Aan Cheest Novel By Rose Marie – Episode 9

0
آں چیست از روز میری – قسط نمبر 9

–**–**–

احد باوضو ہو کر واش روم سے نکل کر ناک کی سیدھ پہ آیا جہاں دیوار کے ساتھ بنے لکڑی کے مخصوص کیبنٹ سے جائے نماز نکالی پھر فرش پہ قبلہ رخ بچھا کر عشاء کی نماز ادا کرنے لگا۔
نماز ادا کرنے کے بعد اسنے رب کے حضور دعا مانگی پھر جائے نماز سائیڈ پہ رکھتے بیڈ پہ آبیٹھا۔
سائیڈ ٹیبل سے فون اٹھا کر مشائم کے نمبر پہ “گڈ نائٹ مائی لو” کا میسج کیا پھر فون سائیڈ پہ رکھتے بیڈ پہ لیٹ کر آرام کی غرض سے آنکھیں موند لیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” کیا ہوا مشائم؟ تم پریشان لگ رہی ہو۔ سب خیریت ہے؟”۔ فروا جو مشائم کے ساتھ اسکے روم میں رہ رہی تھی’ مشائم کے چہرے کے تاثرات بھانپتے متحیر ہوئی۔
“فروا یار میں کل کی بات کو لے کر بہت پریشان ہوں۔ مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے”۔ مشائم جو ڈریسنگ کے سامنے کھڑی تھی اب اس طرف آئی۔
“کونسی بات؟؟”۔ فروا جو تاج کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی فورا سے سیدھی ہوئی۔
“یار فروا کل احد کے ساتھ میرا رویہ اچھا نہیں تھا اگر وہ مجھ سے پیار کرتا ہے میں بھی تو کرتی ہوں اس سے مگر میں نے جو کیا ایسے تو پیار کرنے والے نہیں کرتے ان فیکٹ میرے رویے کا اس پہ رتی برابر بھی اثر نہیں ہوا”۔ مشائم نے تفصیل دیتے کہا۔
“مشائم تمھیں ایسا نہیں لگتا کہ تم کچھ زیادہ ہی سوچنے لگی ہو؟ ابھی کل ہی تو تم احد سے ٹھیک سے بات کر رہی تھی اور وہ تم سے’ مطلب کہ احد تم سے ناراض نہیں نا ہی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ باقیوں سے مختلف ہے۔ تمھیں اگر زیادہ گلٹ ہے تو اسکی تلافی کر لینا فلحال تو مجھ پہ رحم کھاو میں کب سے تمھاری منتطر ہوں چلو چل کے ناشتہ کرتے ہیں”۔ فروا عجلت میں بیڈ سے اٹھی۔
“تم میرے ساتھ چلو گی کیا احد سے ملنے؟”۔ مشائم فروا کے قریب آئی۔
“ہاں ہاں چلوں گی لیکن ابھی تو میرے ساتھ چلو”۔ فروا نے فورا سے ہامی بھری۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد انٹرنس پار کرتا ہال میں پہنچا ہی تھا کہ اسکا فون چنگارا قدموں کی حرکت کو تھامتے احد نے پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر سکرین پہ نظر دوڑائی جہاں ڈی جے چیتس کا نمبر تاباں تھا۔
ہیلو ہاں چیتس بولو؟”۔ کال ریسیو کرتے ہی احد نے کہا۔
“احد یار کیسا ہے؟”۔ دوسری جانب ہولے سے کہا گیا۔
“میں ٹھیک ہوں تم سناو؟”۔
“میں بھی ٹھیک ہوں یار احد تمھیں ان دنوں کوئی مصروفیت تو نہیں؟”۔ نفوس نے احتیاط پوچھ لیا۔
“مصروفیت ہے تو نہیں’ میری شادی ہے”۔ احد نے انتباہ کیا۔
“مبارک ہو بڈی”۔ دوسری جانب شادمانی سے کہا گیا۔
“خیر مبارک”۔
“اچھا احد یار اگر تھوڑا وقت نکال لے تو ایک گانے کی ریکارڈنگ کروانی ہے”۔ نفوس نے مدعہ بیان کیا۔
“ریکارڈنگ’ ٹھیک ہے کوئی اشو نہیں”۔ سوچ بچار کے بعد احد نے ہامی بھری۔
“ایک اشو ہے احد”۔
“کیسا اشو؟”۔ احد حیران ہوا۔
“یہ ریکارڈنگ اسلام آباد سٹوڈیو میں ہوگی اس لیئے تمھیں اسلام آباد آنا ہوگا کیونکہ میں ادھر ہی ہوں”۔ نفوس نے آگاہی دی۔
“یار چیتس یہ تھوڑا مشکل ہو جائے گا”۔ احد سوچ میں پڑ گیا۔
“دیکھ احد ایک دن کی بات ہے پلیز یار مان جا”۔ دوسری جانب اصرار کیا گیا۔
“چل ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں ویسے ریکارڈنگ کل ہی کرنی ہے نا؟”۔ احد نے کنفرم کیا۔
“ہاں کل ہی”۔ نفوس نے جوابا کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما ایک روز کی بات ہے میں آ جاوں گا کل شام تک”۔ احد اپنے روم میں کپڑے اور ضرورت کی چند اشیاء بیگ میں رکھ رہا تھا جب راضیہ بیگم اسکے روم میں آتے اعتراض کرنے لگیں جس پہ احد نے جوابا کہا۔
“احد بیٹا مجھے تو یہ ٹھیک نہیں لگ رہا’ کیا ریکارڈنگ ضروری ہے؟”۔ راضیہ بیگم نے خفگی کا اظہار کیا۔
“جی ماما یہ ریکارڈنگ کل ہی کرنی ہے اس وجہ سے جانا پڑ رہا ہے’ آیا ممکن ہوتا بعد میں ریکارڈنگ کرنا تو میں قطعا نا جاتا”۔ بیگ پیک کر کے احد نے لاک کر کے بیڈ سے فرش پہ اتارا۔ “ماما پریشان نا ہوں آپ تو ایسے فکر مند ہو رہی ہیں جیسے میں کوئی کم سن بچہ ہوں جو اپنی حفاظت نہیں کر سکتا یا میں آپ سے کبھی دور گیا ہی نہیں”۔ راضیہ بیگم کے قریب آتے احد نے راضیہ بیگم کے شانوں پہ ہاتھ رکھا۔
“ماں ہوں میں تمھاری احد کیسے فکر مند نا ہوں؟”۔ راضیہ بیگم جبرا مسکرا دیں۔
بیگ اٹھائے احد راضیہ بیگم کے ہمراہ روم سے نکل آیا تھا۔
“بیٹا مشائم کو بتایا ہے؟”۔ خیال آتے ہی راضیہ بیگم نے کہا۔
“نہیں ماما میری مشائم سے اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی۔ میں نے خود ہی اسے نہیں بتایا خواہ مخواہ پریشان ہونے لگے گی اور آپ بھی اسے مت بتائیے گا”۔ راضیہ بیگم کے ہمقدم وہ سیڑھیاں اترنے لگا تھا۔
“میں تو نہیں بتاوں گی لیکن اگر اسے کہیں اور سے پتہ چلا تو وہ خفا ہوگی تم اچھے سے جانتے تو ہو اسے”۔ راضیہ بیگم نے باور کرایا۔
“جی ماما جانتا ہوں اسکی ناراضگی زیادہ دنوں کی مہمان نہیں ہوگی وہ میں مینیج کر لوں گا لیکن وہ پریشان رہے میری وجہ سے یہ میں افورڈ نہیں کر سکتا”۔ سیڑھیاں اترتے ہی احد راضیہ بیگم کے مقابل کھڑا ہوا۔
“بس تم زیادہ ٹائم مت لگانا اور جلد از جلد لوٹ آنا”۔ راضیہ بیگم نے تنبیہ کی۔
“جی ماما میں اپنی پوری کوشش کروں گا”۔ احد نے متبسم انداز میں کہا۔
“احد تم کہیں جا رہے ہو؟؟”۔ حرا جو اس دم روم سے نکل کر اس طرف آئی تھی’ احد کے ہاتھ میں بیگ دیکھتے متحیر ہوئی۔
“جی بھابی ایک ریکارڈنگ کے سلسلے میں اسلام آباد جا رہا ہوں”۔ حرا کی آواز پہ احد اسکی جانب متوجہ ہوا۔
“لیکن اتنی ساری تیاریاں باقی ہیں اور تم اسلام آباد جا رہے ہو”۔ حرا حیران ہوئی۔
“بھابی صرف آج رات کی بات ہے کل شام تک آ جاوں گا”۔ احد نے کہا۔
“اچھا”۔
“احد بیٹا تم رکو میں آتی ہوں”۔ بولتے ہی راضیہ بیگم اپنے روم کی جانب بڑھیں۔
“احد”۔ راضیہ بیگم کے جاتے ہی حرا نے اسے مخاطب کیا۔
“جی بھابی؟”۔
“احد تم نے وہ تعویز اتارا تو نہیں؟؟”۔ حرا نے تصدیق کرنی چاہی۔
“نہیں بھابی تعویز میں نے باندھا ہوا ہے اور آپ بے فکر رہیں انشاءاللہ میں اسے کبھی نہیں اتاروں گا چاہے جو کچھ مرضی ہو جائے”۔ احد نے حرا کو یقین دہانی کرائی۔
“یہی بہتر ہے”۔ حرا نے پرمسرت انداز میں کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“کیا ہوا مشائم اتنی اپ سیٹ کیوں ہو؟ بیٹھ جاو یہاں سے وہاں ٹہل کیوں رہی ہو وہ بھی نجانے کب سے”۔ دن ڈھل کر ہلکی شام میں تبدیل ہو گیا تھا ایسے میں مشائم ہاتھ میں فون پکڑے لان میں’ ہڑبڑاہٹ میں چہل قدمی کر رہی تھی جب فروا بےزارگی میں چیئر سے اٹھتے مشائم کے قریب آئی۔
“یار فروا احد میری کال ریسیو نہیں کر رہا اور اب تو اسکا فون بھی آف جا رہا ہے۔ مجھے تو بہت ٹینشن ہو رہی ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا”۔ مشائم کے چہرے پہ اضطراب کی جھریاں نمایاں ہوئیں۔
“تو کہیں بزی ہو گا اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے یار؟ ریلیکس رہو اور بیٹھ جاو”۔ فروا نے بے لحاظی سے کہا۔
“پتہ نہیں یار میرے ساتھ کیوں ایسا ہو رہا ہے’ میری تو سمجھ سے اوپر کی بات ہے”۔ مشائم متذبذب چیئر پہ آ بیٹھی تھی۔
“وہ اس لیئے میری جان کہ۔۔”۔
“خبردار میں صرف احد کی جان ہوں”۔ مشائم نے فورا سے اسے ٹوکا۔
“اوکےفائن’ تو مس مشائم’ مسٹر راکسٹار احد سمعان کی جان تمھیں اسکی عادت ہو گئی ہے اب تم اسے لے کر پوزیسو ہو گئی ہو۔ ہر وقت احد کے بارے میں سوچنا’باتیں کرنا جیسے احد کے علاوہ کوئی اور ٹاپک ہے ہی نہیں تمھارے پاس”۔ مشائم کے سامنے بیٹھتے فروا نے مزے لیتے کہا۔
مشائم فروا کی بات پہ ہنس دی۔
“اب ہنسو جیسے بڑے اچھے کام ہیں نا تمھارے”۔ فروا نے چڑ کر کہا جس پہ مشائم نے قہقہ بلند کیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ویلکم مسٹر راکسٹار؟؟”۔ احد اسلام آباد پہنچتے ہی سیدھا سٹوڈیو پہنچا تھا۔ سٹوڈیو داخل ہوتے ہی چیتس نے احد کا خیر مقدم کیا۔
“بہت شکریہ چیتس’سناو کیا حال ہے؟”۔ احد نے مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی۔
“ٹھیک ہوں تمھیں زیادہ پریشانی تو نہیں ہوئی؟”۔ چیتس نے کہا۔
“نہیں سفر کا پتہ ہی نہیں چلا اچھا تم مجھے گانے کے لیرکس اور دھن بتاو تاکہ میں تھوڑی پریکٹس کر لوں”۔
“ٹھیک ہے”۔ بولتے ہی چیتس نے اپنے پشت پہ بنے سسٹم پہ رکھے ایک پیج کو اٹھایا اور احد کی طرف بڑھایا۔ “یہ لو احد’ یہ گانے لے لیرکس ہیں اور سر تمھیں ابھی عرفان آ کے بتائے گا ایکچوئلی یہ گانا اسنے لکھا ہے ہوپ سو کہ اسے اس گانے کے سروں کی بھی تمیز ہے”۔ چیتس نے انتباہ کیا۔
“چل کوئی بات نہیں میں انتظار کر لیتا ہوں”۔ بولتے ہی احد وہیں ریوالونگ چیئر پہ بیٹھ گیا تھا۔
“ویسے ایک بند کے سر مجھے معلوم ہیں اسنے بتائے تھے مگر صحیح سے یاد نہیں”۔ چیتس نے مزید کہا۔
“تو پھر مجھے بتا دو عرفان کے آنے تک میں انہی کی پریکٹس کرتا ہوں”۔ احد نے بولتے ہی پیج اسکی طرف بڑھایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“خیریت پوچھو
کبھی تو کیفیت پوچھو
تمھارے بن دیوانے کا
کیا حال ہے؟
دل میرا دیکھو
نا میری حیثیت پوچھو
تیرے بن ایک دن جیسے
سو سال ہے”۔
ریوالونگ چیئر پہ بیٹھے احد نے سر کا تانتا باندھے تان اٹھائی۔
“احد تمھاری آواز میں سوزش سی محسوس ہو رہی ہے جیسے گلا سیٹ نہیں۔ ایسا کرو ایک گلاس پانی پی لو’ایک سیکنڈ”۔ چیتس احد کو مخاطب کرتے ہی چیئر سے اٹھا اور سائیڈ پہ رکھے ٹیبل پہ پڑے جگ سے گلاس میں پانی انڈیلتے احد کی طرف بڑھایا۔ ” یہ لو احد پانی پی لو”۔
پانی کا گلاس حلق سے اتارتے احد نے گلا کھنکارا۔
“ہوا سیٹ؟؟”۔ احد کے ہاتھ سے گلاس پکڑتے چیتس نے کنفرم کیا۔
“پتہ نہیں”۔
“ایسا کرو تم پریکٹس کرو میں کچھ دیر میں واپس آتا ہوں”۔ احد کو مطلع کرتے چیتس سٹوڈیو کا دروازہ کھولتے باہر نکل گیا۔
“انجام ہے طے میرا
ہونا تمھیں ہے میرا
جتنی بھی ہوں دوریاں
فلحال ہیں
یہ دوریاں فلحال ہیں”۔
احد دوبارہ سے زبان حرکت میں لایا تھا۔
“یار واقعی آج سر صحیح سے نہیں لگ رہا”۔ احد گنگنانے کے عمل سے باز رہا تب اسکے کانوں میں گپت آواز دوبارہ سے گونجی۔
“خیریت ۔۔ پوچھو
کبھی ۔۔ تو ۔۔ کیفیت ۔۔ پوچھو
تمھارے بن دیوانی کا
کیا ۔۔ حال ۔۔ ہے”۔
“وٹ دا ہیل از دس؟ تم میرے پیچھے یہاں تک آ گئی”۔ احد غصے میں چلایا۔
“ایک شہر سے دوسرے شہر’ ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کیلیئے تم انسانوں کو ٹکٹ کی ضرورت ہوتی ہے ہم جنات کو نہیں”۔ مقابل میں آزمودہکاری سے جواب دینے کے بعد ہنس دیا گیا۔
“پتہ نہیں کس چیز کی بنی ہو؟”۔ احد نے بےزارگی میں سر تھام لیا۔
“آگ کی”۔ گپت آواز نے سنجیدگی میں آواز بھاری کرتے کہا۔ “یہ تعویز اتار دو”۔ غیبی صدا نے منشا ظاہر کی۔
“میں یہ تعویز نہیں اتاروں گا”۔ احد نے حتمی کہا۔
“احد میں تم سے آرام سے بول رہی ہوں کہ یہ تعویز اتار دو ورنہ”۔ غیبی قوت نے عتاب میں احد کو وارن کیا۔
“ورنہ کیا؟”۔ احد طیش میں چیئر سے اٹھا۔
“ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا”۔ مقابل میں جیسے کسی ناگہانی آفت کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا جو احد کی سمجھ سے بالا تر تھا۔
“تمھیں جو کرنا ہے کر لو میں یہ تعویز کسی بھی صورت میں خود سے دور نہیں کروں گا”۔ احد نے اٹل فیصلہ سنایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
رات کے آٹھ بج رہے تھے احد ہوٹل کے روم میں آیا جو اسکے لیئے مختص کیا گیا تھا۔ کوٹ اتار کے بیڈ پہ پھینکا پھر خود بھی بیڈ پہ ڈھے سا گیا تھا۔
“مشو”۔ خیال آتے ہی احد جھٹ سے سیدھا ہوا پھر پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر مشائم کا نمبر ڈائل کیا۔
“ہمم”۔ فون دانستہ تیسری رنگ پہ اٹھا لیا گیا تھا۔
“مجھے ناراضگی کی بو آ رہی ہے”۔ احد نے ہولے سے کہا۔
“بو’ تمھیں صرف بو آ رہی ہے میرا تن بدن آگ میں جھلس رہا ہے”۔ مشائم جو صبح سے احد سے رابطہ نا ہونے کی وجہ سے پریشان بیٹھی تھی’ نے تپ کر کہا۔
“خدا خیر کرے کیا ہو گیا ہے؟”۔ بن بلائی شامت کا سوچ کے ہی احد کا دل زور سے دھڑکا تھا۔
“تمھیں نہیں پتہ؟؟ یا جان کے انجان بن رہے ہو؟”۔ مشائم کا غصہ دگنا ہوا۔
“مشو میں تمھیں کال کرنے ہی والا تھا سچی”۔ احد نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔
“ہاں کرنے والے تھے مگر کر نہیں سکے بہت مصروفیت جو ہے تمھاری زندگی میں’ میری کیا وقعت”۔ مشائم کی آواز اب آنسوؤں کی آڑ میں مدھم ہو گئی تھی۔
“مشو پلیز رونا بند کرو تمھاری قسم میں آج واقعی بزی تھا اس وجہ سے تمھیں کال نہیں کی نا ہی کوئی میسج”۔ احد نے معذرت کرتے کہا۔
“اچھا’ کہاں بزی تھے؟؟”۔ مشائم کے جواب میں احد لمحہ بھر کو خاموش ہوا۔
“شا شادی کی تیاریوں میں اور کہاں’ پاگل”۔ احد نے خوش کن لہجے کی ضرب لگائی۔
“بس تم مجھ سے ابھی ملنے آو”۔ مشائم بضد ہوئی۔
“ابھی”۔ احد چونک اٹھا۔
“ہاں ابھی؟ کیوں کوئی مسئلہ ہے؟”۔ مشائم نے کنفرم کیا۔
“مشو ابھی میں تھک گیا ہوں کل ملنے آوں گا اسی وقت”۔ احد نے ادل بدل سے کہا۔
“نہیں میں تم سے کل ملنے آوں گی خود’ بائے”۔ مشائم نے فیصلہ سناتے رابطہ ختم کر دیا تھا۔
“مشو سنو تو صحیح ۔۔ کیا مصیبت ہے یار”۔ رابطہ منقطع ہو جانے کے بعد احد نے خفگی اور پریشانی میں فون بیڈ پہ پھینکا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
بلیک پٹیالہ شلوار پہ ہلکے گلابی رنگ کی قمیض جو گھٹنوں سے تھوڑا اوپر تک تھی جسکا گلا موتیوں سے نفاست میں بنایا گیا تھا، بالوں کو کھلا’ کمر پہ پھیلا رکھا تھا، کانوں میں چھوٹے آویزے، گلے میں کالے رنگ کا شفون کا دوپٹہ اور پیروں میں چھوٹی ہیل والی کالی چپل۔
آئینے میں اپنا عکس بغور دیکھتے وہ مسکرا دی تھی۔ شرم آلود مسکان اور لبوں پہ مبہم دلستانی مسکراہٹ، گلابی دودھیا مائل رنگت گلابی رنگ میں اور بھی نکھر آئی تھی۔ پری پیکر مشائم بہت پیاری اور حسین لگ رہی تھی۔
“آہاں اتنا بن ٹھن کے کہاں کی تیاری ہے؟؟”۔ فروا جو اس دم روم میں داخل ہوئی مشائم کو یوں بنا سنورا دیکھ کر ششدر رہ گئی۔
“احد سے ملنے جا رہی ہوں”۔ فروا کی طرف گھومتے مشائم نے جواب دیا۔
“احد سے ملنے مگر کیوں؟؟ یار تمھیں پتہ ہے کہ آج شام تمھیں مائیوں بیٹھنا ہے ایسے میں تم گھر سے باہر نہیں جا سکتی”۔ فروا نے سینے کے گرد ہاتھ لپیٹے اسے باور کرایا۔
“چندہ مائیوں شام کو بیٹھنا ہے ابھی تو نہیں’ ہمم”۔ فروا کے مقابل کھڑے ہوتے مشائم نے اسکے رخسار کھینچے۔
“جاو شوق سے جاو اگر کسی سے ڈانٹ پڑی تو روتے ہوئے واپس مت آنا”۔ مشائم جو کلچ اٹھائے دروازے کی طرف بڑھی تھی’ کو فروا نے آواز لگائی۔
“ہاں ہاں ٹھیک ہے”۔ مشائم نے فروا کی طرف پشت کیئے ہاتھ ہلایا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“تمھاری تصویر کے سہارے
موسم کئی گزارے
موسمی نا سمجھو
پر عشق کو ہمارے
نظروں کے سامنے میں
آتا نہیں تمھارے
مگر رہتے ہو ہر پل
منظر میں تم ہمارے
اگر عشق سے ہے ملا’ پھر درد سے کیا گلہ
اس درد میں زندگی
خوشحال ہے
یہ دوریاں فلحال ہیں
اوووووو”۔
احد نے سٹوڈیو میں اپنی آواز کا جادو جگا کر گانے کی ریکارڈنگ کروا دی تھی جو معمول سے بہت اعلی اور لاجواب ہوئی تھی۔
“بہت زبردست احد’ مائیڈ بلوئینگ”۔ مائیک کے سامنے بنی گلاس وال کے پار چیتس چیئر سے اٹھتے تالیاں بجانے لگا تھا۔ “احد کمال کر دیا یار تم دیکھنا ہمیشہ کی طرح تمھارا یہ گانا بھی تہلکا مچا دے گا سوشل میڈیا پہ”۔ احد ریکارڈنگ زون سے باہر آیا تب چیتس نے اسے مخاطب کیا۔
“یونہی تو نہیں اسکے فینز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا”۔ عرفان جو ریوالونگ چیئر پہ بیٹھا تھا’ نے چیتس کی تائید کی۔
“یہ سب تم لوگوں کی مہربانی پہ بھی تو منحصر ہے کہ تم لوگوں نے مجھے اتنی اہمیت دی”۔ احد نے سینے پہ ہاتھ رکھتے متبسم انداز میں کہا۔
“چلو ہوٹل چلتے ہیں آج لنچ میری طرف سے”۔ عرفان اور احد کو یکجا مخاطب کرتے چیتس نے کہا۔
“نہیں یار میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے تم جانتے ہو میری شادی ہے اتنی ساری تیاریاں باقی ہیں اور میرے پاس وقت بالکل بھی نہیں ہے”۔ احد نے نفی کرتے مزید کہا۔
“چل ٹھیک ہے ہم تیرا وقت برباد نہیں کرتے”۔ بولتے ہی چیتس نے احد کے دائیں شانے پہ تھپکی دی۔
“وش یو آ ویری بلیسڈ لائف ود یور وائف”۔ عرفان بھی چیئر سے اٹھتے اس طرف آیا۔
“تھینکس”۔ احد نے پرمسرت انداز میں عرفان کے گلے لگا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“مشائم کہاں جا رہی ہو؟؟”۔ عمارہ بیگم جو اپنے روم سے نکل کر کچن کی جانب قدم رکھ رہیں تھیں’ نے انٹرنس کی جانب بڑھتی مشائم کو ٹوکا۔
“او گاڈ”۔ مشائم نے خفگی میں سانس خارج کی۔ “ماما کہیں نہیں یہیں ہوں لان میں جا رہی ہوں”۔ عمارہ بیگم کی طرف گھومتے مشائم نے جبرا مسکان لبوں کی زینت کی۔
“اتنا بن ٹھن کے؟”۔ عمارہ بیگم نے حیرانگی سے اسکے ظاہری حلیے کو دیکھا۔
“ج ج جی ماما وہ بس ایسے ہی”۔ مشائم پس و پیش اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اٹکیلیاں کرنے لگی تھی۔
“اپنے روم میں جاو بیٹا تم جانتی ہو تمھاری شادی ہے اور شام میں مائیوں بیٹھنا ہے ایسے اچھا نہیں لگتا ویسے بھی ابھی تمھاری دادو بھی آ جائیں گیں تم جانتی ہو وہ کتنے پرانے خیالات کی ہیں تمھیں یوں آزاد گھومتا پھرتا دیکھ باتیں بنائیں گیں”۔ عمارہ بیگم مشائم کے قریب آ کر کہنے لگیں۔
“ایک تو میں ان کا کچھ نہیں کر سکتی”۔ مشائم نے بے زارگی سے کہا۔
“مجبوری ہے بیٹا خیال رکھنا پڑے گا اس گھر کے سکون کیلیئے”۔ مشائم کی تھوڑی تلے ہاتھ رکھے عمارہ بیگم نے کہا۔
“جی ماما”۔ مشائم نے چڑ کر کہا۔
“میری اچھی بیٹی چلو اپنے روم میں جاو’ ہم”۔ مشائم کو بولتے ہی عمارہ بیگم کچن کی جانب بڑھیں۔
مشائم بھی عمارہ بیگم پہ چور نظر ڈالتے اپنے روم کی جانب ہلکے قدم رکھنے لگی جبی عمارہ بیگم کو کچن میں داخل ہوتا دیکھ مشائم فورا سے جوتے ہاتھ میں اٹھاتے انٹرنس کی جانب دوڑی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما کو بھی پتہ نہیں کیا ہوتا جا رہا ہے بھئی دادو نا ہو گئیں کوئی راکٹ ہو گئیں یا دیو یا چڑیل’ پتہ نہیں سب اتنا کیوں ڈرتے ہیں دادو سے؟؟ حد ہے بھئی منہ میں تھوڑی نا ڈال جائیں گیں؟ اب ان کے ڈر سے جینا تو نہیں چھوڑا جا سکتا نا”۔ مشائم کار ڈرائیو کرتے خود سے ہمکلام تھی۔
بلا وساطت مشائم کا فون چنگارا جس پہ اسنے دائیں کان میں ائیر پاڈ لگاکر کال ریسیو کی۔
“ہاں فروا بولو؟”۔
“مشی یار تم کہاں ہو؟؟”۔ دوسری طرف فروا کی آواز مدھم تھی۔
“میں؟ بتایا تو تھا یار فروا کہ احد سے ملنے جا رہی ہوں کیوں کوئی پرابلم ہے؟”۔ مشائم نے تصدیق کی۔
“یار میں کیسے سنبھالوں گی سب؟”۔ فروا فکرمند سی ہوئی۔
“تم ٹینشن نا لو ریلیکس رہو اگر کسی کو نا بھی پتہ چلنا ہوا تو تمھارے اس ڈھائی چار کے چہرے کو دیکھ کر شک کیا یقین میں مبتلا ہو جائیں گے”۔ مشائم نے چڑ کر کہا۔ “کیا ہو گیا ہے تمھیں؟ میں گھر سے بھاگ کے نہیں جا رہی ہوں احد سے ملنے ہی جا رہی ہوں”۔
“جانتی ہوں یار’ اچھا تم جلدی واپس آ جانا”۔ فروا نے باور کرایا۔
“ہاں ٹھیک ہے چلو رکھو فون’ بائے”۔
فروا کی طرف سے رابطہ منقطع کر دیا گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جھیل کے پاس سے گزرتے کار میں چلتے اے سی سے پیدا ہوئی خنکی کے باوجود بھی کار میں سخت گرمائش محسوس ہونے لگی تھی۔
“یہ اچانک مجھے گرمی کیوں لگ رہی ہے ۔۔۔ اے سی تو آن ہے”۔ مشائم نے خود کی تسلی کی خاطر اے سی دوبارہ سے چیک کیا۔
گرمی سے نجات کی صورت میں اسنے اپنی جانب والا شیشہ کھول دیا جس سے ہوا کی جگہ درگندھ کار میں داخل ہونے لگی تھی۔ مشائم نے فورا سے شیشہ اوپر کو کیا اور کار کی سپیڈ تیز کر دی۔
کچھ ہی مسافت پہ مشائم اپنی طرف آتا ہیوی ویلر دیکھ کر بوکھلا گئی’ ایسا زندگی میں پہلی بار ہوا تھا کہ سامنے سے آتا ہیوی ویلر دیکھ کر مشائم کے پسینے چھوٹے ہوں۔ اپنے بچاو میں مشائم نے خود نویس کار کا سٹیرینگ بائیں جانب موڑ دیا تھا جس سے اسکی کار درخت میں جا لگی تھی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“یا اللہ تو حفاطت فرما”۔ احد جو کار ڈرائیو کر کے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا’ کا دل جیسے مٹھی میں جکڑ لیا گیا تھا جس سے اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔
احد کے چہرے پہ اوس کے ننھے قطرے فورا سے آ ٹھہرے تھے۔
“یہ اچانک مجھے پسینہ کیوں آنے لگا ہے؟”۔ احد نے کار کی بریک پہ یکلخت پیر رکھا پھر پیشانی پہ ہاتھ پھیرا۔
بے چینی میں سانس خارج کی پھر دوبارہ سے کار کے بےجان وجود میں جان ڈالتے گیئر بدل کر سپیڈ بڑھائی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“سمعان آپکی احد سے بات ہوئی؟”۔ سمعان صاحب ہال کے صوفے پہ ٹانگ پہ ٹانگ رکھے بیٹھے اخبار کے اوراق ٹٹول رہے تھے جب راضیہ بیگم چائے کی ٹرے لیئے اس طرف آئیں۔
“نہیں میں نے کال کی تھی مگر اسنے اٹینڈ نہیں کی شاید بزی ہے”۔ سمعان صاحب نے ہنوز صفحات پہ نظر جماتے کہا۔
“اچھا”۔ ٹیبل پہ ٹرے رکھتے راضیہ بیگم سمعان صاحب کے دائیں ہاتھ پہ رکھے چھوٹے صوفے پہ بیٹھ گئیں۔
اس دم سمعان صاحب کا فون چنگارا۔ اخبار سائیڈ پہ رکھتے سمعان صاحب نے سامنے ٹیبل پہ رکھا فون اٹھا کر سکرین کو دیکھا جہاں انجان نمبر درخشاں تھا۔
“ہیلو”۔ پراسرار خیال سے الجھتے سمعان صاحب نے کال ریسیو کی۔
“وٹ؟”۔ سمعان صاحب کو جس خبر سے مطلع کیا گیا تھا اس خبر سے سمعان صاحب کے سر پہ آسمان آ گرا تھا۔
“سمعان کیا ہوا؟؟”۔ سمعان صاحب ہڑبڑاہٹ میں صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے جسکی تقلید میں راضیہ بیگم بھی نشست چھوڑتے اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد چار گھنٹے کی تاخیر سے اپنی حویلی کے باہر پہنچ گیا تھا۔ گارڈ نے گیٹ کھولا تو احد نے اپنی کار پورچ میں پارک کی’ کار سے نکلتے کار لاک کی پھر اپنے قدم انٹرنس کی طرف بڑھتی راہداری پہ رکھنے لگا۔
“اسلام و علیکم بھابی”۔ انٹرنس پار کرتے احد نے متضاد سمت سے آتی حرا کو مخاطب کیا۔
“و علیکم اسلام احد تم کب آئے؟؟”۔ حرا نے خوش کن لہجے میں کہا۔
“بھابی بس ابھی ابھی ہی آیا ہوں ماما پاپا شہریار بھائی کہاں ہیں؟ نظر نہیں آ رہے”۔ ادھر ادھر جھانکتے احد نے سوال کیا۔
“شہریار تو آفس گئے ہیں اور انکل آنٹی بتا کر نہیں گئے شاید انکل اپنے کسی فرینڈ کی طرف گئے ہیں آنٹی کو لے کر؟میں سو رہی تھی اس وجہ سے علم نہیں ہے”۔ حرا نے اندازہ لگایا۔
“اچھا اور مشائم’ مشائم آئی تھی کیا میری عدم موجودگی میں؟”۔
“نہیں مشائم تو نہیں آئی’ اچھا تم فریش ہو لو میں تمھارے کھانے کیلیئے کچھ لے کر آتی ہوں”۔ احد کو بولتے ہی حرا کچن کی جانب بڑھی۔
احد تھکے قدموں سے سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں چلا گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ٹاول سے سر رگڑتا احد ڈریسنگ کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
“شکر ہے مشو نہیں آئی ابھی تک ورنہ سوال پہ سوال کر کے خود بھی پریشان ہوتی اور مجھے بھی کرتی”۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھتے احد مطمئن سا سوچ میں ڈوبا۔
ڈریسنگ ٹیبل سے برش اٹھاتے احد نے بالوں کو سنوارا پھر برش جگہ پہ رکھتے پرفیوم کی شیشی اٹھا کر گلے کے گرد چھڑکاؤ کیا۔ پرفیوم جگہ پہ رکھتے احد بیڈ کی طرف آیا اور بیڈ پہ رکھا فون اٹھا کر انلاک کیا پھر کال لاگ سے مشائم کا نمبر ڈائل کیا۔
“دا نمبر یو ہیو ڈائلڈ از پاور آف”۔
“مشو کا نمبر کیوں بند جا رہا ہے؟”۔ احد کا ذہن منفی سوچ سے الجھا جو اسنے فورا سے جھٹک دی تھی۔
“احد”۔ تعاقب سے حرا کی آواز ابھری تو احد فی الفور دروازے کی جانب گھوما۔
“بھابی کیا ہوا؟ آپ رو کیوں رہی ہیں؟؟”۔ حرا کی غیر ہوتی حالت احد کو کھٹکنے لگی تھی۔
“احد وہ۔۔۔۔”۔ آنسوؤں نے حرا کی آواز کو اپنے شکنجے میں لیا تھا جس سے اسکی آواز حلق میں دب کے رہ گئی تھی۔
“بھابی ہوا کیا ہے بتائیں تو سہی”۔ احد کا دل زور سے دھڑکنے لگا تھا۔
“اح ح حد ۔۔۔۔ و و وہ ۔۔۔۔ مشائم۔۔۔”۔ حرا نے بمشکل الفاظ کو جوڑتے ہاتھ سے اشارہ کیا تھا۔
“مشائم’ کیا ہوا مشائم کو؟ آپ رو کیوں رہی ہیں بھابی؟ خدا کا واسطہ ہے بتائیں مجھے کیا ہوا ہے مشو کو؟”۔ “مشائم” کے نام پہ احد کا دل پسلیاں توڑ کر باہر نکل آنے کو بےقرار ہوا۔
“مشائم کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے”۔
“یہ تعویز اتار دو ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا”۔ احد کا ذہن ماضی کی دیواروں سے سر پٹخنے لگا تھا۔
“کیا؟؟”۔ احد جھٹکے سے دو قدم پیچھے کو ہوا۔ “مشائم کا ایکسیڈنٹ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا”۔ احد بوکھلاہٹ میں روم سے باہر کی طرف دوڑا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: