Aan Cheest Novel By Rose Marie – Last Episode 13

0
آں چیست از روز میری – آخری قسط نمبر 13

–**–**–

“بات بگڑی ،،،،،، ہے اس قدر
دل ہے ٹوٹا،،،،،، ٹوٹے ہیں ہم
تیرے بن اب نا لیں گے اک بھی دم
تجھے کتنا چاہیں اور ہم”۔
💔
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے احد اپنے بال جیل سے سیٹ کر رہا تھا۔ ہاتھ بالوں میں چلت پھرت کر رہے تھے اور لبوں پہ گانے کے چند بول رقصاں تھے۔
احد کی آواز میں درد تھا جو اسکی دلی کیفیت کو فاش کر رہا تھا۔ چہرے پہ پراسرار سا سکون تھا اور آنکھوں میں بےرنگ موتی یکلخت اتر آئے تھے۔
“یہ میری آنکھوں میں آنسو کیسے؟؟”۔ خیال جاتے ہی احد نے آنکھ سے گرتے آنسو کو حیرت سے دیکھا جو ڈریسنگ ٹیبل پہ چمک رہا تھا۔
برش جگہ پہ رکھتے احد سائیڈ ٹیبل کی طرف آیا جہاں مشائم کا فوٹو فریم رکھا تھا۔ فوٹو فریم پہ نظر جاتے ہی احد کے دل کی دھڑکن لمحہ بھر کو ساکن ہوئی۔
“ایسا کیوں لگتا ہے کہ اس تصویر سے پرانی شناسائی ہے”۔ احد کچھ پل مبہوت اس فوٹو فریم کو گھورتا رہا اگلے ہی لمحے احد کی آنکھیں طیش سے پھٹی رہ گئیں اور چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ غصے کی زیادتی پہ اسنے فوٹو فریم سائیڈ ٹیبل سے اٹھا کر فرش پہ پٹخا جس کے کانچ فرش پہ جابجا کرچی کرچی ہو کر منتشر ہو گئے۔ برہنہ پیر فرش پہ کھڑے ہونے کے سبب احد کا بائیاں پیر زخمی ہو چکا تھا لیکن اسے اس بات کا احساس تک نا ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سلیپرز پہنے احد تیزی میں سیڑھیاں اترتا ہال میں پہنچا اور اطراف کا جائزہ لیا۔
“احد تم کہاں جا رہے ہو؟؟”۔ احد کو انٹرنس کی طرف جاتا دیکھا حرا نے سوال کیا جسکے پیر کا پریکچر اب مکمل ٹھیک ہو چکا تھا اور پلاستر بھی اتر چکا تھا۔
حرا کے سوال پہ احد کی پیشانی پہ ناگواری کی ایک شکن ابھری پھر ہولے سے حرا کی جانب گھوما۔
“میری بھابی ہو نا تو بھابی بن کے رہو میری بیوی یا ماں بننے کی کاوش نا کرو تم”۔ احد کی آنکھیں غصے سے لال پڑ رہیں تھیں۔
“احد یہ کیا طریقہ ہے اپنی بھابی سے بات کرنے کا؟”۔ شہریار جو بلاوساطت اپنے روم سے نکل کر اس طرف آیا تھا’ جھنجھلا کر بولا۔
“تمھاری کمی تھی”۔ احد نے چڑ کر کہا۔
“شہریار پلیز آپ چپ کر جائیں”۔ حرا شہریار کی طرف بڑھی۔
حرا جو اس بدتمیزی کے پیچھے کا سبب بخوبی جانتی تھی’ ہمت کرتے احد کے قریب آئی۔
“احد تمھارے پیر پہ چوٹ کیسے لگی؟؟”۔ یکلخت حرا کی نظر احد کے پاوں پر گئی جہاں خون رستے اب جم چکا تھا۔ “احد تم میری بات سن رہے ہو نا؟؟”۔ جواب موصول نا ہونے پہ حرا نے دھیرے سے ہمت کرتے اسکا دائیاں دوش جھنجوڑا۔
“ہ ہ ہاں”۔ احد کی زبان میں لکنت پیدا ہوئی۔
“تمھارے پیر پہ چوٹ لگی ہے اس پہ مرہم لگا لو”۔ پاوں کی طرف اشارہ کرتے حرا نے کہا۔
“ہاں بھابی یہ تو واقعی چوٹ ہے لیکن یہ لگی کیسے؟؟”۔ احد نے چہرہ جھکائے پاوں کی طرف دیکھا اور سوچ میں پڑ گیا۔ احد جو کچھ پل پہلے بدتمیزی پہ اتر آیا تھا اب جیسے فی الفور ہی نارمل ہوا’ حرا یہ دیکھ کر متعجب رہ گئی’ احد کی اس حرکت نے اسے سوچنے پہ آمادہ کیا۔
“تم بیٹھو میں میڈی لے کر آتی ہوں’ شہریار آپ میرے ساتھ آئیں ضروری بات کرنی ہے”۔ احد کے بعد شہریار کو مخاطب کرتے وہ کچن کی طرف بڑھی۔
احد بھی ہال میں صوفے پہ بیٹھ گیا تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
احد کی حقیقت خود پہ آشکار ہو جانے کے بعد شہریار اپنے ٹیبل کی طرف پرسوچ قدم رکھ رہا تھا۔
اسکی سوچ کا ایک ہی مرکز تھا اور وہ تھا احد جو ان دنوں دو خاندانوں کے مابین اہم مسئلہ تھا۔
“آپ سچ بول رہی ہیں؟ کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ مجھے تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا۔ بس میں جلدی سے اپنا کام ختم کرتا ہوں اور آپکی طرف آتا ہوں’ اپنا اور گڑیا کا خیال رکھیئے گا’ بائے”۔
شہریار کی حس سامعہ سے دائیں جانب سے آواز ٹکڑائی جو کہ اسکے کولیگ کم دوست کی آواز تھی۔ قدموں کی حرکت کو تھامتے شہریار اسکے ٹیبل کے قریب آیا۔
“کیا ہوا کامران؟ تم اتنا خوش ہو یقینا کوئی بہت بڑی وجہ ہے؟”۔ مقابل کھڑے نفوس کے چہرے پہ اودھم مچاتی خوشی کے تاثرات بھانپتے شہریار نے اندازہ لگایا۔
“ہاں شہریار بات ہی خوشی کی ہے”۔ کامران نے تاثرات نارمل کیئے۔
“کیا بات ہے؟؟”۔ شہریار نے تجسس سے کہا۔
“تم تو جانتے ہو کہ ہم لوگ تین بھائی ہیں اور ہماری اکلوتی بہن ہے؟”۔ کامران نے تصدیق کرنے کے سے انداز میں کہا۔
“ہاں میں اچھے سے جانتا ہوں”۔
“شہریار میری بہن بہت خوبصورت ہے، بہت حسین۔ یونیورسٹی میں ڈی فام کی سٹوڈنٹ تھی دوسرے سال کے دوران ہی اسکی حالت خراب ہونا شروع ہو گئی۔ عجیب عجیب بیہیو کرتی کبھی غصہ کرنے لگ جاتی اور اچانک ہنسی خوشی سبکے ساتھ باتیں کرنے لگ جاتی تھی۔ ہمیں پتہ چلا کہ اسکے ساتھ آسیب ہے ہم لوگوں نے بہت کوشش کی کہ اپنی بہن کو اس سے محفوظ رکھ سکیں مگر ہماری تمام تر کاوشیں رائیگاں گئیں”۔ کامران نے تفصیل دینا شروع کی۔
“پھر؟ پھر کیا ہوا؟؟”۔ احد کے ساتھ پیش آئے سانحے کو یاد کرتے شہریار نے دل آویزی سے پوچھا۔
“تین سال یونہی گزر گئے شہریار لیکن کچھ حل نا نکل سکا آخر ایک دوست نے پٹڑیاٹا والے پیر کا بتایا کہ انکے پاس ہر آسیب کا علاج ہے۔ پہلے تو ہمیں اس بات پہ یقین نہیں آیا مگر اسکے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ فیملی کے باہمی مشورے سے ماما پاپا اسے پیر صاحب کے پاس لے گئے اور تم یقین مانو ابھی ماما کی کال آئی تھی وہ بتا رہی تھیں کہ ہماری مہرو بالکل ٹھیک ہو گئی ہے”۔ خوشی کی زیادتی پہ کامران کی آنکھ سے آنسو جاری ہوئے۔ “شکر ہے اس پاک ذات کا کہ اسنے میری بہن کی زندگی بچا لی”۔
“اللہ کا کرم ہے کامران کہ اسنے تمھاری بہن کی زندگی بخش دی اب وہ پہلے جیسی ہو گئی ہے ویسے کامران تمھارے پاس ان پیر صاحب کا ایڈریس یا نمبر تو ہوگا”۔ بولتے ہی اسنے مزید کہا۔
“ہاں ہے نا میرے پاس انکا ایڈریس بھی ہے اور نمبر بھی”۔ ذہن پہ ہلکا سا دباو ڈالتے کامران نے جواب دیا۔
“تو کیا تم مجھے انکا ایڈریس اور نمبر دے سکتے ہو پلیز؟؟”۔ شہریار نے التجا کرتے کہا۔
“ہاں کیوں نہیں میں ابھی تمھیں سینڈ کرتا ہوں”۔ کامران نے پینٹ کی پاکٹ سے فون نکال کر شہریار کے نمبر پہ میسج کیا جو اسے چند ہی لمحوں میں موصول ہو گیا تھا۔
“تھینک یو سو مچ کامران”۔ شہریار نے پرمسرت انداز میں اسکا شکریہ ادا کیا۔
“کوئی بات نہیں شہریار”۔ کامران نے خوش کن لہجے میں کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما پاپا آپ لوگوں کیلیئے ایک خوش خبری ہے”۔ شہریار’ سمعان صاحب اور راضیہ بیگم کے روم میں داخل ہوکر پرتپاک انداز میں کہنے لگا۔
“خوش خبری؟ کیسی خوش خبری شہریار؟”۔ راضیہ بیگم جو وارڈ روب کے پاس کھڑی تھیں’ شہریار کی آواز پہ اس طرف آئیں۔
“کہو شہریار کیا بات ہے؟؟”۔ سمعان صاحب جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے’ اب سیدھے ہوئے۔
“ماما پاپا اب ہمارا احد بھی بالکل پہلے کی طرح ہنسی خوشی اور نارمل لائف گزارے گا”۔ بیڈ کے قریب آتے شہریار نے کہا۔
“کیا واقعی؟ تم سچ بول رہے ہو شہریار؟”۔ راضیہ بیگم کو اپنی سماعت پہ یقین نا آیا تھا۔
“جی ماما انشاءاللہ ایسا ہی ہوگا”۔
“ذرا کھل کر بتاو شہریار آخر ماجرا کیا ہے؟؟”۔ سمعان صاحب نے اشتیاق سے پوچھا۔
“پاپا میرے کولیگ کامران نے ایک پیر صاحب کا ایڈریس اور فون نمبر دیا ہے وہ پیر بہت پہنچے ہوئے ہیں۔ کامران کی بہن کے ساتھ بھی آسیب کا سایہ تھا لیکن پیر صاحب کی بدولت وہ نارمل ہو چکی ہے اب اسے آسیب سے کوئی خطرہ نہیں ہے نا ہی وہ سایہ اسکے ساتھ۔ ہم کل احد کو بھی وہاں لے چلیں گے اللہ نے چاہا تو ہمارا احد بھی بالکل ٹھیک ہو جائے گا پہلے ہی طرح”۔ شہریار کے لب خوشی کے مارے ہنسنے لگے تھے۔
“انشاءاللہ شہریار ایسا ہی ہوگا”۔ راضیہ بیگم نے اسکی تائید کی۔
“تمھیں پختہ یقین ہے کہ ایسا ہو سکتا ہے؟ کیونکہ شاہ صاحب بھی اس سفر میں ناکام لوٹ آئے تھے”۔ سمعان صاحب نے تصدیق چاہی۔
“جی پاپا مجھے یقین ہے کہ جو میں کہہ رہا ہوں ایسا ہی ہوگا”۔ شہریار نے اعتقاد سے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“شہلا تم بزی تو نہیں ہو؟”۔ عمارہ بیگم نے گیسٹ روم میں داخل ہوکر سامنے بیڈ پہ بیٹھی شہلا بیگم کو مخاطب کیا۔
“نہیں آپا’ آئیے”۔ شہلا جو کپڑے سمیٹ رہی تھی’ نے جھکا سر اٹھایا۔ “آپا کوئی بات کرنی ہے؟”۔ عمارہ بیگم خاموشی سے شہلا بیگم کے برابر آ بیٹھی تھیں جب شہلا بیگم نے کنفرم کیا۔
“ہاں شہلا وہ سمعان بھائی اور راضیہ کی کال آئی تھی وہ بول رہے تھے کہ آپ دو چار دن اور رک جائیں ممکن ہے جس مقصد کیلئے آپ پاکستان آئی ہیں وہ پورا ہو جائے”۔ عمارہ بیگم نے مدعا بیان کیا۔
“مطلب یہ کہ احد اور مشائم کی شادی؟؟؟”۔ شہلا بیگم نے کنفرم کیا۔
“ہاں شہلا احد اور مشی کی شادی’ میں تو چاہتی ہوں بس اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے اور مزید کوئی دکھ نا دکھائے”۔ عمارہ بیگم کا دل جیسے برسوں بعد مطمئن ہوا تھا۔
“آمین”۔ شہلا بیگم نے کہا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“احد بیٹا تم تیار نہیں ہوئے ابھی تک؟”۔ احد کے روم میں داخل ہوتے ہی راضیہ بیگم نے دھیرے سے احد کو مخاطب کیا جو بیڈ پہ بیٹھا جھک کر جوتے پہن رہا تھا۔
“جی ماما تیار ہوں”۔ احد بھی سیدھا ہو کر راضیہ بیگم کے قریب آیا۔ “چلیں”۔
احد راضیہ بیگم کے ہمقدم روم سے نکل کر سیڑھیاں اترتے ہال میں پہنچا جہاں سمعان صاحب اور شہریار اسی کے منتظر تھے۔
“حرا میں نے آنٹی کو کال کر کے بلا لیا ہے وہ تمھارے ساتھ رکیں گیں’ اپنا خاص خیال رکھنا انشاءاللہ ہم جلدی اور کامیاب لوٹ آئیں گے”۔ حرا کے قریب آتے شہریار نے ہولے سے کہا۔
“شہریار دھیان رکھیئے گا اس بات کا کہ احد کو اس بات کا علم نا ہو کہ آپ لوگ اسے کہاں لے کر جا رہے ہیں اور اس سے رعب و دبدبے سے بات نا کیجیئے گا بلکہ پیار سے قائل کرنے کی کاوش کیجیئے گا۔ ایسا نا ہو معاملہ سنگین صورت اختیار کر جائے”۔ حرا نے باور کراتے کہا۔
“تم بے فکر رہو ایسا کچھ نہیں ہوگا”۔ شہریار نے تسلی دی۔
“ٹھیک ہے حرا بیٹا اپنا بہت دھیان رکھنا”۔ حرا کے قریب آتے راضیہ بیگم نے اسے پیار کیا۔
“جی آنٹی آپ پریشان نا ہوں”۔ حرا نے خوش کن لہجے میں کہا۔
“چلیں راضیہ بیگم دیر ہو رہی ہے”۔ سمعان صاحب بولتے ہی انٹرنس کی طرف بڑھے۔ سمعان صاحب کے متعاقب احد’ شہریار اور راضیہ بیگم بھی انٹرنس سے نکل گئے تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
پٹڑیاٹا کی اونچی نیچی سڑکیں پار کرتے انہوں نے اپنی کار ڈھلوان کے سائیڈ پہ بنی پارکنگ میں پارک کی اور کار سے اتر کر بائیں جانب رخ کیا۔ تھوڑا دور جا کر وہ ایک گھر پہ پہنچے جو درمیانے لوگوں کی خواہشات اور بساط کو مد نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا تھا۔ گھر کا گیٹ کھلا تھا اور لوگوں کی آمد و رفت لگی تھی۔
“ماما ہم یہ کہاں آئے ہیں؟؟”۔ احد کا ذہن الجھا۔
“احد بیٹا ہم تمھارے پاپا کے دوست سے ملنے آئے ہیں”۔ راضیہ بیگم نے فورا سے الفاظ کے ہیر پھیر سے کام لیا۔
“تو ماما انکے گھر کوئی موت ہوئی ہے یا کوئی دعوت؟ اتنے سارے لوگ کیوں ہیں یہاں؟؟”۔ احد کا ذہن مزید ہزار سوچوں میں گرفتار ہوا۔
“احد بات دراصل یہ ہے کہ انکا حلقہ احباب بہت وسیع ہے اس وجہ سے یہاں لوگوں کی خاصی گہما گہمی ہے”۔ شہریار نے بات سنبھالنے کی کاوش کی۔
“اندر چلتے ہیں’ آو احد”۔ احد کو شانوں کے گرد بازو حائل کرتے سمعان صاحب اندر کی طرف بڑھے۔
راضیہ بیگم اور شہریار انکے عقب میں تھے۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“بنو کی سہیلی ،،، ریشم کی ڈوری
اڑ اڑ کے شرمائے ،،، دیکھے چوری چوری
یہ مانے یا نا مانے میں تو اس پہ مر گیا
یہ لڑکی ہائے اللہ ،،، ہائے ہائے ای اللہ”۔
لان میں مشائم کے مقابل چیئر پہ بیٹھے فروا سامنے رکھا ٹیبل بجا کر گلا پھاڑے اپنی بےسری آواز میں گنگنا رہی تھی۔
زہرہ’ جو اسکے دائیں ہاتھ پہ بیٹھی تھی اور مشائم کا ہنس ہنس کر برا حال ہو رہا تھا۔
“مشی یہ میراثن کس خوشی میں بلائی گئی ہے؟”۔ جبار نے انکے قریب آتے شرارت سے کہا جس پہ فروا نے عتاب میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ زبان کی حرکت کو روکا۔
“جبار بھائی آپ میں تمیز نام کی کوئی چیز ہے؟”۔ چہرہ اٹھائے فروا نے تپ کر کہا۔
“نہیں”۔ جبار نے جلی پہ تیل ڈالا۔
“تو آپ یہاں سے جا سکتے ہیں”۔ جبار کے لبوں سے امڈتی ہنسی دیکھتے فروا مزید چڑ گئی تھی۔
“کیوں جاوں میں یہاں سے؟ تم اپنی بےسری آواز میں گانا بند کرو۔ اب یوں چلا چلا کر ہمارے کان کھانے سے تم احد بھائی کا مقابلہ تو کرنے سے رہی”۔ جبار ہنوز شرارت کے موڈ میں تھا کیونکہ اسنے فروا کی دکھتی رگ پکڑ لی تھی۔
“ویسے جبار بالکل ٹھیک بول رہا ہے فروا۔ احد اور مشائم کی شادی ہے’ احد ایک راکسٹار ہے ہم اپنا گلا کیوں پھاڑیں بھئی؟ اپنی انرجی کیوں ویسٹ کریں؟ گانا ہے تو احد گائے نا”۔ زہرہ نے فروا کی سائیڈ لیتے کہا۔
“بات میں دم ہے زہرہ آپی”۔ جبار نے زہرہ کی حمایت کی۔
“یہ کیا بات ہوئی احد گانا نہیں گائے گا”۔ مشائم نے دانستہ احد کی سائیڈ لی۔
“لو بھئی کر لو گل’ ہماری لڑکی تو فارغ ہو چکی”۔ جبار نے مشائم کا رخ کیا۔ “مس مشائم اگر احد گانا نہیں گائے گا تو کیا طبلہ بجائے گا؟؟”۔ جبار کے ساتھ سبکا یکجا قہقہ گونجا۔ سوائے مشائم کے جو کچھ پل دانستہ سنجیدہ رہنے کے بعد ہنس دی۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مستطیل چھوٹے سائز کا روم جسکے فرش پہ مکمل سادہ سبز رنگ کا قالین بچھا تھا اور وسط میں ایک ادھیڑ عمر آدمی سفید سادہ لباس میں ملبوس اور سر پہ سیاہ بگڑی پہن رکھی تھی’ بیٹھا تھا۔ آدمی کے دائیں ہاتھ پہ پردہ لگا تھا جسکی لمبائی اور چوڑائی قدرے زیادہ تھی۔
“احد بیٹا چلو”۔ احد جو روم کی دہلیز پہ قدم روکے کھڑا تھا’ کو سمعان صاحب نے عقب سے پکارا۔
احد جیسے خفیف کشش میں گھرا اپنے قدم دھیرے دھیرے رکھنے لگا تھا اور آدمی کے مقابل تھوڑا فاصلے پہ دوزانو بیٹھ گیا تھا۔
آدمی کے چہرے پہ نور تھا جو دیکھنے والے کو اپنی طرف مائل کرتا تھا۔ احد کے چہرے کو بغور دیکھتے آدمی معاملے کے قہر تک پہنچ گیا تھا۔ اس آدمی نے من ہی من میں کچھ پڑھ کر احد پہ پھونکا۔
“تمھارا نام کیا ہے؟؟”۔ نفوس نے آواز بلند کی۔
“میں نے پوچھا تمھارا نام کیا ہے؟؟”۔ جواب نا ملنے پہ نفوس نے دوبارہ کہا۔
“میرا نام رابیل ہے”۔ احد کے وجود میں پناہ گزیں قوت نے سر اٹھایا جس کے سبب احد کی آواز بھاری ہو گئی تھی۔
“تمھارا مسکن کدھر ہے؟”۔
“جھیل کنارے درخت پہ میرا ٹھکانا ہے”۔
احد کا سر جھکا ہوا تھا اور آواز مستقل بھاری نکل رہی تھی۔
“تم اس لڑکے کے ساتھ کب سے ہو؟؟”۔
نفوس نے جیسے احد کے تن میں موجود قوت پہ سحر سا کر دیا تھا جس پہ وہ یکے بعد دیگرے جواب دیتے چلی گئی اور نفوس سوال کرتے۔
“تقریبا سات ماہ سے”۔
“کیا مقصد تھا تمھارا اسکے ساتھ رہنے کا؟یہ لڑکا تم سے کیسے ملا؟”۔
“ایک روز جھیل کنارے جب یہ گنگنا رہا تھا مجھے اسکی آواز بہت پسند آئی تھی’اس دن کے بعد سے میں اسکے ساتھ دیوانوں کی طرح ہوں۔ یہ کسی کے قریب جائے یا کوئی اسکے قریب آئے مجھے یہ گوارہ نہیں ہے”۔
“پھر تو تم ان سب کو نقصان پہنچاتی ہوگی؟؟”۔ نفوس نے اعتقاد سے کہا۔
“ہاں میں نے اسکی بھابی اور منگیتر کو کئی بار نقصان پہنچایا ہے”۔
راضیہ بیگم نے حیرت سے سمعان صاحب کو دیکھا جو انکے برابر کھڑے تھے۔
شہریار، سمعان صاحب اور راضیہ بیگم کے ہمراہ چند ایک لوگ جو اس روم میں موجود تھے تعجب سے ان دونوں کے مابین ہو رہی گفتگو سن بھی رہے تھے اور دیکھ بھی رہے تھے۔
“تمھیں شرم نہیں آتی؟ ایک تو اس لڑکے کی زندگی تباہ کرنے کا سوچ رہی ہو اور دوسرا اسکے خاندان کا بھی جینا دوبھر کر رکھا ہے تم نے”۔ نفوس نے اب کی بار سختی سے کہا تھا۔
“مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے احد سے محبت ہے میں بس اتنا جانتی ہوں”۔ احد کی آڑ میں ہمکلام غیبی قوت اب عتاب میں گویا ہوئی۔
“جیسے تمھارا خاندان ہے ایسے اسکا بھی خاندان ہے اور چاہنے والے ہیں ہم کسی پہ زبردستی مسلط نہیں ہو سکتے نا ہی کسی کو جبرا اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ آج تمھیں فیصلہ کرنا ہی ہوگا یا تم میرے پاس رہو گی یا اپنے ٹھکانے واپس چلی جاو گی لیکن تم اس لڑکے کا ساتھ چھوڑ دو گی”۔ نفوس نے قطعی لہجہ اپنایا۔
“تم جو مرضی کر لو میں اس کو چھوڑ کر نہیں جاوں گی”۔
“اچھا تو تم ایسے نہیں مانو گی”۔ بولتے ہی نفوس نے لمحہ بھر کو آنکھیں بند کر کے کھولیں۔
نفوس کے دائیں ہاتھ پہ لگا پردہ ہلکا سا سائیڈ پہ ہوتے جگہ پہ واپس آیا جیسے کسی نے پردہ ہلکا سا کھسکا کے روم میں قدم رکھا ہو مگر نظروں سے اوجھل ہو۔
“تمھیں کوئی نظر آیا”۔ آدمی نے کنفرم کیا۔
“ہاں”۔
“کون ہے یہاں؟؟”۔
“ایک جن جو مجھ سے بہت زیادہ طاقت ور اور پرانا ہے”۔
“بابا جی اسکے سر میں کیلیں ٹھوکیں”۔ نفوس کے بولتے ہی احد حلق کے بل چلانے لگا تھا۔ اسکے دونوں ہاتھ جیسے بندھے ہوئے تھے۔
“بس کریں بابا جی”۔ پانچ منٹ کے توقف سے آدمی نے آواز بلند کی جس پہ احد نے سکون کی سانس خارج کی۔ “اب بتاو اس لڑکے کو چھوڑو گی یا نہیں؟”۔ آدمی نے احد کی طرف دیکھتے دوبارہ سے پوچھا۔
“میں اسے چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی پلیز”۔ اب کی بار التجائیہ لہجے میں کہا گیا تھا۔
“لیکن میں تمھیں اسکے ساتھ رہنے کی اجازت نہیں دے سکتا”۔ آدمی نے حتمی کہا۔ “تمھارے پاس دو راستے ہیں یا تو میرے پاس رہ جاو یا اپنے ٹھکانے واپس چلی جاو لیکن اس شرط پہ کہ دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرو گی”۔ نفوس نے مزید کہا۔
“نہیں میں آپکے پاس رہ جاوں گی کیونکہ اگر میں واپس گئی تو میرا دل احد کے ساتھ رہنے پہ مجبور کرے گا”۔ احد نے جھکا سر اٹھایا۔ آنکھیں لال گلال رنگ کی مانند سرخ پڑ رہیں تھیں۔
“ٹھیک ہے میں تمھارا استقبال کرتا ہوں”۔ بولتے ہی آدمی نے کچھ پڑھ کر احد پہ پھونکا جسکے بعد وہ غیبی قوت ایک جھٹکے سے احد کے تن سے جدا ہوئی اور احد بیہوش ہوکر پیچھے کو گر گیا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
“ماما’ پاپا’ بھائی”۔ کچھ ہی منٹوں کے توقف سے احد ہوش میں آ گیا تھا جسکے بعد اسکی نظروں میں اپنے پاس کھڑے سمعان صاحب، شہریار اور راضیہ بیگم کا عکس سمایا۔ اسکے لب ہنسنے کے ساتھ آنکھیں اشک بہانے کی جسارت کرنے لگیں۔
“احد میرے بچے”۔ احد کھڑے ہوتے ہی راضیہ بیگم کے گلے لگا اور راضیہ بیگم نے اسے جی بھر کر پیار کیا۔
راضیہ بیگم کے بعد احد سمعان صاحب اور شہریار کے گلے لگا۔
“مشی”۔ خیال آتے ہی احد نے کہا۔
“گھر پہ سب تمھارا انتظار کر رہے ہیں”۔ راضیہ بیگم نے تمسکن آمیز انداز میں کہا۔
“اگر تم چاہتے ہو تو کال پہ مشائم سے بات کر لو”۔ شہریار نے کہا۔
“نہیں بھائی میں مشی سے گھر جا کر ہی بات کروں گا”۔ احد کا دل ہفتوں بعد مشائم کا مکھ دیکھنے کو کیا تھا ساتھ ہی احد کی بدولت مشائم کے چہرے پہ آئی ہنسی کو دیکھنے کیلئے شدت سے خواہاں تھا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
کار کے ہارن کی آواز پہ مشائم دوڑتی ہوئی اپنے روم کی کھڑکی پہ آئی جہاں سامنے پورچ میں کھڑی کار پہ آنکھوں میں احد کے دید کی چاہت لیئے’ نظر جمائے کھڑی ہو گئی۔ کار کا دروازہ کھلتے ہی مشائم نے اپنا منہ پھیر لیا جیسے اسکے قابو سے باہر ہوتا زور سے دھڑکتا دل احد کے دید کی تاب نا لا سکے۔
“اسلام و علیکم آنٹی”۔ دوری کے سبب احد کی مدھم آواز مشائم کے کانوں میں گونجی جس پہ وہ بھاگتی ہوئی بیڈ پہ اوندھی جا گری اور تکیہ تھوڑی کے نیچے ٹکا لیا۔
“میرا احد واپس آ گیا’ میرے لیئے’ مجھ سے ملنے”۔ مشائم کے چہرے پہ دلستانی مسکان سجی تھی۔
دروازے پہ دستک ہوئی تو مشائم فورا سے سیدھی ہوئی۔
“کون ہے؟ آ جاو”۔ دوپٹہ کندھوں پہ برابر کرتے مشائم نے آواز بلند کی اور منہ پھیر کر کھڑی ہوگئی۔
“یہ تو غلط بات ہے اتنے دن میں تم سے دور رہا سبب تم اچھے سے جانتی ہو کہ اس دوری کی وجہ کیا تھی۔ کب سے بےچین تھا’ تمھارا چہرہ دیکھنے کیلیئے میں کتنا بےتاب تھا۔ میں پاگل نہیں ہوں جو یہاں دوڑا چلا آیا تم سے ملنے”۔ عقب سے من چاہی آواز کانوں میں رس گھولنے لگی تب مشائم کی آنکھ سے آنسو جاری ہوئے۔
“مشو”۔ سسکیوں کی آواز پہ احد نے آگے بڑھتے مشائم کے شانوں پہ ہاتھ رکھتے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا۔
مشائم نے فی الفور اپنی پیشانی احد کے سینے سے ٹکا لی’ اسکی آنکھوں سے نکلتا بے رنگ پانی اب احد کی شرٹ بھگونے لگا تھا۔
“مشو اب میں آ گیا ہوں’ سب ٹھیک ہو جائے گا”۔ مشائم کے سر پہ تھپکی دیتے احد نے دھیرے سے کہا۔
“اب تم کبھی مجھے چھوڑ کر تو نہیں جاو گے نا؟؟”۔ مخمور نم آنکھیں، دراز بھیگی پلکیں، تر چہرہ اٹھائے مشائم نے دل کی تسلی کی خاطر کہا۔
“کبھی نہیں”۔ مشائم کا چہرہ ہاتھوں کی اوک میں لیتے احد نے مسکراہٹ مشائم کی طرف اچھالی۔ “ایک جنڑی سے جان چھڑا کے دوسری کی جان کھانے آیا ہوں”۔ احد شریر ہوا۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
آج احد اور مشائم کا نکاح تھا۔ کہتے ہیں صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے’ دوری کے گھونٹ پیتے احد اور مشائم دونوں ہی صبر کی رسی ہاتھوں میں مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور اس صبر کا پھل آج دونوں کو نکاح کی صورت میں مل رہا تھا۔
نکاح کی تقریب حویلی کے لان میں رکھی گئی تھی جسکی بدولت لان کو رنگارنگ بتیوں اور مہکتے پھولوں سے آراستہ کیا گیا تھا۔ مہمان اور رشتہ دار سبھی آ گئے تھے اس وجہ سے لان میں خاصی گہما گہمی تھی۔
احد لان کے درمیان میں کھڑا حمزہ سے گفت و شنید میں محو تھا اس پل اسکی نظر حویلی کی اندورنی جانب اٹھی جہاں مشائم حرا اور زہرہ کے مابین چلتی سیڑھیاں اترتے اس طرف آ رہی تھی۔
احد کی نظریں مشائم کے چہرے پہ ساکن ہوئیں۔
لال رنگ کی میکسی جو پیروں تک تھی’ جس پہ طلائی رنگ کا کام نفاست سے کیا گیا تھا، پیروں میں گولڈن ہیل، بالوں کو کھول کر بلو ڈرائڑر کر رکھا تھا ساتھ ہی پیشانی کے مابین ایک بندیا چمک رہی تھی، گلے میں گلبند اور کانوں میں تھوڑی بڑے آویزے۔ آنکھوں پہ اسموکی آئی میک اپ، گالوں پہ ہلکا بلش آن کا ٹچ، لبوں پہ لال گلال لپ سٹک جو اسکے لبوں پہ جیسے فکس ہوئی تھی اور دوپٹہ مکمل پیچھے کو سیٹ کیا گیا تھا۔
مشائم احد کے مقابل آ رکی جبکہ احد یونہی مشائم کا سحر آمیز روپ نظروں کے پردوں سے اتارا رہا تھا۔
“احد صاحب اب مس مشائم تا زیست آپ ہی کی رہیں گیں انہیں بعد میں گھور لینا”۔ ہلکا سا احد کے قریب ہوتے حمزہ نے سرگوشی کی۔ “کیا خیال ہے ایک گانا نا ہو جائے؟”۔ ہاتھ میں پکڑے مائیک کو لبوں تک رسائی دیتے حمزہ نے کہا جس پہ لان ہوٹنگ اور شور سے گونج اٹھا تھا۔
“یہ لو احد اور شروع ہو جاو”۔ مائیک احد کی طرف اچھالتے حمزہ نے کہا۔
مشائم کی جانب دلربائی سے مسکاتا ہوا دیکھ کر احد نے گلا کھنکارا۔
“میں نے چھوڑے ہیں باقی سارے راستے
بس آیا ہوں تیرے پاس رے
میری آنکھوں میں تیرا نام ہے
پہچان لے
سب کچھ میرے لیئے تیرے بعد ہے
سو باتوں کی اک بات ہے
میں نا جاوں گا کبھی تجھے چھوڑ کے
یہ جان لے
ہو کرم خدایا ہے
تیرا پیار جو پایا ہے
تجھ پہ مر کے ہی تو
مجھے جینا آیا ہے
او تیرے سنگ یارا،،، خوش رنگ بہارا
تو رات دیوانی،،، میں ذرد ستارا”۔
مشائم کے گالوں پہ فورا سے لال لالی آ ٹھہری تھی جس پہ اسنے شرمگیں نگاہیں جھکا لیں❤

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: