Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 2

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 2

–**–**–

۲۔ ساؤ کے آدم خور​

میری زندگی کے ناقابلِ فراموش لمحات وہی ہیں جو میں نے ساؤ کے علاقے میں بسر کیے۔ وہ زمانہ آج بھی مجھے یوں یاد ہے، جیسے کل ہی کی بات ہو۔ میں ان دنوں جوان تھا اور خطروں میں کود جانے کی اُمنگ شباب پر تھی۔ مجھے افریقہ میں جن مصائب کا مقابلہ کرنا پڑا اور جو خطرے میرے گِرد منڈلاتے رہے ان کے نقوش بالکل تازہ ہیں، جن کے تصوّر سے آج جی لرزتا ہے اور میں بعض اوقات سوچتا ہوں تو ذہن میں حیرت و تعجّب کی ایک نہ ختم ہونے والی لہر دوڑنے لگتی ہے اور میں خیال کرتا ہوں کہ کیا واقعی ساؤ کے آدم خوروں کو میں نے مارا تھا۔ جنہوں نے کی سو مزدور ہڑپ کر ڈالے تھے۔ جنہوں نے میرا دن کا چین اور رات کی نیند حرام کردی تھی اور یہ تکلیف دہ سلسلہ پورے نو ماہ تک جاری رہا تھا۔ میں خود ان کا لقمہ بنتے بنتے کئی مرتبہ بچا اور پھر کس قدر صعوبت اور مشقّت کے بعد ان موذیوں سے خلقِ خدا کو نجات دلائی۔ یہ سب واقعات میرے حافظے کی لو پر روشن ہیں۔ ساؤ کے وہ آدم خور شیر، سیاہ گینڈے، جنگلی بھینسے جو طاقت میں ہاتھی سے کم نہ تھے اور سولہ سولہ فٹ لمبے مگرمچھ جو دریائے ساؤ میں چھُپے ہوئے اپنے شکار کی آمد کے منتظر رہتے تھے اور ان مصیبتوں کے علاوہ افریقہ کے وحشی اور جنگلی قبائل کے خونخوار باشندے جو سفید فام لوگوں کے خون کے پیاسے تھے۔ ان حالات میں آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ریلوے لائن کی تعمیر کا کام کس قدر دشوار اور مشکل تھا۔ جان ہر وقت سولی پر لٹکی رہتی تھی۔ تاہم ایک شکاری کے لیے ان حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لینا زیادہ محنت طلب بات نہ تھی۔
کبھی کبھار ریلوے لائن کی تعمیر کا کام ضروری سامان وقت پر نہ پہنچنے کے باعث رک جاتا اور کی کی دن تک رکا رہتا۔ ان دنوں مجھے اِدھر اُدھر علاقے میں دور دور تک گھومنے کا اچھا موقع مل جاتا تھا۔ میں بچپن ہی سے ایسی طبیعت لے کر آیا تھا جو سکون اور بےحِسی سے ناآشنا تھی۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کرتے رہنا کا سودا سمایا ہوا تھا۔ اپنی اس عادت کے باعث میں کئی مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مصیبت میں مبتلا ہوا، لیکن یہ عادت نہ بدلی۔ انہی دنوں جب کہ کام رک گیا تھا، میں نے فیصلہ کیا کہ ساؤ کا تمام علاقہ دیکھ لیا جائے۔ خدا کی پناہ! کس قدر گھنا اور تاریک جنگل تھا اور اتنا وسیع و عریض کہ بعض اوقات احساس ہوتا کہ شاید روئے زمین پر اس جنگل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
ایک روز میں دریائے ساہا کے کنارے گھوم رہا تھا کہ دریائی گھوڑوں کا ایک جوڑا دکھائی دیا۔ وہ مجھ سے کوئی دو فرلانگ کے فاصلے پر دریا میں نہا رہا تھا۔ میں دیر تک اس قوی الجثہ اور عجیب الخلقت حیوان کو دیکھتا رہا۔ خدا کی پناہ! کس قدر زبردست اور طاقت ور جانور تھا۔ کبھی کبھی وہ دریا کی سطح پر آ کر سانس لینے کے لیے اپنا وسیع و فراخ منہ کھولتا تو میرے جسم پر چیونٹیاں سی رینگنے لگتیں۔ اس کا منہ اتنا بڑا تھا کہ میرے جیسا ڈیل ڈول رکھنے والا شخص آسانی سے اس میں سما سکتا تھا۔
تیرتے تیرتے اور ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتے ہوئے دریائی گھوڑے میرے بہت قریب آ گئے اور اب انہوں نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ چند منٹ تک وہ حیرت سے منہ کھولے اپنی ننّھی ننّھی آنکھوں سے مجھے یوں تکتے رہے جیسے آدمی کو دیکھنے کا پہلی بار اتفاق ہوا ہے۔ پھر انہوں نے دریا میں ڈبکی لگائی اور تیزی سے اسی طرف واپس ہو گئے، جدھر سے آئے تھے۔ قوت کا بےپناہ خزانہ ان کے جسم میں چھپا ہوا تھا، لیکن ایک نخیف و کمزور آدمی کو دیکھتے ہی خوفزدہ ہو کر بھاگ گئے۔ بدقسمتی سے میرے پاس جو رائفل تھی اس سے چھوٹے موٹے جانور اور شیر چیتے تو مارے جا سکتے تھے، لیکن دریائی گھوڑے کے لیے یہ رائفل بالکل بےکار تھی۔ اس میں چھوٹے اور ہلکے کارتوس استعمال ہوتے تھے۔ بھاری رائفل کا تو فی الحال کوئی انتظام نہیں ہو سکتا تھا، البتہ اپنے مطلب کے کارتوس بنائے جا سکتے تھے۔ بارود کی وافر مقدار میرے پاس موجود تھی۔ میں نے ارادہ کیا کہ کم از کم ایک سو ایسے کارتوسوں میں بارود کی مقدار دوگنی ہو۔ پس میں نے سیسے کے بنے ہوئے خالی کارتوسوں میں بارود بھرنے کا کام شروع کر دیا۔ اگرچہ مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ تجربہ کامیاب رہے گا، لیکن پھر بھی کوشش کر کے دیکھنے میں کیا حرج تھا۔ زیادہ سے زیادہ یہی خطرہ تھا کہ رائفل کی نالی اتنی زبردست قوّت برداشت نہ کر سکے گی اور پھٹ جائے گی۔
ایک روز میں نے رائفل میں اپنا بنایا ہوا کارتوس بھرا اور اسے ایک درخت کے تنے سے باندھ دیا، پھر رائفل کے گھوڑے کے ساتھ میں نے سو فیٹ لمبی ڈوری باندھی اور اتنے فاصلے پر ایک دوسرے درخت کے پیچھے کھڑے ہو کر جب میں نے ڈوری کھینچ کر لبلبی دبائی تو رائفل چل گئی اور یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ رائفل کی نالی صحیح سلامت تھی۔ اب میں دریائی گھوڑوں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اس کے بعد بھی میں نے کارتوس آزمانے کے لیے کئی ایک تجربے کیے اور ان کی قوّت پر پورا اطمینان ہو گیا۔ تیس گز کے فاصلے سے اگر فولاد کی چادر پر فائر کیا جاتا تو اس میں سے بھی گولی نکل جاتی تھی اور ظاہر ہے کہ دریائی گھوڑے کی کھال فولاد کی چادر کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ ایک روز انہی کارتوسوں کی وجہ سے میں مرتے مرتے بچا۔ قصّہ یہ ہوا کہ میں اپنے کمرے میں بیٹھا خالی کارتوسوں میں بارود بھر رہا تھا کہ دفعتاً ایک کارتوس پھٹ گیا اور جلتا ہوا بارود ایک دھماکے کے ساتھ میرے چہرے پر بکھر گیا۔ ایک لمحے کے لیے مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے ہزارہا سوئیاں گرم کر کے میرے چہرے میں گھونپ دی گئی ہیں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپ لیا اور سب سے پہلا خیال جو میرے دل میں آیا وہ یہ تھا کہ میں اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اندھا ہو چکا ہوں کیوں کہ میں جب بھی آنکھیں کھولتا مجھے اپنے اردگرد تاریکی معلوم ہوتی تھی، لیکن خدا کا شکر ہے یہ حالت چند گھنٹوں سے زیادہ قائم نہ رہی اور میں ایک بار پھر اسی دیکھی بھالی دنیا میں لوٹ آیا۔
جب میں ہر طرح کے کیل کانٹے سے لیس ہو چکا تو ہم پانچ چھے آدمیوں کا گروہ دریاے ساباکی کی طرف روانہ ہوا۔ اس گروہ میں میرے علاوہ ایک ہندوستانی ملازم مہینا، باورچی مبارک اور ایک سقّہ شامل تھا۔ یہ ہندوستانی مزدور نہایت محنتی، نڈر اور سخت جان ہوتے ہیں اور فطری طور پر مُہم پسند بھی ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے علاوہ سامان اور کھانے پینے کی چیزیں اٹھانے کے لیے میں نے چند مقامی مزدور بھی ساتھ لے لیے۔ سیروشکار میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ہمیں اپنے کیمپ سے کئی کئی روز مسلسل غیر حاضر رہنا پڑتا۔ تاہم میں نے کبھی چھوٹے بڑے خمیے اپنے ساتھ نہیں رکھے۔ میں ہمیشہ باہر کُھلی جگہ میں رات بسر کرنا اچھا سمجھتا ہوں۔ اگرچہ خوراک کا کافی ذخیرہ ہم لے کر چلے تھے ، مگر میں راستے میں تیتر، جنگلی مُرغ اور مُرغابیاں وغیرہ شکار کرتا رہا۔ دریائے ساباکی کے کنارے کے ساتھ ساتھ دونوں جانب اونچی نیچی چٹانوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ ان چٹانوں کے اندر بہت بڑی تعداد میں چوہے کی شکل و صورت کے خرگوش ملتے ہیں۔ دور سے دیکھیں تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ بڑی جسامت کے چوہے ہیں۔ ان خرگوشوں کی دم بالکل نہیں ہوتی اور یہ پھُدکتے ہوئے چلتے ہیں۔ اگرچہ ان کا گوشت لذیذ ہوتا ہے۔ تاہم مقامی باشندے انہیں پسند نہیں کرتے۔ دریائے ساباکی اور دریائے ساؤ کا درمیانی علاقہ حسن و جمال کے اعتبار سے اس سرزمین کی بہشت قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں ناریل کے درختوں کے جھنڈ کے جھنڈ سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ فضا میں خوشگوار سی نمی کا احساس ہوتا ہے۔ان درختوں کے علاوہ یہاں کثرت سے خوبصورت اور رنگ برنگے جنگلی پھول اور پودے بھی اُگتے ہیں۔ سینکڑوں قسم کے چھوٹے چھوٹے پرندے ہر طرف اڑتے اور چہچہاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ بندر بھی ہزاروں کی تعداد میں یہاں آباد ہیں۔ لیکن یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ اس سرسبز و شاداب خطّے کو عبور کرتے ہی ہمارے سامنے ایک لق و دق صحرا آ جاتا ہے۔ جس میں خود رَو اور خاردار جھاڑیوں کے سوا کوئی شے نہیں۔ کہیں کہیں درختوں سے جھُنڈ ہیں، مگر پھولوں اور پتّوں سے بے نیاز۔ بالکل ٹنڈمنڈ جیسے ان پر موت وارِد ہو چکی ہو۔ سورج کی حدّت اور تپش یہاں اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آدمی بمشکل ایک دو گھنٹے ٹھہر سکتا ہے۔ دریائے ساؤ اس صحرا کے ایک جانب سے گزرتا ہے۔ یہاں اس کی چوڑائی کچھ زیادہ نہیں ہے۔ یوگینڈا کے دریاؤں میں ساؤ اور ساباکی بہت مشہور ہیں۔ ساؤ کا منبع کیلے منجورو کی برف پوش چوٹی ہے۔ اس چوٹی پر سال کے بارہ مہینے برف جمی رہتی ہے۔ موسمِ گرما میں یہ برف بڑی مقدار میں پگھلتی ہے تو دریا کا پاٹ حیرت انگیز طور پر وسیع ہوجاتا ہے۔ یہاں سے یہ دریا نکل کر شمال کی جانب تقریباً اسّی میل کا فاصلہ طے کر کے دریائے اتھائی میں مل جاتا ہے۔ دریاے اتھائی ساؤ اسٹیشن سے سات میل نشیب میں واقع ہے۔ اسی مقام پر دریا میں بہت سے ندی نالے آن کر ملتے ہیں اور پھر یہی دریائے ساباکی نام اختیار کر کے مشرق کی طرف بہتا ہوا مالندی کے مقام پر بحرِ ہند کی بےکراں وسعتوں میں گُم ہو جاتا ہے۔ مالندی ایک چھوٹی سی بندرگاہ ہے جو ممباسا کے شمال میں ستّر میل کے فاصلے پر واقع ہے۔
اگرچہ ہماری رفتار سست تھی، کیوں کہ قدم قدم پر جھاڑیوں اور درختوں کں کی شاخوں سے واسطہ پڑتا تھا لیکن ہم رُکے بغیر دریائے ساباکی کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔ دریا کے کنارے پہ کئی جگہ ہم نے مگرمچھ دیکھے جو اطمینان سے آنکھیں بند کیے اور تھوتھنیاں پانی میں ڈالے پڑے تھے لیکن ہماری آہٹ پاتے ہی وہ تیزی سے رینگتے ہوئے پانی میں غڑاپ غڑاپ کود گئے۔ کوئی دو میل اسی طرح چلنے کے بعد ہمیں ایک جگہ ریت پر دریائی گھوڑے اور گینڈے کے قدموں کے بڑے بڑے نشانات دکھائی دیے۔ یہ نشانات دیکھ کر ہمارا شوقِ جستجو اور تیز ہو گیا اور ہم زیادہ مستعدی اور ہوشیاری سے آگے بڑھنے لگے۔ یہ نشانات نصف فرلانگ تک پھیلے ہوئے تھے اور کہیں کہیں ریتیلے کنارے پر گڑھے بھی موجود تھے اور صاف پتہ چلتا تھا کہ گڑھے کسی بھاری اور قوی جسم کے گرنے سے بنے ہیں۔ شاید اس مقام پر کسی گینڈے اور دریائی گھوڑے کا آمنا سامنا ہو گیا تھا اور ان میں جنگ بھی ہوئی تھی۔ جن شکاریوں نے اپنی عمر میں کبھی کسی دریائی گھوڑے، گینڈے یا جنگلی بھینسے کو آپس میں لڑتے دیکھا ہے، وہی جان سکتے ہیں کہ یہ جنگ کس قدر خوفناک اور لرزہ خیز ہوتی ہے۔ دریائی گھوڑا فطری اعتبار سے نہایت شرمیلا اور رکھ رکھاؤ والا جانور ہے اور لڑنا بھرنا پسند نہیں کرتا لیکن ایسا موقع اگر آ بھی جائے تو پھر نہایت بہادری اور بے خوفی سے اپنے حریف کا مقابلہ کرتا ہے اور اکثر فتح یاب اور کامران ہوتا ہے۔ کرۂ ارض پر ہاتھی کو چھوڑ کر دریائی گھوڑا اس وقت سب سے زیادہ قوی اور وزنی جانور ہے۔ اس کا شمار دودھ پلانے والے حیوانوں میں ہوتا ہے۔ اس کی شکل و شباہت سؤر سے بہت ملتی ہے۔ اس کے جسم کی لمبائی عموماً چودہ فٹ اور اونچائی تین فٹ دس انچ تک ہوتی ہے اور وزن چوراسی من سے زائد ہوتا ہے۔ کان اگرچہ چھوٹے اور لچک دار ہوتے ہیں لیکن سماعت کی حس غضب کی ہوتی ہے۔ جسم موٹا، بھدّا اور پیر چھوٹے چھوٹے ہوتے ہیں۔ تیرتے وقت اس کی آنکھیں اور نتھنے پانی سے باہر رہتے ہیں، دریائی گھوڑے کا سب سے بڑا عجوبہ اور خطرناک ہتھیار اس کا غار نما منہ ہے۔ جس کے دونوں طرف بڑے بڑے دانت نظر آتے ہیں۔ اوپر کا ہونٹ نچلے ہونٹ کی نسبت بہت موٹا ہوتا ہے۔ کھال کی موٹائی دو انچ سے زائد ہوتی ہے۔ دریائی گھوڑے بیس بیس چالیس چالیس کے گروہوں کی شکل میں دریاوں کے کنارے یا ڈیلٹاؤں میں رہتے ہیں۔ ان کی خوراک دریائی پودے اور جنگلی گھاس پھوس ہے۔ پکی ہوئی فصلوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور آن کی آن میں سب کچ تہس نہس کر ڈالتے ہیں۔ جزیرہ کریٹ، مالٹا، سسلی، بھارت، برما اور افریقہ کے شمالی حصّے میں بھی دریائی گھوڑوں کی کئی قسمیں پائی جاتی ہیں۔ حال ہی میں جزیرۂ مڈغاسکر میں بھی ان کی ایک نئی اور ذرا چھوٹی قسم دریافت ہوئی ہے۔ مغربی افریقہ کے جنگلوں میں بھی دریائی گھوڑے ملتے ہیں لیکن ان کا قد و قامت سؤر سے زیادہ بڑا نہیں ہوتا۔
دریائے ساباکی کے کنارے ان گڑھوں کو دیکھ کر مجھے خود اپنا ایک چشم دید واقعہ یاد آ گیا۔ ایسا عجیب اور خوفناک واقعہ میں نے اپنی آنکھوں سے دوبارہ نہیں دیکھا۔ اس لیے میں یہاں بیان کرتا ہوں۔ یہ ایک دریائی گھوڑے اور جنگلی بھینسے کی خون ریز جنگ تھی۔ میں اس زمانے میں کانگو کے جنگل میں گھوم رہا تھا۔ ایک روز دوپہر کے وقت جنگل کے کھلے حصّے میں، جہاں سے دریائے کانگو صاف دکھائی دیتا تھا، تھرماس میں سے قہوہ نکال کر پی رہا تھا کہ یکایک ایک دریائی گھوڑا دریا میں سے نکلا اور کنارے پر آ کر جنگل کی طرف بڑھا۔ میں اسے دیکھتا رہا۔ غالباً وہ بھوکا تھا اور خس و خاشاک سے اپنا پیٹ بھرنے آیا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ میرے نزدیک آتا گیا۔ میں درخت کی اوٹ میں بیٹھا سب تماشا دیکھ رہا تھا۔ کئی مرتبہ میں نے ارادہ کیا کہ دریائی گھوڑے پر فائر کروں لیکن وہ اتنے پرسکون اور معصومانہ انداز میں گھاس اور پودے کھا رہا تھا کہ مجھے اپنے فاسد ارادے پر شرم محسوس ہونے لگی۔ یکایک میرے دائیں ہاتھ پر جھاڑیوں میں کچھ کھڑکھڑاہٹ سی پیدا ہوئی۔ میں چونکنا ہو کر اُدھر دیکھنے لگا۔ پہلا خیال جو میرے دل میں آیا وہ کسی شیر یا چیتے کا تھا۔ کیوں کہ یہ درندہ اسی طرح جھاڑیوں میں چھُپ چھُپ کر شکار کا تعاقب کرتا ہے۔ میں لپک کر اسی درخت پر چڑھ گیا۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ اگر جھاڑیوں میں چھپنے والا جانور کوئی شیر ہی ہے تو دیکھیں وہ دریائی گھوڑے پر حملہ کرتا ہے یا نہیں۔ ابھی میں بمشکل درخت پر بیٹھنے کے لیے ایک محفوظ سی جگہ تلاش کر ہی پایا تھا کہ چمک دار سیاہ رنگ کا ایک قوی ہیکل جنگلی بھینسا جھاڑیوں کو چیرتا ہوا نمودار ہوا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں اور گردن تکبّر اور غرور کے انداز میں تنی ہوئی تھی۔ اس جنگلی بھینسے کو دیکھ کر یوں تو خوف آنا لازمی تھا، مگر سب سے ڈرانے والی شے اس کے لمبے اور نوکیلے سینگ تھے۔ جن کی زد میں آ کر مشکل ہی کوئی حریف یا مقابل زندہ بچ سکتا تھا۔ بعض اوقات میں نے خود دیکھا ہے کہ جنگل کا بادشاہ بھی ان سینگوں سے ڈر کر بھاگ نکلتا ہے۔ دریائی گھوڑے نے بھی فوراً اپنے حریف کی موجودگی کو محسوس کر لیا۔ کیوں کہ اب وہ بےحس و حرکت کھڑا منہ اوپر اٹھائے اپنے عین سامنے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ اپنے موٹے اور بے ڈول پیروں سے بھد بھد کی آواز پیدا کرتا ہوا جنگلی بھینسے کی طرف بڑھا۔ میرا خیال تھا کہ جنگلی بھینسا اپنے اس زبردست مقابل کو دیکھ کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوگا۔ لیکن نہیں۔ وہ بھی گردن جھکا کر نہایت جارہانہ انداز میں اچھالتا ہوا دوڑا اور جاتے ہی ایک ٹکّر دریائی گھوڑے کے منہ پہ ماری۔ دریائی گھوڑے نے اس حملے سے بچنے کے لیے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا اور بھینسے کے نوکیلے سینگ اس کی گردن میں گڑ گئے۔ بھینسا اگرچہ دریائی گھوڑے کے مقابلے میں حقیر تھا، تاہم نہایت پھرتیلا اور چست ثابت ہوا۔ چند ہی منٹ میں اس نے دریائی گھوڑے کو لہولہان کر دیا۔ اس کے جسم کے ہر حصّے پر اپنے نوکیلے سینگوں سے سوراخ کر دیے۔ جن میں سے خون فوارے کی طرح اچھلتا ہوا نکل رہا تھا۔ دریائی گھوڑا نہایت وزنی ہونے کی باعث بھینسے کے حملے کو روکنے پر قادر نہیں تھا۔ اس طرح اس کا سیروں خون بہہ گیا۔ ادھر بھینسے کا جوش و خروش بڑھتا ہی جاتا تھا۔ بار بار وہ پیچھے ہٹ کر اچھلتا ہوا آتا اور پوری قوت سے اپنے سینگ دریائی گھوڑے کے جسم میں گھونپ دیتا۔ ان دونوں کے منہ سے طرح طرح کی چیخیں نکل رہی تھیں، جن سے پورے جنگل پر ایک لرزہ سا طاری تھا اور زمین ان کے قدموں کی دھمک سے بار بار کانپ اٹھتی تھی۔ میں درخت پر سہما ہوا بیٹھا یہ عجیب و غریب اور خون ریز جنگ دیکھنے میں محو تھا اور مجھے یقین تھا کہ اس جنگ میں جنگلی بھینسا کامیاب و کامران ہوگا۔ آدھے گھنٹے کی لڑائی کے بعد دریائی گھوڑا بالکل بے بس اور لاچار ہو گیا۔ اب وہ قطعئ طور پر ادھ مؤا ہو چکا تھا۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ڈھرام سے زمین پر گر گیا۔ اب جنگلی بھینسا اس کے چاروں طرف پھوں پھوں کی آوازیں نکالتا ہوا رقص کرنے لگا اور گھوڑے کے پیٹ میں سینگ گھونپتا رہا۔ دریائی گھوڑا ابھی تک زندہ تھا اور اس کا پہاڑ سا جسم خون میں لت پت ہو چکا تھا۔ میں سمجھا کہ بس یہ چند منٹ کا مہمان ہے لیکن اس کے بعد جو منظر میں نے دیکھا وہ مجھے زندگی بھر حیرت زدہ بنائے رکھنے کے لیے کافی ہے۔
جنگلی بھینسا دریائی گھوڑے کے جسم میں مسلسل اپنے سینگ گھونپے جا رہا تھا اور اپنی طرف سے وہ دشمن پر پوری طرح قابو پا چکا تھا۔ دریائی گھوڑا دم سادھے پڑا تھا، لیکن ایک ہی مرتبہ اس نے اپنا غار سا منہ کھول کر جنگلی بھینسے کی گردن پکڑ لی اور اسے اس زور سے بھینچا کہ بھینسے کی گردن علیحدہ ہو کر دریائی گھوڑے کے منہ میں رہ گئی اور دھڑ زمین پر گر کر تڑپنے لگا۔ چند منٹ بعد بھینسے کی سر کٹی لاش ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ دریائی گھوڑا لوٹ پوٹ کر اٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا دریا کے اندر کود کر پانی کی تہہ میں نہ جانے کدھر غائب ہو گیا۔
دریائے ساباکی کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس کا پاٹ کہیں بہت تنگ اور کہیں بہت وسیع ہو جاتا ہے کہ اسے عبور کرنا خاصا مشکل کام ہے۔ دریا کے اندر ہی اندر بعض مقامات پر چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ جن پر رات کے وقت دریائی گھوڑے آ کر لوٹ مارتے ہیں۔ میرے ملازم مہینا نے کہا کہ انہی جزیروں میں سے کسی ایک پر ہم رات کو ڈیرہ جمائیں، لیکن اس کے ساتھ ایک عظیم خطرہ یہ بھی لاحق تھا کہ دریا میں مگرمچھ بڑی تعداد میں تھے اور عین ممکن تھا کہ جب ہم پانی میں قدم رکھتے تو کوئی مگرمچھ اندر ہی اندر تیرتا ہوا آتا اور ہم میں سے کسی کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ کر لے جاتا۔ آخر ہم نے دریا کے کنارے ایک بڑے درخت کے نیچے اپنا سامان رکھ دیا۔ دوپہر سر پر آ چکی تھی اور تھکن سے سب کا برا حال تھا۔ مبارک باورچی نے جلدی جلدی سب کے لیے کھانا نکالا۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے بقیہ لوگوں کو وہیں ٹھہرنے کی ہدایت کی اور خود مہینا کو ساتھ لے کر کسی جزیرے کی تلاش میں آگے روانہ ہوا۔ ابھی ہم بمشکل ایک فرلانگ ہی گئے تھے کہ یکایک مہینا نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔ وہ مجھ سے دس قدم آگے جا رہا تھا۔ میں رک گیا۔ وہ الٹے قدموں واپس آیا اور کہنے لگا، “وہ دیکھیے دریا کے کنارے ایک ہرن کھڑا پانی پی رہا ہے۔”
میں نے غور سے اس طرف دیکھا۔ کیا شاندار اور پلا ہوا ہرن تھا۔ اس کی سیاہ کھال شیشے کی مانند چمک رہی تھی۔ پہلے میں نے ارادہ کیا کہ ذرا قریب جا کر نشانہ بناؤں، لیکن اس خوف سے کہ ہرن میری آہٹ پا کر فرار نہ ہو جائے میں نے وہیں کھڑے کھڑے نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔ فائر ہوتے ہی ہرن فضا میں اچھلا اور دریا کے اندر جا پڑا۔ ہم دونوں اس کی طرف بھاگے، مگر وہ فوراً ہی اٹھا اور پانی میں تیرتا ہوا دوسرے کنارے پر چڑھ کر جنگل میں گھس گیا۔ مجھے یقین تھا کہ گولی ہرن کو لگی ہے اور اب اسے کسی قیمت پر بھی چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ پس ہم بھی مگرمچھوں کے خوف سے بےنیاز ہو کر دریا میں کود پڑے۔ خوش قسمتی سے اس مقام پر پانی زیادہ گہرا نہ تھا۔ ہم دس منٹ کے اندر اندر دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ ہم نے جلد ہی ہرن کے قدموں کے نشانات تلاش کر لیے اور مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ ریت پر ان نشانات کے ساتھ ساتھ خون کے تازہ قطرے بھی موجود تھے، لیکن ہرن کو اس گھنے جنگل میں جہاں کئی کئی فٹ لمبی گھاس اور قد آدم جھاڑیاں کھڑی تھیں تلاش کرنا کارے وارد تھا۔ ہم دونوں دیوانوں کی طرح جنگل میں گھس گئے اور ہرن کو ڈھونڈنے لگے۔ مجھے خوف یہ تھا کہ ہرن زخمی ہونے کے باعث کمزور ہو کر کہیں گر پڑے گا اور کسی درندے کے منہ کا لقمہ بن جائے گا اور میں اسے ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ہمیں قطعاً احساس نہ ہوا کہ کتنا وقت گزر گیا اور رات کب سر پر آ گئی۔ سورج غروب ہوتے ہی تاریکی نے غلبہ پا لیا اور جنگل کی زندگی بیدار ہونے لگی۔ درختوں پر چھپے ہوئے پرندے بولنے لگے۔ بندر چیخنے لگے اور دور کہیں ہم نے کسی شیر کے دھاڑنے کی آواز بھی سنی۔
شیر کی دھاڑ سنتے ہی ہمارے ہوش اڑ گئے۔ اگرچہ میں ایک تجربہ کار شکاری ہوں اور زندگی میں بہت سے آدم خور شیروں کا مقابلہ کر چکا ہوں۔ تاہم یہ بات کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ تاریک جنگل میں رات کے وقت شیر کی دھاڑ سن کر نڈر سے نڈر آدمی کا پتّہ بھی پانی ہو جاتا ہے۔ خدا نے اس درندے کی آواز میں دبدبے اور دہشت کا ایسا عنصر رکھ دیا ہے کہ دل کانپ کانپ جاتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ شیر خواہ کتنی ہی دور دھاڑ رہا ہو یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہم سے بہت قریب ہے۔
شیر کی پکار سن کر مہینا کی حالت مجھ سے زیادہ ابتر تھی۔ بےچارہ تھر تھر کانپ رہا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا، “آقا! خدا کے واسطے یہاں سے نکل چلیے۔ شیر ہمارے آس پاس پھر رہا ہے۔ وہ ضرور شکار کی تلاش میں نکلا ہے۔ یہ ہرن اس کے لیے چھوڑ دیجیے۔”
دل تو میرا بھی ڈر رہا تھا، مگر اس کے سامنے میں نے زبردستی ہنس کر کہا، “مجھے آج معلوم ہوا کہ تم خاصے بزدل آدمی ہو۔ ارے پاگل! یہ شیر جس کی آواز تم سن رہے ہو۔ یہاں سے کئی میل دور ہے۔ جتنی دیر میں وہ اِدھر آئے گا۔ ہم کہیں کے کہیں پہنچ چکے ہوں گے۔ آؤ اب واپس چلیں۔”
خوش قسمتی سے رات اتنی اندھیری نہ تھی اور غالباً چاند نکلنے ہی والا تھا۔ ہم تیز تیز چلتے ہوئے دریا کی طرف روانہ ہوئے۔ چلتے رہے۔ چلتے رہے۔ نہ معلوم کتنی دیر ہم رکے بغیر چلے۔ دریا کا کہیں پتہ نہ تھا۔ البتہ مشرق کی طرف سے سرد ہوا کے جھونکے بار بار ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے بتا جاتے کہ دریا قریب ہی ہے۔ چاند اب اتنی بلندی پر آ چکا تھا کہ اس کی روشنی سے جنگل منوّر ہو گیا اور ہمیں کافی فاصلے کا منظر آسانی سے دکھائی دے رہا تھا۔ ایک بھیانک خاموشی ہر طرف طاری تھی۔ البتہ کبھی کبھی کوئی بڑی چمگاڈر پھڑپھڑاتی ہوئی ہمارے سروں پر سے گزر جاتی۔ اب ہم دریا کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ لہروں کے پُرشور آواز بخوبی سنائی دے رہی تھی۔
تھوڑی دور اور چلنے کے بعد دریا ہماری نظروں کے سامنے تھا۔ چاند کی روشنی میں اس کا پانی چاندی کی ایک لمبی سی لکیر کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے اور تیز ہو گئے۔ ہمیں چند قدم آگے بڑھنے پر فوراً احساس ہو گیا کہ یہ جگہ وہ نہیں ہے جہاں سے ہم نے دریا عبور کیا تھا۔ بلکہ راستہ بھول کر ہم ایسے مقام پر آ نکلے تھے جہاں دریا کا پاٹ نہایت وسیع تھا اور پانی جس رفتار سے بہہ رہا تھا، اسے دیکھ کر بخوبی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کافی گہرا ہے اور لازماً اس میں مگرمچھ چھُپے ہوں گے۔ اب ہم وہاں کھڑے یہ سوچ رہے تھے کہ کیا کریں کدھر جائیں دریا عبور کرنا تو حماقت ہی تھی۔ اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ کافی فاصلے پر دریا میں ایک بہت بڑا سیاہ دھبہ حرکت کر رہا تھا۔ میں نے مہینا سے کہا، “یہ کیا چیز ہے؟”
وہ بغور دیکھنے لگا یہ دھبّہ آہستہ آہستہ بڑا ہوتا جا رہا تھا۔ یکایک وہ چیخا، “صاحب! یہ دریائی گھوڑوں کا قبیلہ ہے۔”
میں حیرت سے اس قبیلے کو دیکھنے لگا جس میں بلا مبالغہ تیس چالیس دریائی گھوڑے تھے۔ ان کے جسم پانی کے اندر چھُپے ہوئے تھے اور صرف منہ باہر تھے۔ ان کے جلوس میں ایک بےپناہ شور اور ہنگامہ چلا آ رہا تھا۔ وہ پانی میں اچھلتے، ایک دوسرے کو منہ مارتے اور دھکیلتے آگے بڑھ رہے تھے۔ ہم کنارے سے ذرا دور ہٹ گئے اور ایک درخت کی آڑ میں کھڑے ہو کر انہیں دیکھنے لگے۔ چند منٹ بعد وہ ہمارے قریب سے گزر گئے۔ اب ہم کنارے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ ہمارا خیال تھا کہ آگے یقیناً ایسا مقام مل جائے گا، جہاں دریا کا پاٹ اتنا چوڑا نہ ہو اور ہم آسانی سے دریا عبور کر لیں۔ ایک گھنٹے تک مسلسل چلنے کے بعد آخر ایسی جگہ ہمیں نظر آ گئی۔ مجھے سب سے زیادہ فکر اُن لوگوں کی تھی جنھیں میں ایک جگہ ٹھہرنے کی ہدایت کر آیا تھا وہ یقیناً ہماری گمشدگی کے باعث سخت پریشان ہوں گے اور ممکن ہے کہ وہ ہماری تلاش میں گھوم رہے ہوں۔
اس مقام میں دریا کا پانی کمر تک تھا۔ ابھی ہم نے آدھا فاصلہ طے کیا تھا کہ دوسرے کنارے پر سامنے جنگل میں سے یکایک ایک دریائی گھوڑا نمودار ہوا اور دریا میں کود پڑا۔ اس کا رخ ہماری طرف تھا، لیکن جونہی اس نے ہمیں دیکھا وہ واپس پلٹا اور جلدی سے کنارے پر چڑھ کر جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔ یہ واقعہ اتنی سرعت سے پیش آیا کہ میرا ذہن ایک لمحے کے لیے قطعی ماؤف ہو گیا۔ میری نظروں کے سامنے کوئی پچاس گز کے فاصلے پر اونچی اونچی اور نہایت گھنی جھاڑیوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا تھا اور دریائی گھوڑا ان میں سے آسانی کے ساتھ یوں گزر گیا، جیسے یہ جھاڑیاں نہ تھیں بلکہ خس و خاشاک کی معمولی سی دیوار تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہم بھی دوسرے کنارے پر پہنچ گئے۔ ہمارے کپڑے بھیگ چکے تھے اور لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی خنکی میں ان بھیگے ہوئے کپڑوں کا پہنے رہنا جان بوجھ کر بیماری مول لینے کے مترادف تھا۔ اُدھر دریائی گھوڑے کا بھی ڈر تھا کہ نہ معلوم وہ کس وقت اِدھر آ جائے اور وار کرے۔ میں نے رائفل ایک طرف رکھی اور جلدی جلدی سوکھی شاخیں اور گھاس پھونس جمع کر کے آگ سلگائی۔ کپڑے اتار کر خشک کیے۔ اسی اثنا میں دو تین مرتبہ دریائی گھوڑے کی نقل و حرکت کا ہمیں علم ہوا۔ وہ کہیں قریب ہی اپنا پیٹ بھر رہا تھا۔ جھاڑیوں میں اس کے گھسیٹنے اور شاخیں ٹوٹنے کی آوازیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ دفعتاً شیر کی ہولناک دھاڑ سے جنگل لرز گیا اور میں نے جھپٹ کر رائفل اٹھا لی۔ مہینا چلّایا، “صاحب! شیر نے ہماری بُو پا لی ہے۔ جلدی سے درخت پر چڑھ جائیے۔”
ہم دونوں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہوئے ایک درخت پر چڑھ گئے۔ پچھلے پہر کے زرد چاند کی مدھم روشنی میں اردگرد کا منظر نہایت سوگوار اور خاموش دکھائی دیتا تھا۔ شیر کی آواز کا اثر دریائی گھوڑے پر فوری ہوا کیوں کہ چند منٹ تک شاخیں ٹوٹنے کی آواز رکی پھر ایک دم زمین میں تھرتھراہٹ سی نمودار ہوئی اور خشک پتّے چچرائے اور پھر جھاڑیوں کو چیرتا ہوا ایک مست ہاتھی کی مانند دریائی گھوڑا ہمارے عین سامنے نمودار ہوا۔ اس کی کھال کا سیاہ رنگ شیشے کی مانند چمک رہا تھا۔ جھاڑیوں کے اس پار آ کر وہ رکا اور اپنی موٹی بھدّی گردن اور آدھا جسم موڑ کر پیچھے دیکھنے لگا۔
میں نے درخت کے تنے کا سہارا لے کر رائفل سے اس کی پیشانی کا نشانہ لیا اور لبلبی دبا دی۔ فائر کی آواز جنگل میں گونجی اور درختوں پر بسیرا کرتے ہوئے پرندے اچانک ہزاروں کی تعداد میں اپنے اپنے گھونسلوں سے نکل کر فضا میں پرواز کرنے لگے۔ گولی دریائی گھوڑے کے بائیں کندھے میں پیوست ہو گئی، لیکن اس نے کچھ زیادہ اثر نہ لیا بلکہ مشتعل ہو کر اِدھر اُدھر دوڑنے لگا۔ پھر بھد بھد کرتا ہوا وہ دریا کی طرف بھاگا۔ میں نے دو فائر اور کیے۔ دریائی گھوڑا پھر پلٹا اور دوڑتا ہوا اس درخت کی طرف جس پر ہم دونوں چھُپے بیٹھے تھے، پوری قوّت سے آیا اور غالباً قریب سے نکلنا چاہتا تھا، مگر سنبھل نہ سکا اور درخت سے ٹکرایا اور گر پڑا۔ اب وہ درخت کے عین نیچے پڑا لوٹ پوٹ کر اٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا اس کا جسم اور گردن کے اوپر کا حصّہ خون میں لت پت ہے۔ اس کا منہ پوری طرح کھلا ہوا تھا اور حلق میں سے نہایت ڈراؤنی چیخیں نکل رہی تھیں۔ اتنے میں بائیں جانب سے شیر کے دھاڑنے کی پھر آواز آئی اور خون میری رگوں میں جمنے لگا اور پھر اگلے ہی لمحے دو گینڈے اچھلتے کُودتے اور جھاڑیاں پھلانگتے وہاں آ نکلے۔ وہ دونوں خوفزدہ نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ شیر ان کے تعاقب میں یہاں تک آ گیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے گینڈے وہاں رُکے۔ پھر اسی طرح اچھلتے اور دوڑتے دریا کی طرف چلے گئے۔
دریائی گھوڑا لوٹ پوٹ ہو کر ایک بار پھر سے اپنے پیروں کے بل کھڑا ہو گیا تھا۔ اب وہ زور زور سے ہانپ رہا تھا اور اس کے ہانپنے کی آواز اتنی اونچی تھی کہ شیر جو پہلے ہی شکار کی تلاش میں پھر رہا تھا فوراً اِدھر آیا اور میں نے پہلی نگاہ میں پہچان لیا کہ وہ شیر نہیں شیرنی ہے۔ اس کا پورا جسم جھاڑیوں میں چھپا ہوا تھا اور صرف چہرہ باہر تھا۔ اپنی چمکتی ہوئی آنکھوں سے وہ دریائی گھوڑے کو چند لمحوں کے لیے دیکھتی رہی۔ پھر نہایت آہستہ دبے پاؤں آگے بڑھی، بالکل اسی انداز میں جیسے بلّی چوہے کو دیکھ کر چُپکے چُپکے آگے بڑھتی ہے۔ شیرنی کی لمبائی دُم سمیت دس فٹ سے کسی طرح بھی کم نہ تھی اور یہ پہلا موقع تھا کہ میں نے ساؤ کے علاقے میں ایسی قدوقامت اور جسامت والی شیرنی دیکھی۔ اس وقت مجھے دریائی گھوڑے پر بڑا ترس آیا۔ شیرنی کی موجودگی کا اُسے احساس ہو چکا تھا، لیکن کوئی غیر مرئی قوّت تھی جو اسے وہاں جکڑی ہوئی تھی۔ پھر میں نے دیکھا کہ شیرنی آگے بڑھی اور دریائی گھوڑے کا جسم کانپنے لگا اور جب وہ اس سے صرف پندرہ گز کے فاصلے پر رہ گئی تو دریائی گھوڑے نے یکایک زور سے جھرجھری لی اور رُخ بدل کر بےتحاشا جنگل کے اندرونی حصّے کی طرف بھاگا، مگر شیرنی بھلا کہاں جانے دیتی۔ اس نے پوری قوّت سے دو تین چھلانگیں لگائیں اور دریائی گھوڑے پر حملہ آور ہوئی۔ شیرنی نے اپنے دونوں پنجے اس کی پشت پر گاڑ دیے اور لمبے لمبے دانتوں سے اس کی گردن نوچنے لگی۔ اس کے ساتھ ساتھ شیرنی کے حلق سے گرجنے اور غرّانے کی آوازوں نے دریائی گھوڑے کو بالکل بدحواس کر دیا۔ زخمی وہ پہلے سے تھا۔ اب رہی سہی کسر شیرنی کے حملوں نے پوری کر دی۔ وہ دھڑام سے زمین پر گرا اور پھر اٹھ نہ سکا۔ شیرنی نے نہایت اطمینان سے اس کی گردن سے منہ لگا کر خون پیا۔ دو تین مرتبہ فاتحانہ انداز میں گرجی اور چھلانگیں لگاتی ہوئی چشم زدن میں نظروں کے سامنے سے اوجھل ہو گئی۔
دسمبر ١٨٩٨ء میں ریلوے لائن کلندنی کے مقام تک پہنچ چکی تھی۔ کام زور و شور سے جاری تھا۔ ہزارہا مزدور اور کاریگر لگے ہوئے تھے۔ جنگل میں منگل بنا ہوا تھا۔ میرا خیال تھا کہ یہ کام جلد ہی مکمل ہو جائے گا، لیکن چند ہی دنوں میں حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ صورتحال بالکل بدل گئی۔ مجھے یہاں آئے ہوئے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے کہ دو قُلیوں کے گُم ہونے کی اطلاع ملی۔ میں نے اس خبر کو زیادہ اہمیت نہ دی۔ میرے خیال میں انہیں کسی نے پیسوں کے لالچ میں قتل کر دیا تھا، لیکن لوگوں کا خیال یہ تھا کہ انہیں کسی درندے نے اپنا لقمہ بنایا ہے۔ مجھے ان کی رائے سے اتفاق نہیں تھا اور چند ہی دنوں کے بعد لوگ اس واقعے کو بھول گئے۔
اس حادثے کے تقریباً تین ہفتے بعد ایک روز جب میں منہ اندھیرے اٹھا تو مجھے بتایا گیا کہ انگن سنگھ جمعدار کو آدھی رات کے وقت خیمے کے اندر سے ایک شیر گھسیٹ کر لے گیا اور اسے ہڑپ کر گیا۔ جمعدار انگن سنگھ میرے آدمیوں میں سب سے زیادہ محنتی، فرض شناس اور لمبا تڑنگا جوان تھا۔ یہ خبر سن کر مجھے بہت صدمہ ہوا۔ میں فوراً موقعۂ واردات پر پہنچا۔ بلا شبہ یہ کام شیر ہی کا تھا۔ خیمے کے باہر ریت پر شیر کے پنجوں کے نشانات موجود تھے۔
جس خیمے سے شیر انگن سنگھ کو اٹھا کر لے گیا۔ وہ اس میں اکیلا نہیں تھا۔ بلکہ وہاں چھ سات اور بھی مزدور سو رہے تھے۔ انگن سنگھ کے قریب ہی سونے والے ایک مزدور نے شیر کے آنے اور انگن سنگھ کو اٹھا لے جانے کا دردناک واقعہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس کا بیان تھا، “صاحب! کوئی آدھی رات کا عمل تھا۔ ہم سب خیمے کے اندر پڑے بےخبر سو رہے تھے۔یکایک خیمے سے کچھ فاصلے پر میں نے شیر کی غرّاہٹ اور اس کے قدموں کی چاپ سنی اور اس سے پہلے کہ میں اپنے ساتھیوں کو بیدار کروں یا خیمے کا کھلا ہوا دروازہ بند کروں، ایک بہت بڑے شیر کا سر دروازے میں دکھائی دیا۔ انگن سنگھ دروازے کے بالکل قریب تھا۔ شیر نے آناً فاناً اس کی گردن منہ میں دبائی اور خیمے سے باہر چلا گیا۔ انگن سنگھ کی چیخوں نے سب سوئے ہوئے مزدوروں کو جگا دیا، لیکن کسی کی ہمّت نہ پڑی کہ وہ خونخوار درندے کے جبڑوں سے اسے بچانے کی کوشش کرے۔ چند لمحوں تک ہم سب اپنی اپنی جگہ دم سادھے انگن سنگھ کی چیخیں سنتے رہے۔ آہستہ آہستہ چیخوں کی آواز مدھم پڑتی چلی گئی اور ہم نے سمجھ لیا کہ انگن سنگھ ختم ہو چکا ہے۔”
جمعدار انگن سنگھ کی اس درد ناک موت کا رنج تمام مزدوروں کو تھا۔ میں نے سب کو دلاسہ دیا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، جو ہونا تھا ہو چکا۔ انگن سنگھ کی موت اسی طرح لکھی تھی۔ انہی دنوں اتفاق سے میرا ایک ہم وطن کیپٹن ہیلم ساؤ کی سیاحت پر آیا ہوا تھا۔ اسے بھی میری طرح شیر و شکار کا کا جنون تھا۔ میں نے فوراً آدمی بھیج کر ہیلم کو بلایا اور سارا واقعہ سنا کر کہا کہ اس آدم خور کو اگر جلد ٹھکانے نہیں لگایا تو وہ نہ معلوم کتنے آدمیوں کو ہڑپ کر جائے گا۔کیپٹن ہیلم اس مہم میں میرا ساتھ دینے کو تیار ہو گیا۔ پھر ہم شیر کے پنجوں کے نشانوں کے ساتھ ساتھ جنگل میں اس طرف گئے جدھر وہ انگن سنگھ کی لاش گھسیٹ کر لے گیا تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ہمیں خون کے بڑے بڑے دھبّے بھی دکھائی دیے جو اس بات کا بیّن ثبوت تھے کہ شیر نے رُک رُک کر اپنے شکار کا خون پیا ہے۔ آدم خور شیر کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ نیا شکار حاصل کر لینے کے بعد گوشت کھانے سے پہلے اس کے جسم کا خون چاٹتا ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے وہ لاش کی کھال نوچ کر گوشت کو ننگا کر ڈالتا ہے اور پھر اسے اتنا چاٹتا ہے کہ گوشت خشک ہو کر لکڑی کی مانند سخت ہو جاتا ہے۔ کئی فرلانگ تک ان نشانوں کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے ہم ایسے مقام پر پہنچے جہاں انگن سنگھ کی لاش کے بچے کچھے ٹکڑے اور سر پڑا ہوا دکھائی دیا۔ یہاں جا بجا خشک اور جمے ہوئے انسانی خون کے بڑے بڑے دھبّے بکھرے ہوئے تھے۔ آدم خور نے انگن سنگھ کی لاش نہایت بےدردی سے چیڑ پھاڑ کر ایک ایک عضو الگ کر ڈالا تھا۔ پیروں اور بازوؤں کی ہڈیاں اور پسلیوں کا ڈھانچہ ایک طرف پڑا تھا اور کوئی پندرہ گز کے فاصلے پر ہمیں اس کا سر دکھائی دیا۔ کھوپڑی اور پیشانی پر شیر کے دانتوں اور پنجوں کے نشانات اور سوراخ موجود تھے۔ ہیلم نے آہستہ سے کہا، “پیٹرسن! میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ شیر لاش کے جسم سے سر الگ کر کے اتنی دور کیوں لے گیا؟”
ہم دونوں ایک دوسرے کو تکنے لگے، لیکن جلد ہی معاملہ حل ہو گیا۔
انگن سنگھ کی لاش کو دو شیروں نے کھایا تھا۔ ان دونوں کے پنجوں کے نشانات وہاں موجود تھے۔ جنہیں ہم نے شناخت کر لیا اور اردگرد کا ماحول دیکھ کر فوراً اندازہ ہو گیا کہ لاش پر قبضہ کرنے کے لیے ان دونوں آدم خوروں کے درمیان خاصی کشمکش ہوئی اور آخر ایک لاش کا سر نوچ کر دور فاصلے پر لے گیا ، لیکن نہ جانے اسے کیوں کھانا پسند نہیں کیا۔ ہم نے جلد جلد انگن سنگھ کی لاش کے بچے کچھے ٹکڑے ایک ڈھیر کی شکل میں جمع کیے اور بعدِ ازاں انہیں پتھروں سے ڈھانپ دیا۔ اس کا سر ہم اپنے ساتھ کیمپ میں لے آئے تاکہ ساؤ کے سرکاری میڈیکل افسر کے سامنے شناخت کے لیے پیش کیا جائے۔
یہ پہلا موقع تھا کہ ساؤ کے آدم خور شیروں سے میرا تعارف ہوا۔ اسی رات میں نے انگن سنگھ کے خیمے کے قریب ایک مضبوط اور بلند درخت پر شیر کا انتظار کرنے کا پروگرام بنایا اور سرِشام ہی کیل کانٹے سے لیس ہو کر وہاں پہنچ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ شیر کسی اور انسانی شکار کی تلاش میں ضرور اِدھر آئے گا۔ میں نے مزدوروں کو ہدایت کی کہ وہ اپنے خیموں کے دروازے اچھی طرح بند کریں تاکہ شیر اندر داخل نہ ہو۔ میرے پاس اشارہ ٣٠٣ اور ١٢ بور کی دو بندوقیں تھیں اور میں معتصم ارادہ کیے بیٹھا تھا کہ خواہ کچھ ہو، میں ان آدم خوروں کو ختم کر کے دم لوں گا۔ رات آہستہ آہستہ اپنا سفر طے کر رہی تھی۔ یکایک شیر کی خوفناک دھاڑ سے جنگل لرز اٹھا۔ یہ آواز اگرچہ ایک ڈیڑھ میل دور سے آئی تھی، لیکن رات کے سنّاٹے میں یوں محسوس ہوا جیسے شیر درخت کے عین نیچے کھڑا ہے۔ اس کے بعد کامل دو گھنٹے تک پھر وہی بھیانک سکوت جنگل پر طاری رہا۔ میں شیر کی آواز دوبارہ سننے کے لیے مضطرب تھا۔ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ وہ ضرور دبے پاؤں اپنے شکار کی تلاش میں پھر رہا ہے اور عنقریب اِدھر آنے والا ہے، لیکن شیر نہ آیا۔
وہ رات آنکھوں میں کٹ گئی اور جب میں دوسرے قلیوں کے ساتھ اپنے کیمپ میں پہنچا تو ایک تازہ خبر میرا انتظار کر رہی تھی۔ ریل ہیڈ کیمپ میں آدم خور شیروں نے حملہ کیا اور ایک مزدور کو پکڑ کر لے گئے۔ وقت وہی تھا۔ جب میں نے گزشتہ رات شیر کی دھاڑنے کی آواز سنی تھی۔ شیر ایک چوکیدار پر حملہ آور ہوئے، جو بےخبر سویا ہوا تھا۔ ایک رات اور ایک دن تھکن اتارنے کے بعد میں اپنی بندوقیں سنبھال کر ریل ہیڈ کیمپ کی طرف گیا اور اس مقام پر جہاں شیروں نے چوکیدار کو چیرا پھاڑا تھا۔ ایک درخت پر مچان بندھوائی۔ اس سے دس فٹ کے فاصلے پر ایک دوسرے درخت کے نیچے میں نے ایک بکرا بندھوایا۔ روشنی کے لیے میں نے تیل کی لالٹین بھی روشن کر کے ایک شاخ پر لٹکا دی۔
بکرا پہلے تو کافی دیر تک چُپ چاپ بندھا رہا، لیکن جونہی رات گہری ہوئی وہ خوف سے چلّانے لگا۔ اس کی آواز جنگل کی خاموشی کو چیرتی ہوئی یقیناً دور دور تک پہنچ رہی تھی کیوں کہ میں نے فوراً شیر کے دھاڑنے کی آواز سنی۔ یہ آواز سنتے ہی بکرا فوراً چُپ ہو گیا۔ غالباً شیر کی دہشت سے اس کی آواز بند ہو گئی تھی۔ بکرے کا یوں چُپ ہوجانا مجھ پر نہایت شاق گزر رہا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ بکرا اور زور سے چلّائے تاکہ شیر اس کی آواز پر ادھر چلے آئیں۔ اسی اثنا میں آسمان پر سیاہ بادلوں کی آمد آمد ہوئی۔ پھر بادل زور سے گرجے، بجلی کڑکی اور ہلکی ہلکی بوندا باندی شروع ہوگئی۔ میرے پاس اس بلائے ناگہانی سے بچنے کے لیے کوئی سامان نہ تھا۔ سوائے اس کوٹ کے جو میں پہنے ہوئے تھا۔ میں نے کوٹ اتار کر اپنے سر اور بازوؤں کو ڈھانپ لیا۔ ہوا لمحہ با لمحہ تیز ہو رہی تھی اور جب جنگل کے گھنے حصّے میں سے گزرتی تو شائیں شائیں کی خوفناک آوازیں بلند ہوتیں۔ جیسے ہزارہا درندے چلّا رہے ہوں۔
ہوا اور بارش کا یہ طوفان ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہا۔ میں اِتنا بھیگ چکا تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد میرا جسم سردی سے کانپنے لگا۔ خدا خدا کر کے بارش تھمی۔ بکرا ایک مرتبہ پھر حلق پھاڑ پھاڑ کر چلّایا۔ مجھے خیال ہوا کہ یہ رات بھی ضائع ہوگئی۔ شیر اب اِدھر کا رخ نہ کرے گا۔ آدھی رات کے بعد میں نے کسی آدمی کے چیخنے کی آوازیں سنیں۔ یہ آوازیں میرے عقب سے آ رہی تھیں۔ افسوس کہ ایک بار پھر آدم خور شیروں نے نہ جانے کہاں اپنا شکار مار لیا تھا۔ ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ کارکنوں، قلیوں اور مزدوروں کے مختلف کیمپ اس وقت ساؤ میں کام کر رہے تھے۔ میرے اندازے کے مطابق یہ کیمپ ایک دوسرے سے فاصلے پر آٹھ مربع میل کے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ آدم خور بے دھڑک ہو گئے تھے۔
ایک ہندو بنیا، جو اس علاقے میں عرصے سے تجارت کا کاروبار کر رہا تھا۔ ایک مرتبہ انہی آدم خوروں کا شکار ہوتے ہوتے معجزانہ طور پر بچا۔ یہ ہندو بنیا نہ جانے کس گاؤں سے خرید و فروخت کے بعد اپنے گھر واپس آ رہا تھا۔ گدھے پر وہ خود بھی سوار تھا اور مٹی کے تیل کے دو خالی کنستر بھی اس نے گدھے کی گردن پر باندھ رکھے تھے۔ رات کا پہلا پہر تھا۔ بنیا گدھے پر بیٹھا غنودگی کے عالم میں جا رہا تھا کہ یکایک عقب کی جھاڑی میں سے شیر غرّایا اور اس سے پیشتر کہ بنیا اپنی مدافعت کی کوشش کرتا۔ شیر نے ایک ہی دو ہتڑ میں گدھے اور بنیے کو زمین پر گرا دیا۔ شیر نے گدھے کی طرف مزید توجّہ نہ کی اور بنیے کو منہ میں دبانے کے لیے لپکا۔ نہ جانے کس طرح شیر کا پنجہ اس رسّی میں پھنس گیا جس سے ٹین کے خالی کنستر بندھے ہوئے تھے۔ شیر نے پنجہ چھُڑانے کے لیے جھٹکا دیا تو دونوں کنستر آپس میں زور سے ٹکرائے۔ ان کے ٹکرانے سے جو آواز پیدا ہوئی۔ شیر اس سے ڈر گیا اور اپنے شکار کو چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ بنیا خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔ شیر جب غائب ہوگیا تو وہ جلدی سے اٹھا اور دوڑ کر پاس ہی ایک درخت پر چڑھ گیا اور دہشت کے باعث صبح تک وہیں دُبکا بیٹھا رہا۔
اسی طرح ایک رات شیر قلیوں کے خیمے میں گھُس آیا۔ خیمہ کافی بڑا تھا۔ جس میں چودہ پندرہ قلی سوئے ہوئے تھے اور اس خیمے میں گندم اور چاولوں کی چند بوریاں بھی رکھی تھیں۔ شیر نے پہلے تو ایک قلی کے کندھے پر زور سے پنجہ مارا کہ اس بدنصیب کا کندھا جسم سے الگ ہو گیا، اس کے منہ سے چیخ نکلی تو دوسرے قلی ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھے۔ شیر بدحواس ہو گیا اور جلدی میں اپنے شکار کو چھوڑ کر چاولوں کی ایک بوری منہ میں پکڑی اور گھسیٹ کر خیمے سے باہر لے گیا۔ کافی دور جانے کے بعد جب شیر نے بوری کو چیرا پھاڑا تو اس میں سے چاول نکل کر بکھر گئے۔ شیر کو اپنی حماقت کا احساس ہوا اور وہ بوری وہیں چھوڑ کر کسی اور طرف چلا گیا۔دوسرے روز صبح چاولوں کی بوری خیمے سے ایک میل کے فاصلے پر پر پائی گی۔ یہ واقعات شروع شروع کے ہیں۔ بعد میں ان شیروں کو اپنا شکار حاصل کرنے میں بڑی مہارت ہو گئی تھی اور وہ حد سے زیادہ چالاک اور نڈر ہو گئے تھے۔
ان نازک حالات میں جب کہ ہر شخص کو اپنی جان بچانے کی فکر پڑی ہوئی تھی، میرا خیمہ ایک کھلی جگہ پر لگا ہوا تھا۔ اس کے اردگرد حفاظتی تار بھی تھا۔ ایک رات میڈیکل آفیسر ڈاکٹر روز میرے کمرے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ رات گئے تک ہم انہی آدم خوروں کے بارے میں باتیں کرتے رہے۔ کوئی دو بجے کا عمل تھا کہ خیمے کے باہر ہم نے ہلکی سی آہٹ سنی اور ایسا معلوم ہوا کہ کوئی جانور یا آدمی خیموں کے رسّوں سے الجھ کر گرا ہے۔ ہم نے فوراً لالٹین اٹھائی اور باہر نکلے۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ ہمیں خیال ہوا کہ شاید یہ ہمارا وہم تھا، لیکن صبح جب میں نے خیمے کے اردگرد شیر کے پنجوں کے نشانات دیکھے تو میرے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی اور میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میں اور ڈاکٹر روز موت کے منہ سے بال بال بچے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیر اگر رات کو خیمے کے اندر گھُس آتا تو ہمارے پاس بچاؤ کا کوئی انتظام نہ تھا۔ میں نے فوراً وہاں سے اپنا خیمہ اخڑوایا اور ڈاکٹر بروک کے خیمے کے قریب نصب کروا دیا۔ ڈاکٹر بروک ساؤ کے ضلع میں نیا میڈیکل آفیسر تعینات ہو کر آیا تھا۔
ہم نے اپنے خیموں کے اردگرد خاردار جھاڑیوں کی شاخیں اور گھاس پھُونس رکھوا دیا تھا تاکہ شیر آسانی سے اندر داخل نہ ہو سکے۔ ہمارے یہ جھونپڑی نما خیمے دریائے ساؤ کے مشرق میں اس مقام پر واقع تھے، جہاں سے ایک بہت قدیم سڑک یوگینڈا کی طرف چلی جاتی ہے۔ ہم نے یہ انتظام بھی کیا کہ آگ کے الاؤ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ساری رات جلتے رہیں۔ ملازموں کی ایک جماعت ہر وقت ان خیموں میں موجود رہتی تھی، لیکن آدم خور شیروں کی اس قدر دہشت اور خوف ہمارے ذہنوں پر چھایا ہوا تھا کہ رات کہیں ذرا بھی کھٹکا ہوتا تو ہم رائفلوں کی طرف لپکتے اور جنگل میں سے گزرنے والا ہر جانور ہمیں شیر دکھائی دیتا۔ اگرچہ ہم نے مزدوروں اور قلیوں کے کیمپوں کے اردگرد بھی خاردار باڑیں لگوا دی تھیں، لیکن شیر کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے تھے۔ وہ رات کے سنّاٹے میں دبے پاؤں آتے اور جس جگہ سے باڑ ذرا نیچے دکھائی دیتی، وہیں سے چھلانگ لگا کر کیمپ میں گھُس آتے اور سینکڑوں مزدوروں کی موجودگی میں ایک نہ ایک آدمی کو منہ میں دبا کر بھاگ جاتے۔
آدم خوروں کی ان ہلاکت خیز سرگرمیوں سے کیمپ کے ہزارہا مزدوروں اور قلیوں میں انتہائی بےچینی اور خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور وہ کام چھوڑ کر بھاگ جانا چاہتے تھے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ ان کیمپوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید انتظامات کیے گئے ہیں، لیکن نئے انتظامات کے باوجود آدم خوروں کو کیمپ میں گھُسنے سے باز نہ رکھا جا سکا اور ہر رات ایک دو آدمی کیمپ سے غائب ہوتے رہے۔ کیمپ کے مزدوروں اور قلیوں کے لیے ایک سفری ہسپتال کا انتظام بھی کیا گیا۔ یہ ہسپتال ایک بڑے سے خیمے میں تھا اور ہمیشہ کیمپ سے تین چار فرلانگ پیچھے رکھا جاتا تھا۔ تاکہ بیماروں کے کانوں میں کسی قسم کا شور و غل نہ پہنچے پائے۔ ہسپتال کے اِردگِرد خاردار جھاڑیوں، درختوں کی شاخوں اور لوہے کے تاروں کی ناقابلِ عبور دیوار کھڑی کی گئی تھی اور ہمیں پورا اطمینان تھا کہ شیر اس کے اندر کبھی نہ جا سکیں گے، لیکن ایک رات ایسا ہولناک واقعہ پیش آیا ، جس نے میرے دل و دماغ کو ہلا کر رکھ دیا۔

رات کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ ہسپتال میں مریض اپنے اپنے بستروں میں آرام سے سو رہے تھے۔ اسسٹنٹ ڈاکٹر ڈیوٹی پر تھا۔ وہ اپنے خیمے میں لیمپ جلائے کوئی کتاب پڑھ رہا تھا کہ یکایک کچھ فاصلے پر اس نے آہٹ سی سنی۔ فوراً وہ چوکنا ہو گیا۔ اس نے کان لگا کر آہٹ دوبارہ سننے کی کوشش کی، مگر پھر کوئی آواز نہ پا کر اطمینان سے کتاب کے مطالعے میں مصروف ہو گیا۔ اسی اثنا میں ہسپتال کے دوسرے خیمے سے کسی مریض کے کراہنے کی آواز آئی۔ڈاکٹر نے کتاب ایک طرف رکھ دی اور مریض کو دیکھنے کے ارادے سے اٹھا۔ دروازہ کھول کر جونہی وہ باہر نکلنا چاہتا تھا کہ اس کی نگاہ دس گز دور کھڑے ایک شیر پر پڑی۔ شیر کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں اور وہ چپ چاپ کھڑا ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔ ایک ثانیے تک انسان اور آدم خور ایک دوسرے کو تکتے رہے اور اس سے پہلے کہ ڈاکٹر دروازہ بند کر سکے۔ شیر نے جست لگائی اور ڈاکٹر کی طرف لپکا۔ ڈاکٹر گھبرا کر پیچھے ہٹا اور میز سے ٹکرا گیا۔ میز کے اوپر دواؤں سے بھرا ہوا بکس رکھا ہوا تھا۔ میز الٹ گئی اور بکس میں رکھی ہوئی شیشے کی بوتلیں اور شیشیاں ایک پُرشور آواز کے ساتھ فرش پر گر پڑیں۔ اس آواز نے شیر کو بد حواس کر دیا۔ اس نے گھبرا کر دوسری طرف چھلانگ لگائی اور ملحقہ خیمے کے اندر چلا گیا۔ یہاں آٹھ مریض تھے۔ شیر ان کے اوپر جا گرا۔ اس کے پنجوں سے دو مریض شدید زخمی ہوئے۔ تیسرے مریض کو شیر نے منہ میں دبایا اور باڑ کی طرف چھلانگ لگا دی اور خاردار جھاڑیوں کو چیرتا ہوا اپنا شکار لے کر صاف نکل گیا۔
دوسرے روز مجھے اس حادثے کی اطلاع ملی اور میں نے فوراً ہسپتال کو اس مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ رات ہونے سے پہلے پہلے تمام مریضوں کو نئے ہسپتال میں بھیج دیا گیا۔ میں نے مصلحتاً پرانے خیمے وہیں رہنے دیے، کیوں کہ مجھے امید تھی کہ رات کو کسی وقت شیر پھر اِدھر کا رخ کرے گا اور میں اسے رائفل کا نشانہ بنا لوں گا۔ چناچہ رات کو ڈاکٹر کے خیمے میں تیار ہو کر بیٹھ گیا۔ آدھی رات کے بعد دفعتاً میں نے شیر کے دھاڑنے اور بہت سے مزدوروں کے چیخنے اور کنستر پیٹنے کی آوازیں سنیں۔ یہ آوازیں اس طرف سے آ رہی تھیں۔ جدھر ہسپتال نئی جگہ پر منتقل کیا گیا تھا۔
صبح پتہ چلا کہ ہسپتال کے بہشتی کو شیر اٹھا کر لے گیا ہے۔ حالانکہ اس وقت آگ کا الاؤ روشن تھا اور کئی مزدور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ شیر نے چُپکے چُپکے خیمے کے چاروں طرف باڑ کا معائنہ کیا۔ ایک جگہ باڑ کچھ نیچی اور کمزور تھی۔ اس نے وہیں سے چھلانگ لگائی اور خیمے کے اندر آن کودا۔ باڑ کے قریب ہی ہسپتال کا بہشتی خرّاٹے لے رہا تھا۔ شیر جونہی خیمے میں داخل ہوا اس کی نظر بہشتی پر پڑی۔ شیر نے بہشتی کو منہ میں دبایا اور باہر جانے کا ارادہ کیا، لیکن دوسرے مزدوروں نے شور مچایا۔ شیر گھبرا کر مڑا۔ اسی اثنا میں بہشتی نے ہاتھ پیر مار کر شیر کے منہ سے اپنے آپ کو آزاد کرا لیا اور قریب ہی رکھے ہوئے لکڑی کے ایک بھاری صندوق کو پکڑ لیا تاکہ شیر اسے دوبارہ گھسیٹ نہ سکے، لیکن شیر نے فوراً اس کی ٹانگ منہ میں دبا لی اور زور سے جھٹکا دیا۔ بہشتی نے اب خیمے کا ایک رسّا پکڑ لیا۔ لیکن درندے کی بےپناہ قوّت کے سامنے یہ رسّا کیا وقعت رکھتا تھا۔ رسّا ایک ہی جھٹکے سے ٹوٹ گیا۔ بہشتی کے حلق سے چیخیں نکل رہی تھیں۔ ادھر شیر بھی غصّے میں گرج رہا تھا۔ دوسرے قلی اور مزدور دروازہ کھول کر فوراً باہر بھاگ گئے۔ شیر نے اس کے بعد اطمینان سے زخمی بہشتی کو منہ میں پکڑا اور چھلانگیں لگاتا ہوا جنگل میں غائب ہو گیا۔ شیر کی اس دلیری سے جو خوف و ہراس مزدوروں میں پھیلا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ بعدِ ازاں میں نے بہشتی کے گوشت کے ریشے، نُچی ہوئی کھال کے ٹکڑے، بال اور کپڑوں کی دھجیاں خاردار باڑ میں اٹکی ہوئی پائیں۔ آدم خور بدنصیب بہشتی کو باڑ کے اندر سے گھسیٹ کر لے گیا تھا۔
خیمے سے چار سو گز کے فاصلے پر جھاڑیوں کے پیچھے میں نے اور ڈاکٹر بروک نے بہشتی کی کھائی ہوئی لاش کے بچے کچھ اجزا دیکھے، کھوپڑی جبڑوں، ٹخنوں اور کولہے کی ہڈیاں اور دائیں ہتھیلی کا ایک حصّہ بھی جس میں دو انگلیاں باقی رہ گی تھیں۔ ان انگلیوں میں سے ایک میں چاندی کی انگوٹھی اٹکی ہوئی تھی اور اسی انگوٹھی سے ہم نے بہشتی کو شناخت کیا۔ دوبارہ ہسپتال یہاں سے ہٹا کر دوسری جگہ لے جایا گیا اور سارے مریض وہاں منتقل کر دیے گئے۔ اس کے چاروں طرف اب پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور اونچی باڑ لگائی گئی۔ پرانے ہسپتال کے قریب چند خالی خیمے چھوڑ دیے گئے جن میں سے ایک میں میں نے چند مویشی بندھوائے تاکہ شیر ان کی بُو پر آئے۔ اس کے بعد میں نے ایک خالی ویگن اِدھر منگوائی اور رات اس ویگن میں چھُپ کر شیر کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی روز دوپہر کو معلوم ہوا کہ دونوں شیر نواحی علاقے میں مختلف مقامات پر گھومتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ ساؤ سے چار میل دور انہوں نے ایک قلی کو پکڑنے کی کوشش کی جو ریلوے لائن کے ساتھ ساتھ چلا جا رہا تھا، لیکن قلی بہت پھرتیلا نکلا اور اس لئے اس کی جان بچ گئی۔ وہ دوڑ کر ایک درخت پر چڑھ گیا اور بہت دیر تک درخت پر بیٹھا رہا۔ شیروں نے شکار ہاتھ سے جاتا دیکھا تو ان کی جھلّاہٹ کی انتہا نہ رہی۔ وہ دوڑ دوڑ کر آتے اور جست لگا کر قلی کو پکڑنے کی کوشش کرتے، لیکن وہ ان کی پہنچ سے باہر تھا۔ آخر تھک ہار کر شیر وہاں سے چلے گئے۔ شیروں کے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی ادھر سے ساؤ کے ٹریفک مینیجر کا گزر ہوا۔ وہ ریل میں بیٹھا جا رہا تھا۔ اس کی نظر درخت پر بیٹھے ہوئے قلی پر پڑی۔ مینیجر نے گاڑی رکوائی اور قلی کو درخت سے اتار کر اپنے ساتھ لے گیا۔ ڈر کے مارے قلی کی گھگھی بندھی ہوئی تھی اور سارا جسم برف کی مانند سرد تھا۔ بہت دیر بعد اس کے حواس درست ہوئے۔
بعدِ ازاں ان آدم خوروں کو ساؤ اسٹیشن پر لوگوں نے دیکھا۔ وہاں سے یہ بھاگے تو جنگل میں مزدوروں نے انہیں دیکھا۔ ڈاکٹر بروک اس وقت ہسپتال سے واپس آ رہا تھا۔ شیروں میں سے ایک نے ریل کے ساتھ ساتھ اس کا کچھ فاصلے تک تعاقب کیا اور پھر لوٹ گئے۔ پروگرام کے مطابق میں اور ڈاکٹر بروک رات کے کھانے سے فارغ ہو کر ویگن کی طرف روانہ ہوئے۔ جو ہماری رہائش گاہ سے تقریباً ایک میل کے فاصلے پر تھی۔ اگرچہ رات کے وقت ہمارا یوں نکلنا سراسر حماقت تھی۔ تاہم ویگن تک ہم خیریت سے پہنچ گئے۔ دس بجے رات تک ہم اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ چاروں طرف بھیانک سنّاٹا چھایا ہوا تھا۔ ہم نے ویگن کے دروازے کا نچلا حصّہ بند کر رکھا تھا۔ اوپر کا آدھا حصّہ باہر جھانکنے کے لیے کھُلا چھوڑ دیا تھا۔ دفعتاً ایک آواز گونجی، جیسے کسی درخت کی شاخ ٹوٹی ہو۔ ہم دم بخود، دھڑکتے دلوں کے ساتھ کان لگا کر آہٹ سننے لگے۔ اس کے بعد ہمارے دائیں ہاتھ پر ایسی آواز آئی جیسے کوئی جانور دبے پاؤں چل رہا ہو۔ اس کے بعد یوں معلوم ہوا جیسے کوئی بھاری جسم زور سے زمین پر گرا ہے۔ ہماری نظروں کے سامنے چند خالی خیموں کی بےڈھنگی سی قطاریں کھڑی تھیں۔ جن کے گرد خاردار باڑیں لگی رہنے دی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک خیمے کے اندر بندھے ہوئے مویشیوں میں ہلچل مچی۔ ان کے بولنے اور اِدھر اُدھر بھاگنے کی آوازیں ہمارے کانوں تک صاف پہنچ رہی تھیں۔ اس کے بعد دفعتاً پھر پہلا سا سکوت طاری ہو گیا۔ اس موقعے پر میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ شیر یقیناً اِدھر آ گئے ہیں اور بہتر یہ ہے کہ میں ویگن سے نیچے اتر کر ایک جانب لیٹ جاؤں تاکہ جونہی شیر نمودار ہو اسے آسانی سے گولی ماری جا سکے، لیکن ڈاکٹر بروک مصر تھا کہ یہیں ٹھہر کر شیر کا انتظار کرنا زیادہ بہتر ہے اور اچھا ہی ہوا کہ میں نے اس کی بات مان لی، ورنہ اس رات میں ختم ہو چکا ہوتا۔ کیوں کہ چند ہی سیکنڈ بعد شیر دھاڑتا ہوا نمودار ہوا اور بجلی کی مانند تڑپ کر ویگن کی طرف آیا۔ بیک وقت ہماری رائفلوں سے شعلے نکلے اور فائروں کی دھماکہ خیز آوازوں سے جنگل تھرّا اٹھا۔ اندھیرے میں ہم بس اتنا دیکھ پائے کہ فائر ہوتے ہی شیر زور سے گرجا اور چھلانگیں لگاتا ہوا غائب ہو گیا۔
میری سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ ان مہیب درندوں سے کس طرح خلقِ خدا کو نجات دلائی جائے۔ ان آدم خوروں کو مارنے کی ترکیبیں سوچتے سوچتے میرا دماغ ماؤف ہو گیا۔ کئی کئی ماہ راتوں کو مسلسل جاگتے جاگتے میری صحت جواب دے گئی، لیکن میں نے ہمّت نہ ہاری۔ آخر ایک روز ایک نہایت ہی عمدہ ترکیب ذہن میں آئی۔ میں نے ریل کے سلیپر اور آہنی گارڈر جمع کیے اور پھر ایک بڑا سا پنجرہ بنایا کہ شیروں کو زندہ گرفتار کیا جا سکے۔ پنجرے کے دو حصّے تھے سامنے کا حصّہ شیروں کے لیے اور عقبی حصّہ مویشیوں یا آدمیوں کے لیے، تاکہ شیر ان کی بُو پر پنجرے میں داخل ہو اور جونہی اس کا بھاری بھرکم جسم کا بوجھ ایک کمانی دار تختے پر پڑے، اوپر سے لوہے کی سلاخوں کا دروازہ فوراً گرے اور شیر کے باہر نکلنے کی راہ بند ہو جائے۔اس کے بعد میں نے پنجرے سے ذرا فاصلے پر ایک خیمہ نصب کرایا اور اس کے چاروں طرف کانٹوں کی مضبوط باڑ لگوائی اور ہر طرح کیل کانٹے سے لیس ہو کر رات کو اس خیمے میں بیٹھ گیا۔ آپ یقین جانیے کہ میں نے تین راتیں آنکھوں ہی آنکھوں میں کاٹ دیں اور شیر نہ آیا۔ میں مصمّم ارادہ کر چکا تھا کہ خواہ ساری زندگی اس خیمے میں بسر کرنی پڑے۔ میں یہاں سے شیر کو مارے بغیر نہ ٹلوں گا۔ چوتھی رات حسب معمول کافی کے کئی گرم گرم پیالے پی کر شیر کے انتظار میں بیٹھا تھا۔ نہ معلوم کب میری آنکھ لگ گئی اور اس اثنا میں وہ موذی شیر وہاں آ پہنچا۔ میرے اندازے کے مطابق پہلے تو وہ پنجرے کو ایک نئی چیز سمجھ کر اس کا معائنہ کرتا رہا۔ شیر کو قریب پا کر پنجرے کے دوسرے حصّے کے مویشیوں میں ہلچل مچی اور وہ بدحواس ہو کر چلّانے لگے۔ پھر شیر کی نگاہ میرے خیمے پر پڑی اور وہ فوراً باڑ کے اندر گھُس آیا۔ میں شاید اس وقت اطمینان سے خرّاٹے لے رہا تھا، لیکن شیر کی گرج سن کر میری آنکھ کھُل گئی، مگر اب بچنے کا موقع کہاں تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ شیر خیمے کی رسّیوں میں الجھ گیا۔ اس نے طیش میں آ کر دو تین جھٹکے دیے تو پورا خیمہ دھڑام سے ہم دونوں کے اوپر آن پڑا۔ میرے ہوش و حواس تو پہلے ہی گُم ہو چکے تھے۔ رائفل تک اُٹھانا بھول گیا اور اسی گرے ہوئے خیمے میں لپٹ گیا۔ شیر نے جھلّا کر خیمہ نوچنا شروع کر دیا۔ میں اس بھیانک موت کے تصوّر سے لرز رہا تھا کہ ابھی چند سیکنڈ بعد شیر مزے لے لے کر میری ہڈیاں چبا رہا ہوگا۔ اپنے بچاؤ کی کوئی ترکیب ذہن میں نہیں آتی تھی۔ میں خیمے کے اندر لپٹے ہوئے بستر کی مانند چھُپا ہوا تھا۔ شیر نے مجبور ہو کر اس بستر کو منہ میں پکڑا اور باڑ میں سے گھسیٹ کر باہر لے آیا اور اس کی یہی حرکت مجھے دوبارہ زندگی بخش دینے کا باعث بنی، ورنہ کانٹوں کی باڑ ایسے نازک وقت میں عبور کرنا میرے لیے ناممکن سی بات تھی۔
حسنِ اتفاق سے چھولداری اس کے منہ سے چھُوٹ گئی اور وہ اپنے ہی زور میں دس پندرہ گز کے فاصلے پر جا گرا۔ میں بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اُٹھا اور دوڑ کر پنجرے کے اندر چلا گیا۔ کمانی دار تختے پر جونہی میرا بوجھ پڑا، اوپر سے لوہے کی سلاخوں کا دروازہ گرا اور میرے اور شیر کے بیچ حائل ہو گیا۔ آدم خور اب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تھا، لیکن شکار کو یوں پنجے سے نکلتا دیکھ کر اس کے غیض و غضب کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ اچھل اچھل کر پنجرے کو الٹ دینے کی کوشش کرتا اور پنجرے کے اندر ہاتھ ڈال کر مجھے پکڑنا چاہتا تھا، لیکن میں اب ادھ موؤں کی طرح ایک گوشے میں پڑا ہوا اسے دیکھ رہا تھا۔ صبح کاذب تک اس نے مجھے بار بار پکڑنے کی کوشش کی، آخر تھک ہار کر وہ وہاں سے چلا گیا۔ مجھے افسوس صرف اس بات کا تھا کہ کاش میرے پاس رائفل ہوتی تو میں اس شیر کو یہیں بھون کر رکھ دیتا۔ اس حادثے کے بعد بھی میں نے کئی راتیں وہاں اس امید پر گزاریں کہ شاید آدم خور پھر اِدھر آئے، لیکن وہ بہت زیادہ چالاک ثابت ہوا اور وہ دوبارہ نہ آیا۔
آہستہ آہستہ ان آدم خوروں نے اپنی سلطنت کو وسیع کرنا شروع کر دیا۔ وہ کبھی ریل ہیڈ کیمپ پر حملہ کرتے، جو دس بارہ میل دور تھا اور کبھی ساؤ اسٹیشن اور ساؤ کیمپ پر چڑھ آتے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ چاندنی راتوں میں وہ بہت کم انسانی شکار کرتے تھے۔ البتہ اندھیری راتوں میں وہ دو تین انسانوں کو ضرور ہڑپ کر جاتے۔
ان کے شکار کا طریقہ یہ تھا کہ ہمیشہ دونوں ساتھ ساتھ آتے۔ ایک آدم خور کیمپ کی باڑ کے باہر کھڑا ہو جاتا اور دوسرا جست لگا کر کیمپ میں آن دھمکتا۔ اس کے آتے ہی مزدوروں اور قلیوں میں حشر برپا ہو جاتا۔ سبھی کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے اور ان کے سامنے آدم خور کسی موٹے تازے قلی کو پکڑ لیتا اور باڑ توڑ کر آسانی سے باہر نکل جاتا۔ جہاں اس کا ساتھی منتظر ہوتا۔ پھر وہ زیادہ دور جانے کی زحمت بھی گوارہ نہ کرتے اور وہیں بیٹھ کر شکار کو کھانا شروع کر دیتے۔ پانچ چھے فٹ موٹی خاردار باڑ کو یہ آدم خور یوں توڑ کر نکل جاتے تھے جیسے وہ تاش کے پتّوں سے بنی ہوئی دیوار ہو۔
آدم خوروں کی خبریں ساؤ سے نکل کر افریقہ کے دوسرے بڑے شہروں اور یورپ تک پہنچ چکی تھیں۔ کئی یورپین شکاری ان آدم خوروں سے دو دو ہاتھ کرنے آئے، لیکن سب کے سب ناکام رہے، بلکہ یوں کہیے کہ شیر کو مارنا تو درکنار اپنی جانیں بڑی مشکل سے بچائیں۔ اب یہ عالم تھا کہ جونہی سورج غروب ہوتا، کیمپوں میں ہو کا عالم طاری ہو جاتا۔ مزدور اور قلی اپنے خیموں کے بجائے درختوں پر چارپائیاں باندھ کر سونے لگے اور جب درختوں میں جگہ نہ رہی تو انہوں نے زمین میں گہرے گڑھے کھودے، ان کے اندر چارپائیاں ڈالیں اور بعدِ ازاں لکڑی کے موٹے موٹے اور بھاری تختوں سے ان گڑھوں کو ڈھانپ دیا۔ یہ گڑھے ان کے لیے بہت محفوظ ثابت ہوئے، کیونکہ شیر ان کے اندر داخل ہونے پر قادر نہ تھے۔ تاہم یہ موذی روزانہ کہیں نہ کہیں سے اپنی خوراک حاصل کر لیتے تھے۔ سرِ شام ہی جنگل ان کی گھن گرج سے ہلنے لگتا۔ گویا یہ اس بات کا اعلان ہوتا کہ شیر آدمی کے خون اور گوشت کی تلاش میں نکلنے والا ہے۔ ان آوازوں کو سن کر ہر شخص کا کلیجہ بیٹھنے لگتا اور موت کے سائے اُسے اپنے چاروں طرف پھلتے ہوئے محسوس ہوتے۔ رات بھر کیمپوں میں پہرےدار نعرے لگاتے رہتے۔
“بھائیو! خبردار رہو۔۔۔۔۔ شیطان آتا ہے۔۔۔۔۔ بھائیو! خبردار رہو۔۔۔۔۔”
لیکن یہ نعرے بازی شیروں کے لئے قطعاً بےکار تھی۔ وہ سنسناتی ہوئی گولیوں، آگ کے الاؤ، خاردار باڑوں اور سینکڑوں آدمیوں کی موجودگی سے بھی خوف نہ کھاتے۔ کیمپوں میں آن کُودتے اور ایک دو “بھائیوں” کو منہ میں دبا کر بھاگ جاتے۔ ایک رات جب کہ میں اپنے کیمپ میں موجود تھا، ان آدم خوروں نے ریلوے اسٹیشن کے کسی آدمی کو پکڑا اور میرے خیمے کے قریب ہی اُسے کھانے لگے۔ ہڈیاں چبانے اور گوشت بھنبھوڑنے کی آوازیں میرے کانوں تک پہنچ رہی تھیں، لیکن میں کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ باہر اتنا اندھیرا تھا کہ دس گز کے فاصلے کی چیز بھی نظر نہ آتی تھی اور اس عالم میں شیروں کو للکارنا خود موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ میرے علاوہ چند دوسرے لوگوں نے بھی یہ آوازیں سنیں اور انہوں نے مجھ سے میرے ہی خیمے میں آ جانے کی اجازت مانگی۔ وہ سب کے سب میرے خیمے میں آ گئے۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ اپنے پیچھے ایک بیمار قلی کو تنہا چھوڑ آئے ہیں۔ میں نے اس فعل پر انہیں لعنت ملامت کی اور خود چند آدمیوں کو ساتھ لے کر وہاں گیا تاکہ اسے بھی لے آوں، لیکن افسوس میں نے وہاں اس کی لاش پائی، اس کے دل کی حرکت شیروں کے خوف اور تنہائی سے بند ہوگئی تھی۔
مزدوروں کے تیور تو ان شیروں کی ابتدائی سرگرمیوں کے باعث پہلے ہی بگڑے ہوئے تھے، لیکن جب یہ معاملہ حد سے گزر گیا اور ساٹھ ستّر آدمی اسی طرح ہلاک ہو گئے تو ان کا ایک وفد میرے پاس آیا اور کہا، “ہم ہزاروں میل کا سفر کر کے یہاں آئے ہیں۔ ہمیں شیروں کا لقمہ بننا منظور نہیں۔ اس لیے اب ہم یہاں نہیں ٹھہر سکتے۔ ہمیں اس روپے کا کیا فائدہ جو جان ضائع کرنے پر حاصل ہو۔”
میں نے ان لوگوں کو دلاسہ دینے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ لوگ کسی طرح نہ مانے اور سو سو اور دو دو سو کے قافلوں کی صورت میں ساؤ سے بذریعہ ریل ممباسہ جانے لگے۔ ایک مرتبہ جب ریلوے نے انہیں لے جانے سے انکار کر دیا تو وہ سب پٹری پر لیٹ گئے اور ریل روک کر زبردستی اس میں چڑھ گئے۔ ان حالات میں بھلا ریلوے لائن اور پلوں کی تعمیر کا کام کیسے جاری رہ سکتا تھا۔ تین مہینے تک کام بالکل رکا رہا۔ اس اثنا میں میں نے منّت سماجت کر کے بقیہ مزدوروں کو اس شرط پر روک لیا کہ ان کے لیے ٹن کی چادروں سے چھوٹے چھوٹے کوارٹر بنا دیے جائیں گے۔ تاکہ شیر ان میں داخل نہ ہو سکیں۔ ٹن کے یہ چھوٹے چھوٹے ٹب نما کوارٹر پانی کی بلند ٹنکیوں پر بنائے گئے تھے اور ہر کوارٹر میں چار مزدور سوتے تھے۔ اس کے علاوہ اونچے اور مضبوط درختوں پر بھی مزدور اپنی چارپائیاں باندھ کر سوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک درخت پر بہت ساری چارپائیاں باندھی گئی تھیں اور رات جب آدم خور ان درختوں کے اردگرد پھر رہے تھے کہ زور سے ہوا چلی اور کئی چارپائیاں شاخوں سمیت ٹوٹ کر نیچے گر پڑیں۔ اس وقت جو ہنگامہ ہوا اور مزدور جس طرح حلق پھاڑ پھاڑ کر چلّائے، وہ آوازیں آج بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہیں۔ بھوکے شیروں نے فوراً دو قلیوں کو پکڑ لیا اور کیمپ سے باہر بھاگے۔ اس کے بعد جمعدار نے بندوق سے ان کی طرف کئی فائر کیے، لیکن آدم خور اپنی جگہ سے اس وقت تک نہ ہلے جب تک انہوں نے قلیوں کے خون اور گوشت سے اپنا پیٹ نہ بھر لیا۔
مزدوروں کے کام کاج چھوڑنے سے ایک ہفتہ پہلے میں نے ڈسٹرک آفیسر مسٹر وائٹ ہیڈ کو خط لکھا تھا کہ اگر ممکن ہو تو وہ آئیں اور ان موذی شیروں کو مارنے میں میری مدد کریں اور اگر وہ اپنے ساتھ مقامی پولیس کے چند جوان بھی لا سکیں تو بہت ہی اچھی بات ہوگی۔ مسٹر وائٹ کا جواب توقع کے خلاف جلد موصول ہوا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ وہ دوسری تاریخ کو شام کے چھے بجے ساؤ کے اسٹیشن پر پہنچ رہے ہیں۔
میں نے مسٹر وائٹ کی آمد کے روز شام کے وقت اپنے ایک ملازم لڑکے کو اسٹیشن کی طرف روانہ کیا تاکہ مسٹر وائٹ کے ساتھ جو سامان زائد ہو، وہ لڑکا اٹھا لائے۔ کوئی پون گھنٹے بعد یہ حبشی لڑکا حواس باختہ اور پسینے میں تر بھاگتا ہوا میرے پاس آیا۔ اس کا جسم سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا۔ لڑکا کہنے لگا، “صاحب! اسٹیشن تو سنسان پڑا ہے۔ نہ وہاں کوئی گاڑی ہے اور نہ کوئی آدمی۔ ایک بہت بڑا شیر اسٹیشن کے اندر گھوم رہا ہے۔”
لڑکے کی کہانی پر مجھے یقین نہ آیاکہ اس بےوقوف نے راستے میں کوئی اور جانور دیکھ لیا اور ڈر کر واپس بھاگ آیا۔ چلو خیر مسٹر وائٹ خود ہی آ جائیں گے۔ وہ مانے ہوئے شکاری اور دلیر آدمی ہیں۔ میں نے اطمینان سے کھانا کھایا۔ جب میں کھانا کھا رہا تھا، اس وقت سٹیشن کی جانب سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی اس لیے کہ شیروں کو ڈرانے کے لیے اسٹیشن کے لوگ گولیاں چلایا ہی کرتے تھے۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنی رائفل سنبھالی اور ایک بلند مچان پر جا بیٹھا۔
سورج غروب ہونے میں اگرچہ دس منٹ باقی تھے، لیکن جنگل کے اندر شام کا اندھرا تیزی سے پھیل رہا تھا اور ہر شے ڈراؤنی معلوم دے رہی تھی۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ جنگل کی بھیانک خاموشی تھی۔ یکایک تھوڑے فاصلے پر اونچی اونچی گھاس کے پیچھے میں نے ہڈیاں چبانے کی آواز سنائیں۔ میرے کان ان آوازوں سے خوب مانوس تھے۔ میں سمجھ گیا کہ شیر اپنا شکار کھا رہا ہے، لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ شیر نے یہ شکار اتنے چُپکے سے کس طرح حاصل کر لیا، کیوں کہ اس مرتبہ نہ تو شیر کے گرجنے اور دھاڑنے کی آواز سنی گئی تھی اور نہ آدمیوں کے چیخنے چلّانے کا کوئی ہنگامہ برپا ہوا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ شیر نے کسی مقامی باشندے کو جنگل میں سے پکڑ لیا ہو۔ چند منٹ میں کان لگائے ہڈیاں چبانے، گوشت بھنبھوڑنے اور چر چر کی آوازیں سنتا رہا۔ پھر میں نے اس آواز پر ہی اپنی رائفل کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ اس کے جواب میں شیر کی ایک زبردست گرج سنائی دی۔ پھر وہ اسی طرح دھاڑتا ہوا بہت دور چلا گیا۔ میں وہیں مچان پر بیٹھے بیٹھے نہ جانے کب خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹنے لگا۔
میری آنکھ منہ اندھیرے کھلی اور فوراً مجھے اس شیر کا خیال آیا جو رات نہ معلوم کہاں سے شکار لایا اور جس پر میں نے اندازے سے گولی چلائی تھی۔ مچان سے اتر کر میں اپنے تجسّس کی تسکین کے لیے اس مقام پر گیا جہاں شیر ہڈیاں چبا رہا تھا۔ ابھی میں بمشکل ایک فرلانگ دور ہی گیا تھا کہ درختوں کے درمیان میں سے ایک پریشان صورت اور نہایت خستہ حال، جیسے برسوں کا مریض ہو، ایک یورپین آدمی کو دیکھا جو آہستہ آہستہ میری طرف چلا آ رہا تھا۔ جب وہ قریب آیا تو یہ دیکھ کر پیروں تلے زمین نکل گئی کہ وہ تو مسٹر وائٹ ہیں۔ انہوں نے بھی مجھے دیکھ لیا اور ہم دونوں رک کر ایک دوسرے کی طرف آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے لگے۔ آخرکار میں نے اس طلسمِ حیرت کو توڑا، “خدا کی پناہ! مسٹر وہائٹ! آپ کہاں سے آ رہے ہیں اور رات کہاں غائب رہے؟”
“کرنل صاحب! آپ نے میرے استقبال کا انتظام خوب کیا۔ وہ تو یوں کہیے کہ زندگی کے چند روز باقی تھے۔ ورنہ اس ظالم نے کسر نہ چھوڑی۔” مسٹر وائٹ نے مُسکرا کر کہا۔
“مسٹر وائٹ! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟” میں نے تعجّب سے کہا۔
مجھے اب ان کی دماغی حالت پر شبہ ہونے لگا تھا۔
“ارے صاحب! کہنا کیا ہے۔ آپ کے آدم خور دوست نے ہم سے کہا کہ آج رات یہیں رک جاؤ۔ صبح تک اگر ہم نے تمہیں نہیں کھایا تو پھر تم کرنل کے پاس چلے جانا۔”
یہ کہہ کر مسٹر وائٹ مڑے اور اپنی پشت میری نظروں کے سامنے کردی۔
“لیجیے میری بات کی صداقت پر اب آپ کو کوئی شک نہ گزرے گا۔”
دہشت سے میرا رُواں رُواں کھڑا ہو گیا۔ مسٹر وائٹ کی پشت گردن سے لے کر آخری حصّے تک لہو لہان تھی۔ شیر کے پنجوں کے چار گہرے نشانات تھے، جن میں سے خون رِس رِس کر جم گیا تھا۔ میں مسٹر وائٹ کو وہاں سے اپنے خیمے میں لے گیا۔ گرم پانی سے ان کے زخم صاف کیے اور دوائیں لگا کر پٹّی باندھی، کپڑے مہیّا کیے اور کھانا کھلا کر انہیں سُلا دیا، کیوں کہ بےچارے ایک تو زخمی اور دوسرے رات بھر کے جاگے ہوئے تھے۔ فوراً ہی انہیں نیند آ گئی۔
تیسرے پہر ان کی آنکھ کھُلی اور انہوں نے اپنی رام کہانی یوں بیان کی:
“کرنل صاحب! قصّہ یوں ہوا کہ ہماری گاڑی اتفاق سے ساؤ اسٹیشن پر بہت تاخیر سے پہنچی۔ پروگرام کے مطابق مجھے شام کے چھے بجے آپ کے پاس پہنچ جانا چاہیے تھا، لیکن گاڑی رات کے نو، سوا نو بجے پہنچی۔ میرے ساتھ میرا حبشی ملازم عبداللہ بھی تھا۔ اس کے ایک ہاتھ میں لالٹین اور دوسرے ہاتھ میں رائفل تھی۔ اسٹیشن سے نکل کر ہم پیدل ہی چل پڑے۔ ابھی ہم نے بمشکل آدھا راستہ ہی طے کیا ہوگا کہ یکایک ہمارے عقب سے ایک شیر آیا اور مجھ پر حملہ آور ہوا۔ اس نے اپنا پنجہ میری پشت پر مارا، وہ تو یوں کہو میں ذرا آگے جھُک گیا تھا۔ ورنہ وہ موذی تو میری کمر نوچ کر لے جاتا۔ عبداللہ نے فوراً لالٹین رکھ کر رائفل سے شیر پر کئی فائر کیے، لیکن وہ اِدھر اُدھر اچھل کر وار خالی کرتا رہا۔ کوئی گولی اسے نہ لگی۔ البتہ فائروں سے ڈر کر وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا اور مجھے چھوڑ دیا۔ میں نے جھپٹ کر عبداللہ کے ہاتھ سے رائفل چھینی اور شیر پر فائر کرنا ہی چاہتا تھا کہ وہ ظالم بجلی کی مانند آیا اور عبداللہ کو اٹھا کر لے گیا۔ عبداللہ کے حلق سے ایک دلدوز چیخ نکلی اور اس کے آخری الفاظ یہ تھے۔
“آقا۔۔۔۔۔ شیر۔۔۔۔۔ شیر۔۔۔۔۔”
تھوڑے فاصلے پر شیر رکا اور عبداللہ کو چھیر پھاڑ کر وہیں کھانے میں مشغول ہو گیا۔ میں اگرچہ خود زخمی تھا لیکن میں نے اندازاً اس سمت میں کئی فائر کیے، لیکن شیر نے ذرا پروا نہ کی اور مسلسل ہڈیاں چباتا رہا۔ میں مجبوراً ایک درخت پر چڑھ گیا اور ساری رات وہیں بیٹھا رہا اور صبح اتر کر آپ ہی کے پاس آ رہا تھا کہ آپ مجھے مل گئے۔”
مسٹر وائٹ کی کہانی نہایت دردناک تھی۔ اُنہیں اپنے وفادار حبشی ملازم عبداللہ کے یوں مارے جانے کا بڑا صدمہ تھا۔ اس کی دو بیویاں اور دو بچے تھے، یہ خبر سن کر ان بدنصیبوں پر کیا قیامت نہ گزرے گی۔
مسٹر وائٹ کی اس کہانی سے یہ معمّہ بھی حل ہو گیا کہ رات کو میں نے مچان پر بیٹھے بیٹھے جو آواز سنی تھی، وہی آواز تھی جب شیر عبداللہ کو ہڑپ کر رہا تھا۔ چند روز میں مسٹر وائٹ کے زخم بھر آئے اور جلد اُن کی کھوئی ہوئی قوّت بحال ہو گئی۔ انہی دنوں ممباسہ سے سپرڈینٹ مسٹر لی کوہر بھی اپنے سپاہیوں کا ایک دستہ لے کر ان آدم خوروں سے دو دو ہاتھ کرنے کے لیے ساؤ پہنچ گئے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے جوش و خروش سے کام شروع کر دیا۔ جگہ جگہ سپاہیوں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔ میں نے شیر پکڑنے کا جو آہنی پنجرہ بنایا تھا۔ اس کا معائنہ کیا گیا اور طے ہوا کہ شیر ہلاک کرنے کی یہی تدبیر ہے کہ اس کو پنجرے میں پھنسا لیا جائے۔ شام ہوتے ہی ہم سب اپنی اپنی مچانوں پر بیٹھ گئے۔ پنجرے کے عقبی حصّے میں اس مرتبہ مویشیوں کے بجائے دو سپاہیوں کو رائفلوں، کارتوس کے ایک ڈبے اور لالٹین کے ساتھ بند کیا گیا اور مسٹر لی کوہر نے ان سپاہیوں کو سختی سے حکم دیا کہ شیر جونہی پنجرے میں قید ہو جائے وہ اس پر گولیوں کی بارش کر دیں۔
اب سب لوگ اپنی اپنی مچانوں میں چھُپے ہوئے نہایت بےصبری سے آدم خوروں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک ایک منٹ صدیوں میں تبدیل ہو گیا تھا۔ شاید وقت ٹھہر گیا تھا۔ مصیبت یہ تھی کہ ہم ایک دوسرےک سے بات چیت بھی نہ کر سکتے تھے کہ شاید شیر خبردار ہو جائے اور اِدھر کا رُخ ہی نہ کرے۔ مسٹر وائٹ کو میں نے اپنے ہی ساتھ بٹھایا تھا۔ رات کے گیارہ بجے ہوں گے کہ دور جنگل میں شیر کے گرجنے اور دھاڑنے کی آواز سنائی دی۔ ہمارے دل دھک دھک کرنے لگے۔ خونخوار درندہ آج شکار جلد نہ ملنے پر کسی قدر مشتعل معلوم ہوتا تھا۔ چند منٹ تک وہ دھاڑتا رہا، پھر خاموش ہو گیا۔ ہم گُپ اندھرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر شیر کا سراغ پانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی حیص بیص میں دو گھنٹے اور گزر گئے۔ شیر کی آواز دوبارہ سنائی نہ دی۔ جنگل پر موت کا سکوت طاری تھا۔
دفعتاً ایک پُرشور آواز کے ساتھ پنجرے کا آہنی دروازہ گرا اور ہم سب اپنی اپنی جگہ اچھل پڑے۔ اس کے ساتھ ہی شیر کے گرجنے اور پنجرے کے ہلنے کی آوازیں سنائی دیں۔ فوراً ہی مچانوں پر لالٹینیں روشن ہوئیں اور ان کی مدھم روشنی میں ہم نے دیکھا کہ آدم خور پنجرے کے اندر پھنس چکا ہے۔ وہ سلاخوں کے اندر غیض و غضب سے اچھل رہا تھا اور اتنی قوّت سے دھاڑ رہا تھا کہ دل دہل جاتا تھا، لیکن تعجّب اس امر پر تھا کہ دوسرے حصّے میں موجود سپاہی کیوں اس پر فائر نہیں کرتے۔ کئی منٹ اسی طرح گزر گئے اور فائر کی کوئی آواز نہ آئی۔ مسٹر لی کوہر حلق پھاڑ پھاڑ کر چلّائے اور سپاہیوں کو فائر کا حکم دیا۔ آفیسر کی آواز سنی تو بےچارے سپاہیوں کی جان میں جان آئی۔ آدم خور کو اپنے اس قدر قریب پا کر ان پر اس قدر دہشت طاری ہو گئی تھی کہ رائفلیں ان کے ہاتھوں میں کانپ رہی تھیں۔ اب جو انہوں نے فائر شروع کے تو بالکل اندھا دھند۔ شیر کو تو کوئی گولی نہ لگی، البتہ ہمارے دائیں بائیں گولیاں شائیں شائیں کرتی ہوئی نکلتیں اور درختوں کی شاخوں میں پیوست ہو جاتیں۔ شیر نے اس دوران پنجرے کو ہلا ڈالا، پھر پوری قوّت لگا کر اس نے لوہے کی سلاخیں لچکا ڈالیں اور ان کے درمیان میں سے صاف نکل گیا اور یہ سارا کھیل ان بےوقوف اور بزدل سپاہیوں کی باعث کِرکِرا ہو گیا۔ یہ احمق اگر ذرا ہوش سے کام لیتے تو شیر کے جسم سے رائفلوں کی نال لگا کر تین چار فائروں میں ہی اسے ڈھیر کر سکتے تھے۔ اس ناکامی کا مسٹر لی کوہر اور مسٹر وائٹ پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ وہ دوسرے روز ہی اپنے اپنے علاقے میں واپس چلے گئے اور ایک بار پھر میں تنہا رہ گیا۔
مسٹر وائٹ اور مسٹر لی کوہر کے واپس جانے کے تقریباً ایک ہفتے بعد کا ذکر ہے کہ میں کسی کام سے باہر نکلا تو کیا دیکھا ایک حبشی باشندہ سر پر پاؤں رکھے بےتحاشا میری جانب دوڑتا چلا آتا تھا اور حلق پھاڑ پھاڑ کر اپنی زبان میں کچھ کہتا بھی جاتا تھا۔ معلوم ہوا کہ دریا کے نزدیک ایک مقام پر شیر نے اس پر حملہ کیا۔ یہ گدھے پر بیٹھا ہوا تھا۔ کسی نہ کسی طرح یہ خود تو بچ کر آ گیا، مگر شیر نے گدھے کو وہیں چیر پھاڑ کر برابر کر دیا۔ خبر دلچسپ تھی۔ میں فوراً اپنی رائفل کندھے سے ٹکا کر اس کے ساتھ اُدھر چل دیا۔ شیر وہاں موجود تھا اور غالباً نہایت بھوکا ہونے کی باعث گدھے کے بدمزہ گوشت ہی پر قناعت کر رہا تھا، میں نہایت احتیاط سے پھُونک پھُونک کر قدم آگے بڑھا رہا تھا، لیکن میرے رہنما حبشی نے اپنی حماقت سے ایک جگہ سوکھی شاخوں پر پیر رکھ دیا۔ آہٹ ہوئی تو شیر چونکنا ہو کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس نے اپنے قریب خطرے کی بُو سونگھ لی تھی۔ وہ غرّاتا ہوا جنگل میں گھُس گیا۔ میں واپس آیا۔ کیمپ سے چار پانچ سو قلی جمع کیے۔ جمعداروں سے کہا کہ خالی کنستر، ڈھول، باجے، ٹن غرض یہ کہ جو شے بھی مل سکے لے آؤ۔ جب یہ سامان مہیّا ہو گیا تو میں نے ان سب کو ہدایت کی کہ کنستر اور ڈھول پیٹتے ہوئے اور خوب شور مچاتے ہوئے ایک نصف دائرے کی شکل میں آہستہ آہستہ جنگل کی طرف چلو اور میں خود اسی جگہ جا کر چھُپ گیا، جہاں شیر نے گدھے کو ہلاک کیا تھا۔ قلیوں کے ہنگامے سے جنگل میں ایک قیامت برپا ہو گئی۔ چند منٹ بعد کیا دیکھتا ہوں کہ آدم خور مضطرب ہو کر جنگل سے نکلا۔ وہ تعجّب اور خوف سے اِدھر اُدھر دیکھتا۔ غالباً اس سے پہلے اس نے کبھی ایسا شور و غُل اور ہنگامہ نہ سنا تھا۔ وہ چند قدم چلتا اور پھر رُک کر اپنے اردگرد دیکھنے لگتا۔ آخر وہ مجھ سے اتنا قریب آ گیا کہ میں اس کی کھال میں چبھے ہوئے کانٹے بھی بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ آدم خور نے مجھے نہیں دیکھا۔ اس کی پوری توجّہ اس ہنگامے پر مرکوز تھی۔ میں نے رائفل سے اس کی پیشانی کا نشانہ لیا اور فائر کر دیا۔ آدم خور کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ وہ فضا میں کئی فٹ اونچا اچھلا اور دھاڑتا ہوا میری جانب آیا۔ میں نے فوراً دو فائر اور کیے اور دونوں گولیاں اس کے جسم میں پیوست ہو گئیں۔ وہ وہیں قلابازی کھا کر ڈھیر ہو گیا۔ یہ موقع ایسا نازک تھا کہ میرا نشانہ خطا ہو جاتا تو میری موت یقینی تھی۔ شیر کے ہلاک ہوتے ہی قلیوں اور مزدوروں میں مسرّت کی ایک زبردست لہر دوڑ گئی۔ پہلے تو وہ شیر کے گِرد رقص کرتے رہے، پھر انہوں نے مجھے کندھے پر اٹھا لیا اور پورا جنگل “شاباش” اور “زندہ باد” کے نعروں سے گونجنے لگا اور اس طرح ساؤ کا پہلا آدم خور جس کی لمبائی ٩ فٹ ١ انچ تھی اور جس نے ڈیڑھ سو افراد کو اپنا لقمہ بنایا تھا، کئی ماہ کی مسلسل کوششوں کے بعد اپنے انجام کو پہنچا۔ آدم خور کے مارے جانے کی خبر بہت جلد سارے ملک میں پھیل گی۔ دوستوں اور دوسرے شکاریوں کی طرف سے مبارکباد کے پیغاموں اور تاروں کا تانتا بندھ گیا، لیکن سچ پوچھیے تو مجھے اتنی خوشی نہ تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس کا ساتھی دوسرا آدم خور ابھی تک زندہ سلامت ہے اور جب تک اس کا بھی قصّہ پاک نہیں کیا جاتا، آرام سے بیٹھنا ممکن نہ ہوگا۔
پہلے آدم خور کی لاش کئی دن تک کیمپ میں رکھی گئی۔ ہزارہا لوگ دور دور سے اسے دیکھنے آتے تھے۔ مرنے کے بعد بھی لوگوں پر اس کا دبدبہ اور دہشت قائم تھی۔ میں نے دیکھا کہ لوگ اسے “بدروح” سمجھ کر قریب آنے سے خوف کھاتے اور دور دور ہی کھڑے دیکھتے رہتے اور بلاشبہ وہ شیر تھا بھی بڑا خوفناک۔ ظالم کا قد ساڑھے تین فٹ سے بھی کہیں اونچا تھا اور وزنی اتنا تھا کہ جنگل سے پورے آٹھ آدمی اسے دو بانسوں پر لاد کر لائے تھے۔ ایک ڈیڑھ ہفتے تک ساؤ کے کیمپ میں بالکل امن و امان رہا، مزدور اور قلی بھی اطمینان سے اپنا کام کرنے لگے اور کسی آدمی کے غائب ہونے کی کوئی واردات ان دنوں پیش نہ آئی۔ مجھے بھی خیال ہوا شاید دوسرا آدم خور اپنے ساتھی کا برا حشر دیکھ کر کسی اور طرف بھاگ گیا ہوگا، لیکن چند ہی روز بعد پے در پے ایسے واقعات پیش آئے جنہوں نے مجھے اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔
ایک رات آدم خور ایک انسپکٹر کے بنگلے کے برآمدے میں گھُس آیا۔ بنگلہ زمین سے کئی فٹ اونچا بنا ہوا تھا اور برآمدے تک پہنچنے کے لیے سات آٹھ سیڑھیاں چڑھنی پڑتی تھیں اور اس کے چاروں طرف لوہے کا خاردار تار بھی لگا ہوا تھا، لیکن شیر ایک ہی جست لگا کر اس تار کو عبور کر کے سیڑھیوں کے راستے برآمدے میں آ گیا۔ رات کا سنّاٹا ہر سُو پھیلا ہوا تھا۔ شیر نے انسانی شکار کو تلاش کرنے کے لیے اِدھر اُدھر سونگھا۔ گڑبڑ ہوئی تو انسپکٹر کی آنکھ کھُل گئی۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ شیر برآمدے میں پھر رہا ہے۔ وہ سمجھا کہ کوئی شرابی قلی نشے میں بہک کر برآمدے میں سونے کے لیے آ گیا ہے۔ وہ وہیں سے چلّایا، “برآمدے میں کون ہے؟ دفع ہوجاؤ یہاں سے بدمعاش۔ ورنہ تمہاری اچھی طرح مرمّت کروں گا۔”
انسپکٹر فطری طور پر کچھ آرام طلب اور کاہل آدمی تھا اور اسی عادت نے اس رات اس کی جان بچائی۔ آرام دہ بستر سے اٹھنا اور کمرے کا دروازہ کھول کر برآمدے میں آنا اس کے لیے بڑا مشکل تھا۔ پس وہ وہیں سے “شرابی قلی” کو گالیاں بکتا رہا۔ وہیں برآمدے میں انسپکٹر صاحب کی چند بکریاں بھی بندھی ہوئی تھیں۔ شیر نے پہلے ان کی طرف رُخ نہ کیا، لیکن جب اسے کھانے کے لیے آدمی کا گوشت نہ ملا تو اس نے دو بکریاں اٹھائیں اور جنگل میں چلا گیا۔
دوسرے روز مجھے انسپکٹر کی زبانی اس حادثے کا علم ہوا۔ وہ غریب صبح جب اٹھا تو برآمدے میں بکریوں کا خون پھیلا ہوا تھا۔ شیر کے پنجوں کے نشانات برآمدے میں اور برآمدے سے باہر باڑ کے نزدیک آئے تو وہ دہشت زدہ ہو کر بغیر ناشتہ کیے میرے پاس آیا۔ پورا قصّہ سنا کر کہنے لگا، “کرنل صاحب! میرے باپ کی توبہ ہے جو میں اس بنگلے میں ایک رات بھی رہوں۔ مجھے تو آپ اپنے ساتھ ہی رکھیے۔”
میں نے انسپکٹر کو دلاسہ دے کر اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ کیا اور خود اسی شام کو سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی انسپکٹر کے بنگلے کے نزدیک ایک خالی ڈبے میں بیٹھ گیا۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر شیر کے پھنسانے کے لیے تین موٹی بکریاں ڈھائی سو پونڈ وزنی لوہے کی پٹری کے ایک ٹکڑے سے باندھ دی گئیں۔ ساری رات میں گھپ اندھیرے میں شیر کی آمد کا انتظار کرتا رہا۔ بکریوں نے چیخ کر سارا جنگل سر پر اٹھا رکھا تھا۔ صبح کاذب کے وقت جب میں انتظار کی یہ تکلیف دہ کیفیت ختم کرنے ہی والا تھا کہ شیر کی دھاڑ سنائی دی، پھر بکریاں زور سے چلّائیں اور ایک دم خاموشی چھا گئی۔ میں اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تکنے لگا، لیکن شیر دکھائی نہ دیا۔ میں نے اندازے سے کام لیتے ہوئے اس جانب دو تین فائر جھونک دیے۔ بعد میں پتہ چلا کہ شیر کو کوئی گولی نہ لگی۔ البتہ ایک بکری میری رائفل کا نشانہ بنی اور اس عالمِ فانی سے عالمِ جادوانی کو سدھار گئی، لیکن شیر اتنا قوی نکلا کہ آہنی ٹکڑے سمیت بکریوں کو گھسیٹ کر ایک میل دور جنگل میں لے گیا۔
سورج کی روشنی جنگل میں پھیلتے ہی میں نے کیمپ سے چار پانچ آدمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور آدم خور کی کھوج میں نکلا۔ شیر بکریوں کو جس راہ سے گھسیٹ کر لے گیا تھا۔ اس کا سراغ لگانا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ اتفاق دیکھیے کہ جس وقت ہم وہاں پہنچے تو شیر جھاڑیوں میں چھُپا بکریوں کو ہڑپ کر رہا تھا۔ ہمارے قدموں کی آہٹ سن کر اظہار ناراضی کے لیے وہ آہستہ سے غرّایا۔ ہم سب جس جگہ تھے وہیں رک گئے اور یہ اچھا ہی ہوا کہ شیر نے غرّا کر ہمیں پہلے خبردار کر دیا ورنہ ہم اور نزدیک چلے جاتے تو ضرور ہم میں سے ایک نہ ایک اس کے ہاتھوں مارا جاتا۔ میں نے جھاڑیوں میں فائر کرنے کے لیے رائفل سیدھی ہی کی تھی کہ آدم خور دفعتاً دھاڑتا ہوا جھاڑیوں میں سے نکلا اور ہم سب بدحواس ہو کر اردگرد کے درختوں میں پناہ لینے کے لیے بھاگے۔ میرے ساتھ میرے مددگار انجینئر مسٹر ونکلر بھی تھے۔ ان پر تو اتنی دہشت طاری تھی کہ وہیں گُم سُم کھڑے رہے۔ شیر غالباً خود بھی پریشان ہو چکا تھا۔ اس لیے اس نے ونکلر کی طرف توجہ نہ کی اور مسلسل دھاڑتا ہوا جنگل کی دوسری جانب بھاگ گیا۔ شیر کے چلے جانے کے بعد ونکلر کی جان میں جان آئی اور وہاں سے دوڑ کر ایک درخت پر چڑھ گئے۔ آدھے گھنٹے بعد ہم سب درختوں سے اتر کر ان جھاڑیوں میں گھُسے جہاں شیر چھُپا ہوا تھا۔ بکریوں کی لاشیں موجود تھیں اور شیر کو ابھی بہت کم گوشت کھانے کا موقع ملا تھا کہ ہم پہنچ گئے۔ مجھے یقین تھا کہ شیر بھوکا ہے اور وہ کسی نہ کسی وقت اِدھر آ کر ضرور اپنا پیٹ بھرنے کی کوشش کرے گا۔ میں نے جلد جلد وہاں سے دس پندرہ فٹ کے فاصلے پر مچان بندھوائی اور اپنے ذاتی ملازم مہینا کو یہ ہدایت دے کر کہ جونہی شیر کی آمد کا کھٹکا ہو، فوراً مجھے جگا دے۔ میں وہیں مچان پر لیٹ کر سو گیا۔ تیسرے پہر تک میں بےخبر سوتا رہا، پھر مہینا نے آہستہ آہستہ سے میرا شانہ ہلایا اور آہستہ سے کان میں کہا، “صاحب! شیر آ رہا ہے۔”
میں فوراً اٹھا اور غور سے ان جھاڑیوں کی طرف دیکھنے لگا، جہاں بکریاں مری پڑیں تھیں۔ بلا شبہ جھاڑیاں ہل رہی تھیں اور درندہ چُپکے چُپکے ان میں گھُسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں دم سادھے یہ تماشا دیکھتا رہا۔ آدم خور نے ایک مرتبہ جھاڑیوں سے سر نکال کر اردگرد کا جائزہ لیا، پھر اس کا آدھا جسم باہر نکلا اور فوراً ہی میری رائفل سے بیک وقت دو فائر ہوئے اور گولیاں شیر کے کندھے پر لگیں ایک مہیب دھاڑ کے ساتھ شیر جھاڑی سے نکل کر باہر آیا اور میرے سامنے سے ہو کر دوبارہ جنگل میں گھُس گیا۔ اس کے فرار ہونے کے بعد میں اور مہینا دونوں مچان میں سے اترے اور اس مقام تک گئے جہاں شیر زخمی ہوا تھا۔ تازہ تازہ خون جھاڑیوں میں دور تک پھیلتا چلا گیا تھا۔ یہ دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی کہ شیر بری طرح زخمی ہوا تھا۔ خون کے بڑے بڑے دھبے جابجا بکھرے ہوئے تھے۔ دل تو چاہتا تھا کہ اسی وقت اس کا تعاقب کر کے معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے، لیکن شام سر پر آ گئی تھی اور جنگل کے اندھیرے میں زخمی آدم خور کا تعاقب کرنا آسان مرحلہ نہ تھا۔ میں نے یہ قصّہ کل پر اٹھا رکھا اور ملازم کے ساتھ کیمپ میں آ گیا۔
دوسرے روز جب میں نے جنگل میں شیر کا سراغ لگانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ سر گلفورڈ مالزورتھ تشریف لا رہے ہیں۔ سر گلفورڈ بڑے نامی گرامی انجینئر تھے اور کام کا معائنہ کرنے کے لیے آ رہے تھے۔ میں نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور ان کے استقبال کی تیاریاں کرنے لگا۔ سر گلفورڈ آئے اور جب دوپہر کے کھانے پر ہماری بات چیت ہوئی تو میں نے دوسرے آدم خور کے زخمی ہونے کا قصّہ سنایا۔ وہ سن کر ہنسے اور کہنے لگے، “کرنل صاحب! مجھے تو شک ہے کہ ابھی پہلا آدم خور بھی نہیں مرا۔ دوسرے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔”
میں ان کے طنزیہ فقرے کا مطلب سمجھ گیا۔ وہ دراصل مجھے اناڑی سمجھ کر مذاق اڑا رہے تھے۔ میں ہنس کر خاموش ہو گیا۔
سر گلفورڈ دوسرے روز ممباسہ روانہ ہو گئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ان کے رخصت ہوجانے کے دس دن بعد تک دوسرے آدم خور کے بارے میں مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی کہ اس نے کسی کیمپ پر حملہ کیا ہو یا کسی قلی کو اٹھا کر لے گیا ہو۔ اس کے یوں غائب ہونے کا ایک ہی مطلب تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا کر کہیں جھاڑیوں میں مر چکا ہوگا۔ تاہم حفاظتی انتظامات بدستور جاری تھے اور مزدور درختوں یا گڑھوں کے اندر سویا کرتے تھے۔ اس طرح ایک ہفتہ اور گزر گیا۔ تب ان لوگوں اور مجھے یقین ہو گیا کہ آدم خور کا قصّہ ہمیشہ کے لیے پاک ہو چکا ہے۔ آہستہ آہستہ مزدور اور کاریگر پھر پہلے کی طرح اطمینان اور لاپروائی سے اپنے کام پر آنے جانے لگے اور آدم خور کا ڈر گویا ان کے دلوں سے نکل گیا۔
٢٧ دسمبر ١٨٩٩ء کی وہ رات مجھے آج بھی یاد ہے۔ میں اپنے خیمے میں لیٹا خوابِ خرگوش کے مزے لُوٹ رہا تھا کہ یکایک خیمے سے باہر کچھ فاصلے پر قلیوں کے چیخنے چلّانے کی جگر خراش آوازوں نے مجھے بیدار کر دیا۔ اس کے بعد شیر کی گرجدار آواز نے میرا دل ہلا دیا۔ خدا کی پناہ! آدم خور پھر نمودار ہو چکا تھا۔ اس وقت خیمے سے باہر نکلنا خودکشی کے مترادف تھا۔ میں نے ایک سوراخ سے باہر جھانکا۔ گھُپ اندھیرے میں مجھے کچھ سجھائی نہ دیا۔ قلی مسلسل چیخ رہے تھے۔ میں نے جلدی سے اپنی رائفل اٹھائی اور تین چار ہوائی فائر کر دیے۔ فائر وں کے دھماکوں سے جنگل گونج اٹھا اور آدم خور ڈر کر ایک جانب بھاگ گیا۔ کیوں کہ اس کے بعد میں نے قلیوں کی آواز سنی نہ شیر کی۔ صبح ہوئی تو پتہ چلا کہ فائر عین وقت پر ہوئے تھے، ورنہ آدم خور ضرور کسی کو لے جاتا۔ قلیوں کی چیخ پکار اور فائروں نے اسے خوفزدہ ہونے پر مجبور کر دیا۔ درختوں اور خیموں کے قریب خاردار باڑوں کے چاروں طرف اس کے پنجوں کے نشانات موجود تھے۔ شام ہوئی تو میں رائفل لے کر ایک درخت پر چڑھ گیا۔ مجھے یقین تھا کہ آدم خور کل کی ناکامی کا بدلہ لینے ضرور آئے گا۔ خوش قسمتی سے اس رات آسمان پر بادل نہ تھے اور مہتاب سارے جنگل کو منوّر کر رہا تھا۔ آدم خور کا انتظار کرتے کرتے رات کے دو بج گئے۔ چاروں طرف ایک سوگوار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کبھی کبھی کوئی بڑی سی چمگاڈر آسمان پر پرواز کرتی ہوئی دکھائی دیتی یا پہریداروں کی آوازیں تھیں جو ہر پندرہ منٹ بعد بلند ہوتیں۔ میں نے پہریداروں کو ہدایت کردی تھی کہ شام ہی سے آوازیں دینا شروع کر دیں تاکہ آدم خور انسانوں کی آوازیں سنے اور بےچین ہو کر سیدھا اِدھر آئے۔ رات آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی اور مجھے نیند کے جھونکے آ رہے تھا۔ پھر میں وہیں درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر اونگھنے لگا۔
نہ معلوم کتنی دیر تک غنودگی کے عالم میں گُم رہا کہ دفعتاً میرے حواس خود بیدار ہو گئے۔ میں نے چونک کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ ہر شے ساکن ساکن اور چُپ چاپ اپنی جگہ قائم تھی۔ تاہم میں نے اپنے اندر اضطراب اور بےچینی کی لہریں دوڑتی ہوئی محسوس کیں۔ یہ میری چھٹی حِس تھی جو مجھے بتاتی تھی کہ میرے نزدیک کوئی ذی روح موجود ہے۔ میں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی۔ درخت سے پندرہ گز دور گھنی جھاڑیوں پر چند منٹ تک نظریں جمائے رکھنے سے پتہ چلا کہ اس میں ہمارے پرانے دوست آدم خور صاحب چھُپے ہوئے غالباً میری نگرانی کر رہے ہیں اور کمال کی بات یہ تھی کہ ظالم اِن جھاڑیوں میں بھی ایسی احتیاط سے حرکت کرتا کہ جھاڑی ذرا نہ ہلتی تھیں۔ میں بھی مچان پر بےحِس و حرکت بیٹھا اس کی عیّاری کا جائزہ لیتا تھا، پھر میں نے اسے مزید دھوکہ دینے کے لیے اپنی آنکھیں جھوٹ موٹ موند لیں اور مصنوعی خرّاٹے لینے لگا۔ ایک آدھ منٹ بعد میں نیم باز نگاہوں سے دیکھ لیتا کہ وہ کتنا نزدیک آ گیا ہے۔ اعشاریہ ٣٠٣ بور کی بھری ہوئی رائفل میرے پاس تیّار تھی اور پھر پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ آدم خور مجھ ہی کو اپنا لقمہ بنانے کا ارادہ کر رہا تھا۔ میں جس مچان پر بیٹھا تھا، زمین سے اس کی بلندی دس گیارہ فٹ سے زیادہ نہ تھی اور شیر آسانی سے جست لگا کر اتنی بلندی پر وار کر سکتا تھا۔ خوف کی ایک سرد لہر میرے بدن میں دوڑ گئی۔ شیر اب مجھ پر حملہ کرنے کے لیے قطعی مستعد تھا۔ وہ ایک دم جھاڑیوں کو چیرتا ہوا آیا اور چھلانگ لگا کر میری جانب لپکا، لیکن میں بھی غافل نہ تھا۔ فوراً میری رائفل سے شعلہ نکلا اور گولی شیر کے بائیں کندھے میں لگی۔ ایک ہولناک گرج کے ساتھ آدم خور پشت کے بل گرا، مگر دوسرے ہی لمحے وہ اٹھا اور اچھل کر مجھ پر حملہ کیا۔ اس کا پنجہ مچان سے دو انچ نیچے ایک شاخ پر پڑا اور شاخ تڑخ کر نیچے جا پڑی۔ آدم خور کی گرج اور دھاڑ نے مجھے بدحواس کر دیا۔ میں نے بدحواسی میں اس پر دو فائر اور کیے اور یہ دونوں گولیاں کارآمد ثابت ہوئیں۔ اس کا دایاں بازو تو بالکل ہی بےکار ہو چکا تھا۔ وہ تین ٹانگوں پر اچھلتا ہوا جھاڑیوں کی طرف بھاگا، لیکن اب بھاگنے کا موقع کہاں تھا۔ ظالم درندے کا وقت پورا ہو چکا تھا۔ چند قدم چلنے کے بعد وہ نڈھال ہو کر گر پڑا۔ اس اثنا میں کیمپ کے سینکڑوں مزدور اور قلی ہاتھوں میں ڈنڈے اور کلہاڑیاں لے کر آ گئے۔ شیر تو پہلے ہی مر چکا تھا۔ انہوں نے غیض و غضب کے عالم میں مرے ہوئے شیر ہی پر ڈنڈے اور کلہاڑیوں سے حملہ کر دیا۔ میں نے للکار کر انہیں روکا ورنہ شیر کی اس وقت تکّا بوٹی ہو گئی ہوتی۔ شیر کی لاش اٹھوا کر میں اپنے خیمے میں لے گیا۔ اس کے جسم سے چھے گولیاں برآمد ہوئیں۔ کھال تو کانٹوں نے پہلے ہی خراب کر دی تھی اور اس طرح نو ماہ کی جان توڑ کوشش کے بعد دونوں آدم خور ہلاک ہوئے جن کی ہیبت ناک یاد اتنے برس بعد آج بھی میرے دل میں روزِ اوّل کی طرح تازہ ہے۔

٭٭٭​

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: