Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 3

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 3

–**–**–

گینڈوں کی بستی میں
میری شکاری زندگی کے تمام واقعات و حادثات میں ایک حادثہ نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ مشرقی افریقہ میں میخاوس کا ضلع گینڈوں کی کثرت کے لیے مشہور ہے اسی ضلعے میں میکونی کا گھنا اور خاردار جنگل پھیلا ہوا ہے یہاں کے گینڈے اپنی نسل، قد و قامت، ڈیل ڈول اور وحشیانہ پن کی وجہ سے شکاریوں کے لیے بڑی کشش رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ دور دراز کے علاقوں سے جو سیّاح اور شکاری افریقہ آتے ہیں وہ میخاوس ضرور آتے ہیں۔ اُن گینڈوں کے علاوہ یہاں کی دوسری آبادی وکمبا قبیلے کے لوگ ہیں جو اس ترقی یافتہ دور میں بھی ہزار سال قدیم رسموں کو اپنائے ہوئے ہیں اور تیر کمان ہی سے شکار کرتے ہیں۔ میں نے ان لوگوں کے حیرت انگیز کرتب دیکھے ہیں، ان کا تیر بھی گینڈے اور شیر کو اسی طرح ہلاک کرنے پر قادر ہے جس طرح ہماری اعشاریہ پانچ سو کی رائفل۔۔۔ جس زمانے کا مَیں ذکر کر رہا ہوں، ان دنوں کپتان رچی کینیا کے گیم وارڈن تھے اور علم الحیوانات کے مانے ہوئے استاد۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ افریقی جانوروں کے بارے میں کپتان رچی کی معلومات بہت زیادہ تھیں۔ وہ 1929ء سے لے کر 1940ء تک افریقہ میں رہے اور اس دوران میں انہوں نے حقیر کیڑے مکوڑے سے لے کر ہاتھی جیسے گرانڈیل حیوان تک پر تحقیق کی اور دنیا کے سامنے معلومات کا یہ خزانہ کئی کتابوں کی شکل میں پیش کر دیا۔
انہی دنوں اس علاقے کے انگریز حکّام کو ایک عجیب صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ وکمبا قبیلے کی آبادی گزشتہ کئی برسوں سے برابر بڑھ رہی تھی اور زائد آبادی کے لیے نئی زمین درکار تھی۔ مگر دوسری طرف گینڈوں کی کثرت میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو رہا تھا۔ اور ان کی حرکتوں کے باعث وکمبا قبیلے کےلوگ سخت پریشان تھے۔ یہ گینڈے سینکڑوں کی تعداد میں کھڑی فصلوں پر حملہ آور ہوتے۔ جھونپڑیاں روند ڈالتے اور بعض اوقات آدمیوں کو بھی ہلاک کر دیتے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ قبیلے کے لوگوں نے راتوں کو اپنی جھونپڑیوں سے باہر نکلنا چھوڑ دیا۔ انہوں نے اس مصیبت سے چھٹکارا پانے کی بہت کوشش کی اور اپنے تیر کمان سے جہاں تک ممکن تھا، گینڈوں کو ہلاک کرتے رہے۔ لیکن یہ ساری کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ حتیٰ کہ ضلع میخاوس کے انگریز کمشنر جارج براؤن کے پاس فریاد کی گئی اور وہاں سے کپتان رچی کے دفتر میں یہ احکام بھیجے گئے کہ وکمبا قبیلے کے لوگوں کی مدد کی جائے۔ گینڈوں سے یہ علاقہ خالی کرا لیا جائے۔ اور اس علاقے میں مقامی باشندوں کی نئی بستی آباد کر دی جائے۔ یہ کام اتنا آسان نہ تھا ان دنوں کینیا میں پیشہ ور شکاریوں کا کال پڑا ہوا تھا۔ گرمی کے جان لیوا موسم میں بھلا کون ایسا بے وقوف تھا جو ادھر کا رُخ کرتا، لیکن اسے کیا کہیے کہ قرعہ فال میرے نام نِکلا۔ میں نے فوراً میکونی پہنچ کر اپنے فرائض کا چارج لے لیا۔
گینڈوں کے علاوہ یہاں جس دوسری مصیبت کا سامنا کرنا پڑا وہ زہریلی مکھیاں تھیں جنہیں ‘سیسی’ کہا جاتا ہے۔ ان مکّھیوں کے ڈنگ میں زہر کی اتنی مقدار ہوتی ہے کہ چھوٹے موٹے جانور یا تو بیمار ہو جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں۔ یہ مکھیاں گینڈوں ک خون کی بڑی پیاسی ہیں اور جب آپ مکھیوں کا بادل کسی جھاڑی کے اوپر دیکھیں۔ تو فوراً سمجھ جائیے کہ اس جھاڑی کے اندر کوئی گینڈا ضرور موجود ہے۔ میکونی کے اس جنگل میں سیسی مکھیوں کی دو قسمیں پائی جاتی ہیں: ایک وہ جن کی جسامت ذرا بڑی ہوتی ہے اور ڈنگ چھوٹا، یہ مکھیاں اتنی زہریلی نہیں ہوتیں اور صرف گینڈوں کے خون پر پرورش پاتی ہیں۔ دوسری مکھیاں جسامت میں چھوٹی، لیکن ڈنگ بڑا اور نہایت زہریلا رکھتی ہیں۔ ان کے ڈنگ کا فوری اثر ہوتا ہے۔ اور آدمی اپنے جسم میں سے آگ نکلتی ہوئی محسوس کرتا ہے۔ اگر فوراً علاج نہ کیا جائے، تو اس کا زہر جسم میں پھیل کر موت کا سبب بن جاتا ہے۔ یہ مکّھیاں گینڈوں کے علاوہ مویشیوں، کتّوں اور انسانوں پر بھی ٹڈی دَل کی طرح حملہ آور ہوتی ہیں۔
اب مسئلہ گینڈوں سے زیادہ ان آفتِ جان مکھیوں سے نبٹنے کا تھا۔ گینڈوں کو بھگانے کے لیے ضروری تھا کہ پہلے جھاڑیاں صاف کی جائیں اور جھاڑیاں صاف کرنے نتیجہ یہ نکلتا کہ مکھیوں کا یہ ٹڈی دَل قبیلے کا رُخ کرتا اور مویشیوں اور انسانوں پر قیامت بن کر ٹوٹ پڑتا۔ میں اس علاقے میں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ آ چکا تھا اور کئی گینڈے بھی مارے تھے۔ لیکن اس مرتبہ جو مرحلہ میرے سامنے درپیش تھا، سچ پوچھیے تو اس نے میرے حواس ہی گُم کر دیے تھے۔ کچھ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا راستہ اختیار کروں کہ جنگل بھی صاف ہو جائے، گینڈے بھی بھاگ کر جنگل کے اندرونی حصے میں مستقل طور پر چلے جائیں اور ان خون آشام مکھیوں سے بھی نجات حاصل ہو۔
ان دنوں میرے پاس تین مقامی باشندے مددگار کی حیثیت سے ملازم تھے اور شکار کا کھوج لگانے میں مجھے ان لوگوں کی بڑی مدد ملتی تھی۔ ان میں سے پہلا شخص چالیس سال کی عمر کا تھا اور جنگل کے بارے میں اس کی معلومات حیرت انگیز حد تک صحیح تھیں۔ یہ شخص کبھی جرائم پیشہ گروہ سے تعلق رکھتا تھا اور کئی مرتبہ جیل یاترا بھی کر آیا تھا۔ تاہم جب میں نے اسے اپنے پاس رکھا یہ پیشہ اس کی فطرت کے عین مطابق تھا۔ اس کے بعد اس شخص نے لوٹ اور چوری کی وارداتیں ترک کر دیں اور دوسرا شخص، جو پچیس چھبیس سالہ نوجوان تھا، درخت پر چڑھنے کے فن میں طاق تھا۔ وہ بندر کی سی پھرتی کے ساتھ چند ثانیوں میں اونچے سے اونچے درخت پر چڑھ سکتا تھا۔ اور افریقہ کے برّاعظم میں کسی شخص کا اس فن میں ماہر ہونا بہت بڑی خوبی سمجھا جاتا ہے اور ایسے شخص کی مقامی باشندوں میں بڑی عزت کی جاتی ہے۔ وہ فخریہ کہتا تھا۔ ‘بوانا (جناب) میرے لیے درخت پر چڑھنا، اسی طرح آسان ہے جس طرح آپ پختہ سڑک پر چل سکتے ہیں۔ درخت اونچا ہو یا نیچا، اس کا تنا خاردار ہو یا کُھردار اور ٹیڑھا میڑھا میرے لیے کوئی مشکل نہیں۔ میری استادی کو جنگل کے بندر بھی مانتے ہیں۔’
تیسرا شخص کہنے کو بارہ تیرہ سال کا لڑکا ہی تھا، مگر بلا کا چست اور چالاک۔ اس کے بدن میں گویا بجلی بھری ہوئی تھی۔ وہ میلوں تک کہیں رُکے اور سستائے بغیر دوڑ سکتا تھا۔ افریقہ کے ایسے علاقوں میں جہاں بیل گاڑیاں، موٹریں، حتّیٰ کہ سائیکل بھی نہیں چل سکتی’ پیغام رسانی کے لیے ایسے صبا رفتار لڑکے بہت کارآمد ہیں۔ قصّہ مختصر میں نے ان تینوں کے سامنے گینڈوں کے مقابلے کا جب پروگرام پیش کیا، تو فرطِ جوش و مسرّت سے ان کے سیاہ چہرے چمکنے لگے اور آنکھیں سُرخ ہو گئیں۔ مقامی باشندوں کے خوشی سے بے قابو ہونے کی یہ سب سے بڑی علامت ہے کہ سیاہ چہرے اور سیاہ ہو جاتے ہیں اور آنکھوں میں خون اترتا دکھائی دیتا ہے۔ ان لوگوں نے اپنے اپنے تیر کمان فوراً درست کرنے شروع کر دیے۔ اگرچہ یہ تینوں باشندے عرصہ دراز سے میرے ساتھ تھے، لیکن میری سر توڑ کوششوں کے باوجود وہ رائفل کا صحیح استعمال نہ سیکھ سکے۔
میکونی کا یہ خطہ میرے رائے میں پورے مشرقی افریقہ کا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور دشوار گزار خطّہ ہے اور مجھے یقین ہے کہ ساری دنیا میں اس جیسا مقام کوئی اور نہ ہوگا۔ یہ جنگل نہ زیادہ گھنا ہے اور نہ بالکل ہی ہموار میدان ہے بلکہ اونچی نیچی خار دار جھاڑیوں کے طویل سلسلے ہیں جو بے ترتیبی سے پھیلتے چلے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کہیں درختوں کے جُھنڈ ہیں۔ اُن کی اُونچائی بھی دس پندرہ فٹ سے زیادہ نہیں ہے اور ان درختوں پر بھی تنے سے لے کر اُوپر کی چھوٹی شاخوں تک دو دو انچ لمبے کانٹے اُگتے ہیں یہاں کی زمین خشک، ریتلی اور کسی قدر سرخ رنگ کی ہے۔ جس کو دیکھ کر طبیعت میں ایک قسم کی وحشت پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ زمین نرم اور ریتلی ہے، اس لیے قدموں کے نشانات اس پر بھی اچھی طرح واضح ہو جاتے ہیں اور شکار کا سراغ لگانے میں ان نشانات سے بڑی مدد ملتی ہے۔ لیکن کہیں کہیں پندرہ فٹ اونچی گھاس کے اتنے جُھنڈ بھی ہیں، جنہیں عبور کرنا کسی انسان کے بس کی بات نہیں اور جنگلی درندے گھاس کے اسی جھنڈ میں اکثر آرام کرتے ہیں۔
اس علاقے میں بعض مقامات کی مٹی ایسی بھی ہے جو سورج کی تیز دھوپ میں تپ کر لوہے کی مانند ٹھوس اور سخت ہو جاتی ہے اور سے توڑنے کے لیے کافی مشقت کی ضرورت پڑتی ہے۔ برطانوی گورنمنٹ نے اس عجیب مٹی سے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور سارے کینیا میں نہایت عمدہ سڑکیں اس مٹی سے تیار کرا دی ہیں۔ اس مٹی پر قدموں کے نشانات بالکل واضح نہیں ہوتے، البتہ ان علاقوں میں رہنے والے پرانے شکاری یہ نشانات سونگھ سونگھ کر اپنے شکار کا تعاقب کرتے ہیں۔
جس روز میں میکونی پہنچا ہوں، اسی روز وکمبا قبیلے کا سردار جس کا نام موتو تھا، مجھ سے ملنے آیا اور اس نے بتایا کہ گزشتہ کئی ماہ سے گینڈوں نے بستی کے لوگوں پر آفت ڈھا رکھی ہے۔ فصلیں تہس نہس کر دیں۔ جھونپڑیاں گرا دیں اور بستی کے کئی آدمیوں اور بچوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ گینڈے اپنی کثرت کے باعث اتنے شوخ اور شریر ہو گئے ہیں کہ دن رات کے چوبیس گھنٹے میں ایک لمحے کے لیے بھی چین نہیں لینے دیتے۔ وہ گروہ کی صورت میں گاؤں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک دوڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں میں نے موتو کو سے کہا کہ کمشنر صاحب نے مجھے تمہاری مدد کے لیے بھیجا ہے اور اب ہم مل کر اپنے ان دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہوا۔
یہ عجیب بات ہے کہ ایک دوسرے کے پڑوسی ہوتے ہوئے وکمبا قبیلے کے لوگ ماسائی قبیلے سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے۔ ان کے قد چھوٹے اور جسم مضبوط ہوتے ہیں۔ جبکہ ماسائی لوگوں کے مقابلے میں بہت موٹے ہوتے ہیں اور رنگ توے کی مانند چمکدار۔ ماسائی جنگجو ہیں، تو وکمبا لوگ شکاری کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کا خاص ہتھیار کمان اور زہر آلود تیر ہیں، ان کی کمانیں بے حد مضبوط اور تیروں کے سرے سوئی کی مانند نکیلے اور کئی کئی انچ لمبے ہوتے ہیں۔
میں نے اور میرے ملازموں نے اپنی مہم کا آغاز کرنے سے پہلے ایک ہفتہ وکمبا گاؤں میں قیام کیا اور سردار موتوکو کی میزبانی کا خوب لطف اٹھایا۔ اس دوران میں مَیں نے اپنے ملازموں کو رائفل چلانے کی دن رات ٹرنینگ دی اور انہیں اتنی مشق کرا دی کہ رائفل سے اچھا خاصا نشانہ لگانے لگے۔ اس عرصے میں ہم نے وکمبا لوگوں کی مخصوص زبان کے بہت سے الفاظ بھی کام چلانے کے لیے سیکھ لیے۔ میں جتنے عرصے تک وکمبا میں رہا، میں نے تہذیب و تمدّن اور سائنس کی دنیا سے بہت دور، ان سیدھے سادھے، قدیم جنگلی حبشیوں کو نہایت ایماندار، بے حد جفاکش، محنتی اور ملنسار پایا۔ دنیا میں پھیلی ہوئی وہ سینکڑوں برائیاں جو آج کل فیشن میں داخل ہیں، ان کا یہاں کی تہذیب میں کہیں وجود نہ تھا۔ ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ قتل، چوری، جھوٹ اور دوسرے کے مال پر بُری نظر رکھنا کیا چیز ہے۔ یہاں ہر شخص محنت کر کے اپنی روزی کماتا تھا۔ عورتیں بھی ہر قسم کے کاموں میں اپنے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہے، حتّیٰ کہ چھوٹی چھوٹی بچیاں بھی بیکار نہیں بیٹھتیں۔ اور کسی نہ کسی کام میں لگی رہتی ہیں اور جنگل سے لکڑیاں چُن چُن کر لاتی ہیں۔ مجھے حیرت اس وزن پر ہے جو وکمبا قبیلے کی عورتیں اپنے سروں اور پیٹھ لاد کر آسانی سے چلتی ہیں۔ میرا اندازہ ہے کہ یہاں ایک عورت دو اڑھائی من وزن بخوبی اٹھا لیتی ہے۔ نو عمر لڑکیاں بھی ایک سو پچاس پونڈ وزنی آسانی سے اٹھا لیتی ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہوش سنبھالتے ہی انہیں محنت کرنے کی عادت ڈال دی جاتی ہے۔ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد جب یہ سطریں میں انگلستان کے ایک دور افتادہ گاؤں میں بیٹھا سپردِ قلم کر رہا ہوں، وکمبا قبیلے کے لوگوں کی حسین یاد میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہے۔
اسی گاؤں میں پہلے پہل میری ملاقات مولمبی شکاری سے ہوئی۔ وہ وکمبا قبیلے ہی سے تعلق رکھتا تھا اور میری خوش قسمتی تھی کہ اس یادگار مہم میں ایسا شخص مجھے مل گیا جو نہایت قابلِ اعتماد، وفادار اور بہادر آدمی ثابت ہوا۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے اتنی جلد مزاج شناس ہو گئے کہ جب میں کینیا سے ریٹائر ہو کر انگلستان آنے لگا تو مولمبی آنکھوں میں آنسو بھر کر کہنے لگا:
‘بوانا! آپ جا رہے ہیں، مجھے بھی ساتھ لے چلیے۔ میں ایک لمحہ آپ سے علیحدہ نہیں رہ سکتا۔’
مولمبی کا محبت آمیز ایثار ایسا نہ تھا کہ اسے رَد کر دیا جاتا۔ میں اسے اپنے ساتھ انگلستان لے آیا اور وہ آج بھی اسی تندہی اور خلوص سے میری خدمت کر رہا ہے جس طرح آج سے چودہ برس پہلے کرتا تھا۔
ایک رات کا ذکر ہے۔ گاؤں کے سبھی کتے بھونکنے لگے اور ان کے شور سے میری آنکھ کھل گئی۔ کتّوں کا یوں مل کر بھونکنا اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ کوئی درندہ انسانی بستی کے قریب آ گیا ہے۔ میں ابھی آنکھیں مل ہی رہا تھا کہ دفعتہً زمین لرزنے لگی اور پھر گینڈوں کے دوڑنے کی آوازیں اور ان کے حلق سے نکلتی ہوئی غرّاہٹ نما چیخیں ایک قیامت برپا کرنے لگیں۔ گاؤں میں جیسے زلزلہ آ گیا، لیکن اس سے پہلے کہ کوئی شخص گینڈوں پر اپنا تیر کمان آزمائے گینڈوں کی یہ فوج دس پندرہ جھونپڑیوں کو روندتی ہوئی نکل گئی۔ علی الصبح موتو کے ساتھ جب میں نے گاؤں کے حالات کا جائزہ لیا تو ہر طرف گینڈوں کے قدموں کے نشانات نظر آئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کی تعداد پندرہ اور بیس کے درمیان ہے میں نے وقت ضائع کیے بغیر اپنے ساتھیوں کو جمع کی اور ہم ان گینڈوں کے تعاقب میں روانہ ہو گئے تینوں شخص ننگے پیر تھے اور میں نے ربڑ کے جوتے پہن رکھے تھے۔ گینڈے کی قوتِ سماعت اس غضب کی ہوتی ہے کہ وہ ہلکی سے ہلکی آواز بھی سن لیتا ہے اور فوراً چوکنّا ہو جاتا ہے۔ ربڑ کے جوتوں کا فائدہ یہ تھا کہ ٹوٹی ہوئی شاخ یا پتوں کے ڈھیر پر میرا پاؤں پڑتا تو آواز آنے سے پہلے ہی میں خبردار ہو جاتا اور اگلا قدم احتیاط سے اٹھاتا۔ تینوں سکاؤٹ اس خار دار جنگل میں ننگے پاؤں یوں دوڑ رہے تھے جیسے وہ کسی نرم اور دبیز قالین پر چل رہے ہوں۔ ہم کافی دیر تک گینڈوں کے پیروں کے نشانات کا تعاقب کرتے رہے۔ موسم چونکہ خشک ہو چکا تھا اس لیے زمین بھی سخت اور کھردری ہو رہی تھی اور ان نشانات کو بار بار جُھک جُھک کر دیکھنا پڑتا تھا۔ پہلا سکاؤٹ جو ان نشانات کو سونگھنے کا ماہر تھا۔ سب سے آگے تھا وہ کسی تازی کتے کی طرح رُکے بغیر مسلسل آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک ایک جانب سے ایسی آواز میرے کانوں میں آئی جیسے کوئی جانور جگالی کر رہا ہے۔ یہ آواز اتنی صاف اور واضح تھی کہ ہمارے اٹھتے ہوئے قدم فوراً رُک گئے اور ہم سب نے اس آواز کی طرف کان لگا دیے۔ دس منٹ تک ہم بے حس و حرکت کھڑے یہ آواز سنتے رہے۔ یہ گینڈا ہی تھا جو شاخیں اور پتے چبا رہا تھا۔
آواز جس سمت سے آ رہی تھی، اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ گینڈا ہمارے بائیں ہاتھ پر ہے۔ اچھی طرح اطمینان کر لینے کے بعد ہم اسی سمت میں پھونک پھونک کر قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھے۔ ہمیں ڈر تھا کہ اگر گینڈے نے ہماری ذرا بھی آہٹ پالی تو وہ رفو چکّر ہو جائے گا۔ میرے ساتھیوں کے جسموں پر صرف لنگوٹیاں بندھی تھیں اور جب وہ خار دار جھاڑیوں میں سے مُڑ تُڑ کر گزرتے تھے تو اگرچہ کانٹے ان کو چبھتے تھے مگر کیا مجال کہ کِسی کی زبان سے اُف بھی نکلی ہو۔ چند قدم چلنے کے بعد ہم رُک کر آواز سن لیتے تھے۔ گینڈا بدستور جگالی کر رہا ہے۔ یکایک یہ آواز تھم گئی اور اس کے ساتھ ہی ہم بے حس و حرکت اپنی جگہ کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے جھاڑیوں میں سے جھانک کر دیکھا، تو تھوڑے فاصلے پر گینڈا کھڑا تھا۔ اس کے کان آہستہ آہستہ ہل رہے تھے۔ گویا آواز سننے کی کوشش کر رہا ہے۔ گینڈا جھاڑیوں کے اندر اسی حالت میں کھڑا تھا کہ اس پر فائر کرنا آسان نہ تھا۔ جب چند منٹ اسی طرح گزر گئے تو میرے ہمراہی اپنی فطرت کے مطابق بے چین ہونے لگے۔ یہ لوگ شکار کو سامنے دیکھ کر صبر کر ہی نہیں سکتے۔ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ فوراً ہی اس پر حملہ کر دیا جائے۔ گینڈے کی پشت پر چھوٹے چھوٹے چند پرندے بیٹھے ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور گینڈے کو چونچیں مارتے تھے۔ گینڈے کا جسم اتنا بھاری اور کھال اتنی سخت اور موٹی ہوتی ہے کہ پرندوں کے بیٹھنے کا بھی اسے احساس نہیں ہوتا۔ دراصل یہ پرندے گینڈے کے جسم سے چمٹے ہوئے کیڑے مکوڑے اور جوؤں کو کھاتے ہیں اگرچہ گینڈے کی بصارت تیز نہیں ہوتی اور وہ زیادہ فاصلے کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن یہ چھوٹے چھوٹے پرندے اس کی ہر وقت رہنمائی کرتے ہیں اس مرتبہ بھی یہی ہوا۔ پرندوں نے فوراً محسوس کر لیا کہ ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ پس وہ چوکنّے ہو گئے۔ پھر دفعتہً اُڑ کر ہماری طرف آئے اور جھاڑیوں میں چُھپ کر زور زور سے بولنے لگے جیسے گینڈے کو خبردار کر رہے ہوں۔ جونہی پرندے اس کی پشت سے اڑ کر ہماری جانب آئے، گینڈے نے منہ چلانا بند کر دیا اور فوراً چوکنّا ہو کر سامنے دیکھنے لگا۔ اس کے کان بھی باری باری آگے پیچھے حرکت کرنے لگے۔ پھر وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا ہماری جانب بڑھنے لگا۔ ہم نے اپنی رائفلیں تان لیں۔ گینڈا جب ہم سے صرف دس گز کے فاصلے پر رہ گیا تو اس نے پہلی بار ہمیں دیکھا اور ٹھٹھک کر ٹھہر گیا۔ اس کی دُم اوپر کو اٹھ گئی اور ٹینکی مانند پیٹ کی حرکت میں اضافہ ہو گیا۔ اس نے اپنے دشمنوں کو پہچان لیا تھا۔ اس کی گردن تَن گئی اور ناک کے اوپر لگے ہوئے لمبے نوک دار سینگ کا سرا دکھائی دینے لگا۔ ایک لمحے تک وہ اپنی چندھی چندھی آنکھوں سے اس صورتِ حال کا جائزہ لیتا رہا۔ غالباً اس کے چھوٹے سے سر میں ننھا سا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا، خوراک خوب پیٹ بھر کر کھا لینے کے بعد کوئی جانور دنگا فساد کرنا پسند نہیں کرتا۔ اور راہِ فرار اختیار کرتا ہے اس گینڈے کی بھی یہی کیفیت تھی۔ اس کے تیور بتاتے تھے کہ وہ لڑنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ لیکن اس سیدھے سادے حیوان میں اتنی عقل نہ تھی کہ وہ مڑ کر جھاڑیوں میں چلا جاتا اور اس طرح اپنی جان بچا لیتا۔ اس نے پہلے دو تین مرتبہ اپنے اگلے پاؤں زمین پر مارے اور بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح اُچھلتا ہوا ہماری جانب آیا۔ اسی لمحے میری رائفل سے فائر ہوا اور گولی گینڈے کے دائیں شانے میں پیوست ہو گئی۔ گینڈا لڑکھڑا کر گھٹنوں کے بل زمین پر گِرا، مگر فوراً ہی لوٹ پوٹ کر کھڑا ہو گیا۔ اب اس کا قوی جسم دھونکنی کی مانند حرکت کر رہا تھا اور غیظ و غضب کی انتہا نہ تھی۔ اس کے شانے سے خون کی دھار اُبل پڑی۔ وہ پہلے کئی گز پیچھے ہٹا اور پھر پوری قوت سے دوڑتا ہوا ہماری جانب آیا۔ ادھر میں بھی مستعد تھا دوسری گولی بھی شانے پر لگی اور گینڈآ ہمارے قریب آن گرا۔ میں نے اس کے بعد اپنے ساتھیوں کو للکار کر کہا اس پر گولیاں برساؤ۔ انہوں نے حکم کی تعمیل کی دس پندرہ منٹ میں قوی الجثہ گینڈا ختم ہو چکا تھا۔ اس کی موٹی کھال گولیوں سے چھلنی ہو گئی تھی۔
ابھی ہم اُسکی کھال اتارنے کی کوشش ہی کر رہے تھے کہ ہمارے عقب میں لوگوں کے بھاگنے اور ان کی آوازوں کا شور سنائی دیا۔ آناً فاناً قبیلے کے بے شمار لوگ لمبے لمبے چاقو لیے نمودار ہوئے اور گوشت خور چیونٹیوں کی مانند گینڈے پر پل پڑے۔ وہ فرطِ مسّرت سے بے قابو ہوئے جا رہے تھے گینڈے کا گوشت ان فاقہ مست وحشیوں کے لیے نعمتِ خیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر وہ نہ مانے اور پندرہ بیس منٹ میں گاڑھے گاڑھے خون اور ہڈیوں کے سوا وہاں گینڈے کا نام و نشان بھی باقی نہ رہا۔ ان لوگوں نے اس کی بوٹی بوٹی تقسیم کر لی اور پھر دیر تک آپس میں چھینا جھپٹی ہوتی رہی۔ میرے اندازے کے مطابق پچاس من وزنی گینڈا پورے قبیلے کی ایک روزہ ضیافت کے لیے کافی تھا۔ ان کم بختوں نے اس کی انتڑیاں بھی باقی نہ چھوڑیں اور سب ہضم کر گئے۔
اس علاقے میں گینڈوں کو ختم کرنے کا یہ پہلا قدم تھا۔ جس میں مجھے کامیابی نصیب ہوئی۔ اس کے بعد آئندہ پندرہ دنوں میں میں نے بارہ گینڈے اور مارے اور انہیں ہلاک کرنے میں کسی خاص دقّت کا سامنا نہیں ہوا۔ سولہویں روز مجھے معلوم ہوا کہ محمکہ زراعت کے افسرِ اعلیٰ مسٹر بیوالے مزدوروں، قلیوں اور لکڑہاروں کے جم غفیر کے ساتھ میکونی آ گئے ہیں اور اب جنگل کو صاف کرنے کا ٹھیکہ ان کے پاس ہے۔ مسٹر بیوالے کے ساتھ بیٹھ کر میں نے کام کا تفصیلی نقشہ بنایا اور طے ہو گیا کہ جس رفتار سے گینڈوں کا خاتمہ ہو جائے گا یا انہیں میلوں دور دھکیل دیا جائے گا۔ اسی رفتار سے خار دار جھاڑیوں اور درختوں کی کٹائی ہوتی رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ میرے ساتھ آئے ہوئے آدمیوں میں سے کسی کی جان ضائع ہو۔ اس معاملے میں ہر ممکن احتیاط کی ضرورت ہے اگر ایسا حادثہ ہوا، تو بقیہ مزدور کام چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ آپ اپنے شکاریوں کو لے کر آگے آگے چلیے اور جب ایک علاقہ فتح کر لیں تو مجھے اطلاع دے دیجیے، میں پھر اپنے آدمیوں کو لے کر وہاں پہنچ جاؤں گا۔’
اس سے اگلے روز ہم اپنی مہم پر روانہ ہو گئے اور آبادی سے بہت دور ایسے مقام پر جا پہنچے جہاں یک لخت زمین ڈھلوان شکل اختیار کر گئی۔ یہ دراصل ایک بے آب و گیاہ وادی تھی۔ جس کے دونوں جانب اونچے اونچے آتش فشاں پہاڑ تھے جو ہزار ہا سال پہلے کبھی زندہ تھے۔ اس وادی میں تیز رفتار ہوا کے جھکڑوں سے سابقہ پڑا۔ جس سے گینڈوں کا تعاقب کرنے میں بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ جب ہوا ہماری جانب سے وادی کے اندرونی حصے کی طرف چلنے لگتی تھی تو گینڈے انسانوں کی بُو پا کر ہوشیار ہو جاتے تھے۔ اور انہیں گھیرنے کے لیے جان ہتھیلی پر رکھنی پڑتی تھی۔ ایک موقعے پر تو میرے ملازموں میں سے چھوٹا لڑکا مرتے مرتے بچا۔ قِصّہ یوں ہوا کہ اس نے رائفل چلانا ابھی سیکھا ہی تھا اور اسے کسی جانور پر آزمانے کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک روز گینڈے کو جھاڑیوں کی قطار کے ساتھ ساتھ ٹہلتے ہوئے پایا اور رائفل لے کر اس کے پیچھے چل پڑا۔ اس نے یہ کارنامہ چپکے سے سر انجام دینے کی خوشی میں مجھے اور دوسرے ساتھیوں کو بتانا بھی مناسب نہ سمجھا۔ گینڈے نے اگرچہ لڑکے کو اپنے پیچھے آتے دیکھ لیا تھا۔ مگر اس نے شرافت سے کام لیتے ہوئے لڑکے پر فوراً حملہ نہ کیا۔ بلکہ بھاگتا ہوا جنگل کے گھنے اور تاریک حصّے میں چلا گیا۔ لڑکے نے اسے جو ہاتھ سے جاتے دیکھا، تو بے تحاشہ اس کے تعاقب میں دوڑا اور ایک فائر بھی جھونک مارا۔ بس پھر کیا تھا۔ گینڈا غیظ و غضب کی تصویر بن گیا اور فوراً پلٹ کر لڑکے کی طرف آیا۔ اگر یہ لڑکا پھرتیلا اور چست نہ ہوتا تو ختم ہو چکا تھا۔ جونہی گینڈا قریب آیا، یہ اچھل کر ایک جانب ہٹ گیا۔ اور اسی اثناء میں رائفل لڑکے کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ گینڈا اپنے ہی زور میں کئی گز آگے نکل گیا، لیکن فوراً ہی گھوم کر آیا اور اس سے پیشتر کے لڑکا اپنے اوسان بحال کر سکے، گینڈے نے سر جھکایا اور ایک ہی جست میں لڑکے کے قریب پہنچ کر ٹکر ماری۔ لڑکا ایک طرف ہٹا اور گینڈے کا سینگ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔ گینڈے نے زور سے جھٹکا دیا اور لڑکا فضا میں اڑتا ہوا بہت دور جھاڑیوں کے ایک گھیرے میں گرا جہاں ذرا کشادہ جگہ تھی اور گرتے ہی بے ہوش ہو گیا۔ فائر کی آواز میرے کانوں تک پہنچ گئی تھی۔ ہم سب اسی جانب دوڑ پڑے اور بہت تلاش کے بعد لڑکے کو جھاڑیوں کے اندر پڑے پایا وہ اس وقت بھی بیہوش تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس حادثے کے باوجود اسے زیادہ چوٹ نہیں آئی تھی اور وہ چند منٹ میں ٹھیک ہو گیا۔ جب میں نے اسے اس جلد بازی پر ڈانٹ ڈپٹ کی تو کہنے لگا، ‘بوانا، مجھے بالکل پتہ نہیں تھا کہ گینڈا ریل کے انجن کی طرح ایک دم دوڑتا ہوا آئے گا اس نے تو مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیا۔’
میں نے اس سے کہا کہ اگر گینڈا کبھی کسی کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیتا اور واقعہ بھی یہی ہے کہ گینڈے کو قدرت نے قوی ہیکل جسم عطا کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی حفاظت کے عجیب و غریب طریقے سکھائے ہیں۔ دوڑ کر حملہ کرنے کا انداز ہی اتنا بھیانک اور روح فرسا ہے کہ ایک عام آدمی تو کیا، ہاتھی جیسا عظیم ڈیل ڈول رکھنے والا حیوان بھی خوفزدہ ہو کر اس کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔ خود میں نے بارہا یہ دلچسپ منظر دیکھا ہے کہ ہاتھی اور گینڈے ایک ہی جگہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے پودے اور شاخیں چرنے میں مصروف ہیں کہ یکایک کسی ہاتھی اور گینڈے کا آمنا سامنا ہو گیا اور دونوں لڑنے مرنے پر آمادہ ہو گئے۔ ایک مرتبہ ایسا ہی دلچسپ تماشہ دیکھنے کا مجھے اتفاق ہوا، اسے یہاں درج کرتا ہوں۔
گینڈے کو دیکھ کر ہاتھی غضب ناک ہو کر چنگھاڑا اور آگے بڑھ کر اسے اپنی سونڈ میں جکڑنے کی کوشش کی۔ گینڈا بھی غافل نہ تھا۔ اس نے ہاتھی کا وار خالی دیا اور پیچھے مُڑ کر بھاگا۔ میرا خیال تھا کہ وہ ہاتھی سے ڈر کر بھاگ گیا ہے۔ لیکن پچاس ساٹھ گز دور جا کر وہ دفعتہً رُکا اور ہاتھی کی جانب رُخ پھیر کر کھڑا ہو گیا۔ گینڈا اب لڑائی کے لیے پوری طرح مستعد تھا۔ گردن جھکا کر اپنے اگلے دونوں پاؤں زمین پر مار رہا تھا اور چھوٹی سی دُم اُوپر اٹھ گئی تھی۔ میں سمجھ گیا کہ گینڈا اب پورے جوش و خروش میں ہے اور یہ حالت ایسی ہے کہ ہاتھی تو ایک طرف، شیر بھی سامنے ہو تو گینڈا پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ چند ثانیے تک اُچھلنے کودنے اور حلق سے ڈکرانے کی آوازیں نکالنے کے بعد گینڈا اپنے حریف کی جانب پوری قوت سے دوڑا اور اس کی اگلی دونوں ٹانگوں کے درمیان میں ٹکر ماری۔ یہ ٹکر ایسی زبردست تھی کہ ہاتھی سنبھل نہ سکا۔ اور ایک جانب دھم سے جا گرا اس کا گرنا گویا بھونچال کا آنا تھا۔ زمین کانپ گئی اور چرند پرند ہراساں ہو کر شور مچانے لگے۔ ہاتھی کے گرتے ہی گینڈا اس کے اوپر جا پڑا اور پھر تو ان دونوں میں ایسی خونریز جنگ ہوئی کہ خدا کی پناہ۔ میں ایک درخت پر بیٹھا ہوا جنگل کے ان دو قوی الجثّہ جانوروں کا مقابلہ دیکھ رہا تھا جو بہت کم شکاریوں کے مشاہدے میں آتا ہے۔ گینڈا اپنے حریف کو بُری طرح رگڑ رہا تھا اور چند ہی منٹ میں اس نے ہاتھی کو بے دم کرنے کے بعد خوب ٹکریں ماریں مار مار کر اس کا سارا جسم لہولہان کر دیا۔ گینڈا بار بار پیچھے ہٹ کر اچھلتا اور اپنا لمبا نوک دار سینگ ہاتھی کے جسم میں پیوست کر دیتا اور ہاتھی سونڈ اٹھا کر بھیانک آواز میں چیخ مارتا۔ اس نے کئی مرتبہ گینڈے کو اپنی سونڈ کے ذریعے قابو میں کرانا چاہا۔ مگر گینڈے کی پھرتی اور ہوشیاری کے آگے ہاتھی کی ایک نہ چلی۔۔۔ ہاتھی جب بالکل ہی نڈھال ہو گیا تو اس نے اپنے آپ کو گینڈے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اب گینڈا بار بار اس کے گرد چکر لگاتا اور اپنا سینگ اس کے گوشت میں گھونپتا رہا۔ نہ معلوم ان کی لڑائی کب تک جاری رہتی کہ معاً شیر کی گرج سے جنگل گونج اٹھا۔ غالبا وہ کہیں قریب ہی موجود تھا اور اس کے آرام میں اس لڑائی خلل پڑا تھا۔ شیر کی آواز سنتے ہی اِدھر تو میں نے اپنی رائفل سنبھالی اور اُدھر حیرت انگیز طور پر گینڈے اور ہاتھی نے اپنی جنگ ختم کر دی۔ چند منٹ تک دونوں ایک دوسرے کے قریب کھڑے ہانپتے رہے۔ اتنے میں شیر پھر دھاڑا تو گینڈا اُچھلا اور دوڑتا ہوا ایک جانب چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد زخموں سے چور چور ہاتھی بھی آہستہ آہستہ چلتا ہوا دوسری جانب چلا گیا۔
ان دونوں کی لڑائی کا فائدہ یہ ہوا کہ وہ شیر جس کی تلاش میں مَیں پندرہ دن سے مارا مارا پھر رہا تھا، یکایک میرے سامنے موجود تھا۔ اس نے پہلے تو آ کر ‘میدان جنگ’ کا معائنہ کیا۔ گینڈے اور ہاتھی کے جسم سے جو خون گرا تھا اسے سونگھتا رہا اور پھر منہ اوپر اٹھا کر دھاڑا۔ غالباً خون دیکھ کر اس کے پیٹ میں چوہے دوڑنے لگے تھے اور یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ شیر گینڈے کو بُو پا کر اسی جانب چلا جدھر گینڈا گیا تھا۔ میں نے رائفل کا نشانہ لیا اور لبلبی دبانے ہی والا تھا کہ ایک دلچسپ واقعہ ظہور میں آیا۔ گینڈا زیادہ دور نہیں گیا تھا۔ بلکہ وہاں جھاڑیوں میں چھپا ہوا سستا رہا تھا۔ شیر نے اسے دیکھ لیا تھا اور گینڈا بھی اسے اپنی طرف آتے دیکھ کر تاڑ گیا تھا کہ جنگل کا بادشاہ کسی اچھی نیّت سے نہیں آ رہا۔ پس ایک بار پھر وہ اپنے طاقتور دشمن سے دو دو ہاتھ کرنے نکلا۔ اگرچہ شیر تازہ دم تھا اور گینڈا ہاتھی سے جنگ کرنے کے بعد زخموں سے چُور چُور، تاہم اس نے شیر کا جی توڑ کر مقابلہ کیا۔ شیر غرّاتا ہوا گینڈے پر حملہ آور ہوا اور اس کی گردن پر اپنے اگلے دونوں پنجے گاڑ دیے۔ گینڈے کی گردن سرخ سرخ خون سے تر ہو گئی۔ لیکن شیر کی نسبت وہ کہیں زیادہ جاندار اور وزنی تھا۔ اس نے گردن کو زور سے جھٹکا دیا، تو شیر کئی لڑھکنیاں کھا کر دور جا گرا۔ اب تو اس کے بھی غیظ و غضب اور طیش کی انتہا نہ رہی۔ ایک ہی جست میں وہ پھر گینڈے کے سر پر آ گیا اور اس پر بری طرح حملہ کیا کہ گینڈا جلد ہی زمین پر گِرا اور اپنے ہی خون میں لوٹ لگانے لگا۔ شیر نے اب اس کی گردن اپنے جبڑے میں دبا لی تھی۔ عین اسی وقت میری دو نالی رائفل سے فائر ہوئے اور دونوں گولیاں شیر کا بھیجا پھاڑتی ہوئی نکل گئیں اور اس طرح جنگل کا یہ خونیں ڈرامہ ایک گھنٹے بیس منٹ بعد ختم ہو گیا۔ لیکن گینڈے میں ابھی جان باقی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ شیر حرکت نہیں کرتا تو لوٹ پوٹ کر اٹھ کھڑا ہوا اور پھر انہی جھاڑیوں کی جانب بڑھنا چاہتا تھا کہ میری رائفل نے اس کا قصہ پاک کر دیا۔ اب مجھے افسوس تھا۔ تو اس ہاتھی پر جو بچ کر نکل گیا، ورنہ میں ایسا شکاری ہوتا۔ جس نے ایک ہی دن میں ہاتھی، گینڈے اور شیر کو مار کر ریکارڈ قائم کر لیا تھا۔
آپ نے اندازہ کر لیا ہوگا کہ گینڈا سبزی خور حیوان ہونے کے باوجود درندوں کے مقابلے سے کتراتا نہیں اور اس میں بھی بہادری اور جرأت کے وہی اوصاف موجود ہیں جو شیروں اور چیتوں میں پائے جاتے ہیں۔
ہاتھیوں کی طرح گینڈوں پر بھی مستی اور جوش کا ایک وقت آتا ہے اور ان دنوں میں وہ نہایت مضطرب اور کسی قد بدمزاج ہو جاتا ہے۔ جنگل کے دوسرے جانور اس صورتِ حال سے دوچار ہوتے ہی دُور دُور پناہ لیتے ہیں اور گینڈوں کے علاقے کی جانب پھٹکنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اس موسم میں مادہ گینڈا بچہ دیتی ہے اور کبھی کبھار کسی مادہ کو اپنانے کے سلسلے میں کئی کئی گینڈے ایک دوسرے کے سامنے آ جاتے ہیں اور خوب زور و شور سے لڑائی ہوتی ہے۔
اتفاق کی بات ہے کہ ایک نہایت ہی ضروری کام کی تکمیل کے لیے مجھے فوری طور پر نیروبی جانا پڑا۔ میری بیوی ان دنوں وہیں تھی اور اس کے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی کہ میں مسلسل اپنی جان جوکھوں میں ڈالے رہوں۔ چنانچہ اس نے مجھے بلانے کے لیے پے در پے خط لکھے اور پھر بیماری کا بہانہ کیا۔ میں ہرگز ان چالوں میں نہ آتا اگر نیروبی کے کمشنر کا خط مجھے نہ ملتا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتا تھا اور ظاہر ہے کہ کوئی ضروری بات ہوگی جس کے لیے کمشنر نے خود مجھے خط لکھا۔ میرا خیال تھا کہ نیروبی زیادہ سے زیادہ مجھے ایک ہفتہ لگ جائے گا۔ لیکن وہاں کچھ ایسے جھنجھٹوں میں پھنس گیا کہ پورے دو ماہ بیت گئے۔ اس دوران میں میکونی میں پھر گینڈوں کی ہلاک خیز سرگرمیاں اپنے عروج پر آ گئیں اور واقعہ یہ تھا کہ بارش کا موسم شروع ہو چکا تھا اور گینڈوں پر مستی اور جوش و خروش کا عالم طاری تھا۔ اس مرتبہ میرے ساتھ نیروبی کے چڑیا گھر کے منتظم اعلیٰ مسٹر ساویج بھی آئے تھے جن کو حکم ملا تھا کہ لندن چڑیا گھر کو بھیجنے کے لیے گینڈے کا بچہ پکڑ کر لائیں۔ مسٹر ساویج نے مجھ سے کہا کہ اگر گینڈے کے بچے کو پکڑ لیا جائے تو اس کی اچھی قیمت چڑیا گھر والوں سے وصول ہو سکے گی، چنانچہ میں نے اپنے نوکروں اور دوسرے باشندوں کو ہدایت کر دی تھی اگر وہ کسی مادہ گینڈے کے ساتھ بچے کو دیکھیں تو فوراً مجھے خبر کر دیں۔
میں اب تک اس مہم میں 75 گینڈے ہلاک کر چکا تھا۔ یہ بلاشبہ ایسا ریکارڈ ہے جسے آج تک دنیا کا کوئی شکاری توڑ نہیں سکا۔ اس قتلِ عام کا نتیجہ یہ نکلا کہ گینڈے خوفزدہ ہو گئے اور وکمبا قبیلے کی آبادی سے بہت دور انہوں نے پناہ لی اور جنگل کے اس حصّے پر قبضہ جمالیا۔ جہاں ان کے پرانے حریف ہاتھی صدیوں سے رہتے سہتے چلے آتے تھے۔ فیصلہ کیا گیا کہ گینڈوں کا مزید تعاقب کیا جائے اور انہیں کافی دور دھکیل دیا جائے۔ تاکہ عرصۂ دراز تک انسانی بستیوں کا رُخ نہ کریں۔
آبادی سے شمال کے رُخ کوئی پچیس میل کے فاصلے پر جنگل کے عین بیچوں بیچ ہم نے اپنے خیمے نصب کر لیے کیونکہ ایک طویل مہم ہمارے پیش نظر تھی جس میں گینڈوں کے علاوہ ہاتھیوں اور دوسرے جانوروں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے تھے۔ اس لیے ہم سب آدمی کیل کانٹے سے اچھی طرح لیس تھے اور ہمیں امید تھی کہ کامیابی ہمارے قدم چومے گی لیکن تیسرے ہی روز ایک عجیب حادثے سے دوچار ہونا پڑا اور ہمیں محسوس ہوا کہ انسان خواہ اپنی حفاظت کا کیسا ہی انتظام کرے، جنگل میں بالکل درندوں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے اور حفاظت کی کوئی تدبیر وقت پر کام نہیں آتی۔
صبح چار بجے کا وقت تھا۔ جنگل کے پرندے خدا کی حمد کر رہے تھے۔ نسیم سحر رنگ برنگ کے جنگلی پھولوں سے اٹھکیلیاں کرتی ہوئی گزر رہی تھی۔ جن لوگوں کو کبھی جنگل میں صبح کا منظر دیکھنے کا اتفاق ہوا، وہی جان سکتے ہیں کہ اس وقت فطرت اپنے آپ کو کس طرح بے نقاب کر دیتی ہے اور اس حُسن بے پروا کے نظارے سے وجدان کی کیسی حیات آفرین فرحت حاصل ہوتی ہے۔ میرے تینوں ملازم خیمے میں پڑے خراٹے لے رہے تھے۔ میں اور مسٹر ساویج چائے پینے کے بعد ٹہلنے کے لیے جنگل نکل گئے۔ گزشتہ رات خوب زور کی بارش ہوئی تھی اور جگہ جگہ پانی رُکا ہوا تھا۔ ہم نے چونکہ چمڑے کے لمبے شکاری جوتے پہن رکھے تھے۔ اس لیے بے خوف ہو کر پانی میں گھس جاتے تھے۔ حسبِ عادت رائفل میرے کندھے سے لٹک رہی تھی اور مسٹر ساویج خالی ہاتھ تھے۔
دفعتہً ہم نے ایک مقام پر لمبی گھاس میں سانپ کی پھنکار سنی اور ہم دہشت سے فوراً پیچھے ہٹ گئے۔ یہ مُوذی سانپ غالباً اسی جانب رینگ رہا تھا جدھر ہم کھڑے تھے۔ چند منٹ بعد ہلتی ہوئی گھاس سے ہم نے اندازہ لگایا کہ سانپ کدھر ہے۔ دراصل اس نے بھی ہمیں دیکھ لیا تھا اور دشمن سمجھ کر اب ہمیں ڈسنے کے لیے آ رہا تھا۔ یکایک سانپ گھاس سے نکل کر ہمارے سامنے آ گیا۔ اسے دیکھ کر ہمارے اوسان خطا ہو گئے۔ سانپ کی بجائے ایک لمبا کافی موٹا اژدہا ہمیں دیکھ کر پھنکاریں مار رہا تھا۔ اس کا رنگ سبزی مائل زرد تھا اور کھال پر بڑے بڑے چکتے سے پڑے ہوئے تھے۔ مسٹر ساویج کا رنگ ہلدی کی مانند پیلا پڑگیا اور ایک دم غش کھا کر پانی میں گِر گئے۔ میں نے اپنے اوسان بحال کیے اور رائفل کندھے سے اتاری اور اژدہے کے سر کا نشانہ لے کر فائر کر دیا۔ نشانہ خطا ہو گیا کیونکہ میرے ہاتھ کانپ رہے تھے اژدہا اپنی کئی انچ لمبی زبان باہر نکال کر پھنکارا اور اس کے منہ سے شعلے نکلتے دکھائی دیے اس کی آنکھیں یاقوت کی مانند سرخ تھیں اور ان میں ہیرے کی سی چمک تھی۔ جونہی میری اور اس کی نظریں چار ہوئیں، میں نے محسوس کیا کہ جسم میرا بے جان ہو گیا ہے اور میں اب کوئی حرکت نہیں کر سکتا۔ اگرچہ یہ کیفیت تھوڑی دیر ہی رہی۔ مگر مجھے احساس ہوا جیسے کئی گھنٹے بیت گئے ہیں۔ اژدہا حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ وہ سرک کر چند فٹ اور آگے آیا، اب میرا اور اس کا درمیانی فاصلہ صرف تین یا چار گز کا ہوگا۔ میرے بائیں ہاتھ گدلے پانی میں پڑے ہوئے مسٹر ساویج نے ہوش میں آ کر آنکھیں کھولیں اور پانی میں سے اٹھنے کی کوشش کی تو آہٹ سن کر اژدہے کی توجہ اس طرف ہو گئی۔ بس وہ ایک لمحہ ہم دونوں کی جان بچا گیا۔ فائر کرنے کا اس وقت موقع ہی کہاں تھا۔ میں نے آگے بڑھ کر پوری قوت سے اپنی رائفل اژدہے کے سر پر دے ماری یہ ضرب کارگر ثابت ہوئی اور ہیبت ناک اژدہا تڑپ تڑپ کر مر گیا۔
ہانپتے کانپتے ہم دونوں اپنے کیمپ کی طرف پلٹے۔ طبیعت سخت مکدر ہو چکی تھی اور ناشتے کا وقت نکلا جا رہا تھا۔ یکایک ہم نے جنگل کے اندرونی حصے میں انسانی چیخوں کی مدھم آوازیں سنیں اور پھر زمین لرزنے لگی۔ خطرے کے احساس سے میرا دل کانپنے لگا۔ مسٹر ساویج کی رہی سہی جان بھی نکل گئی۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ کدھر پناہ لیں کہ دفعتہً پچاس ساٹھ گینڈوں کا ایک غول ہم سے کوئی ایک فرلانگ دور جھاڑیوں کے عقب میں دوڑتا ہوا نمودار ہوا۔ اس غول کو دیکھ کر یقین کیجیے کہ میرا خون ہی خشک ہو گیا اور معاً مجھے خیال آیا کہ میرے ملازموں کی خیر نہیں یہ گینڈے ادھر سے ضرور گزرے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ انہوں نے ہمارا کیمپ تباہ کر دیا ہو۔ ہم درختوں کے پیچھے چھپ گئے۔ گینڈے ایک لمبا چکر کاٹ کر آئے اور ہمارے قریب آن کر ٹھہر گئے۔ اب ہم بالکل ان کے رحم و کرم پر تھے۔ ان کی تعداد میرے اندازے کے مطابق ساٹھ سے کسی طرح کم نہ تھی اور یہ سب کے سب نر گینڈے تھے اور ان پر مستی کا عالم طاری تھا۔ میرے پاس ایک رائفل تھی اور ظاہر ہے کہ ایک رائفل سے ان ساٹھ گینڈوں کو بیک وقت مارا نہیں جا سکتا تھا۔ بدقسمتی سے ہم جن درختوں کے پیچھے چھپے کھڑے تھے ان کی اونچائی بھی کچھ زیادہ نہ تھی اور یہ نہایت کمزور درخت تھے جو گینڈے کی ایک ہی ٹکر سے گِر جاتے۔ اس وقت میں نے خدا کو سچّے دل سے یاد کیا اور عہد کیا کہ اگر اس مرتبہ جان بچ گئی تو آئندہ گینڈے کے شکار سے ہمیشہ کے لیے توبہ کرلوں گا۔
گینڈوں نے اب تک ہماری بو نہیں پائی تھی اور وہ ہمارے قریب ہی اِدھر اُدھر گھوم رہے تھے اور ان کی آپس میں دھینگا مشتی جاری تھی وہ ایک لمحہ ہم پر صدیوں کے عذاب کی مانند گزر رہا تھا۔ مسٹر ساویج کا چہرہ فرطِ خوف سے سپید پڑچکا تھا اور اس کی ٹانگیں تھرتھرا رہی تھیں۔ میری کیفیت یہ نہ تھی، تاہم موت کو اتنا قریب پا کر کوئی شخص اپنے حواس برقرار نہیں رکھ سکتا میرا بدن بھی پسینے سے تر تھا۔ ہم دونوں درختوں کے ساتھ چمٹے ہوئے بے حس و حرکت کھڑے تھے۔
آدھ گھنٹے بعد گینڈوں کا سردار اچانک ایک جانب بھاگ نکلا اور پھر سب کے سب دوڑتے ہوئے اس کے تعاقب میں چلے گئے، تب ہماری جان میں جان آئی۔ افتاں و خیزاں اپنے کیمپ میں پہنچے، تو وہاں ہوشربا منظر دکھائی دیا۔ ہمارا خیمہ الٹا ہوا تھا اور ہر شے تہس نہس ہو چکی تھی۔ دو ملازم تو غائب تھے اور سب سے چھوٹے لڑکے کی لاش کچلی ہوئی خیمے کے قریب پڑی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ بے خبر سو رہا تھا کہ گینڈوں کے پیروں تلے کچلا گیا۔ اس کی لاش قیمہ بن گئی تھی اور کوئی ہڈی سلامت نہ تھی۔ یہ حادثہ کم از کم میرے لیے ناقابل برداشت تھا۔ میں اسی روز میخاوس پہنچا اور بصد حسرت و یاس اپنا اسعفیٰ کمشنر صاحب کے سامنے رکھ دیا اور ان کے احتجاج کے باوجود اپنا بوریا بسترا باندھا اور اسی روز نیروبی پہنچ کر دم لیا۔ وہ دن اور آج کا دن میں نے پھر کبھی گینڈے پر گولی نہیں چلائی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: