Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 7

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 7

–**–**–

شانگو کے پانچ مگرمچھ
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں دریا میں گرا، تو مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نادیدہ قوت نے مجھے پانی میں دھکیل دیا ہے۔ میرا جسم ایک دم سن ہو گیا۔ اور ہوش و حواس رخصت ہو گئے۔ میں نے بمشکل اپنے اوسان بحال کیے۔ دراصل یہ حادثہ ایسا فوری تھا کہ پانی میں گرنے سے اپنے آپ کو بچا نہ سکا، ورنہ مجھ جیسا تجربہ کار اور مشّاق شکاری یوں بچوں کی طرح پانی میں گر جائے، قطعی ناممکن بات ہے۔ وہ موذی مگرمچھ، جس کا میں تعاقب کر رہا تھا، ضرورت سے زیادہ قوی اور چالاک ثابت ہوا۔ میں نے اپنا ہار پون متعدّد مرتبہ اس کے اوپر پھینکا، لیکن ہر بار وہ صاف بچ نکلتا۔ مگرمچھ بار بار پانی کی تہہ میں جاتا اور پھر سطح پر آتا۔ اس کی لمبی دُم پانی میں تیزی سے گردش کر رہی تھی اور پانی دیکھ کر یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ گرمی سے اُبل رہا ہے۔ میری کشتی اب مگرمچھ کے بالکل قریب پہنچ چکی تھی۔ میں نے ایک بار پھر ہارپون ہاتھ میں سنبھالا اور مگرمچھ کے کھلے ہوئے جبڑے کا نشانہ لے ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی دم اس زور سے ماری کہ کشتی چکّر کھا گئی اور میں اپنا توازن قائم نہ رکھ سکا اور الٹ کر دریا میں جا گرا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ گرتے گرتے بھی میں نے اپنے ساتھی ہنری کی آواز سنی تھی۔
‘کشتی کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ مگرمچھ تمہارے پیچھے ہے۔ میں اس پر حملہ کر رہا ہوں۔’
میں ایک دم دریا کہ تہہ میں بیٹھتا چلا گیا اور جب چند سیکنڈ بعد سطح پر ابھرا تو خونخوار مگرمچھ کشتی کی جانب بل کھا رہا تھا۔ ہنری نے جب مجھے پانی کے اوپر دیکھا، تو چلّایا: ‘خبردار۔۔۔ ادھر ہی ہے۔۔۔’ پھر اس نے اپنی ٹارچ روشن کی، ایک لمحے کے لیے میری آنکھوں میں چکاچوند سی ہوئی اور پھر میں نے آگے بڑھ کشتی کا ایک تختہ تھام لیا۔ آسمان پر تارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ‘ذرا ایک منٹ صبر کرو۔ میں تمہارا ہاتھ پکڑتا ہوں۔’ ہنری پھر چلّایا۔ اتنے میں کشتی کو جھٹکا لگا اور میرا ہاتھ پھسل گیا اور میں ایک بار پھر پانی میں غوطے کھا رہا تھا۔ میں نے اپنے اوسان خطا نہ ہونے دیے اور کشتی تک پہنچنے کے لیے پوری قوت صرف کر دی۔ رات ایسی نہیں اندھیری تھی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا۔ میں نے ہنری کو آواز دی۔ مگر کوئی جواب نہ ملا۔ موجوں کے شور میں میری آواز دب گئی۔ یکایک میرا ہاتھ کسی نرم شے سے ٹکرایا اور بجلی کی ایک رو میرے جسم میں دوڑ گئی۔ میرا ہاتھ مگرمچھ کی کھال کو چھو چکا تھا جو پانی کے اندر تیر رہا تھا۔ اتنے میں ہنری کی کانپتی ہوئی آواز سنائی دی۔ ‘ولیم’ یہاں سے فوراً تیر کر دُور نکل جاؤ۔ مَیں دیکھ چکا ہوں، کئی مگرمچھ ہیں اور ان سب سے لڑنا حماقت ہے۔ وہ ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔۔۔ جلدی کرو۔’ یہ کہہ کر اس نے پھر ٹارچ روشن کی اور خوف سے میری جان ہی نکل گئی۔ مجھ سے کوئی دس پندرہ گز کے فاصلے پر ایک مہیب مگرمچھ اپنا بھیانک جبڑا کھولے موجود تھا، اس کے عقب میں دو چھوٹے مگرمچھ اور تھے۔ میں نے جان بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے۔ مگرمچھ میرے قریب آ چکا تھا۔ اسی لمحے ہنری کے ہاتھ سے ہارپون سنسناتا ہوا آیا اور مگرمچھ کے حلق میں گڑ گیا مگرمچھ کی درد شدت سے پانی کے اندر الٹ گیا اور بُری طرح تڑپنے لگا۔ اس کی لمبی دم میری پشت سے آ کر لگی اور میں ایک بار پھر پانی کے اندر ڈبکیاں کھانے لگا۔ مجھے یوں محسوس ہوا، جیسے کسی نے کوڑے مار مار کر میری پشت لہولہان کر دی ہے۔ چند سیکنڈ بعد ہنری نے اندھا دھند ہارپون پھینکنے شروع کر دیے۔ جو میرے سر کے اوپر سے سنسناتے ہوئے گزرنے لگے اور میں نے سمجھ لیا کہ اب میرا کام تمام ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں۔ آخری بار حلق پھاڑ کر چیخا: ‘ہنری’ ارے بیوقوف، گدھے، یہ بند کرو، کیا مجھے مار ڈالنے کا ارادہ ہے۔’
اتنے میں اس کی ٹارچ پھر روشن ہوئی اور میں نے دیکھا کہ کشتی اب تیس بتیس گز دور ہے میں نے ایک بار پھر کشتی کی طرف ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے لیکن میں تھک گیا تھا۔ دریا کے یخ بستہ پانی نے میرا جسم سُن کر دیا اور پھر دو تین مگرمچھ اب بھی مجھ سے کچھ فاصلے پر موجود تھے۔ اور مجھے ہڑپ کر لینے کے لیے مستعد۔۔۔ موت کا بھیانک چہرہ میری آنکھوں کے سامنے ناچنے لگا۔ ذرا غور کیجیے کہ آدھی رات کا وقت۔۔۔ دریا کا سرد پانی تین خونخوار مگرمچھ اور میری اکیلی جان۔۔۔ مجھے اپنی حماقت پر افسوس ہونے لگا کہ ایسی موت مرنا اپنی قسمت میں لکھا تھا۔ سچ ہے کہ لالچ کے ہاتھوں یہ کڑا وقت دیکھنا پڑا۔ ان دنوں ہم دونوں پر مگرمچھ مارنے کا بُھوت بُری طرح سوار تھا، کیونکہ کھالوں کی بڑی مانگ تھی۔ اور ہم اب تک ساٹھ ستّر مگرمچھ مار چکے تھے، اس لیے دوسرے بیشتر شکاری ہم سے حسد کرنے لگے۔ اسی لالچ کے تحت ہم نے سوچا کہ دن کو تو دوسرے شکاری بھی مگرمچھ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یہ مقابلہ ہمارے لیے بڑا کٹھن ہوتا ہے، اس لیے کیوں نہ رات کے وقت شکار پر نکلا جائے، چنانچہ ہم آدھی رات کے وقت دریا کے سینے پر اپنی بڑی سی کشتی چلاتے اور ٹارچوں کی مدد سے مگرمچھوں کو تلاش کرتے رہتے اور جلد ہی ہمیں دو تین مگرمچھ مل جاتے جو یا تو ریت پر لیٹے آرام کر رہے ہوتے یا دریا میں تیرتے ہوئے نظر آ جاتے ہمارے پاس لمبے لمبے ہارپون تھے۔ یہ نیزے کی شکل کا ایک ہتھیار ہوتا ہے جس کے اوپر کا حصّہ لمبی رسّی سے بندھا رہتا ہے۔ جونہی ہمیں مگرمچھ پانی میں نظر آتا، پوری قوت سے ہارپون اس کے اوپر پھینک دیتے۔ ہارپون سنسناتا ہوا جاتا اور مگرمچھ کی گردن یا کمر میں گڑجاتا۔ مگرمچھ کو اس طرح متعدد بار زخمی کرنے کے بعد اسے گھسیٹ کر کنارے پر لے جاتے۔ ہم نے پروگرام بنایا تھا کہ جب کافی رقم جمع ہو جائے گی۔ تو ایک رائفل خرید لیں گے اور اپنی کشتی میں موٹر بھی لگا لیں گے۔
اس رات بھی ہم حسبِ معمول مگرمچھ کی تلاش میں نکلے، تو پہلے ہی موقعے پر یہ حادثہ پیش آیا۔ اتنا بڑا مگرمچھ اس سے پہلے اس دریا میں کسی نے نہ دیکھا تھا۔ ظالم میں بلا کی قوّت تھی اور اس کا جبڑا تو غار کی مانند کھلتا اور بند ہوتا تھا۔ اسے دیکھ کر ہم خوشی سے پھولے نہ سمائے اور ہمیں یقین ہو گیا کہ ہمارا نصیبہ اوج پر ہے۔ اس کی کھال بیچ کر وارے نیارے ہو جائیں گے، لیکن یہ خبر نہ تھی کہ مگرمچھ کے روپ میں موت میرا تعاقب کر رہی ہے۔ یکایک میں نے محسوس کیا کہ مگرمچھ نے میری دونوں ٹانگیں اپنے جبڑے میں دبالی ہیں اور میں آہستہ آہستہ پانی کے اندر اتر رہا ہوں۔ میں نے مگرمچھ کے جبڑے سے ٹانگیں آزاد کرانے کی کوشش نہ کی، کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ اگر ایسی کوشش کی گئی، تو میری ٹانگیں کٹ کر اسی کے جبڑے میں رہ جائیں گی۔ میں جانتا تھا کہ وہ مجھے ہلاک کرنے کے لیے پانی کے اندر لے جا رہا ہے، مگر فوراً ہی اسے سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آنا پڑے گا۔ اس لیے میں نے اپنا سانس روک لیا اور اپنے آپ کو مگرمچھ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔
یقین کیجیے کہ اگر مجھے سانس روکنے کی مشق نہ ہوتی، تو آج یہ واقعہ آپ کو سنانے کے لیے میرا وجود دنیا میں نہ ہوتا۔۔۔ مگرمچھ نے مجھے اندازً دو منٹ تک پانی کے اندر دبائے رکھا اور جب اس نے محسوس کیا کہ مجھ میں حرکت باقی نہیں رہی تو وہ اسی طرح مجھے منہ میں پکڑے ہوئے پانی کے اوپر جانے لگا اور جونہی اس نے اپنا سر باہر نکالا، میں نے پوری قوت سے جھٹکا دیا اور اس کے جبڑے کی گرفت سے آزاد ہو گیا۔ میری کمر کے ساتھ بندھی ہوئی چمڑے کی پیٹی میں لمبا شکاری چاقو موجود تھا۔ اس سے پیشتر کہ مگرمچھ مجھے دوبارہ اپنے شکنجے میں گرفتار کرے، مَیں نے ہاتھ بڑھا کر چاقو اس کی گردن کے نچلے حصّے میں گھونپ دیا۔ مگرمچھ کی گردن سے خون نکلنے لگا لیکن اس نے اس زخم کا کوئی اثر قبول نہ کیا اور ایک بار پھر غصّے سے بل کھا کر میری ٹانگیں اپنے جبڑے میں دبا لیں۔ درد کی شدت سے میں تقریباً بے ہوش ہو چکا تھا۔ تاہم اتنا احساس باقی تھا کہ مگرمچھ مجھے گھسیٹ کر تیزی سے پانی کے اندر تیر رہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد یہ احساس بھی جاتا رہا اور میں قطعی طور پر بے ہوش ہو گیا۔ آنکھ کھلی تو میں نے اپنے آپ کو ایک تاریک اور انتہائی بدبودار مقام پر پڑے پایا۔ میرے بدن کا جوڑ جوڑ دکھ رہا تھا۔ ہلنے جلنے کی سکت بالکل نہ تھی۔ چند لمحے تک میں وہیں پڑا سوچنے کی کوشش کرتا رہا کہ یہاں مَیں کیسے آیا اور یہ کون سی جگہ ہے۔ پھر یاد آیا کہ مجھے تو مگرمچھ گھسیٹ کر لایا تھا۔ ذہن کام کرنے لگا اور میں نے اپنے ہاتھوں کو حرکت دی، تو گہری کیچڑ کے اندر جسم دھنسنے لگا اور سڑے ہوئے گوشت کی بدبو ٹھنڈی ہوا کے ساتھ اور تیزی سے میرے نتھنوں میں گھسنے لگی۔ مجھے یہ خوف تھا کہ میں اس مقام پر قید ہو چکا ہوں جہاں مگرمچھ دن کے وقت آرام کرتا ہے اور اپنی شکار کی ہوئی مچھلیاں اور دوسرے جانور یہیں چھپاتا ہے تاکہ گوشت خوب سڑ جائے، تو وہ اسے ہڑپ کر جائے۔ مگرمچھ نے مجھے بھی مُردہ سمجھ کر یہاں لا ڈالا تھا اور مجھے اب موت کے اس گڑھے سے کسی نہ کسی طرح نکلنا تھا۔
یکایک میں نے اس تاریک گڑھے کے اوپر مگرمچھ کے خراٹوں کی آواز سُنی۔ یہ آواز سُنتے ہی میرا رہا سہا خون بھی خشک ہونے لگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مگرمچھ باہر موجود ہے اور اگر میں ذرا بھی حرکت کروں گا تو وہ جاگ اٹھے گا۔ مجھے اب چپ چاپ یہ مشاہدہ کرنا چاہیے کہ مگرمچھ کیا کرتا ہے۔ رہائی کی ایک ہی صورت ہے کہ اسے بھوک لگے اور وہ مچھلیاں ہڑپ کرنے دریا کے اندر چلا جائے، مجھے اس بدبو دار کیچڑ سے بھرے ہوئے تاریک غار میں پڑے پڑے آدھ گھنٹہ بیت گیا، لیکن محسوس ہوا جیسے میں صدیوں سے یہ عذاب جھیل رہا ہوں۔ میری دونوں ٹانگیں بُری طرح زخمی ہو چکی تھیں۔ مگرمچھ کے لمبے دانتوں نے میرے ٹخنوں اور پنڈلی کی ہڈیوں میں سوراخ کر دیے تھے اور میں انہیں ذرا بھی حرکت دیتا تو ناقابل برداشت درد کی ٹیسیں اٹھنے لگیں۔ یکایک اس گڑھے کے اندر دریا کا سرد پانی آہستہ آہستہ بھرنے لگا۔ اب تو میں سخت گھبرایا۔ میرے اندازے کے مطابق یہ قبر نما خوفناک گڑھا کم از کم سات فٹ گہرا تین چار فٹ چوڑا تھا۔ میں اپنے انجام سے گھبرا اٹھا۔ جب میری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہوئیں تو مجھے اس کے اندر بڑی بڑی ہڈیوں اور سڑے ہوئے گوشت کے ڈھیر دکھائی دیے۔ میں نے کان لگا کر مگرمچھ کے سانس لینے کی آواز سننا چاہا۔ مگر اندازہ ہوا کہ وہ بیدار ہو کر دریا کے اندر جا چکا ہے۔ پس میں نے اپنی تکلیف کو نظر انداز کیا اور کیچڑ کے اندر ہاتھوں سے ٹٹولتا ہوا اوپر چڑھنے لگا۔ میرے ہاتھ اور پیر بار بار پھسل جاتے اور میں دھڑام سے گڑھے کی تہہ میں جا گرتا۔ کچھ نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت میری جسمانی اور ذہنی کیفیت کا کیا عالم تھا۔ میرے کپڑے اور سارا جسم پانی اور انتہائی غلیظ کیچڑ میں لت پت تھا، کانوں کے اندر شائیں شائیں کی تیز آوازیں مسلسل گونج رہیں تھیں۔ سر چکرا رہا تھا اور پیروں کے اندر درد کی شدّت میں ہر لمحہ اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ وزنی کیچڑ میرے پاؤں میں اچھی طرح بھر چکی تھی۔ اس وجہ سے میرے لیے مزید اچھلنا اور گڑھے سے باہر نکلنے کی کوشش کرنا خاصا مشکل کام ہو گیا۔ یہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اس اچھل پھاند میں میرے بائیں بازو کی ہڈی بھی چٹخ گئی تھی۔
سورج طلوع ہونے تک میں گڑھے سے نکلنے کی برابر کوشش کرتا رہا۔ حتیٰ کہ میرا بدن تھک کر شَل ہو گیا۔ آہستہ آہستہ سورج کی روشنی اس اندھیرے گڑھے میں آنے لگی اور میں اچھی طرح دیکھنے کے قابل ہوا تو مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اس گڑھے کے ایک جانب تنگ سا راستہ ہے جو مگرمچھ ہی نے کھود کر بنایا تھا، کیونکہ وہاں بھی گوشت اور ہڈیوں کا بڑا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ میں اس ڈھیر پر چڑھ گیا اور ٹٹول کر راستہ تلاش کرنے لگا۔ آخر میرے ہاتھوں نے دریا کے پانی کی سطح کو چھو لیا اور اگلے ہی لمحے میں نے اپنے آپ کو دریا کے اس حصے میں پایا جہاں پانی گھٹنوں گھٹنوں تک اونچا تھا۔ دوسرے کنارے پر پہنچ کر ریت پر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ بعد میں ہنری نے مجے بتایا کہ میں پورا ایک دن اور ایک رات وہاں لاش کی طرح پڑا رہا ہوں۔ ہنری نے میری تلاش میں دریا کا دور دور تک چکر لگایا اور اتفاق دیکھیے کہ جب وہ تیسرے روز مُنہ اندھیرے اسی مگرمچھ کو مار کر واپس جا رہا تھا۔ اس نے کنارے پر کوئی کالی کالی شے پڑی دیکھی۔ شوقِ تجسّس میں جب وہ اس شے کو قریب سے دیکھنے کے لیے کشتی وہاں لایا تو یہ دیکھ کر اسے خوشی ہوئی کہ اس کا گم شدہ دوست وہاں زندگی اور موت کی درمیانی کڑیاں طے کر رہا تھا۔ اگر ہنری اس روز مجھے وہاں نہ پاتا تو میں یقیناً کسی اور مگرمچھ کے مُنہ کا نوالہ بن چکا ہوتا۔ یہ پہلا حادثہ تھا جو مجھے گوٹی مالا کے مشہور دریا موٹا گوا میں پیش آیا۔
تین ماہ بعد جب میں دوبارہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا، تو اس دوران میں وہ تمام روپیہ جو میں نے مگرمچھ کی کھالیں بیچ بیچ کر جمع کیا تھا، خرچ ہو چکا تھا اور میں پھر اپنی کشتی اور ہارپون لیے دریا کے کنارے کھڑا تھا اور اب میں نے پہلے سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ مگرمچھوں کو ہلاک کیا اور جلد ہی دریائے موٹاگوا کو ان آدم خور جانوروں سے پاک کر دیا۔ اس روپے سے میں نے دو طاقتور رائفلیں خریدیں اور ہارپون جیسا قدیم ہتھیار چھوڑ کر ان رائفلوں سے کام لینے لگا۔ میں نے اپنی پیشہ ور شکاری زندگی میں سات آٹھ سو مگرمچھ مارے اور اس لیے میرا نام مگرمچھ کے شکار کے لیے اپنے ہم پیشہ لوگوں میں بہت مشہور ہے۔ انہی دنوں شمالی رہوڈیشیا کے ایک گاؤں سے جس کا نام شی شونگو ہے اور یہ گاؤں، بیروٹ سی لینڈ کی سرحد پر واقع ہے۔ میرے دو پرانے دوستوں کا خط آیا جس میں لکھا تھا کہ تم گوٹی مالا کے مگرمچھوں کو مار کر شاید اپنے آپ کو بہت بڑا شکاری سمجھ رہے ہو ہم تو جب جانیں کہ یہاں آؤ اور ایک آدھ مگرمچھ مار کر دکھاؤ۔’
والٹ اور رابنسن دونوں بھائی سیر و شکار سے بڑی دلچسپی رکھتے تھے اور مجھے اعتراف کرنا چاہیے کہ جہاں تک مگرمچھ کے شکار کا تعلق ہے، ان دونوں سے زیادہ چابک دست اور اپنے فن میں ماہر شکاری میری نظر سے نہیں گزرے۔ یہ ظالم بغیر کسی ہتھیار کے کنارے پر لے آتے اس کام کے لیے صرف ایک موٹا رسّا انہیں درکار ہوتا، اور بس۔۔۔ ان کا اصل پیشہ مگرمچھوں، کچھوؤں، پرندوں اور وحشی جانوروں کو زندہ پکڑکر سرکسوں اور چڑیا گھروں کے لیے فروخت کرنا تھا۔ یہ دونوں شکاری مُلک مُلک کی سیّاحت کر چکے تھے اور اب شمالی رہوڈیشیا کا یہ دُور اُفتادہ گاؤں انہیں اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے مستقل طور پر وہیں ڈیرے ڈال دیے اور اپنی اپنی شادیاں بھی مقامی عورتوں سے رچا لیں۔
میرے پاس جب ان کا خط آیا، تو مجھے بے حد خوشی ہوئی اور پرانے دوستوں سے ملنے کی خواہش میرے دل میں شدت سے انگڑائیاں لینے لگی۔ میں نے ہنری سے کہا کہ چلو رہوڈیشیا چلتے ہیں، تو وہ کہنے لگا کہ کیا مجھے پاگل کتے نے کاٹا ہے جو میں اپنا گھر بار چھوڑ کر سینکڑوں میل دور دھکّے کھاتا پھروں۔ تمہیں تو اس دنیا میں رونے والا بھی کوئی نہیں۔ اس لیے تم شوق سے جا سکتے ہو۔ میں نے اپنا مختصر سامان باندھا اور رہوڈیشیا جانے والے جہاز پر سوار ہو گیا۔ جس روز میں شی شانگو پہنچا ہوں اسی روز دونوں بھائیوں نے ایک نئی کشتی مکمل کی تھی جس کی لمبائی 12 فٹ اور چوڑائی 4 فٹ کے قریب تھی اور اسے انہوں نے ایک نئے انداز سے بنایا تھا کہ دور سے یہ کشتی لکڑی کا ایک مربّع صندوق نظر آتی تھی۔ میں نے حیران ہو کر کہا، یہ تم نے کیسے بنائی ہے، کیا اس کے ذریعے مگرمچھ کا شکار کرو گے۔’
‘تم چپ چاپ دیکھتے جاؤ۔۔۔ جب یہ دریا میں چلے گی پھر اس کشتی کا فائدہ تمہیں معلوم ہوگا۔’
تین دن تک آرام کرنے اور سفر کی تھکن اُتارنے کے بعد والٹ اور رابنسن نے شکار پر جانے کا فیصلہ کیا انہوں نے مجھے بتایا کہ آج کل زندہ مگرمچھ سے زیادہ قیمتی مردہ مگرمچھ ہے، حال ہی میں مگرمچھ کی کھالیں خریدنے کے لیے برطانیہ سے ایک تاجر یہاں آیا ہے۔ اس نے مجھ سے کہا ہے کہ وہ تین شلنگ فی انچ کے حساب سے چھوٹے مگرمچھ کی کھالیں خریدنے کے لیے تیار ہے اور بیس فٹ لمبے مگرمچھ کی کھال 36 پونڈ میں خریدے گا۔ میرا خیال ہے کہ یہ خاصا معاوضہ ہے۔
‘بے شک۔۔۔ معاوضہ تو معقول ہے، لیکن یہ بتاؤ کہ یہاں بیس فٹ لمبے مگرمچھ بھی پائے جاتے ہیں، یا نہیں؟’
‘بے شمار۔۔۔‘ والٹ نے کہا، ‘لیکن ان کو مارنا اپنی جان ہتھیلی پر رکھنے کے مترادف ہے یہ کم بخت بہت ہوشیار ہوتے ہیں اور کنارے پر تو شاذ و نادر ہی آرام کرتے ہیں۔ ان کو دریا کی گہرائی کے اندر تلاش کر کے مارا جا سکتا ہے۔ بہرحال جو ہوگا دیکھا جائے گا۔ ہمیں کام شروع کر دینا چاہیے۔ آدھی رات کے بعد ہم دریا پر چلیں گے کیونکہ یہ وقت ہے جب اکثر مگرمچھ خطرے سے بے پروا ہو کر کناروں پر نیند کے مزے لوٹا کرتے ہیں۔ فیصلہ ہوا کہ میری آمد کی خوشی میں شکار کے لیے رائفلیں استعمال کی جائیں گی۔
ان بھائیوں کے چھوٹے سے خوب صورت مکان سے کوئی تین فرلانگ کے فاصلے پر دریائے شانگو بہتا تھا اور میں دیکھ چکا تھا کہ یہ دریا مگرمچھوں کی بہت بڑی پرورش گاہ ہے۔ اس دریا کا پاٹ کافی وسیع تھا اور اس کے اندر چھوٹے بڑے مگرمچھ مچھلیوں کی مانند تیرتے دکھائی دیتے تھے دوپہر کے وقت جب میں اور روبنسن دریا کی طرف گئے تو ایک درجن کے قریب مگرمچھ ریتلے کنارے پر بے حس و حرکت پڑے تھے۔ ہماری آہٹ پاتے ہی وہ بڑی پھرتی سے غڑاپ غڑاپ پانی میں کود گئے اور دریا کے درمیانی حصّے میں تیرنے لگے۔ روبنسن نے کندھے سے رائفل اتاری اور ان پر فائرنگ شروع کر دی۔ کئی گولیاں مگرمچھوں کو لگیں، لیکن بے سود۔۔۔ آخر ایک گولی مگرمچھ کے مختصر سے بھیجے کو پھاڑتی ہوئی گزر گئی۔ چند منٹ تک وہ دریا میں مچلتا رہا۔ آخر اس کی لاش سرد ہو کر سطح پر تڑپنے لگی اور اس سے پیشتر کہ ہم کنارے پر بندھی ہوئی چھ سات کشیتوں میں سے ایک کشتی پر سوار ہو کر مُردہ مگرمچھ کو گھسیٹ کر لاتے، چھ سات دوسرے مگرمچھ ہم سے پہلے وہاں پہنچ گئے اور لاش گھسیٹ کر پانی کی تہہ میں لے گئے۔ روبنسن طیش میں آ کر ان مگرمچھوں کو گالیاں دینے لگا اس نے مجھے بتایا کہ گزشتہ دو مہینوں میں تقریباً بیس مگرمچھ میں نے مارے، لیکن صرف پانچ مگرمچھوں کی لاشیں حاصل کر سکا۔ بقیہ پندرہ لاشیں دوسرے مگرمچھ ہڑپ کر گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان موذیوں کو زندہ پکڑنے ہی میں اپنا فائدہ سمجھتے ہیں۔ خدا نے ان دریائی جانوروں کو ایسی سخت جان عطا کی ہے کہ وہ آسانی سے نہیں مرتے۔ ایک مرتبہ میں نے کوئی اٹھارہ فٹ لمبا مگرمچھ دھوپ میں آرام کرتے ہوئے دیکھا۔ اس کی زرد کھال دھوپ میں چمک رہی تھی اور اس پر آنکھ نہیں ٹھہرتی تھی۔ میں نے بلا مبالغہ اس پر دس فائر کیے ہوں گے اور میرا کوئی نشانہ خطا نہیں گیا۔ لیکن خدا معلوم اس کی کھال فولاد کی بنی ہوئی تھی کہ دس گولیاں کھا کر بھی اس نے کوئی اثر نہ لیا، بلکہ تیزی سے رینگتا رہا اور دریا میں کُود گیا۔ مجھے یقین تھا کہ اِس قدر زخمی ہونے کے باوجود وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکے گا۔ پس میں چار گھنٹے تک اس کا انتظار کرتا رہا کہ اب اس کی لاش پانی کی سطح پر اُبھرے گی، لیکن دریا میں دور دور تک تلاش کرنے کے باوجود مجھے اس کا سراغ نہ ملا۔ ایک ہفتے بعد جب کہ وہ مگرمچھ میرے ذہن سے اتر چکا تھا اور میں ایک قوی الجثّہ کچھوے کو شکار کر کے کنارے پر گھسیٹ کر لا رہا تھا، میں نے دور پانی میں اس کا جبڑا سطح پر نمودار ہوتے اور پھر فوراً ہی پانی میں غائب ہوتے دیکھ لیا تھا۔ وہ یقیناً میرا تعاقب کر رہا تھا۔ اتفاق کی بات کہ میرے پاس ایک ہارپون کے سوا اور کوئی ہتھیار نہ تھا۔ اپنی بے بسی پر اس وقت مجھے سخت افسوس ہوا اگرچہ یہ ہارپون ہلکا تھا، لیکن بدقسمتی سے اس کی رسی بھی زیادہ دراز نہ تھی، ورنہ میں اسے مگرمچھ پر ضرور پھینک دیتا۔ میں نے سوچا کہ مگرمچھ کو فریب دینا چاہیے۔ میں جلدی جلدی کنارے پر پہنچا اور کچھوے کی لاش بے پروائی سے ذرا دور چھوڑ کر اس سے تیس گز کے فاصلے پر ریت کے ایک ڈھیر کے پیچھے چھپ گیا۔ ایک گھنٹہ انتظار کے بعد مگرمچھ پانی کی سطح پر ابھرا اور آہستہ آہستہ کنارے پر آیا اور لمبی تھوتھنی پانی سے باہر نکال کر ریت پر رکھ دی اور زرد زرد آنکھوں سے کچھوے کی لاش کو دیکھنے لگا۔ پھر وہ چند فٹ رینگتا ہوا باہر آیا اور رک گیا۔ میں سانس روکے ہوئے یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ مگرمچھ کو ریت پر گھسٹنے میں خاصی قوت صرف کرنی پڑی ہے، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ گولیاں کھانے کے باعث جگہ جگہ سے اس کا جسم زخمی ہو چکا تھا اور خون کی اچھی خاصی مقدار خارج ہو چکی تھی۔ قصّہ مختصر پکھوے سے چند فٹ کے فاصلے پر آ کر وہ رکا۔ لیکن پھر اپنے پنجوں کے بل گھوم کر اس نے دریا کی طرف اس انداز میں دیکھا کہ اتنی دور آ کر اس نے غلطی کی ہے اور بلاشبہ اس غلطی نے اس کی جان گنوائی۔ غالباً وہ بہت بھوکا تھا اور کچھوے کا گوشت ہڑپ کرنے کے لالچ میں پانی سے اتنی دور نکل آیا۔ اس نے جلدی سے اپنے جبڑے میں کچھوے کو دبایا اور دریا کی طرف پلٹا۔ بس اسی لمحے میں نے اپنا ہارپون بلند کیا اور پوری قوّت سے مگرمچھ کی طرف پھینکا۔ ہارپون سنسناتا ہوا گیا اور اس کا نُکیلا سرا مگرمچھ کی بائیں پسلی کے اندر پیوست ہو گیا۔ مگرمچھ نے بل کھایا اور مردہ کچھوا اس کے جبڑے سے نکل کر ریت پر گر گیا۔ اب اس کے منہ سے سیٹی کی مانند تیز آوازیں بلند ہونے لگیں اور اس کے زخم سے خون اُبلنے لگا۔ لیکن اس کے باوجود دریا میں کود گیا۔ ہارپون سے بندھی ہوئی رسّی کا ایک سرا میرے ہاتھ میں تھا۔ جب مگرمچھ دریا میں اترا، تو جھٹکے سے رسّی کا یہ سرا میرے ہاتھ سے نکل گیا۔ میں نے دوڑ کر رسّی کو پکڑنا چاہا مگر اتنی دیر میں مگرمچھ پانی کی تہہ میں اتر چکا تھا۔ میں نے بھی سوچے سمجھے بغیر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ مگرمچھ سے زیادہ میرے لیے وہ ہارپون قیمتی تھا۔ جسے تیار کرنے میں کافی محنت اور وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔
جب میں دریا کودا تو مگرمچھ آہستہ آہستہ پانی کی تہہ سے اوپر آ رہا تھا میں نے خیال کیا کہ وہ مر چکا ہے، کیونکہ اس میں حرکت کے آثار قطعاً نہ تھے۔ ہارپون اب بھی اس کی پسلی میں گڑا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد بے جان مگرمچھ پانی کی سطح پر تیرنے لگا۔ میں نے بے دھڑک اس کی دم پکڑ لی۔ مگر دُم پکڑتے ہی جیسے میرے بدن میں خون جمنے لگا۔ کیونکہ بجلی کی مانند مگرمچھ نے بل کھایا اور میرا بایاں ہاتھ جبڑے میں دبا لیا۔ اس کا سارا جسم تھرتھرا رہا تھا اور اس میں ابھی جان باقی تھی میں نے دائیں ہاتھ سے اس کے جبڑے کے اُوپر کا حصّہ پکڑ لیا اور اسے اوپر اٹھانے کی کوشش کرنے لگا، لیکن کہاں ایک قوی ہیکل مگرمچھ اور کہاں ایک معمولی قوّت رکھنے والا انسان۔۔۔ مگرمچھ مجھے لے کر پھر دریا کے اندر جانے لگا۔ میں نے اپنے آپ کو مگرمچھ کے منہ سے آزاد کرانے کی سر توڑ کوشش کی مگر جلد ہی دم ٹوٹنے لگا اور مجھے اپنی موت کا پورا یقین ہو گیا۔ اس بے بسی کے عالم میں اتفاق سے ہارپون پر میرا ہاتھ جا پڑا۔ میں نے ہارپون اس کے جسم سے کھینچ لیا۔ مگرمچھ ایک بار پھر پانی کے اندر تڑپا اور جونہی اس نے جبڑا کھولا، میں اس کی گرفت سے آزاد ہو گیا۔ میں سانس لینے کے لیے پانی کی سطح پر آیا تو مگرمچھ مجھے پکڑنے کے لیے لپکا۔ مگر اب وہ بھی سست ہو چکا تھا۔ میں نے فوراً ہی اس کے جبڑے کے اندر ہارپون اتار دیا اور رسی کو مضبوطی سے پکڑ کر کنارے کی جانب تیرنے لگا۔ پندرہ منٹ بعد مُردہ مگرمچھ کنارے پر پڑا تھا اور میں جان بچ جانے پر بار بار خدا کا شکر ادا کر رہا تھا۔ جب میں نے اٹھارہ فٹ لمبے مگرمچھ کی کھال اتاری تو اس پر ہارپون کی ضربوں اور متعدّد گولیوں کے نشان موجود تھے۔ اس لیے یہ کھال ٹکڑے ٹکڑے کر کے فروخت کی۔
رات اندھیری تھی ہوا شام ہی سے تیز چل رہی تھی۔ دریا کی جانب سے ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکے جب آتے، تو میرے بدن پر کپکپی سی طاری ہو جاتی۔ لیکن رابنسن اور والٹ رات کے کھانے سے فارغ ہو کر شکار پر جانے کی تیاریوں میں اطمینان سے مصروف تھے۔ انہوں نے اپنی مدد کے لیے تین مقامی ملّاحوں کو بلوا لیا تھا۔ رائفلوں کو صاف کیا جا چکا تھا۔ ہارپون کی جانچ کی جا چکی تھی، شکاری چاقو کمر سے باندھ لیے گئے تھے اور برقی ٹارچیں احتیاط سے کوٹ کی جیبوں میں رکھ لی گئی تھیں۔ صندوق نما کشتی آہستہ آہستہ دریا کی لہروں پر اچھلتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔ چونکہ ہم بہاؤ کے الٹے رُخ جانا چاہتے تھے، اس لیے ملاحوں کو خاصا زور لگانا پڑ رہا تھا۔ جب ہم دریا میں کافی دور نکل آئے تو رابنسن اور والٹ نے اپنی اپنی ٹارچیں روشن کیں اور پانی کی سطح دیکھنے لگے۔ خدا کی پناہ۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ بلامبالغہ سینکڑوں ہی سُرخ سُرخ چمکتی ہوئی آنکھیں ہمیں گھور رہی تھیں۔ دریا کا یہ حصّہ مگرمچھوں سے پٹا پڑا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی وہ سب پانی کے اندر چلے گئے اور میرے دوستوں نے ملّاحوں کو حکم دیا کشتی اور تیز کر دو تاکہ یہ مگرمچھ کناروں کی طرف چلے جائیں۔ پھر ہم آسانی سے پانچ دس مگرمچھ مار لیں گے۔ کشتی اور تیز ہو گئی۔ ہوا کا طوفان آہستہ آہستہ شدّت اختیار کرتا جا رہا تھا اور دریا میں اونچی اونچی لہریں اٹھنے لگی تھیں جو ہماری کشتی سے بار بار ٹکراتیں اور اس کا رخ پھیر دیتیں۔ اب میں سمجھا کہ اگر یہ کشتی اس خاص طریقے سے نہ بنائی جاتی تو اس میں یقیناً پانی بھر جاتا۔۔۔ والٹ نے فخریہ انداز میں میری طرف دیکھا اور کہا! آج دریا زوروں پر ہے لیکن ہم بھی پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ اس طوفانی موسم میں بہت کم شکاری یہاں آنے کی جرأت کریں گے۔ اس لیے ہمیں اس سنہری موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اتنے میں رابنسن نے اپنی ٹارچ روشن کی۔ تیز سفید روشنی کی ایک لمبی لکیر دریا کی لہروں سے گزرتی ہوئی کنارے تک پہنچ گئی اور وہ ایک دم چلّایا، ‘وہ دیکھو کتنے مگرمچھ کنارے پر موجود ہیں۔ کشتی فوراً ادھر لے چلو۔’ اس نے جوشِ اضطراب میں مگرمچھوں کو گننے کی کوشش کی۔ ‘ایک۔۔۔ دو۔۔۔ تین۔۔۔ چار۔۔۔ پانچ۔۔۔ چھ۔۔۔ سات۔۔۔ اور وہ آٹھ۔۔۔’ وہ بچّوں کی طرح کشتی کے اندر تالیاں بجا کر اچھلنے لگا۔ ‘یہ سب ہمارے مہمان دوست کی برکت ہے’۔
وہ دونوں تو خوشی سے پھولے نہ سماتے تھے اور میرا حال یہ تھا کہ بدن سے پسینہ چھوٹ رہا تھا۔ بار بار یہ خدشہ میرے سامنے آتا کہ اگر اس دریا میں ہم میں سے کوئی ایک شخص بھی گر جائے تو اس کی لاش تو درکنار، ہڈیوں کا بھی پتہ نہ چلے گا خدا کی پناہ۔۔۔ سارا دریا مگرمچھوں سے بھرا ہوا تھا اور میری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ دریا میں گرنے کے بعد کوئی شخص کیسے زندہ رہ سکتا ہے۔
جب کشتی کنارے سے تھوڑے فاصلے پر رہ گئی تو ملّاحوں نے چپّو چلانے بند کر دیے تاکہ ان کی آہٹ سے مگرمچھ خبردار نہ ہو جائیں۔ میں اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا تھا اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔ آخر ایک جگہ کشتی رُک گئی اور ہم تینوں گھٹنے گھٹنے پانی میں اتر گئے اور کنارے پر جا پہنچے۔ کشتی سے اترتے وقت والٹ نے ملّاحوں کے کان میں کہا کہ وہ کشتی کو ذرا دور ہٹا کر کنارے پر احتیاط سے باندھ دیں۔ تاکہ پانی کے تیز بہاؤ میں بھٹک نہ جائے۔ اس کے بعد ہم گیلی گیلی ریت پر پیٹ کے بَل لیٹ گئے۔ چند منٹ بعد جب میری آنکھیں اندھیرے میں کام کرنے لگیں، تو یہ دیکھ کر روح فنا ہو گئی کہ مجھ سے صرف بیس فٹ کے فاصلے پر پانچ مگرمچھ موجود ہیں، جن کی کھلی تھوتھنیوں میں سے لمبے لمبے سفید دانت چمک رہے تھے۔ ان کے جسم رات کی تاریکی اس طرح پوشیدہ تھے کہ نظر باندھ کر اگر نہ دیکھا جائے، تو کچھ پتہ نہیں چل سکتا تھا کہ یہ مگرمچھ ہیں یا درختوں کے کٹے ہوئے تنے پڑے ہیں۔ پہلے ان کی تعداد آٹھ تھی، لیکن ہمارے پہنچنے سے قبل تین مگرمچھ پانی میں اتر چکے تھے۔۔۔ یکایک والٹ اور رابنسن نے اپنی ٹارچیں روشن کر دیں اور مگرمچھوں نے فوراً خبردار ہو کر اپنی سُرخ سُرخ آنکھیں کھول دیں۔ ایک لمحے کے لیے میرا دل زور سے دھڑکا، کیونکہ روشنی میں وہ اپنی جسامت سے کئی گنا بڑے دکھائی دینے لگے اور جونہی انہوں نے بیک وقت پانی کی طرف رینگنے کے لیے حرکت کی ہماری رائفلیں شعلے اُگلنے لگیں۔ میں نے ٹارچوں کی تیز روشنی میں دیکھا کہ ایک گولی مگرمچھ کی آنکھوں کے عین درمیان میں لگی اور وہیں ڈھیر ہو گیا۔ خون کی ایک ابلتی ہوئی اس کی پیشانی سے برآمد ہو رہی تھی۔ باقی چار مگرمچھ گولیوں کی بوچھاڑ میں سے صاف نکل کر پانی میں کود گئے۔
والٹ کے حلق سے فاتحانہ نعرہ بلند ہوا اور وہ تڑپتے ہوئے مگرمچھ کی طرف بھاگا۔ ہم نے بھی اس کی تقلید کی۔ اگر ایک منٹ کی بھی تاخیر ہوتی تو زخمی مگرمچھ پانی میں کود چکا تھا اس موقعے پر ہارپون نے خوب کام دیا۔ رابنسن نے رائفل پھینک، مگرمچھ کی دم پکڑ لی اور والٹ نے اپنا ہارپون اس کے کھلے ہوئے جبڑے کے اندر اتار دیا۔ چند ثانیے بعد مگرمچھ نے دم توڑ دیا۔ ہم نے اس کی لاش کنارے سے گھسیٹ کر تقریباً پندرہ فٹ پر ڈال دی اور علیحدہ علیحدہ ہو کر ریت پر لیٹ گئے۔ ہمیں معلوم تھا کہ گھنٹے آدھے گھنٹے بعد اس مگرمچھ کی بُو پا کر دوسرے مگرمچھ کنارے پر ضرور آئیں گے۔ اب انتظار کا ایک ایک لمحہ مجھے کاٹنا دوبھر ہو گیا تھا۔ بیس منٹ بعد میں نے اکتا کر اپنی ٹارچ روشن کی۔ کیا دیکھتا کہ کنارے پر بہت سی سُرخ سُرخ آنکھیں پانی کے باہر جھانک رہی ہیں۔ میں نے فوراً ٹارچ بُجھا دی۔ اتنے میں یوں دکھائی دیا کہ ایک بڑا مگرمچھ آہستہ آہستہ پانی میں سے نکل کر کنارے پر آنے لگا۔ وہ چند فٹ رینگتا اور پھر دم سادھ کر پڑ جاتا۔ میں نے گردن موڑ کر رابنسن اور والٹ کی جانب دیکھا، وہ بے حس و حرکت اپنی جگہ پڑے تھے۔ جب یہ مگرمچھ اتنا قریب آ گیا کہ اس کے جسم سے اٹھنے والی بدبو میرے نتھنوں میں گھسنے لگی تو میں نے ٹارچ روشن کی، اس لمحے بجلی کی مانند مگرمچھ نے بل کھایا اور پانی کی طرف لپکا لیکن میں بھی اناڑی نہ تھا۔ میں نے رائفل سے بیک وقت دو فائر کیے اور دونوں گولیاں مگرمچھ کی کھال میں پیوست ہو گئیں۔ اُدھر سے والٹ اور رابنسن نے تاک کر ہارپون پھینکے اور دوسرا مگرمچھ بھی آن واحد میں ڈھیر ہو چکا تھا۔ اس فوری کامیابی پر ہمیں جو مسّرت ہوئی، وہ بیان سے باہر ہے۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر ہم دو بڑے مگرمچھ مارچکے تھے۔ ملّاحوں نے اِن دونوں کو رسّوں سے جکڑا اور کشتی کے ساتھ باندھ دیا۔ ان دونوں کی لمبائی پندرہ فٹ سے زیادہ تھی اور دونوں کھالوں کی قیمت پچاس پونڈ۔۔۔
اس رات پو پھٹنے تک ہم نے تین مگرمچھ اور مارے اور جب واپسی کی تیاریاں کر رہے تھے، تو رات بھر جاگنے اور مگرمچھوں سے جنگ کرنے کے باعث ہمارے بدن تھک کر چُور ہو چکے تھے کشتی کے ساتھ پانچوں مگرمچھوں کی لاشیں بندھی ہوئیں تھیں۔ اور کشتی کو پانی میں دھکیلنے کے لیے ہم سب پوری سے چپّو چلا رہے تھے۔ یکایک ایک ملّاح نے پکار کر کہا: ‘کشتی روکو۔۔۔ کشتی روکو۔۔۔ رسّا ٹوٹ گیا ہے’۔
پانچ وزنی لاشیں تین رسّوں سے بندھی ہوئی تھیں جن میں سے درمیانی رسّا ٹوٹ گیا تھا۔ ابھی ہم کشتی کو سنبھالنے بھی نہ پائے تھے کہ ایک بڑے بھنور میں کشتی پھنس کر چکر کھانے لگی۔ مارے دہشت کے ہم سب کے چہرے سپید پڑ گئے۔ دریا کے یہ بھنور کتنے مہلک ہوتے ہیں، ان کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہیں کبھی ان میں گھر کر قسمت کی یاوری سے نکل جانے کا اتفاق ہوا ہو۔ یہ بھنور دریا کے مشرقی حِصّے میں صبح کے وقت کثرت سے پڑتے تھے اور شکار مارنے کی خوشی میں میرے ساتھیوں کو ان کا خیال رہا اور نہ ملّاحوں کو۔ رسّا ٹوٹنے کی اصل وجہ بھی یہی بھنور تھا۔ جس کے باعث کشتی کو ایک دم جھٹکا لگا اور رسّا ٹوٹ گیا۔ اس رسّے سے دو مگرمچھ بندھے ہوئے تھے۔ اگر کشتی بھنور میں گھری ہوئی نہ ہوتی، تو ہم یقیناً انہیں ضائع نہ ہونے دیتے، مگر اب تو خود ہمیں جانوں کے لالے پڑ رہے تھے۔ کشتی بچانے کی واحد صورت یہ تھی کہ اسے ہر ممکن ذریعے سے گردش میں نہ آنے دیا جائے اور اس کے پیچھے جو وزن بندھا ہوا ہے اسے ضائع کر دیا جائے۔ فوراً باقی دونوں رسّے بھی کاٹ دیے گئے اور ہم نے کشتی کے ایک جانب اپنے جسموں کا پورا وزن ڈال دیا، تاکہ پانی کا تیز بہاؤ کم سے کم اثرانداز ہو۔۔۔ ابھی ہم اسی تگ و دو میں تھے کہ دریا میں سینکڑوں مگرمچھوں نے ہمارا تعاقب شروع کر دیا۔ وہ کشتی کے چاروں طرف جمع ہونے لگے۔ وہ مُردہ مگرمچھوں کو حاصل کرنے کے لیے آپس میں چھینا جھپٹی کرنے لگے، لیکن بھنور کے قریب آنے کی کسی نے جرأت نہ کی۔ والٹ اور رابنسن نے رائفلوں سے فائر کر کے انہیں خوف زدہ کر دیا اور وہ دُور دُور ہٹ گئے۔ اتنے میں دریا کے اندر ایک طاقتور لہر اٹھی اور کشتی سے ٹکرائی، سنبھلنے کے باوجود ملّاحوں میں سے ایک شخص اچھل کر دریا میں جا پڑا۔ اس کے ساتھی چلّانے لگے۔ گرنے والا ملّاح بے بسی سے ہاتھ پاؤں مارنے لگا۔ لیکن پانی اسے ہم سے دور لے گیا اور ہم نے صرف یہ دیکھا کہ مگرمچھوں نے آناً فاناً اس کی تکّا بوٹی کر ڈالی۔ یہ ایسا ہولناک منظر تھا جس نے میرے رونگٹے کھڑے کر دیے اور میں دل ہی دل میں خدا سے اپنی جان کی سلامتی کی دعا مانگنے لگا۔ اپنے ساتھی کی موت کا اثر دونوں ملّاحوں پر ایسا ہوا کہ وہ قطعی بد حواس ہو گئے اور ہمت ہار دی۔ خود رابنسن اور والٹ کی حالت غیر ہو چکی تھی۔ اب میں نے ہارپون سنبھالا اور مگرمچھوں پر اندھا دھند وار کرنے لگا۔ مگرمچھ سمٹ کر کشتی کے بائیں جانب آ گئے اور انہوں نے اتنی جرأت کی کہ جبڑے کھول کھول کر ہمیں پکڑنے کے لیے اچھلنے لگے۔ والٹ اور رابنسن کشتی سنبھالنے کی فکر میں سب کچھ بھولے ہوئے تھے اور گرداب سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم پر ایک ایک لمحہ قیامت بن کر گزر رہا تھا۔ خدا خدا کر کے کشتی اس گرداب سے نکلی اور پانی کے بہاؤ پر تیرنے لگی۔ اس حادثے نے ہمارے ذہن ماؤف کر دیے تھے۔ جب ہم کنارے پر پہنچے تو آسمان کے مشرقی کنارے سے سورج طلوع ہو رہا تھا۔
دریائے شانگو کے مگرمچھوں کے اپنے پانچ ساتھیوں کی جان کا بدلہ آخر ہم سے لے ہی لیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: