بیگم کچھ تو کرنا ہوگا ورنہ معاملہ مزید بگڑ جائے گا”۔
“لیکن کیسے سمعان؟ شاہ صاحب نے کہا تھا کہ یہ قوت بہت طاقت ور ہے اسکا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا”۔ راضیہ بیگم کی بےچینی دگنی ہوئی۔
“ایسی صورت حال میں ہم لوگ یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے’ کل شاہ صاحب کو بلاتے ہیں دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں”۔ سمعان صاحب نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم آنٹی”۔ حویلی کی انٹرنس پار کرتے مشائم ہاتھ میں گیٹار پکڑے ہال میں پہنچی تو راضیہ بیگم روم سے نکل کر اس جانب آئیں تب مشائم نے پہل کی۔
“وعلیکم السلام مشائم بیٹا کیسی ہو؟؟”۔ راضیہ بیگم نے مشائم کے قریب آتے مشائم کو شادمانی سے گلے لگا کر پیار کیا۔
“میں ٹھیک ہوں آنٹی آپ سنائیں’ آپ کیسی ہیں؟؟”۔ مشائم نے دھیرے سے کہا۔
“میں بھی بالکل ٹھیک ہوں اپنی بیٹی کو جو دیکھ لیا ہے”۔ راضیہ بیگم نے خوشدلی سے کہا۔
“آنٹی حرا بھابی کیسی ہیں؟ کہاں ہیں؟”۔ مشائم نے یونہی پوچھ لیا۔
“حرا ٹھیک ہے اپنے روم میں ہے”۔
“اچھا”۔
“احد کے آنے سے پہلے مشائم کو یہاں سے بھیجنا ہوگا ورنہ اگر احد آ گیا تو نجانے کیسا ری بیہیو کرے گا؟”۔ راضیہ بیگم سوچ میں ڈوبیں۔
“کیا ہوا آنٹی؟ آپ کیا سوچنے لگیں؟”۔ راضیہ بیگم کو سوچ کے سمندر میں غوطہ زن ہوتے دیکھ مشائم نے انہیں مخاطب کیا۔
“ک کچھ نہیں بیٹا آو نا تم میرے روم میں بیٹھو”۔ راضیہ بیگم نے مشائم کے شانوں پہ ہاتھ رکھا۔
“آنٹی ہم لوگ یہیں بیٹھ جاتے ہیں نا”۔ مشائم نے ہال میں پڑے صوفے کی طرف اشارہ کیا۔
“نہیں مشائم تم یہاں کیوں بیٹھو گی؟ تم میرے ساتھ میرے روم میں آو ہم دونوں ماں بیٹی مل کر وہاں باتیں کریں گے”۔ راضیہ بیگم جبرا اسے بازو سے پکڑتے اپنے روم میں لے گئیں تھیں۔
مشائم ششدر انکے پیچھے چلنے لگی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شاپنگ مال میں مشائم فروا اور زہرہ کو چھوڑ کر’ انہیں بتائے بنا ہی حویلی چلی گئی تھی۔ زہرہ کے لیئے یہ معمول تھا کیونکہ وہ مشائم کی اس حرکت سے بخوبی آگاہ تھی لیکن فروا کیلیئے یہ انوکھی بات تھی جس سے وہ ابھی تک تپی بیٹھی تھی اور مشائم کے روم میں اسکی منتظر تھی کہ کب مشائم گھر واپس آئے اور فروا اس پہ اپنا غصہ اتارے۔
انتظار کی گھڑی ختم ہوئی اور مشائم روم میں داخل ہوئی۔
“مشائم تم میں ذرا سی بھی تمیز ہے؟ یا سلیقہ؟ یا مینرز؟ یا ان میں سے کچھ بھی؟؟”۔ فروا جھٹ پٹ اس پہ برس پڑی۔
“کیا ہوا ہے؟؟”۔ مشائم جو اچھی طرح سمجھ چکی تھی کہ فروا کیا کہنا چاہ رہی ہے’ نے انجان بنتے کہا۔
“تم بنا بتائے مال سے کہاں چلی گئی تھی؟ تمھیں پتہ بھی ہے خالہ خالو نے ہمیں اتنی باتیں سنائیں کہ ہم لوگوں نے تمھیں اکیلے جانے کیوں دیا”۔ فروا نے بھڑکیلے انداز میں کہا۔
“فروا میں کوئی چھوٹی بچی نہیں ہوں جو تا عمر کسی نا کسی کی انگلی پکڑ کر چلتی رہوں گی”۔ مشائم نے تپ کر کہا پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
“مشائم تم پتہ نہیں کب سدھرو گی؟”۔ فروا اکتاہٹ میں اسکے تعاقب میں جا کھڑی ہوئی۔
“اب بھی نہیں سدھرنا تو کب سدھرنا ہے؟”۔ طنزیہ مسکان لبوں کے گرد کرتے مشائم نے آئینے سے فروا کا عکس دیکھا۔
“مطلب کہ تم احد سے ملنے گئی تھی”۔ فروا نے اعتقاد سے کہا۔
“جی نہیں میں اس سے ملنے نہیں گئی تھی”۔ مشائم ادل بدل سے کام لیتے فروا کی طرف سرعت سے پلٹی۔
“بس کرو اب ۔۔۔ زیادہ بنو مت۔۔۔ میں اچھے سے جان گئی ہوں کہ تم احد سے ہی ملنے گئی تھی”۔ فروا نے مہارانی کی مانند کمر پہ ہاتھ رکھے۔
“ہاں اسی سے ملنے گئی تھی”۔ مشائم نے تنگ آ کر کہا۔
“ملاقات ہوئی؟؟”۔ فروا نے دل آویزی سے پوچھا جس پہ مشائم نے نفی میں سر ہلا دیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“سمعان آپ نے شاہ صاحب کو فون کر کے بلا لیا ہے نا؟”۔ سمعان صاحب ہال میں کھڑے نظر جھکائے فون پہ نمبر ٹٹول رہے تھے جب راضیہ بیگم عجلت میں انکے قریب آئیں۔
“ہاں وہ تو میں نے کر دیا ہے’ احد کہاں ہے؟؟”۔ سمعان صاحب نے فون سے نگاہ ہٹاتے احتیاط پوچھ لیا۔
“احد اپنے روم میں سو رہا ہے”۔ راضیہ بیگم نے فہرسٹ فلور پہ سامنے احد کے روم کی طرف اشارہ کیا۔
“اچھی بات ہے بس اللہ کرے احد سویا ہی رہے اور حرا کہاں ہے؟”۔ سمعان صاحب نے مزید پوچھا۔
“حرا ۔۔۔۔وہ آ گئی”۔ راضیہ بیگم نے جونہی حرا اور شہریار کے روم کی طرف دیکھا حرا ویل چیئر پہ روم سے باہر آئی۔
“راضیہ بیگم حرا کا اچھے سے دھیان رکھیئے گا”۔ سمعان صاحب نے تاکید کی۔
“جی’ آپ بے فکر رہیں۔ اچھا سمعان شہریار کہاں ہے؟؟”۔ خیال آتے ہی راضیہ بیگم نے کہا۔
“کیا ہوا آنٹی؟؟”۔ حرا بھی اب انکے قریب آ گئی تھی۔
“کچھ نہیں بیٹا”۔ راضیہ بیگم نے ہنس کر بات ٹال دی کہ حرا اسکا اثر اپنی صحت پہ نا لے۔
کچھ ہی منٹوں کے توقف سے شاہ صاحب حویلی کی انٹرنس پہ آ کھڑے ہوئے۔
“سمعان’ شاہ صاحب”۔ جونہی راضیہ بیگم کی نگاہ انٹرنس کی طرف اٹھی اس دم انہوں نے سمعان صاحب کو مخاطب کیا۔
“اسلام و علیکم شاہ صاحب ۔۔ آئیے”۔ سمعان صاحب’ شاہ صاحب کے قریب آتے ہوئے بولے۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔ سمعان احد کہاں ہے؟؟؟”۔ شاہ صاحب نے حویلی کی اندرونی جانب کا بغور جائزہ لیتے ہوئے کہا۔
“شاہ صاحب جیسا آپ نے بولا تھا احد اپنے روم میں سو رہا ہے”۔ سمعان صاحب نے جوابا کہا۔
“ٹھیک ہے تم لوگ یہیں میرا انتطار کرو میں ابھی آتا ہوں”۔ بولتے ہی شاہ صاحب سیڑھیاں چڑھتے احد کے روم میں چلے گئے اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔
سمعان صاحب کے ساتھ ساتھ حرا اور راضیہ بیگم ہال میں کھڑے شاہ صاحب کا احد کے روم سے نکلنے کا انتظار کرنے لگے۔
کچھ ہی لمحوں میں احد کے روم سے چیخنے کی دلخراش آوازوں کے ساتھ کھڑکیوں اور دروازے کے زور سے بند ہونے کی آوازیں بھی آنے لگیں تھیں جسے سن کر راضیہ بیگم اور حرا سہم گئیں تھیں۔
جونہی عمل اختتام پذیر ہوا شاہ صاحب روم سے نکلے اور نکلتے ہی سکون کی سانس خارج کی۔ شاہ صاحب کی حالت پہلے سے قدرے بدتر تھی اور پیشانی سے خون بہہ رہا تھا۔ برق رفتاری میں سیڑھیاں اترتے شاہ صاحب ہال میں پہنچے جہاں سمعان صاحب، حرا اور راضیہ بیگم انکے شدت سے منتظر تھے۔ بلاوساطت شہریار انٹرنس پار کرتے اس طرف آیا۔
“شاہ صاحب کیا ہوا؟؟؟آپکی ایسی حالت؟؟”۔ سمعان صاحب مبہوت انہیں دیکھ رہے تھے۔
“سمعان گرچہ میں جانتا تھا کہ اس قوت سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن میں نے ایک کاوش کی جو ناکام رہی’ میری یہ حالت بھی اسی نے کی ہے وہ نہیں چاہتی کہ وہ کبھی بھی احد سے دور ہو جیسا کہ میں نے آپکو انتباہ کیا تھا وہ قوت احد پہ مکمل عاشق ہے اس لیئے احد سے اسکی حفاظت کرنا بہت کٹھن ہے”۔ شاہ صاحب نے تفصیل دیتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
چار گھنٹے کی نیند سے افادیت اٹھانے کے بعد احد کی آنکھیں کھلیں۔ بدن درد سے چور تھا جیسے کسی نے ہتھوڑوں سے اسکے پورے وجود پہ گہری ضربیں لگائی ہوں۔ احد کے تن کے انگ انگ میں درد کی ٹیس اٹھنے لگی تھی۔
احد اس درد کی لپیٹ میں کراہ کر رہ گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما ایک گلاس پانی دے دیں”۔ احد لڑکھڑاتے قدموں سے کچن میں پہنچا جہاں راضیہ بیگم سمعان صاحب کے لیئے چائے بنا رہیں تھیں۔
“احد بیٹا”۔ شاہ صاحب کی تمام تر باتوں کو ذہن کے پردے پہ لاتے راضیہ بیگم تلملا کر بولیں۔
فورا سے فریج سے بوتل نکالتے راضیہ بیگم پانی گلاس میں انڈیلتے احد کے قریب آئیں۔
“یہ لو بیٹا ۔۔۔ ادھر آو یہاں بیٹھ جاو”۔ احد کا سر ہنوز چکرا رہا تھا جس پہ راضیہ بیگم نے اسے سہارا دیتے ڈائننگ ٹیبل کی چیئر گھسیٹ کر اس پہ بٹھا کر گلاس کو اسکے لبوں تک رسائی دی۔ احد نے پانی کے دو گھونٹ حلق سے اتارے۔
“احد بیٹا تمھاری طبیعت ٹھیک تو ہے؟؟”۔ گلاس سائیڈ پہ رکھتے راضیہ بیگم اسکے دائیں ہاتھ پہ رکھی صدراتی چیئر پہ بیٹھ گئیں۔
“ماما پتہ نہیں میرے پورے جسم میں بہت درد ہو رہا ہے”۔ چہرے پہ درد کے آثار واضح تھے جس سے اسکی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
“اٹھو چل کر روم میں آرام کرو میں تمھارے لیئے سوپ بناتی ہوں تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا بس سوئے ہی رہے ہو”۔ راضیہ بیگم اسے سہارا دیتے اپنے روم میں لے گئیں تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
°دو ماہ بعد°
“پتہ نہیں یہ وقت کی کونسی ستم ظریفی ہے کہ زندگی میں جس انسان سے دور رہنے کا تصور تک نہیں تھا آج اسے دیکھے بنا ہفتوں گزر گئے۔ جو انسان میرے بنا ایک پل نہیں رہتا تھا مہینوں گزرے اسے میری صورت دیکھے ہوئے۔ حمزہ کی بات بھی ٹھیک ہے کہ احد صرف مجھ سے محبت کرتا ہے لیکن وہ مجھ سے دور کیوں ہے؟ میں کیوں نہیں سمجھ پا رہی؟”۔ اپنے روم میں بیڈ پہ بیٹھے فون گیلری سے احد کی تصاویر نظروں سے چھوتے مشائم خود سے ہمکلام تھی۔ اشک اسکی آنکھوں کے بند توڑ کر امڈ آنے کو بے تاب تھے جنہیں وہ مشکل سے روکے ہوئے تھی۔
“احد پلیز اب اس جدائی کو مزید طول مت دو۔ یااللہ پلیز اس دوری کو ختم کر دو مجھ میں اور سکت نہیں ہے اسے سہنے کی”۔ بولتے ہی مشائم نے دعا میں ہاتھ اٹھائے۔
“بڑی دعائیں مانگی جا رہی ہیں”۔ فروا اور زہرہ اس دم مشائم کے روم کی چوکھٹ پہ آ کھڑے ہوئے جب فروا نے شرارت سے کہا۔
“ہاں تو دعا ہی مانگ رہی تھی کچھ اور نہیں کر رہی تھی”۔ مشائم نے فورا سے ہاتھ نیچے کو کیئے اور تیزی میں فون لاک کر دیا۔
“کچھ اور کرنے کیلئے بھی میری جان کوئی اور بھی روم میں موجود ہونا چاہیئے”۔ فروا نے ہنوز شریر لہجہ اپنایا۔
“تم باز آ جاو جب دیکھو میرے ہی پیچھے پڑی رہتی ہو”۔ مشائم نے چڑ کر کہا۔
فروا اور زہرہ بھی اب مشائم کے قریب آ گئی تھیں۔
“زہرہ آپی کوئی کام تھا؟؟”۔
“مشی تم روم میں اکیلی تھی تو سوچا تمھیں لان میں لے جائیں تاکہ کچھ پل اچھے گزر جائیں کیونکہ خالہ واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں تم تو جانتی ہو کہ وہ تمھاری شادی کے سلسلے میں آئے تھے اور”۔ زہرہ نے وضاحت کرتے کہا۔
“اور شادی ہوئی ہی نہیں”۔ مشائم نے تاسف سے آہ بھری۔
“ہوئی نہیں تو کیا ہوا ہو جائے گی۔ اس میں خدا کی ضرور کوئی نا کوئی مصلحت رہی ہو گی تم دل چھوٹا مت کرو”۔ زہرہ نے مشائم کی تھوڑی تلے ہاتھ رکھتے اسے تسلی دی۔ مشائم فورا سے زہرہ کے گلے لگی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: