Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 4

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 4

–**–**–

“مشی”۔ مشائم اپنا پیر پکڑے سیڑھیوں سے نیچے فرش پہ بیٹھی تھی’ احد برق رفتاری سے سیڑھیاں اترتے اسکے قریب آیا۔
“کیا ہوا مشی؟؟”۔ مشائم کے قریب پنجوں کے بل بیٹھتے احد نے بے چینی سے کہا۔
“احد میرا پاوں پتہ نہیں کیا ہوا؟ میں گر گئی’ بہت تکلیف ہو رہی ہے”۔ درد کی زیادتی پہ مشائم کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے تھے۔
“مشائم بیٹا تم ٹھیک ہو؟ کیا ہوا ہے؟”۔ راضیہ بیگم بھی روم سے نکلتی اس طرف آئیں۔
“ماما مشائم سیڑھیوں سے گر گئی ہے’ چلو مشی میں تمھیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں”۔ راضیہ بیگم کے بعد اسنے مشائم کو مخاطب کیا۔
مشائم نے ابتر حالت میں اٹھنے کی ناکام کاوش کی۔
“احد بہت درد ہو رہا ہے”۔ مشائم کی آنکھیں مسلسل رو رہیں تھیں۔
مجبورا احد نے اسے بانہوں میں لیا اور انٹرنس کی جانب بڑھا۔
“دھیان سے جانا احد’ اللہ خیر رکھے”۔ راضیہ بیگم نے اسے جاتے جاتے تنبیہ کی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میں نے انہیں پلستر لگا دیا ہے’ ٹھیک ہونے میں کم از کم ایک ماہ لگے گا باقی آپ انہیں میڈیسنز دیں۔ ایک ماہ بعد ہی بتا سکتا ہوں کہ کیا صورت حال ہے”۔ ڈاکٹر نے احد کو مطلع کرتے پریسکریپشن احد کو تھمائی۔
“لیکن ڈاکٹر صاحب گھبرانے والی بات تو نہیں ہے؟”۔ احد نے مضطرب دل سے کہا۔
“دیکھئے مسٹر احد میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا’ مس مشائم کے پیر کی ہڈی ٹوٹی ہے کوئی معمولی فریکچر نہیں ہے۔ ابھی تو صرف ایک ماہ کا کہا ہے دو ماہ بھی لگ سکتے ہیں”۔ ڈاکٹر نے تفصیل دی۔
“مگر ڈاکٹر صاحب مشائم پہلے جیسی تو ہو جائے گی نا؟”۔ احد کی بے چینی بالمضاعف بڑھی تھی۔
“ایسے کیسز تو روزمرہ کی زندگی میں کافی سارے ڈیل کرنے کو ملے ہیں اور ان سب پر مثبت اثر رہا ہے’ میں پرامید ہوں انشاءاللہ اس کیس میں بھی ایسا ہی ہوگا”۔ ڈاکٹر نے دلاسہ دیتے یقین دہانی کرائی۔
“انشاءاللہ ڈاکٹر”۔
“کم ان”۔ دروازے پہ ناک ہوا تو ڈاکٹر نے آواز بلند کی۔
ایک نرس مشائم کے ہمراہ کیبن میں داخل ہوئی۔ مشائم جو ویل چیئر پہ بیٹھی تھی’ افسردگی سے احد کو دیکھ رہی تھی۔
“تھینک یو سو مچ ڈاکٹر’ ٹھیک ہے اب ہم چلتے ہیں”۔ اجازت طلب کرتے احد چیئر سے اٹھا۔
“چلیں مشی”۔ مشائم کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتے احد نے سوز نہانی سے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشائم بیٹا کیا ہوا؟ یہ تمھارے پاوں پہ پلستر کیوں چڑھا ہے؟”۔ احد مشائم کو لے کر جونہی عامر صاحب کے گھر میں داخل ہوا عمارہ بیگم جو کچن کی طرف جا رہی تھیں’ مشائم کو دیکھتے ہی مضطرب البال اس سمت آئیں۔
“ماما کچھ نہیں وہ بس گر گئی تھی”۔
“گر گئی مگر کیسے؟”۔
“ماما وہ ۔۔۔۔۔۔”۔
“آنٹی مشائم نانو سے ملنے آئی تھی گھر پہ’ سیڑھیاں اترتے ہوئے گر گئی اس وجہ سے میں مشی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔ گھبرانے والی بات نہیں ہے انشاءاللہ مشی جلدی ٹھیک ہو جائے گی”۔ احد نے مشائم کی بات کاٹتے کہا۔
“مشائم دھیان سے چلتے ہیں نا بیٹا”۔ عمارہ بیگم نے اسکا چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیا۔
“جی ماما آئیندہ دھیان رکھوں گی”۔ مشائم نے اثبات میں سر ہلایا۔
“احد مشائم کو اسکے روم میں لے آیا تھا’ عمارہ بیگم بھی اسکے متعاقب میں تھیں۔
مشائم کو سہارا دیتے احد نے بیڈ پہ لٹایا۔
“اب تم آرام کرو”۔
“ٹھیک ہے آنٹی اب میں چلتا ہوں”۔ احد جونہی دروازے کی جانب گھوما مشائم نے اسکے دائیں ہاتھ پہ گرفت تنگ کی جس پہ وہ ایڑیوں کے بل مڑا۔
“جا رہے ہو؟”۔ مشائم کی آنکھ میں نمی امڈ آئی تھی۔
“مشو مجھے ایک بہت ضروری کام ہے اسکے لیئے میرا جانا ضروری ہے۔ جیسے ہی کام ختم ہوا میں تم سے ملنے آوں گا”۔ مشائم کے سامنے بیٹھتے احد کے اسکا چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیا۔
“اوکے”۔ مشائم نے معصومیت سی کہا۔
“ٹیک کیئر”۔ بیڈ سے اٹھتے احد دروازے کی طرف بڑھا۔
“یاد سے آنا”۔ مشائم نے آواز لگائی۔
“ضرور”۔ احد نے ہاتھ ہوا میں لہرایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اطراف میں سکوت کے دیپ جل رہے تھے’ چوکھٹ پہ جوتوں کو اتارتے احد روم میں داخل ہوا جہاں ابتدائی قدم رکھتے ہی اگربتی کی مہک ہوا سے آمیزش اختیار کرتے احد کے نتھنوں سے آ لپٹی۔
یہ ایسا ٹھکانہ تھا جہاں اسے بغیر کسی ذہنی لغزش کے مکمل سکون نصیب ہوا تھا۔
متوسط عمر آدمی جو سفید لباس میں ملبوس تھا’ قالین پہ رکھے کشن پہ بیٹھا ہاتھ میں تسبیح لیئے ثناخوانی میں مصروف تھا۔ سفید ریش’ روشن چہرہ’ آنکھیں ہنوز بھینچی ہوئی تھیں مانو عبادت میں غرق ہو۔ احد آہستگی سے چلتا اسکے قریب آ بیٹھا۔
کچھ لمحوں کی تاخیر سے بزرگ نے آنکھیں کھولیں۔
“اسلام و علیکم پیر صاحب”۔ احد نے پہل کی۔
“وعلیکم السلام’ کہو بیٹا کیا مسئلہ ہے؟”۔ بزرگ نے شائستگی سے کہا۔
“پیر صاحب مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ۔۔۔ میرے ساتھ گزشتہ دنوں سے عجیب عجیب ہو رہا ہے’ کبھی گلاب ملتا ہے’ کبھی آوازیں آتی ہیں’ ایک روز نیند میں دیوار کے ساتھ بھی جا لگا تھا’ کبھی گانوں کی آوازیں جو میں گاتا ہوں اکثر وہی’ کبھی سفید لباس میں لڑکی نظر آتی ہے اور قریب جانے پہ غائب ہو جاتی ہے اور تو اور پیر صاحب مشائم سیڑھیوں سے گر گئی میرے حساب سے تو معمولی فریکچر ہونا چاہیئے تھا مگر پاوں کی ہڈی ٹوٹی ہے”۔ احد نے پس و پیش بات کا آغاز کیا۔
“بیٹا معاملہ سنگین لگ رہا ہے میں آپ کو ابھی کچھ نہیں بتا سکتا اسکے لیئے مجھے چلا کاٹنا ہوگا پھر ہی میں کچھ بتا سکتا ہوں’ رات نو بجے آپ مجھے کال کر کے پوچھ لینا میں تب تک حساب کر لوں گا”۔ پیر صاحب نے سوچ بچار سے کہا۔
“ٹھیک ہے پیر صاحب بڑی مہربانی’ میں چلتا ہوں خدا حافظ”۔ بولتے ہی احد اٹھ کھڑا ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد جب روم کی دہلیز پہ آ کھڑا ہوا تو روم کی منتشر حالت دیکھ اسکے اوسان جاتے رہے’ تمام اشیاء بکھری ہوئی تھیں۔ خوف کے مارے اسکا چہرہ پسینے سے نم ہو گیا تھا۔ بمشکل تھوک نگلتے احد لڑکھڑاتے قدموں سے روم میں داخل ہوا۔
ہر چیز کو بغور دیکھتے اسکے چہرے سے پسینہ ہنوز ٹپک رہا تھا’ جونہی اسنے بیڈ کی حد پار کی اسے ایک دھکا سا لگا جس پہ وہ گرتے گرتے سنبھلا تھا۔ احد جھٹ سے مڑا’ دونوں ہاتھ پشت پہ جکڑے جا چکے تھے جیسے کسی نے رسیوں سے باندھے ہوں’ پنہاں رسیاں جنہیں ظاہری آنکھ دیکھنے سے قاصر تھی۔
“چھوڑو مجھے”۔ اسنے خود کو چھڑانے کی سعی کی۔
اس دم اسکی ٹانگوں میں بھی لوپ رسی ڈالی جا چکی تھی۔
“کیوں باندھا ہے مجھے چھوڑو”۔ احد حلق کے بل چلایا۔
احد کی چیخ و پکار صرف اسکے روم کی چار دیواری میں مقید تھی’ وہ جتنا بھی چلائے اسکی آواز گھوم کر اسی کو سنائی دے رہی تھی۔
“منع کیا تھا میں نے تمھیں کہ کسی کو مت بتانا مگر تم نے میری ایک نہیں سنی”۔ غیبی آواز نے عتاب میں سر اٹھایا۔
“تو م م میں نے کسی کو کچھ نہیں بتایا”۔ احد ہکلا اٹھا تھا۔
اسکے حواس خمسہ جواب دینے لگے تھے۔
“جھوٹ”۔ ہوا کا تیز جھونکا اسکے چہرے کو چھوتا ہوا گزرا تھا۔
“جھوٹ بول رہے ہو تم۔ نو بجے بتانے والا ہے نا وہ بڈھا تمھیں’ میں اسے بھی مار دوں گی”۔ غیبی قوت کا غصہ دگنا ہوا۔
اگلے ہی لمحے احد کا فون اپنے طور پہ اسکی جیب سے نکلا جسے دیکھتے احد کپکپانے لگا تھا۔
فون دیوار کے ساتھ پٹختے غیبی قوت وہاں سے چلی گئی تھی ساتھ ہی احد ان رسیوں کے غیبی شکنجے سے بھی آزاد ہوا تھا۔
احد کی حالت رو رو کر خستہ ہو گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“آ رہا ہوں’ ایک منٹ”۔ ڈور بیل بجی تو حمزہ روم سے نکلتا گیٹ کی جانب بڑھا۔
“ارے قمیل تم یہاں؟”۔ قمیل کو موجود دیکھ حمزہ دنگ رہ گیا۔
“ہاں وہ تم سے ایک بات کرنی تھی’ بڑی مشقت کے بعد تمھارے گھر کا ایڈریس ملا ہے’ اندر نہیں بلاو گے؟”۔ قمیل نے جواب دیتے کہا۔
“سوری دھیان میں نہیں رہا’ اندر آو”۔ حمزہ نے سائیڈ پہ ہوتے اسے جگہ دی جس پہ وہ حمزہ کے ہم قدم گھر میں داخل ہوا۔
“بولو کیا لو گے؟ ٹھنڈا یا گرم؟”۔ ڈرائنگ روم میں داخل ہوتے ہی حمزہ نے کہا۔
“کچھ نہیں ابھی تم فلحال میرے ساتھ بیٹھو بات زیادہ ضروری ہے”۔ قمیل نے نشست سنبھالتے نفی کی۔
“کہو؟”۔ حمزہ بھی اسکے برابر تھوڑا فاصلے پہ بیٹھ گیا تھا۔
“یار میں چاہ رہا ہوں کہ ایک گیٹ ٹو گیدر رکھیں’ تمام پرانے فرینڈز کا”۔ قمیل نے آغاز کیا۔
حمزہ کو قمیل کی بات کھٹکی تھی۔
“دیکھو قمیل میں نہیں آ سکتا میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہوتا”۔ حمزہ نے وقت کی مناسبت سے انکار کیا۔
“دیکھ حمزہ میں مانتا ہوں کہ میں کالج ٹائم میں تم لوگوں کے ساتھ بہت برا رہا ہوں’ میرا ایمپریشن تم لوگوں کے ذہنوں پہ بہت برا ہے مگر میرا یقین کر میں بہت بدل گیا ہوں تلافی کرنا چاہتا ہوں اسی بہانے احد سے بھی معافی مانگنے کا موقع ملے گا”۔ قمیل نے بناوٹی خجالت سے کہا۔
“میں کوشش کروں گا”۔ حمزہ نے تنگ آ کر حامی بھری۔
“بہت شکریہ یار اور ہاں احد کو بھی لازمی کہنا بلکہ لے کر آنا”۔ اصرار کرتے وہ صوفے سے اٹھا۔
حمزہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشائم یہ لو جوس پی لو اسکے بعد میڈیسن بھی لینی ہے”۔ ہاتھ میں جوس کا گلاس پکڑے زہرہ مشائم کے روم میں داخل ہوئی۔
“آپی میں بور ہو گئی ہوں میڈیسنز لے لے کر’ اب نہیں لینی”۔ مشائم نے منہ کے زاویے بگاڑے۔
“ہاں کیوں نہیں میں ایسا کرتی ہوں کہ تمھیں میڈیسنز کی جگہ چاکلیٹس اور ٹافیز لا دیتی ہوں وہ کھا لینا اس سے آرام بھی آ جائے گا’ ہے نا؟”۔ زہرہ نے تردید کی۔ ” چلو اب جلدی کرو”۔ جوس کا گلاس مشائم کو تھماتے زہرہ نے سختی کی۔
“یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں زہرہ آپی’ آپ میری ایم یو سی ڈبلیو کو ڈانٹ رہی ہیں”۔ احد کی آواز عقب سے ابھری جو دروازے سے ٹیک لگائے بازو سینے کے گرد باندھے ہوئے تھا۔
احد کی آواز پہ زہرہ اسکی جانب گھومی’ مشائم بھی احد کو دیکھتے مسکرا دی۔
“ایم یو سی ڈبلیو مطلب؟”۔ زہرہ متحیر ہوئی۔
“مائی اپ کمنگ وائف”۔ بازو پہلو میں کرتا احد اس طرف آیا۔
“میں اسے کیوں ڈانٹ رہی ہوں اگر تمھیں پتہ چلے تو تم بھی اسے ڈانٹو گے”۔ زہرہ نے شیخی سے بولتے مشائم کو گھورا۔
“ایسی کونسی وجہ ہے؟”۔ احد متحیر ہوا۔
“یہ میڈیسن نہیں لے رہی ۔۔ بول رہی ہے کہ بور ہو گئی ہوں”۔ زہرہ نے جلی پہ تیل ڈالنے کا کام کیا۔
“پھر میں چلتا ہوں”۔ ایموشنل بلیک میلنگ کے تحت احد مشائم کو گھوری سے نوازتے دروازے کی جانب گھوما۔
“ن ن نہیں احد میرے پاس رکو’ بیٹھو’ میں پکا میڈیسن لوں گی’ ابھی ہی لوں گی’ تمھاری قسم”۔ مشائم تلملا اٹھی تھی۔
شریر مسکراہٹ نے احد کے لبوں کا احاطہ کیا جسکی مدت چند لمحوں کی تھی۔
“تو پھر جلدی سے میڈیسن لو ۔۔ میں تبھی یہاں رکوں گا”۔ مشائم کی طرف پلٹتے احد نے حتمی فیصلہ سنایا پھر سائیڈ ٹیبل سے میڈیسن اٹھاتے مشائم کی طرف بڑھائی جسے اسنے برے دل سے احد کے ہاتھوں سے پکڑا اور بمشکل حلق سے اتارا۔
“لے لی’ خوش؟”۔ جوس سے انصاف کرتے اسنے گلاس زہرہ کو پکڑا دیا۔
“احد میں تمھارے لیئے بھی کھانے کو کچھ لے آتی ہوں”۔ احد کو مخاطب کرتے زہرہ روم سے نکل گئی۔
“مشی یار ہر معاملے میں ضد نا کیا کرو اگر شادی کے بعد بھی ایسا کیا نا تو؟”۔ مشائم کے سامنے بیٹھتے اسنے دائیں آبرو قدرے اوپر کو کیا۔
“تو؟”۔ مشائم ہلکا سا احد کی طرف جھکی۔
“تو میں بھول جاوں گا کہ۔۔۔”۔ احد دانستہ باز رہا۔
“کہ؟”۔
“کہ تمھاری ضد کو لے کر میں نے کبھی کچھ کہا تھا بلکہ ہر ضد پہ سر تسلیم خم کر دوں گا اور ہر خواہش پہ لبیک کہہ دیا کروں گا”۔ مشائم کی آنکھوں میں جھانکتے اسنے دل ستانی سے کہا۔
“اچھا یہ سب چھوڑو مجھے بتاو کہ تمھارا فون کیوں آف جا رہا ہے؟ میں کب سے ٹرائی کر رہی ہوں مگر تمھارا نمبر مسلسل بند جا رہا ہے”۔ خیال آتے ہی اسنے کہا۔
“نو بجے بتانے والا ہے نا وہ بڈھا تمھیں’ میں اسے بھی مار دوں گی”۔ گزشتہ رات والا واقعہ یاد کرتے احد کے رونگٹے کھڑے ہوئے۔
“کچھ نہیں وہ فون گر کے ٹوٹ گیا ہے اس لیئے نمبر بند ہے’ آج نیو لوں گا تو بات کروں گا”۔ احد نے بات کو صاف اڑاتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد”۔ آواز کے ساتھ دروازے پہ دستک ہوئی۔ احد جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑا تھا’ حمزہ کی آواز پہ اس طرف آیا۔
“حمزی وہاں کیوں کھڑا ہے؟ اندر آ جا”۔ احد نے تعجب سے کہا۔
“ہاں وہ اپنی عادت کو سدھارنے کا سوچا ہے خاص کر تمھارے معاملے میں”۔ مصنوعی سنجیدگی سے بولتے حمزہ روم میں داخل ہوا۔
“آہاں’ مگر ایسا کیوں؟”۔ وہ جو اسکی خصلت سے بخوبی واقف تھا’ ہنستے ہوئے پوچھنے لگا۔
“تیری شادی ہونے والی ہے نا اس لیئے”۔ بیڈ پہ بیٹھتے حمزہ نے تاج کے ساتھ ٹیک لگائی۔
“شادی تو جیسے لگتا ہے آرزو ہی بن کے رہ جائے گی”۔ احد نے آہ بھری۔
“ہیں؟ لیکن کیوں یار؟”۔ حمزہ متحیر ہوتے ہی سیدھا ہوا۔
“یار مشی سیڑھیوں سے گر گئی تھی جسکی وجہ سے اسکے پاوں کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے۔ اینڈ آئی گیس اسکے امریکہ والے ماموں کا آپریشن بھی ہے ‘ انکے ٹھیک ہونے میں بھی وقت درکار ہوگا۔ سو ابھی شادی پاسیبل نہیں”۔ احد نے تفصیل دی۔
“مشی کیسی ہے اب؟”۔
“ٹھیک ہے’ شادی کی فکر نہیں اسکی ہے بس وہ ٹھیک ہو جائے شادی کا کیا ہے کبھی بھی ہو سکتی ہے”۔ احد نے متبسم انداز میں کہا۔
“یہ بات بھی ٹھیک ہے’ یاد آیا میں تم سے ایک ضروری بات کرنے آیا تھا”۔ خیال آتے ہی اسنے کہا۔
“کونسی بات؟”۔ احد نے سوالیہ نظریں اٹھائیں۔
“یار قمیل میرے گھر آیا تھا بول رہا تھا کہ ہم فرینڈز کافی عرصے سے ملے نہیں تو ایک گیٹ ٹو گیدر رکھا ہے’ اصرار کر رہا تھا کہ تجھے لازمی لے کر آوں”۔ حمزہ نے وضاحت دی۔
“قمیل کی اچانک انٹری اور گیٹ ٹو گیدر’ وہ واقعی قمیل تھا؟”۔ احد کو شاک لگا تھا۔
“ہاں یار وہی تھا”۔
“قمیل اچانک بدل کیسے گیا؟ جو انسان دس روپے کے لیز پہ چیخیں مارتا تھا اچانک گیٹ ٹو گیدر کیسے ارینج کرنے لگا؟ سٹرینج”۔
کالج ٹائم میں قمیل کا رویہ یاد کرتے احد سوچ میں ڈوبا۔
“یار ہو سکتا ہے کہ سدھر گیا ہو؟ بتا چل رہا ہے نا؟”۔ حمزہ نے کنفرم کیا۔
“یار دیکھ لے مجھے تو کچھ اور ہی معاملہ لگ رہا ہے”۔ احد کو تشویش ہوئی۔
“کیا ہو گیا ہے بڈی یار ریلیکس’ ویسے بھی تو اکیلا تھوڑی نا چل رہا ہے وہاں تیرے علاوہ میں اور باقی فرینڈز بھی تو ہوں گے”۔ حمزہ نے اصرار کرنے کے سے انداز میں کہا۔
“چل ٹھیک ہے’ جانا کب ہے؟”۔ احد نے حامی بھری۔
“کل شام سات بجے”۔ حمزہ نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم نے بے زارگی سے فون اٹھا کر دیکھا جہاں گھڑی دوپہر کے دو بجا رہی تھی۔ کوفت میں وہ کبھی پلستر کو دیکھتی’ کبھی دروازے کو۔ بیڈ تک محدود رہ کر اب وہ تذبذب کا شکار ہو رہی تھی دوسرا احد کی کال کا صبح سے انتظار کر کے وہ مزید الجھن کی گرفت میں تھی۔ تنگ آ کر اسنے بیڈ سے اٹھنے کی کاوش میں خود کو ویل چیئر تک رسائی دی جو بیڈ سے قدرے فاصلے پہ رکھی تھی۔
ویل چیئر کے اپنی جگہ سے کھسکنے کے سبب مشائم توازن کھو بیٹھی اور اسکا وجود فرش پہ آ گرا۔
“مشائم تم گر کیسے گئی؟”۔ بلا وساطت زہرہ روم میں داخل ہوتے ہی تلملاہٹ میں اس طرف آئی۔
“آپی وہ ویل چیئر کو اپنی طرف کھینچنے کی کوشش میں’ میں گر گئی”۔ مشائم نے سیدھا ہوتے کہا۔
“تو تمھیں کیا ضرورت پڑی تھی؟ مجھے آواز دے لیتی’ میں آ جاتی۔ اٹھو اب اور آئیندہ ایسا مت کرنا ۔۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے بلا لینا”۔ مشائم کو سہارا دیتے زہرہ نے بمشکل بیڈ پہ بٹھایا۔
“لیکن آپی میں بور ہو جاتی ہوں یوں سارا دن کمرے میں قید رہ کر”۔
“مشی میری جان صرف کچھ دن برداشت کر لو اسکے بعد انشاءاللہ تم آزادی سے گھومو پھرو گی جیسے تم چاہو گی’ جہاں تم چاہو گی”۔ مشائم کے برابر بیٹھتے زہرہ نے اسے تسلی دی۔
“اچھا آپی احد سے بات ہوئی کیا آپکی؟”۔
“نہیں میری بات تو نہیں ہوئی کیوں تمھیں کال نہیں کی کیا آج اسنے؟”۔ نفی کرتے اسنے کہا۔
“نہیں”۔ مشائم نے اترے ہوئے چہرے سے جواب دیا۔
“تم پریشان مت ہو کہیں بزی ہوگا ورنہ آج تک ایسا کبھی ہوا ہے کہ احد نے تمھیں کال نا کی ہو؟ اسکا کہاں گزارہ ہوتا ہے تمھارے بنا”۔ بولتے ہی وہ ہنس دی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد اور حمزہ فکس سات بجے قمیل کے گھر پہنچ گئے تھے۔ دروازہ معمول برخلاف کھلا تھا جو دونوں کیلئے خاصی حیرت کا سبب بنا۔
دونوں یکجا گھر میں داخل ہوئے جہاں سامنے ہی ہال تھا جس میں ایک صوفہ سیٹ درمیان میں لگایا گیا تھا۔ خود کے علاوہ انہوں نے گھر میں خاموشی کا وجود پایا یہ ان کیلیئے دوسری بڑی تعجب کی بات تھی۔
“ویلکم”۔ تعاقب سے آواز ابھری جس پہ دونوں ایڑیوں کے بل مڑے’ قمیل کے ہمراہ اسکے چار دوست انٹرنس پہ کھڑے تھے جو ظاہری حلیے سے غنڈے اور اوباش معلوم ہو رہے تھے۔
“تم لوگوں نے میرا انویٹیشن قبول کرکے مجھے تلافی’ خوشی اور مہمان نوازی کی وجہ دی ہے”۔ قدم اٹھاتا قمیل اس طرف آیا۔ “احد سچ پوچھو تو مجھے یقین نہیں تھا کہ تم آو گے’ تم آئے مجھے بے حد مسرت ہے ورنہ مجھے لگا تھا کہ ایک راکسٹار بننے کے بعد تمھارا حلقہ احباب وسیع ہو گیا ہوگا”۔
“نہیں قمیل ایسی بات نہیں’ اپنی اپنی سوچ ہے’ انسان چاہے افلاک کی بلندی ہی کیوں نا چوم لے اپنی بساط نہیں بھولتا”۔ احد نے آزمودہ کاری سے کہا۔
“بہت شکریہ دوست”۔ احد کو حقارت کی نظر سے دیکھتے قمیل نے بناوٹی مسکراہٹ سے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے نو بجے جب وہ ساتوں گپ شپ میں مصروف تھے’ حمزہ کا فون بجا۔ وہ گھڑی’ وہ پل’ وہ لمحہ جسکا شاید قمیل کو شدت سے انتظار تھا ۔۔۔۔ وہ اسے مل ہی گیا تھا۔
“اسلام و علیکم ۔۔۔ جی ماما؟ ۔۔۔ ماما میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہوں”۔ کال ریسیو کرتے ہی اسنے کہا۔
“ٹھیک ہے آپ فکر نا کریں میں ابھی آتا ہوں’ اوکے بائے”۔ بولتے ہی اسنے کال کاٹ دی۔
“کیا ہوا حمزہ؟ سب ٹھیک ہے؟”۔ احد جو اسکے برابر بیٹھا تھا’ نے کہا۔
“یار ماما اکیلی ہیں اور پریشان بھی ۔۔۔ اس لیئے مجھے جانا ہوگا ۔۔۔۔ سوری یار قمیل”۔ حمزہ نے معذرت کرتے نشست چھوڑ دی۔ ” احد چل میں تجھے بھی گھر ڈراپ کر دوں گا”۔
“ہ ہ ہاں چل ۔۔۔۔۔۔”۔
“تم چلے جاو حمزہ احد کو ہم چھوڑ دیں گے”۔ قمیل نے احد کی بات کاٹتے کہا۔
“نہیں قمیل تمھیں تکلف کرنے کی ضرورت نہیں میں حمز۔۔۔۔۔”۔
“احد یار کیا ہو گیا ہے؟ ریلیکس ہو جا۔ اسے جلدی ہے تمھیں تو نہیں ہم تمھیں چھوڑ آئیں گے”۔ قمیل نے اصرار کرتے کہا۔
احد نے مجبورا خاموشی اختیار کی۔
“ٹھیک ہے میں چلتا ہوں”۔ بولتے ہی حمزہ انٹرنس کی جانب بڑھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“قمیل کافی دیر ہو گئی ہے ۔۔ مجھے گھر ڈراپ کر دو”۔ دائیں کلائی پہ بندھی گھڑی پہ نظر دوڑاتے احد صوفے سے اٹھا۔
“چلو”۔ قمیل کے بعد اسکے چاروں دوست بھی اسکے اشارے پہ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
“ٹھیک ہے احد تم چلو میں کار کی چابی لے کر آتا ہوں”۔
“اوکے’ جلدی آنا ذرا”۔ تنبیہ کرتے وہ انٹرنس کی جانب بڑھا۔
قمیل کے اشارہ کرنے پہ ایک دوست فورا سے احد کے پیچھے ہو لیا اور انٹرنس کے سائیڈ پہ رکھے ٹیبل سے گلدان اٹھاتے احد کے سر پہ جی جان سے وار کیا جس سے احد کے قدم تھمے۔
سر کی پشت پہ ہاتھ رکھے احد جونہی ہولے سے ایڑیوں کے بل گھوما اسکی آنکھوں میں سامنے موجود انسان کا عکس مبہم سا سمایا۔ اگلے ہی لمحے اسکا وجود زمین بوس ہو گیا تھا۔ قمیل کے ہمراہ اسکے بقیہ ساتھی بھی جھٹ سے احد کی جانب لپکے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کی تاریکی اپنے جوبن پہ تھی’ سفید جی ایل آئی جھیل کنارے آ رکی تھی۔ قمیل کے بعد اسکے دوست کار سے نکلے۔
“ڈگی کھولو”۔ قمیل نے کار کی بیک سائیڈ پہ آتے کہا۔
چاروں ساتھیوں میں سے ایک نے ڈگی کھولی پھر دو نے مل کر احد کے بے جان پڑے وجود کو باہر نکالا۔
“کیا کرنا ہے اسکا؟”۔ ایک نے صدا بلند کی۔
“کرنا کیا ہے؟ جھیل کی نذر کر دو اسے”۔ قمیل نے عتاب میں کہا۔
بےجان وجود کے پانی میں گرتے ہی ایک زور دار آواز آئی تھی جسکے سنتے ہی قمیل کے لبوں پہ تمسخرانہ مسکراہٹ رینگی۔
اپنا کام تسلی سے سر انجام دیتے وہ تمام وہاں سے رخصت ہوئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کی بڑھتی تاریکی کے سبب خاموشی کی شدت عروج پر تھی۔ چاند کی ہلکی ہلکی روشنی جھیل کے پانی میں تیرنے لگی تھی۔۔۔ سڑک کے پار کنارے پہ لگے درختوں کی لمبی’ گھنی ڈالیاں سرشاری سے ہلکورے لے رہی تھیں۔
پانی کی پرہول آواز کے ساتھ ہی احد کا وجود بذات خود پانی کا پردہ چیڑتے سطح پہ آیا تھا۔ اسی اثنا میں اسکا وجود ہوا میں اڑتا کنارے پہ آ ٹھہرا جیسے کسی نے بانہوں کے حلقے میں لیتے پانی سے نکال کر کنارے پہ رکھا ہو۔
دل پہ ہلکے سے دباو کے بعد احد کے منہ سے اسکے وجود میں پناہ گزیں پانی باہر نکالنا شروع ہوا۔
احد کا سر ہوا میں قدرے یوں معلق تھا جیسے کسی کی گود میں پڑا ہو۔
“پانی”۔ کچھ منٹوں کی تاخیر سے اسکے لب ہولے سے ہلے۔
اس دم ایک پتہ درخت سے ٹوٹتا’ پیالے کی شکل میں’ ہوا میں اڑتا’ جھیل کے آب سے مملو’ احد کے لبوں کے قریب آ رکا۔
لبوں کی حرکت سے اسنے پانی کے دو گھونٹ حلق سے اتارے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حویلی کے باہر کھڑے احد دروازے کی سلاخوں کے پار حویلی کی عمارت کو دیکھ رہا تھا ساتھ ہی گزشتہ رات پیش آئے واقعے سے لے کر موجودہ صبح تک رونما ہونے والی تبدیلی کے متعلق سوچنے کی ناکام کاوش کر رہا تھا’ اسکا ذہن جیسے مووف ہو چکا تھا پھر قدموں کو حرکت دیتے حویلی کے اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
“احد بیٹا تم کہاں تھے؟ میں ساری رات سو نہیں سکی یہی سوچتی رہی نجانے تم کہاں ہو؟’ کس حال میں ہو؟ تمھیں لے کر عجیب عجیب خیالات آ رہے تھے”۔ جونہی اسنے انٹرنس پار کی راضیہ بیگم جو گھبراہٹ میں ٹہل رہیں تھیں احد کو دیکھتے ہی فورا سے اس طرف آئیں۔
“ماما وہ فرینڈ کے ساتھ تھا”۔ بات کو دانستہ ٹال دیا گیا۔
“لیکن بیٹا کم از کم اطلاع ہی کر دیتے میرا تو دل بیٹھا جا رہا تھا کہ پتہ نہیں تمھارے ساتھ کیا ہوا ہے جو بات نہیں کر پا رہے”۔ راضیہ بیگم نے پنہاں کیفیت اجاگر کرتے کہا۔
“ایم سوری ماما وہ فون لینا یاد نہیں رہا’ فون گھر ہی رہ گیا تھا”۔ احد نے معذرت کی۔
“یہ تمھارے کپڑے بھیگے ہوئے کیوں ہیں احد؟ کیا ہوا ہے؟”۔ چہرے کے بعد راضیہ بیگم کی نگاہ اسکے کپڑوں پہ گئی جو گزشتہ رات جھیل میں گرنے کے سبب ہنوز نم تھے۔
“ک ک کچھ نہیں ماما’ ماما مجھے بھوک لگی ہے پلیز میرے لیئے ناشتہ بنا دیں”۔ بات کو گول کرتے احد فورا سے سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“دن کے بارہ بج رہے ہیں اور احد کی گمشدگی کو لے کر ابھی تک کسی بھی نیوز چینل پہ خبر نشر نہیں ہوئی”۔ روم میں لگے ٹی وی پہ نظر جمائے وہ چینلز چینج کر رہا تھا۔
“کہیں میری چال الٹی تو؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا ۔۔۔ کیا کروں؟؟۔۔۔ حمزہ’ حمزہ کو کال کرتا ہوں”۔ بولتے ہی اسنے سامنے ٹیبل پہ رکھا فون اٹھا کر حمزہ کا نمبر ڈائل کیا جو دوسری کال پہ ریسیو ہو گیا تھا۔
“ہاں حمزہ یار کیسا ہے؟ رات کو گھر صحیح سلامت پہنچ تو گئے تھے نا؟ کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی راستے میں؟”۔ قمیل نے پس و پیش بات کا آغاز کیا۔
“ہاں پہنچ گیا تھا”۔ حمزہ نے مختصرا کہا۔
“اور احد؟”۔ قمیل نے ہچکچاتے کہا۔
“کیا مطلب؟ احد کو تو تم نے گھر ڈراپ کرنا تھا نا؟”۔ دوسری جانب حیرانگی سے پوچھا گیا۔
“ہ ہ ہاں میں نے اسے بہت کہا کہ میں ڈراپ کر دیتا ہوں مگر اس نے میری ایک نا سنی اور خود چلا گیا”۔ قمیل نے فورا سے کہا۔
“کیا مطلب وہ خود چلا گیا؟ تم اچھے سے جانتے ہو احد میرے ساتھ آیا تھا اسکے پاس تو اسکی کار بھی نہیں تھی۔ تم نے اسے جانے کیوں دیا؟”۔ حمزہ عتاب میں حلق کےبل چیخا۔
“میرا یقین کر یار حمزہ میں نے اسے روکنے کی بہت کوش۔۔۔۔”۔
“ڈسگسٹنگ”۔
حمزہ کی جانب سے رابطہ منقطع کر دیا گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم”۔ حویلی کی انٹرنس پار کرتے حمزہ جونہی سیڑھیوں کی طرف بڑھا دائیں جانب کچن سے نکلتی حرا کو دیکھتے ہی رک گیا۔
“و علیکم اسلام حمزہ کیسے ہو؟”۔ حرا نے خوش کن انداز میں کہا۔
“میں ٹھیک ہوں بھابی آپ سنائیں؟”۔
“الحمد اللہ میں بھی ٹھیک ہوں”۔
“بھابی احد کدھر ہے؟”۔ حمزہ نے ہچکچاتے سوال کیا۔
“احد تو اپنے روم میں ہے”۔
“تھینک گاڈ”۔ حمزہ کے دل کو قرار آیا۔
“کیوں کیا ہوا؟ تم کچھ پریشان سے لگ رہے ہو”۔ حمزہ کے چہرے کے تاثرات بھانپتے اسے تشویش ہوئی۔
“ن ن نہیں بھابی میں ٹھیک ہوں’ اچھا بھابی میں احد سے مل لوں”۔ بولتے ہی وہ سیڑھیاں چڑھتا احد کے روم میں چلا گیا۔
“احد یار شکر ہے تو ٹھیک ہے ورنہ قمیل ن۔۔۔۔۔۔”۔ احد کو دیکھتے حمزہ نے آواز بلند کی۔
“نام مت لے اس ذلیل انسان کا میرے سامنے”۔ احد جو بیڈ پہ بیٹھا جھک کر جوتے پہن رہا تھا’ قمیل کے نام پہ اسکا خون کھول اٹھا۔
“کیوں کیا ہوا؟ تو اتنے غصے میں کیوں ہے؟”۔ حمزہ متحیر اسکے قریب آیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شام ڈھل کر سنسان’ گہری اور تاریک رات میں تبدیل ہو رہی تھی۔ چاند پرند غذا کا اہتمام کرنے کے بعد اپنے اپنے آشیانے کی طرف لوٹ رہے تھے۔
قمیل بھی اپنے گھر لوٹ آیا تھا ۔۔ روم میں داخل ہوتے اسنے شرٹ کے بٹنز کھولے اور بیڈ پہ ڈھے گیا’ اس دم دروازہ زوردار آواز پیدا کیئے بند ہوا۔ قمیل ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔
“ک ک کون ہے؟؟”۔ قمیل نے ہکلاتے کہا۔
جواب میں دروازہ چلاہٹ کی آواز کیساتھ ہی ہلکا سا کھلا تھا۔
“میں نے پوچھا کون ہے یہاں؟”۔ بیڈ سے اٹھتے ہی وہ دروازے کی طرف آیا۔
“کون ہے؟؟”۔ دروازے کھولتے اسنے دائیں بائیں دیکھا مگر کوئی نظر نا آیا۔
اس دوران اسکی نگاہ روم کی دہلیز کے باہر فرش پہ پڑے گلاب پہ گئی۔
“یہ گلاب یہاں کس نے رکھا ہے؟”۔ سوچ میں پڑتے اسنے جھک کر گلاب اٹھا لیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: