Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 8

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 8

–**–**–

“میری راہیں تیرے تک ہیں
تجھ پہ ہی تو’ میرا حق ہے
عشق میرا’ تو بیشک ہے
تجھ پہ ہی تو’ میرا حق ہے
ساتھ چھوڑوں گا نا تیرے پیچھے آوں گا
چھین لونگا یا خدا سے مانگ لاوں گا
تیرے نال تقدیراں لکھواوں گا میں
میں تیرا بن جاوں گا
میں تیرا بن جاوں گا”۔
روم میں بیڈ پہ بیٹھے احد اپنے سامنے مشائم کا دیا ہوا گیٹار رکھے پریکٹس کر رہا تھا۔
کھڑکی جو بانہیں کھولے ہوئے تھی ہوا کا تیز جھونکا اپنے مابین سے گزارتی احد تک لائی جو کسی کی خاموش آہٹ کا سندیس تھا۔
“سونہہ تیری میں قسم یہی کھاوں گا
کیتے وعدیاں نوں عمراں نبھاوں گا
تجھے ہر واری اپنا بناوں گا
میں تیرا بن جاوں گا
میں تیرابن جاوں گا”۔
احد کی سوچ مشائم کے خیال سے منعکس تھی۔
ہوا کی خیزش تیز ہوئی تو احد نے زبان کے ہمراہ ہاتھ کی حرکت کو روکا۔
“رک کیوں گئے؟؟”۔ گپت آواز نے خفگی سے کہا۔
“تمھاری انٹرٹینمنٹ کیلیئے نہیں گا رہا تھا”۔ احد نے تپ کر کہا پھر اٹھ کر گیٹار سائیڈ پہ رکھ کر واش روم کی طرف لپکا جب عقب سے کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز پہ فورا سے مڑا۔
“تمھاری جرات کیسے ہوئی یہ گیٹار توڑنے کی؟؟”۔
مشائم کا دیا ہوا گیٹار زمین پہ ٹوٹا بگڑا پڑا تھا جسے دیکھتے ہی احد بھڑک اٹھا تھا۔
“اتنے پیار سے دیا تھا مشو نے مجھے اگر اسے پتہ چلا تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائے گی اور میں اسکی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا”۔ فرش پہ پنجوں کے بل بیٹھتے احد نے گیٹار کے بکھرے ٹکڑے سمیٹنا شروع کیئے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
صبح کا وقت تھا۔ سورج اپنے مقررہ وقت پہ نکل کر دنیا کی ہر چیز پہ اپنی ضربیں لگا رہا تھا۔ آفتاب کی سنہری کرنوں سے آمیزش اختیار کرتے ہر شے مانو طلائی رنگ میں ڈھل گئی تھی۔
روم سے نکل کر احد سیڑھیاں اترتا کچن کی طرف بڑھ رہا تھا کہ راستے میں بیٹھی الزبتھ اسکی توجہ کا مینار بنی۔ اسے بانہوں میں لیئے احد کچن کی طرف آیا۔
الزبتھ کو پیار کرنے کے بعد احد نے اسے چیئر پہ بٹھا دیا۔
گیٹار کو لے کر احد ابھی تک اپ سیٹ تھا جسکے آثار اسکے چہرے پہ نمایاں تھے۔
“احد مجھے بتاو تم ناشتے میں کیا لو گے میں لے آتی ہوں”۔ حرا جو شہریار کیلیئے ناشتہ لگا رہی تھی’ احد سے کہنے لگی۔ “احد”۔ جواب نا ملنے پہ حرا نے اسکے قریب آتے آواز کو قدرے بلند کیا۔
“جی بھابی؟”۔ احد نے بدک کر کہا۔
“کہاں کھوئے ہو؟؟”۔
“کہیں نہیں بھابی”۔
“بیٹھو میں ناشتہ لگاتی ہوں”۔ بولتے ہی وہ کچن کی طرف بڑھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“حرا بیٹا تم اپنا اچھے سے دھیان رکھو اور کام کی فکر مت کرو میں سنبھال لوں گی”۔ راضیہ بیگم نے اپنے برابر بیٹھی حرا کو مخاطب کرتے کہا۔
“جی آنٹی بس تھوڑا بہت ہی کام کرتی ہوں زیادہ نہیں کرتی”۔
“یہی بہتر ہے تمھارے لیئے”۔ راضیہ بیگم نے خوش کن انداز میں کہا۔ “ارے احد کہاں جا رہے ہو؟؟”۔ سیڑھیوں سے اترتے انٹرنس کی طرف بڑھتے احد کو راضیہ بیگم نے آواز دی۔
“ماما وہ مال جا رہا ہوں”۔ احد نے جھجک کر کہا۔
“بیٹا شاپنگ پہ تو شام کو جانا ہے ابھی مال کیوں جا رہے ہو؟”۔ راضیہ بیگم نے حیرت سے کہا۔
“ماما وہ کچھ کام ہے’ آپ فکر نا کریں میں شام کو بھی چلوں گا”۔
“ٹھیک ہے حرا تو جائے گی نہیں تم مشائم کے ساتھ چلے جانا آخر اسی نے گزر بسر کرنی ہے پسند بھی اسی کی ہونی چاہیئے”۔
“بجا فرمایا راضیہ بس اللہ اسے پہننا اور اوڑھنا نصیب کرے”۔ نگینہ بیگم جو راضیہ بیگم کی بائیں جانب بیٹھی تھیں’ نے تائید کی۔
“جی ٹھیک ہے ماما میں مشائم کو شاپنگ پہ لے جاوں گا بلکہ ابھی ادھر ہی جاوں گا اس سے پوچھ لوں گا اگر وہ ابھی جانا چاہتی ہے تو ٹھیک ورنہ شام کو چلے چلیں گے۔ اچھا ماما اب میں چلتا ہوں”۔ مسرت بخش انداز میں بولتے ہی احد انٹرنس سے نکل گیا۔
“اوکے بیٹا جیسی تمھاری مرضی”۔ راضیہ بیگم نے مسکاتے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم آنٹی”۔ عامر صاحب کے گھر میں داخل ہوتے ہی احد کا سامنا عمارہ بیگم سے ہوا۔
“وعلیکم السلام احد بیٹا کیسے ہو؟”۔ عمارہ بیگم نے مسرت پاش انداز میں کہا۔
“میں ٹھیک ہوں آنٹی وہ دراصل میں مشائم کو لینے آیا تھا”۔ پہلی بار مشائم کے ساتھ باہر جانے کی غرض سے احد ہچکچایا تھا۔
“بیٹا تو اس میں گھبرانے والی کونسی بات ہے؟”۔ عمارہ بیگم ہنس دیں۔
“یہ میں کیا سن رہی ہوں کہ احد گھبرا رہا ہے؟”۔ زہرہ کے کانوں میں عمارہ بیگم کی آواز گونجی تو وہ فورا سے اس طرف آئی۔
“آپ نے غلط سنا ہے”۔ احد نے جھٹ سے کہا۔
“کیوں میں نے خود سنا ہے کہ ماما تمھیں بول رہیں تھیں احد گھبرا کیوں رہے ہو’ ہے نا ماما؟”۔ زہرہ نے بولتے ہی عمارہ بیگم کو دیکھا۔
“زہرہ کیوں تنگ کر رہی ہو؟”۔ عمارہ بیگم نے خفگی سے زہرہ کو دیکھا۔
“اٹس اوکے آنٹی اب تو یہ میرا معمول بن جائے گا آخر شادی کے بعد دلہن کی بہن یعنی میری ہونے والی سالی اپنا کردار تو نبھائے گی”۔ احد شرارت سے بولتے ہی مسکرا دیا۔
“بیٹا تم لوگ باتیں کرو مجھے ذرا کام ہے”۔ عمارہ بیگم وہاں سے رخصت ہوئیں۔
“اچھا تو تم مانتے ہو کہ میں تمھاری ہونے والی سالی ہوں’ بھئی سالی صاحبہ’ آدھے گھر والی”۔ زہرہ نے جھٹ پٹ کہا۔
“جی بالکل میں مانتا ہوں”۔ احد نے چوڑے سینے پہ ہاتھ رکھے سر ہلکا سا جھکایا۔
“گڈ تو اسکا مطلب ہے کہ شاپنگ پہ میں بھی چل سکتی ہوں”۔ زہرہ نے بولتے ہی ہاتھ آگے بڑھایا۔
“ہاں جی چل سکتی ہیں مگر صرف شاپنگ پہ ایسا نا ہو کہ ایسی ایموشنل بلیک میلنگ آپ ہنی مون والے دن بھی کریں پھر تھوڑی مشکل ہوگی”۔ احد نے ہنسی دباتے زہرہ کے ہاتھ پہ ہاتھ مارا۔
“وہ تم اپنی ہونے والی گھر والی کے ساتھ ہی جانا”۔ زہرہ نے کمر پہ ہاتھ رکھے۔
کہاں ہے میری ہونے والی گھر والی؟”۔
اپنے روم میں’ جاو جا کے مل لو”۔ احد کو مطلع کرتے زہرہ اپنے روم کی جانب بڑھی۔
جبکہ احد مشائم کے روم کی طرف قدم رکھنے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مشو یار جلدی کرو شاپنگ پہ بھی جانا ہے اور تمھاری تیاری ہی ختم نہیں ہو رہی”۔ مشائم کے روم کے باہر کھڑے ہوئے احد نے اسکے روم کی جانب پشت کر رکھی تھی اور بارہا اپنی دائیں کلائی پہ بندھی گھڑی کو دیکھ رہا تھا۔
“آگئی’ چلو”۔ مشائم برق رفتاری سے اپنے روم سے نکلتے احد کے برابر آ کھڑی ہوئی۔
احد کی نظریں مشائم کے چہرے پہ یکلخت ساکت ہوئیں۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ اب چلو نا”۔ مشائم نے تعجب سے کہا۔
“تیری نظروں کی طرف نظریں
اب مڑنے لگیں کیا میں کروں
کیا کروں’ کیا کروں”۔
احد نے گنگناتے مشائم کی بات کا جواب دیا۔
“بہت ہی کوئی بڑی فلم ہو”۔ مشائم ہنس دی۔
“فلم کہو یا ڈرامہ’ ہوں بس تمھارا’ یہ جان لو”۔ احد نے دلربائی سے کہا۔
“چلو احد دیر ہو رہی ہے”۔ احد کا بازو پکڑتے مشائم انٹرنس کی طرف بڑھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشو تم اپنے لیئے ڈریسز سیلیکٹ کرو میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں”۔ مال کے کپڑوں والے بڑے سٹور میں مشائم کو چھوڑتے احد انسٹرومنٹل سٹور کی طرف قدم رکھنے لگا۔
ہیلو سر’ گڈ ٹو سی یو؟”۔ احد جب سٹور میں داخل ہوا تو سیلز مین نے مودبانہ انداز میں کہا جواب میں احد نے ہولے سے سر کو جنبش دی۔
تمام گیٹار کا بغور جائزہ لیتے احد کاونٹر پہ آیا۔
“اگر آپ لوگوں سے ایک گیٹار آرڈر پہ بنوایا جائے تو کیا آپ لوگ اسے بنوا دیں گے؟”۔ احد نے کنفرم کیا۔
“سر ہم لوگ یہ کام نہیں کرتے لیکن اگر آپکو گیٹار چاہیئے تو آپ ہمیں سیمپل دے دیں ہم کوشش کریں گے کہ آپکا کام کر سکیں”۔ بلیک پینٹ کوٹ میں ملبوس نفوس نے احتراما کہا۔
“وٹس ایپ نمبر؟”۔ احد نے پینٹ کی پاکٹ سے فون نکالا۔
نمبر پہ گیٹار کی پک سینڈ کرنے کے بعد احد نے سکرین سے نگاہ اٹھائی۔
“میں نے پک سینڈ کر دی ہے اور خیال رہے گیٹار کے اس حصے پہ ایچ ایس لکھا ہو’ بالکل ایسے ہی”۔ احد نے بولتے ہی فون کی سکرین نفوس کے سامنے کی۔
“جی سر ہم کوشش کریں گے”۔ نفوس نے زبان دی۔
“ٹھیک ہے میں آپ سے کنٹیکٹ کر لوں گا”۔ احد سٹور سے نکلا ہی تھا کہ مشائم سے ٹکڑایا۔
“ارے احد تم یہاں ہو اور میں کب سے تمھارا ویٹ کر رہی ہوں کہ پتہ نہیں تم کہاں چلے گئے ہو۔ تم یہاں کر کیا رہے ہو؟؟”۔ سٹور کے اندر جھانکتے مشائم نے تعجب سے پوچھا۔
“کچھ نہیں’ بتاو کچھ پسند آیا”۔ احد نے ادل بدل سے کام لیا۔
“نہیں ابھی تک تو نہیں”۔ مشائم نے افسردگی سے کہا۔
چلو پھر اب تم میری پسند پہ ہی اکتفا کرنا”۔ احد نے مسکراتے۔
“ضرور آخر تمھاری چوائس بھی تو ہیرے سی ہے’ لاکھوں میں ایک”۔ مشائم اپنی طرف اشارہ کرتے اترائی۔
“جی بالکل’ چلیں اب”۔ احد نے کہا۔
مشائم نے اثبات میں سر کو جنبش دی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“شہریار کیا اس بار میں شاپنگ نہیں کروں گی؟”۔ شہریار اپنے روم میں صوفے پہ بیٹھا اپنے سامنے لیپ ٹاپ رکھے کی بورڈ پہ انگلیاں چلا رہا تھا جب حرا اسکے قریب آ بیٹھی۔
“ایسا کیسے ہو سکتا ہے حرا؟ احد تمھارا اکلوتا دیور ہے’ اسکی شادی ہے اور ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ تم احد کی شادی اور نکاح پہ پرانے کپڑے پہنو گی”۔ شہریار نے انگلیوں کی حرکت یونہی برقرار رکھی’ نگاہیں سکرین پہ منجمد تھیں۔
“تو پھر آپ مجھے شاپنگ پہ کب لے کر جائیں گے؟”۔ حرا نے افسردگی سے کہا۔
“حرا تمھیں خود شاپنگ پہ جانے کی کیا ضرورت ہے؟”۔ شہریار نے فورا سے سر اٹھاتے حرا کو دیکھا۔
“کیا مطلب شہریار؟میری شاپنگ ہے میں خود ہی کروں گی نا”۔ حرا نے چڑ کر کہا۔
“حرا میں جاوں گا اور تمھارے لیئے وہ تمام اشیاء خرید کر لاوں گا جو تمھیں چاہئیں مگر میں تمھیں ایسی کنڈیشن میں مال یا بازار نہیں لے کر جا سکتا”۔ شہریار نے سنجیدگی سے کہا۔
“مگر شہریار”۔ حرا نے احتجاج کرنا چاہا۔
“اگر مگر کچھ نہیں حرا میں نے بول دیا تم مجھے کل لسٹ دے دینا یا میرے نمبر پہ ٹیکسٹ کر دو تمھیں تمھاری شاپنگ مل جائے گی”۔ شہریار نے حتمی کہا۔
حرا منہ بنائے صوفے سے اٹھتے بیڈ پہ جا بیٹھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“اسلام و علیکم آنٹی’ نانو جان”۔ حمزہ حویلی کی انٹرنس پار کرتے ہال میں پہنچا جہاں نگینہ بیگم اور راضیہ بیگم بیٹھیں تھیں۔
“وعیلکم اسلام بیٹا جیتے رہو”۔ نگینہ بیگم نے خوشدلی سے کہا۔
“حمزہ پہلے تم روز خیر خیریت معلوم کرنے آ جاتے تھے اب جبکہ احد’ شہریار اور ہمیں تمھاری زیادہ ضرورت ہے تم منظر عام سے غائب ہی ہو گئے ہو”۔ راضیہ بیگم نے شکوہ کیا۔
“نہیں آنٹی وہ بس تھوڑا مصروف تھا ان دنوں۔ کہیئے کیا حکم ہے میرے لائق؟”۔ حمزہ نے خوش کن لہجے سے وار کیا۔
“بیٹا احد کا اس ہفتے نکاح ہے اور اٹھارہ دن بعد شادی’ تمھاری ضرورت تو ہمہ وقت ہوگی ہمیں”۔ راضیہ بیگم کے منہ سے نکلے الفاظ حمزہ کیلیئے حیرت کا سبب بنے۔
“کیا مطلب آنٹی؟ مطلب احد کا نکاح اور شادی دونوں فکس ہو گئے اور مجھے اسنے بتایا تک نہیں”۔ حمزہ ششدر رہ گیا۔
“احد نے تمھیں نہیں بتایا؟”۔ راضیہ بیگم کو تعجب ہوا۔
“نہیں آنٹی احد سے میری اس سلسلے میں کوئی بھی بات نہیں ہوئی”۔ حمزہ نے تفصیل دی۔
“بیٹا ہو سکتا ہے کہ بھول گیا ہو یا کوئی مصروفیت رہی ہو جو تمھیں بتانا بھول گیا ورنہ اسکا تمھارے بنا گزارہ کہاں ہوتا ہے”۔ راضیہ بیگم کے ساتھ نگینہ بیگم بھی ہنس دیں۔
“ہاں آنٹی شاید ایسا ہی ہو ویسے احد ہے کہاں؟؟”۔ حمزہ نے تائید کی۔
“بیٹا اپنے روم میں ہے”۔ راضیہ بیگم نے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے میں اسے وہیں جا کے مل لیتا ہوں”۔ بولتے ہی حمزہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“میں راکسٹار احد سمعان بول رہا ہوں میں نے آپکو ایک گیٹار کا آرڈر دیا تھا ایکچوئلی آئی وانٹ ٹو نو دیٹ وین ول یو گو اٹ ٹو می؟؟؟”۔ کنٹیکٹ ہسٹری سے نمبر نکالتے احد نے ڈائل کیا جو چند لمحوں میں ریسیو کر لیا گیا تھا۔
“سر آپکو دس دن تک مل سکتا ہے اس سے پہلے نہیں”۔ دوسری جانب قطعی فیصلہ سنایا گیا۔
“فائن’ بائے”۔ احد نے کال کاٹ دی تھی۔
“کعبے کس منہ سے جاو گے غالب
شرم تم کو مگر نہیں آتی”۔
عقب سے آواز آئی تو احد دروازے کی جانب گھوما۔
“حمزی”۔
“مت لے میرا نام تو دوست نہیں دشمن ہے میرا’ دشمن”۔ حمزہ نے بناوٹی غصے کو طول دی۔
“کیا ہوا ایسا کیوں بول رہا ہے؟؟”۔ فون بیڈ پہ رکھتے احد حمزہ کے قریب آیا۔
“بھولا بھالا انسان ری ایکٹ تو ایسے کر رہا ہے جیسے کچھ خبر ہی نا ہو کہ میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں’ میسنا”۔ حمزہ نے مذید چڑ کر کہا۔
“سچ میں حمزی مجھے نہیں معلوم’ بتا تو سہی کہ ہوا کیا ہے؟؟”۔ احد نے حیرت انگیز لہجے میں پوچھا۔
“تیری شادی ہو رہی ہے”۔
“سبحان اللہ یہ تو مجھے پتہ ہے میں سمجھا کوئی اور بات ہے”۔ احد لاپرواہی میں ہنس دیا۔
“ذلیل۔۔۔ خبیث”۔
اب کی بار حمزہ کو شدید غصہ آیا تھا۔ غصیلی آنکھیں احد پہ ٹکائے حمزہ اسے گھوری سے نوازنے لگا۔
“کیا؟؟؟”۔ احد کی ہنسی چھو منتر ہوئی۔
“تجھے پتہ ہے کہ تیری شادی ہو رہی ہے مجھے کس نے آگاہ کرنا تھا؟؟؟”۔ حمزہ نے تپ کر کہا۔
“اوووووووو تو ماجرا یہ ہے۔ دیکھ حمزی میں تجھے بتانے ہی والا تھا”۔ حمزہ نے جھک کر بیڈ سے تکیہ اٹھایا اور احد کی طرف بڑھا۔
“کب جب تیری پہلی اولاد تیرے ہاتھوں میں ہوتی؟”۔ احد اپنے قدم پیچھے کو لینے لگا۔
“حمزی یار سچ میں’ میں تجھے بتانے ہی والا تھا’ یقین کر میرا”۔ احد کی تمام تر صفائیاں رائیگاں گئیں۔۔ حمزہ نے تکیہ کا زوردار وار اسکے شانوں پہ کیا پھر اسے بیڈ پہ گرا کے اسکے پیٹ میں مکیاں رسید کیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حرا وارڈ روب میں شہریار کے کپڑے ترتیب سے سیٹ کر کے رکھ رہی تھی جونہی اسنے شہریار کا کوٹ جھاڑا تعویز جیب سے نکلتا فرش پہ اسکے سامنے آ گرا۔ کوٹ کو سائیڈ پہ رکھتے اسنے جھک کر تعویز اٹھایا بلاوساطت شہریار بھی روم میں داخل ہوا۔
“شہریار یہ تعویز کس لیئے ہے؟ آپکے پاس کہاں سے آیا؟”۔ ہاتھ میں تعویز لیئے حرا شہریار کے قریب آئی۔
“بیٹا یہ تعویز احد کو دے دینا اسے کہنا کہ یہ تعویز اپنے دائیں بازو پہ باندھ لے اور خود سے کبھی دور نا کرے”۔ شریار کے سوچ کی کشتی بیتے دنوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگی۔
“حرا یہ تعویز مجھے پیر عنایت حسین شاہ صاحب نے دیا ہے”۔ شہریار نے تعویز حرا کے ہاتھ سے لیا۔
“پیر عنایت حسین شاہ’ یہ کون ہیں؟ اور انہوں نے یہ تعویز آپکو کیوں دیا یے؟”۔ حرا مبہوت شہریار کو دیکھنے لگی۔
“حرا یہ تعویز شاہ صاحب نے احد کےلیئے دیا ہے انہوں نے سختی سے تاکید کی تھی کہ میں احد کو دے دوں اور میں بھول گیا”۔ شہریار نے تاسف سے کہا۔
“کہیں وہ بابا جی شاہ صاحب تو نہیں تھے جو اس دن حویلی کے باہر آئے تھے اگر ایسا ہے پھر تو یہ تعویز احد کیلیئے بہت ضروری ہے”۔ حرا خیال میں ڈوبی۔
“کیا ہوا؟ کیا سوچنے لگی؟؟”۔ شہریار نے حرا کے سامنے چٹکی بجائی۔
“کہیں نہیں آپ یہ تعویز احد کو ابھی دے آئیں”۔ حرا نے جھٹ سے کہا۔
“بعد میں دے دوں گا”۔ شہریار نے لاپرواہی سے کہا۔
“نہیں شہریار آپ احد کو یہ تعویز ابھی دے کر آئیں یا ایسا کریں مجھے دے دیں میں دے آتی ہوں”۔ حرا کی پھرتی پہ شہریار دنگ رہ گیا۔
“نہیں حرا تم سیڑھیاں نہیں چڑھو گی میں ہی دے آتا ہوں”۔ بولتے ہی شہریار روم سے نکل کھڑا ہوا تب حرا نے سکون کا سانس خارج کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد”۔ عجلت میں سیڑھیاں چڑھنے کے سبب شہریار پھولتی سانس میں احد کے روم میں داخل ہوا۔
“جی بھائی”۔ احد جو جھک کر جوتے پہننے میں لگا تھا’ بیڈ سے اٹھتے اس طرف آیا۔
“احد یہ تعویز تم اپنے دائیں بازو پہ باندھ لو”۔ بولتے ہی شہریار نے ہاتھ میں پکڑا تعویز احد کی طرف بڑھایا۔
“تعویز مگر کیوں؟؟یہ تعویز آپکو دیا کس نے دیا ہے؟؟”۔ احد نے تعجب سے پوچھا۔
“احد یہ تعویز مجھے شاہ صاحب نے دیا ہے ساتھ ہی تاکید بھی کی ہے کہ تم اسے خود سے کبھی الگ نا کرو اور ہاں اپنے روم میں ایک قرآن پاک بھی رکھ لو اور جہاں تک ممکن ہو باوضو رہو لیکن احد مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی کہ شاہ صاحب نے تمھارے لیئے یہ سب تاکید کیوں کی ہے؟؟ایسے میں یہ تعویز تمھیں اسکی کیا ضرورت؟؟”۔ شہریار وضاحت دیتے فکر مند سا ہوا۔
“بھائی یہ تعویز آپ مجھے باندھ دیں پلیز”۔ بات کو ٹالتے احد نے بازو شہریار کی طرف بڑھایا۔
“اگر بھائی کو پتہ چلا کہ شاہ صاحب نے ایسا کیوں کہا اور یہ تعویز کس لیئے دیا ہے تو نجانے کیا ہوگا”۔ شہریار جو احد کو تعویز باندھ رہا تھا’ کی طرف نظر اٹھائے احد سوچ کے بھنور میں پھنسا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شاہ صاحب کی ہدایت پہ احد نے دائیں بازو پہ تعویز باندھ لیا تھا، روم میں قرآن پاک رکھ لیا تھا اور جہاں تک ممکن ہو وضو میں رہنے لگا تھا۔
ڈنر کے بعد احد روم میں آکر وضو کی غرض سے سیدھا واش روم کی طرف بڑھا۔ کچھ منٹوں کی تاخیر سے باوضو ہوکر بیڈ کی طرف آیا’ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا فون اٹھا کر ٹانگیں اوپر کو کیں پھر تاج کے ساتھ ٹیک لگا لی۔
ایک طرف مشائم کی آواز سننے کا دل تھا اور دوسری طرف عامر صاحب کے گھر مہمانوں کی موجودگی اسکی خواہش کی راہ میں روڑے اٹکائے ہوئی تھی۔
بالآخر ہمت کی ٹکڑیوں کو سمیٹتے احد نے مشائم کا نمبر ڈائل کیا جو دوسری رنگ پہ اٹھا لیا گیا تھا۔
“السلام و علیکم”۔ احد نے سنجیدگی سے کہا لیکن جواب میں فقط خاموشی اخذ ہوئی۔
“ہیلو؟”۔ جواب نا ملنے پہ احد نے دوبارہ سے کہا۔
“و علیکم اسلام”۔ کچھ لمحوں کے توقف سے مشائم نے جواب دیا۔
“مشو یار کہاں بزی ہو؟ نا کوئی میسج نا کوئی کال”۔ احد نے بےزارگی ظاہر کی۔
“احد وہ خالہ لوگ آئے ہیں تو انہی کے ساتھ بزی تھی”۔ مشائم نے ہولے سے کہا۔
“مطلب اب میری نا یاد آئے گی نا ہی کال آئے گی نا ہی کوئی میسج۔۔۔ صحیح ہے بھئی کر لو جتنا تنگ کرنا ہے دو چار دن ہی ہیں تمھاری آزادی کے”۔ احد نے مشائم کو چڑانے کی کوشش کی جس میں وہ سرخرو ٹھہرا۔
“کیا مطلب ہے تمھارا؟؟ شادی کے بعد مجھے تمھاری غلامی کرنی پڑے گی۔ جو تم کہو گے وہی ہوگا؟”۔ مشائم نے تپ کر کہا۔
“بالکل آخر بیوی پہ سب سے زیادہ حق اسکے شوہر کا ہوتا ہے اگر شوہر کی بات نہیں ماننی تو پھر کس کی ماننی ہے؟”۔ احد نے ہنسی پہ ضبط پاتے کہا۔
“بہت شوق ہے تمھیں شوہر بننے کا تو پہلے دوست کی طرح بیہیو کیوں کیا؟”۔ مشائم عتاب کا شکار ہوئی۔
“جب رشتہ بدل جائے پیچیدگی تو آ جاتی ہے”۔ احد مستقل اپنی ہنسی پہ ضبط کیئے بیٹھا تھا۔
“مجھے تم سے بحث نہیں کرنی’ بائے”۔ طیش میں رابطہ منقطع کر دیا گیا۔
کال بند ہوتے ہی احد کا قہقہ روم میں گونجا۔
اس دم کھڑکی کے بند دروازے زور سے ہلے جیسے کوئی انہیں توڑ کر اندر آنےکا خواہاں ہو۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد جو بیڈ پہ سونے کی غرض سے لیٹ گیا تھا’ کا فون بجا تو اسنے سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر دیکھا جہاں انجان نمبر دمک رہا تھا۔
“ہیلو اسلام و علیکم”۔ کال ریسیو کرتے ہی احد نے کہا۔
“وعلیکم السلام”۔ انجان نسوانی آواز احد کی حس سامعہ سے ٹکڑائی جس پہ احد فورا سے اٹھ بیٹھا تھا۔
“احد بھائی میں بات کر رہی ہوں”۔ دوسری جانب اپنائیت سے کہا گیا۔
“میں کون؟ بکری؟”۔ احد نے تعجب سے کہا۔
“نہیں فروا بات کر رہی ہوں”۔ دوسری جانب سے ابھرتی آواز احد کو مسلسل حیرت میں مبتلا کر رہی تھی۔
“فروا؟؟؟ سوری میں نے پہچانا نہیں”۔ کافی سوچ کے بعد احد نے معذرت طلب کی۔
“فروا مشائم کی خالہ زاد”۔ تمام تر سوالات کو حل کرنے کی مکمل کاوش کی گئی۔
“او اچھا جی کہیں آپ نے فون کیا’ خیریت؟؟”۔ احد بے چین ہوا۔
“جی جی سب خیریت ہے وہ میں نے آپ سے یہ کہنا تھا کہ مشائم آپ سے ناراض نہیں ہے بلکہ فون کاٹنے کے بعد آپ کی کال کا ہی انتظار کرتی رہی ہے اور آپ کی تصویریں دیکھتی رہی ہے۔ آپ فکر مند نا ہونا میں چشم دید گواہ ہوں اور سچ بول رہی ہوں”۔ دوسری جانب آواز اب قدرے مدھم ہو گئی تھی جیسے کسی سے چھپ کر کال کی گئی ہو۔
احد مسکرا دیا۔
“جی میں پریشان نہیں ہوں’ تھینکس”۔ احد نے متبسم انداز میں کہا۔
“ویلکم اوکے بائے اور ہاں مشائم کو بتانا نہیں کہ میں نے کال کی ہے اور یہ سب بتایا ہے’ ٹھیک ہے”۔ دوسری جانب تصدیق چاہی گئی۔
“آپ بے فکر رہیں ایسا نہیں ہوگا”۔ احد نے یقین دہانی کرائی۔
“گڈ اوکے بائے”۔ رابطہ منقطع کر دیا گیا۔
“یہ لڑکیاں معصوم ہوتی ہیں یا پاگل؟”۔ خود سے ہمکلام اسنے فون سائیڈ پہ رکھا پھر سر کے نیچے ہاتھ رکھتے سیدھا لیٹ گیا تھا۔
“جو بھی ہے محبت پوری چاہ سے کرتی ہیں’ جذبہ ایمان کی طرح۔۔ سرشاری سے”۔ احد نے آنکھیں موند لیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد بھائی آپ سے ایک سوال پوچھوں؟”۔ عامر صاحب کے گھر کے لان میں احد، فروا، جبار اور سلیم بیٹھے تھے جبی فروا نے اسے مخاطب کیا۔
جبار، سلیم اور فروا بہن بھائی تھے’ مشائم کے خالہ زاد۔ جبار کی عمر اٹھائیس تھی اور سب سے بڑا تھا دوسرا نمبر فروا کا تھا جو مشائم سے سال چھوٹی تھی پھر سلیم کا نمبر تھا جو ابھی ایف اے کا سٹودنٹ تھا۔
“جی پوچھیں؟”۔ احد نے تعظیما کہا۔
“آپ ایک راکسٹار ہیں اس شہر کے جانے مانے گلوکار، ہینڈسم بھی بلا کے ہیں، آپ پہ تو شہر کی حسین سے حسین لڑکی فدا ہوگی پھر آپ نے مشائم کا ہی انتخاب کیوں کیا؟؟”۔ فروا کی ہنسی اور آنکھوں میں شرارت مخفی تھی جسے احد بخوبی جان چکا تھا۔
مشائم جو اس دم وہاں پہنچی فروا کا سوال سنتے رک گئی جبکہ احد مشائم پہ چور نگاہ ڈالے فورا سے نظریں پھیر گیا۔
“فروا کیوں میرے زخموں پہ نمک چھڑک رہی ہو۔ کہتے ہیں نا کہ پیار اندھا ہوتا ہے اور پیار کرنے والے اندھیرے کنویں میں کودنے سے پہلے سوچتے نہیں”۔ احد شریر ہوا۔
جبکہ احد کا جواب مشائم کا تن بدن جلا گیا جو احد کا تیر نشانے پہ لگنے کی واضح دلیل تھی۔
“ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا کونسا نکاح ہوا ہے؟ موقع بھی ہے اور دستور بھی’ پارٹنر بدل ڈالیں”۔ فروا نے مزید جلی پہ تیل ڈالا۔
آپ حق بجانب ہیں لیکن میں یہ موقع اویل نہیں کرنا چاہتا’ میرا صرف ایک ہی دل ہے اور وہ میں پہلے ہی مشو کو دے چکا۔ میری ہر خوشی اور غمی کی پارٹنر صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے مشو”۔ احد نے فریفتگی سے کہا جس پہ مشائم کھڑی اسے دیکھنے لگی۔
“اللہ آپکی محبت اور جوڑی سلامت رکھے”۔ فروا نے کہا۔
“آمین”۔ احد نے پرمسرت انداز میں کہا۔
“مشائم تم وہاں کیوں کھڑی ہو؟ آ کے بیٹھ جاو”۔ جبار نے جونہی نظر اٹھائی مشائم کو کھڑا دیکھ حیرت سے پوچھنے لگا۔
“ہ ہ ہاں وہ کچھ نہیں”۔ مشائم جو منجمد کھڑی احد کے چہرے کو چاہت بھری نگاہ سے چھو رہی تھی’ بوکھلا اٹھی۔
“کافی دیر ہو گئی ہے میں اب چلتا ہوں”۔ احد نے نشست چھوڑ دی۔
“میں ابھی آئی ہوں اور تم جا رہے ہو”۔ مشائم نے اسے روکنا چاہا۔
“میں کب سے یہاں آیا بیٹھا ہوں مشو صرف تمھارے لیئے لیکن تم شاید کہیں بزی تھی”۔ احد نے آزمودہ کاری سے کہا۔
“نہیں وہ کچن میں تھی بس”۔ ہاتھ کی انگلیوں سے اٹکیلیاں کرتے مشائم بات کو اڑا گئی۔ “ایم سوری”۔
“کوئی بات نہیں”۔ احد نے مسکراہٹ اسکی جانب اچکائی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“راضیہ بیگم عامر کی کال آئی تھی کہہ رہا تھا مشائم کے امریکہ والے ماموں ٹکٹس کی عدم دستیابی کی بنا پہ پاکستان ابھی نہیں آ سکتے۔ اس وجہ سے نکاح شادی والے دن ہی کرنا ہوگا”۔ راضیہ بیگم کچن میں کام کرنے میں لگی تھیں جب سمعان صاحب کچن میں داخل ہو کر کہنے لگے۔
‘چلیں اگر وقت کا تقاضہ یہی ہو تو پھر میں کیا کہہ سکتی ہوں؟”۔ راضیہ بیگم نے شانے اچکائے۔
احد جو اس وقت وہاں سے گزر رہا تھا’ کی سماعتوں میں راضیہ بیگم کے الفاظ دوڑے تو وہ کچن کی طرف آیا۔
“کیا ہوا ماما’ پاپا سب خیریت ہے؟؟”۔
“ہاں بیٹا سب خیریت ہے وہ دراصل مشائم کے امریکہ والے ماموں کو ٹکٹ نہیں مل رہا ممکن ہے وہ شادی پہ پہنچیں اس وجہ سے نکاح شادی والے دن ہی ہوگا”۔ سمعان صاحب نے احد کی طرف متوجہ ہوئے۔
“شادی والے دن نکاح”۔ احد نے مرجھائے ہوئے لہجے میں الفاظ دہرائے۔
“بیٹا اب مجبوری ہے اس وجہ سے تاریخ آگے کرنی پڑ رہی ہے”۔ سمعان صاحب نے اسکے شانوں پہ ہاتھ جماتے کہا۔
“جی ٹھیک ہے پاپا جیسے آپ لوگوں کو بہتر لگے”۔ تائید کرتے ہی احد جبرا مسکرا دیا۔
“خوش رہو”۔ سمعان صاحب کچن سے نکل گئے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد مجھے لگتا ہے کہ صباء نصیب ہماری خواہشات کے بالکل متضاد چل رہی ہے جب بھی ملاپ کی بات ہو کوئی نا کوئی اشو کریٹ ہو جاتا ہے”۔ فون کان کے ساتھ لگائے مشائم اپنے روم کے ساتھ منسلکہ چھوٹے ٹیرس میں کھڑی تھی۔ ہوا کے ہلکے جھکولے اسکی لٹوں سے اٹکیلیاں کرتے’ لٹوں کو اسکے مکھڑے تک لا رہے تھے جن کے باعث اسکا چہرہ معصوم کلی کی مانند لگ رہا تھا۔
“مشو منفی خیالات اپنے ذہن سے نکال دو پلیز’ انشاءاللہ سب ٹھیک ہوگا۔ اس میں ضرور کوئی مصلحت ہوگی”۔ احد نے مشائم کا ہزار وسوسوں سے اٹا ذہن پرسکون کرتے دلاسہ دیا۔ “جہاں اتنے دن انتظار کیا ہے کچھ دن اور صحیح”۔
“کہہ تو تم بالکل ٹھیک رہے ہو لیکن۔۔”۔ مشائم کا ذہن ہنوز پراسرار خیالات کی دھکم پیل کی آڑ میں بوجھل تھا۔
“مشو کچھ نہیں ہوگا تم بس اچھا اچھا سوچو’ ہمم”۔ احد نے اسے مطمئن کرتے کہا۔
“احد تم کبھی مجھ سے دور تو نہیں۔۔۔”۔ مشائم کے منہ سے بےساختہ نکلا۔
“کبھی نہیں تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا مشائم؟ میں دس ہزار بار تمھیں آگاہ کر چکا ہوں مگر جیسے تمھیں مجھ پہ اعتقاد نہیں”۔ احد نے خفگی سے آواز قدرے بلند کی۔
“نہیں احد ایسی بات نہیں مجھے تم پہ پورا بھروسہ ہے مگر پتہ نہیں کیوں میرا دل بہت بے چین ہے جیسے کچھ برا ہونے والا ہے”۔ مشائم کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
“پلیز مشو اللہ پہ توکل کرو”۔ نا چاہتے ہوئے بھی احد نے ہمت جیسے جواب دینے لگی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: