Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 11

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 11

–**–**–

شرقی اور آدم خور
شرقی نے جب یہ خبر سنی کہ کیسپین کے آدم خور شیر نے علی بیگ ماہی گیر کو ہڑپ کر لیا ہے، تو اس کے غم و غصّہ کی انتہا نہ رہی۔ اس نے اس وقت فیصلہ کر لیا کہ جب تک اس آدم خور کو جہنم واصل نہ کر لے گا، اس پر کھانا پینا اور سونا حرام ہے۔ بدنصیب علی بیگ ماہی گیر سے پہلے یہ آدم خور ایک سو گیارہ افراد کو اپنا لقمہ بنا چکا تھا۔ علی بیگ گاؤں رَودِ سار کا رہنے والا اور شرقی کا بہترین دوست تھا۔ وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت صبح سویرے سورج نکلنے سے تھوڑی دیر پیشتر ساحل سمندر پر مچھلیاں پکڑنے گیا۔ اس کے دونوں ساتھی ابھی جال وغیرہ درست کر ہی رہے تھے کہ آدم خور وہاں آیا اور علی بیگ کو گھسیٹ کر لے گیا۔ اس کے ساتھیوں نے اس کے چیخنے چِلّانے کی آوازیں سنیں، مگر ان پر ایسی دہشت چھائی کہ وہ علی بیگ کو بالکل نہ بچا سکے۔ شرقی شکاری ان دنوں شمالی ایران کے ایک گاؤں رامسر میں رہتا تھا اور یہ لرزہ خیز داستان میں نے خود شرقی شکاری کی زبانی سنی تھی۔ یہ 1954ء کا ذکر ہے۔ سردی کا موسم اپنے شباب پر تھا اور مَیں شاہِ ایران کے بھائی پرنس عبدالرضا کی دعوت پر تہران گیا تھا۔ وہیں میری ملاقات شرقی سے ہوئی جو شاہ ایران کے ملازم شکاریوں میں سب سے زیادہ تجربہ کار اور نڈر تھا اور وہ آرمینیا کا باشندہ اور مذہباً عیسائی تھا۔ وہ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں شریک رہا۔ متعدّد مرتبہ قید و بند کے مصائب جھیلے جن دنوں وہ جزیرہ کریٹ میں جرمنوں کی قید میں تھا، وہاں اس نے جرمن زبان بھی سیکھ لی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد وہ کیسپین کے ساحلی گاؤں رامسر میں آباد ہو گیا۔ یہاں وہ پیشے کے اعتبار سے ڈرائیور تھا اور سیاحوں کو کوہستان البرز کی سیر کراتا تھا۔
شرقی ایک پستہ قامت اور معمولی ڈیل ڈول کا آدمی تھا اس کے بال سیاہ اور چہرے کا رنگ گندمی تھا۔ اس کے پاس اعشاریہ 303 کی رائفل تھی۔ جو کسی موقع پر شاہ ایران نے خوش ہو کر اُسے انعام میں دی تھی اور شرقی اس رائفل کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتا تھا۔ ایران میں لوگوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ بہت کم خوش نصیب ایسے ہیں جن کے پاس اسلحے کے لائسنس ہیں۔ شرقی نے مجھے بتایا کہ بحیرہ کیسپین کے ساحلی علاقوں میں کسی زمانے میں کافی تعداد میں شیر پائے جاتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ ان کی تعداد کم ہوتی گئی۔ ان شیروں کے بارے میں کبھی یہ نہیں سُنا گیا کہ انہوں نے کسی انسانی جان کو ہلاک کیا ہو۔ یہ درندے عام طور پر بارہ سنگھوں بکروں اور دوسرے جانوروں کو شکار کر کے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔ شاہِ ایران اور ان کی شکاری پارٹیاں اکثر اس علاقے میں شکار کھیلنے جایا کرتی تھیں اور انہوں نے ان شیروں کی تعداد اور کم کر دی تھی، لیکن اب صدیوں بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی شیر آدمیوں کو ہڑپ کرنے پر اتر آیا۔ شرقی کا کہنا کہ 50ء میں کسی پہاڑی شکاری نے اپنی بوسیدہ بندوق سے فائر کر کے اس شیر کا چہرہ زخمی کر دیا تھا جس کے باعث یہ مشتعل ہو کر انسانوں پر حملہ کرنے لگا۔ جب پہلی بار اس نے آدمی کا خون چکھا تو پھر دوسرے جانوروں کا شکار کرنا چھوڑ دیا۔ شیر کا جبڑہ چند ہفتے تک قطعی بیکار رہا۔ اس دوران وہ بھوکا اور تکلیف کی شدت سے بے چین تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے جبڑے کا زخم مندمل ہوتا گیا، لیکن اب شیر کسی مویشی کو اپنے جبڑے میں پکڑ کر گھسیٹ لے جانے کی قوت سے عاری ہو چکا تھا۔ جب وہ فاقوں کے باعث مرنے لگا تو اس نے انسانوں پر حملے شروع کر دیے اور جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ اس ‘جانور’ کا شکار کرنا نہ صرف بہت آسان ہے، بلکہ اس کا گوشت اور خون بے حد لذیذ ہے۔
شرقی کی معلومات کے مطابق شیر نے سب سے پہلے گاؤں پادرا کی ایک لڑکی کو اپنا تر نوالہ بنایا۔ اس لڑکی کا باپ چند آدمیوں کے ساتھ ایک پہاڑی پر لکڑیاں جلا کر کوئلہ بنا رہا تھا۔ ان پہاڑیوں کے درمیان ایک چھوٹی سی سڑک ہے جسے شاہ روڈ کہتے ہیں۔ لڑکی اپنے باپ کے لیے برتن میں چائے لے جا رہی تھی۔ اس سے پیشتر لکڑہاروں نے پہاڑی کے نیچے ذرا فاصلے پر شیر کو درختوں کے اندر پھرتے دیکھا تھا، لیکن انہوں نے اس طرف کوئی توجّہ نہ کی۔ وہ جانتے تھے کہ اس علاقے میں اکثر شیر پھرتے رہتے ہیں۔ اور وہ انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ دفعتہً انہوں نے لڑکی کی چیخیں سُنیں۔ انہوں نے پہاڑی سے جھانکا تو شیر چھلانگیں لگاتا ہوا لڑکی کی جانب جا رہا تھا اور معصوم لڑکی اپنی جگہ کھڑی خوف سے چلّا رہی تھی۔ چشم زدن میں شیر لڑکی کے قریب پہنچ گیا۔ شیر کا جبڑا کُھلا ہوا تھا۔ اس کی دُم تیزی سے گردش کر رہی تھی۔ لڑکی نے جب شیر کو اپنے نزدیک دیکھا تو وہ بدحواس ہو کر اچانک الٹے پاؤں بھاگ اٹھی۔ لیکن شیر نے اچھل کر لڑکی کے سر پر دایاں پنجہ مارا اور اسے نیچے گرایا۔ پھر اُسے اپنے منہ میں آسانی سے دبا لیا اور بھاگ اٹھا۔ لڑکی اب بھی چلّا رہی تھی۔ اور اپنے ہاتھوں سے شیر کا منہ پیٹتی جاتی تھی۔ لکڑہاروں نے یہ ماجرا دیکھا، تو اپنی اپنی کلہاڑیاں لے کر پہاڑی سے نیچے اُترے، مگر اتنی دیر میں شیر، لڑکی کو لے کر بہت دور جا چکا تھا۔ انہوں نے خون کے نشانات دیکھے اور ان نشانات کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے وہ دو تین میل دور ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں گھنا جنگل تھا۔ اب انہیں آگے بڑھنے میں تامل ہوا۔ شیر کا خوف ان پر غالب آ چکا تھا۔ وہ دوڑتے ہوئے گاؤں میں آ گئے۔ انہیں معلوم تھا کہ گاؤں کے ایک شخص کے پاس بندوق ہے۔ دس بارہ آدمیوں کی جماعت بندوق والے آدمی کے ساتھ جب جائے حادثہ پر دوبارہ پہنچی، تو وہاں انہوں نے لڑکی کے ہاتھ سے گرا ہوا چائے کا برتن پڑا پایا۔ وہاں خون بڑی مقدار میں بکھرا ہوا تھا اور ابھی خشک نہ ہوا تھا۔ اس سے تھوڑے فاصلے لڑکی کی لاش کے بچے کُھچے حِصّے پڑے دکھائی دیے۔ شیر نے اس کے پیٹ سے آنتیں نکال کر ادھر ادھر بکھیر دی تھیں۔ لڑکی کا سر بھی ایک جانب پڑا تھا۔ شرقی نے جب یہ خبر سنی، تو دوسرے دن ہی وہاں پہنچ گیا اور لڑکی کے باپ اور دوسرے لکڑہاروں سے اس شیر کے بارے میں تفصیلات دریافت کیں جنہوں نے اُسے دیکھا تھا۔ یہ 51ء کے موسمِ بہار کا ذکر ہے۔ شرقی حیران تھا کہ شیر کا جبڑا زخمی ہوا تو اس نے 50ء کا موسم سرما کس طرح بسر کیا ہوگا، تاہم یہ بات واضح تھی کہ فاقہ کشی کے دوران میں وہ انسانوں سے انتقام ضرور لے گا اور جیسا کہ آئندہ پیش آنے والے حادثات نے بتایا کیسپین کے آدم خور شیر کا انتقام بہت ہی بھیانک ثابت ہوا۔ چھ سال کی طویل مدّت میں وہ جانوروں کو چھوڑ کر صرف انسانوں پر حملہ کرتا رہا اور اس نے ایک سو سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا۔
شرقی شکاری کا ایک دوست ایزک تھا اور وہیں پہاڑیوں کے دامن میں اپنی زمین پر چاولوں کی کاشت کیا کرتا تھا۔ سب سے پہلے اس شخص نے شرقی کو شیر کے جبڑے کے بارے میں بتایا اور کہا اس کا منہ پوری طرح نہیں کھلتا۔ ایزک کے پاس دس پندرہ گائیں تھیں جنہیں چرانے کے لیے اس کا نوجوان لڑکا جنگل میں لے جایا کرتا تھا۔ ایک روز ایسا ہوا کہ ایزک اپنے لڑکے سے کوئی بات کہنے کے لیے پہاڑیوں کے اس پار جنگل میں گیا۔ جہاں اس کے مویشی چر رہے تھے۔ ایزک کا لڑکا ایک درخت پر بیٹھا اونچی آواز میں ایک پرانا گیت گا رہا تھا۔ جب اس نے اپنے باپ کو دور سے آتے دیکھا تو نیچے اتر آیا۔ ایزک کا کہنا ہے: ‘میں لڑکے سے بات کرنے بھی نہ پایا تھا کہ گایوں کے دوڑنے اور ان کے گلے میں پڑی ہوئی گھنٹیاں بجنے کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ دونوں ادھر گئے، تو کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ فاصلے پر ایک بہت بڑا شیر کھڑا ہے۔ جونہی اس نے ہمیں دیکھا، وہ زور سے غرّایا اور میں نے دیکھا کہ اس کا جبڑا ایک جانب سے ٹوٹا ہے اور اوپر کا ایک دانت بھی شکستہ ہے۔ اس سے پیشتر کہ ہم اپنے بچاؤ کی تدبیر سوچتے، شیر اپنی جگہ سے اُچھلا اور چشم زدن میں ہماری جانب آیا۔ اس نے میرے لڑکے کا شانہ اپنے منہ میں دبا لیا اور جدھے سے آیا تھا ادھر دوڑ گیا۔ میں پتھر کے بت کی مانند اپنی جگہ کھڑا رہا۔ آدم خوروں میری نظروں کے سامنے میرے اکلوتے بیٹے کو اٹھا کر لے گیا اور میں کچھ نہ کر سکا۔ مجھے تو اپنا خنجر بھی پیٹی سے نکالنے کی جرأت نہ ہوئی۔
شرقی کہتا تھا کہ ایزک اپنے بیٹے کی ناگہانی موت پر خون کے آنسو روتا تھا۔ اور کہتا تھا کہ کاش اس کے بدلے شیر مجھے لے جاتا۔
ابتدا میں جب اس شیر کی ہلاکت خیز سرگرمیوں کی خبریں اردگرد کے علاقے میں پھیلیں، تو لوگوں میں تشویش اور خوف کی لہر دوڑ گئی، بہت سے نڈر آدمیوں نے شیر کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی، مگر ناکام رہے۔ یہ درندرہ مکّار اور چالاک ثابت ہوا۔ وہ کسی ایک مرتبہ کسی انسانی جان کو ہلاک کرنے کے بعد وہاں سے غائب ہو کر کسی دوسرے علاقے میں پہنچ جاتا اور وہاں تباہی پھیلانے لگتا اور جب وہاں کے لوگ اسے مارنے کے منصوبے باندھنے لگتے تو پھر یہ آدم خور وہاں سے رفوچکّر ہو کر کسی اور جگہ پہنچ جاتا۔ رفتہ رفتہ وہ اتنا بے باک اور نڈر ہو گیا کہ دن دہاڑے آدمیوں عورتوں اور بچوں کو اٹھا کر لے جاتا اور ان کے لواحقین رو پیٹ کر صبر کرلیتے اسی طرح دو سال گزر گئے۔
53ء کے ابتدائی دنوں کا ذکر ہے، وادئِ سیف میں ایک کسان کے چھوٹے سے لڑکے نے آدم خور شیر کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور یہ لڑکا اتنا خوش نصیب نکلا کہ شیر نے اسے دیکھنے کے باوجود اس پر حملہ نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ شیر اس وقت پہلے ہی شکار کیے ہوئے ایک آدمی کو ہڑپ کر رہا تھا۔ لڑکے کے ہاتھ میں ایک لمبی سی چھڑی تھی۔ جس سے وہ جھاڑیوں کو پیٹتا اور اکیلا شوخیاں کرتا ہوا جنگل میں چلا جا رہا تھا۔ یکایک اس نے ایک جھاڑی کے نیچے شیر کو آرام سے بیٹھے دیکھا۔ شیر کے قریب ہی ایک آدمی کی لاش پڑی تھی لڑکا یہ نظارہ دیکھ کر بہت خوفزدہ ہوا۔ عین اسی لمحے شیر نے بھی سر اٹھا کر اسے دیکھا، پھر اس نے اپنی دُم کو حرکت دی اور منہ کھول کر آہستہ سے غرایا، مگر اپنی جگہ سے نہیں اٹھا۔ لڑکا وہاں سے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا اور گاؤں پہنچ کر دم لیا پھر اس نے سب لوگوں کو یہ قصّہ سنایا۔ فوراً دس پندرہ آدمی لمبے لمبے چاقو اور کلہاڑیاں لے کر لڑکے کے بتائے ہوئے راستے پر روانہ ہوئے۔ لیکن شیر وہاں سے جا چکا تھا۔ البتّہ آدمی کی کھائی ہوئی لاش وہیں پڑی تھی۔ اگلے روز شرقی شکاری جب اپنی بس لے کر اس گاؤں سے گزرا تو لوگوں نے اسے شیر کی موجودگی سے باخبر کیا۔ شرقی پانچ روز تک گاؤں کے گرد و نواح میں شیر کو تلاش کرتا رہا، لیکن اس کا نام و نشان بھی نہ ملا۔
ایک ماہ تک آدم خور کے بارے میں شرقی کو کوئی صحیح اطلاع نہ ملی کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے، لیکن اچانک ایک روز گرُو گاؤں میں کھلبلی مچ گئی کہ آدم خور نے ایک عورت پر حملہ کیا، مگر اسے اٹھا کر لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ ان دنوں اس گاؤں میں ایک تیوہاری میلہ لگا ہوا تھا۔ اور اردگرد کے دیہات سے کثیر تعداد میں مرد عورتیں گرُو میں آئے ہوئے تھے۔ گرُو گاؤں کے ایک جانب پہاڑی سلسلہ ہے اور دوسری جانب ایک وسیع میدان جہاں لمبی لمبی گھاس اور خودرو پودے کثرت سے اُگے ہوئے ہیں۔ یہ مقام آدم خور کے چھپنے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ جس روز میلے کی تقریبات کا آغاز ہوا ہے، اسی روز بعد دوپہر کا ذکر ہے کہ گاؤں کی پانچ دس عورتیں خشک گھاس اور لکڑیاں جمع کرنے اس ویران میدان کی جانب آ نکلیں۔ ان عورتوں کے وہم و گمان میں یہ بات نہ تھی کہ وہ آدم خور شیر جس کے چرچے بچّے بچّے کی زبان پر ہیں، اسی جگہ چھپا ہوا ہوگا۔ یہ عورتیں آپس میں ہنستی بولتی اس میدان کے کنارے تک آن پہنچیں اور گھاس جمع کرنے لگیں اور ان میں سے ایک عورت اپنی ساتھیوں سے بچھڑ کر ذرا دور نکل گئی۔ معاً اس نے محسوس کیا کہ کوئی جانور اس گھاس کے اندر چل رہا ہے، کیونکہ گھاس تیزی سے ہل رہی تھی۔ یہ عورت حیرت سے ادھر دیکھنے لگی پھر اس نے شیر کو وہاں چھپے ہوئے دیکھ لیا۔ وہ بالکل بلّی کی مانند گھاس میں دبکا ہوا ان عورتوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس عورت کی نظر جونہی شیر پر پڑی، اس نے گھاس کا گٹھا وہیں پھینکا اور شیر شیر چلّاتی ہوئی بے تحاشا دوڑنے لگی۔ چونکہ یہ عورتیں تعداد میں زیادہ تھیں، اس لیے آدم خور کو ان کا تعاقب کرنے کی جرأت نہ ہوئی وہ صرف غُرّایا اور گھاس کو روندتا ہوا دوسری جانب نکل گیا۔
یہ سب عورتیں مسلسل چیختی چلّاتی گاؤں میں پہنچ گئیں اور انہوں نے ایک ہنگامہ برپا کر دیا ۔ بازاروں اور دوکانوں پر بیٹھے ہوئے مرد فوراً اپنے اپنے ہتھیار لے کر جمع ہو گئے اور میدان کی جانب لپکے۔ وہاں واقعی آدم خور موجود تھا اور زور زور سے غرّا رہا تھا۔ ان آدمیوں کے پاس صرف چاقو اور کلہاڑیاں تھیں اور ظاہر ہے کہ ان ہتھیاروں سے آدم خور کو مارا نہیں جا سکتا تھا اور پھر یہ کہ ہر شخص کے دل پر اس کی اتنی دہشت چھائی ہوئی تھی کہ وہ آگے بڑھتے ہوئے ڈرتا تھا۔ تاہم ان لوگوں نے اتنا کام کیا کہ وہیں پہرہ دینے کا فیصلہ کیا کہ شیر رات کے وقت گاؤں میں داخل نہ ہو سکے۔
ایک دن اور ایک رات آدم خور اس میدان میں گشت کرتا اور دھاڑتا رہا۔ غالباً وہ بھوک سے بے تاب ہو رہا تھا، لیکن یہ عجیب بات تھی کہ اس دوران میں اس نے وہاں چرنے والے کسی مویشی پر حملہ نہیں کیا۔ گاؤں کا ہر فرد اُسے اپنی آنکھوں سے میدان میں پھرتے ہوئے دیکھ چکا تھا اور سبھی ڈرے ہوئے تھے کہ نہ جانے یہ آدم خور کس کو ہڑپ کرے گا۔ تیسرے دن شرقی وہاں آیا۔ تو آدم خور غائب ہو چکا تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ اس نے ضرور کہیں نہ کہیں سے اپنا ‘انسانی شکار’ تلاش کر لیا ہوگا اور حقیقت بھی یہی نکلی۔ شرقی جب شیر کی جستجو میں نکلا اور سارے میدان کا چکّر لگایا اور دریا تک جا پہنچا۔ تو وہاں اس نے ایک بوڑھی عورت کی لاش اس حال میں پڑی پائی کہ آدم خور نے اس کی پشت اچھی طرح چبا ڈالی تھی اور گردن پر دانتوں کے گہرے نشانات تھے۔ یہ بدنصیب بڑھیا غالباً دوسرے گاؤں کی رہنے والی تھی جو نہ جانے اپنی کس ضرورت کے لیے ادھر آ نکلی اور شیر کا نوالہ بن گئی۔
آدم خور کی ان سرگرمیوں کی خبریں تہران کے سرکاری حلقوں تک پہنچ گئی تھیں۔ گرُو گاؤں کے نمبردار نے شاہ ایران کو اس مضمون کا تار بھی روانہ کیا کہ ایک آدم خور شیر نے اس علاقے میں سخت تباہی پھیلا رکھی ہے۔ براہِ کرم! اسے جلد از جلد ہلاک کیا جائے، ورنہ چند دنوں تک یہاں کسی فرد بشر کا نام و نشان بھی نہ ملے گا۔ شرقی شکاری اس صورتِحال سے سخت پریشان تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ شیر مارا نہ گیا تو خود اس کی شہرت کو نقصان پہنچے گا، کیونکہ ایران کے شکاری حلقوں میں اس کا نام بہت مشہور تھا اور دوسرے پیشہ ور شکاری بھی اس سے یوں حسد کرتے تھے کہ پرنس عبدالرضا شاہ پہلوی کی نظروں میں وہ ایک تجربہ کار اور نڈر شکاری کی حیثیت رکھتا تھا۔ گویا اب یہ شرقی کا ذاتی مسئلہ بن چکا تھا کہ وہ ہر قیمت پر اس شیر کو نیست و نابود کر دے یا خود مر جائے۔
لیکن اس دوران میں دوسرے شکاری کیسپین کے آدم خور کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ان میں سے ایک کی یہ کوشش تھی کہ وہ آدم خور کو مار کر شاہ کے سامنے اعزاز حاصل کرے۔ ان شکاریوں نے شیر کو مارنے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں اور ہر حربہ آزمایا، مگر کوئی کامیاب نہ ہوا۔ آدم خور کے اندر کوئی ایسی مخفی قوّت تھی جو اُسے آنے والے خطرات سے آگاہ کر دیتی اور وہ عین موقعے پر بچ کر نکل جاتا۔ اس نے جب کئی شکاریوں کو بھی اپنا لقمہ بنا لیا، تو شکاریوں کی جماعت میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے افواہ اڑا دی کہ یہ آدم خور کوئی ‘شیطانی بلا’ ہے جس پر قابو پانا انسانی قدرت سے باہر ہے۔
سب سے دلچسپ بات یہ تھی کہ جس رفتار سے یہ شیر آدمیوں کو ہڑپ کرتا گیا، اسی رفتار سے اس کے قد و قامت اور ڈیل ڈول میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ اس کا قد اچھے خاصے ٹٹّو کے برابر تھا اور شرقی کے اندازے کے مطابق دُم سے لے کر سر تک شیر کی لمبائی گیارہ فٹ تو ضرور ہوگی۔ 54ء اور 55ء کے درمیانی عرصے میں یہ آدم خور دفعتہً غائب ہو گیا۔ اس دوران میں اس نے کوئی واردات نہیں کی اور نہ کسی شخص نے اسے دیکھا۔ شیر کے یوں غائب ہوجانے سے توہم پرست لوگوں نے بھی یقین کر لیا کہ وہ شیطانی بلا ہی تھی جو اچانک اس طرح غائب ہو گئی۔ اس وقت تک وہ پچاس کے قریب افراد ہلاک کر چکا تھا۔ ایک اور عجیب بات شرقی کے مشاہدے میں آئی اور وہ یہ کہ شیر جب کسی شخص کو ہلاک کر کے اپنا پیٹ بھر لیتا، تو بچا کچھا گوشت وہیں چھوڑ جاتا اور اسے دوبارہ کھانے کے لیے کبھی وہاں نہ آتا، حالانکہ یہ شیر کی فطرت کے خلاف ہے۔ تجربہ کار شکاری کہتے ہیں کہ یہ شیر ایک بار تو ضرور ہی واپس آتا ہے جہاں اس نے شکار مارا ہو۔ مگر کیسپین کا یہ آدم خور ایک نرالی فطرت کا مالک تھا وہ کئی کئی روز بھوک سے بے تاب ہو کر غرّاتا اور دھاڑتا رہتا، لیکن نہ تو انسانی شکار کا باسی گوشت چکھتا اور نہ کسی مویشی پر حملہ کرتا۔ ہمیشہ تازہ شکار کر کے اپنا پیٹ بھرتا اور پھر ہفتوں تک غائب رہتا۔ اس کے مسکن کا علم کسی کو نہ تھا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کہاں جا کر آرام کرتا تھا۔
حکومت کے مقرر کیے ہوئے شکاری مسلسل کئی کئی دن ان درختوں کے میں چھپے رہے جن کے نیچے شیر کی کھائی ہوئی انسانی لاشیں پڑی تھیں۔ انہیں امید تھی کہ شیر انہیں کھانے کے لیے واپس آئے گا، مگر ان کی یہ امیدیں غلط ثابت ہوئیں، شیر اُدھر کبھی نمودار نہیں ہوا۔ ہاں ایک مرتبہ جب کہ ایک شکاری رات بھر اونگھنے کے بعد صبح درخت سے اُترا، قریب کی جھاڑیوں سے آدم خور نے اپنا سر باہر نکالا اور ایک ہی جست میں شکاری کو آن دبوچا اور چند لمحوں کے اندر اندر شکاری کے جسم کا آدھا گوشت شیر کے پیٹ میں جا چکا تھا۔ ایک ہفتے بعد جب اس شکاری کی گمشدگی کا علم ہوا، تو لوگوں نے اس کی ادھ کھائی لاش درخت کے نیچے پڑی پائی۔ پاس ہی سرکاری رائفل پڑی تھی جس میں کارتوس بھرے ہوئے تھے آدم خور کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ وہ شکار مارنے کے بعد اپنے بڑے بڑے پنجوں سے اس کے کپڑے نوچ نوچ کر پرے پھینک دیتا اور لوہے یا چمڑے کی پیٹیاں علیحدہ گھسیٹ کر لے جاتا۔
اس دوران میں اس کی غیر معمولی فطرت کے بعض عجیب واقعات بھی سننے میں آئے کہتے ہیں ایک عورت اپنی دو معصوم بچیوں کو لے کر گاؤں کی اس پگڈنڈی پر جا رہی تھی جو جنگل کے کنارے سے ہو کر دوسرے گاؤں میں جاتی ہے۔ نصف راستے پر اس عورت نے آدم خور کو دیکھا جو جھاڑیوں سے نکلا اور بچیّوں کو دیکھا، چند سیکنڈ بعد وہ غرّاتا ہوا بچّیوں کی جانب لپکا۔ عورت کا بیان ہےکہ اسے کچھ اور نہ سُوجھا، تو اس نے اپنی سرخ رنگ کی شال جسم سے اتاری اور شیر کے اوپر پھینک دی۔ شیر اس شال کے اندر اُلجھ گیا۔ عورت نے کمال جرأ‌ت کا مظاہر کرتے ہوئے اپنی بچیوں کو اٹھایا اور الٹے قدموں بھاگی۔ شیر نے اگرچہ شال کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ اور اگر وہ چاہتا تو اپنے شکار کو دوبارہ پکڑ سکتا تھا، مگر اس نے ان کا تعاقب نہ کیا۔ غالباً وہ بچّیوں کے چیخنے چلّانے سے متاثر ہو گیا تھا۔ وہ چند لمحے تک غرّاتا رہا، پھر جھاڑیوں میں جا کر بیٹھ گیا۔
کیسپین کے اس ساحلی علاقے میں، جہاں آدم خور کا راج تھا، غالب آبادی ان لوگوں کی تھی جو ماہی گیر تھے یا لکڑہارے۔۔۔۔ اور انہی بے چاروں پر سب سے زیادہ مصیبت نازل ہوئی۔ کتنے ہی بچّے یتیم ہو گئے اور کتنی ہی عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ حتیٰ کہ ماہی گیروں نے سمندر کے قریب اور لکڑہاروں نے جنگل میں جانا چھوڑ دیا اور روزگار کی تلاش میں یہاں سے نقل مکانی کر کے دور دور چلے جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ یہ صورتحال خود حکومت کے لیے خاصی تشویش باعث بن گئی۔ تہران کے سرکاری حلقوں میں اس آدم خور کا ذکر ہر ایک کی زبان پر تھا۔ طرح طرح کی تجویزیں اور تدبیریں اسے مارنے کے لیے سوچی جا رہی تھیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ تجربہ کار اور تربیت یافتہ شکاریوں کی کمی تھی اور جو چند نامی گرامی شکاری تھے انہیں یہ آدم خور پہلے ہی ہڑپ کر چکا تھا۔ اَب لے دے کر شرقی کی ذات ایسی تھی جس پر سب کی نگاہیں بار بار پڑتی تھیں۔ آخر حکومت نے اعلان کیا کہ جو شخص اس آدم خور کو ہلاک کرے گا اسے پانچ ہزار ریال انعام دیئے جائیں گے۔
یہ وہ زمانہ تھا، جب ایران کی حکومت ایک سیاسی بحران سے گزر رہی تھی اگر یہ بحران نہ ہوتا، تو عین ممکن تھا کہ خود شاہِ ایران اس آدم خور کو ہلاک کرنے پر کمر بستہ ہو جاتے، تاہم شرقی کے لیے پانچ ہزار ریال کوئی حقیقت نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ کسی اعزاز و اکرام کا متمنّی تھا۔ وہ تو یہ صرف چاہتا تھا کہ آدم خور کو اس کے ہاتھوں سے مر جانا چاہیے اور بس۔۔۔۔۔۔ اکتوبر 55ء کا مہینہ تھا جب شرقی نے آدم خور کا تعاقب شروع کیا اور اور پورے چودہ ماہ تک۔۔۔۔ اس نے اپنے اوپر دن کا چین اور رات کی نیند حرام کر لی تھی۔ اس تمام عرصے میں وہ پاگلوں کی طرح اپنی رائفل اور بستر اٹھائے اٹھائے اِس گاؤں سے اُس گاؤں اور اُس گاؤں سے اِس گاؤں مارا مارا پھرتا رہا۔ اس طرح اس نے سینکڑوں میل کا سفر پیدل طے کیا ہوگا۔ اَب بچّے بچّے کی زبان پر شرقی کا نام تھا اور لوگ گلی کوچوں میں اعلانیہ کہتے کہ ‘آدم خور اگر مارا جائے گا، تو شرقی کے ہاتھوں۔’
بیسیوں مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ شرقی اور شیر کا آمنا سامنا یا تو ہوتے ہوتے رہ گیا یا شرقی کو دیکھ کر شیر فرار ہو گیا۔ غالباً اسے بھی علم ہو گیا تھا کہ یہ شخص اُس کی قضا بن کر آیا ہے، اس لیے اس سے حتی الامکان محفوظ رہنا چاہیے۔ ایک روز صبح شرقی گاؤں خونس کے قہوہ خانے میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ آدم خور کے ٹھکانے کا سُراغ کیسے لگایا جائے اور اسے مارنے کے لیے کونسی تدبیر اختیار کی جائے کہ قہوہ خانے سے باہر ایک شکستہ موٹر ٹیکسی آن کر رُکی اور ڈرائیور کود کر باہر نکلا۔ اس کی حالت سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ خاصا مضطرب ہے۔ ٹیکسی کا انجن چلتا چھوڑ کر ڈرائیور قہوہ خانے میں داخل ہوا اور جونہی اس نے شرقی کو دیکھا، ایک نعرہ مار کر اس کی جانپ لپکا، ‘ارے تم یہاں بیٹھے ہو اور اس آدم خور نے کل شام ایک عورت کو مار ڈالا۔’
ڈرائیور کا نام عربد تھا اور شرقی اسے مدّت سے جانتا تھا۔ شرقی نے یہ خبر سنتے ہی اپنی رائفل اٹھائی اور عربد کو گھسیٹتا ہوا ٹیکسی میں لے آیا اور بولا:
‘مجھے جلدی اس مقام پر لے چلو ایک لمحہ ضائع نہ کرو۔’
عربد چیختا ہی رہ گیا کہ مجھے قہوے کا ایک گھونٹ تو پی لینے دو، مگر شرقی نے اس کی ایک نہ سنی۔ خونس سے کئی میل دور یہ حادثہ پیش آیا تھا۔ یہاں ایک کھیت کے کنارے چھوٹا سا مکان بنا ہوا تھا۔ جس میں کسان اور اس کے بیوی بچّے رہتے تھے۔ شام کا وقت تھا۔ مکان کا بیرونی دروازہ کھلا تھا۔ کسان اور اس کے دونوں چھوٹے چھوٹے لڑکے کمرے میں تھے اور بچوں کی ماں صحن میں بیٹھی تھی۔ یکایک شیر خاموش دبے پاؤں ادھر آیا اور مکان کا دروازہ کھلا دیکھ کر فوراً اندر آ گیا۔ اس سے پہلے کہ بیچاری عورت اپنے بچاؤ کا سامان کرے اور اس کا شوہر مدد کو پہنچے، آدم خور نے لپک کر اپنے ادھ کھلے جبڑے میں عورت کا شانہ پکڑا اور گھسیٹ کر باہر لے گیا۔ عورت کا شوہر جب چیخا چلّایا تو قریب ہی رہنے والے دوسرے کسان اپنے گھروں سے باہر نکل کر آئے اور آدم خور کے تعاقب میں دوڑے، مگر اتنی دیر میں وہ بہت دور جا چکا تھا۔ رات کے اندھیرے میں یہ لوگ آگے بڑھتے ہوئے خوف کھاتے تھے، اس لیے انہوں نے عورت کی لاش ڈھونڈھنے کے لیے صبح جانے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے روز بارہ آدمیوں کا گروہ جنگل میں گیا اور ایک مقام پر انہوں نے لاش کےچند ٹکڑے پڑے پائے۔۔۔
شرقی اور عربد دوپہر کے قریب اس کسان کے گھر پہنچے اور اس کی زبانی اس دردناک حادثے کی تفصیل سنی۔۔۔ باتوں باتوں میں کسان نے شرقی کو بتایا کہ جس جگہ انہوں نے لاش پڑی پائی، اس سے کوئی آدھ میل دُور ایک تالاب ہے۔ جہاں جنگل کے اکثر جانور آ کر پیاس بُجھاتے ہیں۔ شرقی اپنے ہمراہ دو آدمیوں کو لے کر اس تالاب پر پہنچا۔ اگرچہ اس میں پانی کی بہت تھوڑی مقدار تھی، لیکن اس کے کنارے کیچڑ میں جانوروں کے پیروں کے نشانات دکھائی دیے تھے۔ ان میں بھیڑیوں اور بارہ سنگھوں کے پیروں کے نشانات نمایاں تھے۔ شرقی کو یہ دیکھ کر تعجّب ہوا کہ آدم خور اس طرف نہیں آیا، حالانکہ اسے لازماً شکار ہڑپ کرنے کے بعد پانی پینے کے لیے اس طرف آنا چاہیے تھا۔ شرقی کو اگرچہ یقین نہیں تھا کہ آدم خور پانی پینے اس تالاب پر آئے گا، تاہم اس نے رات وہیں بسر کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کسانوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کھلی جگہ میں ٹھہرنا خطرناک ہوگا جہاں شیر کسی وقت بھی اس پر حملہ کر سکتا ہے۔ اس تالاب کے گرد کوئی درخت نہیں تھا، البتہ لمبی لمبی گھاس چاروں طرف دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس تالاب سے ذرا فاصلے پر ایک چھوٹی سی پگڈنڈی گزرتی تھی جو اس گاؤں کو دوسرے گاؤں سے ملاتی تھی اور اس پگڈنڈی پر لوگ بیل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے تھے لیکن جب سے آدم خور نے اپنے ساتھیوں کو واپس گاؤں میں بھیج دیا اور خود اپنے چھپنے کے لیے ایک مناسب سی جگہ تلاش کرنے لگا۔ اسے یہ بھی علم تھا کہ آدم خور سے زیادہ خطرناک وہ زہریلے حشرات الارض اور سانپ بھی ہوسکتے ہیں جو اس گھاس میں رینگتے پھرتے ہیں۔ لیکن یہ خطرہ مول لینے کے سوا اور چارہ بھی کیا تھا۔
تالاب سے کوئی پچاس گز دُور پگڈنڈی کے پیچھے خشک اور گھنی گھاس میں وہ چھپ گیا۔ شرقی کا بیان ہے کہ یہ اس کی شکاری زندگی کی سب سے زیادہ صبر آزما اور بھیانک رات تھی۔ جب وہ کیسپین کے آدم خور کا انتظار کر رہا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی جنگل کا سنّاٹا اس کے اعصاب کو معطّل کرنے لگا۔ اس نے دیکھا کہ آسمان پر پرندوں کی قطاریں اڑتی ہوئی اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ رہی ہیں دور کہیں بھیڑیوں اور گیدڑوں کے غول چلّا رہے تھے۔ یکایک اس نے دیکھا کہ تین موٹے تازے ہرن آہستہ آہستہ چلتے ہوئے تالاب کی جانب آ رہے ہیں۔ ان کی چھوٹی چھوٹی سُرخ آنکھیں اندھیرے میں چمک رہی تھیں۔ انہوں نے جلدی جلدی پانی پیا اور چھلانگیں لگاتے جدھر سے آئے تھے اُدھر چلے گئے۔ شرقی اگر چاہتا، تو ان میں سے ایک کو تو ضرور ہی فائر کر کے ڈھیر کر دیتا، مگر وہ ایسا نہ کر سکا وہ تو صرف آدم خور کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ اس تالاب پر آج پانی پینے آئے گا، دفعتہً اُسے ایک عجیب احساس ہوا جس نے اس کے رونگٹے کھڑے کر دیے۔ فرض کرو کہ آدم خور اس کے عقب میں آ جائے اور ایک دم حملہ کر دے تو؟ شرقی نے بدحواس ہو کر پیچھے دیکھا، بلاشبہ یہ خطرہ ہر وقت سر پر تھا۔ چاروں طرف کہیں بھی پناہ لینے کہ جگہ نہ تھی۔ وہ جانتا تھا کہ آدم خور کس قدر نڈر اور چالاک ہے وہ اب تک سو سے زیادہ افراد کو ہضم کر چکا ہے۔ اس لیے وہ آسانی سے اپنے کو شرقی کے حوالے نہیں کرے گا۔ اَب تک وہ اکڑوں بیٹھا تھا، مگر یہ بات سوجھتے ہی کہ شیر عقب سے حملہ نہ کر دے وہ پیٹ کے بل گھاس میں لیٹ گیا اور رائفل اپنے سامنے رکھ لی۔
دس بجے کے قریب مشرقی پہاڑیوں کے پیچھے سے چاند آسمان پر نمودار ہوا اور اس کی روشنی میں تالاب کا پانی شرقی کو صاف دکھائی دینے لگا۔ لمبی گھاس کے سائے تالاب کے چاروں طرف پھیلے ہوئے تھے۔ دفعتہً اس نے مغرب کی جانب سے شیر کے غرانے کی آواز سنی اور اسے جیسے جھٹکا سا لگا۔ وہ چوکنّا ہو کر اُدھر تکنے لگنے لگا اور رائفل سختی سے تھام لی۔ اس کا دل دھڑک رہا تھا ہر طرف موت کا سا سکوت طاری تھا۔ جنگل میں اس نئی آواز سے دوسرے جانوروں اور پرندوں کی آوازیں فوراً رُک گئیں۔ جنگل کے بادشاہ کی آواز سننے کے بعد پھر کس کی مجال تھی کہ اپنی زبان کھولتا۔ شرقی نے محسوس کیا کہ اس کی پیشانی پر پسینے سے تر ہو رہی ہے۔ اس نے جیب سے رومال نکال کر پسینہ پونچھا اور شیر کی آواز کی جانب کان لگا دیے۔ آدھ گھنٹے بعد اس نے پھر شیر کی آواز سنی اس مرتبہ آواز اور قریب سے آئی تھی آدم خور یقیناً تالاب پر پیاس بجھانے آ رہا تھا۔ شرقی جانتا تھا کہ اس نازک وقت میں ذرا سی بے احتیاطی اسے موت کے منہ پہنچا سکتی ہے، پس وہ اپنی جگہ بے حس و حرکت دبکا رہا پھر اس نے کچھ فاصلے پر چاند کی مدھم روشنی میں آدم خور کو تالاب سے ذرا دُور کھڑے پایا۔ لمبی گھاس میں اس کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ شرقی کا سانس آہستہ آہستہ پھولنے لگا۔ اس نے اپنے اعصاب پر قابو پانے کی بڑی کوشش کی، مگر ناکام رہا اُسے خوف تھا کہ آدم خور اگر اس مرتبہ بچ کر نکل گیا تو پھر اسے تلاش کرنا کارے داد ہوگا۔ دفعتہً آدم خور ہلکی آواز میں غرّایا اور جدھر سے آیا تھا خاموشی سے اُدھر لوٹ گیا۔
شرقی کے اضطراب اور غصّے کی انتہا نہ رہی۔ وہ اپنی رائفل اٹھا کر دبے پاؤں اس جانب چلا جدھر شیر گیا تھا۔ لیکن ابھی وہ چند گز دُور ہی چلا ہوگا کہ گھاس میں چھپا ہوا آدم خور دھاڑتا ہوا وہاں سے برآمد ہوا اور شرقی کی جانب لپکا۔ اس کا دایاں پنجہ شرقی کے بازو پر پڑا اور شرقی رائفل سمیت اُلٹ کر زمین گر گیا۔ آدم خور اس سے ذرا ہٹ کر فاتحانہ انداز میں گرج رہا تھا۔ شرقی نے اپنے اوسان بحال رکھے اور فوراً رائفل سے اس کے سر کا نشانہ لے کر لبلبی دبا دی۔۔۔ گولی شیر کے سینے میں لگی وہ فضا میں اچھلا۔۔۔ اس نے ایک بار پھر شرقی پر حملہ کرنے کی کوشش کی، مگر اس مرتبہ اس کا وار خالی گیا۔ شیر کے سینے سے خون کا فوارہ اُبل پڑا۔ شرقی نے وقت ضائع کیے بغیر دوسرا فائر کیا اور گولی شیر کا سر چھیدتی ہوئی نِکل گئی۔ شیر کے حلق سے ایک بھیانک چیخ نکلی اور وہ شرقی پر آن پڑا۔ اس کے بعد شرقی اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا۔
جب اس کی آنکھ کھلی، تو اس نے اپنے اردگرد گاؤں کے کسانوں کو کھڑے پایا ان کے ہاتھوں لالٹینیں تھیں۔ شرقی نے گردن موڑ کر دیکھا تو آدم خور کے مارے جانے کی خبر آگ کی مانند اردگرد کے تمام دیہات میں پھیل گئی۔ آدم خور کی لاش کو گاؤں گاؤں نمائش کے لیے لے جایا گیا۔ شرقی کو نہ صرف پانچ ہزار ریال انعام کے طور پر دیے گئے، بلکہ لوگوں نے اس کے سامنے تحائف کے ڈھیر لگا دیے۔ ہر شخص اس کا احسان مند تھا اور جدھر سے وہ گزرتا تھا، لوگ اسے کندھوں پر اٹھا لیتے اور خوشی کے نعرے لگاتے، کیونکہ شرقی وہ آدمی تھا جس نے جان پر کھیل کر کیسپین کے اس آدم خور کو مارا تھا جو پانچ سال کے عرصے میں ایک سو پندرہ افراد کو اپنا لقمہ بنا چکا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: