Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 6

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 6

–**–**–

“بے انتہا یوں
چاہوں تجھے میں
جو ٹوٹ کے تو
بکھرے یہاں
ختم نا ہوگی ایسی محبت
کرنے لگا ہوں میں بے پناہ
قطرہ بھی تیرا ملے جو’ رگ رگ میں میری بساوں
تیرے پیار کو’ دیدار کو’ دل دے رہا ہے صدا
آ بھی جا میرے مہرماں
آ بھی جا ااااااا
نا رہ جدا”
ایلبم کی شوٹنگ جاری تھی۔
سین کے مطابق فاطمہ جونہی احد کے نزدیک آنے لگی اس دم فاطمہ کی آنکھوں میں’ ہوا سے اٹکیلیاں کرتے مٹی کے ذرے آ ٹھہرے جس پہ اسکے قدموں میں زنجیر ڈلی۔
“آ”۔ آنکھوں پہ ہاتھ رکھتے فاطمہ چلائی۔
“کیا ہوا آپ کو؟”۔ احد اسکے قریب آتے پوچھنے لگا۔
“میری آنکھوں میں پتہ نہیں کیا چلا گیا ہے’ مجھے بہت چبھن ہو رہی ہے”۔ فاطمہ کراہ کر رہ گئی۔
“کیا ہوا؟؟”۔ نبیل بھی نشست چھوڑتا اس طرف آیا۔
“یار پتہ نہیں شاید انکی آنکھوں میں کچھ چلا گیا ہے”۔ فاطمہ کی حالت دیکھ احد نے اندازہ لگایا۔
“ہم شوٹنگ پوسپونڈ نہیں کر سکتے؟”۔ احد نے سوال کیا۔
“کر سکتے ہیں ویسے بھی ایسی حالت میں فاطمہ شوٹنگ کیسے کرے گی؟؟۔ گائز سامان سمیٹو شوٹنگ آج نہیں ہو گی’ ہری اپ”۔ ہوا میں ہاتھ بلند کرتے نبیل نے تالی بجاتے ٹیم کو مطلع کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ٹی وی لاونج میں’ صوفے پہ بیٹھے دونوں ٹانگیں سامنے ٹیبل پہ رکھے’ اسنے اپنے سامنے پاپ کارن کا پیالہ رکھا تھا جس میں سے یکے بعد دیگرے پاپ کارن اٹھاتے ‘منہ میں ڈالتے وہ سامنے ایل ای ڈی پہ لگی مووی انہماک سے دیکھ رہی تھی۔ اسی اثنا میں پشت سے ایک ہاتھ اسکے پیالے سے پاپ کارن اٹھاتے اسکی آنکھوں کے سامنے سے گزرا جس پہ وہ سہم کر خوف میں اپنی سانسیں روک گئی۔
دوبارہ سے ہاتھ پیالے کی جانب بڑھتے مشائم فورا سے مڑی۔
“کافی دنوں بعد نظر آئے تو رہا نہیں گیا”۔ ایک کے بعد دوسرا پاپ کارن منہ میں ڈالتے اسنے چباتے ہوئے بولا۔
“احد تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا”۔ دل پہ ہاتھ رکھے مشائم نے سانس خارج کی۔
“معذرت”۔ پاپ کارن سے انصاف کرتے احد نے صوفے کی پشت پہ بازو ٹکائے چہرہ مشائم کے چہرے سے قریب کیا۔
“معذرت’ اگر میری موت واقع ہو جاتی تو؟؟”۔ کالی آنکھوں کے سمندر میں شرارت غوطہ زن ہوئی۔
“پھر ایک نہیں دو ہوتیں”۔
خود پہ چاہت کا لمس محسوس کرتے مشائم نے کچھ پل احد کے چہرے کا طواف کیا۔
“سناو کیسی رہی شوٹنگ؟”۔ اچانک سے خیال آتے مشائم نے کہا۔
“پوسپونڈ”۔ بولتے ہی وہ صوفے سے چھلانگ لگاتا مشائم کے برابر بیٹھ گیا۔
“مگر کیوں؟؟”۔
“یار ہیروئن کی آنکھوں میں کچھ چلا گیا تھا اس لیئے شوٹنگ ملتوی کرنی پڑی”۔ بولتے ہی اسنے دوبارہ پاپ کارن کی جانب ہاتھ بڑھایا۔
“ہاہاہاہاہا’ لگتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی اور بھی نہیں چاہتا کہ تمھارے قریب کوئی آئے”۔ نادانستہ مشائم نے قہقہ لگایا۔
بلا وساطت منہ کی طرف احد کا اٹھتا ہاتھ رک گیا اور نظریں مشائم کے چہرہ پہ یکلخت رکیں۔
“کیا ہوا؟؟”۔ خود پہ احد کی منجمد نظریں محسوس کرتے مشائم نے حیرت سے کہا۔
“مطلب فاطمہ کی آنکھوں میں گرد اتفاقا نہیں گئی بلکہ”۔ خوف کے شکنجے میں اسنے بمشکل لعب نگلا۔
“احد تمھیں پسینہ کیوں آ رہا ہے؟؟”۔ احد کی پیشانی پہ ہاتھ پھیرتے مشائم متحیر ہوئی۔
“پ پتہ نہیں”۔ ہاتھ بڑھاتے احد نے چہرے پہ آئی بے رنگ اوس کی نمی محسوس کی۔
“میں تمھارے لیئے پانی لے آتی ہوں”۔ بدقت پیر فرش پہ جمائے مشائم صوفے سے اٹھی۔
“نہیں مشی رہنے دو’ میں تھک گیا ہوں پھر ملاقات ہوگی”۔ مشائم کا ہاتھ پکڑتے احد بھی صوفے سے اٹھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد”۔
احد بیڈ پہ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا جب غیبی قوت نے اسکے بائیں کان کے گرد اودھم مچایا۔
احد فورا سے اٹھ بیٹھا جہاں مقابل کھڑکی اپنی بانہیں کھولے اپنے مابین سے ہوا کے تیز جھونکے گزار کر احد تک لا رہی تھی۔
“یہ کھڑکی تو بند کی تھی مگر۔۔۔۔”۔ احد بڑبڑایا۔
“تمھیں پسینہ آ رہا تھا تو میں نے کھول دی”۔ غیبی قوت کی آواز دوبارہ سے اسکے دائیں جانب سے ابھری۔ احد کو یوں لگا جیسے وہ اسکے قریب بیٹھی ہو۔
“ت ت تم میرے پیچھے کیوں پڑی ہو؟؟”۔ احد نے چلاتے’ خود کو بے بس محسوس کرتے چہرہ ہاتھوں میں سر گرا لیا۔
“تم مرد ہوکے روتے کیوں ہو؟؟”۔ غیبی آواز نے ہیبت ناک قہقہ لگایا۔
“ت ت تم چ چ چڑیل ہوکے ہنستی کیوں ہو؟؟”۔ احد نے طیش میں سر اٹھایا۔
“تم انسانوں کی بے بسی پہ”۔ ایک اور قہقہ احد کی حس سامعہ سے ٹکرایا جس پہ اسنے فورا سے کانوں پہ ہاتھ رکھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بلیک جینز پہ وائٹ شرٹ پہنے احد شوٹنگ کیلیئے مکمل تیار تھا۔
“احد تم تیار ہو؟؟”۔ نبیل احد کے قریب آ کر کہنے لگا۔
“ہاں میں تیار ہوں”۔
“سہیل جا کے چیک کرو فاطمہ تیار ہوئی یا نہیں؟”۔ اپنے سے تھوڑا فاصلے پہ کھڑے لڑکے کو مخاطب کرتے نبیل نے آواز بلند کی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
لال رنگ کا پیروں تک لباس پہنے وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی، کانوں میں چھوٹے آویزے جو سنہری رنگ کے تھے، بالوں کو کھلا’ کمر پہ پھیلا رکھا تھا اور سامنے کے بالوں کا پف بنا تھا جو قدرے ڈھیلا تھا’ پیروں میں لال ہیل۔
خود کو آئینے میں دیکھتے وہ مسکرا رہی تھی۔ ایک راکسٹار کی حیثیت سے فاطمہ بھی احد کی فین تھی اسکے لیئے یہ اسکی قامت سے بڑی بات تھی کہ اسے احد کے ساتھ ایلبم کرنے کا موقع ملا تھا۔
میک اپ روم میں کھڑی وہ بلاوے کی منتظر تھی جبی دروازے پہ ناک ہوا جس پہ وہ دروازے کی جانب گھومی۔
جیسے ہی وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگی اسکے پیروں میں لوپ رسی ڈلی’ قدموں کی حرکت ساکن ہوئی تو اسنے لبوں کو حرکت دینے کی کوشش کی لیکن آواز جیسے اسکے حلق میں گھٹ کے رہ گئی تھی۔
ایک لپ سٹک ڈریسنگ ٹیبل سے ہوا میں اڑتی فاطمہ کے مقابل آئی’ فاطمہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ مسام سے بے رنگ پانی نکلتے اسکے بدن کو تر کرنے لگا تھا۔ نقش آفرینی کیلیئے لپسٹک اسکے چہرے پہ چلنا شروع ہوئی’ پیروں کے ساتھ ساتھ اسکے ہاتھ بھی بندھ چکے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“فاطمہ یہ تم نے اپنی حالت کیا بنائی ہے؟ تم تیار کیوں نہیں ہوئی؟”۔ دروازہ کھلا تو نبیل فاطمہ کا حلیہ دیکھ دنگ رہ گیا۔
“یار اور کتنا وقت لگے گا؟؟”۔ احد بھی بے زارگی میں میک اپ روم کی طرف آیا اور فاطمہ کو دیکھتے اسکے بھی ہوش اڑے۔
“کیوں کیا ہوا ہے؟ میں تیار ہی تو ہوں”۔ فاطمہ نے بے یقینی سے کہا۔
“یہ تم تیار ہو؟؟”۔ فاطمہ کے چہرے کے گرد انگلی گھماتے نبیل نے چڑ کر کہا۔ “فاطمہ تمھیں ایلبم کیلیئے تیار ہونا تھا کسی سرکس کیلیئے نہیں”۔ نبیل نے عتاب میں کہا۔
“کال دا بیوٹیشن”۔ نبیل چلایا۔
“جی سر؟”۔ کچھ ہی دیر میں ایک پچیس سالہ دوشیزہ اسکے برابر آ کھڑی ہوئی۔
“میں نے کہا تھا فاطمہ کو تیار کرو کیوں نہیں کیا؟”۔
“سر میں نے کب کا تیار کر دی۔۔۔”۔
“ایسے کرتے ہیں تیار؟؟”۔ اسکی جانب چہرہ موڑے نبیل دھاڑا۔
“س س سوری سر”۔ دوشیزہ نے معذرت کی۔
“دفع ہو جاو”۔
“نبیل یار”۔ احد نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھتے اسے پرسکون کرنے کی کوشش کی۔
نبیل کے رد عمل پہ فاطمہ بھی میک اپ روم میں داخل ہوتے آئینے کے سامنے آ ٹھہری۔
خود کا جائزہ لیتے اسکی عقل دنگ رہ گئی۔
بکھرے بال’ چہرے پہ جابجا لپ سٹک کے نشان اور دانتوں پہ ایک کے بعد ایک کاجل لگا تھا جس سے وہ کافی حد تک ڈراونی اور بد نما لگ رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مجھے لگتا ہے کہ میرے علاوہ کوئی اور بھی نہیں چاہتا کہ تمھارے قریب کوئی آئے”۔
آج والے واقعے کے بعد مشائم کی بات احد کے ذہن پہ سانپ کی مانند ڈھاک مارے بیٹھ گئی تھی۔
“کل فاطمہ کی آنکھوں میں مٹی چلی گئی اور آج فاطمہ کی یہ حالت”۔ سوچ میں غرق وہ سیٹ سے نکل کر کار کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“جو بھی ہو رہا ہے اس سب میں یقینا اس جنڑی کا ہاتھ ہے”۔
“تم نے صحیح پہچانا یہ سب میں نے ہی کیا ہے”۔ ہوا کا جھونکا اسکے دائیں اذن کے قریب سے گزرا۔
اپنے قدموں کو روکتے احد نے خوف پہ قابو پانے کی کوشش کی۔
“مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم ایسا کیوں کر رہی ہو؟ ان سب نے تمھارا کیا بگاڑا ہے ؟ کبھی موت کی دھمکی کبھی وبال جان بن جانا’ کیا چاہتی ہو تم؟ آخر بتاتی کیوں نہیں؟”۔ ہلکا سا دائرے میں گھومتے احد نے چلا کر کہا۔
“صرف تمھیں چاہتی ہوں”۔ غیبی آواز اب کی بار دھیمے سے گویا ہوئی۔
“مجھے؟”۔ آنکھوں میں آنسو اور لبوں پہ طنزیہ ہنسی۔
“ہاں تمھیں”۔
“میں نے صرف ایک لڑکی سے پیار کیا ہے اور وہ ہے ۔۔”۔
“مشائم’ جانتی ہوں میں”۔ غیبی قوت غصے میں مخاطب ہوئی۔
“جب جانتی ہو تو تم میری جان چھوڑ کیوں نہیں دیتی؟”۔ احد نے التجا کرنے کے سے انداز میں کہا۔
“تمھاری جان میری مقروض ہے’ اتنی آسانی سے کیسے چھوڑ دوں؟؟”۔ اپنے ارادوں سے باخبر کرتے کہا گیا۔
“مطلب؟”۔ احد کو دھچکا لگا۔
“بھول گئے اس دن جب تمھارے دوست نے جھیل میں پھینکا تھا تمھیں کافی دیر پانی میں رہنے کے بعد بھی تم زندہ ہو”۔ احد پہ کیئے گئے احسان کو اس پہ آشکار کرتے غیبی قوت فخریہ انداز میں بولی۔
“میں چاہ کر بھی اس بارے میں سوچ نہیں پایا”۔ احد کا جیسے دھڑکنا بھول بیٹھا۔
“وہ اس لیئے کیونکہ میں نے تمھارے دماغ کو اس چیز کی اجازت نہیں دی”۔ مقابل میں حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا۔
“تم مجھ سے چاہتی کیا ہو؟”۔ احد نے پھر سے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
الجھن کی بندش میں وہ اپنے روم کی طرف ہلکے قدم رکھ رہی تھی۔
روم کی دہلیز پہ قدم رکھا تو شہریار کو بیڈ پہ موجود پایا’ بھینی مسکراہٹ اسکے لبوں پہ رینگی جو چند لمحوں میں ہی رخصت ہوئی۔
“حرا”۔ شہریار نے فون سائیڈ پہ رکھتے اسے خوش دلی سے پکارا۔
“جی”۔ حرا شہریار کے قریب آتے ہوئے بولی۔
“ادھر آو۔۔۔ میرے پاس بیٹھو”۔ حرا کا ہاتھ پکڑتے شہریار نے اسے اپنے سامنے بٹھایا۔
“جی؟”۔ تا ہنوز سوچ میں گھری حرا نے نظر شہریار کے چہرے پہ ٹکائی۔
“کیا ہوا ہے؟ کوئی پریشانی ہے؟۔ میں تمھیں کافی دنوں سے اوبزرو کر رہا ہوں تم کچھ کھوئی کھوئی سی رہنے لگی ہو جیسے کوئی بات کرنا چاہتی ہو مگر کر نہیں پا رہی”۔ حرا کا ہاتھ ہاتھوں میں لیتے شہریار نے محبوبیت سے کہا۔ “کوئی بات تمھیں پریشان کر رہی ہے؟ مجھے بتاو ہم مل کر اس مسئلے کا حل نکالیں گے یا اس پرابلم کا سولوشن ڈھونڈ لیں گے”۔
“شہریار کہہ تو ٹھیک رہے ہیں آخر کب تک یوں ڈر ڈر کر رہیں گے ہم؟ ایسے تو زندگی نہیں گزرتی”۔ حرا نے سوچ ونت سے کام لیا۔
“شہریار وہ اح۔۔۔۔”۔
“حرا بھابی”۔ حرا نے زبان کو حرکت دی ہی تھی کہ چوکھٹ سے آواز ابھری۔
“احد”۔ حرا بوکھلاہٹ میں بیڈ سے اٹھتے دروازے کی جانب گھومی۔
“ایم سوری بھائی آپ کو ڈسٹرب کیا اور بنا ناک کیئے چلے آیا”۔ شہریار کو دیکھتے احد نے معذرت طلب کرتے بات سنبھالنے کی کاوش کی۔
“کوئی بات نہیں احد”۔ شہریار مسکرا دیا۔
“بھابی وہ آپ سے ایک کام ہے میرے ساتھ آئیں گی؟ بھائی اگر آپکو اعتراض نا ہو تو؟”۔ حرا کو مخاطب کرتے احد نے شہریار کا رخ کیا۔
“ارے احد کیسی غیروں والی باتیں کر رہے ہو؟ تمھیں حرا سے بات کرنے کیلیئے میری پرمشن کی ضرورت نہیں”۔ شہریار خفا ہوا۔
“تھینکس بھائی”۔ احد نے مسکراہٹ اچھالتے کہا۔
“میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں”۔ حرا احد کے ہمراہ روم سے نکل گئی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بھابی آپ کو اللہ کا واسطہ ہے آپ شیری بھائی کو بتا کر مزید پرابلم کریٹ نا کریں”۔ احد نے حرا کے سامنے ہاتھ جوڑتے التجا کی۔
“احد دیکھو ساری زندگی ڈر کر نہیں گزاری جا سکتی’ وہ تمھیں ڈرا رہی ہے اور تم ڈر رہے ہو اسی بات کا تو وہ فائدہ اٹھا رہی ہے احد’ لیکن تم یہ بات نہیں سمجھ رہے”۔ حرا نے احد کو کنونس کرنے کی ناکام کوشش کی۔
“بھابی آپ سمجھنے کی کوشش کریں فلوقت آپ کسی کو کچھ نہیں بتائیں گیں”۔ احد نے اصرار کیا۔
“احد شہریار مجھ سے پوچھ رہے تھے کم از کم انہیں تو۔۔۔”۔
“اگر آپ نے ایسا کیا نا بھابی تو آپ شیری بھائی کا مرا منہ دیکھیں گیں”۔ احد نے لاچارگی اور مجبوری میں حرا کی بات کاٹی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم کو کال نا کرنے کی صورت میں اسے مشائم کی یاد آنے لگی تھی’ مشائم کا خیال ذہن پہ سوار تھا جسکی بدولت وہ رات کے تیسرے پہر جاگ رہا تھا اور اپنے سامنے مشائم کی تصویر رکھی تھی۔
“مشو یار پتہ نہیں میں تمھیں ان دنوں اتنا مس کیوں کرتا ہوں؟ نجانے کب دوری کا یہ باب مکمل ہوگا اور تم میرے پاس ہوگی۔ ہر گزرتے لمحے، ہر گزرتے پل کے ساتھ میرے دل میں تمھاری محبت بڑھتی جاتی ہے۔ یہ دوری میرے دل میں بھڑکتی محبت کی آگ کو بڑھاوا دیتی ہے’ آئی لو یو ۔۔ آئی لو یو سو مچ”۔ بات مکمل کرتے احد نے جونہی اپنے لبوں کو مشائم کی تصویر تک رسائی دی’ اس دم کھڑکی کے پٹ زور سے کھلے جیسے کسی نے دھکے سے کھولیں ہوں۔
احد جو بیڈ کے تاج سے ٹیک لگائے ہوئے تھا فورا سے تصویر سائیڈ پہ رکھتے سیدھا ہوا۔
“حیرانگی کی بات ہے کہ تمھیں پتہ چل گیا’ میں آئی ہوں”۔ گپت نسوانی آواز جوش میں آئی۔
“ظاہر ہے اتنی ۔۔۔ دھماکے دار انٹری جو ماری ہے”۔ پہلے کی نسبت آج احد کا خوف کم تھا۔
“تمھارے چہرے پہ اپنے لیئے خوف میں قلت دیکھ کر مجھے اچھا لگا”۔ مقابل میں دھیرے سے کہا گیا۔
ڈریسنگ ٹیبل کا سٹول اپنی جگہ سے کھسکتا بیڈ کے قریب آیا جیسے کسی نے گھسیٹ کر لایا ہو۔
“میں تم سے ایک بات کہوں؟”۔ احد نے ہچکچاتے کہا۔
“کہو”۔ احد کو آواز قریب تر محسوس ہوئی۔
“میں تمھیں دیکھنا چاہتا ہوں”۔ احد کی خواہش کے جواب میں ہنس دیا گیا۔
“میں نہیں چاہتی کہ تم مجھے دیکھ کے ڈر جاو کیونکہ تم مجھے دیکھ نہیں پایا گے”۔
“کیا اتنی ڈراونی ہو؟”۔ احد نے تھوک نگلا۔
غیبی آواز ںے وحشت ناک قہقہ لگایا۔
“تمھاری یہ خواہش میں پوری کروں گی مگر مکمل نہیں”۔
“مکمل نہیں’ مطلب؟”۔ احد چونکا۔
“یہ تم نہیں سمجھو گے”۔ غیبی صدا نے ہولے سے کہا۔
“تنکا تنکا’ ذرہ ذرہ
ہے روشنی سے
جیسے بھرا
تنکا تنکا’ ذرہ ذرہ
ہے روشنی سے
جیسے بھرا
اس دل میں ارماں ہوتے تو ہیں
اس دل میں ارماں ہوتے تو ہیں
بس کوئی سمجھے ذرا”۔
گپت آواز نے گنگنانا شروع کیا۔
احد کے روم کی شان سے جلتی لائٹ اب مدھم ہو چکی تھی’ اس مدھم روشنی میں بھی کھا جانے والا ہیبت ناک خوف برقرار تھا اور آخر میں لائٹ جلنے بجھنے لگی تھی۔
احد کے شریر میں پھریری دوڑ گئی۔
کھڑکی کے پاس نظر جاتے ہی احد کے ہوش اڑے اور پلکیں ساکت ہوئیں۔
سفید لباس میں ملبوس حسین لڑکی’ سیاہ لمبے’ گھنے بال جو کمر پہ پھیلے ہوئے تھے اور کمر سے حد درجہ نیچے تھے’ آنکھیں چمک رہیں تھیں مگر نقوش واضح نہیں تھے اور لبوں پہ پراسرار وحشیانہ ہنسی تھی۔
احد آنکھیں جھپکنا بھول بیٹھا تھا۔
کچھ پل احد پہ اپنا جلوہ نمایاں کرتے وہ کھڑکی سے دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی’ روم کی لائٹ دوبارہ بحال ہوئی تو احد کی پلکوں میں ارتعاش پیدا ہوا۔
فی الفور بیڈ سے اٹھتے احد کھڑکی کی جانب گیا جہاں جھانک کر دیکھنے پہ ویرانی’ خاموشی اور تاریکی کے علاوہ کچھ نا ملا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم آنٹی”۔ حویلی کی انٹرنس پار کرتے مشائم ہال میں پہنچی جہاں راضیہ بیگم بیٹھیں تھیں۔
“وعلیکم السلام مشائم بیٹا کیسی ہو؟”۔ راضیہ بیگم نے جھکا سر اٹھایا۔
“میں ٹھیک ہوں آنٹی’ آپ کیسی ہیں؟”۔ اپنے درمیان فاصلہ طے کرتے مشائم راضیہ بیگم کے قریب آئی۔
“میں ٹھیک ہوں بیٹا تمھارا پاوں کیسا ہے اب؟”۔
“پاوں اب اللہ کا شکر ہے بہت بہتر ہے آنٹی”۔ راضیہ بیگم کی دائیں جانب رکھے چھوٹے صوفے پہ بیٹھتے اسنے جواب دیا۔
“چلو بیٹا یہ تو بہت اچھا ہوا”۔ راضیہ بیگم نے پرمسرت انداز میں کہا۔
“وٹ آ پلیزنٹ سرپرائز مشو”۔ احد جو تیزی میں سیڑھیاں اترتے انٹرنس کی جانب بڑھ رہا تھا’ مشائم کو دیکھتے رک کر اس طرف آیا۔
“جی تمھیں تو فرصت نہیں ملتی سوچا خود ہی آ جاوں”۔ مشائم نے گلا کرنے کے سے انداز میں کہا۔
“ہاہاہاہا’ بہت شکریہ اینی وے کس کے ساتھ آئی ہو؟”۔ احد نے قہقہ لگایا۔
“خود آئی ہوں”۔ احد کا قہقہ مشائم کیلیئے ناراضگی کا سبب بنا۔
“ارے مشائم تم کب آئی؟”۔ حرا بھی روم سے نکلتے اس طرف آئی۔
“بس بھابی ابھی ہی آئی ہوں”۔ صوفے سے اٹھتے مشائم حرا کے گلے لگی۔
“مشو یہ تو غلط بات ہے”۔ احد نے لب بھینچے۔
“کیا غلط ہے؟”۔ مشائم نے دائیں آبرو اوپر کو کیا؟
“یہی کہ مجھے سلام تک نہیں کیا اور بھابی کے گلے لگ گئی”۔
“احد بیٹا”۔ راضیہ بیگم نے آنکھیں نکالیں۔
“اچھا ماما مذاق کر رہا تھا”۔ احد کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھ مشائم کے لبوں پہ بھی مسکراہٹ رینگی۔ “ماما آپکی عمر ہوگئی ہے اب آرام کرنے کی مہربانی ہے آپ آرام کریں اور اپنی جگہ کسی اور کو دے دیں”۔ خیال آتے ہی احد فورا سے سنجیدہ ہوا۔
“کیا مطلب؟”۔ راضیہ بیگم نے حیرت سے کہا۔
“مطلب یہ کہ ایک اور بہو لے آئیں”۔ احد نے کالر سیٹ کرتے نظر چرا لی۔
“او تو آپکو شادی کرنی ہے؟”۔ حرا نے احد کا دائیاں کان کھینچا۔
“ظاہر ہے بھابی اب ساری عمر کنوارہ تو نہیں رہنا میرا معصوم دل بھی کرتا ہے تھوڑی سی شادی کرنے کو’ میں بھی انسان ہوں آخر کب تک ایسا چلے گا؟کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟”۔ احد نے ناراضگی میں شانے اچکائے۔
“اچھا جو مشی کہے گی وہی ہوگا”۔ راضیہ بیگم نے مشائم کی جانب دیکھا جو احد کے مقابل کھڑی نگاہیں جھکا گئی اور لال لالی اسکے رخسار پہ آ جمی۔
“مشو کی جرات نہیں نا کرنے کی ‘اگر نا کی تو میں کسی اور سے شادی کر لوں گا”۔ احد نے شرارت سے نظریں پھیر لیں۔
احد کی بات پہ مشائم ہکا بکا اسے دیکھنے لگی اور ناراضگی میں’ خاموشی سادھے انٹرنس کی جانب گھومی۔
راضیہ بیگم اور حرا نے ہنستے ہوئے احد کو دیکھا جو مشائم کی پشت پہ نظر ڈالے کھڑا مسکرا رہا تھا پھر ہاتھ کے اشارے سے مشائم کے پیچھے ہو لیا۔
مشائم کار پورچ کی طرف قدم رکھ رہی تھی احد بھی آہستہ آہستہ اسکے پیچھے چلنے لگا۔
جونہی مشائم نے کار کے دروازے پہ ہاتھ رکھا احد نے اسکا ہاتھ پکڑتے اسے اپنی طرف کیا۔
“چھوڑو مجھے”۔ مشائم کی آنکھ میں آنسو اتر آئے تھے۔
“نہیں چھوڑ سکتا”۔ احد کے چہرے سے ہنوز مسکراہٹ امڈ رہی تھی۔
“احد چھوڑو مجھے گھر جانا ہے”۔ مشائم نے آنکھیں پھیر لیں۔
“کہیں نہیں جا رہی تم’ یہاں آ کر جو سرپرائز دیا ہے اب جا کر اسکی واٹ نا لگاو”۔ بولتے ہی اسنے مشائم کا دوسرا ہاتھ تھاما۔
“مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی”۔ خفا انداز میں بھی مشائم کے چہرے پہ طفولیت لوٹ مار مچائے ہوئے تھی۔
“مجھے تو کرنی ہے”۔ احد کے لب مستقل مسکرا کر مشائم کی ناراضگی کو طول دے رہے تھے۔
“تو’ جس سے شادی کرنی ہے نا اسی سے کرو”۔ مشائم نے احد کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔
“اسی سے تو کر رہا ہوں ان فیکٹ کرنے کی کوشش میں ہوں’ یار تم مجھے اتنی کیوٹ لگتی ہو جب یوں مجھ سے ناراض ہوکر چلی جاتی ہو اور بات نہیں کرتی۔ مجھے تمھیں یوں منانا بہت اچھا لگتا ہے’ مجھے تمھیں تنگ کرنے میں مزہ آتا ہے”۔ اب کی بار احد کی بتیسی نمایاں ہوئی۔
“اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ تم کسی اور سے شادی کی بات کرو اور میں کچھ نا کہوں’ مجھے تنگ کرنے کی غرض سے کیا تم کسی سے بھی شادی کر لو گے؟؟”۔ مشائم نے غصے میں کہا لیکن آنسوؤں کی آڑ میں اسکی آواز دھیمی ہو گئی تھی۔
“کسی سے نہیں صرف اور صرف مشی سے’ چلو اب اندر چلو شاباش”۔ مشائم کا ہاتھ تھامے احد حویلی کی اندرونی جانب بڑھنے لگا۔
بلا وساطت ہوا کی رفتار تیز ہو گئی تھی یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہوا کی لہریں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہوں جن سے پیدا ہونے والی آواز وحشت ناک معلوم ہو رہی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حرا، نگینہ بیگم، احد اور مشائم حویلی کے لان میں بیٹھے گفت و شنید میں محو تھے۔
“نبیل کی کال ہے”۔ فون پہ رنگ بجی تو احد نے سامنے ٹیبل پہ رکھا فون اٹھا کر دیکھا۔
“ہیلو اسلام و علیکم”۔ چیئر سے اٹھتے احد سائیڈ پہ ہو لیا۔
“مشائم یار تم چپ کیوں ہو؟ باتیں کرو نا”۔ حرا نے اپنے مقابل بیٹھی مشائم کو مخاطب کیا جو چپ بیٹھی احد کو دیکھ رہی تھی۔
“ج جی بھابی”۔ حرا کی آواز پہ وہ متوجہ ہوئی۔
“کیا ہوا ہے؟ از ایوری تھنگ آل رائٹ؟”۔ حرا نے کنفرم کیا۔
“جی بھابی سب ٹھیک ہے”۔ مشائم نے مسکراہٹ سے کہا۔
“میں سمعان میاں سے بات کرتی ہوں کہ اب میرے دوسرے نواسے کو بھی بیاہ دے”۔ نگینہ بیگم نے شرارت سے حرا کو دیکھا جو انکی بائیں جانب بیٹھی تھی۔
“صحیح بات کی ہے نانو جان ویسے بھی اپنی شادی کے بعد کسی کی شادی نہیں ہوئی جو بندہ اینجوائے کر سکے”۔ حرا نے نگینہ بیگم کی تائید کی۔
“مشائم’ عامر کے گھر میں ہماری ہی تو امانت ہے”۔ نگینہ بیگم نے کہا تو مشائم شرما دی۔
“بالکل”۔ حرا ہنس دی۔ “اچھا نانو آپ لوگ باتیں کریں میں آپ لوگوں کیلیئے چائے بنا کر لاتی ہوں”۔ حرا چیئر سے اٹھتے حویلی کی اندرونی جانب جاتی راہداری پہ چلنے لگی۔
جونہی حرا انٹرنس سے چند قدم پہلے پہنچی’ منڈیر پہ رکھا گملا ہوا میں جھولنے لگا۔ احد اس طرف جیسے ہی گھوما اسکی نظر گملے پہ گئی اور آنکھیں حیرت سے باہر ابھریں۔
“حرا بھابی”۔ فون زمین پہ پھینکتا احد حرا کی جانب لپکا۔
حرا کر دھکا دیتے احد نے سائیڈ پہ کیا۔
وہ گملا جو حرا پہ پھینکا گیا تھا’ احد کے بائیں شانے پہ آ گرا تھا۔ سفید شرٹ کے باعث احد کا رستا خون واضح نظر آنے لگا تھا۔
احد”۔ مشائم چلاتی ہوئی چیئر سے اٹھتے احد کی جانب دوڑی۔
نگینہ بیگم بھی اسکے متعاقب چیئر سے اٹھیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: