Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 5

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 5

–**–**–

سوانی پَلی کا سیاہ چیتا
سوانی پلی کا جنگل سیر و تفریح اور شکار کے لیے ہمیشہ سے میری پسندیدہ جگہ رہا ہے۔ مجھے ایک پیشہ ور شکاری کی حیثیت میں دنیا کے اکثر جنگلوں میں گھومنے اتفاق ہوا ہے۔ افریقہ، ایشیا اور یورپ کے بے شمار چھوٹے بڑے جنگل سبھی میری نظر میں ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوانی پلی کا چھوٹا سا خوب صورت جنگل میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔ اس کا مناسب محلِ وقوع، اس کی خوشگوار اور فرحت بخش آب و ہوا۔ شہر بنگلور سے اس کا قرب، سرسبز پہاڑیوں کے طویل سلسلے، صندل کے گنجان درخت اور کہیں کہیں فرازِ کوہ سے اترتی ہوئی سرد اور شیریں پانی کی ندیاں، سوانی پلّی کے جنگل کو بہشت کا نمونہ بنا دیتی ہیں۔ خصوصاً چاندنی راتوں میں گھوڑے پر سوار ہو کر اس جنگل میں گھومنے سے دل میں مسرت کا ایک ایسا میٹھا میٹھا احساس ابھرتا ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، یہی وجہ ہے کہ تلاش معاش کے جھنجھٹوں سے مجھے جب بھی فرار ہونے کا موقع مِلتا، میں سیدھا سوانی پلی کے جنگل میں پناہ لیتا اور ایک آدھ ہفتے خوب تفریح کرتا۔ یہاں دوسرے جانوروں کے علاوہ چیتوں کی کثرت بھی میری خاص دلچسپی کا باعث تھی۔
سوانی پلی کا جنگل اور اسی نام کی ایک مختصر سی آبادی بنگلور سے پچاس میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اسی بستی کے مشرقی حصے میں جو جنگل دور تک پھیلا ہوا تھا اس کے آخری حصے میں ایک پہاڑی تھی۔ غالباً پانچ سو فٹ بلندی پر ایک بنگلہ بنا ہوا تھا جسے گل ہٹی کہتے ہیں۔ گل ہٹی کے مشرق میں کوئی ساڑھے چار میل کے فاصلے پر ایک اور بنگلہ موجود ہے۔ اس جگہ کو آیور کہتے ہیں۔ شمال مغربی جانب چار میل دور ایک پہاڑی پر جسے کو چواری کے نام سے پکارتے ہیں، فارسٹ ڈیپارٹمنٹ نے اپنے افسروں اور دوسرے سیاحوں کےلیے ایک اور بنگلہ بنوایا ہے۔ یہ جگہ اپنے محلِّ وقوع اور مناظرِ قدرت کے اعتبار سے نہایت حسین اور دل کش تھی، یہاں چاروں طرف صندل کا جنگل پھیلا ہوا تھا اور لکڑی کاٹ کاٹ کر یہیں سے ڈینکانی کوٹہ کے مقام پر بھیجی جاتی تھی۔ سوانی پلّی کی بستی میں لوگ برائے نام ہی آباد تھے۔ گنتی کی چند جھونپڑیوں تھیں جن میں وہی مزدور اپنے بال بچّوں سمیت رہتے تھے جو جنگل میں درختوں کی کٹائی وغیرہ کا کام کرتے تھے۔ یہ لوگ نہایت محنتی، جفاکش اور باہمّت تھے۔ سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔ آپس میں لڑائی جھگڑا اور چپقلش سے کوسوں دور تھے۔ دغابازی، جھوٹ اور فریب سے ناآشنا۔ یہی وجہ تھی کہ ان باشندوں کے درمیان رہ کر مجھے روحانی خوشی حاصل ہوتی تھی۔
چاندنی راتوں میں سوانی پلّی کا جنگل حسن و جمال کا ایک نادر منظر پیش کرتا تھا۔ نہ معلوم میں نے کتنی ایسی راتیں اس جنگل میں گھومتے ہوئے گزاری ہیں اور کتنی ہی بار فطرت کو بے نقاب ہوتے دیکھا ہے۔ جنگل کا چپّہ چپّہ میرا دیکھا بھالا تھا۔ میں خوب جانتا تھا کہ کون کون سے جانور جنگل کے کس کس حصے میں رہتے ہیں۔ جنگلی بھینسے کے علاوہ سبھی چرند پرند اور درندے یہاں موجود تھے۔ چیتے، ہاتھی، سانبھر، ہرن اور سیاہ ریچھ، ان کی کثرت تھی اور جنگل میں ان کی ملی جلی آوازیں اکثر سنائی دیتی تھیں۔ لیکن کیا عجیب اتفاق تھا کہ کسی درندے نے کبھی کسی انسان کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی تھی۔
1934ء کا ذکر ہے کہ اچاک سوانی پلّی کے جنگل میں ایک سیاہ چیتے کے نمودار ہونے کی خبر پھیلی۔ سب سے پہلے ایک چرواہے نے اس چیتے کو جنگل میں ایک چشمے پر پانی پیتے دیکھا۔ یہ شخص گاؤں کے مویشیوں جو جنگل میں چرانے لے جایا کرتا تھا۔ شام کے پانچ بجے تھے اور یہ شخص گائے بھینسوں کو لے کر گاؤں کی طرف آ رہا تھا۔ سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا اور جنگل میں اچھی خاصی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت اس نے سیاہ چیتے کو اس چشمے کے پاس جو جھاڑیوں کے قریب تھا، کھڑے پایا۔ یہ شخص قسمیں کھا کھا کر کہتا تھا کہ چیتے کا رنگ اندھیری رات کی مانند سیاہ تھا۔ مویشیوں کے پیروں کی آہٹ سن کر چیتے نے مڑ کر دیکھا، ایک مرتبہ غرّایا اور چھلانگیں لگاتا ہوا جھاڑیوں میں غائب ہو گیا۔
غالباً یہ پہلا موقع تھا کہ اس جنگل میں سیاہ چیتا دیکھا گیا۔ جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے یہ سمجھتے ہیں۔ سیاہ چیتا کسی اور نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ مادہ چیتا ایک جھول میں کئی بچے دیتی ہے اور ان بچوں میں کبھی کبھار اتفاقاً ایک بچّہ سر تا پا سیاہ نکل آتا ہے۔۔۔ قد و قامت اور شکل و صورت میں وہ دوسرے چیتوں کی مانند ہی ہوتا ہے۔ سیاہ چیتے ملایا برما اور آسام کے جنگلوں میں عموماً پائے جاتے ہیں۔ میں نے ہندوستان کے مغربی گھاٹ پر واقع جنگلوں میں بہت سے سیاہ چیتے خود دیکھے ہیں۔ پس میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ ایک مرتبہ تو دریائے کاویری کے کنارے ایسے ہی ایک سیاہ چیتے کے ہاتھوں میں مرتے مرتے بچا تھا۔ خدا نے چاہا تو کسی اور موقعے پر دلچسپ داستان آپ کو سناؤں گا۔ اس وقت تو سوانی کے پلّی کے چیتے کا قصّہ سامنے آ گیا ہے۔ ماہرینِ حیوانات اس امر پر کوئی روشنی نہیں ڈال سکتے کہ سیاہ چیتا پیدا کیوں ہو جاتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک سربستہ راز ہے۔ اگر کسی چڑیا گھر میں آپ کو سیاہ چیتے دیکھنے کا اتفاق ہو، تو آپ اسے غور سے دیکھ کر فوراً معلوم کر لیں گے کہ اس کے گھنے سیاہ بالوں کے نیچے گول گول دھبّے اور پیلی پیلی دھاریاں موجود ہیں، جو کسی وجہ سے اپنا اصل رنگ حاصل نہ کر سکیں۔ بہرحال اس ‘فنی بحث’ کو چھوڑ کر میں اصل کہانی کی طرف لوٹتا ہوں۔
یہ چرواہا سیاہ چیتے کو دیکھ کر ایسا خوفزدہ ہوا کہ بھاگم بھاگ گاؤں میں آیا اور سب لوگوں کو جمع کر کے یہ دہشت ناک خبر سنائی۔ جیسا کہ مجھے بعد میں پتہ چلا، گاؤں کے لوگوں نے اس کے بیان پر یقین نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اتنے عرصے تک کبھی کوئی سیاہ چیتا جنگل میں دکھائی نہیں دیا۔ اب یہ نیا چیتا کہاں سے آ گیا؟ تاہم بھوت پریت اور بدروحوں پر پختہ اعتقاد رکھتے ہوئے گاؤں کے سادہ دل لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اگرچہ یہ شخص جھوٹ نہیں بول رہا، مگر اس نے ضرور کسی بدروح کو سیاہ چیتے کے روپ میں دیکھ لیا ہے۔ اس طرح چند ہفتے گزر گئے۔ سیاہ چیتے کو اس عرصے میں دوبارہ کسی شخص نے نہیں دیکھا اور رفتہ رفتہ چرواہے کی کہانی لوگ بھول گئے۔ ایک روز کا ذکر ہے دوپہر کا وقت تھا۔ آسمان پر سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ سوانی پلّی کے جنگل میں دو چرواہے دوپہر کی روٹی کھا کر آرام سے سایہ دار درختوں کے نیچے لیٹے خراٹے لے رہے تھے۔ ان کے درجن بھر مویشی بھی ادھر ادھر بیٹھے جگالی کر رہے تھے جنگل میں ہر طرف ایک سکوت طاری تھا۔ دفعتہً سیاہ چیتے دبے پاؤں جھاڑیوں میں سے نکلا اور سب سے علیحدہ بیٹھی ہوئی ایک بھوری جوان گائے کی طرف بڑھا اور اچھل کر اس کی گردن میں اپنے لمبے نوکیلے دانت پیوست کر دیے۔ درد کی شدت سے گائے کے حلق سے بے اختیار ایک بھیانک آواز نکلی۔ وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے اٹھی۔ اور ایک جانب بھاگی چیتا غرّاتا ہوا پھر اس پر حملہ آور ہوا۔ اس اثناء میں چرواہوں کی آنکھ کھل گئی۔ لیکن سیاہ چیتے کو دیکھ کر اتنی دہشت ان دونوں پر طاری ہوئی کہ انہوں نے گائے کو بچانے کی قطعی کوشش نہ کی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ سیاہ چیتے کے بدروح ہونے کا وہم ان لوگوں کے دل میں پہلے ہی سے بیٹھا ہوا تھا۔ ورنہ عام حالات میں اگر کوئی چیتا اس طرح مویشیوں پر حملہ کرتا تو یہ لوگ چیختے چلّاتے اور دوڑتے اور چیتے کو بھگانے کی کوشش کرتے مگر انہوں نے سیاہ چیتے کو دیکھ کر اپنی جگہ سے جنبش بھی نہ کی۔ اتنی دیر میں قوی ہیکل چیتا گائے کو گھسیٹ کر پچاس گز کے فاصلے پر لے جا چکا تھا۔ چند سیکنڈ تک گائے گھاس پر تڑپتی رہی پھر ٹھنڈی ہو گئی۔ چیتے نے صرف ایک بار مڑ کر ان چرواہوں کی طرف دیکھا اور اپنا خون آلود جبڑا کھول کر انگڑائی لی۔ اس کے بعد اس نے مردہ گائے کی گردن منہ میں دبائی اور جھاڑیوں کے اندر گھسیٹ کر لے گیا۔
جونہی چیتا نظروں سے اوجھل ہوا، چرواہوں کی جان میں جان آئی اور وہ سر پر پیر رکھ کر گاؤں کی طرف بھاگے۔ انہوں نے فوراً دیہاتیوں کو جمع کر کے اس خونچکاں حادثے کی خبر سنائی۔ چند جی دار جوان اسی وقت چیتے کے تعاقب میں روانہ ہونے پر تیار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ گائے کی لاش ہی کم از کم واپس لائی جا سکتی ہے۔ ورنہ چیتا اسے ہڑپ کر جائے گا۔ چنانچہ کلہاڑیوں اور لاٹھیوں سے مسلّح ہو کر چند آدمی ان چرواہوں کی رہبری میں جنگل گئے۔ خون کے بڑے بڑے دھبّوں سے یہ اندازہ کرنا کچھ مشکل نہ تھا کہ چیتا گائے کی لاش کدھر گھسیٹ کر لے گیا ہے۔ جائے حادثہ سے کوئی دو فرلانگ دور گھنے جنگل میں انہوں نے ایک جگہ گائے کی لاش اس حالت میں پڑی پائی کہ چیتے نے اس کی ایک ران چبا ڈالی تھی۔
اس روز کے بعد اس گاؤں کے مویشیوں پر سیاہ چیتے نے حملے شروع کر دیے۔ ہر چوتھے پانچویں دن وہ کسی نہ کسی گائے، بھینس کو ہلاک کر ڈالتا اور گھسیٹ کر جنگل میں لے جاتا۔ گاؤں میں چیتے کی ان ہلاکت خیز سرگرمیوں سے زبردست دہشت پھیل گئی اور چرواہوں نے گاؤں سے باہر زیادہ دور تک اپنے مویشی لے جانے بند کر دیے۔ سیاہ چیتے کو اپنی خوراک حاصل کرنے میں جب مشکلیں پیش آنے لگیں تو اس نے اپنا دائرہ کار وسیع کر دیا۔ اب وہ انچتی، گل مٹی اور آئیور کے دیہاتوں سے جنگل میں آ کر چرنے والے مویشیوں کو شکار کرنے لگا۔ جنوب مغرب اور مشرقی حِصّے پر کاملاً اسی کی حکومت تھی۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ سالورم گاؤں کے ایک گدھے کو بھی پکڑ کر لے گیا۔ یہ گاؤں سوانی پلّی جانے
؟؟
کا اتفاق ہوا۔ لوگوں نے مجھے سیاہ چیتے کی داستان سنائی۔ میرے لیے اس میں دلچسپی اور شوق کا بڑا سامان تھا۔ یوں تو میں نے اپنے شکاری زندگی میں سینکڑوں ہی جانور مارے تھے۔ مگر سیاہ چیتے سے دو دو ہاتھ کرنے کا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔ صرف ایک مرتبہ جنگل میں یوں ہی آمنا سامنا ہو گیا تھا۔ میرے پاس رائفل نہ تھی۔ میں نے ایک اونچے درخت پر چڑھ کر جان بچائی ورنہ اس روز خاتمہ ہو گیا تھا۔ بعد ازاں میں نے اس سیاہ چیتے کی تلاش میں کافی وقت صرف کیا۔ مگر وہ ایسا غائب ہوا کہ پھر کبھی اس کا نشان نہ ملا۔ میں جانتا تھا کہ چیتے کی ایسی قسمیں شاذ و نادر ہی عالمِ وجود میں آتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ وہ چیتا کسی اور شکاری کی رائفل کا نشانہ بن گیا ہو۔
قصّہ مختصر، میں نے ان دیہاتیوں سے کہا کہ آئندہ جب بھی یہ چیتا کسی گائے کو ہلاک کرے، اس کی لاش وہیں پڑی رہنے دی جائے۔ اسے ہرگز اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جائے۔ میں نے وعدہ کیا کہ اس ہلاک ہونے والے جانور کی قیمت میں خود ادا کروں گا۔ بشرطیکہ وہ لوگ میری ہدایت پر عمل کریں اور جونہی چیتا اسے ہلاک کرے، مجھے فوراً بنگلور اطلاع بھجوا دیں۔ سوانی پلّی سے بس کے ذریعے ہاسور کے قصبے تک پہنچ کر ٹیلی گراف آفس سے مجھے تار پر یہ خبر پہنچائی جا سکتی ہے، ہاسور کا قصبہ مویشیوں کی خرید و فروخت کے لیے اس علاقے میں خاص شہرت رکھتا ہے اور تاجروں کی سہولت کے لیے گورنمنٹ نے یہاں تار گھر بھی قائم کر دیا تھا۔ میں نے دیہاتیوں کو خوب سمجھا دیا کہ وہ گاؤں کے ہر شخص کو تلقین کر دیں کہ جونہی چیتا کسی مویشی کو ہلاک کرے، فوراً مجھے اطلاع کریں۔ اور جو شخص سب سے پہلے ایسی خبر پہنچائے گا۔ اسے پچاس روپے بطور انعام دیے جائیں گے۔
چند روز سوانی پلّی میں قیام کے بعد میں بنگلور واپس چلا گیا اور بے چینی سے اس خبر کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ انتظار کی اس شدت میں پندرہ روز بیت گئے۔ میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ میرا اضطراب دیکھیے کہ میں نے پہلے ہی سے اپنی مچان نما چارپائی اور دوسرا سازو سامان تیار کر رکھا تھا کہ تار ملتے ہی چند منٹ کے اندر اندر بنگلور سے سوانی پلّی چل پڑوں۔ آخر ایک روز شام کو چار بجے کے قریب وہ تار مجھے مل گیا، لیکن وقت تنگ ہونے کے باعث میں صرف رائفل ہی اپنے ساتھ لے جا سکا۔
تار ملنے کے پندرہ منٹ بعد میں سفر پر روانہ ہو گیا اور جس وقت میں سوانی پلّی کی حدود میں داخل ہوا گُھپ اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور میری گھڑی سوا سات بجا رہی تھی۔ یہ تار سوانی پلّی کے ایک شخص رنگا سوامی نے مجھے بھیجا تھا اور اس نے غلطی یہ کہ ایکسپریس کی بجائے اسے معمولی تار کی صورت میں بھیجا۔ رنگا سوامی کو میں پہلے جانتا تھا، کیونکہ کئی مرتبہ یہ شخص جنگل میں میری رہنمائی کر چکا تھا وہ خود بھی ایک نڈر، اور تجربہ کار شکاری تھا۔ میری آمد کی خبر پاتے ہی رنگا سوامی دوڑا آیا، اس نے مجھے بتایا کہ اسی روز صبح جب کہ گاؤں کے مویشی چرنے کے لیے جنگل کی طرف گئے تھے، سیاہ چیتے نے ان میں سے ایک گائے کو ہلاک کر دیا۔ چرواہے کو معلوم تھا کہ میں نے پچاس روپے انعام کی پیش کش کر رکھی ہے پس وہ اسی روز رنگا سوامی کے پاس گیا اور خبر سنائی۔ رنگا سوامی فوراً ڈینکا کوڑ روانہ ہو گیا۔ وہاں سے اس نے سوا بارہ بجے ہاسور جانے والی بس پکڑی اور تار گھر پہنچ کر دوپہر کے ایک بجے مجھے تار دیا۔
اگرچہ میں اس وقت بُری طرح تھکا ہوا تھا۔ تاہم میرے پیشِ نظر دو باتیں تھیں ایک تو یہ کہ اندھیرے کی پروا کیے بغیر ٹارچ لے کر جنگل میں جاؤں۔ ممکن ہے چیتا لاش کو ہڑپ کرنے کے لیے وہاں آئے۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ رات اور کل کا دن آرام کروں اور پھر شام کے وقت جانور کی لاش کے قریب چھپ کر چیتے آمد کا انتظار کروں۔ ان میں سے پہلی تجویز پر پورا اعتماد نیہں کیا جا سکتا تھا کہ چیتا ضرور اس لاش کو کھانے آئے گا لیکن دوسری تجویز میرے مزاج اور طبیعت کے خلاف تھی۔ میرے لیے یہ رات اور اگلا پورا دن محض شام کے انتظار میں کاٹنا بڑا مشکل تھا۔ میں نے رانگا سوامی سے پوچھا کہ چیتے نے گائے کو یہاں سے کتنے فاصلے پر ہلاک کیا ہے۔ اس نے بتایا کہ گاؤں کے مغرب میں بمشکل آدھ میل دور یہ حادثہ ہوا ہے اور یہی وہ مقام جہاں سے وہ لمبی ڈھلوان شروع ہوتی ہے جو ندی تک گئی ہے۔ یہ سن کر میں نے اسی وقت جنگل میں جانے کا تہیہ کر لیا اور رانگا سوامی سے کہا کہ وہ مجھے جنگل میں کم از کم اس مقام تک لے جائے جہاں گائے کی لاش پڑی ہے، چیتے سے میں خود نبٹ لوں گا۔ رانگا سوامی اور چرواہے نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اصرار کیا کہ رات کے وقت اس اندھیرے میں وہاں جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ کل شام تک انتظار کر لیا جائے، لیکن میں نہ مانا۔
میں نے گھڑی دیکھی۔ آٹھ بجنے میں دس منٹ باقی تھے۔ جلد جلد میں نے رائفل پر برقی ٹارچ لگائی۔ تین فالتو سیل اپنی جیب میں رکھے۔ اعشاریہ 475 کی ونچسٹر رائفل میں چار کارتوس بھرے۔ تین کارتوس میگزین میں اور ایک سپاؤٹ میں رہنے دیا۔ میں ہمیشہ احتیاط کے طور پر رائفل کے میگزین میں ایک کارتوس کم ہی بھرتا ہوں تاکہ وہ جام نہ ہو سکے اور دوبارہ لوڈ کرنے میں آسانی رہے۔ اس کے بعد میں نے چمڑے کے بھاری جوتے اتار کر ربڑ کے ہلکے جوتے پہنے تاکہ چلنے پھرنے میں آہٹ نہ ہو۔ خاکی قمیض اور پتلون اتار کر انہیں بھی سیاہ کپڑوں سے تبدیل کیا جو اس مقصد کے لیے ہر وقت میرے سفری تھیلے میں موجود رہتے تھے۔
رانگا سوامی اور چرواہے کی معیّت میں میں جنگل کی طرف چل پڑا۔ جلد ہی ہم ایک خشک ندی کے قریب پہنچ گئے۔ میں نے محسوس کیا۔ کہ سیاہ چیتے کی ہیبت ان پر اس حد تک اثر انداز ہو چکی ہے کہ وہ آگے بڑھنے سے کترا رہے ہیں۔ میں نے انہیں واپس چلے جانے کی اجازت دے دی۔ رانگا سوامی نے مجھے بتایا کہ یہ خشک ندی مغرب کے رُخ چلی گئی ہے۔ راہ میں دو موڑ گزرنے کے بعد تیسرے موڑ کے قریب ہی چیتے نے گائے کو ہلاک کیا اور وہاں سے اسے جنوب کی طرف گھنے جنگل میں دو سو گز دور گھسیٹ کر لے گیا ہے۔
وہ رات میں کبھی نہیں بھول سکوں گا۔۔۔ سوانی پلّی کا جنگل تاریک اور خاموش تھا۔ آسمان پر سیاہ بادل آہستہ آہستہ جمع ہو رہے تھے اور ایک ایک تارا باری باری نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا۔ نہایت احتیاط سے ندی کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا میں گھنے جنگل کی طرف بڑھا۔ دونوں موڑ خیریت سے طے کرنے کے بعد جب میں تیسرے موڑ پر پہنچا تو چند لمحوں کے لیے میں نے کان لگا کر کچھ سننے کی کوشش کی۔ مگر کوئی آواز کان میں نہ آئی۔ میں نے اندازہ کیا کہ میں تقریباً دو سو گز کا فاصلہ طے کر چکا ہوں اور گائے کی لاش قریب ہی ہوگی۔ اس طرح میں ایک ایک انچ آگے بڑھا۔ کبھی کبھار لمبی گھاس میں لیٹ کر زمین سے کان لگا کر آواز سننے کی کوشش کرتا رہا۔ مجھے یقین تھا کہ چیتا اگر لاش کو کھانے میں مشغول ہوگا تو آواز ضرور سنائی دے گی۔ میں اب جنگل کے اس حصّے میں سے گزر رہا تھا۔ جہاں قدم قدم پر رکاوٹیں موجود تھیں۔ گھاس میں سے کسی سانپ یا کسی اور زہریلے جانور کے ڈس لینے کا خدشہ بھی مجھے پریشان کر رہا تھا۔ میں جانتا تھا کہ سیاہ چیتے نے ابھی انسان کا گوشت نہیں چکّھا اس لیے زیادہ چالاک اور ‘تجربہ کار’ نہیں ہوا ہوگا۔ میرے قدموں کی آہٹ بالفرض وہ سن بھی لے تو بھاگنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ وہ سمجھے گا کہ یہ کوئی اور ‘جانور’ ہے تاہم مجھے اپنی طرف سے پوری ہوشیاری اور احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
دفعتہّ میرے کانوں میں وہی مانوس آواز آئی۔ جس کا میں اتنی دیر سے منتظر تھا۔ گوشت بھنبھوڑنے اور ہڈیاں چبانے کی آواز۔۔۔ میرے اعصاب پوری طرح بیدار ہو گئے۔ چند سیکنڈ تک میں اپنی جگہ بے حس و حرکت کھڑا یہ آواز سنتا رہا۔ اس اندھیرے میں اگرچہ میری آنکھیں تھوڑے فاصلے تک بخوبی دیکھنے کی عادی ہو گئی تھیں۔ لیکن عجب بات تھی کہ قطعی پتہ نہ چلتا تھا کہ یہ آواز کس رخ سے آ رہی ہے۔ چیتا بلاشک و شبہ گائے کو ہڑپ کر رہا تھا۔ میں جس جانب آہستہ آہستہ کھسک رہا تھا، یہ آواز اس جانب سے نہیں آ رہی بلکہ میں نے محسوس کیا کہ یہ یا تو میرے عقب میں یا بائیں ہاتھ سے آ رہی ہے۔ ایک لمحے کے لیے میرا ذہن ماؤف ہو گیا۔ سانس روک کر میں ایک بار پھر گھاس میں لیٹ گیا۔ اور کان اس آواز کی طرف لگا دیے۔ اب صاف معلوم ہوتا تھا کہ آواز بائیں جانب ہی سے آ رہی ہے اور چیتا پچاس ساٹھ گز سے زیادہ فاصلے پر نہیں۔ میں پھر اسی کے رُخ ایک ایک انچ سرکنے لگا۔ میں نے سوچا کہ اگر چیتا گائے کو گھنی جھاڑیوں میں گھسیٹ کر لے گیا ہے تو اس پر صحیح نشانہ لے کر فائر کرنا بہت مشکل ہے۔ خدا کرے وہ ان جھاڑیوں ک باہر ہی موجود ہو۔ میں جانتا تھا کہ چیتا جب تک گوشت کھانے میں مشغول رہے گا، اسے میری آمد کا پتہ نہیں چل سکے گا۔۔۔ اب میں اس قدر قریب پہنچ چکا تھا۔ کہ ہڈیاں چٹخنے اور چیتے کے جبڑے ہلنے کی آوازوں میں بخوبی امتیاز کر سکتا تھا۔ دفعتہً میرے قدموں تلے ایک سوکھی شاخ چرچرائی اور فوراً ہی آواز بند ہو گئی۔ چیتا یقیناً یہ آہٹ سن چکا تھا۔۔۔ دھڑکتے دل کے ساتھ میں نے رائفل کی لبلبی پر انگلی رکھ دی اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنے سامنے گھورنے لگا۔ کئی منٹ جو صدیوں پر بھاری تھے گزر گئے۔ ایک بھیانک اور تکلیف دہ سناٹا میرے اردگرد طاری تھا۔ میں نے اپنے حواس برقرار رکھے اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ کیا چیتا خطرے کی بُو پا کر کسی طرف بھاگ گیا ہے۔۔۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ مجھے دیکھ چکا ہو اور اب موقع پا کر مجھ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اب آگے بڑھنا خطرناک تھا۔ مجھے یہیں ٹھہر کر چیتے کی آئندہ حرکت کا انتظار کرنا چاہیے اور اسی فیصلے نے میری جان بچا دی۔ چند سیکنڈ بعد یہ آواز تھم گئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہونے لگے اور دہشت کی ایک نئی لہر جسم میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔
کوئی ذی روح یقیناً میرے سامنے پھیلی ہوئی لمبی گھاس میں حرکت کر رہا تھا۔ یہ کیا چیز ہے؟ کوئی سانپ یا جنگلی چوہا۔ ممکن ہے یہ آواز چیتے کے چلنے کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہو۔ میں جانتا تھا کہ چیتا جب اپنے حریف پر چھپ کر حملہ کرنے کے ارادے سے بڑھتا ہے تو دائیں پنجے آگے بڑھا کر پیٹ زمین سے لگا کر سرکتا ہے۔ یقیناً یہ چیتا ہی ہوگا جو میری طرف بڑھ رہا ہے۔۔۔ یہ خیال مجھے بدحواس کر دینے کے لیے کافی تھا۔ میری پیشانی پسینے سے تر ہو گئی اور آنکھوں کے سامنے شرارے سے رقص کرنے لگے۔ سیاہ چیتا اس اندھیرے میں کسی طرح نظر نہیں آ سکتا تھا۔ میں نے اسی وقت رائفل کی نالی پر لگی ہوئی برقی ٹارچ کا بٹن دبادیا۔ تیز روشنی کی لمبی لکیر نے سامنے کا منظر عیاں کر دیا۔ خدا کو حاضر و ناظر جان کر کہتا ہوں کہ اگر ٹارچ روشن کرنے میں چند سیکنڈ تاخیر اور ہوئی ہوتی تو چیتا میرا ٹیٹوا دبا چکا ہوتا تھا۔ ایک ثانیے کے اندر اندر میں نے اسے اپنے سے چند قدم کے فاصلے پر گھاس میں چھپتے دیکھا۔ وہ اپنا سر باہر نکال کر غرّایا اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں۔ ٹارچ روشن ہوتے ہی وہ گھبرا کر پیچھے مڑا اور گھاس میں سے گزرتا ہوا دور جا کھڑا ہوا۔ غالباً اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے یہ عجیب و غریب روشنی رات کے وقت جنگل میں دیکھی تھی۔ اس کی غرّاہٹ اب گرج میں تبدیل ہو گئی اور سویا ہوا جنگل لرز اٹھا۔ میں نے فوراً اس کے سر کا نشانہ لیا اور رائفل کی لبلبی دبا دی۔۔۔ گولی چلتے ہی اتنا میں نے دیکھا کہ چیتا فضا میں کئی فٹ اونچا اچھلا اور پوری قوت سے غرّاتا ہوا جنگل میں غائب ہو گیا۔ اس کے چیخنے اور گرجنے کی آوازیں کچھ دیر تک سنائی دیں، اس کے بعد جنگل میں پھر وہی موت کی سی خاموشی چھا گئی۔۔۔ مجھے یقین تھا کہ اسے ضرور گولی لگی ہے وہ زیادہ دور نہیں جا سکے گا۔ بہرحال اس کا تعاقب اس وقت کرنا ناممکن بات تھی۔ میں نے اس کام کو اگلے روز پر ملتوی کیا اور گاؤں کی طرف واپس ہو لیا۔ اب میں ٹارچ کو بے کھٹکے استعمال کر سکتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ آدھ گھنٹے تک گاؤں میں پہنچ جاؤں گا، لیکن جلد ہی اپنی حماقت کا احساس ہو گیا۔ میں راستہ بھول چکا تھا۔ نہایت ہی پریشانی اور اضطراب کے عالم میں میں سوچنے لگا کہ کدھر جاؤں۔ پھر اس جنگل میں کئی مرتبہ آ چکا تھا اور اس کے مختلف راستوں سے آگاہ تھا۔ مگر اس رات ذہن ایسا بگڑا کہ راستہ بھول کر کہیں کا کہیں جا نکلا۔ میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بادلوں نے اب کالی گھٹا کی شکل اختیار کر لی تھی۔ مغرب کی طرف بجلی کبھی کبھی کوندتی، تو ایک ثانیے کے لیے جنگل منور ہو جاتا۔ اس کے بعد پھر وہی اندھیرا۔۔۔ میں چاہتا تھا کہ بارش ہونے سے پہلے پہلے سوانی پلّی پہنچ جاؤں، لیکن کامل ڈھائی گھنٹے تک بھٹکنے اور بارش میں خوب بھیگنے کے بعد میں جنوب کی طرف اس راستے پر ہو لیا جو گاؤں سالورم کو جاتا تھا، لیکن اس راہ میں ایک نئی مصیبت میرا انتظار کر رہی تھی۔
ابھی میں بمشکل نصف فرلانگ ہی چلا تھا کہ دو ریچھ، غالباً نر اور مادہ تھے، میرے دائیں ہاتھ پر بنے ہوئے ایک اندھیرے پہاڑی غار میں سے چیختے چلّاتے برآمد ہوئے۔ میں لپک کر ایک درخت کی آڑ میں کھڑا ہو گیا اور رائفل ان کی طرف تان دی۔ لیکن انہوں نے مجھے نہیں دیکھا، بلکہ میرے قریب سے گزر گئے۔ میں سمجھ گیا کہ کوئی اور درندہ ان کے تعاقب میں ہے اور وہ درندہ سوائے چیتے کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ مجبوراً وہاں سے واپس ہوا۔ اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا، کیونکہ تھکن کے باعث مجھ میں اب کسی درندے کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ تھی۔ خدا کی قدرت دیکھیے کہ اسی راستے میں ایک پگڈنڈی کے قریب مجھے وہ راستہ مل گیا جو سوانی پلّی کو جاتا تھا۔ رات کے ڈھائی بجے ہانپتا کانپتا اور بارش کے پانی میں بھیگا ہوا گاؤں پہنچا اور گھاس کے ایک اونچے ڈھیر کے اندر گھس کر سو گیا۔
دوسرے روز صبح جب میری آنکھ کھلی تو میرا جسم پھوڑے کی مانند جگہ جگہ سے دکھ رہا تھا۔ گھاس کے ننّھے ننّھے کیڑوں نے جی بھر کر میرا خون چوسا تھا اور جابجا سرخ سرخ دھبّے سے پڑ چکے تھے۔ میں نے اپنی طبیعت بے پژمُردہ محسوس کی۔ رانگا سوامی کے گھر سے برتن مانگ کر میں نے اسی گھاس کو جلا کر آگ روشن کی اور چائے کے لیے پانی کھولایا۔ انڈے انہی لوگوں سے خریدے۔ ناشتا کرنے کے بعد جان میں جان آئی۔ اب میں نے گاؤں میں موجود تمام آدمیوں کو جمع کیا اور گزشتہ رات کی مہم سنانے کے بعد درخواست کی کہ وہ اپنے اپنے مویشیوں کو لے کر جنگل میں چلیں تاکہ چھپے ہوئے چیتے کو جھاڑیوں سے باہر نکالا جا سکے، لیکن افسوس کہ کسی نے اس تجویز پر رضامندی ظاہر نہ کی۔ چیتے کی اس قدر دہشت ان لوگوں کے دلوں پر بیٹھی ہوئی تھی کہ کوئی شخص بھی اپنا جانور ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ ادھر سے مایوس ہو کر میں نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ کتّا ہی مہیا کر دیں۔ جسے میں اپنے ساتھ لے جا سکوں اور وہ چیتے کا سراغ لگا سکے، مگر لوگوں نے پھر کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ وہ ہرگز اپنے کتّوں کو جنگل میں نہیں جانے دیں گے۔ یہ صورتحال انتہائی مایوس کن تھی۔ مجھے اس وقت غصّہ تو بہت آیا۔ مگر خون کے گھونٹ پی کر چپ ہو رہا۔ اتنے میں وہی چرواہا ادھر آنکلا جس کی گائے ایک روز قبل چیتے نے ہلاک کر دی تھی۔ اس نے سارا معاملہ سنا، تو میرے کان میں کہا کہ گاؤں کے پجاری کے پاس ایک بہترین کتیا ہے۔ اگر آپ اسے کچھ روپے دینے پر تیار ہوں تو وہ کتیا ابھی یہاں آ سکتی ہے۔ میں نے فوراً اس کے ہاتھ پر چند روپے رکھ دیے۔ وہ بھاگا بھاگا گیا اور پجاری صاحب کو مع ان کی ‘بہترین’ کتیا کے پکڑ لایا۔ کتیا کو دیکھتے ہی مجھے اپنے روپے ضائع جانے پر صدمہ ہوا۔۔۔ اس کا رنگ بھورا اور قد بہت چھوٹا تھا۔ دونوں کان سروں پر سے کٹے ہوئے تھے۔ البتہ دم بڑی لمبی تھی۔ مجھے جب معلوم ہوا کہ یہ اس سے پہلے یہ کتیا کبھی جنگل میں کسی مہم پر نہیں گئی تو میں نے واقعی سر پیٹ لیا۔ مجھے بتایا گیا کہ کتیا کا نام ‘خوشیا’ ہے۔ تھوڑی دیر غور و فکر کے بعد میں نے جنگل میں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میرے ساتھ رانگا سوامی چرواہا اور پجاری صاحب بھی بمع اپنی کتیا، جانے کے لیے تیار ہو گئے کیونکہ انہیں مجھ سے اور بھی انعام ملنے کی امید تھی۔
جنگل میں پہنچ کر اب ایک نئی پریشانی سامنے آ کھڑی ہوئی۔ مجھے اب اس راستے کا سراغ نہیں مل رہا تھا جس راستے پر میں گزشتہ رات مارا مارا پھرا تھا۔ ایک بڑی مصیبت یہ تھی کہ رات کے وقت جن جھاڑیوں اور درختوں کو بخوبی دیکھا تھا اور اچھی طرح جن کی شناخت کر لی تھی، اب دن کی روشنی میں ان کی شکلیں بدلی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ چرواہے کو بلاشبہ وہ مقام معلوم تھا جہاں چیتے نے گائے کو ہلاک کیا تھا اور میں اس کی رہنمائی میں بڑی آسانی سے گائے کی لاش تک پہنچ بھی سکتا تھا۔ لیکن وہاں جانے سے فائدہ نہ تھا۔ میں تو وہ جگہ معلوم کرنا چاہتا تھا۔ جہاں سے میں نے رات کو چیتے پر گولی چلائی تھی۔ اگر آپ کو میری طرح جنگلوں میں کبھی شکار پر جانے کا اتفاق ہوا تو یہ آپ خوب جانتے ہوں گے کہ رات کے وقت جو درخت اور جھاڑیاں ہمیں نظر آتی ہیں، دن کو وہ ویسی دکھائی نہیں دیتیں۔ یہی حال فاصلے کا بھی ہے رات کو جب میں نے پہلی بار چیتے کو دیکھا تو وہ مجھے اپنے سے چند قدم دور کھڑا دکھائی دیا تھا، مگر اب دن کی روشنی میں غور کرنے سے احساس ہوا کہ اس کا فاصلہ مجھ سے کم از کم پچاس گز دور تو ضروری ہی ہوگا۔ مجبوراً چرواہے کی مدد سے گائے کی لاش تک پہنچنے کا راستہ تلاش کیا۔ گائے آدھی سے زیادہ ہڑپ کی جا چکی تھی۔ یہ اندازہ کرنا دشوار تھا کہ آیا چیتا اسے گزشتہ رات سے پہلے پہلے ہی کھا چکا تھا یا وہ دوبارہ بھی ادھر آیا تھا۔ اگر وہ دوبارہ آیا، تو اس کا مطلب یہ تھا کہ گولی اسے نہیں لگی۔ مجھے معلوم تھا کہ چیتے مخصوص حالات میں اپنے شکار پر واپس آتے ہیں۔ عین ممکن ہے چیتا رات کو میرے گاؤں واپس جانے کے بعد بھوک سے بے تاب ہو کر دوبارہ یہاں آیا ہو۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ میری گولی سے شدید زخمی ہوا ہو۔ مجھے یقین تھا کہ میں نے پوری احتیاط سے نشانہ لے کر فائر کیا تھا۔ اس لیے گولی اپنا اثر کر گئی ہو گی۔ میں نے اپنے ساتھیوں کو ہدایت کی کہ وہ ایک دائرے کی شکل میں چلیں اور خوب غور سے اِدھر اُدھر دیکھتے جائیں۔ ممکن ہے چیتے کے خون کا کوئی داغ دھبّہ نظر آ جائے۔ تھوڑی دور تک ہم سب اس طرح جھاڑیوں اور لمبی لمبی گھاس میں جھک جھک کر دیکھتے بھالتے آگے بڑھے۔ کتیا نے فوراً اندازہ کر لیا کہ ہم کیا تلاش کر رہے ہیں۔ وہ بھی سونگھ کر آگے دوڑنے لگی اور ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی۔
چند منٹ بعد ہی وہ ایک جگہ ٹھہر کر کچھ سونگھنے اور بے چینی سے چکر کاٹنے لگی۔ بار بار وہ اسی مقام کی طرف جاتی۔ جب میں نے اس جگہ کا بغور معائنہ کیا تو یہ دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھا کہ وہاں جمے ہوئے خشک خون کا ایک بڑا سا دھبّہ موجود تھا۔ مجھے کتیا کی اس صلاحیت پر تعجب ہوا اور اس کے بارے میں اپنے پہلے تاثرات یاد کر کے ندامت بھی ہوئی۔ میں نے اسے پچکارا، گردن پر تھپکی دی تو وہ بھی پیار سے اپنی لمبی دم ہلانے لگی۔ غالباً یہ بتانا چاہتی تھی کہ ہم لوگ جس چیز کی تلاش میں ہیں، اس سے وہ خود بھی غافل نہیں ہے۔
تھوڑی دیر تک کتیا اسی طرح بے چینی سے اِدھر اُدھر گھومتی رہی۔ اس کے بعد تیزی سے ایک طرف دوڑنے لگی۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ اب ہمیں جگہ جگہ پتّوں، شاخوں اور گھاس پر چیتے کے خون کے دھبّے دکھائی دیے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ درندے کو کاری زخم لگا ہے اور سیروں خون بہہ گیا ہے۔ بعض ایسے مقامات پر جہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی تھی اور کافی نمی تھی، چیتے کا خون خشک نہیں ہوا تھا۔ میں نے اسے چُھوا تو یہ پتہ چلا کہ یہ خون نہ تو زیادہ گاڑھا ہے اور نہ زیادہ سرخ ہے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ چیتے کے جسم کی کسی معمولی سی رگ ہی کو صدمہ پہنچا ہے۔
کتیا تھوڑی دیر بعد مغرب کے رُخ دوڑنے لگی۔ یہ وہی راستہ تھا جدھر کئی سو فٹ لمبی ڈھلوان ندی کے ساتھ ساتھ دور تک چلی گئی تھی۔ اس ندی کا نام انیکل وانکا تھا۔ آگے چل کر ایک دوسری ندی دودا ہالہ نامی اس میں شامل ہو جاتی تھی۔ اس مقام پر ندی کا پاٹ چوڑا اور گہرائی اتنی تھی کہ اچھا خاصا قدِ آدم شخص بھی ڈوب سکتا تھا۔ یہاں سے ایک راستہ گاؤں انچتی کو جاتا تھا۔
گھنے جنگل میں سے گزر کر جب ہم ندی کے کنارے پہنچے، تو وہاں بھی ایک مقام پر چیتے کا خون کافی مقدار میں بکھرا دکھائی دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ندی پار کرنے سے پہلے وہ یہاں دیر تک آرام کر چکا ہے۔ غالباً اتنا خون بہہ جانے کے سبب وہ نڈھال اور کمزور ہو گیا تھا۔ ندی پار کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر گھنے جنگل میں گزرنا پڑا۔ کتیا تیزی سے خار دار جھاڑیوں میں گھس گھس کر اپنا راستہ بنا رہی تھی اور ہم سب کو اس کے تعاقب میں دوڑنا پڑ رہا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کانٹوں میں اُلجھ اُلجھ کر ہمارے کپڑے پھٹنے لگے اور جسموں پر جا بجا زخم بھی آئے۔ آخر کتیا کے مالک نے رک کر اپنی پگڑی سر سے اتاری اور اس کا ایک سرا کتیا کے گلے میں باندھ کر دوسرا سرا ہاتھ میں پکڑ لیا۔ چیتے کے جسم سے گرے ہوئے خون کے دھبے مسلسل ہماری رہنمائی کر رہے تھے۔ خدا خدا کر کے گھنے جنگل سے نکل کر ہم اب نہایت خشک اور سنگلاخ پہاڑی حصّے میں داخل ہوئے جہاں پہاڑیوں کے اندر بے شمار چھوٹے بڑے غار نظر آ رہے تھے۔ یہاں ایک بار پھر چیتا کچھ دیر کے لیے سستایا تھا کیونکہ خون کافی مقدار میں ایک ہی جگہ گرا تھا۔ اور چیتے کے پنجوں کے نشانات بھی پتھروں پر موجود تھے اس کے بعد خون کے چھوٹے بڑے دھبّوں کی ایک لکیر دو سو گز دور پہاڑیوں کے اندر چلی گئی تھی۔ تھوڑی دیر سراغ رسانی کے بعد پتہ چل گیا کہ زخمی چیتا انہی غاروں میں سے ایک غار کے اندر پناہ لینے پر مجبور ہوا ہے۔ غار کا بہت اونچا اور کھلا ہوا حصّہ جو دروازے کا کام دیتا تھا، دھوپ کے رُخ پر تھا اور ہم دیکھ سکتے تھے کہ اس کی چھتوں پر شہد کی مکھیّوں نے نو دس بڑے بڑے چھتّے بنا رکھے تھے۔ بے شمار مکھیّاں اس وقت بھی غار کے مُنہ پر بھنبھنا رہی تھیں۔ لیکن انہوں نے ہماری طرف کوئی توجہ نہ کی، میں خوب جانتا تھا کہ جونہی ان مکھیوں نے ہماری جانب سے خطرہ محسوس کیا، وہ لاکھوں کی تعداد میں ہم پرٹوٹ پڑیں گی اور پھر ان کے زہریلے اور سوئی کی مانند نوکیلے ڈنک سے بچنا ناممکن ہوگا۔ جس کا نتیجہ موت کی صورت میں ظہور پذیر ہوگا۔
اپنے ساتھیوں کو ذرا دو مختلف جگہوں پر چھپ جانے کا اشارہ کر کے میں نے کتیا کو ساتھ لیا اور غار کے منہ پہنچ گیا۔ مکھیوں کی بھنبھناہٹ یہاں اتنی تیز تھی کہ مجھے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لینے پڑے۔ میں نے اس سے بچنے کے لیے اپنی جیب سے رومال نکالا، اسے پھاڑ کر دو چھوٹی چھوٹی دھجیاں بنائیں اور کانوں کے اندر ٹھونس لیں۔
غار کے اندر جب میں آہستہ آہستہ چلا تو کتیا نے میرے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا۔ وہ خوفزدہ ہو کر ایک گوشے میں چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں سمجھ گیا کہ چیتے کی موجودگی محسوس کرتے ہوئے وہ آگے بڑھنے سے کترا رہی ہے۔ میں اسے تھپکی دی تب بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔ غار کے اندرونی حصے میں گھپ اندھیرا تھا۔ اب پہلی بار مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ ٹارچ میرے پاس نہ تھی۔ وہ میں گاؤں میں ہی بھول آیا تھا۔ ایک لمحے کے اندر اندر مجھے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو دوبارہ کسی گاؤں جا کر یا کسی کو بھیج کر ٹارچ منگواؤں یا خدا کی مدد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسی طرح اندھیرے میں زخمی چیتے کا سراغ لگاؤں۔ میں نے ہر چہ بادا باد کہہ کر قریب پڑا ہوا ایک پتھر اٹھایا اور پوری قوت سے غار کے اندر پھینکا۔ پتھر غار کی کسی دیوار سے ٹکرایا اور ایک گونج سنائی دی۔ کتیا نے یکایک حلق پھاڑ کر بھونکنا شروع کر دیا۔ اسی لمحے وہ موذی چیتا غرّاتا ہوا غار کے ایک گوشے سے نکلا اور میری جانب لپکا۔ رائفل سے یکے بعد دیگرے دو فائر ہوئے۔ دونوں گولیاں چیتے کو لگیں اور وہ قلابازی کھا کر وہیں ڈھیر ہو گیا۔ لیکن فائر کرنے سے ایک قیامت میرے سر پر گزر گئی۔ شہد کی لاکھوں مکھیّوں کا بے پناہ شور اور پھر ان کا مجھ پر اچانک حملہ۔۔۔ خدا کی پناہ۔۔۔ اب بھی یاد آتا ہے۔ تو خوف سے بدن کانپنے لگتا ہے۔
مکھیوں کو دونوں ہاتھوں سے جھاڑتا نوچتا ہوا میں اندھا دھند غار سے نکل کر بھاگا۔ کتیا میرے پیچھے پیچھے تھی۔ ہزار ہا مکھیّاں اُسے بھی چمٹ رہی تھیں۔ کئی فرلانگ تک ان مکھیّوں نے میرا تعاقب کیا۔ سینکڑوں مکھیاں میرے کپڑوں کے اندر تک گھس گئی تھیں اور ڈنک مار مار کر انہوں نے مجھے ایسا عذاب دیا کہ میں ایک جگہ منہ کے بَل گرا۔ اور شدتِ تکلیف سے میرا سارا جسم اور چہرہ سوج چکا تھا اور ایک آنکھ بھی وَرم کے باعث بند ہو چکی تھی۔ دوسرے روز میں اپنے آدمیوں کے ساتھ غار میں گیا اور سیاہ چیتے کی لاش اٹھا کر لے آیا۔ بعض سرکاری کاموں کے باعث، جن کی تکمیل ضروری تھی، میرا تبادلہ یکایک بنگلور کر دیا گیا۔ اگرچہ سوانی پلّی کو خیر باد کہتے ہوئے مجھے بے حد افسوس ہو رہا تھا، لیکن دوسری طرف بنگلور کے حسین و شاداب علاقے کی تعریف بھی میں نے سُن رکھی تھی۔ اور خود میں نے کئی بار اس علاقے کی سیّاحت کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا، مگر یہ آرزو وقت سے پہلے پوری نہ ہوئی۔
بنگلور، جنوبی ہندوستان کی ریاست میسور کا عرصہ دراز تک دارلحکومت اور بہت بڑی فوجی چھاؤنی رہا ہے اس کے مشرق میں خلیج بنگال اور مغرب میں بحیرۂ عرب واقع ہے۔ بنگلور سمندر کی سطح سے تین ہزار فٹ کی اونچائی پر ایک طویل و عریض سلسلۂ کوہ پر آباد ہے اور عمدہ آب و ہوا کے اعتبار سے جنوبی ہندوستان کا کوئی اور علاقہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہاں کے موسم کی خوبی یہ ہے کہ سردیوں میں سخت سردی پڑتی ہے نہ گرمیوں میں شدید گرمی۔ نہ بارش زیادہ ہوتی ہے۔ اور نہ خشک سالی سے کبھی اُسے واسطہ پڑا ہے۔ اگر آپ یہاں سے کسی پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف دیکھیں تو آپ کو تین سر بفلک پہاڑ علی الترتیب شمال مغرب میں سینہ تانے کھڑے نظر آئیں گے۔ یہ پہاڑ 35 مربع میل کے دائرے میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر پہاڑ کی بلندی چار ہزار فٹ سے زائد ہے۔ شمالی پہاڑ ان میں سب سے اونچا ہے اور اس کی تین چوٹیاں جو ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں۔ اس کا نام تداروگ ہے یہاں ایک قلعہ بنا ہوا ہے۔ جس کے کھنڈر اس زمانے میں بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ سیّاحوں کے لیے باعثِ کشش ہیں۔ یہ قلعہ میسور کے سلطان ٹیپو شہیدؒ نے بنوایا تھا جسے لوگ محبت سے ‘شیرِ میسور’ کہا کرتے تھے۔
بنگلور کے شمال مغربی پہاڑ کا نام سوانا گنگا ہے۔ اس کی چوٹی پر ایک مندر بنا ہوا ہے۔ یہاں ہر سال ہندو یاتری کثرت سے آتے ہیں۔ اسی پہاڑ کی چوٹی پر ایک کنواں بھی موجود ہے جس کے بارے میں طرح طرح کی داستانیں لوگوں میں مشہور ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس کی گہرائی کا اندازہ آج تک کسی کو نہیں ہو سکا۔ تیسرے پہاڑ کو مگادی کہا جاتا ہے اور یہی وہ پہاڑ ہے جہاں میں نے اپنی زندگی کی ایک خطرناک مہم کامیابی سے سر کی تھی اور اسی مہم کا قِصّہ آپ ان صفحات میں پڑھیں گے۔ فطرت نے پہاڑ کو دو حصّوں میں اس خوبی سے تقسیم کیا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ دُور سے دیکھیے تو دونوں حصّے اپنی بناوٹ اور بلندی کے اعتبار سے ایک ہی جیسے معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے درمیان ڈھلوان وادی میں ایک اتنا گھنا جنگل ہے کہ اسے آسانی سے عبور نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ یہ بلندی سے ایک دم نیچے اترتا ہے اور یہاں پھسلن بہت زیادہ ہے اس لیے ذرا سی بے احتیاطی آپ کو تحت الثّریٰ میں پہنچا سکتی ہے۔ نہ جانے کتنے ہی بدنصیب افراد اس جنگل نے نگل لیے ہیں اور یہی وہ جنگل تھا جس کے اندھیرے غار میں وہ زبردست چیتا رہتا تھا۔ جس کا ذکر سنتے ہی بستی کے لوگ دہشت سے تھرتھر کانپنے لگتے تھے۔
مگادی کے علاقے کا جب میں نے پہلے پہل سروے کیا تو خود میری سٹّی بھی گم ہو گئی۔ واقعی نہایت ہی خطرناک اور ڈراؤنا جنگل تھا۔ خصوصاً اس کا جنوبی حصہ تو ایسا ہے جہاں قدم رکھتے ہوئے خوف معلوم ہوتا تھا۔ یہاں سے لیکر دریائے کاویری تک ستّر میل دور یہ گھنا جنگل پھیلا ہوا تھا۔ جس میں ہزارہا چیتے اور ریچھ بستے تھے۔ حکومت کے محکمۂ جنگلات کی فائلوں میں اسے ‘محفوظ جنگل’ کے عنوان سے درج کیا جاتا تھا۔ اس جنگل کے اندرونی حِصّے میں تقریباً نصف فاصلے پر کھلی جگہ میں پاس پاس دو گاؤں آباد تھے۔ جن کے نام کانریت اور کھان ہالی تھے۔ اپنے زمانہ قیام کے دوران یہاں میرے 23 سالہ بیٹے نے چالیس چیتے اور ایک درجن لگ بھگ ریچھ ہلاک کیے۔ میرے ‘کارنامے’ اس کے علاوہ ہیں۔
مگادی پہاڑ کا مغربی حِصّہ اتنا گھنا اور خطرناک نہیں تھا۔ یہاں درندوں کی بجائے سیاہ ہرن، خرگوش، مور، تیتر، بٹیر اور اسی طرح کے چھوٹے چھوٹے جانوروں کی بڑی کثرت تھی۔ مغربی حصّہ پھیل کر نشیب میں شمال تک چلا گیا تھا۔ مگادی کے مشرق میں 35 میل کے فاصلے پر بنگلور آباد تھا۔ اسی راستے کے تیئسویں میل پر کارواتی نام کی ایک چھوٹی سی ندی بہتی تھی۔ حکومت نے اس ندی کے گرد بند باندھ دیا تھا کہ اس کا پانی بنگلور کے لوگوں کی ضروریات پوری کر سکے۔ یہاں سے سڑک کے ساتھ ساتھ 23 میل لمبی ایک پائپ لائن لگائی تھی جس کے ذریعے ضرورت کے وقت پانی بنگلور سپلائی کیا جاتا تھا۔
ایک روز مجھے معلوم ہوا کہ مگادی کے دامن میں بسی ہوئی آبادیوں کی دو تین بکریاں ایک چیتے نے ہلاک کر دی ہیں۔ اس علاقے کے باشندوں کے لیے یہ حادثہ نیا نہ تھا۔ وہ پشت ہا پشت سے جنگل کے انہی درندوں کے ساتھ رہتے آئے تھے۔ اور ان کی عادتوں سے خوب واقف تھے۔ چند روز بعد چیتے نے، جو اپنے پہلے کارنامے پر نڈر ہو چکا تھا، بستی کے مویشیوں پر حملہ کیا اور یکے بعد دیگرے دو طاقتور بیل اور دو گائیں مار ڈالیں۔ چیتے کی یہ حرکت ناقابلِ معافی تھی۔ کیونکہ ہندو لوگ اپنے بیلوں اور مویشیوں اور گایوں کو دیوتا سمجھ کر پوجتے ہیں اور یہی جانور ایسے ہیں جو ان لوگوں کی پرورش کا بُوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ بیل ان کے کھیتوں میں ہل چلاتے ہیں۔ گائیں دودھ دیتی ہیں۔ جس سے مکّھن اور گھی بنایا جاتا ہے۔ ہندو لوگ اسی لیے گائے کو ‘گئو ماتا’ کہتے ہیں اور اس کا گوشت کھانا تو درکنار، چھونا بھی حرام جانتے ہیں۔
اب اس عجیب قِصّے کے ‘ہیرو’ کا تعارف آپ سے کراتا ہوں۔ بنگلور میں ایک شخص مان سوامی رہتا تھا۔ یہ نہایت مکّار اور بدمعاش آدمی تھا۔ بنگلور میں رہنے والے انگریز افسروں کو جو شکار کے فن میں اناڑی اور ناتجربہ کار ہوتے تھے، شکار کی جھوٹی سچّی خبریں پہنچا کر انعام کے طور پر روپے اینٹھ لینا اس کا خاص مشغلہ تھا۔ اس میں شک نہیں کہ جنگل سے متعلق اس کا تجربہ وسیع تھا۔ اور اس لیے وہ مبتدی شکاریوں کو شیشے میں آسانی سے سے اتار لیتا تھا۔ اس کے ترغیب دلانے کا انداز یہ تھا:
‘سر۔۔۔ میں آپ کے لیے بہترین خوش خبری لایا ہوں۔ یہاں سے صرف بارہ میل کے فاصلے پر چالیس سُوروں کا ایک گروہ جنگل میں گھوم رہا ہے، یا وہ کہتا ‘ماسٹر۔۔۔ مگادی روڈ کے دسویں میل پر اور شہر میسور کی سڑک کے اٹھارویں میل پر بے شمار سیاہ ہرن موجود ہیں۔ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں، آپ تین چار ہرن آسانی سے شکار کر سکتے ہیں۔ ماسٹر! اگر آپ نے یہ موقع کھو دیا تو مجھے بہت افسوس ہوگا۔’
شکاری ان چکنی چپڑی باتوں سے خوش ہو کر شکار پر جانے کے لیے فوراً آمادہ ہو جاتا۔ تب مان سوامی مطالبہ کرتا کہ اسے یہ خبر پہنچانے کے عوض اتنے روپے ادا کیے جائیں۔ صاحب سے پندرہ بیس روپے وصول کر کے مان سوامی اسے جھانسا دیتا کہ آپ سامان وغیرہ تیار کیجیے۔ میں آپ کو جنگل میں فلاں مقام پر ملوں گا۔۔۔ یہ کہہ کر رفو چکر ہو جاتا۔ بے چارہ شکاری جنگل میں اِدھر اُدھر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد جب مقررہ مقام پر پہنچا تو اسے مان سوامی تو مل جاتا، مگر کالے ہرن یا پلے ہوئے سوروں کا نام و نشان بھی نہ ہوتا۔ اس سے پیشتر کہ شکاری غُصّے میں آئے، مان سوامی الٹا ناراض ہونے لگتا:
‘ماسٹر! آپ کبھی اچھے شکاری نہیں بن سکتے۔۔۔ آپ کو بنگلے سے فوراً روانہ ہو جانا چاہیے تھا۔ آپ نے اتنی دیر کر دی۔ کل ہی بہت سے بڑے بڑے فوجی آفیسرز اپنی موٹروں میں آئے تھے، انہوں نے بہت سے ہرن اور سُور مارے، باقی سب بھاگ گئے۔۔۔ اب آپ بنگلے پر واپس جائیے۔ میں ان ہرنوں کو تلاش کرتا ہوں۔ چند روز تک آپ کو اطلاع دوں گا اور بدنصیب شکاری اپنا سا منہ لے کر لوٹ جاتا۔ ایک ڈیڑھ ہفتے انتظار کے بعد مان سوامی ایک اور بنگلے پر پہنچتا اور صاحب سے سامنا ہوتے ہی جوش سے چلّاتا: ‘صاحب۔۔۔ جناب۔۔۔ سر۔۔۔ میں آپ کے لیے ایک زبردست خبر لایا ہوں۔ ابھی تک کسی کو نہیں پتہ چلا۔ جلدی کیجیے سر۔۔۔ ورنہ موقع ہاتھ سے نکل جائے گا۔۔۔ یہاں سے پندرہ میل دور ایک بہت بڑا چیتا جنگل میں گھوم رہا ہے۔۔۔ آپ اسے آسانی سے شکار کر سکتے ہیں۔۔۔ وہ کھانا کھالی کی سڑک پر ہے، اگر آپ مجھے صرف دس پندرہ روپے دے دیں، تو مَیں یہ چیتا آپ کے سامنے حاضر کر دوں گا۔ صاحب۔۔۔ میں اس روپے سے ایک گدھا بھی خریدوں گا۔۔۔ اور گدھے کو جنگل میں باندھ دوں گا۔ چیتا اُسے مار ڈالے گا۔۔۔ پھر میں آپ کو یہ اطلاع دینے آؤں گا۔۔۔ میں آپ کے لیے بہت مضبوط مچان بھی تیار کر سکتا ہوں۔’
یہ خبر سُن کر شکاری کے منہ میں پانی بھر آتا وہ سوچتا کہ یہ سودا تو بڑا سستا ہے، صرف پندرہ روپے خرچ سے چیتے کا شکار ہو جائے گا۔۔۔ اور وہ زیادہ دور بھی نہیں، پندرہ میل کا فاصلہ ہے۔۔۔ وہ فوراً جیب سے پندرہ روپے نکال کر مان سوامی کے حوالے کرتا اور کہتا کہ جلدی جاؤ۔ گدھے کا انتظام اور مچان وغیرہ باندھنے کی تیاری کرو۔۔۔ مان سوامی ان روپوں کے علاوہ دو روپے اپنے کھانے پینے کا خرچ اور تین روپے بس کا کرایہ وصول کرتا اور صاحب سے وعدہ کر کے چند دنوں تک چیتے کے متعلق تازہ خبر لائے گا وہاں سے رفو چکّر ہو جاتا۔ روپے جیب میں رکھتے ہی مان سوامی سیدھا تاڑی خانے پہنچتا۔ اوپر تلے تین بوتلیں چڑھا کر وہیں انٹا غفیل ہو جاتا۔ چوبیس گھنٹے تک گہری نیند سونے کے بعد وہ اٹھتا اور وہاں سے بنگلور کے ایک کانجی ہاؤس میں جاتا جہاں آوارہ کُتّے اور لاوارث گدھے نیلام کیے جاتے تھے۔ یہاں سے وہ ایک یا دو روپے میں کوئی مرگھلا سا گدھا خریدتا اور اسے لے کر جنگل میں اس مقام پر باندھ آتا جہاں وہ چیتے کے گھومنے کا فرضی قِصّہ صاحب کو سنا چکا ہوتا۔ دو روز تک گدھا وہیں بھوکا پیاسا بندھا رہتا۔ تیسرے روز مان سوامی علیٰ الصبح وہاں جاتا۔ اور گدھے کو خود ہی ہلاک کر ڈالتا۔ پھر وہ ایک خاص طرز کے چاقو اور گھوڑے کے سموں میں لگائے جانے والے تیز نعل کے ذریعے مُردہ گدھے کے جسم پر چیتے کے پنجوں کے مصنوعی نشان اس چابکدستی اور مہارت سے بناتا کہ ناواقف شکاری فوراً دھوکا کھا جاتا۔ اس کاروائی کے بعد وہ گدھے کا پیٹ پھاڑ کر آنتیں ادھر ادھر بکھیر دیتا۔ پھر لاش گھسیٹ کر جھاڑیوں کے اندر لے جاتا اور وہاں اسی طرح چھپاتا جس طرح چیتا اپنے شکار کی لاش چھپاتا ہے۔ اس کے بعد مان سوامی اپنے تھیلے میں سے ایک عجیب و غریب شے باہر نکالتا۔ ذرا سوچیے کہ وہ کیا شے ہو سکتی ہے۔ یہ دراصل کسی مرے ہوئے چیتے کا پنجہ تھا، جو ہمیشہ مان سوامی کے کام آتا، اس پنجے کے ذریعے وہ گدھے کی لاش کے اردگرد اور ذرا فاصلے تک جابجا نشان بنا دیتا! اس مہم سے فارغ ہو کر وہ بنگلور جانے والی بس پر چند آنے کا ٹکٹ خرید کر سوار ہوتا اور صاحب کے بنگلے پر پہنچ کر نہایت ڈرامائی انداز میں چیتے کے آنے اور گدھے کے پھاڑ کھانے کی لرزہ خیز داستان بیان کرتا۔ صاحب خوش ہو کر مان سوامی کی نہ صرف چائے اور انڈوں سے تواضع کرتا بکہ اُسے پانچ دس روپے انعام بھی دیتا۔ اس کے بعد صاحب جلدی جلدی سفر کی تیاری کرتا۔ اپنی رائفل، زائد کارتوس، ٹارچ اور اسی طرح کی ضروری و غیر ضروری چیزوں کو تھیلے میں بھرتا اور مان سوامی کے ساتھ اپنی موٹر میں بیٹھ کر اس چیتے کے تعاقب میں نکل جاتا جس نے ‘اسی روز’ گدھے کو ہلاک کیا تھا۔
جائے حادثہ پر پہنچ کر صاحب کا اضطراب حد سے بڑھ جاتا۔ مان سوامی اسے چیتے کے پنجوں کے نشان دکھاتا، پھر وہ جھاڑیوں میں چھپی ہوئی گدھے کی لاش ڈھونڈ نکالتے۔ مان سوامی صاحب کو وہیں چھوڑ دوڑا دوڑا قریبی بستی میں جاتا اور دو قلیوں کو بلا لاتا۔ ان کی مدد سے وہ وہیں ایک درخت پر صاحب کے لیے مچان باندھتا اور مچان باندھنے کا معاوضہ پانچ روپے وصول کرتا۔ لیکن قلیوں کو وہ بارہ بارہ آنے دے کر ٹرخا دیتا۔۔۔ صاحب کو مچان پر چڑھا کر وہ تاکید کرتا:
‘دیکھیے سر آپ رائفل سنبھال کر یہیں بیٹھیے، چیتا لاش کو کھانے ضرور آئے گا۔ اگر آپ نے ہوشیاری سے کام لیا تو وہ بچ کر نہیں جا سکتا۔ میں صبح آؤں گا، یہ کہہ کر وہ بیچارے شکاری کو مچان پر اونگھنے اور مچھروں کو اڑانے کے لیے چھوڑ جاتا۔۔۔ شکاری پر ایک ایک لمحہ قیامت کا گزرتا، ذرا سی آہٹ بھی ہوتی تو وہ چونک کر جھاڑیوں گھورنے لگتا۔ کبھی سے رائفل سے نشانہ لیتا اور کبھی گھبراہٹ میں ٹارچ روشن کر کے اپنا اطمینان کرتا کہ گدھے کی لاش ویسے ہی پڑی ہے اور چیتا ابھی نہیں آیا، لیکن چیتا وہاں ہوتا تو آتا۔ غرض کہ ساری رات اس تماشے میں بیت جاتی اور صبح جب مان سوامی صاحب کی خبر لینے آتا تو صاحب کو مچان پر سوئے ہوئے پاتا وہ آواز دے کر انہیں جگاتا اور کہتا:
‘صاحب! شاید چیتا نہیں آیا۔۔۔ میں تو پہلے ہی کہتا تھا کہ وہ بہت عیّار اور مکّار جانور ہے۔ اُسے یقیناً شبہ ہو گیا کہ ایک شکاری میری تاک میں بیٹھا ہے۔ آپ فکر نہ کیجیے، آج رات وہ ضرور آئے گا۔ مگر اناڑی شکاری اس ایک رات ہی میں ‘چیتے کے شکار’ کا ایسا لطف اٹھا چکتا تھا کہ دوسری رات مچان پر جاگنا اسے ناقابل برداشت عذاب دکھائی دیتا اور پھر کبھی آنے کا وعدہ کر کے مان سوامی کو ایک گدھا خریدنے کے لیے پانچ روپے دے کر رخصت ہو جاتا۔ غرضیکہ اسی طرح یہی ڈرامہ بار بار دہرایا جاتا۔ حتیٰ کہ شکاری چیتے کے شکار سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے توبہ کرلیتا اور خرگوشوں اور تیتروں کو مارنے پر ہی اکتفا کرتا۔ مان سوامی کی ان چالبازیوں کا مجھے بھی یوں علم ہوا کہ ایک مرتبہ اس نے مجھے فرضی چیتے کا جھانسہ دے کر بیوقوف بنایا تھا۔ وہ تو اتفاق ایسا ہوا کہ میں نے اس کے تھیلے میں رکھا ہوا چیتے کا پنجہ دیکھ لیا۔ اور جب مان سوامی کو ذرا دھمکایا، تو اس نے سچ سچ سارا ماجرا کہہ سنایا اور بعد میں گڑگڑا کر کہنے لگا:
‘صاحب مجھے معاف کر دیجیے۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ آپ سے کوئی دھوکا نہیں کروں گا۔۔۔ کیا کروں صاحب، اس پیٹ کی وجہ سے مجبور ہوں۔ یہی میرا دھندا ہے۔ آپ جیسے صاحبوں کے ذریعے چار پیسے کما لیتا ہوں۔’
مجھے ہنسی آ گئی اور میں نے صدق دل سے اسے معاف کر دیا اور کہا: ‘میں تمہارے دھندے کو تباہ نہیں کرنا چاہتا، تم دوسرے اناڑی شکاری کو جی بھر کر بیوقوف بناتے رہو، مجھے کوئی سروکار نہیں، لیکن اگر تم نے میرے ساتھ آئندہ فریب کیا تو تم جانو گے۔’
میں نے مان سوامی جیسی انوکھی اور دلچسپ شخصیت کا تفصیلی تعارف اس لیے کرایا ہے کہ یہ قِصّہ جو میں بیان کرنے والا ہوں، اس کا ‘ہیرو’ دراصل وہی ہے۔
مگادی کے اس چیتے کی ہلاکت خیز سرگرمیوں کی خبر مان سوامی کے کانوں تک بھی پہنچی۔ اس نے سوچا کہ مبتدی شکاریوں کو پھانسنے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ اس خبر کی تصدیق کےلیے وہ فوراً بس کے ذریعے مگادی گیا اور لوگوں سے پوچھ گچھ کر کے اچھی طرح تسلّی کر لی کہ واقعی اس چیتے نے کئی بکریوں اور گایوں کو ہلاک کیا ہے۔ مگر اب اس کے سامنے ایک اور مشکل آن کھڑی ہوئی۔ مان سوامی کا نام یورپین شکاریوں میں شیطان کی طرح مشہور ہو چکا تھا۔ اگرچہ وہ مختلف ناموں سے ان کو دھوکہ دیتا رہا تھا، مگر اس کی شکل و صورت سے سب ہی واقف تھے۔ وہ یہ خبر لے کر ایک درجن شکاریوں کے پاس گیا۔ مگر کسی اس کی بات پر کان نہ دھرا اور یہ کہہ کر دھتکار دیا کہ تم ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے ہو بھاگ جاؤ، ورنہ تمہیں پولیس کے حوالے کر دیا جائے گا۔
یہ صورتِ حال مان سوامی جیسے مکّار شخص کے لیے بڑی مایوسی کن تھی۔ اسے اپنا دھندا خطرے میں دکھائی دینے لگا، مگر وہ آسانی سے ہار ماننے والا آدمی نہ تھا۔ سوچتے سوچتے ایک تدبیر اس کے ذہن میں آ ہی گئی۔ اس نےفیصلہ کر لیا کہ اپنی مٹتی ہوئی شہرت کو سہارا دینے کے لیے اس چیتے کو کیوں نہ خود ہی مارا جائے۔ اگر چیتا میرے ہاتھوں مارا گیا تو پو بارہ ہیں۔ میں پھر بڑے فخر سے ان شکاریوں کو بتا سکوں گا۔ میں نے جو خبر دی تھی وہ صحیح تھی۔ اس معاملے پر وہ جتنا غور کرتا، اتنا ہی اسے اپنی کامیابی کا یقین ہوتا گیا۔ اس نے پروگرام بنایا کہ چیتے کو مارنے کے بعد وہ اسے ایک جلوس کی شکل میں سارے علاقے میں نمائش کے لیے لے جائے گا۔ اس کے ساتھ اپنی تصویریں اتروا کر دوسرے یورپین شکاریوں کو ڈاک کے ذریعے بھیجے گا۔ اور پھر اپنا تفصیلی تعارف بھی کرائے گا کہ مان سوامی شکاری نے فلاں جنگل میں فلاں مقام پر ایک چیتے کو مارا۔
مان سوامی کے پاس کسی زمانے میں ایک بندوق ہوا کرتی تھی، وہ اس نے تاڑی پینے کے لیے بیچ دی تھی۔ اب چیتے کو مارنے کےلیے اسے ایک رائفل کی جستجو ہوئی۔ اس نے ایک انگریز شکاری کی منّت سماجت کر کے چند روز کے لیے پرانی بارہ بور کی دو نالی بندوق حاصل کی۔ اور اپنی پرانی خاکی وردی پہن کر جو کسی صاحب کا عطیہ تھا، اسی گاؤں میں جا پہنچا۔ جہاں چیتے نے بکریاں ہلاک کی تھیں۔ گاؤں والوں پر اس نے خوب رعب گانٹھا کہ کوئی معمولی شکاری نہیں ہوں۔ میں نے اپنی زندگی میں سینکڑوں شیر اور چیتے مارے ہیں۔ بڑے بڑے فوجی ‘جرنیلوں، کرنیلوں’ اور وائسرائے صاحب بہادر تک کو مَیں نے اپنے ساتھ لے جا کر شکار کھیلنے کے طریقے بتائے ہیں۔ اب میں اس چیتے کا قِصّہ پاک کرنے آیا ہوں، جس نے تمہاری بکریاں اور گائیں مار ڈالی ہیں، اور مَیں اس وقت تک اس گاؤں سے نہیں جاؤں گا جب تک چیتے کو ہلاک نہ کر دوں گا۔ تم لوگوں کا فرض ہے کہ اس جان جوکھوں والے کے کام میں میری مدد کرو۔ جونہی چیتا کسی مویشی پر حملہ کرے مجھے فوراً خبر کرو۔
دیہاتیوں پر اس تقریر کا خاصا اثر ہوا انہوں نے مان سوامی کی ‘بہادری’ اور تجربے کی داستانیں اکثر سُنی تھیں، اس لیے انہوں نے نہ صرف اس کے ٹھہرنے کا بندوبست کیا بلکہ اپنے پاس سے کھانے پینے کا خرچ اٹھانے پر بھی رضامند ہو گئے۔ دو روز بعد اطلاع آئی کہ چیتے نے ایک اور گائے کو ہلاک کر دیا ہے۔ مان سوامی کیل کانٹے سے لیس ہو کر فوراً جائے حادثہ پر پہنچا۔ گائے کی لاش سے تھوڑی دور ایک مضبوط درخت پر اس نے مچان باندھا اور چیتے کے انتظار میں بیٹھ گیا۔ سورج غروب ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی چیتا بھوک سے بے تاب ہو کر گائے کی لاش پر آیا اور اطمینان سے ہڈیاں چبانے لگا۔ مان سوامی نے ٹارچ جلائی۔ چیتا اس سے صرف دس پندرہ گز کے فاصلے پر کھڑا ہوا تھا۔ اس سے پیشتر کہ چیتا خطرے کی بو پا کر فرار ہو، مان سوامی نے بندوق چلا دی۔ نشانے کا کچّا تھا، اس لیے گولی چیتے کو زخمی کرتی ہوئی نکل گئی۔۔۔ اب مان سوامی صاحب میں اتنی جرأت تو نہ تھی کہ وہ زخمی چیتے کا تعاقب کرتے۔ ساری رات مچان پر بیٹھے رہنے کے بعد وہ صبح جب گائے کی لاش کے قریب گیا تو وہاں چیتے کے خون کے دھبے موجود تھے۔ گاؤں پہنچ کر اس نے اپنے کارنامے کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا کہ چیتا شدید زخمی ہو کر بھاگا ہے اور یقیناً کسی جھاڑی کے اندر مر چکا ہوگا۔ گاؤں والوں نے مل جل کر وہ تمام حصہ چھان مارا مگر چیتے کی لاش نہ پائی۔ مان سوامی کسی بہانے وہاں سے غائب ہو گیا۔
کئی ہفتے بیت گئے۔ اس دوران میں چیتے کے بارے میں کوئی نئی خبر سننے میں نہ آئی۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ چیتا واقعی مر چکا ہے۔ لیکن یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہو گئی۔ جب ایک روز دوپہر کے وقت مگادی سے 22 میل دور کلاز پت کے مقام پر ایک چیتے نے نہ صرف بکریوں کے ایک ریوڑ پر حملہ کیا بلکہ چرواہے اور اس کے کم سِن لڑکے کو بھی سخت زخمی کیا۔ اسی روز شام کو ایک حادثہ پیش آیا۔ میسور سے رات کو آنے والے ٹرین سے تین مسافر کلازپت ریلوے اسٹیشن پر اترے۔ انہیں وہاں سے دس میل دور ایک گاؤں میں فوری طور پر پہنچنا تھا۔ چونکہ اس زمانے میں میں بس سروس شروع نہیں ہوئی تھی، اس لیے جنگل میں سفر کرنے کے لیے ٹٹو گاڑی چلتی تھی۔ ٹٹو گاڑی ان تین مسافروں کو لے کر خیریت سے گاؤں میں پہنچ گئی۔ گاڑی بان نے سوچا کہ رات اسی گاؤں میں گزار کر وہ علی الصبح کلاز پت واپس چلا جائے گا۔ اس نے ٹٹو کو گاڑی سے کھول کر ایک جانب کھڑا کر دیا اور تھوڑی سی گھاس اس کے آگے ڈال کر سونے کے لیے گاؤں روانہ ہو گیا۔ ٹٹو نے تھوڑی دیر بعد گھاس ختم کر دی، لیکن اس کی بھوک ابھی زوروں پر تھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا مزید گھاس کی تلاش میں پہلے گاؤں کی گلیوں میں گھومتا رہا۔ پھر جنگل کی جانب نکل گیا۔ ادھر خونخوار چیتا اپنے شکار کی تلاش میں سرگرداں تھا۔ اس نے ٹٹو پر حملہ کیا اوراس کی گردن اپنے منہ میں دبا لی۔ ٹٹو بھی خوب پلا ہوا تھا۔ اس نے جھٹکا دے کر اپنی گردن چیتے کے جبڑے سے آزاد کرا لی اور بگٹٹ گاؤں کی طرف بھاگا۔ چیتا غرّاتا ہوا اس کے تعاقب میں آیا۔ مگر اتنی دیر میں گاڑی بان اور دوسرے لوگ چیتے کی آواز سن کر جاگ چکے تھے۔ وہ سب اپنے گھروں سے نکل آئے تو چیتا بھاگ گیا۔ ٹٹّو لہولہان ہو چکا تھا۔ اس کی گردن میں چیتے کے لمبے دانتوں کے دو بڑے بڑے گھاؤ پڑ گئے تھے۔ اس کا سارا بدن خشک پتّے کی مانند کانپ رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ دھم سے گر پڑا اور دم توڑ دیا۔
دوسرے روز گاڑی بان نے کلازپت پہنچ کر پولیس چوکی میں چیتے کی رپورٹ درج کی کہ اگر اسے جلدی ہلاک نہ کیا گیا تو وہ آدمیوں کو بھی اپنا لقمہ بنانے لگے گا۔ اردگرد کے علاقے میں چونکہ ایسی خبریں ذرا دیر سے پہنچتی ہیں، اس لیے دیہاتی لوگ خطرے کی پروا کیے بغیر ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں آتے جاتے رہتے ہیں۔ چنانچہ اسی روز چیتے نے ایک راہ گیر کو جنگل میں آ لیا۔ اس کے سینے اور پشت پر چیتے نے اپنے پنجوں سے گہرے زخم لگائے۔ چیتا یقیناً اُسے مار ہی ڈالتا اگر موقع پر اتفاق سے دو راہ گیر نہ پہنچ گئے ہوتے! انہوں نے اس بے ہوش زخمی دیہاتی کو مگادی کے ہسپتال میں پہنچانے کے ساتھ ساتھ پولیس چوکی کے انچارج سارجنٹ کو اطلاع دے دی۔ سارجنٹ پولیس نے اس رپورٹ پر فوری کاروائی کی۔ ایک سائیکل سوار کانسٹیبل کو لے کر جائے واردات پر جا پہنچا۔ وہاں چیتے کے پنجوں کے نشان اور انسانی خون کے جمے ہوئے بڑے بڑے دھبّے یہ یقین دلانے کے لیے کافی تھے کہ چیتے نے دیہاتی سے خوب زور آزمائی کی ہے۔ وہاں چند تماشائی دیہاتی بھی جمع تھے۔ یکایک ان میں سے ایک نے سارجنٹ سے کہا: ‘وہ دیکھیے جناب، سامنے اس پہاڑی پر چیتا بیٹھا ہوا ہے‘، واقعی دو فرلانگ دُور ایک پہاڑی ٹیلے پر چیتا اطمینان سے بیٹھا انہی لوگوں کی جانب دیکھ رہا۔ سارجنٹ نے سپاہی کو حکم دیا کہ کہ پولیس چوکی جائے اور رائفل لے کر جلد سے جلد واپس آئے۔ لیکن جتنی دیر میں سپاہی رائفل لے کر آیا، چیتا وہاں سے غائب ہو چکا تھا یہ اعشاریہ 303 کی رائفل تھی۔ اسی رائفلیں اس زمانے میں پولیس اور فوج میں اکثر استعمال ہوتی تھیں اور اس میں صرف ایک ہی کارتوس بھرا جاتا تھا۔ دوسرا فائر کرنے کے لیے پھر کارتوس میگزین میں بھرنا پڑتا تھا۔ سارجنٹ نے سوچا کہ چیتا ضرور اس ٹیلے کے عقب میں چُھپ گیا ہے۔ اگر ذرا کوشش کی جائے، تو اس کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔ پس اس نے رائفل ہاتھ میں لی، چند زائد کارتوس جیب میں ڈالے، دو تین دیہاتیوں اور سپاہی کو ساتھ لے کر آہستہ آہستہ پہاڑی ٹیلے کی طرف بڑھا۔ آدھ گھنٹے تک سارجنٹ اس پہاڑی کے گرد و نواح میں چیتے کو ڈھونڈتا رہا۔ جوش اِضطراب میں اس نے اپنے ساتھیوں پیچھے چھوڑ دیا اور خود کافی آگے بڑھ گیا۔ یکایک ایک ٹیلے کے عقب سے خونخوار چیتا دبے پاؤں نکلا اور عقب سے سارجنٹ پر حملہ کر دیا۔ سارجنٹ حواس باختہ ہو گیا، رائفل ہاتھ سے چُھوٹ کر گر گئی۔ آن واحد میں چیتے نے اسے زمین پر لٹا کر اس بُری طرح سے پنجے مارے کہ سارجنٹ بے ہوش ہو گیا۔ اس کے جسم سے سیروں خون نکل چکا تھا۔ اس کی خوش قسمتی تھی کہ چیتا اس وقت تک مردم خور نہیں ہوا تھا۔ اس نے جب محسوس کیا کہ حریف بے بس ہو چکا ہے تو وہ چھلانگیں لگاتا اور غرّاتا ہوا ایک طرف بھاگ گیا۔ دیہاتیوں اور سپاہی نے اگرچہ چیتے کو ساجنٹ پر حملہ کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا مگر ان کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ دوڑتے اور چیتے کو ڈرانے کی کوشش کرتے۔ جب چیتا بھاگ گیا، تو وہ لرزتے کانپتے وہاں آئے اور بے ہوش ہو کر سارجنٹ کو اٹھا کر پہلے پولیس چوکی اور پھر ہسپتال لے گئے۔ اگلے روز اسے بنگلور کے وکٹوریہ ہسپتال میں بھیج دیا گیا۔ کیونکہ زخم بہت گہرے تھے۔ سارجنٹ کو وہاں خون دیا گیا ورنہ وہ یقیناً مر جاتا۔
چیتے کی ان سرگرمیوں سے مگادی ہلز کے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی۔ معاملہ بنگلور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس تک پہنچا اور اس نے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ پولیس نے آتے ہی مان سوامی کا ٹینٹوا دبایا، کیونکہ اس نے سب سے پہلے مچان باندھ کر چیتے پر گولی چلائی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ مان سوامی کے پاس بندوق کہاں سے آئی؟ کس نے دی؟ اس کے پاس لائسنس تھا؟ مان سوامی کے حواس گُم ہو گئے، کیونکہ اس کے پاس بندوق کا لائسنس نہ تھا۔ مگر ڈی ایس پی اس شخص کے بارے میں کئی کہانیاں سن چکا تھا۔ اس نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔ مان سوامی سے کہنے لگا! دیکھو۔۔۔ تمہارے خلاف جرم بہت سنگین ہے۔ اگر سارجنٹ مرگیا تو تمہیں پھانسی کی سزا ہوگی۔ اب یہ ایک ہی تدبیر سے تمہاری جان بچ سکتی ہے۔ میں تمہیں چار دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اگر اس عرصے میں تم چیتے کو ہلاک کر کے اس کی لاش ہمیں دکھا دو، تو تمہاری جان بخشی ہو سکے گی، ورنہ۔۔۔‘ مان سوامی بیچارہ مرتا کیا نہ کرتا اسے قول دینا پڑا کہ وہ چار دن کے اندر اندر چیتے کو مارنے کی پوری کوشش کرے گا۔ اگر وہ کامیاب نہ ہوا تو پولیس کو اختیار ہوگا کہ جیسا چاہے سلوک کرے۔۔۔ جیل سے نکلتے ہی مان سوامی فوراً میرے بنگلے پر آیا۔ اس کے چہرے کا رنگ خوف سے سپید تھا اور آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر میں دل ہی دل میں خوش ہوا۔ کم بخت بڑا چالاک اور مکّار بنا پھرتا تھا۔ اب چھٹی کا دودھ یاد آئے گا۔ مجھے دیکھتے ہی سرکار سرکار کہہ کر میرے قدموں پر گر پڑا اور چِلّایا، ‘میری جان بچائیے صاحب۔۔۔ میں ساری زندگی آپ کا غلام رہوں گا۔’
میں نے انجان بن کر پوچھا۔ ‘خیر تو ہے مان سوامی؟ تم پر کیا افتاد پڑی جو یوں پریشان ہو؟ کیا کوئی رشتے دار مر گیا ہے۔’ ‘جی نہیں سرکار۔۔۔ میرا تو کوئی رشتے دار اس دنیا میں نہیں جو میری جان کو روئے گا۔۔۔ آپ نے اس چیتے کا ذکر تو سنا ہوگا۔ جس نے ابھی چند روز پہلے پولیس کے ایک آفیسر کو زخمی کیا ہے۔۔۔ مجھے ڈی ایس پی صاحب نے پکڑ کر جیل میں بند کر دیا تھا، کیونکہ میں نے بغیر لائسنس کی بندوق سے اس چیتے کو زخمی کیا تھا۔۔۔ مجھے پھانسی ہو جائے گی صاحب۔۔۔ میری جان اب آپ کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ انہوں نے مجھے چار دن کی مہلت دی ہے کہ اس دوران میں چیتے کو مار کر اس کی لاش ڈی ایس پی کے حوالے کر دوں۔’
میں نے مسکرا کر کہا۔ ‘تو اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے؟ تم چپکے سے کہیں روپوش ہو جاؤ ہندوستان بہت بڑا ملک ہے۔ جب یہ قصّہ رفع دفع ہو جائے تو واپس آ جانا۔’
‘صاحب، یہ آپ کیا کہتے ہیں۔۔۔ پولیس مجھے کہیں نہ چھوڑے گی۔۔۔ اور یہاں سے بھاگ کر میں جا بھی کہاں سکتا ہوں؟ یہیں پیدا ہوا پلا، بڑھا اور اب بوڑھا ہونے کو آیا۔ مجھے اس زمین کے چپّے چپّے سے محبّت ہے۔۔۔ میرا روزگار یہیں لگا ہوا ہے۔ آپ جیسے صاحب لوگوں کے ٹکڑوں پر پڑا ہوا زندگی کاٹ رہا ہوں۔۔۔’ یہ کہتے ہی وہ پھر زار زار رونے لگا۔ میں نے سنجیدگی سے اس صورتحال پر غور کیا کہ کیا مجھے مان سوامی کی مدد کرنی چاہیے؟ اس شخص کو بندہ بے دام بنانے کا زرّیں موقع ہاتھ آ رہا تھا۔ میں نے اس کا شانہ تھپتھپایا اور کہا: ‘گھبراؤ مت۔۔۔ اس چیتے سے میں خود نبٹ لوں گا لیکن ایک شرط ہے۔’
مان سوامی کا چہرہ روشن ہو گیا۔ اس نے جھٹ چادر کے پلّو سے اپنے آنسو پونچھ لیے جو شاید مگرمچھ کے آنسو ہی تھے اور بولا: ‘وہ کونسی شرط ہے جناب؟ میں آپ کی ہر بات ماننے کے لیے تیار ہوں۔’
‘شرط یہ ہے کہ جب میں چیتے پر گولی چلاؤں گا، تو تم میرے پاس رہو گے، اگر تم ڈر کر بھاگے، تو میں وہی گولی تمہیں مار دوں گا۔’
‘مجھے منظور ہے۔’ مان سوامی چلّایا۔
آپس میں یہ معاہدہ طے ہونے کے بعد میں اسی روز شام کے وقت مان سوامی کو اپنے ساتھ لے کر ڈی ایس پی کے گھر گیا اور مان سوامی کا قصور معاف کروانے کی کوشش کی، لیکن ڈی ایس پی بالکل نہ مانا۔ وہ کہتا تھا کہ ‘اِس شخص نے بہت سے لوگوں کو فرضی قِصّے سُنا سُنا کر لوٹا ہے اور اب اسی شخص کی مذموم حرکتوں کے باعث یہ چیتا زخمی ہوا اور اس نے جانوروں اور انسانوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا۔ اب یہ خدشہ ہر وقت موجود ہے کہ اگر چیتے نے ایک بار بھی انسانی خون کا مزہ چکھ لیا، تو وہ کتنی ہی انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنے گا۔۔۔ میں اس بدمعاش آدمی کو ہرگز ہرگز چھوڑنے پر تیار نہیں ہوں۔۔۔ اگر یہ چار روز کے اندر اندر چیتے کی لاش میرے سامنے لا کر ڈال دے، تو پھر میں اس کے بارے رعایت سے کام لینے پر غور کروں گا۔’
‘واقعی یہ شخص ہے تو کڑی سے کڑی سزا کا مستحق۔۔۔ مگر میں آپ سے اتنی سفارش کرتا ہوں کہ چار روز کی قید اٹھا دیجیے۔ یہ بیچارہ چیتے کو کیا مار سکے گا خود ہی اس کا نوالہ بن جائے گا۔ البتہ اس نے میرے ساتھ رہنے کا وعدہ کیا ہے اور میں ضمانت دیتا ہوں کہ جب تک چیتا مارا نہیں جاتا، یہ شخص کہیں فرار نہیں ہوگا۔’
ڈی ایس پی نے مان سوامی کو بنگلے سے باہر جانے کا اشارہ کیا اور پھر مجھ سے ہنس کر کہنے لگا۔
‘مَیں تو اس بدمعاش کو ہمیشہ کے لیے سبق دینا چاہتا ہوں۔ مجھے علم تھا کہ اس کے فرشتے بھی چیتے کو نہیں مار سکیں گے۔ اور یہ ضرور آپ ہی کی خدمات حاصل کرے گا۔ اب آپ اس کو اپنے ساتھ رکھیے۔ اگر آپ کو پولیس سے کسی قسم کی بھی مدد درکار ہے تو فوراً اطلاع دیجیے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس چیتے کا جلد از جلد خاتمہ ہو جائے۔’
دوسرے روز صبح سویرے میں نے اپنا ساز و سامان تیار کیا اور سٹوڈی بیکر سٹارٹ کر کے مگادی ہلز کی جانب روانہ ہو گیا۔ مان سوامی میرے ساتھ تھا۔ راستے میں جتنی چھوٹی بستیاں دکھائی دیں، وہاں ہر جگہ میں نے چیتے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ گاؤں مگادی میں پولیس کے سپاہیوں نے سارجنٹ کے زخمی ہونے کی تفصیلی داستان سنائی۔ وہاں سے کلاز پت گیا۔ راہ میں وہ گاؤں بھی پڑتا تھا۔ جہاں چیتے نے ٹٹو پر حملہ کیا تھا۔ سب انسپکٹر پولیس نے میری فرمائش پر گاڑی بان کو بلایا اور اس نے سب تفصیلات سنائیں۔ ان چار دنوں میں سے ایک دن اسی طرح تحقیق و تفتیش میں صرف ہو گیا۔۔۔ مان سوامی کے چہرے پر پھر ہوائیاں سی اڑنے لگیں، گویا اس کی زندگی کے اب تین دن باقی رہ گئے تھے۔
وہاں سے ہم لوٹ کر پھر مگادی آئے اور وہ رات ڈاک بنگلے میں بسر کی۔ اگلے روز ایک شخص مجھ سے ملنے کے لیے آیا۔ وہ جنگلی جڑی بوٹیاں اور شہد جمع کر کے فروخت کیا کرتا تھا۔ اس شخص کا بیان یہ تھا، ‘چند ہفتے کا پہلے ذکر ہے۔ میں نے جنگل میں ایک زخمی چیتے کو دیکھا۔ وہ جدھر سے گزرا وہاں خون کے بڑے بڑے دھبّے بھی مَیں نے دیکھے۔ میں نے اس روز گاؤں جا کر پوچھ گچھ کی تو پتہ چلا کہ کسی شکاری نے اسے زخمی کیا تھا۔ اتفاق کی بات کہ اگلے روز جب پہاڑی درّوں میں سے گزر رہا تھا تو وہاں بھی میں نے چیتے کے خون کے خشک دھبّے دیکھیے۔ ایک چٹان پر غالباﹰ وہ دیر تک سستایا تھا کیونکہ وہاں خون کافی مقدار میں پھیلا ہوا تھا یہیں ایک غار کے اوپر مجھے شہد کی مکھیوں کا چھتّا نظر آیا۔ میں جب اسے غور سے دیکھنے کے لیے آگے بڑھا، تو غار میں سے چیتے کے غرّانے کی آواز آئی۔ میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگا۔۔۔ مجھے یقین ہے کہ چیتا اب بھی وہیں ہوگا کیونکہ وہ بہت زخمی تھا۔’
اس شخص کا نام مٹھّو تھا۔ مٹھو ہندی زبان میں طوطے کو کہتے ہیں۔ مٹھو کو چونکہ اسی غار سے شہد کا چھتّہ اتارنا تھا، اس لیے وہ بھی ہمارے ساتھ جانے پر تیار تھا۔ میں نے مان سوامی سے کہا: ‘فوراﹰ سامان تیار کرو۔ ہمیں دوپہر تک لازماً وہاں پہنچنا ہے۔ چیتا دوپہر کو سویا ہوا ہوگا۔ اس لیے ہمارے آنے کی آہٹ سن کر فرار نہ ہو سکے گا۔’
اب مان سوامی پھر رونے اور گڑگڑانے لگا، ‘مجھے نہ لے جاؤ، چیتا مجھے کھا جائے گا۔’ مجھے اس بزدل شخص پر بے حد تاؤ آیا۔ میں نے کہا۔ ‘بہت اچھا۔۔۔ میں بھی نہیں جاتا تم پھانسی پر مرنا پسند کرتے ہو تو مجھے کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ چیتے کو مارنے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالوں۔’
مان سوامی کو میں نے ایک فالتو رائفل دی، اپنی خاکی وردی پہنائی اور موٹر میں بٹھا کر کلاز پت کی جانب روانہ ہوا۔ مٹھو ہمارے ساتھ تھا۔ ہم ٹھیک سوا دس بجے سڑک کے اس مقام پر پینچ گئے جس کے مقابل دور سے پہاڑ کی دو چوٹیوں کے درمیان ڈھلان میں جنگل اترتا تھا۔ مٹھو نے مشورہ دیا کہ اگر ہم یہیں اتر کر سفر پیدل طے کریں تو آسانی رہے گی۔ میں نے محفوظ جگہ کار کھڑی کی اور مان سوامی کو آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ یہ ڈھلوانی جنگل سڑک سے کئی میل دور تھا، لیکن دیکھنے سے یوں معلوم ہوتا جیسے سامنے ہی چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ آخر ایک جگہ مٹھو نے ہمیں رُکنے کا اشارہ کیا۔ پھر وہ گھٹنوں کے بل جھک کر کچھ سونگھنے لگا۔ مان سوامی خوفزدہ نظروں سے اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا۔
‘یہ دیکھیے صاحب۔۔۔ یہ رہے خون کے دھبّے۔’ مٹھو نے مجھ سے کہا۔ میں نے بھی جھک کر دیکھا۔ بے شک کئی دن کا جما ہوا خون تھا۔ ان جھاڑیوں سے پرے جنگل اتنا گھنا نہیں تھا۔ یہاں بڑے بڑے پہاڑی ٹیلے ایک دوسرے سے ذرا فاصلے پر کھڑے تھے اور زخمی چیتا انہی کے درمیان سے گزر کر اپنے غار تک گیا تھا کیونکہ انہی ٹیلوں پر جابجا اس کے خون کے داغ موجود تھے۔
ڈیڑھ گھنٹے کی جان لیوا اور پُر صعوبت کوشش کے بعد ہم اس غار تک پہنچ جانے میں کامیاب ہوہی گئے۔ جس میں زخمی چیتا پناہ لیے ہوئے تھا۔ میں نے مان سوامی سے کہا۔ ‘ آگے بڑھو اور غار میں داخل ہو جاؤ۔’ بے چارے کا چہرہ دہشت سے سپید ہو گیا۔ اس کی گھگھی بندھ گئی۔ میں نے پھر رائفل کا اشارہ کیا تو وہ میرے قدموں پر گر پڑا اور بچوں کی طرح دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔ ’سرکار مجھ پر رحم کیجیے۔ مجھے کیوں موت کے منہ میں بھیج رہے ہیں۔ میرے باپ کی توبہ جو میں آئندہ اس جنگل کا رخ بھی کروں۔’ میں نے ایک قہقہہ لگایا اور کہا، ‘مان سوامی تم نے تو بزدلی کی حد کر دی۔۔۔ بندہ خدا، رائفل تمہارے پاس ہے۔ دو آدمی تمہاری حفاظت کے لیے ساتھ ہیں اور تم پھر بھی ڈر رہے ہو۔’
یکایک مٹھو کے حلق سے ایک چیخ نکلی اور وہ بدک کر جنگل کی طرف بھاگا۔ یقین کیجیے اگر تین سیکنڈ کی تاخیر اور ہوتی تو وہ موذی چیتا، جو نہ جانے کب سے لمبی گھاس میں چھپا ہوا تھا، ہم میں سے ایک آدھ کو ضرور لے مرتا۔ بجلی کی مانند تڑپ کر وہ گھاس میں سے اچھلا اور مان سوامی پر آن پڑا۔ مان سوامی منہ کے بل گھاس میں گر گیا۔ میری دو نالی رائفل سے بیک وقت دو فائر ہوئے اور چیتے کے سر کے پرخچے اڑ گئے۔ کیونکہ وہ مجھ سے بمشکل پانچ فٹ کے فاصلے پر تھا۔ ایک ہولناک چیخ کے ساتھ چیتے نے قلابازی کھائی اور مان سوامی کے اوپر ڈھیر ہو گیا اور اس طرح اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر وہ چیتا ہلاک ہو گیا۔ جس نے کئی ماہ سے اس علاقے میں اُدھم مچا رکھا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: