Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 7

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 7

–**–**–

“راضیہ بیگم حویلی کے باہر خون کے دھبے ہیں’ سب خیریت تو ہے؟ کیا ہوا ہے؟”۔ سمعان صاحب ہال میں آ کر پوچھنے لگے۔
“جی وہ احد کے کندھے پہ گملا گرنے کی وجہ سے چوٹ آئی ہے تو مشائم اور شہریار اسے لے کر ہوسپٹل گئے ہیں”۔ راضیہ بیگم جو بےچینی میں چہل قدمی کر رہیں تھیں’ نے اپنے قدم روکے۔
“سب ٹھیک تو ہے؟ زیادہ چوٹ تو نہیں آئی احد کو؟”۔ سمعان صاحب بھی بے قرار ہوگئے تھے۔
“پتہ نہیں جی میری ابھی ان سے بات نہیں ہوئی”۔ راضیہ بیگم نے نفی کی۔
“چلیں میں دیکھتا ہوں آپ پریشان مت ہوں”۔ سمعان صاحب نے بولتے ہی پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر شہریار کا نمبر ڈائل کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کیا ہوا ہے شہریار؟ سب خیر خیریت ہے نا؟؟زیادہ گہری چوٹ تو نہیں آئی احد کو؟”۔
شہریار احد کے ہم قدم سیڑھیاں چڑھ کر احد کے روم میں پہنچا تب راضیہ بیگم احد کے روم داخل ہو کر کہنے لگیں۔
“پریشانی والی بات نہیں ہے ماما’ آپ پریشان نا ہوئیں معمولی چوٹ ہے۔ انشاءاللہ جلد ٹھیک ہو جائے گی”۔ شہریار نے راضیہ بیگم کو پرسکون کرتے کہا۔
احد نے بیڈ پہ بیٹھتے تاج سے ٹیک لگائی ۔۔۔ مشائم اسکے مقابل پائینتی والی سائیڈ پہ کھڑی تھی جبکہ حرا، شہریار اور راضیہ بیگم اسکے بائیں جانب کھڑے تھے۔
“میں احد کے لیئے ہلدی والا دودھ لے کر آتی ہوں”۔ راضیہ بیگم روم سے نکل گئیں۔
“مشو کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاو”۔ مشائم کا اترا ہوا چہرہ دیکھتے احد نے ہولے سے کہا پھر جبرا مسکرا دیا تاکہ مشائم اسے دیکھ کر مزید پریشان نا ہو۔
“سبحان اللہ یہاں بھائی اور بھابی بھی کھڑے ہیں مگر’ خیر ہے’ چلتا ہے’ اب تو ایسا ہی چلے گا”۔ شہریار نے بناوٹی ناراضگی سے کہا۔
“بھائی آپ بھی نا”۔ شہریار کی طرف دیکھتے احد ہنس دیا۔ “آپ لوگ بھی بیٹھ جائیں کھڑے نا ہوں”۔ حرا اور شہریار کی طرف دیکھتے احد نے کہا۔
“مذاق کر رہا ہوں احد’ ہم تمھارے پاس نہیں بیٹھ رہے تم ایسا کرو کہ آرام کر لو”۔ شہریار نے ہدایت کی۔
“جی بھائی”۔ احد نے تائید کی۔
“چلو حرا”۔ حرا کو مخاطب کرتے شہریار روم سے نکل گیا تھا۔
“احد اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو مجھے بتا دینا”۔ احد کو باور کراتے حرا بھی روم سے نکل گئی تھی۔
“تھوڑا سا زخم ہے مشی جلدی ٹھیک ہو جائے گا’ تم فکر مند نا ہو”۔ حرا کے جاتے ہی احد سیدھا ہوا۔
“تمھیں ٹھیک دیکھوں گی تو میں بھی ٹھیک ہو جاوں گی احد”۔ مشائم نے ہولے سے کہا۔
“میں ٹھیک ہوں’ ٹرسٹ می”۔ احد نے متبسم انداز میں کہا۔
“دکھاوے کی ہنسی دکھا کر آپ کسی کو بیوقوف نہیں بنا سکتے”۔ مشائم نے خفگی سے کہا۔
“اگر آپکی بناوٹی ہنسی کسی کیلیئے خوشی کا باعث بنے تو میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی حرج ہے۔ اچھا میرے پاس آ کے بیٹھو تو صحیح”۔ بولتے ہی احد نے ہاتھ آگے بڑھایا جسے مشائم نے کچھ لمحوں کی تاخیر سے تھام لیا۔
“اب اپنا موڈ سیٹ کرو تمھیں یوں مرجھایا ہوا دیکھ کر میرا دل بھی جلے گا’ ہاں”۔ مشائم کو اپنے سامنے بٹھاتے احد نے کہا۔
“احد بیٹا جلدی سے یہ دودھ پی لو”۔ راضیہ بیگم ہاتھ میں دودھ کا گلاس لیئے روم میں داخل ہوئی۔
“ماما یار یہ کیا ہے بھئی؟؟”۔ دودھ کے نام سے ہی چڑ جانے والا آج پینے کے نام پہ تپ گیا تھا۔
“بیٹا یہ تمھارے زخم کیلیئے بہت مفید ہے”۔ راضیہ بیگم نے گلاس سائیڈ ٹیبل پہ رکھا۔
“ماما پلیز مجھے نہیں پینا آپ اچھے سے جانتی ہیں مجھے دودھ پسند نہیں ہے’ پینا تو دور کی بات ہے”۔ احد نے غصے میں کہا۔
“ٹھیک ہے آنٹی میں چلتی ہوں”۔ کچھ پل احد کو بغور دیکھتے مشائم بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“تم کہاں جا رہی ہو؟؟”۔ احد متحیر ہوا۔
“گھر”۔ مشائم نے منہ پھیر کر ہنسی دبائی۔
“مگر کیوں یار مشو’ میرے پاس بیٹھو بس تم ابھی نہیں جا رہی”۔ احد نے حتمی فیصلہ سنایا۔
“اچھا’ اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہاں رکوں تو جلدی سے گلاس ختم کرو”۔ احد کی جانب گھومتے مشائم نے سینے پہ ہاتھ لپیٹے۔
مشائم کے ساتھ روا رکھا گیا رویہ احد کو یاد آیا۔
“میری بلی مجھ ہی کو میاوں”۔
جی”۔ مشائم نے اثبات میں سر ہلایا۔
احد نے مجبورا گلاس اٹھا کر ہونٹوں تک بڑھایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
گھڑی کی چھوٹی سوئی دو پر تھی جبکہ بڑی بارہ پہ’ کروٹ بدلتے وقت احد کے شانے میں درد کی ٹیس اٹھی جس پہ وہ کراہنے لگا تھا۔
درد کی شدت کے باعث اسکی آنکھوں سے آنسوؤں رواں ہوئے جس پہ اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولیں۔۔۔ سائیڈ ٹیبل پہ’بائیں طرف لیمپ آن تھا جسکی مدھم روشنی میں اسکا چہرہ خوفناک لگ رہا تھا۔۔۔ خود کو بمشکل سہارا دیتے احد اٹھ بیٹھا ۔۔۔ پھر سائیڈ ٹیبل سے پانی کا رکھا گلاس اٹھا کر دو گھونٹ سے حلق تر کرتے گلاس دوبارہ سے جگہ پہ رکھا۔
آنسوؤں کو صاف کرتے احد نے بیڈ کے تاج سے ٹیک لگا لی۔
کھڑکی کے پٹ زوردار آواز سے کھلنے کے بعد احد کو اپنے قریب ہوا کی سرسراہٹ محسوس ہوئی۔
“تماشا دیکھنے آئی ہو؟”۔ بولتے ہی احد نے طنزیہ قہقہ لگایا۔
درد کی شدت اسکے چہرے پہ آشکار تھی جو اسکی بناوٹی ہنسی میں با آسانی محسوس کی جا سکتی تھی۔
“تمھیں کس نے کہا تھا کہ اس اوباش لڑکی کو دھکا دے کر خود پہ اذیت کو دعوت دو؟”۔ گپت آواز دھاڑی تھی۔
“وہ میری بھابی ہیں انہیں بچانا میرا فرض تھا’تم اپنی حرکتوں سے کب باز آو گی؟”۔ احد نے غصے میں کہا۔
“جب تک تم انسان میری بات نہیں مان لیتے”۔
“میرا دماغ نا خراب کرو’ میں پہلے ہی تمھاری وجہ سے بہت تکلیف میں ہوں لیکن تم جنوں بھوتوں کو اس سے کیا؟ تم لوگ تو بس جینا حرام کرنے کیلیئے ہی ہو”۔ احد نے مزید چڑ کر کہا۔
“جینا تو تم نے بھی میرا حرام کر کے رکھا ہے”۔ غیبی صدا نے عتاب میں جواب دیا۔
“او ہیلو میں نے تم پہ یا تمھارے خاندان کے کسی فرد پہ یوں گملا نہیں پھینکا’آہ”۔ احد کا خون کھولا مگر درد نے زور پکڑا تو احد کی چیخ نکلی۔
“کیا زیادہ تکلیف ہے؟؟”۔ رحم دلی سے پوچھا گیا۔
“نہیں میرے تو مزے ہیں کہ پارک میں بیٹھا ہوں”۔ احد نے سر جھٹکا۔
ہوا کا جھکولا اسکے شانے کے پاس سے یوں گزرا جیسے کسی نے ہاتھ پھیرا ہو۔۔۔ اسکے فورا بعد ہی احد کا درد چھو منتر ہوا۔
“شب بخیر”۔ اسکے ساتھ ہی گپت قوت احد کے روم سے نکل گئی۔
احد نے اپنا کندھا ہلایا اور حیرانگی سے اسکی آنکھیں ابھر آئیں۔۔۔ اب اسکے شانے میں درد کی رمق تک باقی نا تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
واچ مین نے گیٹ کھولا تو حمزہ نے اپنا بائیک پورچ میں پارک کیا’ بائیک سے اتر کر حمزہ جونہی انٹرنس کی جانب بڑھتی راہداری پہ قدم رکھنے لگا اسکی نظر بائیں جانب جم میں گئی جہاں احد ایکسرسائز کر رہا تھا۔
حمزہ احد کو معمول پہ ایکسرسائز کرتا دیکھ چونک اٹھا تھا کیونکہ گزشتہ روز اسے باخبر کیا گیا تھا کہ احد کے شانے پہ چوٹ آئی ہے جسکی تکلیف کی شدت زیادہ ہے۔
“احد”۔ فاصلہ طے کرتے حمزہ احد کے قریب آیا۔
“ارے حمزی سنا کیسا ہے؟؟”۔ حمزہ کی آواز پہ احد اس طرف گھوما۔
“میں ٹھیک ہوں لیکن تو’ تیرے تو کندھے پہ چوٹ آئی ہے نا؟ اور تو جم میں’ مطلب کیا واقعی تجھے چوٹ آئی ہے؟”۔ متحیر آنکھیں احد پہ ٹکائے حمزہ نے کنفرم کیا۔
“ہاں آئی ہے مجھے چوٹ مگر’ اب درد نہیں ہے”۔ احد مسکرا دیا۔
“آر یو کریزی؟ مطلب چوٹ تھی یا مذاق؟ اتنی جلدی ٹھیک کیسے ہو گئی؟”۔ حمزہ دنگ رہ گیا۔
“یار حمزہ تجھے پریشانی کس بات کی ہے’ چوٹ ٹھیک ہونے کی؟ یا میرے؟”۔ احد نے بات کو گول کرنے کی کوشش کی۔
“احد’ حمزہ تم لوگ یہاں؟”۔ احد اور حمزہ کو جم میں کھڑا دیکھ شہریار بھی اس طرف آیا۔
“اسلام و علیکم شہریار بھائی”۔ حمزہ شہریار کی جانب متوجہ ہوا۔
“وعیلکم اسلام حمزہ سناو کیسے ہو؟”۔ شہریار نے خوش کن انداز میں کہا۔
“میں ٹھیک ہوں بھائی آپ سنائیں؟”۔
“فٹ فاٹ’ یہاں کیا کر رہے ہو تم دونوں؟”۔
“شیری بھائی احد کی چوٹ کا پوچھنے آیا تھا لیکن احد کو یہاں دیکھ کر اس کے پاس چلا آیا’ ایسا لگ رہا ہے کہ احد کو چوٹ آئی ہی نہیں”۔ حمزہ نے احد کی طرف دیکھا جو فکرمند کھڑا تھا۔
“احد یہ میں کیا سن رہا ہوں’ تم یہاں ایکسرسائز کر رہے تھے؟”۔ شہریار نے تفتیشی انداز میں کہا۔
“جی بھائی”۔ احد نے دو حرفی کہا۔
“مگر کیوں؟ تم جانتے بھی ہو کہ ہم نے ماما پاپا سے جھوٹ بولا ہے’ تمھاری چوٹ بگڑ بھی سکتی ہے احد’ تم لاپرواہی کیوں برت رہے ہو؟”۔ شہریار نے غصے میں کہا۔
“میں سچ بول رہا ہوں بھائی اب مجھے درد نہیں۔۔۔”۔ احد نے چڑ کر شہریار کو قائل کرتے زبان کر حرکت دی لیکن خیال آتے ہی رک گیا۔ “اگر بھائی کو چوٹ دکھا دی تو بھائی کو شک ہو جائے گا پھر ہزار طرح کے سوالات کریں گے”۔
“احد میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں”۔ شہریار نے بات پہ زور دیا۔
“سوری بھائی”۔ احد نے سر جھکا لیا۔
حمزہ ششدر احد کو دیکھنے لگا۔
“چلو اب روم میں چل کر آرام کرو”۔ سختی سے سرزنش کرتے شہریار وہاں سے چل نکلا۔
“چل اب کھڑا کیا ہے؟”۔ احد کو سوچ میں ڈوبا دیکھ حمزہ نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اماں’ چائے”۔ راضیہ بیگم چائے کی ٹرے لیئے نگینہ بیگم کے روم میں داخل ہوئی۔ “کیا ہوا اماں؟ آپ فکرمند سی لگ رہی ہیں؟ آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟”۔ جواب موصول نا ہونے پہ راضیہ بیگم’ نگینہ بیگم کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگیں۔
“راضیہ میں ایک بات سوچ رہی تھی”۔ سوچ کی وادی سے واپسی پہ نگینہ بیگم نے کہا۔
“کیا بات ہے اماں سب خیریت ہے؟”۔ راضیہ بیگم فکرمند ہوئیں۔
“راضیہ میں یہ سوچ رہی ہوں کہ احد پہ گملا گرا کیسے؟”۔
“اماں اس میں پریشان ہونےوالی کونسی بات ہے؟ ہوا سے گر گیا ہوگا”۔ راضیہ بیگم نے اندازہ لگایا۔
“ہوا؟ پہلے تو طوفان بھی آتے رہے ہیں مگر ایسا حادثہ نہیں ہوا اور راضیہ کل ہوا کہاں تھی؟”۔ نگینہ بیگم نے تفصیلا کہا۔
“اماں آپ بھی کیا سوچنے لگیں”۔ راضیہ بیگم نے چائے کی پیالی نگینہ بیگم کی طرف بڑھائی۔ “اماں باقی سب چھوڑیں’ چائے پیئیں”۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ڈنر کی غرض سے سمعان صاحب اور انکی فیملی ڈائننگ ٹیبل پہ براجمان تھی۔
“احد بیٹا اب تمھاری چوٹ کیسی ہے؟”۔ سمعان صاحب نے اپنے دائیں جانب راضیہ بیگم کے برابر بیٹھے احد کو مخاطب کیا۔
“پاپا اب بہتر ہے”۔ منہ کی طرف اٹھتا ہاتھ احد نے روک کر جواب دیا۔
“اپنا دھیان رکھا کرو”۔ سمعان صاحب نے تاکید کی۔
“جی پاپا”۔ بولتے ہی احد نے لقمہ لیا۔
“کیا ہوا حرا بیٹا؟ تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟”۔ سامنے کی قطار میں’ شہریار کے ساتھ بیٹھی حرا کو راضیہ بیگم نے مخاطب کیا جو کھانا چھوڑ کر بیٹھ گئی تھی۔
“پتہ نہیں آنٹی وہ۔۔۔”۔ منہ پہ ہاتھ رکھے حرا وہاں سے اٹھ کر روم کی طرف دوڑی۔
“شہریار بیٹا جا کے دیکھو حرا کی طبیعت زیادہ خراب نا ہو”۔ راضیہ بیگم نے مقابل بیٹھے شہریار کو تنبیہ کی۔
“جی ماما”۔ شہریار نشست سے اٹھتے روم کی جانب بڑھا۔
“حرا تم ٹھیک ہو؟”۔ شہریار جب روم میں داخل ہوا حرا اس دم واش روم سے نکل کر اس طرف آئی تھی۔
“پتہ نہیں شہریار جیسے ہی کھانا کھایا وومٹنگ آ گئی”۔ حرا نڈھال بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی۔
“چلو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں”۔ شہریار اسکے قریب آیا۔
“نہیں شہریار میں ٹھیک ہوں ویسے بھی رات کافی ہو گئی ہے”۔ حرا نے اسے تسلی دیتے کہا۔
“ٹھیک ہے ابھی قہوہ بنوا لو بلکہ میں ماما کو بول کر آتا ہوں تم آرام کرو ہم کل صبح ہوتے ہی ڈاکٹر کے پاس جائیں گے”۔ حرا کو تاکید کرتے شہریار روم سے نکل کھڑا ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“حرا تم اندر جا کے چیک اپ کرواو میں باہر ہی تمھارا انتظار کر رہا ہوں”۔ شہریار حرا کو ڈاکٹر کے کیبن میں چھوڑ کر باہر نصب کیئے بینچ پہ بیٹھ گیا تھا۔
پندرہ منٹ گزرے تو شہریار بینچ سے اٹھتا ہوسپٹل سے باہر کی جانب چل پڑا۔
“شہریار بیٹا”۔ سفید لباس میں زیب تن بزرگ نے شہریار کو ہوسپٹل سے باہر آتا دیکھ حیرت میں اسکی جانب قدم اٹھائے۔
“ارے پیر صاحب آپ’ یہاں؟”۔ شہریار حیران ہوا۔
“ہاں بیٹا یہاں سے گزر رہا تھا تمھیں یہاں دیکھا تو رک گیا’ سب خیریت ہے؟ احد کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟”۔ بزرگ نے تصدیق چاہی۔
“سب خیریت ہے پیر صاحب اور آپ احد کا کیوں پوچھ رہے ہیں؟ میرا مطلب ہے احد تو بالکل ٹھیک ہے”۔ شہریار متعجب ہوا۔
“اللہ سب خیر ہی رکھے’ اچھا بیٹا یہ تعویذ احد کو دے دینا اور اسے سختی سے تاکید کرنا کہ اسے دائیں بازو پہ باندھ لے کبھی اسے خود سے جدا نا کرے۔ اپنے روم میں ایک قرآن پاک رکھ لے اور ہو سکے تو ہمہ وقت با وضو رہے”۔ ہاتھ میں پکڑا تعویذ شہریار کے سپرد کرتے بزرگ نے سختی سے فہمائش کی۔
“مگر پیر صاحب احد کو ہوا کیا ہے؟ یہ تعویذ کس لیئے ہے؟”۔ شہریار کی سمجھ سے اوپر کی بات تھی جو بزرگ نے مصلحتا خاموشی میں دبا دی۔
“اچھا بیٹا میں اب چلتا ہوں’ خدا حافظ”۔
اجازت طلب کرتے بزرگ نے اپنی منزل کی طرف قدم اٹھانا شروع کیئے۔
پیر عنایت حسین شاہ’ اللہ کے نیک بندوں میں سے ایک تھے جو لوگوں کے مسائل اور پریشانیوں کا حل حساب کے ذریعہ نکال کر لوگوں کو اچھے برے کی تمیز سکھاتے تھے۔ سمعان صاحب کی فیملی کے ہر فرد کو پیر صاحب بخوبی جانتے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“حرا چیک اپ ہو گیا؟”۔ تعویذ کو کوٹ کی جیب میں رکھتے شہریار ہوسپٹل داخل ہوا جب حرا کو کیبن کے باہر کھڑا دیکھ شہریار نے اس سے پوچھا۔
“ہاں جی ہو گیا اور آپکے لیئے ایک گڈ نیوز بھی ہے”۔ حرا نے دلچسپی سے کہا۔
“گڈ نیوز؟؟کیسی گڈ نیوز؟”۔ شہریار متحیر ہوا۔
“یہ بھی اب بتانا پڑے گا آپ کو’ آپ خود ہی سمجھ جائیں”۔ حرا نے خفگی سے کہا پھر شرماتے ہوئے سر جھکا لیا۔
“کیا واقعی حرا؟”۔ شہریار کو جیسے تصدیق کرنی تھی۔
“جی”۔ بولتے ہی حرا نے ہاتھ میں پکڑی فائل شہریار کی جانب بڑھائی جسے شہریار نے چشم گزار کیا۔
“تھینک یو سو مچ حرا’ چلو جلدی چلو ہمیں گھر چل کر یہ خوشخبری سب کو سنانی ہے اور راستے سے مٹھائی بھی تو لینی ہے”۔ شہریار نے پرتپاک انداز میں کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما’ پاپا’ نانو آپ کیلیئے ایک خوشخبری ہے”۔ شہریار ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ پکڑے’ حرا کے ہم قدم حویلی کی انٹرنس پار کرتے ہال میں پہنچا جہاں سمعان صاحب، راضیہ بیگم اور نگینہ بیگم بیٹھے چائے پی رہے تھے ساتھ ہی گپ شپ بھی کر رہے تھے۔
“کیسی خوشخبری بیٹا؟”۔ ہاتھ میں پکڑی پیالی ٹیبل پہ رکھتے راضیہ بیگم نے پوچھا۔
“ماما ایم گوئنگ ٹو بی ڈیڈ’ یہ لیں مٹھائی کھائیں”۔ شہریار نے پرمسرت انداز میں بولتے ہی ڈبہ ٹیبل پہ رکھا۔
“سچ بیٹا”۔ راضیہ بیگم صوفے سے اٹھتے حرا کی طرف آئیں جس پہ حرا نے “ہاں” میں سر ہلا دیا۔
“خوش رہو بیٹا”۔ حرا کی پیشانی پہ بوسہ دیتے راضیہ بیگم نے کہا۔
“مبارک ہو شہریار”۔ سمعان صاحب نے صوفے سے اٹھتے شہریار کو گلے لگایا۔
“خیر مبارک پاپا”۔
“خیر ہو بڑا پیار آ رہا ہے بھابی پہ’ کیا چکر ہے؟”۔ احد جو سیڑھیاں اترتے ہال میں پہنچا تھا راضیہ بیگم کو حرا پہ پیار لٹاتا دیکھ ‘ نے شرارت سے کہا۔
“میں حرا پہ اتنا پیار کیوں نچھاور کر رہی ہوں اگر تمھیں پتہ چلے نا تو تمھیں بھی خوشی ہوگی”۔ راضیہ بیگم نے احد کی جانب چہرہ کرتے جواب دیا۔
“کیوں ایسی کونسی بات ہے؟”۔ احد نے دل آویزی سے کہا۔
“ایک منٹ میں بتاتا ہوں”۔ شہریار نے بولتے ہی ٹیبل پہ رکھے مٹھائی کے ڈبے سے گلاب جامن اٹھایا پھر احد کی طرف بڑھا۔ “تم چاچو بننے والے ہو”۔ شہریار نے گلاب جامن دھونس سے احد کے منہ میں ڈالا جس سے اسکا منہ بھر گیا تھا۔
“کیا واقعی بھائی؟”۔ مٹھائی سے منہ پر ہونے کے سبب احد کے منہ سے الفاظ کی ادائیگی مشکل ہو گئی تھی۔
“بالکل”۔ شہریار نے خوش کن انداز میں کہا۔
“میں ابھی مشو کو بتا کر آیا”۔ احد جوش میں سیڑھیوں کی طرف دوڑا۔
“دھیان سے بیٹا ورنہ پھر چوٹ لگے گی”۔ راضیہ بیگم نے آواز لگائی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“خیریت تو ہے بڑی بتیسیاں نکل رہی ہیں’ کیا ماجرا ہے؟؟”۔ مشائم ہنستے ہوئے اپنے روم سے نکل رہی تھی جب مخالف سمت سے زہرہ اس سے ٹکڑائی۔
“جی جی آپی سب خیریت ہے”۔ مشائم بظاہر رک گئی تھی لیکن اسکے قدم جیسے ہواوں میں تھے۔
“اتنی خوشی کس بات کی ہے مجھے بھی تو بتاو”۔ زہرہ نے سینے پہ ہاتھ باندھے۔
“آپی وہ احد کی کال آئی تھی وہ کہہ رہا تھا کہ۔۔”۔
“کہ سمعان انکل اور راضیہ آنٹی تمھاری شادی کی تاریخ طے کرنے آ رہے ہیں؟”۔ زہرہ نے اسکی بات کاٹی۔
“نہیں آپی یہ بات نہیں ہے”۔ مشائم نے نفی کی۔
“تو پھر کونسی بات ہے مشی؟؟”۔
“آپی وہ احد چاچو بننے والا ہے”۔ مشائم شرما دی۔
جبکہ زہرہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
“اگر احد چاچو بن رہا ہے تو تم کیوں اتنا خوش ہو اور شرما بھی رہی ہو؟”۔ زہرہ نے حیرت سے پوچھا۔
“آپی اگر احد چاچو بننے والا ہے میں بھی تو چاچی بننے والی ہوں”۔ مشائم نے مسکرا کر کہا۔
“آہاں چاچی بننے والی ہوں’ ابھی کونسا تمھاری شادی ہوئی ہے؟ اویں ہی چاچی بن گئی ہو”۔ زہرہ نے خفگی سے کہا۔
“ہاں تو’ ہو تو جانی ہے نا آخر منگیتر ہے احد میرا”۔ مشائم نے چڑ کر کہا۔ “آپ سے تو ویسے ہی میری خوشی ہضم نہیں ہوتی۔۔۔ رہنے دیں۔۔۔ میں ماما کو بتا کر آتی ہوں”۔ بولتے ہی مشائم قدم اٹھانے لگی تھی۔
“مس ڈرامہ تمھارے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی انہیں کال آچکی ہے”۔ زہرہ نے پلٹ کر آواز لگائی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“پاپا”۔ سمعان صاحب کے روم کی دہلیز پہ کھڑے ہوتے احد نے دروازہ ناک کیا۔
“احد بیٹا وہاں کیوں کھڑے ہو اندر آو”۔ سمعان صاحب جو بیڈ کے بائیں ہاتھ پہ رکھے صوفے پہ براجمان ایک فائل کے صفحات ٹٹول رہے تھے’ نے چہرہ اٹھایا۔
“پاپا آپ کوئی کام کر رہے ہیں؟؟”۔ سمعان صاحب کے قریب آتے احد نے احتیاط پوچھ لیا۔
“نہیں بیٹا کوئی خاص کام نہیں ہے’ بیٹھو”۔ سمعان صاحب نے فائل سامنے ٹیبل پہ رکھی۔
“پاپا مجھے آپ سے بات کرنی ہے”۔ احد سمعان صاحب کے بائیں ہاتھ پہ رکھے کشادہ صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
“کہو احد کیا بات ہے؟”۔ سمعان صاحب نے کہا۔
راضیہ بیگم بھی اس دم روم میں داخل ہوئیں۔
“پاپا وہ آپ عامر انکل اور عمارہ آنٹی سے بات کر کے میرے اور مشائم کی شادی کی تاریخ رکھ دیں’ میں یہ چاہتا ہوں”۔ احد نے جھجک کر کہا۔
“بیٹا اس میں ہچکچانے والی کونسی بات ہے؟ تم فکر مت کرو ہم کل ہی جائیں گے تمھاری اور مشائم کی شادی کی تاریخ طے کرنے کیلیئے”۔ سمعان صاحب ہنس دیئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“تو بس پھر بھابی یہ طے ہوا کہ اس ہفتے احد اور مشائم کا نکاح ہوگا اور بیس دن بعد شادی”۔
سمعان صاحب، راضیہ بیگم، عامر صاحب، نگینہ بیگم اور عمارہ بیگم ڈرائنگ روم میں بیٹھے گفتگو میں منہمک تھے جب سمعان صاحب نے حتمی فیصلہ سنایا۔
“بھئی سمعان مشائم تو ہے ہی تم لوگوں کی امانت ہم بھی اسی کے منتظر تھے کہ کب تم لوگ آ کے اپنی امانت لیتے ہو۔ میری خواہش ہے کہ بس آخری سانس سے پہلے زہرہ کی طرح مشائم کو بھی اپنے گھر کا ہوتا دیکھ لوں”۔ عامر صاحب جو سمعان صاحب کے دائیں ہاتھ پہ رکھے کشادہ صوفے پہ عمارہ بیگم کے برابر تھوڑا فاصلے پہ بیٹھے تھے’ نے سمعان صاحب کو مخاطب کیا۔
“سمجھو تمھاری یہ ٹینشن ختم ہو گئی”۔ سمعان صاحب نے کہا۔
زہرہ بھی چائے کے ہمراہ کھانے کی اشیاء لے آئی تھی۔
“ہاں یہ تو ہے اب میں سرخرو ہو گیا سمجھو”۔ عامر صاحب نے قہقہ لگایا۔ “زہرہ سمعان اور بھابی کا منہ میٹھا کرواو’مٹھائی لے کر آو”۔ عامر صاحب نے ٹرالی میں مٹھائی کی عدم موجودگی میں زہرہ کو مخاطب کیا۔
“پاپا مٹھائی کیوں؟؟نہیں میرا مطلب ہے کہ کوئی خاص وجہ ہے؟؟”۔ زہرہ نے حیرت سے پوچھا۔
“بیٹا بات ہی خوشی کی ہے”۔ عمارہ بیگم نے شادمانی سے کہا۔
“کیا بات ہے ماما مجھے بھی تو بتائیں”۔ اشیاء وسط میں رکھے ٹیبل پہ رکھتے زہرہ نے تجسس سے پوچھا۔
“بیٹا اس ہفتے احد اور مشائم کا نکاح ہے اور بیس دن بعد شادی”۔ راضیہ بیگم نے جواب دیا۔
“سچی”۔ زہرہ کے چہرے پہ مسکراہٹ تیرنے لگی۔
“باتیں ہی کرتی رہوگی یا منہ بھی میٹھا کرواو گی؟”۔ عمارہ بیگم نے کہا۔
“جی ماما ابھی آئی مٹھائی لے کے ساتھ ہی مشائم کے سر پہ بم پھوڑ کے”۔ زہرہ عجلت میں ڈرائنگ روم سے نکل گئی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشی ۔۔۔ مشی کہاں ہو؟؟”۔ زہرہ مشائم کے روم میں داخل ہوئی مگر مشائم کو غیر حاضر پایا جس پہ وہ اسکا نام پکارنے لگی۔
“کیا ہو گیا ہے آپی؟”۔ مشائم جو واش روم سے اس دم نکلی تھی’ خفگی میں کہنے لگی۔
“گیس وٹ؟”۔ مشائم کا ہاتھ تھامے زہرہ ہلکا سا گولائی میں جھومنے لگی تھی۔
“کیا؟؟”۔ زہرہ کے کھلیں بانچھیں دیکھ مشائم کی دلچسپی بڑھی۔
“اس ہفتے تمھارا اور احد کا نکاح ہے اور ٹھیک بیس دن بعد شادی”۔ زہرہ نے جوش زنی سے کہا۔
“نا کریں آپی۔۔۔ کیا واقعی؟؟ آپ سچ کہہ رہی ہیں؟؟”۔ یکلخت جھومتے جھومتے اسکے قدم تھمے۔
“ہاں مشی سمعان انکل، راضیہ آنٹی اور نگینہ نانو آئے ہیں تمھاری شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کیلیئے”۔ زہرہ نے وضاحت دی۔
مشائم کا چہرہ کھل سا گیا۔۔۔۔ احد کا خیال آتے ہی مشائم کے رخسار لال لالی سے ڈھانپ گئے تھے۔
“چلو اچھا ہے اس گھر میں تم بھی کچھ ہی دن کی مہمان ہو اب کم از کم یہ تو نہیں ہوگا کہ میں یہاں آوں اور میرا سکون تمھاری وجہ سے برباد ہو”۔ زہرہ شریر ہوئی لیکن آج پہلی بار زہرہ کی بات کا مشائم نے برا نہیں منایا تھا۔
“بھئی احد تو میرے لیئے لکی ثابت ہوا ہے”۔ زہرہ اتراتے ہوئے بیڈ پہ بیٹھ گئی تھی۔
“مطلب؟؟”۔
“مطلب یہ کہ اسکی ہونے والی بیوی نے میرے ساتھ بحث جو نہیں کی”۔ زہرہ نے شوخ مزاج سے کام لیا۔
“ہوں لیں خوش ۔۔۔ خوش ہونا بنتا بھی ہے”۔ مشائم نے قہقہ لگایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشائم بیڈ پہ آ کے بیٹھی ہی تھی کہ اسکا فون چنگارا۔۔ سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کو سکرین پہ نگاہ ڈالی جہاں احد کا نمبر منور تھا۔
ہونٹوں پہ مسکراہٹ نے گھیرا تنگ کیا۔
“آپکا ملایا ہوا نمبر اس وقت مائیوں بیٹھا ہے برائے مہربانی بیس دن بعد رابطہ کریں’ شکریہ”۔ کال ریسیو کرتے ہی مشائم نے شرارت سے کہا پھر احد کی بےتابی’ بے قراری’ خوشی اور چاہت کو الفاظ میں سننے اور دیوانگی کی لذت کو محسوس کرنے کی غرض سے خاموش ہو گئی۔
“معذرت میم’خدا حافظ”۔ مشائم کی حرکت سے باخبر احد نے ہنسی دباتے فورا سے کہا۔
“ارے ارے یہ کیا بات ہوئی میں کب سے تمھارا ویٹ کر رہی ہوں کہ کب تم مجھے کال کرو گے اور مجھ سے باتیں کرو گے’ مجھ سے پوچھو گے کہ میں کیسا فیل کر رہی ہوں’ میں تم سے پوچھوں گی مگر تم”۔ مشائم تلملا اٹھی تھی۔
“آہاں لیکن ابھی تو مجھے اگاہ کیا جا رہا تھا کہ میرا مطلوبہ نمبر اب مائیوں بیٹھ چکا ہے اور اسلامی رو سے تو مائیوں کی دلہن تو ڈسٹرب نہیں کیا جاتا”۔ احد نے آزمودہ کاری سے کہا۔
“میں مذاق کر رہی تھی احد”۔ مشائم نے افسردگی سے کہا۔
“میں کونسا سیریس تھا اگر تم سچ میں بھی مائیوں بیٹھ جاو نا تب بھی تم سے بات کرنا اور ملاقات کرنا نہیں چھوڑوں گا بھلے سے سانس لینا چھوڑ دوں”۔ احد نے دوٹوک کہا۔
“احد ایسی باتیں نہیں کیا کرو ‘ ساتھ جینا ہے ہمیں اور تم مرنے والی باتیں کرنے لگ جاتے ہو”۔ مشائم نے ناراضگی سے کہا۔
“اوکے بابا سوری۔۔ اچھا بتاو کیسا لگا سرپرائز؟؟”۔ احد نے دل آویزی سے پوچھا۔
“بہت اچھا۔۔۔ بہت خوش ہوں میں’ میں تمھیں بتا نہیں سکتی احد کہ میں کیسا فیل کر رہی ہوں۔۔۔ بہت کچھ بولنا چاہتی ہوں مگر الفاظ جیسے مل ہی نہیں رہے۔۔۔ میری اب اس بچے کی مانند حالت ہے جسے بولنا نا آتا ہو اور کھلونا پا کر اپنی خوشی کا اظہار جھوم کر، ہنس کر، ادھر ادھر گھوم کر کرتا ہے”۔ مشائم کی خوشی اسکی باتوں سے بخوبی عیاں تھی جو احد محسوس کرتے مطمئن اور پرسکون تھا۔
“مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ محبت میں ناکامی ملے تو لوگ موت کو گلے کیوں لگاتے ہیں ۔۔۔ جتنی خوشی انسان کو محبت پانے پہ ہوتی ہے اتنا ہی دکھ اور صدمہ محبت کو کھو دینے کا بھی ہوتا ہے ۔۔۔ اور ایسے حالات میں موت کے سوا دوسرا راستہ نہیں نظر آتا”۔
“اچھا بس’ مجھے منع کر رہی تھی اور خود شروع ہو گئی”۔ احد نے فی الفور کہا۔
“سوری”۔ مشائم ہنس دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: