Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 4

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 4

–**–**–

کانگو کے گوریلے
41ء کے موسمِ خزاں کا ذکر ہے کہ مجھے نیویارک کا سفر اختیار کرنا پڑا۔ ایک ہفتہ پہلے میں مغربی افریقہ کے جنگلوں میں دو سال کاٹ کر آیا تھا۔ میری بدقستی کہ ان دنوں میں نے جتنے جانور پکڑے، ان میں آٹھ چمپنزی بندر بھی شامل تھے جن کے بارے میں نیویارک کے چڑیا گھر والوں کو نہ جانے کس طرح پتہ لگ گیا۔ اور انہوں نے مجھ سے تار کے ذریعے درخواست کی کہ یہ سب کے سب بندر منہ مانگے داموں پر چڑیا گھر کے لیے فروخت کر دیے جائیں۔ ان میں سے پانچ نر تھے اور تین مادہ چمپنزی۔۔۔ میں نے ان بندروں کو ہوائی جہاز کے ذریعے نیویارک بھیج دیا اور خود فلوریڈا چلا گیا جہاں میری بیوی کے رشتے دار رہتے تھے۔ فلوریڈا میں قیام کیے ابھی چند ہی روز ہوئے تھے کہ میرے ایک ہم پیشہ اور ہم مذاق دوست نے مجھے نیویارک آنے کی دعوت دی اور لکھا کہ اگر تم میرا خط ملنے کے تیسرے دن نیویارک نہ پہنچے تو میں فلوریڈا آ جاؤں گا اور تمہاری زندگی تلخ کر دوں گا۔ اس دھماکہ خیز خط کے تیور بتاتے تھے کہ لکھنے والے کے حکم کی تعمیل نہ کی گئی، تو وہ یقیناً مجھے پریشان کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر گزرے گا۔ پس میں نے سسرال والوں سے اجازت لیے بغیر چپکے سے جہاز کا ٹکٹ خریدا اور نیویارک کے لیے روانہ ہو گیا۔ نیویارک پہنچنے پر مجھے شرارت سوجھی اور اپنے دوست سے ملنے کے بجائے میں سنٹرل پارک کے ایک ہوٹل میں ٹھہر گیا۔
چونکہ میں جنگلوں کی آزاد فضا میں رہنے کا عادی ہو چکا تھا۔ اس لیے نیویارک کے اس آرام دہ ہوٹل کا کمرہ مجھے قید خانے کی کوٹھڑی سے بھی بدتر محسوس ہو رہا تھا۔ یہاں عجیب گھٹن سی تھی۔ آدھی رات کے وقت میں اس کمرے سے بیزار چہل قدمی کے ارادے سے باہر نکلا اور چھٹے ایونیو کی جانب چل پڑا۔ گھومتے گھومتے 42 سٹریٹ کے سرے پر آیا تو ایک چھوٹا سا ریسٹورنٹ دیکھ کر طبیعت مچل گئی۔ پیاس لگ رہی تھی۔ کچھ پینے کے ارادے سے بے دھڑک اندر داخل ہو گیا۔ لیکن اندر جاتے ہی جس شخص سے سب سے پہلے نظریں چار ہوئیں وہ میرے پرانے دوست رنیز کے سوا اور کئی نہ تھا۔۔۔ وہی رنیز۔۔۔ جس کا دھمکی آمیز خط مجھے فلوریڈا میں مل چکا تھا۔ میں نے اسے ٹھیک چھ سال بعد دیکھا تھا۔ اور پہچاننے میں شبہ یوں نہ تھا۔ کہ اس کے دائیں رخسار پر گہرے زخم کا لمبا نشان صاف دکھائی دے رہا تھا۔ زخم کا یہ نشان ایک افریقی چیتے کے پنجے کا تھا۔ جس کا تعاقب رنیز کر رہا تھا اور میری اس کی پہلی ملاقات بھی اسی مہم کے سلسلے میں ہوئی تھی۔ رنیز ارجنٹائن کا باشندہ تھا۔ اور سونے کی تلاش میں افریقہ آیا تھا۔ لیکن جب سونا نہ ملا تو وہ چڑیا گھر کے لیے جانور پکڑ پکڑ کر فروخت کرنے لگا۔
مجھے دیکھتے ہی وہ چیتے کی مانند میری جانب لپکا۔ اس کا گھونسا میرے جبڑے پر پڑتا۔ اگر میں پھرتی سے اچھل کر ایک طرف نہ ہٹ جاتا۔ وہ اپنے ہی زور میں آگے پڑی ہوئی کرسی سے ٹکرایا۔ اتنی دیر میں مَیں اسے اپنی بانہوں میں جکڑ چکا تھا۔ اس کے منہ سے مغلظات کی بارش ہونے لگی اور میں ہنستا رہا۔ دو بے تکلف دوست عرصۂ دراز کے بعد ملے تھے اور ایک دوسرے کو خوش آمدید کہنے کا بہترین طریقہ یہی دوستانہ گالیوں کا تبادلہ تھا۔
جب یہ ہنگامہ ختم ہوا اور ہم اپنی اپنی کرسیوں پر اطمینان سے بیٹھ گئے تو میں نے کہا:
‘تو یہاں نیویارک میں کیا کر رہا ہے؟ کیا یہاں بھی کوئی سونے کی کان ڈھونڈنے کا ارادہ ہے۔’
وہ زور سے ہنسا اور میرے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہنے لگا:
‘اجی میں نے سونے کی ایسی کان ڈھونڈ لی ہے جس کا علم تمہارے فرشتوں کو بھی نہ ہوگا۔’
‘اچھا! ہم بھی تو سنیں کہ یہ کان کہاں واقع ہے؟’
‘یہ فرانسیسی کانگو میں ہے۔’ رنیز نے فخر سے سینہ پُھلاتے ہوئے جواب دیا۔ ‘اس کاروبار میں میرے ساتھ ایک اور آدمی بھی ہے۔ ابھی ابھی ہم نے تین گوریلے گرفتار کیے ہیں اور چند ہفتوں کے اندر اندر ان گوریلوں کو امریکہ کے مختلف چڑیا گھروں میں فروخت کر دیا جائے گا۔ میں تمہاری خاطر اتنا کر سکتا ہوں کہ ایک گوریلا تمہارے ہاتھ سستی قیمت پر صرف پانچ ہزار ڈالر میں فروخت کر دوں۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ تم جب اسے بیچو گے، تو زیادہ دام وصول کر سکو گے۔’
‘سب بکواس ہے، میں سمگل کیے ہوئے جانور نہیں خرید سکتا اور خریدوں بھی تو میرے پاس فی الحال پانچ ہزار ڈالر نہیں۔’ میں نے جواب دیا۔
‘تمہاری قسمت۔۔۔’ رنیز نے ہنس کر کہا۔۔ ‘بہرحال میں ان تین گوریلوں کو بیس ہزار ڈالر سے کم قیمت میں ہرگز نہ بیچوں گا۔ اگر ان کے خریدار یہاں نہ ملیں گے، تو انہیں جنوبی امریکہ لے جاؤں گا۔’
‘تم جہنم میں جاؤ یار۔۔۔ یہ کیا قصّہ لے بیٹھے۔۔۔ کچھ اور باتیں کرو۔ کہو اتنے دن کہاں رہے۔’
اور اس طرح میں نے گفتگو کا رخ پھیر دیا۔ وہ اپنے گزشتہ چھ سال کے کارنامے بیان کرتا رہا۔ میں نے اس شخص کی باتوں پر ذرا دھیان نہ دیا، کیونکہ وہ بلا کا دروغ گو تھا۔ جہاں تک گوریلے پکڑنے کا تعلق ہے، وہ قطعی جھوٹ تھا۔ کیونکہ گوریلے صرف بیلجین کانگو میں پائے جاتے ہیں۔ اور وہاں بھی ان کی نسل ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے بعد وہاں کی حکومت نے ان گوریلوں کی حفاظت کے انتظامات بڑے سخت کر دیے تھے۔ اور کسی ایرے غیرے کو جنگل کے اس حصّے میں قدم رکھنے کی اجازت نہ تھی جہاں گوریلے رہتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد جب اس نے پھر اپنے تین گوریلوں کا ذکر کیا، تو میں نے قدرے غصّے سے کہا:
‘رنیز، خدا کے لیے تم مجھے اتنا بے وقوف نہ بناؤ۔ گوریلے صرف بیلجین کانگو میں پائے جاتے ہیں۔ اور وہاں تم قدم نہیں رکھ سکتے اس لیے یہ افسانے مجھے نہ سناؤ۔’
اب اس کے بھڑکنے کی باری تھی۔ اس نے میز پر گھونسا مارتے ہوئے کہا:
‘تم خود بے وقوف ہو اور مجھے بے وقوف کہتے ہو۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ گوریلے بیلجین کانگو کے علاوہ دنیا بھر میں اور کہیں نہیں؟ ارے نادان، ابھی میں نے تمہارے سامنے افریقہ کے فرانسیسی استوائی خطّے کا ذکر کیا ہے۔ بیلجین کانگو کی تو میں نے بات ہی نہیں کی۔ اس خطّے میں اتنے گوریلے ہیں کہ جب سے کرۂ ارض وجود میں آیا ہے بیلجین کانگو کی سرزمین نے اتنے گوریلے خواب میں بھی نہ دیکھے ہوں گے اور میں نے جہاں سے گوریلے پکڑے ہیں، وہاں کے قبائلی باشندے انہیں شکار کر کے ان کے گوشت سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔’
‘بھائی یہ بے پر کی کہیں اور اڑانا، میں ان باتوں میں آنے والا نہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ بیلجین کانگو کے علاقے کے سوا اصلی گوریلے کہیں اور نہیں پائے جاتے۔ بس اس سے زیادہ میں کچھ سننے کے لیے تیار نہیں۔’
‘بہت اچھا۔۔۔ اب تمہیں یقین دلانے کا میرے پاس ایک ہی طریقہ ہے۔’ رنیز نے غصّے سے بل کھاتے ہوئے کوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک تصویر نکالی اور میرے آگے پھینک دی۔ یہ تین کم سن گوریلوں کی تصویر تھی جو خس و خاشاک کے ایک بڑے سے ڈھیر پر بیٹھے تھے۔ ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا۔ کہ ہر گوریلے کا وزن چالیس پونڈ کے لگ بھگ ہے۔ اس تصویر کو دیکھ کر مجھے سخت حیرت ہوئی اور رنیز کی کہانی پر یقین آنے لگا۔ اب میں نے اس سے تفصیلات پوچھنے کا ارادہ کیا لیکن وہ ایک منٹ بھی بیٹھنے پر تیار نہ تھا۔ وہ ناراض ہو کر چلا گیا۔
میرا خیال تھا کہ ناراضی دور ہونے کے بعد رنیز مجھ سے ملے گا۔ لیکن وہ نہ آیا اس کا دو دن انتظار کرنے کے بعد میں واپس فلوریڈا چلا گیا۔ رنیز نے جب سے ان گوریلوں کی تصویر مجھے دکھائی تھی، میں اپنے آپ کو اس فکر سے آزاد نہ کر سکا کہ ممکن ہے وہ ٹھیک ہی کہتا ہو اور فرنچ کانگو میں بھی گوریلوں کی کوئی نسل آباد ہو۔ فرنچ کانگو کو آج کل سنٹرل افریقن ری پبلک کہا جاتا ہے۔ اس میں چار علاقے شامل ہیں: گیبن، وسطی کانگو، یوبنگی شاری اور چڈ۔ 1960ء میں ان نو آبادیوں نے فرانس سے آزادی حاصل کی اور متحد ہو کر ایک جمہوری حکومت قائم کرلی۔ افریقن ری پبلک کا رقبہ 9 لاکھ 47 ہزار میل کے لگ بھگ ہے اور آبادی پچاس لاکھ کے قریب۔ یہ علاقہ انتہائی زرخیز اور شاداب ہے کہیں کہیں دلدلی خطے بھی ہیں۔ کانگو یہاں کا عظیم الشان دریا ہے۔ ہزارہا مربع میل میں پھیلے ہوئے گھنے جنگل اور پہاڑی سلسلے ہیں۔ ندیاں اور چھوٹے دریا بھی کثرت سے ہیں۔ شمال مشرقی حصّے میں ایک بلند اور وسیع و عریض سلسلہ کوہ پھیلا ہوا ہے جس کی ایک چوٹی ایمی کوسی گیارہ ہزار فٹ سے زائد اُونچی ہے۔
گھنے اور تاریک جنگلوں میں ہزار ہا قسم کے کیڑے مکوڑوں حشرات الارض پرندوں اور چرندوں سے لے کر ہاتھی جیسے جانور بھی پائے جاتے ہیں۔ البتہ شیر اور چیتے کمیاب ہیں۔ دریاؤں میں دریائی گھوڑے عام ہیں۔ اس علاقے کا کوبرا سانپ بڑا مشہور ہے۔ جس کا کاٹا پانی بھی نہیں مانگتا۔ چمپنزی بندروں کی کئی نسلیں یہاں آباد ہیں۔ لیکن میری معلومات کے مطابق گوریلے ان جنگلوں میں نہیں تھے۔ تاہم میں نے تحقیق کا فیصلہ کر لیا اور ایک لائبریری میں جا کر جب اس خطّے کا مطالعہ کیا، تو پتہ چلا کہ واقعی یہاں گوریلوں کا بھی وجود تھا۔ 1856ء میں ایک فرانسیسی سیّاح اور شکاری پال ڈی چلیو نے گیبن کی سیّاحت کے دوران اپنی ڈائری مرتب کی تھی جس میں وہ لکھتا ہے کہ یہ پُراسرار جنگل دنیا کا ایک بڑا عجوبہ ہے۔ یہاں ہزاروں نرالے جانور میں نے دیکھے جن میں سے بہت سے جانوروں کے سکیچ میں نے بنالیے ہیں۔ دریاؤں میں چھوٹی بڑی مچھلیوں کی بے شمار قسمیں ہیں جن کو یورپ والوں نے کبھی دیکھا بھی نہ ہوگا۔ اٹھارہ اٹھارہ فٹ لمبے مگرمچھ ہیں اور جنگلوں میں دوڑنے والے سُرخ بھینسے تو شاید ساری دنیا میں کہیں نہیں پائے جاتے یہاں میں نے جنگل میں سے گزرتے ہوئے چند گوریلے بھی دیکھے ہیں۔۔۔ جن کے جسموں پر لمبے لمبے سیاہ بال تھے۔۔۔ ان کے بازو بہت لمبے ہیں۔۔۔ اور شکلیں انسان سے حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتی ہیں۔’
یہ شہادت ایسی ٹھوس تھی اور واضح تھی کہ مجھے اپنے اوپر شرم آنے لگی اور میں نے رنیز کو جھٹلانے کی جو حماقت کی تھی، اس پر سخت افسوس ہوا۔ اگرچہ فرانسیسی سیّاح نے گیبن کے جنگلوں میں سو سال پہلے گوریلوں کو دیکھا تھا۔ اور عین ممکن ہے کہ اب وہان ان کا وجود نہ ہو تاہم مجھے رنیز کو جھٹلانا نہیں چاہیے تھا۔
اب اتفاق دیکھیے کہ ایک روز میں اپنے والد مرحوم کی لائبریری میں چلا گیا۔ وہاں دوسری کتابوں کے درمیان میں رکھی ہوئی پال ڈی چلیو کی کتاب بھی مجھے نظر آئی جسے میں بچپن میں بڑے شوق سے پڑھا کرتا تھا، کیونکہ اس میں دلچسپ واقعات کے ساتھ ساتھ تصویریں بھی تھیں۔ اور مجھے خوب یاد ہے۔ کہ اس کی کتاب میں گوریلوں کی تصویریں خاص طور پر میں بڑے شوق سے دیکھا کرتا تھا۔ اور سب سے پہلے مجھے اسی کتاب نے بتایا تھا کہ دنیا میں انسانوں سے ملتی جلتی ایک مخلوق بستی ہے۔ جو ابھی اپنے ابتدائی دور میں ہے۔ بعد میں جب میں نے انسان کی نشو و نما اور ارتقاء کے مختلف نظریات سے آگاہی حاصل کی، تو گوریلوں سے میری دلچسپ بڑھتی چلی گئی اور پھر قسمت نے مجھے ایسے میدان میں ہمیشہ کے لیے لا کھڑا کیا جہاں مشقّت اور جان جوکھوں کا کام کیے بغیر روزی ملنی محال تھی۔ میرا مطلب افریقہ اور امریکہ کے جنگلوں میں جا کر فلم سازی سے ہے جو اب میرا پیشہ بن چکا ہے۔ اور یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ اس فن میں میرے حریف بہت ہی کم ہیں۔
رنیز نے مجھے جو خط لکھا تھا، اس میں اس کا پتہ بھی درج تھا۔ بعد میں جب میں نے خط تلاش کیا، تو مجھے نہیں ملا۔ اب میں رنیز سے ملنے کے لیے بے چین تھا۔ اور بار بار افسوس کرتا کہ میں نے اسے ناحق ناراض کیا۔ نیویارک جیسے شہرِ غدار میں اس کا سراغ پانا آسان کام نہ تھا۔ تاہم مجھے امید تھی کہ ایک روز اس کی خفگی دور ہو جائے گی۔ اور وہ مجھے دوبارہ خط لکھے گا۔ اس دوران میں مجھے خود فرنچ کانگو کے بارے میں تازہ معلومات حاصل کرنی چاہیئں۔ چند ہفتوں کی خط و کتابت اور اِدھر اُدھر سے پوچھ گچھ کے بعد مجھے اتنا پتہ چل گیا کہ بیلجین کانگو کے دارلحکومت برازویل سے شمال کی جانب تقریباً تین سو میل کے فاصلے پر ایک خطّہ ایسا بھی ہے جہاں گوریلے پائے جانے کا امکان ہے۔ اس خطے کے متعلق بعد ازاں مجھے پتہ چلا کہ ابھی تک اس کے بارے میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی، کیونکہ یہاں جنگل نہایت گھنا اور دُشوار گزار ہے قدم قدم پر سینکڑوں فٹ گہرے دلدلی میدان ہیں، جھیلیں بکثرت ہیں۔ اور ان جنگلوں کے اندر قدیم باشندے آباد ہیں، لیکن تحقیق کے باوجود ان کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ میں نے نقشے پر اس خطّے کو تلاش کیا، تو وہاں بھی اتنی جگہ خالی تھی۔ تاہم اتنی تحقیق کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں کسی حد تک رنیز کی بیان کر دہ کہانی پر ایمان لے آیا۔
اس سے پیشتر میں نے فلوریڈا میں چمپنزی بندروں کی ایک ‘پرورش گاہ’ قائم کی تھی۔ چمپنزی بندروں کی کئی نسلیں میں مشرقی اور مغربی افریقہ کے جنگلوں سے لایا تھا۔ اور انہوں نے حیرت انگیز طور پر مجھے مالی فائدہ پہنچایا۔ اب میں سوچنے لگا۔ کہ کیوں نہ گوریلوں کی بھی ایک پرورش گاہ بنائی جائے۔ بیلجین کانگو کی حکومت نے اپنے علاقے میں گوریلے مارنے اور لے جانے والے کے لیے دس سال قید با مشقت کی سزا مقرر کر رکھی تھی۔ اس لیے وہاں سے تو گوریلے لانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا، البتہ فرنچ کانگو کے اس گمنام اور پراسرار خطے سے اگر رنیز جیسا شخص گوریلے کو پکڑ کر لاسکتا ہے اور بقول اس کے، وہاں کے باشندے انہیں شکار کر کے گوشت پر گزارہ کر سکتے ہیں۔ تو پھر میرے لیے یہ کام کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں تھا۔ چنانچہ اسی دن میرے سر پر اس پُراسرار معمّے کو حل کرنے کی دھن سوار ہو گئی اور میں برازویل جانے کی تدبیریں سوچنے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ اگر وہاں سے میں چند نر اور مادہ گوریلے فلوریڈا لانے میں کامیاب ہو گیا، تو پھر وارے نیارے ہو جائیں گے۔
آپ کو یاد ہوگا یہ زمانہ دوسری جنگ عظیم کے شباب کا تھا۔ ہٹلر کی فوجیں آندھی کی طرح سے جرمنی سے اُٹھیں اور انہوں نے تمام یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ افریقہ بھی اس کی استبدادی کاروائیوں سے محفوظ نہ تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہٹلر پورے افریقہ پر قبضے کرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچانا چاہتا ہے۔ آنے جانے کے تمام راسے مسدود ہو چکے تھے۔ سمندروں میں اتحادیوں اور نازیوں کے درمیان ہولناک جنگ برپا تھی۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو مجھے برازویل پہنچنا چاہیے۔
فلوریڈا کے سرکاری حلقوں میں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ میں فرنچ کانگو کے علاقے سے گوریلے لا کر ان کی پرورش گاہ قائم کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ کئی ماہرین علمِ الحیوانات اور دوسرے سائسدانوں نے اس تجویز کو پسند کیا کہ وہ اس معاملے میں میری ہر ممکن مدد لیں گے۔ لیکن بدقسمتی سے ان دنوں حالات اتنی جلد ابتر ہو گئے کہ 44ء کے آغاز تک مجھے برازویل جانے کا موقع نہ مل سکا۔ ڈیڑھ سال کا یہ وقفہ مجھ پر عذاب کی مانند گزرا اور اگر لندن میں مقیم امریکن سفیر جس سے میرے دوستانہ تعلقات قائم تھے، میری مدد نہ کرتا تو شاید میں قیامت تک فرنچ کانگو پہنچنے میں کامیاب نہ ہوتا۔ فروری 44ء میں جب میں بحر اوقیانوس کو عبور کرنے کی غرض سے ناروے کے ایک جہاز پر سوار ہو رہا تھا تو امریکہ کے صدر روز ویلٹ کا ایک سفارشی خط بھی فرنچ کانگو کی گورنمنٹ کے نام میری جیب میں موجود تھا۔
ہمارے پاس سامان کی مقدار بہت کم تھی۔ دو ہلکے پھلکے بستر، کپڑے اور پڑھنے کے لیے کچھ کتابیں، کیمرہ اور اسی طرح کا دوسرا سامان ان کے علاوہ تھا۔ اگرچہ میرا پروگرام اس مرتبہ فلم سازی کا نہ تھا۔ تاہم احتیاط میں نے کیمرہ لے جانا بھی مناسب سمجھا۔ سولہ ملی میٹر کا کیمرہ اور بیس ہزار فٹ لمبی رنگین فلم، بس یہ دو چیزیں اور میرے پاس تھیں جن کا وزن 45 پونڈ سے زیادہ نہ تھا۔
بحرِ اوقیانوس کا یہ ہولناک سفر بھی ہمیشہ یاد رہے گا۔ جہاز اگرچہ ناروے کا تھا جو لڑائی میں شریک نہ تھا، تاہم نازی آبدوز کشتیوں سے کچھ بعید نہ تھا کہ وہ اس غیز جانبدار جہاز کو بھی معمولی شبے پر نشانہ بنا دیتیں۔ جہاز سیرالیون کے راستے فرنچ کانگو جا رہا تھا۔ اس کے تمام مسافر دہشت زدہ تھے۔ ہر شخص دوسرے کو جاسوس سمجھ کر خائف تھا۔ اور آپس میں بات چیت سے کتراتا تھا۔ سبھی کی نظریں مجھ پر تھیں، کیونکہ میرے سامان میں کیمرہ اور اسی طرح کی دوسری چیزیں شامل تھیں۔ جہاز پر رات کے وقت بالکل اندھیرا رہتا۔ عرشے پر سگریٹ پینے کی بھی سختی سے ممانعت تھی۔ ذرا ذرا سے وقفے پر اس کے اوپر لگے ہوئے سائرن بھیانک آواز میں چلّانے لگتے اور ہمارے کلیجے حلق کو آ جاتے۔ یہ سائرن اس خطرے کا اعلان تھے کہ کوئی نازی آبدوز سمندر میں دیکھی گئی ہے۔ خدا خدا کر کے یہ اذیت ناک سفر ختم ہوا۔ ختم یوں ہوا کہ ہم یہاں بیوری فری ٹاؤن کی بندرگاہ پر اُتر گئے، ورنہ جہاز تو سیدھا سیرالیون جا رہا تھا۔ یہاں صدر روز ویلٹ کا سفارشی خط بڑا کام آیا اور ہمیں ایک امریکن سروس ہوائی جہاز میں برازویل تک جانے کی اجازت مل گئی۔

فروری کے آخری ہفتے میں میں برازویل پہنچ گیا۔ میرا خیال تھا کہ چند دن آرام کرنے کے بعد اپنی مہم کا آغاز کروں گا، لیکن یہاں آ کر مجھے جن پریشانیوں اور تکلیفوں سے سابقہ پڑا، ان سے میں پہلے کبھی آشنا نہ ہوا تھا۔ برازویل کے فرانسیی حکّام اپنی مرکزی حکومت سے کٹ چکے تھے اور درمیان میں نازی حائل ہو رہے تھے۔ برازویل کے اندر ایک ہنگامہ برپا تھا اور صورتِ حال فرانسیسی حکام کے قابو سے باہر ہو گئی تھی۔ جاسوسی، سازش اور قتل کی وارداتیں عام تھیں۔ نازیوں نے جابجا اپنے خفیہ اڈے قائم کر لیے تھے اور وہ ہر اس شخص کو مار ڈالتے جو ان کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنا چاہتا یا جس کے بارے میں نازیوں کو ذرا بھی شبہ ہوتا کہ یہ اتحادیوں کا آدمی ہے۔ وہ اس کے پیچھے لگ جاتے۔ برازویل سے باہر جانے کے لیے بھی فرانسیسی گورنر سے پاسپورٹ لینا ضروری تھا۔ چنانچہ جب میں نے اس کے پاس اس مضمون کی درخواست بھیجی کہ میں گیبن کے جنگلوں سے چند گوریلے پکڑنا چاہتا ہوں، تو اس نے فوراً مجھے اپنے دفتر میں بلایا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید کوئی خبطی یا دیوانہ شخص ہے کہ جنگ کے اس نازک دور میں صرف گوریلے پکڑنے کے لیے بحرِ اوقیانوس عبور کر کے برازویل آیا ہے جب میں نے اپنا تعارف کرایا اور صدر روز ویلٹ کا خط دیا، تو حیرت زدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسے میرے حالات سننے کا اشتیاق بھی پیدا ہوا اور جلد ہی ہم بے تکلّف دوستوں کی طرح باتیں کر رہے تھے۔ اس نے مجھے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا اور برازویل کے بینک سے مجھے حسب ضرورت رقم لینے کا حکم نامہ بھی لکھ دیا۔
چند روز بعد مجھے شمال کی جانب سفر کرنے کا پاسپورٹ دے دیا گیا اور میں نے گیبن کے جنگلوں کو جانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ کچھ اندازہ نہ تھا کہ وہاں کتنے دن لگیں گے۔ اس لیے کھانے پینے کی اشیاء وافر مقدار میں خریدنا لازمی امر تھا۔ میرے پاس روپے کی کمی نہ تھی، لیکن جنگ کے باعث برازویل کے بازاروں میں ہر شے عنقا تھی۔ البتہ دوگنی تگنی قیمت پر بلیک مارکیٹ میں ہر شے خریدی جا سکتی تھی۔ میں نے خشک گوشت، مکھن اور خشک دودھ کے بہت سے ڈبے خریدے، دو خیمے، کھانا پکانے کے برتن، شیشے اور چینی کی پلیٹیں، چار پانچ کرسیاں اور ایک میز بھی خریدی گئی۔ اب یہ تمام سامان لادنے کے لیے ایک گاڑی کی ضرورت پیش آئی۔ ایک پرانا ڈاج ٹرک جس کی باڈی اور انجن اچھی حالت میں تھا، مجھے سستا ہی مل گیا۔ گویا سفر کا ایک بڑا مرحلہ طے ہو گیا۔ اب ضرورت تھی چند ملازموں کی جن کا دستیاب ہونا کارِ دارد تھا۔ لیکن غیب سے یہ انتظام بھی بروقت ہو گیا۔ جوزف نامی ایک افریقی باورچی مل گیا۔ جو ایک مقامی پولیس افسر کے پاس برسوں کام کر چکا تھا اور اب محض مہم میں حصہ لینے کے لیے میرے ساتھ جانے پر تیار تھا۔ برازویل کے چڑیا گھر میں کام کرنے والا ایک اور لڑکا جس کا نام زنگا تھا وہ بھی کچھ رقم پیشگی وصول کرنے کے بعد ہمارا ساتھ دینے پر رضامند ہو گیا۔ زنگا نے بلاشبہ اس سفر میں ہماری بڑی مدد کی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ چڑیا گھر میں وہ چمپنزی بندروں اور گوریلوں ہی کی دیکھ بھال کرتا تھا اور ان جانوروں کی عادتوں اور خصلتوں سے بخوبی آگاہ تھا۔
ایک خوشگوار اور چمکیلی صبح کو ہمارا مختصر سا قافلہ ‘گریٹ نارتھ روڈ’ پر روانہ ہو گیا۔ میری بیوی اس روز بہت خوش تھی اور ٹرک چلانے کی ذمے داری بھی اس نے اپنے سر لی تھی۔ اگر آپ کو کبھی کسی ایسی مہم پر جانے کا اتفاق ہوا ہے تو آپ اُس اضطراب آمیز مسرّت کا اندازہ کر سکتے ہیں جو ہم پر طاری تھی۔ ٹرک بیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا۔ سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ گرمی آہستہ آہستہ بڑھتی جا رہی تھی۔ برازویل کے اس علاقے میں گرمی بہت پڑتی ہے۔ اور دوپہر کو اتنی شدید لُو چلتی ہے کہ اگر اس سے بچنے کی کوشش نہ کی جائے تو جان سے ہاتھ دھونے کا اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ‘گریٹ نارتھ روڈ’ کہنے کو تو سڑک تھی، مگر دراصل ایک بہت ہی پتلی اور ٹیڑھی پگ ڈنڈی کا نام تھا۔ جو گھنے جنگلوں میں سے گزرتی تھی اور انہی جنگلوں کے اندر کہیں وہ پُر اسرار قبیلہ آباد تھا جو گوریلوں کا گوشت کھایا کرتا تھا۔ جب ہم سفر پر روانہ ہوئے تو فرانسیسی حکام نے خبردار رہنے کی سخت تاکید کی تھی۔ سب سے پہلے تو انہوں ان دلدلی میدانوں سے بچنے کی ہدایت کی تھی جو راستے میں پڑتے تھے اور جہاں دلدل میں دھنس جانے کا خطرہ تھا۔ ایک نقشہ بھی انہوں نے ہماری سہولت کے لیے تیار کر دیا تھا۔ دوسری ہدایت یہ تھی کہ جب ہم جنگل کے گھنے اور تاریک حصے میں پہنچیں، تو دن کے بجائے رات کو سفر کریں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دن کی گرمی میں ٹرک کا انجن جلد گرم ہونے کا خدشہ تھا اور اگر اس کے لیے پانی دستیاب نہ ہوتا تو ہمارے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا تھا۔
وحشی درندوں اور جنگلی آدمیوں سے حفاظت کے لیے ہمارے پاس تین رائفلیں اور کارتوسوں کے دس ڈبے بھی موجود تھے لیکن ہمیں امید تھی کہ ان کی ضرورت بہت کم پیش آئے گی۔ پہلے روز ہم نے ساٹھ میل کا فاصلہ بغیر رُکے طے کر لیا اور جب رات گہری ہو گئی اور جنگل کی زندگی بیدار ہونے لگی، تو ایک محفوظ مقام پر ہم نے ٹرک روکا اور اس کے اندر ہی سونے کا پروگرام بنایا۔
زنگا کو چوکیداری پر مقرر کر کے ہم جلدی ہی نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ ویسے بھی صبح ہونے میں صرف تین گھنٹے باقی تھے ۔ طے ہوا تھا کہ اب چونکہ آئندہ رات کو ہی سفر کیا جائے گا۔ اس لیے دن میں سبھی لوگ باری باری نیند پوری کر لیں گے۔
شفق کی گلابی روشنی آسمان کے مشرقی گوشے میں جونہی نمودار ہوئی، ہم ناشتے سے فارغ ہو چکے تھے اور ہمارا ٹرک آگے بڑھنے کے لیے تیار تھا۔ طے یہ ہوا تھا کہ دوپہر سے پہلے پہلے جتنا فاصلہ طے کیا جا سکے، اتنا طے کر لیا جائے گا، پھر گرمی بڑھ جانے پر سورج غروب ہونے تک آرام کیا جائے گا۔ اب ہم جس علاقے سے گزر رہے تھے، وہ بالکل ویران اور بے آب و گیاہ تھا۔ جنگل مغرب کی جانب بہت فاصلے پر نظر آ رہا تھا اور شمال مشرقی حصے میں برہنہ چٹانیں اور ریتلے ٹیلے سر اٹھائے کھڑے تھے۔ یہاں کہیں کہیں ہم نے چند جانوروں کے قدموں کے نشانات بھی دیکھے، لیکن کچھ اندازہ نہ ہو سکا کہ یہ نشان کس جانور کے ہیں۔ بہرحال ہمارے کیمرے نے ان نشانات کو محفوظ کر لیا۔ کہیں کہیں ہمیں چھپکلیوں اور کنکھجوروں سے ملتے جلتے جانور نظر آئے جو دلدلی زمین پر رینگ رہے تھے۔ ان کے رنگ بھی مختلف تھے اور دور سے بہت خوبصورت نظر آتے تھے، نیلے، پیلے، سرخ، گلابی گہرے سبز اور سیاہ۔ میں نے انہیں پکڑنے کی تجویز پیش کی تو زنگا فرطِ خوف سے چیخ اٹھا، ‘ماسٹر، ایسا ہرگز نہ کیجیے، یہ بہت زہریلے جانور ہیں۔ اگر آپ نے ذرا بے احتیاطی کی، تو آپ دوسرا سانس بھی نہ لے سکیں گے۔’ یہ سن کر میں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ البتہ متحرک کیمرے سے ان کی فلم ضرور اتار لی تاکہ یورپ کے لوگ تاریک برِّاعظم کی ایک پراسرار زمین کے ان رنگین حشرات الارض کو دیکھیں اور خدا پر ایمان لے آئیں۔ اگرچہ میرے لیے اس قسم کا یہ سفر کوئی خاص بات نہ تھی۔ کیونکہ میں اس سے پہلے بھی افریقہ، جنوبی امریکہ اور آسٹریلیا کے جنگلوں میں گھوم چکا تھا۔ لیکن کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ افریقہ کی سرزمین میں جو ‘پُراسراریت اور ڈراؤنا پن’ ہے وہ کہیں اور نہیں۔ یہاں کا چپہ چپہ زندہ اور متحرک محسوس ہوتا ہے اور بعض اوقات تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے افریقہ کی ہر شے آپ کے لیے اجنبی اور غیر مانوس ہے۔ جنگلوں کے درخت، پودے، جھاڑیاں، پہاڑی سلسلے، سرسبز میدان، دریا، جھیلیں، جانور اور یہاں کے باشندے، یہ سب پوری دنیا سے علیحدہ اور انوکھے ہیں۔ جب ہم ان کے ہزار ہا سال کے ماضی اور قدیم تاریخ پر، بشرطیکہ اسے تاریخ کہا جائے، نظر ڈالتے ہیں، تو ہمارے ہاتھ سوائے حیرت کے کچھ نہیں آتا۔ ایسی حیرت جس میں دہشت اور خوف کا بڑا عنصر شامل ہے۔ یورپ والوں کو افریقہ سے صحیح معنوں میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب سر رائیڈر ہیگرڈ نے اس سرزمین کو اپنے زندۂ جاوید ناولوں کا موضوع بنایا اور ناول کے پیرائے میں اس سرزمین کے صحیح حالات کی ایسی لاجواب تصویر کشی کی کہ سفید فام قومیں افریقہ پر دھاوا بول دینے پر مجبور ہو گئیں۔
میں ابھی انہی خیالات میں گم تھا کہ امیلیا نے ایک جھٹکے کے ساتھ ٹرک روک دیا۔ اور میں بھی چونک پڑا۔ معلوم ہوا کہ انجن میں کچھ گڑبڑ ہے۔ جوزف باورچی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو موٹر مکینک بھی سمجھتا تھا۔ اس نے انجن کا معائنہ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ کوئی خطرے کی بات نہیں، صرف پانی کچھ کم ہو گیا ہے۔ اور اس سے پیشتر کہ میں اسے روکوں، اس نے پینے کے پانی کا ایک بھرا ہوا ڈبہ اٹھایا اور ریڈی ایٹر میں انڈیل دیا۔
زنگا کہنے لگا، ‘ماسٹر، آپ نے اس بے وقوف کو اپنے ساتھ لا کر غلطی کی۔ آپ بتایے کہ راستے میں اگر کوئی جھیل نہ ملی، تو ہمارا گزارا کیسے ہوگا؟ یہ پانی جو ریڈی ایٹر میں ڈالا گیا ہے، رات کو کام آتا، اب دن بھر میں یہ یقیناً خشک ہو جائے گا۔’ جوزف نے یہ بات سنی، تو شرمندہ ہو کر منہ پھیر لیا۔
‘چلو جو کچھ ہوا، ٹھیک ہوا۔’ میں نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔ ’اب آگے چلنا چاہیے۔ ابھی تو دس بجے ہیں۔ ہم ایک گھنٹہ اور سفر کر سکتے ہیں۔ راستے میں پانی ضرور مل جائے گا۔ اب سٹیرنگ میں نے سنبھال لیا اور امیلیا ڈائری لکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ اسے ڈائری لکھنے کا جنون ہے۔ وہ تمام تفصیلات درج کرتی ہے۔ پہلے مجھے اس کام سے بہت چڑ تھی۔ بھلا یہ کیا لکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اتنے بجے کھانا کھایا، اتنے بجے آرام کیا اور اتنے بجے سفر شروع کیا۔ بس ضروی معلومات درج کر دینا کافی ہے اور میرا ہمیشہ اس سے اس بات پر جھگڑا ہوتا تھا کہ وہ بیکار کاموں میں وقت ضائع کرتی ہے۔ لیکن جب یہ سفر ختم ہوا اور مجھے کتاب لکھنے پر مجبور ہونا پڑا، تو سچ پوچھیے امیلیا کی مرتب شدہ یاداشتیں بہت کام آئیں اور احساس ہوا کہ اس قسم کی مہموں کا ہر لمحہ ریکارڈ میں آنا لازمی ہے۔
چوتھے روز ہم اوکیو پہنچ گئے۔ اس علاقے میں قدیم باشندوں کی یہ پہلی بستی تھی جہاں ہم نے قیام کیا۔ ہماری آمد کی خبر آگ کی مانند پھیل گئی اور جھونپڑیوں میں سے ننگ دھڑنگ مرد، عورتیں اور بچّے ہمیں دیکھنے کے لیے نکل پڑے۔ انہوں نے ہمیں دیکھ کر حیرت کا اظہار نہیں کیا جس سے پتہ چلتا تھا کہ سفید فاموں کو وہ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں۔ زنگا اور جوزف نے قبیلے کے سردار سے گفتگو کی اور اس سے بستی میں ٹھہرنے کی اجازت لی۔ اس موقعے پر ہم نے اسے اور اس کی بہت سی بیویوں کو نقلی موتیوں کے ہار اور آئینے تحفے کے طور پر تقسیم کیے۔ جب ان سے گوریلوں کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو وہ حیرت سے ہمیں دیکھنے لگے۔ ان کے چہروں پر جو تاثرات نمودار ہوئے، ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ گوریلے اس علاقے میں نہیں پائے جاتے۔ یہ دیکھ کر مجھے صدمہ ہوا اور ساری محنت پر پانی پھرتا ہوا معلوم ہونے لگا۔ ہمیں بتایا گیا کہ یہاں ایک فرانسیسی شخص بھی رہتا ہے جس کا نام شیلر ہے۔ جلد ہی شیلر سے ہماری ملاقات ہوئی جو تیس سال کا ایک ہٹا کٹا آدمی تھا۔ اور یہاں ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے رہائش پذیر تھا۔ وہ ہمیں اپنے خوبصورت بنگلے پر لے گیا۔ جو اس بستی میں ایک ہی پختہ عمارت تھی۔ معلوم ہوا کہ وہ چند ملازموں کے ہمراہ تین سال سے یہاں مقیم ہے اور اب اس قدر اکتا چکا ہے کہ خودکشی کے امکانات پر غور کر رہا ہے۔ تو کبھی کا جاچکا ہوتا، مگر جنگ نے سارا کام گڑبڑ کر دیا ہے۔ اب اسے یہاں جنگ کے اختتام تک رہنا پڑے گا۔ ہم رات گئے اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ اس وقت تک میں نے اپنی آمد کا اصل مقصد نہیں بتایا تھا۔
دوسرے روز صبح ناشتے کی میز پر میں نے یہ موضوع چھیڑا۔ اس نے گوریلوں کا ذکر سنتے ہی تلخ قہوے کا گھونٹ جلدی سے حلق کے نیچے اتارا اور میری طرف یوں دیکھا جیسے میں پاگل تھا۔
ایک طویل خاموشی کے بعد شیلر نے زبان کھولی اور رک رک کر کہا، ‘میں نے آج تک ان گوریلوں کو دیکھا تو نہیں، لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ ان جنگلوں میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اوکیو سے بہت فاصلے پر یہ گوریلے ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں بہت کم سفید فام لوگ پہنچ پائے ہیں۔ راستے میں بیشمار رکاوٹیں اور مصیبتیں ہیں، بلکہ یوں کہیے کہ جان کا خطرہ بھی ہے۔ پھر ان علاقوں میں بسنے والے باشندے حد سے زیادہ وحشی اور خطرناک ہیں۔ اگر انہیں کسی طریقے سے رام کر لیا جائے، تو پھر بات بن سکتی ہے۔ بہرحال آپ کے تیوروں سے مجھے اندازہ ہو گیا ہے کہ آپ کو سمجھانا یا روکنا فضول ہوگا۔ آپ وہاں جائے بغیر باز نہ آئیں گے۔ پس میرے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ آپ کی ہر ممکن مدد کروں اور نتیجہ خدا پر چھوڑ دوں لیکن میں یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ وہ کون بے وقوف ہے جس نے آپ کو یہاں آنے کا مشورہ دیا۔’
میں نے محسوس کیا کہ اس شخص کے دل میں خلوص ہے اور واقعی میرے لیے کام کرے گا۔ میں نے رنیز کی بیان کر دہ کہانی اسے تفصیل سے سنائی، پھر صدر روز ویلٹ کا سفارشی خط اس کے سامنے رکھ دیا اور برازویل کے حکام سے جو بات چیت ہوئی تھی، وہ من و عن اسے سنا دی۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اس کا سُتا ہوا چہرہ ظاہر کرتا تھا کہ معاملہ کس قدر نازک اور اہم ہے۔ میری تقریر ختم ہوئی، تو وہ اٹھا اور کہنے لگا۔
‘مسٹر ڈینس، آپ تھکے ہوئے ہیں۔ اس لیے آرام کیجیے۔ میں مسٹر ڈینس سے بھی معافی کا خواست گار ہوں، یہ کہہ کر وہ دروازے تک گیا۔ ہم میاں بیوی حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ دروازہ کھول کر وہ مڑا اور ڈرامائی انداز میں بولا۔ ‘کل صبح آٹھ بجے تک تیار رہیے۔ اپنی رائفلیں دیکھ بھال لیجیے، ممکن ہے ان کی ضرورت پیش آئے، ہم کل گوریلوں کی تلاش میں چلیں گے۔’
اس نے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور شب بخیر کہہ کر چلا گیا۔
‘عجیب آدمی ہے۔’ ہم دونوں کے منہ سے بیک وقت یہ الفاظ نکلے۔
‘آدمی بلاشبہ کام کا ہے۔’ میں نے کہا۔ ‘دیکھتے ہیں صبح کیا ہوتا ہے۔’
شیلر اپنے قول کا سچّا نکلا۔ ٹھیک آٹھ بجے صبح ہم سب کیل کانٹے سے لیس ہو کر اوکیو کے مغرب کی جانب سرگرمِ سفر تھے۔ ہمارے چاروں طرف جنگل ہی جنگل تھا۔ اونچی اونچی خاردار جھاڑیاں، گنجان درخت جن کی شاخیں ایک دوسرے سے گتھی ہوئی تھیں اور سورج کی کرنوں کا راستہ روکنا چاہتی تھیں۔ شاید اسی لیے جنگل کی فضا میں خنکی کا احساس ہو رہا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں دن کے وقت بھی تاریکی سی تھی۔ دوپہر تک ہم رکے بغیر آگے بڑھتے رہے۔ شیلر نے لنچ تک کرنے کی اجازت نہ دی، سارے راستے وہ خاموش بیٹھا رہا۔ سہ پہر کے بعد ہمیں جنگل کے اندرا ایک چھوٹی سی آبادی کے آثار دکھائی دیے۔ اس آبادی سے کچھ دور ہم نے اپنا ٹرک روک لیا۔
شیلر نے بتایا کہ اس گاؤں کا نام اوکا ہے اور یہاں چالیس پچاس جھونپڑیاں ہیں۔ اور اس آبادی تک سارا انتظام ہمارے ہی ہاتھوں میں ہے۔ یہاں ہم نے ان لوگوں کی سہولت کے لیے ایک ڈسپنسری بھی کھول رکھی ہے جہاں مریضوں کا علاج معالجہ کیا جاتا ہے۔ ایک معلّم بھی ہے جو انہیں لکھنا پڑھنا سکھاتا ہے، لیکن یہ لوگ اتنے وحشی اور ناسمجھ ہیں کہ ہمیں اب تک اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔
جب ہم بستی کے قریب پہنچے، تو ہم نے چند عمر رسیدہ آدمیوں کو ایک جگہ کھڑے پایا جن کے جسموں پر سوائے چیتھڑوں کے اور کچھ نہ تھا۔ شیلر کو دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک نمودار ہوئی۔ شیلر نے اشارے سے ان میں ایک آدمی کو بلایا جس کی سوکھی ٹانگیں مڑی ہوئی تھیں اور دائیں ہاتھ کی تین انگلیاں بھی غائب تھیں۔ اس کا چہرہ بے شمار جھرّیوں کے باعث بھیانک ہو گیا تھا۔ اور خرگوش کی مانند لال لال آنکھیں خوب چمکتی تھیں۔ اس بوڑھے حبشی کو دیکھ کر ایسی کراہت اور نفرت میرے دل میں پیدا ہوئی کہ بیان سے باہر۔ میری بیوی تو خوف سے چند قدم پیچھے ہٹ گئی۔ بوڑھا قریب آ کر مسکرایا اور اس کے ٹوٹے ہوئے زرد زرد دانت دیکھ کر مجھے متلی ہونے لگی۔
شیلر نے مجھ سے کہا۔ ‘اس کا نام بمبو ہے اور یہ اس قبیلے کا سردار ہے۔ میں نے سنا ہے کہ نوجوانی کے عالم میں یہ گوریلوں کا مانا ہوا شکاری تھا۔ اگر آپ اسے اپنی مدد پر راضی کر لیں تو آپ کا کام بن جائے گا۔ لیکن میں یہاں سے جانے کے بعد آپ کی جان و مال کی حفاظت کا کوئی ذمّہ لینے تیار نہیں۔ آپ اگر قیام کرنا چاہیں، تو ڈسپنسری کے اندر رہ سکتے ہیں۔ اس کی دیواریں پختہ اور چھت مضبوط ہے۔ اب مجھے اجازت دیجیے۔ اور ہاں آخری بات غور سے سن لیجیے، وہ یہ کہ ان لوگوں سے ہر وقت ہوشیار رہیے۔ ان پر اعتماد کرنا حماقت ہے۔ یہ دیکھنے میں انسان ہیں، لیکن حقیقت میں وحشی درندوں سے بڑھ کر سفّاک اور ظالم ہیں۔ یہ شیطان ہیں۔ بس میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا۔’
شیلر کی تقریب سن کر میں تو کانپ ہی گیا، لیکن امیلیا کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ وہ تو خوف سے تھرتھر کانپ رہی تھی۔ میں نے دلاسا دینے کے لیے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا۔ ‘امیلیا خدا کے لیے اپنی حالت پر قابو رکھو۔ اگر ہم ڈر گئے، تو اپنے وطن کبھی نہ پہنچ سکیں گے۔’
زنگا اور جوزف اگرچہ افریقہ ہی کے باشندے تھے، لیکن بڈھے بمبو کو دیکھ دیکھ کر ان کی حالت بھی غیر تھی۔ خدا جانے اس کے چہرے پر خباثت اور مکّاری کی کتنی تہیں چڑھی ہوئیں تھیں جن کا اندازہ کرنا ہمارے بس میں نہ تھا۔ شیلر نے ہم سے ہاتھ ملایا اور گھوڑے پر بیٹھ کر واپس ہو گیا جو ہمارے ٹرک کے ساتھ ساتھ آیا تھا۔ اس دوران میں بستی کے تمام لوگ ہمارے استقبال کے لیے جمع ہو چکے تھے۔ انہیں خوش کرنے کے لیے میرے پاس کافی سامان تھا۔ یہاں بھی کانچ اور شیشے کے رنگ برنگے ٹکڑے تقسیم کیے گئے۔ عورتوں کو موتیوں کے ہار اور آئینے دیے اور بوڑھے بمبو کو میں نے ایک چمکتا ہوا لمبا خنجر دیا جسے لے کر وہ خوشی سے ناچنے لگا۔ اور پھر انہوں نے اپنی زبان میں زور زور سے نعرے بلند کیے جن کا مطلب تھا۔
‘ان سفید فاموں کو ہم اپنا دوست کہتے ہیں۔’
ڈسپنسری کافی آرام دہ جگہ پر تھی اور جلد جلد ہم نے اپنی چیزیں قرینے سے رکھ دیں اور کھانا پکانے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ جوزف نے یکایک سر پیٹ کر کہا۔ ‘ماسٹر غضب ہو گیا۔ نمک کا ڈبہ تو ہم لانا بھول گئے۔ اب کھانا کیا خاک پکے گا۔’
‘فکر نہ کرو۔ نمک ہمیں اس ڈسپنسری سے مل جائے گا۔’ زنگا نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور فوراً ہی اس نے ایک الماری کھولی اور بہت سی شیشیوں میں سے نمک کی شیشی تلاش کرلی۔ جدل جلد کھانا تیار کیا گیا اور ہم سونے کی تیاریاں کرنے لگے۔ شیلر کی ہدایت کے مطابق ہم نے اپنی حفاظت کے انتظامات بھی کرلیے تھے۔ زنگا اور جوزف کو باری باری پہرے پر مقرر کیا گیا۔ آدھی رات کا وقت تھا کہ کسی نے مجھے چپکے سے جگایا، جوزف میرے سرہانے کھڑا تھا۔ ‘ماسٹر’ جلدی اٹھیے، بمبو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ وہ کوئی اہم خبر لایا ہے اور کہتا ہے کہ جب تک اسے پندرہ سینٹ نہ دیے جائیں گے’ وہ زبان نہ کھولے گا۔’
امیلیا کو جگائے بغیر میں باہر نکلا۔ چاروں طرف ہیبت ناک سنّاٹا طاری تھا۔ پچھلے پہر کا چاند آسمان پر روشن تھا۔ جس کی روشنی میں بمبو کا جھریوں والا منحوس چہرہ اور بھی بھیانک نظر آ رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ ہنسا اور شکستہ فرانسیسی میں کہا، ‘مجھے پندرہ سینٹ دو۔۔۔ تب میں ایک بات بتاؤں گا۔’
میں نے جوزف کو اشارہ کیا، اس نے بمبو کو یہ رقم دے دی، تو وہ خوشی سے بولا۔
‘مجھے ابھی ابھی پتہ چلا ہے کہ ہمارے پڑوسی گاؤں میں رہنے والے شکاریوں نے ایک گوریلا پکڑا ہے۔ کیا آپ اسے دیکھنے چلیں گے؟’
کہہ نہیں سکتا کہ یہ خبر سن کر مجھے کتنی مسرت حاصل ہوئی۔ میں نے جوزف سے کہا کہ میری رائفل لے آئے۔ چند منٹ کے اندر اندر میں نے بمبو کو ٹرک میں بٹھایا اور جوزف کو بھی ساتھ چلنےکا حکم دے کر، ٹرک سٹارٹ کر دیا۔ راستے میں مجھے خیال آیا کہ بمبو کہیں دھوکا نہ دے رہا ہو۔ یہ سوچ کر میرے پسینے چھوٹنے لگے، لیکن رائفل میرے پاس تھی اور اس کی موجودگی میں کسی کو مجھ پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہو سکتی تھی۔
پو پھٹتے ہی ہم ایک اور گاؤں کے نزدیک پہنچ گئے۔ دو گھنٹے کا پر مشقت سفر ختم ہوا۔ گاؤں کے اندر سے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ بمبو کی معیّت میں جب میں وہاں پہنچا، تو مجھے گھیر لیا گیا۔ بمبو کے حکم پر یہاں بھی میں نے گاؤں کے سردار کو کچھ رقم پیش کی اور پھر مجھے ایک جھونپڑی کے اندر لے جایا گیا۔
صبح کے اس دھندلکے میں جھونپڑی کے اندر جو کچھ میں نے دیکھا، وہ ساری عمر یاد رہے گا۔ موٹے بانسوں اور درختوں کی شاخوں سے بنے ہوئے بڑے پنجرے کے اندر ایک قوی ہیکل اور سیاہ بن مانس اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں سے چھپائے بیٹھا تھا۔ اتنے عظیم تن و توش کا گوریلا میں نے اس پیشتر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ہمارے قدموں کی آہٹ پا کر اس نے چہرے سے ہاتھ ہٹائے اور ہماری جانب دیکھا۔ خدا کی پناہ!۔۔۔ دہشت سے میرا بدن لرز گیا۔ ایک ہولناک چیخ کے ساتھ بن مانس اپنی جگہ سے اچھلا اور پنجرے کے اندر اچھلنے کودنے لگا۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔ اور کھلے ہوئے جبڑے میں سے بڑے بڑے سپید سپید دانت جھانک رہے تھے۔ طیش میں آ کر وہ اچھلتا اور پھر ڈھول کی مانند اپنے سات فٹ لمبے بازوؤں سے سینہ پیٹنے لگتا ۔یکایک اس نے پوری قوت سے اچھل کر پنجرے کو دھکا دیا اور ایک ثانیے کے اندر، مجھے اچھی طرح یاد ہے، یہ مہیب درندہ پنجرے کی موٹی لکڑیاں توڑ کر آزاد ہو چکا تھا۔ جھونپڑی کے اندر جتنے آدمی جمع تھے، دہشت سے چیخیں مارتے ہوئے ایک دوسرے پر گرتے پڑتے باہر کی طرف دوڑے۔ ایک قیامت خیز ہنگامہ سارے گاؤں میں برپا ہو گیا۔ بن مانس کی دل دوز چیخیں ان سب آوازوں پر حاوی تھیں۔
پتھر کے مجسمے کی مانند میں اپنی جگہ پر بے حس و حرکت کھڑا تھا۔ جس وقت گوریلا پنجرے سے آزاد ہوا۔ اس وقت میں اس سے دس فٹ کے فاصلے پر تھا۔ اگرچہ وہ آزاد ہو چکا تھا لیکن وحشیوں کے شور و غل سے وہ اتنا بدحواس ہوا کہ پنجرے کے پیچھے جا کھڑا ہو گیا اور وہیں بھیانک آوازیں نکال نکال کر چیخنے لگا جن سے خون سرد ہو جاتا تھا۔
چشمِ زدن میں جھونپڑی آدمیوں سے خالی ہو گئی۔ گوریلا اب بھی غُرّا رہا تھا۔ میرے ہاتھ میں اگرچہ رائفل تھی، لیکن مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں اسے چلا نہیں سکتا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ میرے اعصاب نے اس گوریلے کا اثر قبول کیا۔ اس کی وجہ، جو مجھے بعد میں معلوم ہوئی، یہ تھی کہ اس سے پہلے میرا سابقہ جن گوریلوں سے پڑ چکا تھا یہ ان سب سے جسامت میں بڑ ا اور شکل و صورت کے اعتبار سے بے حد ڈراؤنا اور کریہہ تھا۔ اس کے دونوں ہونٹ کسی بیماری کے باعث جھڑ گئے تھے اور صرف دانت ہی دانت نظر آتے تھے۔ فراخ سینے پر مسلسل ہاتھ مارنے کے باعث بال جھڑ چکے تھے اور ایک فٹ لمبا سر، جو اوپر سے گول ہو گیا تھا، بالکل گنجا تھا۔ جب وہ بل کھا کر پلٹا، تو میری اور اس کی نظریں دوبارہ چار ہوئیں اور مجھے پھر وہی احساس ہوا کہ میرے سوچنے سمجھنے کی ساری قوت سلب ہو چکی ہے۔ اچھل کر میری جانب بڑھا۔ عین اس وقت کسی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے پیچھے گھسیٹ لیا، ورنہ گوریلے کا ہاتھ پورے زور سے میرے سر پر پڑتا۔ میں نے گھوم کر دیکھا۔ وہ جوزف تھا جو حلق پھاڑ پھاڑ کر کہہ رہا تھا۔ ‘ماسٹر، فائر کیجیے۔’
غیر ارادی طور پر میں نے رائفل سیدھی کی اور اندھا دھند گوریلے پر گولیوں کی بارش کر دی۔ چند ثانیوں کےاندر اندر اس کا سینہ چھلنی ہو چکا تھا اور خون کی دھاریں ابل رہی تھیں۔ وہ دھڑام سے زمین پر گرا اور تڑپنے لگا۔ اس وقت اس کے کی آوازوں سے کان کے پردے پھٹے جاتے تھے۔ اتنے میں گاؤں کے شکاری ہاتھوں میں لمبے لمبے نیزے لیے آ گئے اور انہوں نے گوریلے کو نیزے مار مار کر ختم کر دیا۔ جوزف مجھے سہارا دے کر کھلی ہوا میں لے گیا۔ اس حادثے کو مکمل ہونے میں بمشکل پانچ منٹ لگے ہوں گے، لیکن میرے لیے یہ اذیّت ناک لمحات صدیوں سے کم نہ تھے۔ گوریلا میرے سامنے مردہ پڑا تھا اور میں سوچ رہا تھا۔ کہ اگر ان جنگلوں میں ایسے ہی گوریلے آباد ہیں، تو انہیں زندہ پکڑ کر امریکہ لے جانا پاگل پن کے سوا اور کچھ نہیں۔
ہوش و حواس جب ذرا بحال ہوئے، تو میں نے گوریلے کی لاش کا قریب سے معائنہ کیا۔ اگرچہ وہ اب بے جان تھا لیکن پھر بھی اسے چُھوتے ہوئے جسم میں تھرتھری چھوٹتی تھی۔ جیسا کہ میں نے بتایا، اس کا سر ایک فٹ لمبا تھا۔ اسے دھڑ سےعلیحدہ کر کے جب وزن کیا گیا، تو 28 پونڈ نکلا۔ چہرے کے چاروں طرف اور گردن تک سیاہ بالوں کے گُچّھے تھے جن پر خون جما ہوا تھا۔ اس کے سپید دانت شیر کےدانتوں کی مانند نوکیلے اور بڑے تھے۔ کٹے ہوئے ہونٹوں، مسوڑوں اور زبان پر بھی خون جما ہوا تھا۔ کسی شکاری کے نیزے نے گوریلے کے بائیں گال کی ہڈی توڑ ڈالی تھی۔ اور اس جگہ گہرا گھاؤ موجود تھا۔ اس کی ایک آنکھ بھی باہر بالکل کو نکل آئی تھی۔ پیر کے انگوٹھے سے لے کر کھوپڑی تک گوریلے کا قد پانچ فٹ نو انچ تھا، لیکن اس کے بازوؤں کی لمبائی حیرت انگیز طور پر بہت زیادہ تھی، یعنی سات فٹ نو انچ۔ چھاتی کا گھیرا باون انچ، گردن کی موٹائی ساڑھے انتیس انچ، بازوؤں کا گھیرا ساڑھے اٹھارہ انچ اور کلائی ساڑھے پندرہ انچ تھی، ہتھیلی چھ انچ چوڑی اور ٹخنوں کا گھیرا ساڑھے چودہ انچ تھا۔ اب آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ اس قدر وسیع جسامت رکھنے والی مخلوق کس قدر خطرناک اور قوی ہوگی۔
یہی سوچ کر میرا پتہ پانی ہوا جاتا تھا۔ جب میں بمبو اور جوزف کی معیّت میں اس گاؤں سے چلا تو یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ یہ کام میرے بس کا نہیں، اس لیے مجھے واپس امریکہ چلے جانا چاہیے، لیکن جب اوکیو پہنچا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرا روٹھا ہوا دوست رنیز امیلیا سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہا ہے۔
جب میں نے رنیز کو وہاں بیٹھے پایا، تو حیرت کے مارے دم بخود رہ گیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں خواب دیکھ رہا ہوں، لیکن دوسرے ہی لمحے رنیز کا گھونسا میری گردن پر پڑا اور قہقہہ لگا کر مجھ سے چمٹ گیا۔ اس کے آ جانے سے سچ جانیے تو مجھے بڑی تقویت پہنچی، کیونکہ وہ ایک ماہرِ فن اور تجربہ کار شکاری تھا۔ اس نے اپنے یہاں پہنچنے کی نہایت دلچسپ اور طویل ڈرامائی داستان سنائی اور بتایا کہ جنگ کے اس نازک زمانے میں وہ کتنی مرتبہ نازیوں کے ہتھے چڑھتے چڑھتے بچا ہے اور ایک بار تو اسے انہوں نے جاسوسی کے شبے میں پکڑ کر شوٹ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا۔ لیکن قسمت نے یاوری کی اور اسی رات کیمپ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ میں نے اپنی مہم کی تفصیلات سے آگاہ کیا تو وہ طنزیہ لہجے میں بولا:
‘بھائی جان! گوریلے پکڑنا تمہارے بس کی بات نہیں، یہ کام تو ہم ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ اب ذرا میرے ہاتھ دیکھو کہ دو ہفتوں کے اندر اندر کتنے ہی گوریلے پکڑتا ہوں۔ سب سے پہلے تو پنجرے تیار کرنے کا مرحلہ طے ہونا چاہیے جس پر تم نے اب تک توجہ ہی نہیں دی۔ پنجرے تیار کرنا اہم اور ضروری مسئلہ ہے تاکہ ہم گوریلوں کو ان میں بند کر کے امریکہ لے جا سکیں اور یاد رکھو کہ پنجرے اگر ذرا بھی کمزور ہوئے تو ہم میں سے کسی کی خیر نہیں۔’
‘کتنے پنجرے تیار کیے جائیں!’ میں نے پوچھا۔
‘کم از کم دس۔۔۔‘ رنیز نے کہا اور انہیں تیار کرنے کے لیے ہمیں دو ماہ درکار ہوں گے۔’
‘دو مہینے!‘ امیلیا چلا اٹھی، اس کا مطلب ہے کہ ہم ساری زندگی اس منحوس جنگل میں بسر کر دیں۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ مجھے یہاں کے لوگوں سے خوف آنے لگا ہے۔ کتنے وحشی اور دیوانے ہیں! خدا معلوم یہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں، اس لیے بہتر ہے کہ گوریلوں کا صرف ایک جوڑا پکڑنے ہی پر اکتفا کیا جائے اور زیادہ لالچ نہ کیا جائے۔’
‘تم چپ رہو جی، عورتوں کا اس معاملے میں کیا تعلق!’ رنیز نےاسے ڈانٹا۔ یہاں آنے سے پہلے ہی سب کچھ سوچ لینا چاہیے تھا۔’
پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا: ‘تم کیا کہتے ہو؟ بیوی کی بات پر عمل کر کے یہاں سے بھاگ جاؤ گے یا کچھ دن میرے ساتھ رہو گے، بولو، ابھی فیصلہ کرلو۔ بعد میں تمہارا کوئی حیلہ بہانہ کارگر نہ ہوگا۔’
میں نے اسے یقین دلایا کہ مَیں اسی کا ساتھ دوں گا۔ وہ مطمئن ہو گیا اور نہایت سرگرمی سے پنجرے تیار کرنے کا پروگرام بنانے لگا۔ اس نے جلد ہی بمبو سے دوستی پیدا کر لی اور اسے یہاں تک اعتماد میں لے لیا کہ بمبو نے فوراً کسی ‘پیشگی’ کے بغیر اپنے آدمیوں کو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کاٹ کر لانے کے کام پر لگا دیا۔ جوزف اور زنگا بھی رنیز کا کلمہ پڑھنے لگا میری بیوی امیلیا کو اس نے جلد ہی اپنی خوبیوں کا معترف بنا لیا اور میں تو اس کا پرانا دوست تھا ہی۔ اس کے احکام پر چوں چراں کرنے کی ذرا بھی جرأت نہ ہوئی کہ وہ ناراض ہو جانے کے بعد مشکل ہی سے قابو آتا تھا۔
رنیز کی خود اعتمادی کا یہ عالم تھا کہ وہ بیک وقت دس بڑے بڑے پنجرے بنانے پر تُلا ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ دس گوریلے تو لازماً پکڑ لیے جائیں گے۔ اس کی دوراندیشی ملاحظہ ہو کہ پنجرے کے لیے جن اوزاروں کی ضرورت تھی، وہ سب اوزار اپنے ساتھ امریکہ سے لے کر آیا تھا۔ اور چونکہ خود بڑھئی کے کام سے آگاہ تھا، اس لیے بڑے بڑے شہتیروں کو چیرنا، ان کے تختے کاٹنا اور انہیں میخوں سے جوڑنا اس کے لیے خاصی مصروفیت اور دلچسپی کا باعث تھا۔ اس نے جلد ہی مجھے اور میری بیوی کو اپنے ساتھ شریک کر لیا۔ ہم نے جو پہلا پنجرہ بنایا وہ آٹھ فٹ اونچا اور ساڑھے چار فٹ چوڑا اور وزن میں سات من سے زائد تھا۔ دو پنجرے بنانے میں پورا ایک ہفتہ لگ گیا۔ ہمیں پنجرے کی خوبصورتی سے زیادہ اس کی مضبوطی کا خیال تھا کیونکہ گوریلا بہت ہی قوی جانور ہے اور اگر پنجرہ ذرا بھی کمزور ہو تو اسے دو ہی گھونسوں میں توڑ پھوڑ دینا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔۔۔ پنجرے بنانے کا کام ہم گاؤں اوکا میں کر رہے تھے، اس گاؤں کی حد سے باہر ہی کوئی پانچ، سات میل دور گوریلوں کاعلاقہ شروع ہو جاتا تھا۔ گاؤں کے لوگ ان گوریلوں کے ازلی دشمن تھے اور کہتے تھے کہ یہ گوریلے بھی انہیں کی طرح قبیلوں اور خاندانوں میں بٹے ہوئے ہیں اور ہر قبیلے کا سردار ایک بڈھا گوریلا ہوتا ہے۔ اس سے پیشتر انہوں نے جس گوریلے کو پکڑا تھا اور جسے بعد ازاں مار ڈالا گیا، وہ بھی اپنے قبیلے کا سردار تھا جس کے مارے جانے پر گاؤں کی عورتوں نے اپنے ‘قومی رقص’ کا خاص پروگرام بنایا تھا اور جس کا گوشت ‘تبرک’ کے طور پر گاؤں کے ہر گھر میں تقسیم ہوا تھا۔
بمبو کا کہنا تھا کہ گوریلوں کا یہ قبیلہ اپنے سردار کی موت کا بدلہ لینے کے لیے گاؤں پر ضرور حملہ کرے گا۔ اسی لیے ہر وقت گاؤں کے پندرہ بیس مشّاق شکاری باقاعدگی سے پہرہ دیتے تھے۔ ایک روز دوپہر کے وقت پورے گاؤں میں ہل چل مچ گئی۔ اور سبھی عورتیں چیختی چلاتی اِدھر سے ادھر دوڑنے لگیں۔ بمشکل اتنا پتہ چل سکا کہ چند عورتوں نے، جو گاؤں سے باہر مکئی کی فصل کاٹنے نکلی تھیں، دو گوریلے دیکھے تھے جن میں سے ایک مادہ تھی اور ایک نر، فوراً ہی ہم نے بھی اپنا کام چھوڑا اور رائفلیں سنبھال کر مقامی شکاریوں کے ساتھ جنگل کی جانب چل پڑے۔ دو میل کے فاصلے پر ہم نے گوریلوں کے قدموں کے تازہ نشانوں کا سراغ لگا لیا۔ رنیز کے جوش و اضطراب کی انتہا نہ تھی وہ تازی کتے کی طرح ان نشانوں کو سونگھتا ہوا ادھر سے ادھر دوڑ رہا تھا۔۔۔ شدید ہیجان سے اس کا چہرہ سرخ اور نتھنے پھولے ہوئے تھے۔
بمبو اپنے نئے ‘ماسٹر’ کی ان حرکتوں میں بیحد دلچسپی لے رہا تھا اور اسے احساس ہو گیا تھا کہ یہ شخص بھی مقامی شکاریوں کی طرح گوریلے کے قدموں کے ذریعے جنگل میں اسے تلاش کر سکتا ہے۔ جلد ہی رنیز نے اس مخصوص راستے کا پتہ لگا لیا جدھر سے گوریلوں کا جوڑا جنگل میں گزرا تھا۔ پانچ میل کے پر مشقّت اور تھکا دینے والے سفر کے بعد ہم جنگل کے اس حصے میں پہنچ گئے جہاں گھنے اور اونچے درختوں کی چوٹیاں ایک دوسرے سے گتھی ہوئی تھیں۔ اور سورج کی روشنی بمشکل ان میں سے راستہ بنا سکتی تھی۔ ہمارے پاس اتفاق سے ٹارچیں موجود تھیں۔ جو اس وقت کام آئیں۔
ایک وسیع و عریض دلدلی میدان کے کنارے پہنچ کر ہمیں رکنا پڑا۔ کیونکہ یہاں سے آگے جانا بے حد مشکل تھا۔ بمبو اور اس کے ساتھیوں نے بتایا کہ یہ دلدل بے شمار جانوروں اور انسانوں کو نگل چکی ہے اور بہت کم اتفاق ہوتا ہے کہ گوریلے ادھر آنے کی جرأت کرتے ہوں۔ چند روز قبل ہی ایسی دلدل میں پانچ انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ان کا واقعہ بڑا دلچسپ اور عجیب ہے جو آگے آئے گا۔ ویسے بھی اسے اس امر پر حیرت تھی کہ دو گوریلے نہ جانے کس طرح گاؤں کی سرحد پر پہنچ گئے۔ جب کہ ان کی فطرت یہ ہے کہ بیس بیس اور تیس تیس کے گروہ کی صورت میں نکلتے اور دن کا بڑا حصہ پیٹ بھرنے میں گزارتے ہیں۔ پھل دار درختوں اور فصلوں کے جانی دشمن ہیں اور موقع ملتے ہی انہیں تہس نہس کر ڈالتے ہیں۔ اس دوران میں اگر کوئی مرد ان کے ہتھے چڑھ جائے، تو یہ گوریلے اسے ہلاک کر دیتے ہیں لیکن تعجب کی بات ہے کہ عورتوں کو شاذ و نادر ہی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اگر جنگل میں سے گزرتی ہوئی عورتوں کا سامنا کسی گوریلے سے ہو جائے تو وہ فوراً اُن کا راستہ چھوڑ کر دور ہٹ جاتا ہے اور کبھی نہیں دیکھا گیا کہ کسی گوریلے نے عورت پر حملہ کیا ہو، البتہ ایک واقعہ اس موقعے پر بیان کرنا ضروری ہے جس میں گوریلوں نے انتہائی طیش کے عالم میں چند عورتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ شکاریوں نے ایک مادہ گوریلے کو ہلاک کر دیا تھا جو بچہ دینے والی تھی۔ بمبو نے مجھے یہ واقعہ اسی دلدل کے کنارے کھڑے ہو کر سنایا۔ جہاں یہ لرزہ خیز حادثہ پیش آیا تھا۔
‘ایک مرتبہ ہم نے جنگل کے اس حصے میں گوریلوں کے ایک گروہ کا سراغ لگایا جس میں نر اور مادہ سبھی شامل تھے۔ رات کا بڑا حصہ بیت گیا تھا اور دن بھر پیٹ بھرنے کے بعد گوریلوں کا یہ گروہ جنگل کے اس حصے میں آرام کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ گوریلوں کی عادت ہے کہ ایک مرتبہ سو جائیں، تو آسانی سے بیدار نہیں ہوتے اور ان کی اس کمزوری سے شکاری فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سورج نکلنے سے ذرا پہلے ہی گوریلوں پر حملہ کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت ان کے اعصاب پژمردہ اور سست ہوتے ہیں اور وہ جم کر مقابلہ نہیں کرتے۔ حملہ کرنے سے پہلے رسیوں کا بنا ہوا ایک بڑا جال چاروں طرف درختوں اور جھاڑیوں سے باندھ دیا جاتا ہے تاکہ گوریلے فرار نہ ہو سکیں۔ شکاری اونچے اونچے درختوں پر چڑھ کر پہلے انہیں تیروں سے زخمی کرتے ہیں۔۔۔ گوریلے بدحواس ہو کر بری طرح چیختے ہیں اور ادھر ادھر چُھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن انہیں جلد ہی پتہ چل جاتا ہے۔ کہ وہ جال سے باہر نہیں جا سکتے۔ چنانچہ ان کا غیظ و غضب عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اور وہ جنگل کو سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ چیخنے کے ساتھ ساتھ وہ سینہ کوبی بھی کرتے ہیں۔ جس سے ڈھول کی مانند آواز پیدا ہوتی ہے۔ گوریلے جب تیروں کی تاب نہ لا کر خوب زخمی ہو جاتے ہیں۔ تو نڈھال ہو کر گرنے لگتے ہیں۔ اگر زندہ پکڑنا ہو تو انہیں رسیوں کے پھندوں میں جکڑ لیا جاتا ہے۔ ورنہ نیزے مار مار کر ہلاک کر دیا جاتا ہے چنانچہ ہمارے شکاری کیل کانٹے سے لیس ہو کر گوریلوں پر حملہ کرنے کے لیے بالکل تیار تھے۔ اس گروہ میں زیادہ جوان گوریلے تھے جن کا سردار ایک قوی ہیکل اور بڈھا گوریلا تھا جو سب سے آگے ایک محافظ کے طور پر سو رہا تھا اور اس کے خراٹوں کا شور سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب ہمارے شکاریوں نے سوئے ہوئے گوریلوں پر حملہ کیا تو عین اس وقت دوسرے گاؤں کی طرف سے ایک قافلہ جس میں پچاس ساٹھ مرد عورتیں شامل تھیں جنگل میں آ نکلا۔ دراصل ان کے گاؤں میں اگلے روز کوئی تقریب تھی جس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے یہ لوگ ہمارے گاؤں آ رہے تھے۔ ان کےساتھ جلتی ہوئی مشعلیں اور ڈھول تھے اور وہ ان گوریلوں کی موجودگی سے بے خبر سیدھے اس مقام پر آ گئے جہاں ہمارے شکاریوں نے جال لگا رکھے تھے۔ جب گوریلوں پر تیروں کی بارش ہوئی تو وہ جاگے اور چیختے چلاتے راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔ مگر جال نے راستہ روک لیا۔ وہ دیکھ چکے تھے کہ دونوں جانب سے آدمیوں نے انہیں گھیر لیا ہے ہمارے شکاریوں کے لیے بڑی مصیبت یہ تھی کہ وہ اب تیر نہیں چلا سکتے تھے۔ کیونکہ دوسری جانب سے آنے والے لوگ یقیناً ان تیروں کی زد میں آ جاتے۔ عین اس وقت گوریلوں نے ایک جانب سے جال توڑ کر راستہ بنا لیا اور انتہائی طیش کے عالم میں دوسرے گاؤں کے قافلے پر حملہ کر دیا۔
گوریلوں کی لرزہ خیز چیخیں، شکاریوں کے نعرے اور للکار، ڈھول کی گرجتی آواز اور عورتوں کی چیخ پکار۔۔۔ ان سب نے ایک قیامت خیز ہنگامے کو جنم دیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گوریلے جیسے ‘امن پسند’ جانور بھی اس قدر غیظ و غضب میں آئے کہ دس نہتے آدمی ان کے ہاتھوں مارے گئے، پندرہ بیس شدید زخمی ہوئے۔ جال کے ٹوٹ جانے سے اور غضب ہو گیا۔ شکاریوں کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ جو لوگ درختوں پر چڑھے ہوئے تھے، وہ تو محفوظ تھے، لیکن جنگل میں پھرنے والوں کو اندھا دھند دور دور تک بھاگنا پڑا۔ بعض خاردار جھاڑیوں میں پھنس کر لہو لہان ہو گئے اور سورج نکلنے تک یہ کیفیت ہوئی کہ پورا جنگل گوریلوں کے غم و غصّہ کا نشانہ بن چکا تھا۔ کیونکہ اسی اثناء میں ان کے گروہ کی ایک حاملہ مادہ ہلاک ہو گئی تھی گوریلوں نے اس کا عجیب اور نہایت بھیانک انتقام لیا۔ دوسرے گاؤں کی پانچ عورتوں کو انہوں نے گھیر لیا اور انہیں ہانکتے ہوئے اسی دلدلی میدان کی طرف لے آئے اور انہیں دلدل کے اندر کود جانے پر مجبور کیا اور یہ پانچوں عورتیں سینکڑوں فٹ گہری دلدل کے اندر دھنس گئیں۔
بمبو یہ کہانی سنا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ رات سر پر آ گئی تھی اور ہم اس تاریک اور گھنے جنگل میں گاؤں سے پانچ میل دور نکل آئے تھے۔ میں نے واپس چلنے کا مشورہ دیا، تو رنیز نے گُھور کر مجھے دیکھا اور کہا:
‘دونوں گوریلے قریب ہی چھپے ہوئے ہیں۔ اگر ہم ذرا ہمّت کریں، تو انہیں شکار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے گروہ سے بچھڑ گئے ہیں اور جلدی ہی اپنی کمین گاہ سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے، انہیں تلاش کرنا چاہیے۔’
بمبو اور اس کے ساتھیوں نے بھی رنیز کی رائے سے اتفاق کیا اور ایک بار پھر سرگرمی سے ان گوریلوں کی تلاش شروع ہو گئی۔ یہاں ایسا گھپ اندھیرا تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا اور اس پر حد سے زیادہ خںکی۔۔۔ گرم کپڑوں کے باوجود میرا جسم سرد ہونے لگا اور دانت بج اٹھے۔ رنیز تازی کتے کی مانند جھاڑیوں میں سونگھتا اور جھانکتا پھر رہا تھا۔ دوسرے ننگ دھڑنگ شکاری جن کے ہاتھوں میں لمبے لمبے نیزے اور گلے میں تیر کمان پڑے ہوئے تھے اس بے پروائی اور اطمینان سے گوریلوں کو ڈھونڈ رہے تھے جیسے وہ معمولی خرگوش یا بھیڑوں کو ڈھونڈ رہے ہوں۔ جنگل کا جنوبی حصّہ بہت ہی گنجان اور دشوار گزار تھا اور رنیز کا اصرار تھا کہ گوریلے اس طرف چھپے ہوئے ہیں۔ اس سے پیشتر کہ میں اسے روکتا، وہ جھاڑیوں میں گھستا اور پھلانگتا ہوا نظروں سے غائب ہو چکا تھا۔ چند سیکنڈ تک اس کے جوتوں کی آواز سنائی دی پھر یک لخت سنّاٹا چھا گیا۔ بمبو اور اس کے ساتھی بھی رنیز کے پیچھے پیچھے چلے گئے اور میں تنہا رہ گیا۔ میں دل ہی دل میں انہیں کوس رہا تھا۔ یکایک ایک جھاڑی کے پاس سے گزرتے ہوئے مجھے کچھ آہٹ سی سنائی دی اور اس سے پہلے کہ میں اس معاملے پر غور کر سکوں، ایک مہیب شکل و صورت کا گوریلا جھاڑیوں میں سے نِکلا۔ اسے دیکھتے ہی میرا جسم سُن ہو گیا۔ اور دِل کی دھڑکن جیسے رک گئی۔ میرا اس کا فاصلہ دس فٹ سے زیادہ نہ تھا۔ جنگل کی تاریکی میں اس کا سیاہ جسم ایک طویل القامت دیو کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔ لمبے لمبے بازو زمین تک پہنچ رہے تھے۔ اس کی پشت میری جانب تھی۔
گوریلے کو دیکھ کر اتنی ہیبت میرے دِل پر طاری ہوئی کہ بیان سے باہر۔۔۔ رائفل میرے ہاتھ میں تھی اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اسے جنبش دینے کی کوشش بھی کی تھی۔ اتنی دیر میں گوریلا دبے پاؤں چلتا ہوا جھاڑیوں میں گم ہو چکا تھا۔ میرے قدم سو سو من کے ہو گئے تھے۔ میں نے الٹے پاؤں بھاگنا چاہا۔ لیکن زمین نے جیسے مجھے جکڑ لیا۔ کیونکہ میرے عقب میں ایک مرتبہ پھر خشک پتوں کے چرچرانے اور جھاڑیوں کی شاخیں ٹوٹنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے مُڑ کر دیکھا تو رہا سہا خون بھی خشک ہو گیا۔ کیونکہ مادہ گوریلا اپنے نر کی تلاش میں ادھر ہی آ رہی تھی۔ میں حیرت انگیز پھرتی کے ساتھ جھاڑیوں کے اندر لیٹ گیا۔ اس وقت اگر میں چاہتا تو اسے آسانی سے اپنی رائفل کا نشانہ بناسکتا تھا، لیکن ارادہ تو یہ تھا کہ انہیں زندہ پکڑا جائے، اس لیے گولی چلانا مناسب نہ تھا۔ رنیز اور دوسرے شکاری نہ جانے کہاں غارت ہو گئے تھے اور مجھے رنیز پر اتنا غصہ آ رہا تھا کہ اگر وہ میرے سامنے ہوتا تو شاید شوٹ کر دیتا۔ گوریلا بڑا سمجھ دار جانور ہے۔ یہ دونوں گوریلے بھانپ گئے تھے کہ شکاری ان کے تعاقب میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لیے جھاڑیوں میں چُھپے رہے اور صبح ہونے سے پہلے پہلے یہ دونوں یقیناً اس وسیع جنگل میں غائب ہو جائیں گے۔ اس وقت ضرورت تھی کہ رنیز اور شکاریوں کو واپس بلایا جائے۔ فوراً ہی میرے ذہن میں ایک تدبیر آئی اور میں نے عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا۔

مادہ گوریلا میرے سامنے سے گزر کر اپنے نر کی بو سونگتی ہوئی دوسری جانب چلی گئی۔ میں رینگتا ہوا آگے بڑھا اور ایک درخت پر چڑھ گیا اور ٹارچ جلا کر اس کی روشنی چاروں طرف پھینکنے لگا۔ پھر ایک ہوائی فائر بھی کیا جس سے جنگل کی سوئی ہوئی فضا بیدار ہو گئی۔ گوریلے جو پہلے ہی مضطرب تھے۔ اب بے اختیار غرّانے اور سینہ کوبی کرنے لگے۔ چند لمحے بعد میں نے دور جنگل میں ایک ٹارچ کی روشنی دیکھی جو قریب آ رہی تھی۔ رنیز اور اس کے ساتھیوں نے میرا اشارہ پا لیا تھا۔ اور وہ تیزی سے میری جانب آ رہے تھے، پھر رنیز کی رائفل سے جوابی فائر کا دھماکہ جنگل میں گونجا۔
فرنچ کانگو کے اس تاریک اور سرد جنگل میں رات کے وقت رائفلوں کے دھماکے شکاریوں کا دوڑنا، ٹارچوں کی مسلسل روشنی اور گوریلوں کی چیخیں ایک ناقابل فراموش واقعہ بن کر ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو گئیں۔ میں نے دوبارہ ٹارچ کی روشنی میں ان گوریلوں کو دیکھا جو بد حواس ہو کر ادھر ادھر جھاڑیوں کو توڑ توڑ کر ان میں چھپنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم ان کی دہشت دلوں پر ایسی بیٹھی ہوئی تھی کہ میں بیس پچیس تجربہ کار مقامی شکاریوں کی یہ جماعت جس کی رہنمائی بمبو اور رنیز کر رہے تھے، گوریلوں سے کچھ فاصلے پر رُک گئی۔ رنیز نے پکار کر کہا، ‘آرمنڈ’ تم کہاں ہو؟’
میں نے حلق پھاڑ کر جواب دیا: ‘میں یہاں درخت پر موجود ہوں۔ فکر نہ کرو، یہ گوریلے صبح ہمارے قبضے میں ہوں گے۔ بمبو سے کہو کہ وہ اسی وقت چند آدمیوں کو گاؤں بھیج کر سب آدمیوں کو صبح تک پہنچنے کی ہدایت کر دے تاکہ ہم انہیں زندہ پکڑ سکیں۔ خبردار۔۔۔ کوئی شخص انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ یہ گوریلے جوان ہیں اور آسانی سے مانوس ہو سکتے ہیں۔’
تھوڑی دیر بعد میں درخت سے اتر کر رنیز کے پاس پہنچ گیا۔ خوشی کے مارے وہ مجھ سے لپٹ گیا اور بولا:
‘بس اب فتح ہی فتح ہے۔ ہم انہیں صبح تک یقیناً گرفتار کر لیں گے۔ خدا کا شکر ہے کہ اس وقت دو پنجرے بالکل تیار ہیں۔۔۔ پنجرے نہ ہوتے تو ان گوریلوں کو ہم کہاں قید کرتے۔’
ادھر بمبو چیخ چیخ کر اپنے آدمیوں کو مختلف ہدایتیں دے رہا تھا۔ گوریلے بھی لگاتار غرّا رہے تھے۔ انہیں روکنے کے لیے چاروں طرف جلدی جلدی گھاس پھونس کے ڈھیر جمع کر کے آگ لگا دی گئی۔ گوریلے آگ سے بہت ڈرتے ہیں اور اس کے قریب نہیں جاتے۔ آگ کے الاؤ روشن ہوتے ہی ہمارے قلب و جسم میں قوت کا ایک نیا خزانہ بھر گیا اور جنگل میں روشنی پھیلنے سے اِدھر اُدھر کا منظر صاف دکھائی دینے لگا۔ سردی سے بچنے کے لیے ہم نے بھی آگ کے قریب ہی پناہ لی۔
ساری رات گوریلوں نے ایک ثانیے کے لیے بھی ہمیں چین نہ لینے دیا۔ وہ سینہ پیٹتے اور غل مچاتے رہے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ ان کی آواز سن کر اگر گروہ کے بیس پچیس گوریلے ادھر آ نکلے تو جان بچانا مشکل ہو جائے گا۔ ہم صبح ہونے کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بمبو نے جو چند شکاری گاؤں سے آدمی لانے کے لیے بھیجے تھے وہ ہوا کی طرح وہاں پہنچے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جب مشرق سے پو پھٹتی، تو جنگل میں جدھر نظر جاتی تھی، ننگ دھڑنگ اور سیاہ فام مرد اور عورتیں دکھائی دیتے تھے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی ہتھیار تھا۔ عورتیں نہایت جوش و خروش سے رقص کر رہی تھیں۔ اکثر عورتوں کے پاس رسیوں اور موٹے بان کے بنے ہوئے جال تھے۔ اور بہت سی عورتوں نے اپنی کمر سے بڑے بڑے ٹوکرے باندھ رکھے تھے جن میں سوکھا گوشت، سبزیاں اور جنگلی پھل بھرے تھے۔ یہ خوراک وہ ان شکاریوں کے لیے لائی تھیں جو گوریلوں کو پکڑنے میں کامیابی حاصل کر لیتے۔ ادھر منحوس گوریلوں کا یہ حال تھا کہ وہ جھاڑیوں کے اندر سہمے ہوئے بیٹھے تھے اور خوفزدہ نظروں سے ان آدمیوں اور عورتوں کو دیکھ رہے تھے۔ کبھی کبھی وہ اپنا غار نما منہ کھول کر پوری قوت سے چیختے اور دونوں ہاتھوں سے سینہ پیٹتے لگتے۔ ان کی اس حرکت پر عورتیں زور زور سے ہنستیں اور زیادہ تیزی سے ناچنے لگیں۔
میں نے بمبو سے پوچھا کہ ان آدمیوں اور عورتوں کی تعداد کتنی ہے۔ اس نے بتایا چار سو۔ معلوم ہوا کہ پڑوسی گاؤں کے بہت سے شکاری بھی جن کے پاس پرانے زمانے کی زنگ آلود بندوقیں تھیں، ان گوریلوں کے شکار میں حصہ لینے آئے تھے۔ انہیں سمجھا دیا گیا تھا کہ گوریلوں پر فائر کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں زندہ پکڑنا ہے۔ یہ سن کر انہوں نے اپنی بندوقیں ایک طرف رکھ دیں اور ہاتھوں میں نیزے تھام لیے۔ سورج کی پہلی کرن نمودار ہوتے ہی پچاس ساٹھ شکاریوں نے ایک وسیع دائرے کی صورت میں گوریلوں کے گرد جال پھیلا دیا۔ بہت سے شکاری رسیوں پھندے بناکر اردگرد کے درختوں پر چڑھ گئے۔ اب اس مہم کا ‘کمانڈر ان چیف’ بمبو تھا اور ہر شخص کے لیے اس کا حکم ماننا ضروری تھا۔ رنیز کی حالت اس وقت قابلِ رحم تھی۔ غصے سے پیچ و تاب کھاتے ہوئے جب وہ میری جانب دیکھتا، میں مسکرا دیتا اس پر وہ اور چِڑ جاتا۔ میں نے اس کے کان میں کہا اس موقعے پر بمبو کے کام میں مداخلت نہ کرنا وہ ناراض ہو جائے گا۔ ہمیں گوریلوں سے غرض ہے، وہ کسی طرح ہمارے قابو میں آنے چاہئیں، ہم اپنی جان جوکھوں میں کیوں ڈالیں۔ یہ سننا تھا کہ رنیز آتش فشاں پہاڑ کی مانِند پھٹ پڑا۔ پہلے تو اس نے مجھے بے نقط سنائیں اور پھر بمبو کو ڈانٹا کہ وہ چپ چاپ تماشا دیکھے اور ہمیں پریشان نہ کرے۔ بوڑھے بمبو کے سیاہ چہرے پر ایک لمحے کے لیے حیرت کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ اپنے قبیلے کا سردار تھا۔ ایک سفید چمڑی والے نے اس کی توہین کی تھی۔ وہ تِلملا کر میری جانب آیا اور کہنےلگا:
‘ماسٹر’ میں یہاں سے جا رہا ہوں۔ یہ ہمارا جنگل ہے۔۔۔ یہ سب لوگ میرے شاگرد ہیں۔۔۔ میں نے ساری عمر اس جنگل پر حکومت کی ہے اور میں دیکھوں گا کہ یہاں سے اِن گوریلوں کو پکڑ کر کون لے جاتا ہے۔ ‘بمبو کے یہ کلمات پاس کھڑے کئی شکاریوں نے سنے۔ وہ بھی بپھر گئے اور اگر میں انہیں نہ روکتا، تو رنیز کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ میں نے فوراً جیب سے نقدی نکالی اور ان میں تقسیم کر دی اور ان سے وعدہ کیا کہ گوریلے پکڑ لینے کے بعد جب گاؤں جائیں گے تو انہیں مزید انعام دیا جائے گا۔ یہ سن کر وہ ٹھنڈے ہوئے۔ یہ صورتِ حال دیکھ کر رنیز کے پسینے چھوٹ گئے، آدمی سمجھ دار تھا۔ اس نے بمبو سے معذرت کی اور دُور ہٹ گیا۔
ادھر عورتوں کا رقص عروج پر پہنچ چکا تھا۔ شکاری اپنی اپنی جگہ مستعد کھڑے تھے۔ سورج اب پوری طرح آسمان کے مشرقی حصے پر اُبھر آیا تھا۔ اور اس کی چمکیلی روشن دھوپ جنگل کے گوشے گوشے کو منوّر کر رہی تھی۔ بمبو نے پتہ چلّا کر کچھ کہا اور عورتوں کا رقص یک لخت رُک گیا۔ اور وہ سِمٹ کر ایک طرف کھڑی ہو گئیں۔ درختوں پر چڑھے ہوئے شکاریوں نے اپنے اپنے پھندے تیار کر لیے۔ نیزہ بردار شکاری تن کر کھڑے ہو گئے اور جال کی حفاظت کرنے والے دوڑ کر چاروں طرف پھیل گئے۔ اور ایک سنّاٹا سا ہر طرف چھا گیا۔ گوریلے اب بھی جھاڑیوں میں دبکے بیٹھے تھے۔ بمبو نے میری جانب دیکھا اور میرا اشارہ پا کر حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔
جال کے قریب کھڑے ہوئے شکاری گوریلوں پر نیزے برسانے لگے۔ لیکن اس احتیاط سے کہ نیزے گوریلوں کے دائیں بائیں جھاڑیوں میں پیوست ہوتے رہے اور کسی نیزے نے گوریلوں کو زخمی نہیں کیا۔ نیزوں کے ساتھ ساتھ تیر بھی برس رہے تھے۔ گوریلوں نے لرزہ خیز چیخ ماری اور جھاڑی سے باہر نکل کر ایک جانب دوڑے، لیکن جال نے راستہ روک لیا۔ گوریلوں نے اپنے مضبوط اور لمبے ہاتھوں سے جال کو نوچنے کی کوشش کی۔ تو شکاریوں نے ہلکے ہلکے ان کے جسموں میں نیزوں کی انّیاں چبھو دیں۔ جدھر جاتے اُدھر شکاری ان کا راستہ روکتے اور نیزوں سے انہیں ڈرا دیتے۔ گوریلوں نے چیخ چیخ کر جنگل سر پر اٹھا لیا۔ اور طیش میں آ کر جھاڑیوں کو جڑوں سے اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکنے لگے۔ مجھ پر یہ منظر دیکھ کر ہیبت طاری تھی۔ لیکن جنگلی عورتوں اور تماشائی مردوں کی طرف سے قہقہوں اور اچھلنے کودنے کا مظاہرہ کیا جاتا رہا تھا۔ رنیز دوڑ کر جال کی طرف گیا اور بے مثال بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے ایک درخت پر چڑھا اور گوریلوں کی سرحد میں کُود گیا۔ سینکڑوں آدمیوں کے حلق سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔
رنیز کی یہ حرکت اتنی غیر متوقع اور دیوانگی سے بھرپور تھی کہ خود اس جنگل کے باسی، جن کی عمریں ایسی ہی مہلک ترین مہموں میں کٹ جاتی ہیں، انگشت بدنداں رہ گئے۔ رنیز اب قطعی گوریلوں کے رحم و کرم پر تھا۔ اگرچہ وہ بد حواسی اور خوف کی وجہ سے اس کے نزدیک نہ آئے۔ تاہم وہ اسے آن واحد میں پکڑ کر ہلاک کر سکتے تھے۔ رنیز کے ایک ہاتھ میں رائفل اور دوسرے میں رسی کا پھندا تھا۔ اس نے للکار کر دوسرے شکاریوں کو بھی جال کے اندر کود پڑنے کی ہدایت کی اور ادھر بوڑھے بمبو نے حیرت انگیز جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جال کو عبور کر لیا۔ بس پھر کیا تھا۔ بیسیوں نیزہ بردار شکاری گوریلوں کی سرحد میں پہنچ گئے۔ گوریلے جو ادھر اُدھر جان بچانے کی کوشش میں دوڑ رہے تھے، دبک کر پھر جھاڑیوں میں جا چھپے اور وہیں سے غرّانے اور چیخنے لگے۔ شکاری اب چاروں طرف سے ان کے گرد گھیرا ڈالنے میں کامیاب ہو گئے اور اس حصے میں جتنی بھی جھاڑیاں تھیں وہ چند لوگوں نے لمبے لمبے کلہاڑوں کی مدد سے اکھاڑ کر پھینکیں اور جگہ کشادہ ہو گئی۔
گوریلوں پر سے پہلے رنیز نے پھندہ پھینکا اور پھر ہر طرف سے پھندوں کی بارش ہو گئی۔ مقامی باشندے امریکہ کے ‘کاؤ بوائے’ لوگوں کی طرح پھندے بڑی مہارت سے پھینکتے تھے۔ آدھ گھنٹہ کی جان توڑ تگ و دو کے بعد انہوں نے گوریلوں کو قطعی بے بس کر دیا۔ نر گوریلے کی گردن اور ایک ٹانگ اور مادہ گوریلے کے دونوں لمبے بازو پھندے میں جکڑے جا چکے تھے۔ ہر چند کہ پچاس ساٹھ طاقت ور شکاریوں نے یہ رسے پکڑ رکھے تھے۔ لیکن گوریلوں میں بھی اس بلا کی قوت تھی کہ وہ ایک ہی جھٹکے میں ان آدمیوں کو جدھر چاہتے تھے، گھسیٹ لیتے تھے۔
اس وقت پورے جنگل پر زلزلے کی سی کیفیت طاری تھی۔ آسمان پر ہزاروں پرندے پرواز کر رہے تھے۔ اور جنگل کے اندر رہنے والے سینکڑوں بندروں نے غل مچا مچا کر ایک ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔ بہت دور فاصلے پر ہاتھیوں کے چنگھاڑنے کی آوازیں بھی بہت جلد سنائی دینے لگیں۔ وقت اُڑ رہا تھا۔ سورج اب ہمارے عین سروں پر آ چکا تھا۔ اور ہر لحظہ حِدّت بڑھتی جا رہی تھی۔ جلد ہی ہم سب پسینے میں نہا گئے۔ رنیز اب گوریلوں کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ مہم قریب الختم ہے کیونکہ بے شمار پھندے ان قوی ہیکل جانوروں کے گرد پڑ چکے تھے۔ اب وہ حرکت کرنے کے قابل بھی نہ رہے۔ البتّہ ان کے کھلے ہوئے بھیانک منہ سے ہولناک چیخیں مسلسل نکل رہی تھیں۔ عورتوں نے ایک بار پھر رقص کا دیوانہ وار آغاز کیا اور چند آدمی پوری قوت سے ڈھول پیٹنے لگے۔ دونوں گوریلوں کو جب بانسوں کے ساتھ باندھا جا رہا تھا، تو بہت سے شکاری سستانے کے لیے ایک طرف بیٹھ گئے اور انہوں نے عورتوں کو اجازت دے دی تھی کہ وہ قدیم رواج کے مطابق گرفتار شدہ گوریلوں کے گرد رقص کریں۔
میری نگاہیں گوریلوں پر جمی ہوئی تھیں۔ مادہ گوریلے کو بانسوں کے بنے ہوئے ایک بڑے سے تختے پر لٹا کر باندھا جا چکا تھا۔ اور اب نر کی باری تھی۔ یکایک اس نے ایک زبردست چیخ کے ساتھ دو تین جھٹکے مارے۔ جن شکاریوں نے رسیاں پکڑ رکھی تھی، وہ عورتوں کا رقص دیکھنے میں مصروف تھے۔ جھٹکا ناقابلِ برداشت تھا۔ رسّیاں ان کے ہاتھوں سے نکل گئیں۔ گوریلے نے ایک بار پھر زور لگایا اور اپنے دونوں بازو آزاد کرا لیے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اس موقعے پر کیسی افرا تفری مچی تھی۔ میں نے اپنے دوست رنیز کو دیکھا جو گوریلے کی زد میں آ چکا تھا۔ میں پاگلوں کی طرح اسے بچانے کے لیے دوڑا۔ ادھر سے بمبو اور اس کے چند ساتھی شکاری بھی گوریلے کی طرف لپکے اور اس نے رنیز کو للکار کر پیچھے ہٹ جانے کی ہدایت کی۔ لیکن رنیز کی قسمت میں جو لکھا تھا، پورا ہو کر رہا۔ گوریلے نے غضبناک ہو کر رنیز پر حملہ کیا۔ اس کا فولادی پنجہ رنیز کی گردن پر پڑا۔ اور وہ لڑھکنیاں کھاتا ہوا دور جا گرا۔ دوسرے شکاریوں نے بدحواسی میں اور کام خراب کر دیا۔ انہوں نے جب گوریلے کو اپنے قابو سے باہر دیکھا تو بھاگ کھڑے ہوئے۔ کیونکہ وہ اس وقت بالکل نہتّے تھے۔ رنیز گوریلے سے صرف دس بارہ فٹ کے فاصلے پر بے ہوش پڑا تھا۔۔۔ گوریلا چشمِ زدن میں اس کے سر پر جا پہنچا اور جھک کر اسے ایک تنکے کی مانند اٹھا لیا۔ عین اسی لمحے بمبو اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے تیر کی مانند نیزے نکلے اور گوریلے کے جسم میں پیوست ہو گئے ایک نیزہ رنیز کی ریڑھ کی ہڈی کو چھیدتا ہوا دوسری جانب نکل گیا۔
اس حادثے نے میرے ہوش و حواس گم کر دیے۔ کسی طرح یقین نہ آتا تھا کہ میرا پرانا بہادر دوست رنیز ہلاک ہو چکا ہے۔ میں پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے دوست کی لاش کو دیکھ رہا تھا جو تھوڑی دیر پہلے جوانی قوّت اور صحت کا مجسّمہ تھا۔ لیکن اب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو چکا تھا۔ اس کی جلد بازی اور جوش نے اسے موت کے دروازے تک پہنچا دیا۔ مردہ گوریلا جس کے جس میں بیس پچیس نیزے پیوست تھے، رنیز کے قریب ہی پڑا اور اس کی مادہ اب بھی بری طرح چیخ رہی تھی۔ اس حادثے نے ایسا ناگوار اثر میرے قلب و دماغ پر ڈالا کہ میں نے گوریلے کی مادہ کو بھی رہا کرنے کا حکم دے دیا اور تیسرے روز ہی اپنی بیوی اور ملازموں کو لے کر امریکہ واپس جانے کی تیاریاں کرنے لگا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: