Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 2

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 2

–**–**–

مشائم اپنے حواسوں پہ بحال نہیں تھی۔ زہرہ’ مشائم کی بڑی بہن جو شادی شدہ تھی مگر چند دنوں کیلیئے مائیکے آئی تھی، عمارہ بیگم، عامر صاحب اور انیقہ بیگم مشائم کی چیخ پہ اسکے روبرو حاضر ہوئے۔
“کیا ہوا مشائم؟ تم ڈری ہوئی کیوں ہو؟”۔ انیقہ بیگم مشائم کے سرہانے بیٹھی اس سے وجہ دریافت کرنے لگیں۔
“دادو وہ بک۔ بکے”۔ مشائم جو بیڈ کے تاج کے ساتھ خوف سے سمٹی بیٹھی تھی’ نے فرش کی جانب اشارہ کیا۔
“مشائم یہاں تو کچھ نہیں ہے تم نے یقینا کوئی ڈراونا خواب دیکھا ہے”۔ مشائم کو دلاسہ دیتے عمارہ بیگم نے کہا۔
“نہیں ماما وہ خواب نہیں تھا میں نے خود دیکھا وہ بکے پہلے احد کے پرائیویٹ روم میں اب یہاں روم میں”۔
انیقہ بیگم نے آیت الکرسی اور چند آیات کا ورد کرتے مشائم پہ پھونکا۔
“مشائم بیٹا آپ سو جاو ورنہ آپکی طبیعت خراب ہو جائے گی”۔ عامر صاحب کو تشویش ہوئی۔
“ہاں مشائم پاپا ٹھیک بول رہے ہیں ایسا کرو تم میرے ساتھ میرے روم میں آ جاو”۔ زہرہ نے تائید کی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سیڑھیوں سے اترتے وہ کچن کی جانب بڑھ رہا تھا جب راستے میں بیٹھی الزبتھ’ پرشین کیٹ، نے اسے اپنی طرف راغب کیا۔
“محترمہ آپ یہاں بیٹھی ہیں ۔۔ کیا میری منتظر تھیں؟”۔ الزبتھ کو ملتفت نظروں سے دیکھتے احد نے اسے جھک کر بانہوں میں لیا۔
ملائم جلد’ نیلی آنکھوں والی سفید بھک بلی اسے پیار بھری گھوری سے نواز رہی تھی۔
یہ ایک کھلے طرز کا کشادہ کچن تھا جسکے سامنے ہی ڈائننگ ٹیبل لگا تھا۔۔۔ الزبتھ کو چیئر پہ بٹھاتے وہ خود اسکے برابر چیئر گھسیٹ کر اس پہ براجمان ہو گیا۔
“احد بیٹا کیا لو گے؟؟ آپ کے لیئے پراٹھا بنواوں؟؟”۔ راضیہ بیگم اسکے قریب آ کر کہنے لگیں۔
“ماما نہیں پراٹھا رہنے دیں میں بریڈ اور جیم ہی لوں گا ایسا کریں ایک گلاس جوس لے آئیں”۔ ٹیبل پہ رکھی بریڈ کا سلائس لیتے احد نے اس پہ جام لگانا شروع کیا۔
“ٹھیک ہے میں لے آتی ہوں”۔ راضیہ بیگم کچن کی جانب بڑھیں۔
احد نے جونہی سلائس کو منہ تک رسائی دی الزبتھ چیئر پہ کھڑے ہوتے احد کی پشت کی جانب دیکھتے غرانے لگی تھی جس پہ احد نے سلائس پلیٹ میں رکھا۔
“کیا ہوا الزبتھ؟ کون ہے یہاں؟”۔ اسے چمکارتے احد نے چہرے کو جنبش دیتے الزبتھ کی آنکھوں کے تعاقب میں دیکھا جہاں کوئی نا تھا۔
کچھ پل بعد الزبتھ چیئر سے اٹھتے غیبی رموز کے پیچھے قدم رکھتے’ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ احد سراسیمہ کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
“الزبتھ کم ہیئر”۔ وہ بلی جو احد کی پہلی آواز پہ گھر کے کسی بھی گوشے سے احد کے سامنے وارد ہو جاتی تھی آج اسکی پکار ان سنی کرتے اسکے روم میں داخل ہو گئی تھی۔
الزبتھ کی یہ حرکت احد کو سوچنے پہ آمادہ کر چکی تھی۔
“احد بیٹا یہ جوس”۔ ہاتھوں میں جوس کا گلاس پکڑے راضیہ بیگم اس طرف آئیں لیکن جواب موصول نا ہونے پہ انہوں نے جگ ٹیبل پہ رکھا اور احد کو جھنجوڑا۔ ” احد بیٹا کہاں گم ہو؟؟”۔
“ج۔ جی”۔ احد دھیان نگر سے واپس آیا۔
“کوئی پریشانی ہے؟؟”۔ راضیہ بیگم نے کنفرم کیا۔
“نہیں ماما سب ٹھیک ہے”۔ نظر چراتے احد دوبارہ سے چیئر پہ بیٹھ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم انیقہ بیگم کے روم کی دہلیز پہ آ کھڑی ہوئی’ انیقہ بیگم قرآن پاک کی تلاوت کرنے میں محو تھیں تب مشائم انکے مقابل بیڈ پہ جا بیٹھی۔
تلاوت قرآن پاک سے فارغ ہوتے انیقہ بیگم نے رب کے حضور دعا کیلیئے ہاتھ اٹھائے ‘مشائم دوپٹہ سلیقے سے اوڑھ کر انیقہ بیگم کو دیکھنے لگی۔۔۔ بیڈ سے اٹھتے انیقہ بیگم نے قرآن پاک مخصوص شیلف پہ رکھا پھر مشائم کی طرف آئیں۔
“دادو میں آپ سے ایک بات پوچھوں؟؟”۔ رات والا واقعہ ہنوز مشائم کے دھیان کے پردے پہ تھا۔
“جی میری جان پوچھو کیا بات ہے؟”۔ انیقہ بیگم نے پرمسرت انداز میں کہا۔
“دادو ہم جنوں’ بھوتوں کے بارے میں کہانیوں میں پڑھتے ہیں ڈرامے اور فلمز بھی دیکھنے کو ملتے ہیں مگر ان میں سے اکثر فرضی کہانیاں ہیں’ حقیقت سے بہت دور۔ کیا جن’ بھوت اصل میں ہوتے ہیں؟ انکا تصور حقیقی ہے یا خیالی؟”۔ مشائم نے کشاکش سے کہا۔
“مشائم جنات بھی ہماری طرح خدا کی پیدا کی گئی مخلوق ہے جسکی تخلیق آگ سے کی گئی ہے۔ انسانوں کی طرح انکے بھی ڈیرے اور خاندان ہوتے ہیں فرق صرف اتنا ہے کہ انسان نظر آتے ہیں اور جنات ظاہری آنکھ سے دیکھے نہیں جا سکتے”۔ انیقہ بیگم نے تفصیل دی۔
“دادو کیا جنات انسانوں کے مابین رہتے ہیں؟ مطلب انسان کو تنگ کرتے ہیں؟”۔ مشائم مزید سوچ کے بھنور میں پھنستی چلی جا رہی تھی۔
“مشی جنات ارادی طور پر کسی کو تنگ نہیں کرتے نا ہی نقصان پہنچانے کی سوچتے ہیں جیسے ایک جانور اپنے بچاو میں حملہ کرتا ہے ٹھیک ویسے جنات بھی ایسا ہی کرتے ہیں مگر جنات کا بیر برا ہوتا ہے”۔ انیقہ بیگم نے باور کرایا۔ ” مشائم مگر تم یہ سب کیوں پوچھ رہی ہو؟”۔ انیقہ بیگم نے حیرت سے کہا۔
“کچھ نہیں دادو وہ ۔۔۔۔”۔
“اسلام و علیکم”۔ دہلیز سے آتی احد کی آواز پہ مشائم مزید زبان کی حرکت سے باز رہی۔
“و علیکم اسلام احد بیٹا کیسے ہو؟؟”۔ انیقہ بیگم نے خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔
“ٹھیک ہوں دادو آپ کیسی ہیں؟”۔ قدم اٹھاتا احد انیقہ بیگم اور مشائم کے نزدیک آیا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں”۔ انیقہ بیگم نے کہا۔
“کیا ہوا مشائم تم کچھ پریشان سی لگ رہی ہو؟”۔ وہ جو احد کو دیکھتے صرف ایک بار مسکرائی تھی احد کو اسے دیکھتے تشویش ہوئی۔
“کچھ بھی نہیں”۔ مشائم بیڈ سے اٹھی ہی تھی کہ اسکا سر چکرایا اور قدم لڑکھڑا گئے۔
“کیا ہوا مشی؟؟”۔ نگاہ بسمل مشائم پہ ڈالے احد فکر مند ہوا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مشائم بیہوش ہوتے احد کے سینے سے آ لگی جس پہ احد نے مشائم کو بانہوں میں بھرا۔
“یا اللہ خیر مشائم کو کیا ہو گیا۔” انیقہ بیگم بھی ہڑبڑاہٹ میں بیڈ سے اٹھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ذہنی اختلال کے سبب انہیں ٹمپریچر ہو گیا ہے۔ آپ انہیں یہ میڈیسنز بروقت دیں انشاءاللہ افاقہ ہوگا”۔ ڈاکٹر نے پریسکریپشن احد کو تھماتے کہا۔ “ٹھیک ہے اب مجھے اجازت دیں’ خدا حافظ”۔ اجازت طلب کرتے ڈاکٹر انٹرنس سے نکل گیا تھا جبکہ ہاتھ میں پریسکریپشن پکڑے احد مشائم کے روم کی طرف آیا۔
“احد کوئی پریشانی والی بات تو نہیں ہے؟”۔ احد کو روم میں آتا دیکھ عامر صاحب احد کے قریب آئے۔
“نہیں انکل ڈاکٹر نے بولا ہے کہ معمولی سا ٹمپریچر ہے اتر جائے گا”۔ احد نے تمسکن آمیز انداز میں کہا۔
“زہرہ بیٹا جاو مشائم کیلیئے کچھ کھانے کو لے آو”۔ احد کے بعد عامر صاحب نے زہرہ کو مخاطب کیا۔ ” مجھے ایک ضروری کام ہے میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں’ احد تم میڈیسن یاد سے لے آنا”۔ احد کو تنبیہ کرتے عامر صاحب روم سے نکل گئے۔
زہرہ بھی روم سے نکل گئی تھی جبکہ احد خشمگیں مشائم کے مقابل بیڈ کی پائینتی پہ آ بیٹھا تھا۔
“احد”۔ خود سے منہ موڑے احد کو مشائم نے پکارا۔
“ہمم”۔ مشائم کی آواز پہ اسنے چہرے کو جنبش دی۔
“چپ کیوں ہو؟”۔ وہ متحیر ہوئی۔
“مشی مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ جب تم مجھ سے مل کر آئی تھی تو تم ٹھیک تھی پھر اچانک یہ ٹمپریچر کیسے ہو گیا؟”۔ احد نے سوچ بچار سے کہا۔
“اس میں فکر مند ہونے والی کونسی بات ہے احد؟ تم پریشان نا ہو تم ہی نے تو ابھی پاپا کو تسلی دی کہ معمولی سا ٹمپریچر ہے اتر جائے گا۔ اچھا میں تم سے ایک بات کہوں؟”۔ احد کی جانب ہلکا سا جھکتے مشائم نے اسکا ہاتھ تھاما۔
“کہو”۔ بائیں ٹانگ فولڈ کرتے احد اسکے سامنے ہو بیٹھا۔
“احد تم جانتے ہو نا کہ میں تم سے کتنا پیار کرتی ہوں’ نہیں رہ سکتی تمھارے بنا”۔ مشائم نے پس و پیش کہا۔
“اچھے یہ جانتا ہوں مشی’ پھر؟”۔
“بس تم مجھے کبھی چھوڑ کے تو نہیں جاو گے؟”۔ بکے والی بات مشائم کو ہنوز کھٹک رہی تھی جس پہ اسنے تصدیق چاہی۔
“صرف تم ہی نہیں میں بھی تم سے پیار کرتا ہوں مشی’ تم سے دور جانے کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔ احد سمعان کے دل کی دھڑکتی دھڑکن ہو تم جسکے رکنے سے احد کا وجود بھی نیست ہو جائے گا۔ تم یہ بات اپنے ذہن سے نکال دو کہ احد کبھی بھی تم سے جدا ہوگا۔ میرے الفاظ بھلے ناقص ہوں مگر نیت میں کوئی کھوٹ نہیں”۔ مشائم کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھتے احد نے عزم بالجزم سے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد”۔
انگلی پہ چابی گھماتا احد اپنی دھن میں انٹرنس کی جانب بڑھ رہا تھا جب عقب سے شہریار کی آواز سنائی دیتے وہ ایڑیوں کے بل گھوم گیا۔
“جی بھائی؟”۔
“کہیں جا رہے ہو؟”۔ شہریار نے احتیاط پوچھ لیا۔
“کہیں نہیں بھائی’ کوئی کام ہے؟”۔ تصدیقی الفاظ کا چناو کیا گیا۔
“ہاں وہ پاپا بلا رہے ہیں”۔ شہریار نے آگاہی دی۔
“چلیں”۔ شہریار کے ہم قدم احد’ سمعان صاحب کے روم کی جانب بڑھا۔
احد اور شہریار یکجا سمعان صاحب کے روم میں داخل ہوئے جہاں حرا’ شہریار کی زوجہ اور راضیہ بیگم بھی موجود تھیں۔
“پاپا آپ نے مجھے بلایا؟”۔ فاصلہ طے کرتے احد’ سمعان صاحب کے قریب آیا۔
“ہاں احد بیٹھو”۔ اپنے مقابل کشادہ صوفے کی طرف اشارہ کرتے سمعان صاحب نے کہا۔
شہریار حرا کے برابر کھڑے ہوتے اسے دیکھ کر مسکرا دیا۔
“احد بیٹا مشائم کا ماسٹر کمپلیٹ ہو گیا ہے۔ عامر نے اشاروں میں مجھے کہا کہ اب تمھاری اور مشائم کی شادی کر دی جائے’ میں اور راضیہ بیگم شادی کی تاریخ طے کرنے کا سوچ رہے تھے مگر اس سے پہلے تمھاری رائے لینا ضروری سمجھا’ کہو تم کیا کہتے ہو؟؟تمھیں کوئی اعتراض تو نہیں؟”۔ سمعان صاحب نے وضاحت کے بعد کنفرم کیا۔
“پاپا مجھے تو کوئی اعتراض نہیں ہاں آپ ایک بار مشائم سے ضرور پوچھ لیجیئے گا”۔ نئی نویلی عروس کی مانند احد کے چہرے پہ لال لالی امڈ آئی تھی۔
“پاپا کیوں پوچھ لیں تم خود پوچھ لینا نا۔ شرما تو ایسے رہے ہو جیسے مشائم سے پردہ کرتے ہو”۔ شہریار نے احد کی ٹانگ کھینچتے کہا جس پہ سب کا جاندار قہقہ گونجا۔
“میں چلتا ہوں”۔ فورا سے صوفے سے اٹھتا احد روم سے باہر دوڑا۔
“مشرقی لڑکی مشائم سے بات ضرور کر لینا”۔ شہریار نے آواز لگائی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میرے پاس تمھارے گوش گزار کرنے کیلیئے وہ خبر ہے کہ جسے سنتے ہی تمھارا بخار اور تمھاری ٹینشن پل میں چھو منتر ہو جائے گی”۔ مشائم کے روم میں احد اسکے سامنے بیٹھا تھا۔
“کیسی خبر؟؟”۔ مشائم نے تجسس بھرے لہجے میں کہا۔
“ویل اسکے لیئے آپکو انتظار کرنا ہوگا’ آنٹی انکل تم سے خود بات کریں گے”۔ احد نے مزے لیتے منہ پھیر لیا اور ہاتھوں کو مسلنے لگا تاکہ وہ جان سکے مشائم کی بے قراری کی حد کہاں تک ہے۔
“احد تم اچھے سے جانتے ہو مجھے کہ جب تک مجھے بات پتہ نا چلے مجھے درد قولنج ہوتا رہتا ہے’ کیوں ترسا رہے ہو تمہی بتا دو”۔ مشائم نے تنگ طلبی سے کہا۔
“سمجھو کے تمھارے اس گھر میں کچھ ہی روز باقی ہیں”۔ فتح یاب کی مانند احد کے لبوں پہ مسکراہٹ رینگی۔
“مطلب؟؟”۔ مشائم کو جھٹکا لگا تھا۔
“مطلب یہ کہ تم مس سے مسز بن جاو گی’ مسز احد سمعان”۔
“سچ؟؟”۔ مشائم پہ خوشی کی کیفیت اس قدر طاری تھی کہ اسکے لب ہنسنے کا طریقہ تلاشنے لگے۔
“ہاں اور احد سمعان کی زندگی کے کچھ ہی دن باقی ہیں جو وہ اپنے طریقے سے گزار سکتا ہے پھر اسکے بعد تو جی حضوری سے ہی کام چلانا ہے’ ان فیکٹ پھر جی حضوری ہی میرا کام بن جائے گی”۔ احد نے بناوٹی افسوس سے کہا۔
“اگر ایسی ہی بات ہے تو پھر جاو آزاد گھومو، پھرو۔ یہ قید کیوں؟”۔ مشائم نے ناراضگی سے منہ موڑا۔
“وہ اس لیئے کیونکہ محبت کے پنجرے میں قید پنچھی کو حقدار کا ساتھ چاہیئے پھر چاہے اسیر بن کر یا حریت میں”۔ مشائم کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتے احد نے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کار کا دروازہ بند کرتے احد نے ڈیش بورڈ کھولا جہاں بکے سے جدا کیا گیا’ مشائم کی جانب سے دیا گیا پھول دیدے پھاڑے جیسے احد کا ہی منتظر تھا۔
اپنی حالت پہ بدستور گلاب کی کلیاں تروتازہ تھیں اور پہلے کی طرح ان سے امڈتی خوشبو ماحول کو معطر کر رہی تھی۔
احد کا سر بوجھل سا ہونے لگا تھا۔
“یہ گلاب تو مجھے کل مشائم نے دیا تھا’ اصولا اسے اب تک مرجھا جانا چاہیئے مگر یہ تو پہلے سے زیادہ کھلا کھلا لگ رہا ہے”۔ احد کو تعجب ہوا۔ “یاد آیا میں تو لائبریری جانے والا تھا اور پاپا نے بلوا لیا”۔ خیال آتے ہی احد نے گلاب سیٹ پہ پھینکا اور کار سٹارٹ کرتے مشائم کے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
لائبریری میں کافی مشقت اور تلاش کے بعد بالآخر اسے وہ کتاب مل گئی تھی جسکی اسے تلاش تھی’ لائبریری سے بک اشو کراتے احد لائبریری سے نکل کر لائبریری پارکنگ ایریا کی طرف آیا۔ کار میں بیٹھتے اسنے بک دوسری سیٹ پہ رکھی اور کار سٹارٹ کرکے ریورس کرتے سڑک کی جانب دوڑائی۔
“احد”۔
سنسان سڑک پہ جنگلات کے مابین اسکی کار رواں تھی جب اسکی حس سامعہ میں اسی کے نام کی گونج ہوئی۔
احد نے یکلخت بریک پہ پیر رکھا۔
“ک۔ ک۔ کون ہے؟؟”۔ احد کے پسینے چھوٹے۔
“تم آو گے ۔۔۔ مجھے ملنے
خبر ۔۔ یہ ۔۔ بھی ۔۔ تم ہی ۔۔ لانا”۔
مانوس غیبی صدا نے احد کے کانوں کے گرد دوبارہ اودھم مچایا۔
“کون ہو تم؟ آخر کیا چاہتی ہو مجھ سے؟؟”۔ احد چلایا تھا’ جواب میں ہولے سے ہنس دیا گیا جس پہ احد مزید سہم گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“گھر میں سب میری شادی کو لے کر بہت خوش ہیں اگر انہیں ان سب چیزوں کے بارے میں بتایا تو خواہ مخواہ بدمذگی بنے گی’ مجھے خود ہی کوئی حل نکالنا ہوگا”۔ اپنے روم میں چہل قدمی کے دوران وہ خود سے ہم کلام ہوا۔
“ماما کو بتا دوں؟ مشائم؟ بھائی؟ بھابی؟۔۔۔ پاپا کو اعتماد میں لے کر سب بتا دیتا ہوں ہاں’ یہ ٹھیک رہے گا”۔ سوچ کی دنیا سے باہر آتے احد روم سے نکل کھڑا ہوا۔
“کیا سمعان صاحب تمھاری باتوں کا یقین کریں گے؟”۔ عقب سے نسوانی آواز ابھری۔
“کیوں؟ کیوں نہیں کریں گے؟ انہیں یقین کرنا ہی ہوگا اور ویسے بھی وہ جانتے ہیں کہ میں کبھی جھوٹ نہیں بولتا”۔ طیش میں آتے بغیر کسی وقفے کے اسنے پھولتی سانس سے بات مکمل کرتے سیڑھیوں پہ قدم رکھا۔
“لیکن تم انہیں بتاو گے کیا؟ تم نے کبھی مجھے دیکھا بھی تو نہیں”۔
“میں نے تمھیں دیک۔۔۔”۔ احد سیڑھیوں کا سفر طے کر چکا تھا جب اسکے قدموں کے ساتھ زبان کو بریک لگی۔
“ک ۔ ک۔ کون ہو تم؟؟”۔ چار سو دھیرے سے گھومتے احد نے ہر لفظ پہ زور دیا۔
“تم نے اگر کسی کو بھی بتانے کی کاوش کی تو نتائج کے ذمہ دار تم خود ہوگے”۔ احد بے بس وہیں فرش پہ ڈھے گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سیاہ ٹریک سوٹ میں ملبوس وہ گھر کے باہر بنے مخصوص جم میں ایکسرسائز کر رہا تھا’ اس سے تھوڑا فاصلے پہ الزبتھ صوفے پہ بیٹھی تھی۔ یک سر الزبتھ صوفے سے یوں اتری جیسے کسی نے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا ہو۔ احد جو مشین پہ دوڑ رہا تھا فی الفور رکا۔
“الزبتھ سٹ ڈاون”۔ احد کی آواز پہ الزبتھ نے اسے گھورا اور غراتے ہی وہاں سے دوڑ نکلی۔
“الزبتھ کم ہیئر”۔ احد بھی اسکے تعاقب میں دوڑا۔
بیرونی دروازہ بند ہونے کی صورت میں الزبتھ دروازے کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔
“الزبتھ کم ان سائیڈ”۔ پھولتی سانس میں احد اسکے قریب آ رکا۔
جونہی احد اسے اٹھانے کی غرض سے جھکا الزبتھ مزید عتاب میں آئی تھی’ احد فورا سے سیدھا ہوا۔
الزبتھ کبھی احد کو اور دروازے کی سلاخوں کے پار دیکھتی۔ گارڈ بھی متحیر الزبتھ کی حرکتیں نوٹ کر رہا تھا۔
“صاحب آپ جائیں میں الزبتھ کو لے آوں گا”۔ گارڈ نے احد کو مخاطب کیا۔
احد کو معاملہ سمجھ آ گیا’ سر کو جنبش دیتے احد حویلی کی اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
الزبتھ بھی برق رفتاری سے احد کے پیچھے لپکی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“عامر صاحب سے بات کی ہے انکی فیملی کو کوئی اعتراض نہیں ‘ انکی جانب سے مثبت جواب موصول ہوا ہے۔ مجھے کل ایک ضروری کام ہے پرسو انشاءاللہ چلیں گے احد کی شادی کی تاریخ رکھنے تب تک اماں جی بھی آ جائیں گیں”۔
سمعان صاحب اور انکی فیملی ڈنر کی غرض سے ڈائننگ ٹیبل پہ براجمان تھے’ اسی دوران سمعان صاحب نے اپنے دائیں جانب بیٹھی راضیہ بیگم کو مخاطب کیا۔
دوسرے لقمے پہ احد کے ہاتھ رکے اور بھینی مسکراہٹ نے احد کے لبوں کا احاطہ کیا۔
“جی ٹھیک ہے”۔ راضیہ بیگم نے جوابا کہا۔
“مسکراہٹ سے ہی کام چلاو گے یا کھانا بھی کھاو گے؟”۔ مقابل بیٹھے احد کے چہرے کو بغور دیکھتے شہریار ہلکا سا احد کی طرف جھکا۔
“شہریار اب احد کے حلق سے نوالا کہاں اترے گا”۔ حرا نے شرارت سے کہا۔
“کیا بھابی آپ بھی”۔ احد نے شرمگیں نگاہ حرا کی طرف اٹھائی۔
“شہریار اور حرا میرے بچے کو کیوں تنگ کر رہے ہو؟”۔ احد کے برابر بیٹھیں راضیہ بیگم نے مداخلت کی۔
“احد کی شادی بھی ہونے والی ہے راضیہ بیگم اور آپ ابھی تک اسے بچہ ہی سمجھتی ہیں”۔ نیپکن سے منہ صاف کرتے سمعان صاحب ہنس دیئے۔
“بچہ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نا ہو جائے ماں کیلیئے اسکا پیار کبھی کم نہیں ہوتا”۔ راضیہ بیگم نے احد کو پیار کرتے کہا۔
“ماما شاید آپ یہ بات بھول رہی ہیں کہ احد کے علاوہ بھی آپکا ایک اور بیٹا ہے”۔ شہریار نے بناوٹی ناراضگی سے کہا۔
“جیلس لوگ بھی یہیں پائے جاتے ہیں ماما”۔ احد نے شہریار کو مزید چڑاتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھبراہٹ میں’ متلاشی نظروں سے پورے روم میں ادھر ادھر پھرتے’ ایک دراز سے دوسرا دراز ٹٹولتے وہ بڑ بڑا رہا تھا۔
“کہاں چلی گئی یہیں تو رکھی تھی؟”۔ ڈریسنگ کے سامنے کھڑے ہوتے وہ سوچ کے بھنور میں پھنسا تھا۔
“اس کتاب کو ڈھونڈ رہے ہو؟؟”۔ کانوں میں وہی نسوانی آواز گونجتے احد نے نظر اٹھائی جہاں آئینے سے اڑتی ہوئی کتاب اپنی طرف آتے دیکھ وہ سرعت سے پلٹا۔
“کیا ہوا احد؟ چونک کیوں گئے؟ تم اسی کتاب کو ڈھونڈ رہے ہو نا؟”۔ نرم آواز کے ساتھ وہ کتاب احد کی طرف ہولے سے بڑھ رہی تھی جیسے کوئی ہاتھوں میں لیئے احد کی طرف بڑھ رہا ہو۔
“ہ۔ ہ۔ ہاں مگر ت۔ ت۔ تم تمھارے پاس یہ کتاب ک۔ کیا کر رہی ہے؟”۔ احد کے پیروں تلے سے زمین کھسکی۔
“ڈرو نہیں ۔۔ لے لو”۔ کتاب ہوا میں چلتی اسکے سامنے آ رکی جس پہ احد بدک کر ذرا پیچھے کو ہوا۔
“احد”۔ بلا وساطت حرا کی آواز سنائی دی جو احد کے روم کی طرف آ رہی تھی۔
“ب۔ بھابی’ اگر بھابی نے دیکھ لیا تو مصیبت ہو جائے گی”۔ احد منمنایا۔
ہمت کی کرچیاں سمیٹے احد فورا سے کتاب کی جانب لپکا اور اسے دبوچ لیا جس پہ غیبی قوت احد پہ ہنسنے لگی۔
“احد کیا ہوا؟ تم گھبرائے ہوئے کیوں ہو؟ اور اے سی کے باوجود بھی تمھیں یہ پسینہ کیوں آ رہا ہے؟”۔ حرا احد کے سامنے آ کھڑی ہوئی اور احد کی غیر ہوتی حالت اسے مشکوک لگی۔
” ک۔ ک۔ کچھ نہیں بھابی آپ بتائیں’ کوئی کام ہے؟”۔ کپکپاہٹ میں احد نے دائیں ہاتھ سے پسینہ صاف کیا۔
“کام تو نہیں ہے’ ناشتہ تیار ہے تم آ جاو”۔ احد کو آگاہ کرتے وہ جونہی گھومنے لگی اس کی نظر احد کے بائیں ہاتھ پر گئی۔ “احد تم نے یہ بک کیوں پکڑی ہے؟ کیا تم بھی کتابیں پڑھتے ہو؟”۔ کتاب کا ٹائٹل “جنات کی تخلیق اور بدلہ” دیکھتے حرا مبہوت رہ گئی۔
“نہیں بھابی میں کتابیں نہیں پڑھتا یہ تو حمزہ کی کتاب ہے”۔ جلد بازی میں احد نے کتاب کو ڈریسنگ کی دراز میں رکھا۔
“اچھا’ ٹھیک ہے تم آ جاو سب انتظار کر رہے ہیں”۔ بولتے ہی وہ روم سے نکل گئی تھی۔
احد نے سکھ کا سانس لیا۔
“تم نے اس سے جھوٹ کیوں بولا؟”۔ غیبی آواز نے دوبارہ سے سر اٹھایا۔
“ت۔ ت۔ تم سے مطلب؟؟”۔ احد بھی عتاب میں روم سے نکل گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: