Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 5

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 5

–**–**–

گلاب کو روم میں لے جا کر اسنے بیڈ پہ رکھا پھر بائیں اور واش روم کی جانب بڑھا۔ چند منٹوں کے توقف سے سادہ قمیض شلوار پہنے وہ باہر آتے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا’ آئینے میں کسی کا عکس نظر آتے وہ فورا سے پلٹا مگر خود کے علاوہ کسی کا وجود نظر نا آیا۔
“یہ میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟”۔ ہڑبڑاہٹ میں وہ خود سے گویا ہوا۔
بے رنگ پانی کی آبشار اسکے چہرے سے بہہ نکلی۔ خیال تصور کرتے وہ بیڈ کی طرف آیا جہاں بیڈ پہ رکھا گلاب دیدے پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا شاید اس پہ ہنس بھی رہا تھا۔ وہ دوبارہ حیرانگی کی کیفیت سے دوچار ہوا۔
بیڈ پہ جھک کر اسنے گلاب اٹھا کر نتھنوں تک رسائی دی۔ بدمزہ’ سڑی ہوئی بساند نے اسکے ناک کے سامنے واویلا مچایا جس پہ اسنے گلاب کو خود سے دور کرتے پھینکنا چاہا مگر جیسے وہ گلاب اسکے ہاتھ کے ساتھ بذریعہ گلو چپکا دیا گیا تھا۔
روم میں شان سے جلتی بتی بھی اب مدھم ہو چکی تھی’ دیکھتے ہی دیکھتے گلاب کی ڈنڈی لمبی ہوتی گئی جو آہستہ آہستہ اسکی گردن کے گرد لپٹتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔ جسکے سبب اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔ بائیاں ہاتھ بڑھاتے ڈنڈی کو گردن سے دور کرنے کی تگ و دو میں روح اسکے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔
اسکا وجود فرش پہ گرتے ہی ایک سایہ اسکے روم میں نمودار ہوا جو بعد میں گلاب کے ساتھ ہی اسکے روم سے چھو منتر ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مئے آئی کم ان؟”۔ بیڈ پہ بے بس لیٹے وہ چھت پہ لگے فانوس کو دیکھ رہی تھی جو رنگا رنگ بتیوں کو روشن کیئے فلوقت اسکی توجہ کا مرکز بنا تھا۔ من چاہی آواز حس سامعہ سے ٹکراتے اسنے فورا دروازے کی جانب نظر دوڑائی جہاں احد کھڑا تھا۔
احد کو دیکھنے سے آج اسکے چہرے پہ کوئی مسکان نا آئی اسکے برعکس مشائم نے منہ پھیر کر ناراضگی ظاہر کی جسکی بنیاد مشائم سے دو دن تک رابطہ نا کرنا تھی۔
“مشی کیسی طبیعت ہے؟”۔ اندرونی حالات سے واقفیت کے بعد وہ بیڈ کے قریب آیا لیکن جواب میں خاموشی کے علاوہ کچھ اخذ نا ہوا۔
“ناراض ہو؟”۔
“نہیں”۔ ہنوز منہ پھیر کر بے رخی کا مظاہرہ کیا گیا۔
“اچھا تو پھر بات کیوں نہیں کر رہی؟”۔ مشائم کے چہرے کو دیکھتے اسنے ہولے سے کہا۔
“میں انجان لوگوں سے بات نہیں کرتی”۔
“دل کے پنجرے میں محبت کے قید پنچھی کبھی انجان نہیں ہوتے”۔
“اسی چیز کا تو فائدہ اٹھایا جاتا ہے احد کہ’ کہ آپ جانتے ہو اگلے انسان کے دل میں آپ کیلیئے کونسے جذبات ہیں۔ آپ جانتے ہو اچھے سے کہ وہ انسان آپ سے کبھی دور نہیں ہو سکتا نا ہی آپ کو کبھی چھوڑ کے جا سکتا ہے تبھی آپ اسے تڑپاتے ہو’ اسے اگنور کرتے ہو”۔ غصے میں وہ سیدھی ہو بیٹھی۔
“مشی میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا”۔ اسکے سامنے بیڈ پہ بیٹھتے احد نے کہا۔
“ہاں سوچ نہیں سکتے مگر کر ضرور سکتے ہو جیسا تم دو دن سے کر رہے ہو”۔ احد کے چہرے پہ نظر جاتے ہی آنسو اسکی آنکھوں کی باڑ توڑتے بہہ نکلے جس پہ احد کا دل پسیجا۔
“مشو یار ۔۔۔۔ اچھا ایک بات بتاو تمھیں اگنور کرنے سے یا تنگ کرنے سے مجھے کتنے نوافل کا ثواب ملے گا؟”۔ مشائم کا ہاتھ تھامتے اسنے دھیرے سے کہا۔
“مجھے نہیں پتہ”۔ سسکیوں کی آڑ میں جواب دیا گیا۔
“جس بارے میں آپکو کنفرمیشن نا ہو اس بارے میں آپ قیاس آرائیاں کر لیتے ہو اور انہی قیاس آرائیوں کو سچ سمجھ کر اگلے کو قصوروار ٹھہرا دیتے ہو بھلے سے وہ قیاس آرائیاں جھوٹی ہی کیوں نا ہوں”۔ احد کی بات پہ اسنے فورا سے جھکا سر اٹھایا۔
“تم ہی بتاو کہاں بزی تھے؟ ایسی کونسی مصروفیت تھی جو ایک میسج تک کرنے کی فرصت نہیں ملی؟”۔ مشائم نے آنسو صاف کرتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے حرا حویلی کے باہر لان میں بیٹھی چائے کی چسکیاں لے رہی تھی جونہی چیئر سے ٹیک لگاتے اسنے بیرونی دروازے کی جانب نگاہ اٹھائی’ چائے کا کپ ٹیبل پہ رکھتے وہ فورا سے اٹھ کھڑی ہوئی اور دروازے کی جانب چلنے لگی۔
متوسط عمر آدمی دروازے کی سلاخوں کے پار حویلی کا بغور جائزہ لے رہا تھا پھر آنکھیں موند کر کچھ پڑھنے لگا’ ورد کا عمل ختم ہوتے ہی اسنے اپنی آنکھیں کھولیں اور ایڑیوں کے بل گھوما۔
“بات سنیں؟”۔ حرا برق رفتاری سے دروازے کے قریب آئی۔
بزرگ نے قدموں کی حرکت کو روکا۔
“آپ کون ہیں؟”۔ عجلت میں دروازہ کھولتے حرا اسکے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
“بیٹی یہ دوپٹہ گلے میں نمائش کیلیئے نہیں بلکہ سر ڈھانپنے کیلیئے ہے”۔ حرا کو عریاں سر پاتے بزرگ نے اسکے گلے میں لٹکے دوپٹے کی جانب اشارہ کرتے آنکھیں پھیر لیں۔
حرا نے فورا سے دوپٹہ سلیقے سے لیا۔
“بابا جی آپ کون ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں؟ میں نے دیکھا آپ حویلی کو عجیب نظروں سے گھور رہے تھے پھر اس پہ پڑھ کے کچھ پھونکا بھی”۔ حرا نے پے در پے سوال کرتے کہا۔
“بیٹی میں حویلی کو گھور نہیں رہا تھا’ دیکھ رہا تھا’ محسوس کر رہا تھا”۔ بزرگ نے متبسم انداز میں کہا۔
“مگر کیوں؟”۔ حرا متحیر سی اسے دیکھنے لگی۔
“بیٹی یہ گلوکار احد سمعان کا گھر ہے؟”۔ بزرگ نے کنفرم کیا۔
“جی یہ احد کا ہی گھر ہے مگر آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟”۔ حرا کشاکش میں مبتلا ہوئی۔
“آپ احد کی کیا لگتی ہیں؟”۔ حرا کو بغور دیکھتے بزرگ نے کہا۔
“جی میں احد کی بھابی ہوں۔ آپ فکر مند کیوں ہیں؟ کوئی پریشانی ہے؟”۔ بزرگ کے چہرے کے پراسرار تاثرات دیکھتے حرا کو تشویش ہوئی۔
“بیٹا احد پہ ایک سایہ ہے’ ایک چڑیل کا سایہ جو اس پہ مکمل عاشق ہے”۔ بزرگ نے آزمودہ کاری سے کہا۔
حرا کی عقل چکرا گئی تھی۔
اس دم ہوا کا تیز جھونکا آیا جس نے بزرگ کے جسم کو چھونے کی ناممکن کوشش کی۔ جھونکے کی آڑ میں اس بے نام’ غیبی وجود کو زوردار جھٹکا لگا تھا۔
بلا وساطت بلیک مرسیڈیز انکے قریب آ رکی۔
“اسلام و علیکم پیر صاحب”۔ احد کار سے نکلتا اس طرف آیا۔
“وعلیکم السلام”۔ بزرگ نے دو حرفی کہا۔
“کیا ہوا بھابی آپ پریشان کیوں ہیں؟”۔ حرا کو منجمد کھڑا دیکھ احد نے کہا۔
“بیٹا میں اب چلتا ہوں”۔
“پیر صاحب میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں”۔ احد نے فورا سے انہیں ٹوکا۔
“نہیں بیٹا آپ کو زحمت اٹھانے کی ضرورت نہیں’ شکریہ”۔ غیبی قوت کے ارادوں کو بھانپتے بزرگ نے نفی کی۔
“حرا بھابی”۔ حرا کو دیکھتے احد ششدر اسکے قریب آیا۔ “بھابی کیا ہوا؟؟”۔ جواب نا ملنے پہ اسنے حرا کو جھنجوڑا۔
“ہ ہ ہاں؟”۔ حرا کی زبان میں لکنت پیدا ہوئی۔
“کیا ہوا آپ کو؟”۔
“احد چ چ چڑیل”۔ حرا کے ساتھ ساتھ احد کے اوسان بھی جاتے رہے۔
“ک کیا بول رہی ہیں آپ؟”۔ احد ہکلا اٹھا تھا۔
“احد ت ت تمھارے س س س ساتھ ۔۔۔ چ چ چڑیل ۔۔ س س س سایہ”۔ حرا نے لعب نگلتے کہا۔
“آپکو کس نے بتایا”۔
“وہ ب بابا جی ۔۔۔ م م میں انکل آنٹی کو بتاتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ حویلی کی اندرونی جانب مڑی لیکن اسکے قدم جیسے جکڑ لیئے گئے تھے جس کے سبب وہ وہیں کھڑی رہ گئی۔
“کیا ہوا بھابی؟؟”۔ احد حواس باختہ اسکے قریب آیا۔
“ا ا ا احد م م م میرے پاوں”۔ اپنے پیروں کو ہلانے کی ناکام کوشش میں خوف و ہراس اس پہ طاری ہو گیا تھا۔
“تم نے اپنی زبان کھولی تو شہریار کا مرا منہ دیکھو گی”۔ غیبی قوت کی دھاڑ ان دونوں کی سماعتوں میں گونجی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اگر تم نے اپنا منہ کھولا تو شہریار کا مرا منہ دیکھو گی”۔
بیڈ کے تاج کیساتھ ٹیک لگائے حرا سوچ میں غرق تھی۔
“حرا”۔ بیڈ کی دوسری جانب آتے شہریار نے آواز دی۔
“بیٹا احد کے ساتھ ایک چڑیل کا سایہ ہے”۔
شہریار کی آواز ان سنی کرتے حرا مستقل سوچ کے سمندر میں ڈبکی لگا رہی تھی۔
“حرا”۔ رسپانس نا ملنے پہ شہریار ہلکا سا اسکی جانب جھکتے اسے جھنجوڑنے لگا۔
“ج ج جی”۔ حرا بوکھلا اٹھی۔
“کیا ہوا ہے؟ گم صم کیوں ہو؟”۔ شہریار نے حیرت سے کہا۔
“شہریار وہ اح۔۔۔۔”۔ بولتے بولتے اسکی زباں کو بریک لگی جیسے کسی نے اسکا گلا دبوچ لیا ہو۔
“ششششش”۔ غیبی آواز نے اسکے دائیں کان کے گرد سرگوشی کی۔
“کیا؟ بولو بھی؟”۔ شہریار نے کوفت سے کہا۔
“ک ک کچھ نہیں مجھے نیند آ رہی ہے پلیز لائٹ آف کر دیجیئے گا”۔ چہرے پہ آیا پسینہ صاف کرتے وہ فورا سے کمفرٹر اوڑھے لیٹ گئی تھی۔
شہریار کو اسکی یہ حرکت معیوب لگی اور اسے سوچنے پہ آمادہ کر گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد یار تجھے ایک بات پتہ ہے؟ قمیل کا انتقال ہو گیا ہے”۔ احد روم میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا جب اسکا فون دھاڑا جس پہ اسنے بیڈ کی طرف آتے بیڈ پہ رکھا فون اٹھاکر حمزہ کی جانب سے آئی کال ریسیو کی۔
“وٹ؟ کل تک تو قمیل بالکل ٹھیک تھا’ یہ اچانک کیسے ہوا؟”۔ احد کو دھچکا لگا۔
“پتہ نہیں یار ہاں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اسکے گردن کے گرد نشانات پائے گئے ہیں شاید رسی سے اسکا قتل کیا گیا ہے”۔ حمزہ نے اندیشہ ظاہر کیا۔
“یو مین مرڈر؟”۔ کنفرم کیا گیا۔
“ہاں کیونکہ اسے کوئی بیماری نہیں تھی احد اور سوسائیڈ کا کوئی سین نہیں”۔
“جیسی اسکی حرکتیں تھیں ہو سکتا ہے دشمنی میں یہ سب کیا گیا ہو؟”۔ احد کو تشویش ہوئی۔
“ہو سکتا ہے؟ لیکن احد اسنے تجھ پہ پہلے قاتلانہ حملہ کروایا تھا جس میں وہ خود بھی انکے ساتھ تھا اسکی وجہ کیا تھی؟ مطلب صرف کالج ٹائم تک ہم ساتھ رہے ہیں اور جہاں تک مجھے یاد ہے ہمارا نا تو جھگڑا ہوا تھا اسکے ساتھ نا ہی کوئی ایسی بات کہ جو اس حملے کی بنیاد بنے’ ان فیکٹ وہ تو ہمارے گروپ سے دور رہتا تھا پھر اسنے یہ سب کیا کیوں؟”۔ لاعلمی سے بولتے وہ سوچ میں پڑ گیا۔
“دیکھ حمزی قمیل پڑھائی میں اچھا تھا ایون بہت اچھا تھا اسکا اٹھنا بیٹھنا کلاس کے ٹاپرز میں تھا اور ہمارا پڑھنے کو دل نہیں کرتا تھا اس وجہ سے وہ کالج ٹائم میں ہم سے دور رہتا تھا۔ یاد ہے جب وہ تجھ سے ملا تھا تو اسنے ایک بات کہی تھی کہ احد پڑھے لکھے بغیر اتنا فیمس ہو گیا ہے اور ہم پڑھ لکھ کر بھی وہیں کے وہیں ہیں۔ مجھے یقین ہے اسنے ایسا حسد میں کیا ہے اور کچھ نہیں”۔ احد نے برجستگی سے جواب دیا۔
“اچھا’ بیٹا جی اگر آپکو شک تھا اس پہ اور اسکی بات آپ کو کھٹک رہی تھی تو جانے کی کیا ضرورت تھی؟”۔ حمزہ شریر ہوا۔
“الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ‘ بھول مت اصرار کرکے تو لے کے گیا تھا مجھے وہاں ۔۔۔ میں تو تیری باتوں میں آ گیا تھا”۔ ٹکر کا جواب دیتے اسنے قہقہ لگایا۔
“لیکن احد میری سمجھ میں یہ بات ابھی تک نہیں آئی”۔ خیال آتے ہی اسنے کہا۔
“کونسی؟؟”۔
“یہی کہ کوئی بھی نہیں تھا تیرے پاس پھر تجھے بچایا کس نے؟؟”۔
حمزہ کے سوال نے احد کو سوچ کے سمندر میں غوطہ زن ہونے پہ دوبارہ سے مجبور کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم کی چوٹ کو آج ایک ماہ بیت گیا تھا اس وجہ سے احد مشائم کو ڈاکٹر کے پاس لے آیا تھا۔
“مسٹر احد میں نے پلستر اتار دیا ہے گرچہ ہڈی جڑ گئی ہے مگر ان کو چند دن احتیاط کرنی ہوگی۔ کچھ روز چلنے پھرنے سے گریز کریں گیں تو مجھے امید ہے مزید کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے پیروں پہ جسامت کا بوجھ بہت زیادہ ہوتا ہے’ فوری طور پہ دباو نہیں ڈالا جا سکتا معاملہ بگڑ بھی سکتا ہے”۔ ڈاکٹر نے آگاہی دیتے تاکید کی۔
“ڈاکٹر صاحب آپ بے فکر رہیں انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا’ سن لیا مشی؟”۔ ڈاکٹر کے بعد اسنے اپنے برابر ویل چیئر پہ بیٹھی مشائم کو مخاطب کیا۔
“آپ وقفے سے انکی پریکٹس کرواتے رہیئے گا مگر دھیان رہے کہ اس چیز کی زیادتی نا ہو”۔ ڈاکٹر نے بارہا ہدایت کرتے کہا۔
“جی بہتر’ تھینک یو سو مچ ڈاکٹر”۔ بولتے ہی وہ چیئر سے اٹھا۔ “لیٹس گو مشی”۔ ویل چیئر کے ہینڈلز کو تھامتے احد نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“راز آنکھیں تیری
سب بیاں کر رہی
سن رہا دل تیری’ خاموشیاں
کچھ کہو نا سنو
پاس میرے رہو
عشق کی کیسی ہیں یہ’ گہرائیاں
سایہ بھی جسم سے’ ہوتا ہے کیا جدا
جتنی بھی زور کی ہوں آندھیاں”
ہال کے صوفے پہ بیٹھا احد ریہڑسل کرنے میں محو تھا فی الفور اسے یوں محسوس ہوا جیسے کسی کا ہاتھ اسکی انگلیوں میں انگلیاں ڈالے گیٹار پہ چلت پھرت کر رہا ہے جس پہ وہ فورا زبان کے ساتھ ہاتھ کی حرکت سے باز رہا۔
“چڑیل” والی بات پہ احد پہلے ہی خوف کا شکار تھا ایسے میں ہر دوسرے تیسرے روز پراسرار احساس اسے مزید خوف میں مبتلا کر رہا تھا۔
“احد بیٹا کچھ کھایا پیا بھی ہے یا بس گلا ہی پھاڑ رہے ہو؟”۔ راضیہ بیگم کے ہمراہ نگینہ بیگم بھی روم سے نکلتے اس طرف آئیں۔
“ابھی تک تو کچھ نہیں ماما’ ایک کپ کافی بنا دیں”۔ چہرے کے نقوش ڈھیلے کرتے احد نے چہرہ سامنے اٹھایا۔
“میں ابھی بنا کر لاتی ہوں”۔ راضیہ بیگم نے کچن کا راستہ ناپا۔
“احد بیٹا کافی گرم ہوتی ہے کوشش کیا کرو اسکی لت سے باز رہو”۔ احد کے بائیں ہاتھ پہ رکھے چھوٹے صوفے پہ بیٹھتے نگینہ بیگم نے تنبیہ کی۔
“جی نانو میں بس کبھی کبھی پیتا ہوں’ زیادہ تر سردیوں میں”۔ احد نے تائید کرتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بیٹا احد کے ساتھ ایک چڑیل سایہ ہے”۔ روم میں بیڈ پہ بیٹھے وہ گزشتہ روز رونما ہوئے واقعے کے بارے میں سوچ کر ہنوز خوف و ہیبت میں گھری چلی جا رہی تھی۔
“حرا مجھے دیر ہو رہی ہے پلیز میرے لیئے ناشتہ بنا دو”۔ شہریار عجلت میں واش روم سے نکلتا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“حرا یار میری بات سن بھی رہی ہو؟”۔ حرا کو “ٹس سے مس” نا ہوتے دیکھ شہریار نے اس جانب منہ کیئے آواز قدرے بلند کی۔
“ج ج جی؟”۔ حرا بوکھلاہٹ میں بیڈ سے اٹھی۔
میں نے کہا مجھے دیر ہو رہی ہے جا کر ناشتہ بنا دو”۔ شہریار نے بے زارگی میں الفاظ دہرائے۔
“جی اچھا”۔ حرا دروازے کی جانب بڑھی۔
“رہنے دو میں آفس جا کر ہی کر لوں گا’ پتہ نہیں کن خیالوں میں گم ہے؟”۔ شہریار نے اسے ٹوک کر بیڈ پہ رکھا بیگ اٹھایا اور روم سے نکل گیا۔
کھا جانے والا اکیلا پن حرا کے خوف میں دگنا اضافہ کر رہا تھا۔ شہریار کے روم سے جاتے ہی وہ بھی روم سے نکل کھڑی ہوئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کیا ہو گیا ہے بہو؟ اتنی ہڑبڑائی ہوئی کیوں ہو؟”۔ کچن کی طرف جاتے راستے کے بیچ حرا راہ میں حائل ٹیبل سے ٹکرا گئی جس پہ نگینہ بیگم نے اسے ٹوکا۔
“ک ک کچھ نہیں نانو جان”۔ حرا اور احد جو بات کے قہر سے واقف تھے’ ڈرے’ سہمے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
“اب یہاں کھڑی کیوں ہو؟ جاو نا”۔ اسکو ساکن کھڑا دیکھ نگینہ بیگم نے چڑ کر کہا جس پہ وہ دھیان جھٹکتے کچن کی جانب بڑھی۔
“بھابی سب کو بتا ہی نا دیں ورنہ مشکل ہو جائے گی”۔ احد بڑبڑایا۔
“بیٹا تم نے کچھ کہا؟”۔ احد کی طرف دیکھتے نگینہ بیگم نے کنفرم کیا۔
“نہیں نانو کچھ نہیں”۔ احد نے مصنوعی مسکراہٹ نگینہ بیگم کی طرف اچھالی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ارے ارے یہ کہاں کی تیاریاں شروع؟ بھول گئی میں نے کچھ کہا تھا تم سے’ میرا چھوڑو ڈاکٹر نے بھی کوئی ہدایت کی تھی اسی کو یاد رکھ لیتی مشائم”۔ مسائم بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکائے بیٹھی تھی جب احد اسکے روم میں داخل ہوا۔
“کیا مطلب؟”۔ احد کی سنجیدگی کے پیچھے سے جھانکتی شرارت سے بے خبر مشائم چڑ گئی۔
“مطلب یہ کہ میرا نہیں تو کم از کم ڈاکٹر کی ہی بات کا لحاظ رکھ لیتی”۔ مشائم کے قریب آتے احد نے سینے کے گرد بازو لپیٹے۔
“تمھارا کہنے کا مطلب ہے کہ میں تمھاری بات نہیں سنتی؟”۔ اپنی جانب انگلی کیئے مشائم نے کہا۔
“نہیں”۔ سنجیدگی پہ ضبط نا رہتے ہوئے احد قہقہ لگا کر ہنس دیا۔
“احد کے بچے”۔ بیڈ سے کشن اٹھاتے مشائم نے اسکی جانب اچھالا۔
“پینڈنگ پہ ہیں شادی کی طرح”۔ کشن کیچ کرتے احد نے شرارت سے کہا۔
“احد”۔ نا چاہتے ہوئے بھی لال لالی مشائم کے چہرے پہ امڈ آئی تھی۔
“جی احد کی ٹینشن؟”۔ مشائم کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھتے احد نے متبسم انداز میں کہا۔
“میں تمھاری ٹینشن ہوں؟”۔ مشائم نے غصے میں کہا جس پہ احد نے نفی میں سر ہلا دیا۔
“مرو گے میرے ہاتھوں”۔ احد کی پیشانی پہ ہلکی سی تھپکی لگاتے مشائم ہنس دی جس پہ احد فرش پہ جا گرا۔
“تمھارے ہاتھوں یہ بھی قبول ہے’ دل و جان سے”۔ ٹانگیں سیدھی کرتے احد نے ہاتھ پیچھے کی اور فرش پہ رکھ لیئے تھے۔
“اب باتیں ہی بناتے رہو گے یا مجھے پریکٹس بھی کرواو گے؟”۔ مشائم نے ہنسی غائب کرتے بناوٹی سنجیدگی سے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم”۔ حویلی پہنچتے ہی احد نے جونہی انٹرنس پار کی اسکا فون چنگارا’ پینٹ کی پاکٹ سے فون نکالتے اسنے سکرین کو دیکھا جہاں ڈائریکٹر نبیل کا نمبر چمک رہا تھا۔
“و علیکم اسلام احد کیسے ہو؟”۔ دوسری جانب پرتپاک انداز میں کہا گیا تھا۔
“ایم گڈ’ وٹس اپ؟ آفٹر آ لانگ ٹائم”۔ احد نے خوش کن انداز میں کہا۔
“تم تو جانتے ہو ہم لوگ کتنا بزی ہوتے ہیں اور ۔۔۔”۔
“اور کام کے علاوہ کسی کو یاد بھی نہیں کرتے پھر میسج یا کال تو دور کی بات ہے”۔ احد نے اسکی بات کاٹتے قہقہ لگایا۔
“بالکل”۔ احد کی بات پہ نبیل کی ہنسی چھوٹی۔
ڈائریکٹر نبیل احد کے بہترین دوستوں میں سے ایک تھا جسکے ساتھ احد کا ہنسی مذاق پیک پہ تھا۔
“اچھا بتاو کیوں کال کی؟”۔ ہال میں صوفے پہ بیٹھتے احد نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگالی۔
“یار ایک گانا ہے یا یوں کہہ لو کہ اس گانے میں تمھاری آواز کا جادو چلانا ہے”۔
“مطلب ایلبم ریلیز کرنی ہے”۔ احد نے تصدیق چاہی۔
“ہاں ایلبم ریلیز کرنی ہے مگر اس ایلبم میں کوئی اور ہیرو کاسٹ نہیں کر رہا صرف تمھیں ہی لوں گا”۔
“ٹھیک ہے مجھے کوئی اعتراض نہیں”۔ احد نے حامی بھرتے کہا۔
“یہ ہوئی نا بات’ ٹھیک ہے تم پھر آ جاو کل سیٹ پہ باقی باتیں کل یہاں ہوں گی”۔ نبیل نے کہا۔
“اوکے اس سے پہلے سیلری تو سیٹ کر’ سیٹ پہ پھر ملاقات ہوگی”۔ احد شریر ہوا۔
“یار گھر کی بات ہے تم جتنے پہ راضی میں دینے کو تیار ہوں”۔ نبیل نے پرمسرت انداز میں کہا۔
“چلو ٹھیک ہے کل ملتے ہیں’ بائے”۔ جونہی اسنے کال ڈسکنیکٹ کی الزبتھ اسکے پاس آ بیٹھی۔
فون ٹیبل پہ رکھتے احد نے اسے اٹھا لیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشو یار سچ میں’ میں اب رہ ہی نہیں سکتا”۔ فون کان کے ساتھ لگائے احد نے بیڈ پہ بیٹھتے تاج سے ٹیک لگا لی۔
“کیا مطلب؟ اب کیا ہو گیا ہے؟؟”۔ مشائم نے انجان بنتے کہا۔
“مطلب بھی اب سمجھانا پڑے گا؟”۔
“ہاں ظاہر سی بات ہے احد’ میں کوئی نجومی تھوڑی نا ہوں؟”۔ مشائم نے ہنسی دبائی۔
“ہمیشہ دل میں رہنے والے انسان کے دل کی ہر بات سے آپ باخبر رہتے ہو اور تم بول رہی ہو کہ میں کوئی نجومی نہیں”۔ احد نے بناوٹی ناراضگی سے کہا۔
“احد میں بھی تمھارے بغیر نہیں رہ سکتی”۔ مشائم کی بات پہ احد کا چہرہ کھل سا گیا تھا۔
“بہت ہو گئی نا دوری بس میں کل ہی ماما پاپا سے بات کرتا ہوں کہ ہماری شادی کی تاریخ طے کر دیں بلکہ میں تو کہتا ہوں تاریخ کی کیا ضرورت ہے ڈائریکٹ شادی ہی کر دیں”۔ تاج کی ٹیک چھوڑتے وہ سیدھا ہوا۔
“بس کرو احد اتنے اتاولے نا ہو جاو پاگل”۔ مشائم ہنس دی۔
“مشو آج نبیل کی کال آئی تھی نیو ایلبم ریلیز کرنے کا بول رہا تھا”۔
“پھر تم نے کیا کہا؟”۔ مشائم نے تجسس سے پوچھا۔
“ہاں بول دیا آخر میرا تو کام ہی یہی ہے اور مزے کی بات پتہ ہے کیا ہے اس ایلبم میں ہیرو میں ہوں”۔ احد نے لطف اندوز ہوتے کہا۔
“کیا واقعی؟”۔ مشائم نے خوش نوائی سے کہا۔
“جی”۔
“اور ہیروئن؟”۔ دل آویزی سے پوچھا گیا۔
“پتہ نہیں”۔
“یہ تو غلط بات ہے احد تمھاری ہیروئن تو میں ہوں نا پھر تمھارے ساتھ میری جگہ کوئی اور کیوں کاسٹ ہوگی؟؟”۔ مشائم نے خفگی سے کہا۔
“کیونکہ مجھے یہ اچھا نہیں لگے گا کہ تمھیں میرے علاوہ کوئی اور جی بھر کے دیکھے”۔
“مطلب یہ گوارہ ہے کہ تم کسی اور کو میری جگہ دے کر اپنی بانہوں میں لے کر ڈانس کرو’ ہے نا؟”۔ مشائم نے چڑ کر کہا۔
“نہیں’ مشو اٹس مائی پروفیشن’ جان جو مقام تمھارا میرے دل میں ہے کسی اور کا نہیں ہے نا ہی کبھی ہو سکتا ہے۔ احد سمعان کا ایک ہی دل ہے جو میں آل ریڈی تمھیں دے چکا ہوں اب ہزار دل تو ہیں نہیں جو میں اوروں میں بانٹا پھروں؟”۔ احد نے فی البدیہہ جواب دیا۔ “یار تم اپنا موازنہ ان ایکٹریسز سے مت کیا کرو’ آئی ڈونٹ لائک دس”۔
“ٹھیک ہے نہیں کروں گی”۔ احد کی بات کی گہرائی تک پہنچتے مشائم نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“یار اب ہمیں کسکا ویٹ ہے؟؟”۔ احد سیٹ پہ’ چیئر کی بیک سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا’ چیئر سے اٹھتے ہی نبیل کی طرف آیا جو لوکیشن چیک کرنے میں منہمک تھا۔
“مجھے تو یہی لوکیشن ٹھیک لگ رہی ہے باقی بدلی بھی جا سکتی ہے’ کوئی اشو نہیں ۔۔۔ ہاں احد کہو؟”۔ اپنے برابر کھڑے انسان کو باور کراتے اسنے اپنی توجہ احد کی طرف راغب کی۔
“نبیل یار کافی ٹائم ہو گیا ہے’ کسکا ویٹ ہے؟”۔ احد نے تنگ طلبی سے کہا۔
“فاطمہ کا انتظار ہے بس”۔
“فاطمہ؟”۔ احد نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“ہیروئن اس ایلبم کی”۔ نبیل نے مسکراہٹ احد کی جانب اچکائی۔
“اچھا’ ایسا کرو مجھے ان لیرکس پہ سر کی وضاحت کر دو کہ کیسے لگانا ہے؟ تاکہ آسانی رہے”۔ بولتے ہی اسنے ہاتھ میں پکڑا پیج نبیل کی طرف کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد تمھارا سین یہ ہو گا کہ تم اس سینری کے سامنے کھڑے ہو گے’ پہلے تمھارا چہرہ دائیں جانب ہلکا سا جھکا ہوا ہوگا پھر تم چہرے کو سیدھا کرتے سامنے دیکھو گے مگر تمھارے لبوں پہ مسکان آخر میں آنی چاہیئے شروع میں یوں لگے کہ تم آنکھوں سے گفتگو کی کوشش میں ہو”۔ اپنے مقابل سمت کی طرف اشارہ کرتے نبیل نے احد سے کہا۔
جبکہ احد کے برابر کھڑی فاطمہ اسی کی منتظر تھی کہ کب اسے اپنے سین کے بارے میں مطلع کیا جائے۔
“فاطمہ تم اس پلڑ کے ساتھ کھڑی ہو گی’ اپنا بائیاں ہاتھ اوپر کی طرف کر کے اور چہرہ قدرے ہمارے طرف’ نظریں جھکا کر اور لبوں پہ ہنسی۔ دوسرے سین پہ جب گانے کے لیرکس ہوں گے “قطرہ بھی تیرا ملے جو رگ رگ میں میری بساوں” اس پہ احد آہستہ سے چلتا تمھاری طرف آئے گا جبکہ تم ہلکی دوڑ لگاتے احد کی طرف آو گی اور احد تم اسے لفٹ کرو گے”۔ فاطمہ کو صورت حال سے دوچار کرتے نبیل نے احد کا رخ کیا۔
“لفٹ کرنا ہے؟”۔ احد چونکا۔
“ہاں لفٹ کرنا ہے کیوں کوئی پرابلم ہے؟”۔ نبیل نے تصدیق چاہی۔
“ن نہیں”۔
احد کی سوچ کا محور اس وقت مشائم تھی جسے احد کا دوسری لڑکیوں کے ساتھ ہونا قطعا پسند نہیں تھا جو بات عموما ہر لڑکی کی خصلت کا خاصہ ہوتی ہے۔
اپنے من چاہے انسان کو کسی اور کے ساتھ دیکھنا’ اسے ہاتھ لگانا ایک لڑکی کیلیئے عام طور پہ جیلسی کا سبب بنتی ہے’ ہونی بھی چاہیئے لیکن ایسے انسان دنیا میں کم ہی پائے جاتے ہیں۔ جنہیں میسر ہوں ان سے بڑھ کر کوئی خوش نصیب نہیں ہوتا اور احد انہی میں سے ایک تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: