Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 3

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 3

–**–**–

“آنکھیں کہتی ہیں بیٹھے تو میرے روبرو
تجھ کو دیکھوں عبادت ‘ کرتا رہوں
تیرے سجدوں میں دھڑکے دل یہ میرا
میری سانسوں میں چلتا ہے بس اک تو
عشق دا رنگ تیرے
مکھڑے تے چھایا
جدوں دا میں تکیا اے
چین نئی آیا
کناں سوہنڑاں
ہوووووو
کناں سوہنڑاں تینوں رب نے بنایا
کناں سوہنڑاں تینوں رب نے بنایا
جی کرے ویکھدا رواں”
حویلی کر لان میں گیٹار سامنے رکھے’ احد نے اسکے تار چھیڑتے تان اٹھائی۔
اسکے حلق سے نکلتی آواز کے سروں سے شادمان ہوا جیسے جھومنے لگی تھی۔۔ اس دم احد کے فون پہ رنگ ٹون پوری قوت سے دھاڑی۔ منہ کے ساتھ ہاتھ کی حرکت سے باز رہتے احد نے گیٹار سائیڈ پہ رکھتے فون اٹھایا جہاں سکرین پہ مشائم کا نمبر دیکھتے وہ مسکرا دیا۔
“کیا کر رہے ہو؟”۔ کال ریسیو کرتے ہی مشائم کی مٹھاس بھری آواز احد کے کانوں میں رس گھول گئی۔
“کچھ نہیں ایم یو سی ڈبلیو’ آپکے دیئے ہوئے گیٹار پہ ریہرسل کر رہا تھا”۔ چیئر سے اٹھتے اسنے چہل قدمی کے سلسلے کی ابتداء کی۔
“اچھا’ ایم یو سی ڈبلیو کا مطلب؟”۔
“مائی اپ کمنگ وائف”۔ احد ہنس دیا۔
“آہاں”۔
“جی’ سناو طبیعت کیسی ہے؟”۔
“تمھارے ہوتے ہوئے بھلا بگڑ سکتی ہے؟”۔
“اللہ نا کرے کبھی بگڑے بھی مجھے میری مشائم ہمیشہ پہلے کی طرح چاہیئے ۔۔ ہنستی’ کھیلتی’ تنگ کرنے والی”۔ احد نے دلربائی سے کہا۔
“اچھا جی”۔
“بالکل”۔
ان دونوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ یونہی برقرار رہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد بیٹا نانو آ رہی ہیں۔ شام چھ بجے کی ٹرین ہے’ تم یاد سے انہیں لے آنا”۔ ہال میں کشادہ صوفے پہ لیٹے’ فون کی دنیا میں غرق احد کو راضیہ بیگم نے مخاطب کیا۔
“کیا واقعی؟”۔ فون سے نگاہ ہٹاتے احد نے خوشی کا اظہار کیا۔
“ہاں احد’ خوشی کے گھوڑے پہ سوار ہو کر غائب مت ہو جانا۔ یاد رکھنا کہ انہیں لینے بھی جانا ہے’ ایسا نا ہو کہ تم بھی بھول جاو اور میرے ذہن سے بھی نکل جائے”۔ راضیہ بیگم نے تنبیہ کی۔
“ماما آپ بے فکر رہیں مجھے یاد رہے گا”۔ احد نے جوابا کہا۔
“میں ذرا چل کے انکے کھانے کا اہتمام کر لوں”۔ راضیہ بیگم مطمئن کچن کی جانب بڑھ گئیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آفتاب اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا’ احد حسب حال چھ بجے ریلوے اسٹیشن پہنچ گیا تھا۔ ٹرین کی آواز کیساتھ فلک بوس ہارن کی آواز پہ احد بینچ سے اٹھا اور فون پاکٹ میں رکھتے ٹرین سے اترتے ہجوم پہ متلاشی نگاہ ڈالی۔
دس منٹ کے توقف پہ احد کی تلاش کا سفر اختتام کو پہنچا۔
“اسلام و علیکم نانی جان”۔ متضاد سمت سے آتی ادھیڑ عمر خاتون کے ہاتھوں سے بیگ پکڑتے احد نے احتراما کہا۔
“وعلیکم السلام احد’ میرے بچے کیسے ہو؟”۔ خاتون نے احد کی پیٹھ پہ ہاتھ پھیرتے پیار کیا۔
“میں ٹھیک ہوں نانی جان’ آپکو دیکھ کر تو اور بھی زیادہ ٹھیک ہو گیا ہوں”۔ احد نگینہ بیگم کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن سے باہر کی جانب قدم رکھنے لگا۔
“نواسے کی شادی کا سن کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور فورا چلی آئی”۔
اب وہ دونوں کار کے قریب پہنچ چکے تھے۔ احد نے بیگ پچھلی سیٹ پہ رکھ کر نگینہ بیگم کے لیئے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا۔
“یہ تو آپ نے بہت اچھا کیا کیونکہ اگر آپ نا آتیں تو میں نے آ جانا تھا آپکو لینے کیلیئے”۔ بولتے ہی احد نے دروازہ بند کیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پہ آ گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سیاہ اندھیرے کی کالی چادر چار سو چھائی تھی جسے کہیں دور سے چیرتیں دو پیلی بتیاں مانو ہوا میں اڑتیں محسوس ہو رہی تھیں۔ کار کی تیز رفتاری کے سبب ان بتیوں کی رفتار بھی تیز تھی۔
“احد اور کتنا وقت درکار ہے؟؟”۔ وہ جو کب سے چپ سادھے ہوئے تھیں لگاتار سفر کے باعث بے زار ہو چکی تھیں۔
“نانو جان بس پندرہ’ بیس منٹ اور لگیں گے”۔ احد نے تسلی دیتے کہا۔
نگینہ بیگم منہ موڑ کر دوسری طرف شیشے سے پار دیکھنے لگی تھیں۔
یکلخت احد کی نظر ریئر ویو مرر پر گئی جہاں اندھیرے کے باعث اسے دو چمکتی آنکھوں کی تپش خود پہ محسوس ہوئی۔ احد کا پرسکون دل خوف و ہیبت سے دھڑکنے لگا تھا۔
اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ آنکھیں اس پہ ہنس رہی ہوں۔ احد نے یکدم بریک پہ پیر رکھا جس سے نگینہ بیگم’ جو اپنے دھیان میں بیٹھیں تھیں، کو ہلکا سا جھٹکا لگا۔
“کیا ہوا احد؟؟ تم نے گاڑی کیوں روک دی؟”۔ نگینہ بیگم نے تعجب سے احد کو دیکھا جو پچھلی سیٹ کی جانب دیکھ رہا تھا جہاں سوائے اندھیرے کے کچھ نا تھا۔
“احد بیٹا کیا ہوا؟؟کیا دیکھ رہے ہو؟؟”۔
“ک۔ ک۔ کچھ نہیں نانو”۔ ڈرے’ سہمے دل سے اسنے چہرہ موڑ کر ریئر ویو مرر دوبارہ دیکھا جس پہ وہ چمکتی آنکھیں اسے دوبارہ سے دکھائی دیں۔
احد نے خوف کے مارے بمشکل تھوک نگلا پھر کار کی سپیڈ میں جان ڈالی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم اماں جی کیسی ہیں آپ؟؟”۔ سمعان صاحب’ نگینہ بیگم کے روم میں داخل ہو کر کہنے لگے جہاں راضیہ بیگم پہلے سے موجود تھیں۔
“وعلیکم السلام عامر میاں’ میں تو ٹھیک ہوں تم سناو تمھارا کاروبار کیسا چل رہا ہے؟؟”۔ سمعان صاحب کی آواز پہ نگینہ بیگم نے اپنی توجہ اس طرف مبذول کرائی۔
“کاروبار بھی بس چل ہی رہا ہے اماں جی اللہ کا کرم ہے۔ مالک ہے تو نظام چل رہا ہے’انسان کی اتنی کیا بساط”۔ سمعان صاحب بیڈ کے قریب رکھی چیئر پہ براجمان ہو گئے۔
“کھانا لگا دوں؟”۔ راضیہ بیگم نے کہا۔
“آپ لوگوں نے کھا لیا؟ اور اماں جی آپ نے؟”۔ راضیہ بیگم کے بعد سمعان صاحب نے نگینہ بیگم سے کہا۔
“ہم لوگوں نے کھا لیا ہے سمعان میاں رات بہت ہو گئی ہے’ تم بھی کھا لو”۔ نگینہ بیگم نے کہا۔
“میں کھانا لگاتی ہوں آپ آ جائیں”۔ راضیہ بیگم اٹھتے روم سے نکل گئیں تھیں۔
“اچھا اماں جی آپ آرام کریں انشاءاللہ کل ملاقات ہوگی”۔ سمعان صاحب بھی نشست چھوڑتے اٹھ کھڑے ہوئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“صاحب نثار صاحب آئے ہیں’ ڈرائنگ روم میں آپکا انتظار کر رہے ہیں”۔ احد اپنے روم میں کال سننے میں منہمک تھا جب خادمہ نے اسے آگاہ کیا۔
“ون منٹ’ ٹھیک ہے تم جاو میں آتا ہوں۔ میں آپکو کال بیک کر تا ہوں”۔ خادمہ کو رخصت کرتے احد نے کالر سے معذرت کرتے کال کاٹ دی پھر فون بیڈ پہ رکھتے روم سے نکل گیا تھا۔
زینے اترنے کے بعد احد سیدھا ڈرائنگ روم پہنچا جہاں سیٹھ نثار صاحب اسی کے منتظر تھے۔
سیٹھ نثار صاحب کا شمار شہر کے معززین اور امراء میں کیا جاتا تھا۔ پنجاب گروپ آف کالجز کے ساتھ ساتھ سیٹھ نثار صاحب شالیمار بس ٹریولز کے آنر بھی تھے۔ ایک سیلیبرٹی ہونے کی حیثیت سے احد کے ساتھ انکے گہرے روابط تھے۔
“اسلام و علیکم سیٹھ صاحب’ آپ ہمارے مسکن پہ امید ہے خیریت رہی ہوگی؟”۔ احد نے پرتپاک انداز میں کہا۔
“وعلیکم السلام مسٹر احد بالکل خیریت ہے دراصل آپ سے ایک درخواست کرنی تھی”۔ صوفے سے اٹھتے سیٹھ نثار نے کہا۔
“جی جی سیٹھ صاحب حکم کریں”۔ نثار صاحب کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے احد اسکے مقابل رکھے کشادہ صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
“دراصل میری اکلوتی بیٹی کی شادی ہے بحیثیت گلوکار وہ آپکو پسند کرتی ہے اور بضد ہے کہ اگر آپ اسکی شادی میں نہیں آئیں گے تو وہ شادی نہیں کرے گی۔ اس وجہ سے میں آپ سے ریکویسٹ کرنے آیا ہوں ‘ امید ہے آپ مجھے مایوس نہیں لوٹائیں گے؟”۔ نثار صاحب نے وضاحت کرتے التجا کی۔
“میں سمجھ سکتا ہوں نثار صاحب’ یہ میرے لیئے اعزاز کی بات ہے۔ آپ بے فکر رہیں آپکی بیٹی کی خواہش بھی پوری ہو گی اور شادی بھی ضرور ہوگی”۔ احد نے خوش اسلوبی سے حامی بھری۔
“اعزاز کی بات تو ایسے بول رہے ہو جیسے کوئی تمغہ مل رہا ہے”۔ نسوانی آواز دوبارہ سے احد کے کانوں کے پاس سے گزری جس پہ اسکے لبوں کی ہنسی چھو منتر ہوئی۔
خوف و خطر میں احد کے چہرے سے عرق نکلنے لگا تھا۔ خود کو بمشکل کمپوز کرتے احد نے بناوٹی مسکراہٹ لبوں پہ سجالی۔
“آپکا بہت شکریہ مسٹر احد”۔ نثار صاحب نے بولتے ہی انویٹیشن کارڈ احد کی طرف بڑھایا۔
“میں اپنی پوری کوشش کروں گا نثار صاحب”۔ احد نے کارڈ پکڑتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ہیلو مشائم کیسی ہو؟ کیا کر رہی ہو؟”۔ فون کان کے ساتھ لگائے احد روم میں داخل ہوا۔
“ٹھیک ہوں تم سناو؟”۔ دوسری جانب لگاوٹ سے جواب دیا گیا۔
“ٹھیک ہوں’ مجھے تم سے اک بات کرنی ہے تمھارے پاس کوئی ہے تو نہیں؟؟”۔ احتیاطی تدابیر کے تحت پوچھا گیا۔
“نہیں پاس کوئی بھی نہیں میں اکیلی ہوں’ تم نے کونسی ایسی بات کرنی ہے جو کنفرم کر رہے ہو؟؟”۔ مشائم نے شرارت سے کہا۔
“ذہن پہ زیادہ زور مت دو ورنہ پھر سے طبیعت خراب ہو جائے گی۔ نارمل بات ہے اور ویسے بھی جن کے بارے میں آپ سوچ رہی ہیں وہ انشاءاللہ اس روم کی حدود تک محدود رہیں گیں’ آپکو فکر مند ہونے کی قطعا ضرورت نہیں”۔ مصنوعی سنجیدگی کا لبادا اوڑھے احد زیر لب مسکرا دیا۔
“ایسی کونسی باتیں ہیں؟”۔ مشائم بھی آخر اسی کی صحبت میں رہ چکی تھی’ کہاں پاوں کھینچنے والی تھی۔
“اٹس آ ٹاپ سیکریٹ بٹوین می اینڈ می اینڈ می’ کوائیٹ”۔ احد نے ڈپٹ کر کہا۔
“پہلے خود سوچ سمجھ کے بولا کرو نا”۔ مشائم قہقہ لگا کر ہنس دی۔
“کیا کروں جب تم سے بات کرتا ہوں تو ہر حد بھول جاتا ہوں”۔
“او ہیلو مسٹر احد سمعان انسان بن جائیے ورنہ بنانا بھی آتا ہے’ بات کیا ہے؟ وہ بتاو مہربانی ہوگی”۔ احد کو پٹڑی سے اترتا دیکھ مشائم نے جھٹ سے کہا۔
احد نے جاندار قہقہ لگایا پھر بیڈ پہ جا بیٹھا۔
“تم کل تیار رہنا شام پانچ بجے تک’ میں تمھیں پک کر لوں گا”۔
“کیوں کہاں جانا ہے؟”۔
“نثار صاحب کی بیٹی کی شادی ہے وہاں جانا ہے’ خاص انکی بیٹی کیلیئے”۔ احد شریر ہوا۔
“انکی بیٹی کیلیئے کیوں؟”۔ مشائم متعجب ہوئی۔
“بھئی کیا ہے نا ایک راکسٹار کے بہت فینز ہوتے ہیں’ ڈائی ہارٹ فینز۔ یہ بھی انہی میں سے ایک ہے”۔ احد نے لطف اندوزی سے بولتے بیڈ کے تاج سے ٹیک لگالی۔
“اچھا تو پھر تم جاو’ میں نہیں جاوں گی اور جا کر اسی سے بات کرو، سمجھے’ بائے”۔ مشائم نے ناراضگی میں رابطہ منقطع کر دیا تھا۔
“مشی’ مشی میری بات تو سنو یار’ پاگل لڑکی’ آئی لو یو سو مچ یار ‘پلیز لسن ٹو می”۔ احد بولتا رہ گیا۔
اسی اثنا میں کھڑکی کے پٹ زور سے کھلے جیسے کسی نے غصے میں دھکے سے کھولیں ہوں۔
احد جو مطمئن بیٹھا تھا فورا سے سیدھا ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پر رونق شام’ مہمانوں کی گہما گہمی’ مستطیل لان جسکے چار جانب رنگا رنگ بتیوں اور پھولوں سے آرائش کی گئی تھی۔ مہمانوں کے لیئے چیئر ٹیبل لگائے گئے تھے’ ہر ٹیبل کے گرد شمار میں چار چیئرز تھیں۔
مستطیل سٹیج جسکی بیک پھولوں سے آراستہ کی گئی تھی اور جدید طرز کا ایک صوفہ سیٹ رکھا تھا جس پہ اس وقت دلہن کے ہمراہ دلہا موجود تھا۔ مہمانوں کے ساتھ میزبان خاص کر دلہن شدت سے احد کے منتظر تھے۔
“اس وقت ہم سیٹھ نثار صاحب کے گھر کے باہر موجود ہیں جہاں انکی اکلوتی بیٹی رانیہ نثار کی شادی کی تقریب زور و شور سے جاری ہے۔ اس تقریب کا خاص پہلو یہ ہے کہ اس تقریب کو چار چاند لگانے آج شہر کے سب سے مشہور گلوکار مسٹر احد سمعان یہاں تشریف لائیں گے جسکی بنا پہ فینزز کا ہجوم بہت زیادہ ہے”۔
شہر کے نیوز چینلز کے مقرر کردہ نمائندوں نے کوریج کرنا شروع کی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
راہداری پہ سرخ کارپٹ بچھایا گیا تھا اور دونوں اطراف پھولوں کی زیبائش کی گئی تھی۔ بلیک چمچماتی مرسیڈیز راہداری کے اختتام پہ آ رکی جسکے رکتے ہی سیکیورٹی گارڈ نے آگے بڑھتے دروازہ کھولا’ سیاہ چمکتے جوتوں کو کارپٹ پہ جماتے اسنے سب پہ اپنی شان نمایاں کی۔ دوسری جانب دروازہ کھلتے ہی مشائم کار سے نکلتی احد کے قریب آ کھڑی ہوئی۔
“احد سر آ گئے لیٹس گو”۔ نیوز چینل کے نمائندے کی نظر احد پر جونہی پڑی وہ کیمرہ مین کی ہمراہی میں احد کی جانب دوڑی۔
“ویلکم مسٹر احد”۔ نثار صاحب نے احد کے قریب آتے اس کا خیر مقدم کیا۔
“شکریہ سیٹھ صاحب”۔ احد نے خوشدلی سے کہا۔
“انکا تعارف؟”۔ نثار صاحب نے احد کے بعد مشائم کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“مائی فیانسی”۔ مشائم کی جانب دیکھتے وہ مسکرا دیا۔
“احد سر سیٹھ نثار صاحب کے انویٹیشن کو ایکسیپٹ کرتے آپ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ کے لیئے آپکے فینز کس اہمیت کے حامل ہیں۔ رانیہ نثار کے علاوہ آپکے بہت سے فینز یہاں موجود ہیں جو آپ سے بات کرنے کے خواہش مند ہیں’ آپ اس بارے میں کیا کہیں گے؟”۔ لیڈی نمائندے نے سوال کرتے مائیک احد کی طرف بڑھایا۔
“پہلے تو میں نثار صاحب کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھے عزت بخشی۔ ایک راکسٹار کیلیئے اس سے بڑی بات نہیں ہو سکتی کہ دنیا میں اسکی موسیقی’ اسکی آواز’ اسکی لگن اور ہنر کو سراہنے والے لوگ اکثریت میں موجود ہیں۔ کنسرٹ سے لے کر شو تک ایون کے البم کے ریلیز ہونے تک یا اسکے بعد مجھے جتنا بھی پروٹوکول دیا جاتا ہے’ یہ پروٹوکول میرا نہیں میرے فینز کا ہے”۔
احد کی آمد پہ سیکیورٹی کے انتظامات سخت کیئے گئے تھے’ اسکی نثار صاحب کے گھر میں آمد اسکے فینز کیلیئے باعث مسرت تھی جو اس وقت اسکے گرد ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے۔
“احد ۔۔۔ احد ۔۔۔ احد”۔
نسوانی اور مردانہ آوازیں یکسر ہوا میں رقصاں تھیں۔
“سر اپنے فینز کیلیئے کوئی سانگ جو آپ انہیں ڈیڈیکیٹ کرنا چاہتے ہیں؟”۔
نمائیندے نے مزید کہا۔
“تینوں لکھاں تو چھپا کے رکھاں
اکھاں تے سجا کے
تو اے میری وفا
رکھ اپنڑاں بنا کے
میں تیرے لئی آں’ تیرے لئی آں یارا
نا پاویں کدی دوریاں
میں جینا ہاں تیرا اااااااا
میں جینا ہاں تیرا تو جینا ہے میرا
دس لینڑاں کی نخرا دکھا کے
دل دیاں گلاں
کراں گے نال نال بے کے
اکھ نال اکھ نوں ملا کے
دل دیاں گلاں”۔
احد نے گنگنانا شروع کیا جس پہ اطراف میں ہوٹنگ شروع ہوئی۔
“بہت شکریہ سر’ سر آپکے فینز یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جو آپکے ساتھ موجود ہیں’ انکا آپکے ساتھ کیا رشتہ ہے؟”۔ نمائندے کے سوال پہ احد نے مشائم کو دیکھا’ مشائم آزمودہ کاری سے احد کو تجسس بھرے انداز میں دل آویزی سے دیکھ رہی تھی۔
“مائی لائف’ مائی فیانسی’ بہت جلد ہماری شادی ہونے والی ہے”۔ مشائم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے احد نے دلربائی سے کہا۔
“فینز بہت پرامید ہیں سر’ بہت ساری نیک خواہشات اور دعائیں آپ کیلیئے”۔ نمائندے نے کہا۔
“تھینکس الاٹ’ ایکس کیوز می”۔ معذرت کرتے احد مشائم کے ہم قدم نثار صاحب کی ہمراہی میں لان کی اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تقریب سے واپسی پہ احد کا سر درد سے بوجھل تھا۔ مشائم کو گھر ڈراپ کرنے کے بعد احد حویلی پہنچا’ کافی رات ہو چکی تھی۔ کار سے نکلتے احد نے کوٹ پشت پہ ڈالا اور حویلی کی اندرونی جانب بڑھنے لگا۔ حویلی سنسان پڑی تھی’ سب سو چکے تھے سوائے اس خادمہ کے جو کچن کا بقیہ کام سمیٹنے میں لگی تھی۔ احد تھکے ہارے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتا روم میں پہنچا’ گلاب کی بھینی خوشبو نے اسکا استقبال کیا۔ احد نے چونک کر روم کا جائزہ لیا لیکن اسے کوئی گلاب نظر نا آیا۔
سر میں درد کی کثرت کے سبب وہ بیڈ پہ جونہی بیٹھا’ بدن کو ڈھیلا چھوڑتے بیڈ پہ لیٹ گیا تھا۔ چند ہی لمحوں میں اسے یوں لگا جیسے کوئی اسکا سر دھیرے سے دبا رہا ہو’ احد کو راحت محسوس ہونے لگی تھی۔ چند منٹوں کے توقف سے اسے درد میں خاصہ آرام ملا’ بلا وساطت اسے یوں لگا جیسے کوئی اسکے بالوں میں انگلیاں چلا رہا ہے۔
“تھینک یو سو مچ”۔ سکون کی چادر لپیٹے احد بڑبڑایا۔
احد کے بالوں میں انگلیاں مستقل ہولے سے چلتپھرت کر رہیں تھیں۔ جونہی اسنے کروٹ لیتے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی’ سفید لباس میں ملبوس لڑکی کا عکس اسکی آنکھوں میں دھندلا سا سمایا۔
“ارے مشی تم’ یہاں؟”۔
احد کے منہ سے مشائم کا نام سنتے وہ لڑکی عتاب میں آئی تھی’ احد کا وجود اگلے ہی لمحے سامنے دیوار سے پٹختے فرش پہ گرا تھا جس سے اسکی آنکھیں کھلیں اور وہ بوکھلا کر سیدھا ہوا۔ اسکے حواسوں پہ بحال ہوتے ہی وہ لڑکی رفو چکر ہوئی۔
اب احد کے روم میں احد’ خوف و ہراس اور خاموشی کے کوئی موجود نا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ہاں میں نے دیکھا تھا کل لائیو’ بڑی ہمت آ گئی ہے جگر بھئی ماننا پڑے گا ویسے تم نے فینز کا ہارٹ بریک کر دیا۔ بےچاری کڑیاں’ مجھے تو ترس آ رہا ہے ان پہ”۔
کان کے ساتھ ائیر پاڈ لگائے وہ مال سے نکل کر پارکنگ ایریا کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“سب سمجھ آ رہا ہے جگر چھپانے کی ضرورت نہیں’ چل ٹھیک ہے تو کام کر لے پھر بات ہو گی۔ بائے”۔ پینٹ کی پاکٹ سے فون نکالتے اسنے کال ڈسکنیکٹ کی ہی تھی کہ اسکے دائیں شانے پہ کسی نے ہا تھ رکھا جس پہ وہ سرعت سے پلٹا۔
“کیا ہوا حمزہ؟ چونک کیوں گئے؟ میں ہوں قمیل”۔ مقابل کھڑے انسان نے فورا سے کہا۔
“نہیں’ وہ بس’ کچھ نہیں’ کافی عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہے نا تو اس وجہ سے’ نن ادر دین دس”۔ حمزہ نے چہرے کے نقوش ڈھیلے کیئے۔
“ہاں کالج ٹائم کے بعد اب ملاقات ہو رہی ہے ۔۔۔ تم لوگوں نے بھی تو رابطہ نہیں کیا’ احد کی سناو؟ بات ہوتی ہے تمھاری؟”۔
“احد سے میری بات ان فیکٹ ملاقات بھی ہوتی ہے۔ اس شہر کا سب سے فیمس راکسٹار ہے سنا تو ہوگا؟”۔ حمزہ نے مزید کہا۔
“ہاں دیکھا میں نے اسے کل ٹی وی پہ اسکے ساتھ اسکی منگیتر بھی تھی۔ وہی ٹھیک رہ گیا جو پڑھتا نہیں تھا پھر بھی اتنا فیمس ہو گیا اور ایک ہم ہیں جو پڑھ لکھ کے بھی خالی ہاتھ ہیں”۔ قمیل طنزا ہنس دیا۔
حمزہ کو قمیل کی بات شاق گزری تھی جس سے اس کے اندر غصے کا جولا پھٹا۔
“ہر اک کا اپنا شوق ہوتا ہے قمیل اور ویسے بھی موسیقی ہر انسان کے بس کا روگ نہیں’ شہرت ہر کسی کے قدم نہیں چومتی نا ہی ہر کسی کی آواز اتنی اچھی ہو سکتی ہے کہ وہ سنگر بنے۔ اینی وے مجھے دیر ہو رہی ہے پھر ملاقات ہوگی’ بائے”۔ سرد مہری سے جواب دیتے حمزہ کار میں بیٹھ گیا۔
کچھ ہی دیر میں حمزہ کار دوڑاتا سڑک کی جانب لے گیا تھا جبکہ قمیل اسکی کار کو حقارت سے گھورتے مال میں چلا گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ارے مشی تم یہاں”۔ جب وہ روم کی دہلیز پہ پہنچا تو مشائم کو اپنے روم میں پہلے سے موجود دیکھ متحیر رہ گیا۔
احد کی صوت پہ مشائم جو بیڈ پہ بیٹھی فون پہ گیم کھیلنے میں منہمک تھی’ اسکی طرف متوجہ ہوئی۔
“ہاں وہ تمھاری نانو سے ملنے آئی تھی”۔ بولتے ہی وہ بیڈ سے کھڑی ہوئی۔
“بھئی اک نانو ہی لکی ہیں جن سے ملنے کا ارادہ کیا اور تم یہاں تک چلی آئی ورنہ ہم جیسے غریبوں کو تو لوگ پوچھتے ہی نہیں”۔ بناوٹی سنجیدگی میں بولتے وہ مشائم کے قریب آیا۔
“تم اور غریب’ ویری فنی”۔ مشائم نے مذاق اڑاتے کہا۔
“کیوں؟ میں غریب نہیں ہو سکتا؟”۔ احد اسکے مزید قریب ہوا۔
“کبھی محلوں میں رہنے والے اور مرسیڈیز میں گھومنے والے سوٹڈ بوٹڈ لوگ’ غریب ہوئے ہیں؟”۔ مشائم نے احد کی آنکھوں میں جھانکا جس پہ اسنے دھیرے سے “ہاں” میں سر ہلا دیا۔
” کیسے؟”۔ احد کی چاہت کی لو خود پہ محسوس کرتے اسنے دلچسپی سے کہا۔
“پیار کے بھوکے لوگ محبت کی نگری میں غریب ہی کہلاتے ہیں”۔ احد شرارت سے مسکرا دیا۔
“مطلب کہ کچھ بھی’ تم سے کچھ بھی توقع کی جا سکتی ہے احد”۔ احد کے سر پہ ہولے سے چپت لگاتے مشائم ہنس دی۔
اسی دوران کھڑکی کے پٹ زور سے بند ہوئے۔
“یہ کیسے بند ہوئی؟”۔ اسکے اوسان جاتے رہے’ احد جو سب کچھ جانتا تھا، نے بمشکل لعب نگلا۔
“ہوا سے ہوا ہو گا’ ت۔ تم پریشان نا ہو بلکہ تم ایسا کرو ہال میں میرا ویٹ کرو میں کار کی چابی لے کر آتا ہوں”۔ احد نے فورا سے کہا۔
“کار کی چابی مگر کیوں؟”۔ مشائم حیرت سے اسے تاکنے لگی۔
“کہیں جاتے ہیں نا گھومنے”۔ احد کو یہی صحیح لگا تھا۔
“اوکے’ جلدی آنا”۔ مشائم بولتے ہی روم سے نکل گئی تب احد نے آہ بھری۔
“آ”۔ مشائم کے حلق سے نکلی فلک بوس چیخ نے احد کے چھکے چھڑا دیئے جس پہ وہ بوکھلاہٹ میں روم سے باہر دوڑا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: