Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 12

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 12

–**–**–

عالم بخش اور خونخوار ریچھ
یہ ایک بہت بڑے اور سیاہ ریچھ کا قِصّہ ہے جس کی خونخواری اور بربریّت کی دہشت عرصہ دراز تک لوگوں کے دلوں میں بیٹھی رہی۔ جنگل کے تمام حیوانات میں ریچھ واحد جانور ہے جو محض اپنی تفریح طبع کے لیے دوسرے جانوروں اور آدمیوں کو ہلاک کرتا ہے۔ نہایت کینہ پرور، جلد اشتعال میں آنے والا اور انتہائی ناقابلِ اعتماد حیوان ہے۔ حافظے کے اعتبار سے اس کا ذہن ایک عجوبہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ یہ اپنے دشمن کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا۔ اسے خوب یاد رہتا ہے اور موقع ملتا ہی اسے ہلاک کر دیتا ہے۔ خواہ اپنی جان ہی کیوں نہ جاتی رہے۔
اپنی شکاری زندگی کے طویل ترین تجربات کی روشنی میں یہ پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ریچھ بعض حالات میں آدم خور شیر سے بھی زیادہ خونخوار اور بے رحم ثابت ہوا ہے۔ آدم خور شیر تک میں یہ صفت دیکھی گئی ہے کہ اگر اس کا پیٹ بھرا ہوا ہو اور کوئی شخص اس کے آگے سے گزر جائے تو شیر کچھ نہیں کہتا۔۔۔۔ یہی حال ہاتھیوں کا ہے۔ وہ کبھی بلا وجہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کرتے۔ چیتا البتہ کبھی کبھار شرارت پر اُتر آتا ہے’ وہ بھی رات کی تاریکی میں۔۔۔۔ مگر ریچھ کو دیکھ کر یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے دل میں کیا ارادہ ہے اور وہ اب کون سا پینترا بدل کر حملہ کرے گا۔
وہ موذی سیاہ ریچھ جس کا ذکر ان صفحات میں کیا جا رہا ہے نہایت ہی ظالم اور عیّار تھا۔ دن دہاڑے بستی میں آکر بچوں اور بوڑھوں پر حملہ کر کے انہیں ہلاک کر ڈالتا اور میلوں تک اپنے شکار کا تعاقب کیا کرتا تھا۔ لوگوں میں اس خونخوار ریچھ کے بارے میں طرح طرح کی داستانیں مشہور تھیں، جن میں حقیقت کا عنصر کم اور مبالغے کا زیادہ۔۔۔ کوئی کہتا تھا کہ وہ بدروح ہے جو ریچھ کے بھیس میں آتی ہے۔ کوئی مُصر تھا کہ نہیں وہ ہے تو ریچھ ہی مگر پاگل ہو چکا ہے، کسی کو ضد تھی کہ وہ نر ریچھ نہیں، مادہ ریچھ ہے جس کے بچوں کو ایک مرتبہ کوئی شکاری اٹھا کر لے گیا تھا اور مادہ ریچھ اب نسلِ انسانی سے انتقام لینے کی قسم کھا چکی ہے۔ غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ خود میرا اندازہ تھا کہ ریچھ واقعی غیر معمولی جسامت کا ہے اور کسی قدر چالاک بھی ہے۔ تبھی وہ خطرے کی بو دور سے سونگھ کر غائب ہو جاتا ہے۔ اسی دوران میں اس ریچھ کے متعلق ایک عجیب کہانی سننے میں آئی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ ایک سال پیشتر یہ ریچھ ایک نوجوان لڑکی کو اغوا کر کے لے گیا۔ لڑکی اپنی بکریاں چراتی ہوئی اس پہاڑی جنگل میں چلی گئی تھی، جہاں وہی ریچھ رہتا تھا۔ جب لڑکی شام تک اپنے گھر واپس نہ آئی اور اس کی بکریاں خودبخود راستہ تلاش کرتی ہوئی گھر پہنچ گئیں تو گاؤں والوں میں خوف و ہراس کی زبردست لہر دوڑ گئی۔۔۔ لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے مسلّح ہو کر ایک گروہ لڑکی کی تلاش میں نکلا۔ جلد ہی انہیں لڑکی اور ریچھ کے قدموں کے نشانات کا سراغ مل گیا۔۔۔۔۔ لڑکی ایک غار کے پاس بے ہوش پڑی تھی اور ریچھ قریب ہی بیٹھا تھا اس کے تلوے چاٹ رہا تھا۔۔۔ اتنے سارے آدمیوں کو دیکھ کر وہ فوراً وہاں سےچیختا چلّاتا بھاگ نکلا اور جنگل کے گھنے حصّے میں روپوش ہو گیا۔
میں نے اس کہانی کی تصدیق کے لیے گاؤں کے متعدّد لوگوں سے پوچھ گچھ کی، مگر وہی معاملہ تھا کوئی کچھ کہتا تھا اور کوئی کچھ۔۔۔۔ بہرحال یہ ثابت ہو گیا تھا کہ ریچھ نے ایسی حرکت ضرور کی تھی۔ جب ریچھ کا معاملہ میرے سامنے آیا، اس وقت دوبارہ افراد کو ہلاک اور بیسیوں آدمیوں کو زخمی کر چکا تھا۔ ریچھ کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے شکار کے منہ پر پہلے وار کرتا ہے اور اپنے طاقتور اور نوکیلے پنجوں کے ذریعے نہایت آسانی سے چہرے کا حلیہ بگاڑنے کے بعد جسم کا جوڑ جوڑ الگ کر ڈالتا ہے۔ میں نے اس ریچھ کے ہاتھوں زخم کھائے ہوئے اکثر لوگ دیکھے۔ کسی کی ایک آنکھ غائب تھی تو کسی کی دونوں آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ کسی کا کان نُچا ہوا تھا تو کسی کی ناک۔۔۔ اکثر لوگوں کے دائیں بائیں رخساروں پر گہرے گھاؤ بھی دیکھے گئے۔ ان کے علاوہ اس ریچھ کے ہاتھوں مرنیوالوں کی جو لاشیں جنگل میں ملیں، ان کی حالت دیکھ کر ہی جسم پر کپکپی سی طاری ہونے لگتی تھی۔ ریچھ سب سے پہلے گردن مروڑتا، پھر پیٹ میں پنجے گھونپ کر انتڑیاں باہر نکال کر دور تک پھیلا دیتا تھا۔ یہ افواہیں بھی عام تھیں کہ ریچھ نہ صرف اپنے شکار کا خون چوستا ہے بلکہ اس کا گوشت بھی کھا جاتا ہے، اس دعوے کے ثبوت میں کہا جاتا تھا کہ ریچھ نے جن آخری تین آدمیوں کو ہلاک کیا تھا۔ ان کی لاشوں کا ابھی تک سراغ نہیں مِلا۔ میں نے اس افواہ کی تصدیق کرنا مناسب نہ سمجھا۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مخصوص حالات کی بنا پر ایک ریچھ کے لیے آدم خور بن جانا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔ اگرچہ فطری طور پر وہ سبزی کھانے والا جانور ہے، لیکن انتہائی بھوک کی حالت میں اگر انسان کا تازہ گوشت اسے مل جائے تو وہ اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتا۔
پہلے پہل یہ ریچھ ناگواڑہ کی پہاڑیوں میں گھومتا پھرتا تھا۔ یہ پہاڑیاں ارسیکری کے مشرق میں واقع ہیں۔ ارسیکری، بنگلور (ریاست میسور) کے شمال مغرب میں تقریباً ایک سو پانچ میل کے فاصلے پر خاصا بڑا قصبہ ہے۔ انہی پہاڑیوں پر اس خونخوار ریچھ نے اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی اور جب اس موذی نے کئی آدمیوں کو ہلاک کر ڈالا تو اس کا دل اور بڑھا اور یہ میدانی علاقوں پر بھی چھاپے مارنے لگا۔ وہ غروبِ آفتاب کے وقت اپنی کمین گاہ سے نکلتا اور کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کسانوں اور ان کے بیلوں کی جوڑیوں پر حملہ کرتا اور رفو چکّر ہو جاتا۔ اس نے یہاں تک اودھم مچایا کہ پورے قصبے کے گرد و نواح میں دہشت سی پھیل گئی۔ آہستہ آہستہ اس ریچھ کی وحشیانہ سرگرمیاں میرے کانوں تک بھی پہنچیں۔ مگر میں نے یہ سوچ کر ان پر دھیان نہ دیا کہ دیہاتیوں میں وہم اور مبالغہ آرائی کی عادت زیادہ ہے۔ رائی کا پہاڑ بنانے میں یہ لوگ یکتائے زمانہ ہیں۔
ایک سال بیت گیا اور ریچھ کی ہلاکت خیز سرگرمیاں بدستور جاری رہیں۔ آخر ایک ایسا حادثہ پیش آیا کہ مجھے اس کے تعاقب میں جانا ہی پڑا۔ میرا ایک مسلمان دوست، جس کا نام عالم بخش تھا، شموگا کے مقام پر ایک خانقاہ کا مجاور تھا۔ اگر ہم سڑک کے راستے ارسیکری جائیں تو شموگا راستے میں پڑتا تھا۔ اس علاقے میں مسلمانوں کے ولیوں اور پیروں کے سینکڑوں مزار ہیں۔ جن کی زیارت کے لیے دور دور سے لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ عالم بخش سے میری پہلی ملاقات عجیب نوعیّت کی تھی۔ میں ایک آدم خور شیر کے تعاقب میں تھا جو شموگا کے علاقے میں گھوم رہا تھا، ایک رات میں بنگلور سے اپنی موٹر میں بیٹھ کر شموگا جا رہا تھا۔ جب میں شموگا سے تھوڑی دور رہ گیا تو دفعتہً میری موٹر کا پچھلا ٹائر دھماکے سے پھٹ گیا۔ موٹر فوراً رُک گئی۔ شام سَر پر آ گئی تھی۔ میں حیران و پریشان موٹر سے اتر کر ٹائر کا معائنہ کرنے لگا۔ جنگل میں دہشت ناک سناٹا تھا۔ اور میری کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اب کیا ہوگا۔ ادھر اُدھر نظر دوڑانے پر میں نے دیکھا کہ اسی جنگل کے ایک گوشے میں چھوٹی سی عمارت موجود ہے۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ضرور کسی پیر فقیر کی خانقاہ ہے۔ غالباً خانقاہ کے مجاور عالم بخش نے موٹر کا ٹائر پھٹنے کی دھماکہ خیز آواز سن لی تھی۔ کوئی پانچ منٹ بعد ہی وہ اپنے ہاتھ میں لالٹین لے آ گیا۔ میں نے جلدی جلدی پھٹا ہوا ٹائر پہیّے سے نکال کر دوسرا اچھا ٹائر اس میں لگا دیا۔ پھر بوڑھا عالم بخش مجھے خانقاہ میں لے گیا۔ اس نے چائے بنا کر مجھے پلائی۔ عالم بخش کے اس خلوص کا یہ نتیجہ نکلا کہ ہم دونوں میں جلد ہی گہری دوستی ہو گئی۔ بعد ازاں میں جب اس سڑک سے گزرتا عالم بخش سے ملے بغیر آگے نہ بڑھتا تھا۔
شموگا کی اس خانقاہ کے عقب میں اندازاً چار سو گز کے فاصلے پر کوئی چار اونچے اونچے پہاڑی ٹیلوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا تھا۔ انہی پہاڑی ٹیلوں کے درمیان کہیں کہیں زمین خاصی ہموار اور زرخیز تھی جن میں مون سون کی بارشوں کے بعد مقامی کسان مونگ پھلی وغیرہ بو دیتے تھے۔ ریچھ مونگ پھلی کے بہت شائق ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے اس ریچھ نے بھی انہی پہاڑی ٹیلوں میں کہیں اپنا گھر بنا رکھا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی وہ بھوک سے بیتاب ہو کر اپنے غار سے نکلتا اور مونگ پھلی کے پودوں کو اجاڑتا ہوا دور تک نکل جاتا۔ رات بھر وہ اپنا پیٹ بھرتا اور صبح سورج نکلنے سے تھوڑی دیر پیشتر وہ مستی میں جھومتا ہوا اپنے غار کیطرف واپس چلا جاتا۔ اور دن بھر آرام سے سوتا۔ اس کے گھر کے پاس ہی ایک چھوٹا سا تالاب تھا جس میں بارش کا پانی جمع رہتا تھا۔ اور ریچھ یہیں سے اپنی پیاس بجھاتا۔ زندگی کی تمام آسائشیں قدرت نے اسے مہیا کر دی تھیں۔
اُدھر جنگل میں انجیر اور گولر کے درختوں پر جب سرخ رنگ کا پھل پکتا تو سینکڑوں قسم کے پرندے خدا جانے کہاں کہاں سے آ جاتے اور پھر دن بھر ان پھلوں کو توڑ توڑ کر کھاتے رہتے اور سورج غروب ہوتے ہی جب یہ پرندے اپنے گھونسلوں کو لوٹتے تو ہزاروں کی تعداد میں بڑی بڑی چمگادڑیں چیختی چلّاتی اور ایک دوسرے کو پَر مارتی ان درختوں پر حملہ آور ہوتیں اور پکے ہوئے درختوں پر ٹوٹ کر گرتیں۔ ریچھ اگرچہ درختوں سے پھل توڑنے کے قابل نہ تھا، مگر پرندوں اور چمگادڑوں کی چھینا جھپٹی سے بہت سے پھل زمین پر بکھر جاتے، جنہیں ریچھ رات کو چن چن کر ہڑپ کر جاتا۔
عالم بخش کا ایک نوجوان لڑکا تھا جس کی عمر بائیس سال ہوگی۔ یہ پورا خاندان صرف چار افراد پر مشتمل تھا۔ عالم بخش، اس کی بیوی، لڑکا اور اس کی چھوٹی بہن۔۔۔ ایک رات کا ذکر ہے، 9 بجے کے قریب ان سب نے کھانا کھایا اور پھر سونے کی تیاریاں کرنے لگے۔ اسی اثنا میں لڑکا کسی کام کے لیے خانقاہ سے باہر گیا۔ رات نہایت ہی تاریک تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہ دیتا تھا۔ اس وقت ریچھ کہیں قریب ہی گھوم رہا تھا۔ اس نے لڑکے کو اپنی طرف آتے دیکھا تو طیش میں آکر اس کی طرف لپکا اور اپنا پنجہ پوری قوت سے لڑکے کے چہرے پر مارا مگر پنجہ اوچھا پڑا اور لڑکے کے گلے سے خون کی دھاریں بہہ نکلیں۔ لڑکا چیخا اور ریچھ کو لاتیں اور گھونسے مار مار کر بھگانے کی کوششیں کرنے لگا۔ مگر ریچھ کا غیظ و غضب بڑھتا ہی جاتا تھا۔ اس مرتبہ اس نے لڑکے کے چہرے سے ناک اور اور ایک آنکھ نوچ لی اور چھاتی، کندھوں اور پیٹھ پر بھی گہرے زخم لگائے۔ اس کے بعد وہاں سے بھاگ گیا۔ بدنصیب لڑکا خون میں نہایا ہوا اور لڑکھڑاتا ہوا خانقاہ تک پہنچ گیا۔ اس کی گردن کی رگ بھی کٹ چکی تھی اور خون مسلسل بہہ رہا تھا۔ عالم بخش اور اس کی بیوی اپنے بچے کی یہ حالت دیکھ کر سخت پریشان ہوئے انہوں نے دھجّیاں پانی میں تر کر کر کے لڑکے کے زخموں پر باندھیں تاکہ خون رُک جائے۔ مگر خون کسی طرح نہ رُکا۔ گھر میں جتنے بھی پرانے کپڑے تھے۔ سب یکے بعد دیگرے انہوں نے لڑکے کے جسم پر باندھے اور سبھی خون سے تر ہوگئے۔ یہاں تک کہ صبح تک لڑکے نے آخری سانس لیا اور اس دنیائے فانی سے رخصت ہو گیا۔
عالم بخش بے چارہ اتنا مفلس تھا کہ وہ اس حادثے کی اطلاع نہ تو مجھے تار کے ذریعے دے سکتا تھا اور نہ اس کے پاس بنگلور تک آنے کے لیے بس یا ریل کا کرایہ تھا۔ تاہم اس نے پوسٹ کارڈ پر اردو زبان میں ٹیڑھے میڑھے شکستہ انداز میں یہ ساری دردناک کہانی لکھ کر بھیج دی۔ اس کے آنسوؤں کی نمی پوسٹ کارڈ پر صاف محسوس ہو رہی تھی۔ اس کا خط مجھے دو دن بعد مِلا۔ میں تین گھنٹے کے اندر اندر سیکری کی جانب روانہ ہو گیا۔ میرا خیال تھا کہ ریچھ کو مارنا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ وہ ظالم وہیں چھپا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ گھنٹے میں اسے جہنم رسید کر دوں گا۔ یہی سوچ کر میں نے کچھ لمبی چوڑی تیاری نہ کی۔ ٹارچ، اعشاریہ 405 کی ونچسٹر رائفل اور کپڑوں کے دو جوڑے۔۔۔۔ کُل یہ سامان میں نے اپنے ساتھ لیا۔ اور اسی روز شام کے پانچ بجے عالم بخش کی خانقاہ میں پہنچ گیا۔ عالم بخش، اس کی بوڑھی بیوی اور چھوٹی بچی چہرے ویران اور آنکھیں رو رو کر سوجی ہوئی تھیں۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے مجھے تک رہے تھے۔ میں نے انہیں دلاسا دیا اور کہا کہ جب تک اس قاتل ریچھ کو ہلاک نہ کرلوں گا، یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا۔
رات تاریک اور سرد تھی۔ چاند نکلنے میں ابھی کئی روز باقی تھے۔ آٹھ بجے میں نے جنگل میں جانے کی تیاری کی۔ تاریکی میں ٹارچ کے ذریعے ریچھ کو ڈھونڈ لینا اتنا مشکل کام نہ تھا۔ میں نے ٹارچ کو رائفل کی نال کے سرے پر باندھ دیا تاکہ اس کی روشنی میں صحیح نشانہ لے سکوں۔ میرے چاروں طرف ایسا گُھپ اندھیرا تھا کہ خود مجھے اپنی رائفل تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ اس لیے مجھے ٹارچ روشن کرنی پڑی اور اس کا مختصر سا مگر نہایت طاقتور روشنی کا دائرہ دور تک پھیل گیا۔ میں نے اپنے گرد و نواح پر نظر ڈالی۔ میرے بائیں ہاتھ پر مونگ پھلی کے پودے اور دائیں ہاتھ پر سڑک کے ساتھ ساتھ انجیر کے درخت دور تک چلے گئے تھے۔ ریچھ کا کہیں نام و نشان نہ تھا اور اب مجھے گھوم پھر کر اسے تلاش کرنا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب انجیر کے درخت پھیلے ہوئے تھے۔ میں نے ابتداء اس طرف سے کی اور سڑک کے درمیان چلنے لگا ٹارچ کی روشنی کبھی بائیں جانب پھینکتا، کبھی دائیں جانب۔۔۔ اس طرح میں ڈیڑھ میل تک نِکل گیا۔ لیکن ریچھ کا کوئی پتہ نہ چلا۔ آخر پلٹا اور خانقاہ کی طرف آ کر سامنے کی جانب اسے تلاش کرتا ہوا پھر ڈیڑھ میل دور چلا گیا۔ ریچھ ادھر بھی نہ تھا۔ میں نے سوچا وہ ضرور مونگ پھلی کے پودوں میں ہوگا۔
اس مقام پر پہنچ کر جب میں نے ٹارچ روشن کی تو مجھے بہت سی ننھی ننھی آنکھیں چمکتی دکھائی دیں۔ یہ جنگلی خرگوش اور گیدڑ تھے، جو مجھے دیکھتے ہی چھلانگیں لگاتے ہوئے غائب ہو گئے۔ ان پودوں میں ریچھ کو تلاش کرتا ہوا میں پانی کے تالاب تک پہنچ گیا۔ یہاں میں نے سُوروں کے چیخنے کی آوازیں سنیں۔ مگر ریچھ ان میں نہ تھا۔ آخر آگے بڑھتا ہوا میں پہاڑی ٹیلے کے نیچے آ پہنچا۔ یہاں رک کر میں نے ایک مرتبہ پھر ٹارچ کی روشنی میں اوپر نیچے چاروں طرف ریچھ کو دیکھنے کی کوشش کی۔ مگر خدا جانے وہ موذی کہاں جا چھپا تھا۔ میں اور آگے بڑھا۔۔۔ یکایک میرے قدموں تلے سرسراہٹ سی پیدا ہوئی اور اسی لمحے اگر میں اچھل کر پیچھے نہ ہٹ جاتا تو میرا کام تمام تھا۔۔۔۔ ٹارچ کی روشنی میں کیا دیکھتا ہوں کہ صرف ایک فٹ کے فاصلے پر ایک خوفناک سانپ میری طرف دیکھ کر گھور رہا ہے، اس کا منہ کھلا ہوا تھا۔ اور حلق سے ایک تیز سیٹی کی آواز نکل رہی تھی۔ اس نے اپنا جسم سمیٹ لیا اور گردن اٹھا کر میری طرف لپکا۔ میں چاہتا تو ایک ہی فائر میں اس کا خاتمہ کر سکتا تھا۔ مگر یہ سوچ کر پیچھے ہٹ گیا کہ اس طرح ریچھ خبردار ہو جائے گا۔ میں نے قریب پڑا ہوا ایک پتھر اٹھایا۔ اور سانپ کی طرف بڑھا۔ سانپ کو روکنے کے لیے یہ اقدام کافی تھا۔ وہ مڑا اور پہاڑی ٹیلوں میں گھس گیا۔
میں یہ سوچ رہا تھا کہ آج ریچھ کہاں غائب ہو گیا۔ دو ہی باتیں ذہن میں آتی تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید سرِ شام ہی وہ اپنے غار سے نکل کر کسی اور جانب چلا گیا یا ابھی تک اس کا پیٹ بھرا ہوا ہے اور وہ غار میں بے خبر پڑا سو رہا ہے۔ یہ سوچ کر میں خانقاہ کی طرف واپس ہوا۔ عالم بخش میرے انتظار میں جاگ رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ تھوڑی دیر بعد میں ایک مرتبہ پھر ریچھ کی تلاش میں جاؤں گا۔
آدھی رات کو میں پھر ریچھ کی تلاش میں گھوم رہا تھا۔ اس مرتبہ بھی میں نے اسے چاروں طرف ڈھونڈا۔ مگر بے سود۔ خدا معلوم اسے زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا تھا۔
تھک ہار کر میں خانقاہ میں واپس آیا۔ اور بستر پر گر کر بے خبر سو گیا۔۔۔ آنکھ کھلی تو سورج اپنا آدھا سفر طے کر چکا تھا۔ جنگل اور پہاڑی ٹیلے تیز چمکیلی دھوپ میں جگما رہے تھے عالم بخش کی بیوی نے میرے لیے پلاؤ پکایا تھا۔۔۔ یہ کھانا لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں اور واقعی خوب لذیذ ہوتا ہے۔ کھانے اور چائے سے فارغ ہو کر مَیں نے پھر کمر کسی، دن کے اُجالے میں ریچھ کا کھوج لگانا نسبتاً آسان تھا۔ مَیں جانتا تھا کہ وہ لازماً اس وقت اپنے غار میں پڑا سو رہا ہوگا۔ عالم بخش میرے ساتھ پہاڑی تک گیا اور ہاتھوں کے اشارے سے اس نے مجھے وہ غار دکھایا جہاں اس کے خیال کے مُطابق ریچھ رہتا تھا۔ مَیں نے اُسے رخصت کیا اور خود آہستہ آہستہ غار کی طرف چڑھنے لگا۔ میرے پاؤں میں ربڑ سول کے جوتے تھے جن سے قدموں کی ذرا سی آہٹ بھی پیدا نہ ہوتی تھی۔ غار کے منہ پر آ کر میں رک گیا اور کان لگا کر سننے کی کوشش کی۔ ریچھ کی عادت ہے کہ وہ سوتے ہوئے زور سے خراٹے لیا کرتا ہے، لیکن غار میں بالکل سناٹا تھا۔ میں نے دس منٹ تک انتظار کیا کہ شاید کوئی آواز سنائی دے۔ دھوپ اتنی تیز تھی کہ پسینے سے میرے کپڑے تر ہو چکے تھے۔ تنگ آکر میں نے چند پتھر اٹھائے اور غار میں پھینکے مجھے یقین تھا کہ ریچھ اگر غار میں کہیں موجود ہے تو یہ پتھر اسے جگانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن بے سود میں اور نزدیک گیا۔ اندر جھانکا۔ غار میں ریچھ نہ تھا۔
میں خانقاہ پہنچا اور عالم بخش کو بتایا کہ ریچھ شاید یہاں سے کہیں اور چلا گیا ہے اور اب میں بنگلور واپس جا رہا ہوں۔۔۔ میں نے عالم بخش کو کچھ روپے دیے اور تاکید کی کہ جونہی ریچھ اسے گرد و نواح میں دکھائی دے وہ فوراً تار کے ذریعے مجھے اطلاع دے۔ اسی طرح ایک ماہ گزر گیا اور ریچھ کی کوئی خبر مجھ تک نہ پہنچی۔
ایک روز مجھے چک مگلور کے ضلعی افسر کی طرف سے ایک تار اس مضمون کا موصول ہوا کہ سیکری پٹنہ کے قریب ایک ریچھ نے حملہ کر کے دو لکڑہاروں کو شدید زخمی کر دیا ہے جن میں بعد ازاں ایک لکڑہارا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے مر گیا۔ تار میں درخواست کی گئی تھی کہ اگر وہاں پہنچ کر اس ریچھ کا قصہ پاک کر دوں تو یہ بہت بڑی خدمت ہوگی۔
بابا عالم بخش کی خانقاہ سے کوئی بیس میل دور شمال مغرب کی جانب چک مگلور کا جنگل واقع ہے۔ چک مگلور میسور کے ضلع کھادر کا مشہور مقام ہے اور سیکری پٹنہ کا مختصر سا قصبہ چک مگلور اور کھادر کے درمیان میں ہے۔ میں نے اس تار سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ وہی ظالم ہے جس نے عالم بخش کے بیٹے کو ہلاک کر دیا تھا۔ مگر اب سوال یہ تھا کہ اتنے وسیع و عریض علاقے میں جو سینکڑوں ہی درندوں سے پٹا پڑا ہے ایک خاص ریچھ کو کیوں کر تلاش کیا جا سکتا ہے؟ میں نے ضلعی افسر کو لکھا کہ وہ اس ریچھ کے بارے میں مزید معلومات بھیجے کہ وہ پہلے کس مقام پر دیکھا گیا اور کیا اس نے کسی اور پر تو حملہ نہیں کیا۔ دس روز بعد جواب آیا کہ ریچھ کے بارے میں یہ اندازہ ہے کہ سیکرٹری پٹنہ سے تین میل دور وہ ایک پہاڑی گپھا میں رہتا ہے۔ اس کے قریب ہی ایک جھیل ‘لونکیری’ واقع ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ سڑک جنگل میں سے جاتی ہے۔ حال ہی میں ریچھ نے جنگل کا ایک چوکیدار بھی مار ڈالا ہے۔ وہ اس سڑک پر حسبِ معمول نگرانی کے لیے گشت لگا رہا تھا۔
میرے لیے یہ اطلاع کافی تھی۔ میں نے ضروری سامان اپنی موٹر میں رکھا اور چک مگلور پہنچا۔ وہاں سے محکمۂ جنگلات کے ضلعی افسر کو ساتھ لیا اور سیکری پٹنہ پہنچ کر ریسٹ ہاؤس میں ڈیرے ڈال دیے۔ یہ میری خوش قسمتی تھی کہ اس روز سہ پہر کو جبکہ ہم سفر کی تھکن اتار رہے تھے، ایک شخص دوڑتا ہوا ریسٹ ہاؤس میں آیا اور کہنے لگا کہ ریچھ نے اس کے بھائی پر حملہ کر دیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس شخص کا بھائی اسی پہاڑی کے قریب اپنے موشی چرا رہا تھا کہ ریچھ ایک طرف نمودار ہوا اور اس نے چرواہے پر حملہ کیا۔ چرواہا مدد کے لیے چیخنے چلّانے لگا لیکن اس کی آواز ریچھ کی غرّاہٹوں میں دب کر رہ گئی۔۔۔ چرواہے کا چھوٹا بھائی، جو یہ خبر ہمارے پاس لایا، پہاڑی کے نیچے بیٹھا تھا۔ اس نے چیخوں کی آواز سنی اور ڈر کے مارے ادھر جانے کی بجائے سیدھا ہمارے پاس آیا۔
یہ خبر میرے لیے باعثِ حیرت تھی۔ میں ریچھوں کی فطرت سے بخوبی واقف ہوں اور جانتا ہوں کہ وہ کبھی دن کے وقت اپنے گھر سے باہر نہیں نکلتا۔ انہیں یا تو سورج غروب ہوتے وقت یا علی الصبح گھر سے باہر دیکھا جاتا ہے۔ ورنہ سارا دن وہ سو کر گزارتے ہیں۔ اب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بدنصیب چرواہا اپنے مویشی لے کر یقیناً ایسی جگہ جا پہنچا جہاں ریچھ خراٹے لے رہا ہوگا۔ ریچھ کی آنکھ کھلی اور اس نے غصّے میں آ کر چرواہا پر حملہ کر دیا۔ اس واقعے کی یہی ایک توجیہہ ہو سکتی ہے۔
اس وقت ساڑھے چار بجے تھے۔ میں نے فوراً اپنی رائفل سنبھالی، تین چار مددگاروں کو ساتھ لیا اور چرواہے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا کہ شاید ریچھ نے اسے زخمی کرکے چھوڑ دیا ہو۔ میرا خیال تھا کہ وہ مقام زیادہ دور نہ ہوگا۔ مگر ہمیں جنگل میں مسلسل چھ میل تک چلنا پڑا۔ آخر ہم ایک پہاڑی کے نیچے پہنچے جس کے چاروں طرف اور اوپر گھنی جھاڑیاں تھیں۔ آخر ہم ایک پہاڑی کے نیچے پہنچے جس کے چاروں طرف اور اوپر گھنی جھاڑیاں تھیں۔ اور بانس کے درختوں کا جُھنڈ تھا وہاں تک پہنچتے پہنچتے شام کے چھ بج گئے۔۔۔ سردیوں کے دن تھے۔ اور سورج غروب ہو چکا تھا۔
سردی اور تاریکی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی تھی۔ لطف کی بات یہ کہ گاؤں کے وہ آدمی جو میری مدد کے لیے میرے ساتھ یہاں تک آئے تھے، اچانک خوفزدہ سے دکھائی دینے لگے۔ انہوں نے مزید آگے بڑھنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم تو گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ خود انہوں نے مجھے بھی نصیحت کی کہ اب تو اندھیرا ہو گیا ہے، ریچھ کا ملنا محال ہے، کل صبح آ کر اسے تلاش کریں گے۔ البتہ چرواہے کے بھائی نے کہا کہ وہ وہیں ٹھہرے گا۔ آگے جانے سے اس کا بھی دم نکلتا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ چیخوں کی آواز وہاں سے آئی تھی۔۔۔ میں آگے بڑھ گیا اور اس شخص کا نام پکارنے لگا جس پر ریچھ نے حملہ کیا تھا۔ مگر میری آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ کوئی جواب نہ آیا جنگل میں ہیبت ناک سناٹا تھا۔ مجھے اندھیرے کی فکر نہ تھی کیونکہ ٹارچ میرے پاس تھی۔ جسے میں روشن کر کے اپنا راستہ طے کر رہا تھا۔ میں آگے بڑھتا گیا۔ اور راستہ تنگ سے تنگ، زیادہ مشکل اور گھنا ہوتا گیا۔ ایک مقام پر پہنچ کر خار دار جھاڑیوں نے میرا راستہ روک لیا۔ میں وہاں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ واپس جاؤں یا کیا کروں کہ دفعتہً میرے کانوں میں کراہنے اور ہچکیاں لینے کی بہت مدھم سی آواز آئی۔ میں چونک اٹھا اور کان لگا کر یہ آواز سننے لگا۔ آواز یقیناً آ رہی تھی لیکن دور سے۔۔۔ میں جس مقام پر کھڑا تھا، وہ کافی اونچائی پر تھا اور نیچے میرے قدموں تلے دو پہاڑی ٹیلوں کے درمیان ایک چھوٹی سی وادی تھی۔ آواز وہیں سے آ رہی تھی۔
اب میرے سامنے اس کے سوا اور کوئی چارۂ کار نہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح ان جھاڑیوں کو عبور کروں اور اس آدمی کی تلاش کر کے اپنے ساتھ لے جاؤں جو خدا جانے کس مصیبت میں مبتلا ہے۔ ٹارچ کی روشنی میں مجھے ایک مقام ایسا دکھائی دیا جہاں جھاڑیاں نسبتاً کم گھنی تھیں۔ کانٹوں سے الجھتا ہوا میں مشکل سے دوسری جانب نکلا۔ میرے سامنے اب ایک ڈھلوان اور ایک پھسلواں راستہ تھا جس پر اترنا تھا۔ یہاں رک کر میں نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر پوری قوّت سے چرواہے کا نام لے کر آواز دی۔
‘تِھمّا۔۔۔ تِھّما۔۔۔‘
مجھے یقین تھا کہ میری آواز وہ اب ضرور سن لے گا۔ پہاڑی ٹیلوں سے میری آواز ٹکرا کر واپس آئی۔ اور سویا ہوا جنگل یکایک گونج اٹھا۔ میں کان لگائے جواب کا منتظر تھا۔ کوئی دو منٹ بعد ہی میرے دائیں ہاتھ پر وادی کے اندر سے کراہنے کی آواز آئی۔ میں نے ڈھلوان راستہ طے کیا۔ ایک جگہ پیر پھسلا اور میں گرتے گرتے بچا۔ یہ تمام راستہ خار دار جھاڑیوں سے پٹا پڑا تھا اور کانٹوں نے میرے کپڑے تار تار کر دیے تھے، جسم پر کئی جگہ خراشیں آ گئی تھیں۔ کئی سو گز کا فاصلہ طے کرکے میں نے پھر آواز دی اس مرتبہ جواب میں کراہنے کی جو آواز سنائی دی وہ بالکل قریب سے آئی تھی۔۔۔ چند ہی منٹ بعد میں نے اسے ڈھونڈ لیا۔
بدنصیب چرواہا ایک درخت کے تنے کے ساتھ اپنے ہی خون میں نہایا ہوا تھا۔ میں نے جھک کر اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر اتنے گہرے گھاؤ تھے کہ رخساروں کی ہڈیاں صاف دکھائی دیتی تھیں اور گاڑھا گاڑھا خون چہرے پر جم کر سیاہ پڑ گیا تھا۔ ریچھ نے اس کے پیٹ پر بھی پنجہ مارا تھا اور انتڑیاں باہر نکال دی تھیں۔ کبھی کبھی اس کے حلق سے کراہنے کی اونچی آواز بلند ہو جاتی تھی جس سے پتہ چلتا کہ وہ شدید زخمی ہونے کے باوجود ابھی تک زندہ ہے۔
یہ صورت حال اس قدر نازک اور خطرناک تھی کہ میرا ذہن ماؤف ہونے لگا۔ سرسری نگاہ ڈالتے ہی مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ اگر یہ بدنصیب چرواہا رات بھی یہاں اسی طرح پڑا رہا تو صبح تک اس کا زندہ رہنا محال ہے۔ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کہ کیا کیا جائے سوائے اس کے اسے اٹھا کر وہاں تک پہنچایا جائے جہاں اس کے بھائی کو میں چھوڑ آیا تھا۔ اور کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ لیکن زخمی اور ایسے بھاری صحت مند شخص کو اٹھا کر اپنے کندھے پر لادنا بھی ایک مسئلہ تھا۔ اس کاوزن تقریباً میرے برابر تھا۔ تاہم جوں توں کرکے میں نے اسے اٹھایا۔ اور اپنی رائفل کا سہارا لیتا ہوا واپس بلندی پر چڑھنے لگا۔ وہ رات شاید میں کبھی فراموش نہ کر سکوں۔۔۔۔ ایسا خطرناک اور جان لیوا تجربہ مجھے اپنی طویل شکاری زندگی میں کبھی پیش نہ آیا تھا۔ ٹارچ کی روشنی میں ایک ایک قدم بڑی احتیاط سے رکھتا ہوا میں بڑی مشکل سے اوپر چڑھ رہا تھا اور ابھی لبِ بام دو چار ہاتھ رہ گیا تھا کہ دفعتہً میرا بایاں پاؤں پھسلا۔ اور میں تِھمّا سمیت لڑھکنیاں کھاتا ہوا نیچے گرا۔ پندرہ بیس فٹ تک ہم دونوں لڑھکتے چلے گئے۔ اگر خار دار جھاڑیاں ہمیں نہ روک لیتیں تو اسی روز میرا خاتمہ ہو گیا تھا۔ میرے بائیں ٹخنے میں درد کی ایک تیز ٹیس اٹھی اور پھر ایکدم آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔ رائفل میرے ہاتھ سے نکل کر خدا جانے کس کھڈ میں جا پڑی تھی۔
معلوم نہیں میں کتنی دیر بے ہوش رہا۔ شاید دس یا پندرہ منٹ۔۔۔ ہوش آیا تو میں نے اٹھنے کی کوشش کی۔ ٹانگ میں پھر درد کی زبردست ٹیس اٹھی اور میرے منہ سے چیخ نکل گئی۔ خوش قسمتی سے ٹارچ میرے قریب ہی پڑی تھی۔ اس کا سفید پالش کیا ہوا خول چمک رہا تھا۔ میں گھسٹ کر آگے بڑھا اور ٹارچ اٹھا کر روشن کی تو تِھمّا کو پانچ فٹ دور پڑے پایا۔ میں نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا، وہ زندہ تھا۔ میں نے وہیں لیٹے لیٹے زور زور سے تِھمّا کے بھائی کو آوازیں دینا شروع کیں کہ شاید وہ آواز سن لے اور ادھر آ جائے۔ مگر ایک گھنٹے تک چیخنے کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ ڈرپوک آدمی آواز سننے کے باجود بھی ادھر آنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ مجھے اب یہ رات اسی تاریک جنگل میں ایک نیم جان اور زخمی شخص کے ساتھ بسر کرنی تھی۔ اور وہ جنگل جس میں ایک خونخوار ریچھ موجود تھا۔ سردی دم بدم بڑھ رہی تھی، یہاں تک کہ میرا جسم سردی سے بالکل سن ہو گیا۔ اب میں ہاتھ پاؤں بھی نہ ہلا سکتا تھا۔ ریچھ اگر اس وقت ادھر آ نکلتا تو بڑی آسانی سے مجھے ہلاک کر جاتا۔۔۔۔ خدا خدا کرکے وہ لرزہ خیز رات کٹی۔ مشرق کی طرف سے جب صبحِ صادق کی روشنی نمودار ہوئی اور اردگرد کا منظر صاف دکھائی دیا۔ تو میں نے چرواہے کو ٹٹولا۔ وہ خدا معلوم کب مر چکا تھا۔ میں نے ہمت کر کے پہاڑی پر چڑھنے چاہا۔ مگر ہڈی ٹوٹنے کے باعث ٹانگ بری طرح سوج گئی تھی اور ذرا سی ٹھیس لگنے پر اتنا شدید درد ہوتا کہ میرے لیے ناقابلِ برداشت ہو جاتا۔
مجھے یقین تھا کہ فارسٹ آفیسر ضرور چند آدمیوں کو لے کر میری تلاش میں آئے گا۔ میں وہیں جھاڑیوں کے سائے میں دوپہر تک پڑا رہا۔ فارسٹ آفیسر ایک درجن دیہاتیوں کے ساتھ مجھے ڈھونڈتا ہوا ادھر نکل آیا۔ اس کے ساتھ چرواہے کا بھائی بھی تھا۔ مجھے انہوں نے اٹھا کر سیکری پٹنہ کے بنگلے میں پہنچایا۔ وہاں سے رات کے نو بجے فارسٹ آفیسر مجھے اپنی کار میں چک مگلور کے ہسپتال میں چھوڑ آیا۔ ایک ماہ تک میں موت و زیست کی کش مکش میں مبتلا رہا۔ اس اثنا میں ریچھ کی قاتلانہ سرگرمیوں کی اطلاعات برابر میرے کانوں تک پہنچتی رہیں۔ میں اپنے بستر پر پڑے پڑے یہ قسم کھا چکا تھا کہ تف ہے مجھ پر اگر تندرست ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر اندر اس ریچھ کو جہنم واصل نہ کروں۔ جونہی میں اس قابل ہوا کہ چند قدم تک آسانی سے چل سکوں۔ میں نے ہسپتال سے اپنا بوریا بستر اٹھایا اور سیدھا سیکری پٹنہ پہنچا۔ گاؤں والے ریچھ کی دہشت انگیز حرکتوں سے اس قدر نالاں تھے کہ انہوں نے مجھے فرشتۂ رحمت سمجھا۔ معلوم ہوا کہ اس عرصے میں ریچھ چھ سات افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکا ہے۔ اور وہ روزانہ شام کے وقت گاؤں سے ایک میل دور اپنے شکار کی تلاش میں گھومتا رہتا ہے۔
میں شام کو پانچ بجے اپنی رائفل سمیت وہاں پہنچ گیا اور ایک گھنے درخت کے نیچے ڈیرہ جما دیا۔ مجھے یقینِ کامل تھا کہ آج ریچھ کی قضا اسے ضرور ادھر لے آئے گی۔ درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر اور اپنی رائفل گھٹنوں پر رکھ کر میں اس طرح جم کر بیٹھ گیا کہ جیسے صدیوں تک ریچھ کا انتظار کرنے کا ارادہ ہے۔
آخر رات کے گیارہ بجے دفعتہً ریچھ کی غراہٹوں اور پودوں کی شکست و ریخت سے اندازہ ہوا کہ ظالم آ پہنچا۔ ادھر میں سراپا انتظار بیٹھا تھا۔ تاروں کی مدھم روشنی میں میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے صرف پچاس گز کے فاصلے پر ہے۔ خاصا قد آور اور ہٹّا کٹّا جانور تھا۔ اس کی چھوٹی چھوٹی سرخ آنکھیں چمک رہی تھیں۔ خاصا قد آور اور ہٹّا کٹّا جانور تھا۔ میں نے فوراً ٹارچ روشن کی۔ تیز روشنی کی ایک لمبی لکیر ریچھ کے جسم پر پڑی۔ وہ اچھلا اور اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہو کر میری جانب گھورنے لگا۔ اس کے حلق سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ ایسی چیخ کہ کوئی اور سنتا تو خون رگوں میں جم جاتا۔ لیکن میرا واسطہ خدا جانے کتنے آدم خور شیروں سے پڑ چکا تھا۔ میں اس ریچھ کو کیا حیثیت دیتا تھا۔ نہایت اطمینان سے میں نے اس موذی کی چھاتی کا نشانہ لیا اور رائفل کا گھوڑا دبا دیا۔ اور بیک وقت دو فائر کیے۔
ریچھ نے قلابازی کھائی اور پھر وہ زمین سے دوبارہ نہ اٹھ سکا۔ اس طرح چک مگلور کے اس وحشی درندے کا خاتمہ ہوا۔ جس نے عرصے تک اس وسیع علاقے پر اپنی حکومت قائم کر رکھی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: