Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 8

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 8

–**–**–

جہور کا آدم خور
1926ء کا موسمِ بہار میں نے سنگاپور میں گزارا۔ کیا بارونق اور خوبصورت شہر ہے۔ میرا دل چاہا کہ عمر کا بقیہ حصہ اسی حسین شہر میں بسر کروں، مگر ایسا نہیں کر سکتا تھا۔ پیٹ کے دوزخ کی آگ بجھانے کے لیے ادھر ادھر مارا مارا پھرنا پڑتا ہے۔ چار دن بھی قرار سے بیٹھنے کا موقع نصیب نہیں ہوتا۔ بعض اوقات اپنی حالت پر غور کرتا ہوں، تو ہنسی آتی ہے اور آسمان کی ستم ظریفی پر کبھی خون کھول جاتا ہے۔۔۔ کیا کروں، مجبور ہوں۔ درندوں، پرندوں اور آبی جانوروں کو پکڑنے میں یہ خاکسار شیطان کی طرح مشہور ہے اور کیوں نہ ہو؟ ہر چڑیا گھر اور سرکس میں میرے پکڑے ہوئے جانور موجود ہیں۔ شیر، چیتے، مگرمچھ، ہاتھی، گینڈے، بن مانس، بندر، طوطے، قمریاں، مور، اُودبلاؤ، ریچھ، جنگلی بلّیاں، بھیڑیے، تیندوے، مچھلیاں، عقاب، اژدہے، سانپ، ملک ملک کے عجیب و غریب حشرات الارض اور خدا جانے کیا الا بلا۔ ان جانوروں کو پکڑنے کے لیے میں ایسی ایسی خطرناک جگہوں پر گیا ہوں کہ آدمی کا پتّہ پانی ہو جائے، موت کے جبڑوں سے کتنی بار جان بچا کر نکلا، اس کا تو شمار ہی کیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ آپ کی دعا سے بڑی ہی سخت جان پائی ہے۔ جاوا، سماٹرا، بورنیو، ہندوستان، برما، افریقہ، امریکہ اور آسٹریلیا کے جنگلوں کا چپہ چپہ میرا دیکھا بھالا ہے۔
ان دنوں برما جانے کا مقصد صرف چند سیاہ چیتے اور کچھ بندر پکڑنا تھا، اپنے وسیع تجربے کی بدولت میں جلد ہی یہ جانور حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اور اب میں سنگاپور کے موسم بہار کا لطف اٹھانے کے بعد بحری جہاز سے سان فرانسسکو روانہ ہونے کا ارادہ رکھتا تھا۔ کیونکہ یہ جانور وہاں کے چڑیا گھر کے لیے لے جانے تھے۔ پینتیس چالیس دن کے اس خطرناک بحری سفر میں میرے لیے سب سے زیادہ جو چیز پریشان کن تھی، وہ ان جانوروں کے پنجرے تھے۔ جی ہاں۔ لکڑی، لوہے اور ٹین کی چادروں کے بنے ہوئے پنجرے، میں اچھی طرح اطمینان کر لینا چاہتا تھا کہ سفر کے دوران میں جہاز کے ہچکولوں سے کوئی پنجرہ ٹوٹ تو نہیں جائے گا۔ ایک مرتبہ ذرا سی بے احتیاطی کے باعث میں مرتے مرتے بچا تھا۔ قصہ یہ ہوا کہ کانگو کے جنگلوں سے میں نے ایک جوڑا بن مانسوں کا پکڑا تھا اور میں اس جوڑے کو لکڑی کے ایک بہت مضبوط پنجرے میں بند کر کے لندن لے جا رہا تھا۔ ایک رات سمندر میں زبردست طوفان آیا، جہاز میں رکھے ہوئے جانوروں کے پنجرے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے اور اسی اثناء میں بن مانسوں کے پنجرے کی ایک دیوار چٹخ کر ٹوٹ گئی۔ بس پھر کیا تھا! دونوں قوی ہیکل بن مانس آزاد ہو گئے۔ اتفاق دیکھیے کہ مجھے آخر وقت تک پتہ نہ چلا کہ وہ آزاد ہو چکے ہیں۔ میں جب پو پھٹے معائنے کے لیے اس وسیع کمرے میں گیا جہاں پنجرے رکھے تھے تو دروازہ کھولتے ہی دونوں بن مانس اچھل کر اپنی جگہ سے اٹھے اور میری جانب لپکے۔ میں اگر اپنے حواس برقرار نہ رکھتا، تو وہ دونوں آناً فاناً مجھے دبوچ کر مار ڈالتے، پنجروں کی اوٹ لیتا ہوا کھلے دروازے سے نکل گیا۔ اس طرح ایک بار ایک بڑا چیتا پنجرے سے آزاد ہو گیا تھا۔ لوہے کی سلاخیں کچھ ڈھیلی تھیں، چیتے نے زور لگایا اور سلاخیں علیحدہ کر کے باہر نکل آیا۔ وہ پہلے بندروں کے پنجروں کی طرف گیا اور پنجے مار مار کر انہیں زخمی کر دیا۔ بندروں کی چیخیں سن کر میرے ساتھی وہاں دوڑتے ہوئے گئے۔ انہوں نے چیتے کی غُراہٹین سنیں۔ میں نے دو گھنٹے کی کوشش کے بعد چیتے کو بہلا کر ایک دوسرے پنجرے میں بند کیا۔
دراصل ان درندوں کے لیے پنجرے بنانا بھی ایک آرٹ ہے جو ہر بڑھئی کے بس کی بات نہیں۔ بڑی تلاش کے بعد مجھے سنگاپور ہی میں ایک ‘فن کار’ چینی بڑھئی مل گیا جس کا نام ہن مونگ تھا۔ میری اور اس کی رفاقت سالہا سال تک رہی۔ اسے بھی جانوروں سے دلچسپی تھی اور آدمی سیر و سیاحت کا بڑا شائق تھا۔ نئے نئے ملک دیکھنے کے جنون میں وہ میرے ساتھ ہو لیا۔ اس کے پاس گنتی کے چند اوزار تھے لیکن ان کی مدد سے وہ ایسے عمدہ اور مضبوط پنجرے بناتا تھا کہ اس کی کاریگری پر مجھے حیرت ہوتی تھی۔ ہن مونگ بڑا محنتی اور ہوشیار آدمی تھا۔ اس نے مجھے کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔
سفر سے چند روز قبل کا ذکر ہے، میں سنگاپور کے ہوٹل ریفلز کے ایک آرام دہ کمرے میں بیٹھا تھا کہ یکایک ہن مونگ وہاں آیا۔ اس کا چہر شدّتِ جذبات سے تمتما رہا تھا۔ اس نے آتے ہی کہا۔ ‘جناب، جلدی چلیے۔ سلطان جہور آپ سے ٹیلی فون پر کوئی بات کرنا چاہتے ہیں۔’
میں حیرت سے اس کا منہ تکنے لگا۔ سلطان جہور میرا پرانا دوست تھا، اور میں شکار کی کئی مہمات میں اس کے ساتھ جا چکا تھا لیکن اتنے سویرے وہ کس مقصد کے لیے مجھے فون کر رہا تھا؟ ضرور کوئی خاص بات ہے۔ یہ سوچ کر میں سیڑھیاں اُتر کر نیچے کمرے میں گیا جہاں ٹیلی فون رکھا تھا۔ میں نے ریسیور کان سے لگایا:
‘ہیلو، میں فرینک بول رہا ہوں۔’
‘بھئی میں نے تمہیں بے وقت تکلیف دی۔’ اُدھر سے سلطان جہور کی مدھم آواز میرے کان میں آئی۔ ‘میں سوچ رہا تھا کہ اگر تم سفر پر روانہ ہو گئے، تو بہت بُری بات ہوگی۔ قصّہ یہ ہے کہ ایک آدم خور شیر نے بڑی تباہی پھیلائی ہے۔ کیا تم اسے زندہ پکڑ سکتے ہو؟ کل اس آدم خور نے جہور سے شمال کی جانب کوئی پچّیس میل دور ربڑ کے درختوں کے جنگل میں ایک قلی کو ہڑپ کر لیا ہے۔ وہاں سینکڑوں مزدور کام پر لگے ہوئے ہیں، کیونکہ آج کل ربڑ کی پیداوار کا موسم ہے۔ لیکن اس آدم خور کی وجہ سے ان سب میں دہشت پھیل گئی ہے اور وہ کام کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ ایک فوجی افسر اور آٹھ دس سپاہیوں کو وہاں بھیج دوں تاکہ اس آدم خور کا قصہ پاک ہو جائے۔ پھر مجھے تمہارا خیال آیا۔ اگر تم اس کو زندہ پکڑ لو تو تمہیں کوئی بھی چڑیا گھر اچھی خاصی رقم دے سکتا ہے۔ بولو کیا ارادہ ہے؟’
سلطان جہور نے ایک سانس میں یہ ساری باتیں کہہ ڈالیں۔ میں نے ایک لمحے کے لیے اس صورت حال پر غور کیا، معاملہ بے ڈھب تھا۔ میں نے بہت سے شیروں اور چیتوں کو گرفتار کیا تھا۔ لیکن آدم خور سے آمنا سامنا کرنے کی نوبت کبھی آئی نہ تھی۔ سلطان جہور نے شاید میری خاموشی سے اندازہ لگا لیا کہ میں اس مسئلے میں متذبذب ہوں۔ وہ فوراً بولا، ‘دیکھو دوست، میں تم پر زور نہیں دے سکتا کہ تم ضرور ہی اس آدم خور کو زندہ پکڑو۔ اسے ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ مزدوروں میں پھیلا ہوا خوف و ہراس دور ہو جائے۔ اگر تم رضا مند ہو تو میں سپاہیوں کو تمہاری کمان میں دے سکتا ہوں۔’
‘ہز ہائی نس، میں آپ کی اس توجہ کا شکر گزار ہوں۔’ میں نے جواب دیا۔ ‘اگرچہ اس سے پہلے آدم خور شیر کو زندہ پکڑنے کا اتفاق نہیں ہوا، تاہم میں یہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔ آپ کی تجویز منظور ہے۔’
‘خوب، خوب، مجھے اب اطمینان ہوا۔ بھئی بات یہ ہے کہ میرے سپاہی اور دوسرے لوگ شیر وغیرہ کےمعاملے میں قطعی اناڑی ہیں۔ مجھے احساس تھا کہ یہ لوگ اسے مارنے میں آسانی سے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اب تم فوراً میرے قلعے میں آ کر مجھ سے ملو، تفصیلات تمہیں یہیں معلوم ہو جائیں گی۔’ یہ کہہ کر سلطان نے فون بند کر دیا۔
اپنے کمرے میں آ کر میں نے ہن مونگ کو بتایا کہ سلطان نے فون پر کیا کہا ہے، تو اس کا چہرہ دہشت سے سپید پڑ گیا۔ وہ دیر تک چینی زبان میں کچھ کہتا رہا، کیونکہ وہ انگریزی روانی سے نہیں بول سکتا تھا۔ اسی روز دوپہر کو ریاست جہور کے عظیم الشان قلعے میں یہاں کے مسلمان بادشاہ سے میری ملاقات ہوئی۔ یہ قلعہ ریاست کے فوجی ہیڈ کوارٹر حیثیت سے بھی استعمال ہوتا ہے۔ سلطان نے میرا تعارف اپنی فوج کے ایک میجر سے کرایا جو اس مہم میں میرا مددگار بننے والا تھا۔ وہ پستہ قد، لیکن گٹھے ہوئے جسم کا مالک تھا۔ پہلی نظر میں وہ مجھے ایک اچھا اور ملنسار آدمی معلوم ہوا۔ وہ وردی کی بجائے انگریزی لباس پہنے ہوئے تھا۔ جس کی اچھی تراش خراش سے اندازہ ہوتا تھا کہ لباس کے معاملے میں یہ شخص اچھا ذوق رکھتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں اعشاریہ 303 کی شاٹ گن تھی۔ سلطان نے مجھے بتایا کہ میجر اسی گن سے کئی شیر پہلے مار چکا ہے۔ میں نے اس کے بعد دوسرے سپاہیوں کو دیکھا وہ سب خاکی وردی پہنے ہوئے تھے۔ اور کافی چاق و چوبند دکھائی دیتے تھے۔ انہوں نے سروں پر ملایا کی جانی پہنچانی نشانی سیاہ ٹوپیاں پہن رکھی تھیں۔
میجر نے مجھے بتایا کہ موٹر تیار ہے، اس لیے ہمیں فوراً موقعۂ واردات پر پہنچنا چاہیے۔ میری ہدایت کے مطابق سلطان نے حکم جاری کر دیا تھا کہ جس قلی کو شیر نے ہلاک کیا ہے، اس کی لاش جس جگہ پڑی ہے، وہیں رہنے دی جائے اور کوئی شخص اسے وہاں سے ہٹانے کی کوشش نہ کرے۔ جہور سے ربڑ کے اس وسیع جنگل تک نہایت عمدہ اور پختہ سڑک بنی ہوئی ہے ہم جلد ہی وہاں پہنچ گئے۔ ہمارے آنے کی خبر سن کر بہت سے مزدور وہاں جمع ہو گئے۔ ان سب کے چہرے اداس تھے اور وہ خوف زدہ نظروں سے جنگل کی طرف بار بار دیکھتے تھے۔
قُلی کی لاش مجھے دکھائی گئی۔ شیر نے اس کی ایک ٹانگ اور بایاں شانہ چبا لیا تھا۔ گردن اور سینے پر بھی گہرے کھاؤ تھے۔ اس قلی پر شیر نے اس وقت حملہ کیا جب وہ ایک درخت سے ربڑ نکال رہا تھا۔ اس کا پیالہ اور ٹوکا قریب ہی پڑے تھے۔ انہیں بھی کسی نے ہدایت کے مطابق وہاں سے نہیں اٹھایا۔ شیر نے جب اسے نیچے گرا لیا، تو وہ قُلی کو گھسیٹ کر پندرہ گز دور جھاڑیوں میں لے گیا اور اپنا پیٹ بھرنے کے بعد لاش کو گھاس پھونس سے ڈھانپ کر چلا گیا۔ شیر کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے شکار کو چھپا دیتا ہے تاکہ گدھ، بھیڑیے، گیدڑ اور دوسرے جنگلی جانور آسانی سے اس کا سراغ نہ پا سکیں۔
ربڑ کے ان درختوں کی حفاظت کے لیے اونچی خاردار جھاڑیوں کی ایک دیوار چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اس سے ذرا ہٹ کر انناس کے درختوں کا ایک جُھنڈ تھا جس کا پھل فروخت نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ مزدوروں کے لیے وقف تھا۔ اس جُھنڈ کے اردگرد بھی حفاظت کے لیے خاردار جھاڑیاں کھڑی کی گئی تھیں تاکہ جنگلی سؤر ان درختوں کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اس جھنڈ کے اندر جابجا شیر کے پنجوں کے نشانات واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے اور وہ اسی باڑ کے اندر سے گزر کر ربڑ کے جنگل تک پہنچا تھا، چنانچہ اس مقام پر باڑ کے اندر خاصا بڑا سوراخ بنا ہوا تھا۔ جس سے پتہ چلتا تھا کہ جس شیر نے اسے عبور کیا ہے، وہ غیر معمولی قوّت رکھتا ہے۔
وقت ضائع کیے بغیر میں نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ فوراً بیلچے اور کدالیں منگوائی جائیں تھوڑی دیر بعد بیلچے اور کدالیں لیے ہوئے مزدور وہاں پہنچ گئے۔ انناس کے درختوں کے جھنڈ میں عین اس مقام پر جہاں شیر نے جھاڑیوں کی باڑ کو عبور کیا تھا، چار فٹ لمبا، چار فٹ چوڑا اور پندرہ فٹ گہرا گڑھا کھودنے کی ہدایت کی۔ تین گھنٹے کی محنت کے بعد مزدوروں نے یہ گڑھا کھود ڈالا۔ گڑھے کا منہ ہم نے گھاس پھوس، نرم شاخوں اور پتّوں سے اس طرح ڈھانپ دیا کہ قریب سے دیکھنے پر بھی اندازہ نہ ہو سکے کہ یہاں گہرا گڑھا کھدا ہوا ہے۔ اس کے بعد گڑھے سے نکلی ہوئی مٹی جنگل میں ادھر ادھر ذرا فاصلے پر بکھیر دی گئی اور قلی کی لاش کو وہیں پڑا رہنے دیا گیا جہاں ایک روز پہلے شیر نے اس کا کچھ حصہ کھایا تھا۔ مزدوروں کو سمجھا دیا گیا کہ اس حصے میں کوئی شخص نہ آئے ورنہ شیر خبردار ہو جائے گا اور ادھر کا رخ نہیں کرے گا۔ سپاہیوں کے ذمّے یہ ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ صبح کے وقت اس گڑھے کا معائنہ کریں۔ اگر شیر اس میں موجود ہو، تو مجھے جہور کے قلعے میں خبر کر دیں۔ مجھے امید تھی کہ شیر رات کو کسی وقت ادھر آئے گا۔ اور گڑھے میں ضرور گرے گا۔
لیکن اگلے روز دوپہر تک کوئی اطلاع نہ آئی تو انتظار کی کوفت سے نجات پانے کے لیے میں علی کو ساتھ لے کر خود وہاں چلا گیا۔ صورتِ حال میں کوئی تغیّر رونما نہیں ہوا تھا۔ شیر اس رات ادھر نہیں آیا اور کسی شخص نے اسے دیکھا اور نہ اس کی آواز سنی۔ قُلی کی لاش اب بدبو دینے لگی تھی اور اس کے ساتھی اور رشتے دار اس کی مزید ‘بے حرمتی’ برداشت کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ لوگ اپنے عقیدے میں کٹر مسلمان ہیں اور اپنے مذہب کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتے۔ میں نے ان کی بدلی ہوئی نگاہوں سے اندازہ کیا کہ وہ مجھ پر بھی شک کر رہے ہیں کہ لاش کو دفن کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتا۔
‘صاحب، اب شیر کا انتظار بے سود ہے۔ لاش میں سے بدبو اٹھ رہی ہے۔ بہتر ہے کہ اب اسے دبا دیا جائے۔’ میں نے ان کی رائے پر عمل کرتے ہوئے قلی کی لاش کو وہاں سے اٹھوا دیا جسے بعد ازاں اس کے رشتے داروں نے لکڑی کے ایک صندوق میں بند کر کے اور اپنی مذہبی رسوم ادا کرنے کے بعد دفن کر دیا۔ اب سوال یہ تھا کہ میں کیا کروں؟ کیا سفر کا پروگرام ملتوی کر کے اس آدم خور کے تعاقب میں لگ جاؤں؟ یا سلطان جہور سے صاف کہہ دوں کہ میں یہاں رک نہیں سکتا، کیونکہ جو جانور میرے قبضے میں ہیں۔ ان کی خوراک اور دیکھ بھال کا خرچ اتنا زیادہ ہے کہ میری جیب جلد ہی خالی ہو جائے گی۔ میں ان جانوروں کو وعدے کے مطابق امریکہ پہنچا دینا چاہتا ہوں۔ ابھی میں اسی مخمصے میں مبتلا تھا کہ میجر نے مجھ سے کہا۔ ‘میں اپنے آدمیوں کو لے کر جنگل میں آدم خور کو تلاش کرنے جا رہا ہوں۔ میں اس ٹھکانے کا پتہ لگاؤں گا۔ اگر آپ چلنا چاہیں، تو چلیں۔’ میں نے اس سے کہا کہ وہ جنگل میں جا کر آدم خور کو تلاش کرے۔۔۔ فی الحال میں سنگا پور واپس جا رہا ہوں۔ اس کے بعد میں سلطان جہور سے بات کروں گا۔ میرے دل کے کسی گوشے میں یہ خواہش سر اٹھا رہی تھی کہ اگر میں آدم خور پکڑنے میں کامیاب ہو جاؤں، تو وارے نیارے ہو سکتے ہیں۔ مجھے صرف اسی ایک شیر کی اتنی قیمت وصول ہو جائے گی جتین قیمت ان جانوروں کو بیچ کر کر حاصل کروں گا۔ لہٰذا کیوں نہ قسمت آزمائی کی جائے، لیکن اس لالچ کے ساتھ ہی یہ دہشت بھی میرے دل میں موجود تھی کہ یہ شیر آسانی سے قابو میں آنے والا نہیں، وہ آدمی کے لہو کا ذائقہ چکھ چکا ہے۔ اگر اس نے مجھے اپنا نوالہ بنا لیا؟
شام کے وقت میں نے اپنے ہوٹل سے جہور کے قلعے میں فون کیا۔ معلوم ہوا کہ میجر اور اس کے سپاہیوں نے جنگل کا چپّہ چپّہ چھان مارا، مگر آدم خور کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ میجر کا خیال ہے کہ درندہ اس علاقے سے نکل کر کسی اور طرف کو چلا گیا ہے اور جب تک وہ کوئی اور واردات نہ کرے، اس کا صحیح پتہ معلوم کرنا دشوار ہے۔ یہ سُن کر میں نے ایک سرد آہ بھری اور فون بند کر دیا۔ اس کا مطلب تھا کہ قِصّہ ختم۔ میں نے اپنے دل سے اس شیر کا خیال نکال دیا اور اطمینان سے اپنے سفر کی ضروری تیاریوں میں مصروف ہو گیا۔
تیسرے روز علی الصبح سلطان جہور کی طرف سے بھیجا ہوا ایک ‘ضروری تار’ میرے نام آیا میں نے جب تار پر نظر ڈالی، تو حیرت سے اچھل پڑا۔ اس میں لکھا تھا۔
‘جلدی پہنچو’ شیر گڑھے میں گر گیا ہے۔’
میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے تار کا یہ مضمون دیکھتا رہا۔ خدا کی پناہ۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا واقعہ اتنی جلد ممکن ہے۔ شاید کسی نے مذاق کیا ہے۔ میں دیوانہ وار سیڑھیاں پھلانگتا ہوا ہوٹل کے دفتر میں گیا اور جہور کے قلعے میں فون کیا۔ پندرہ منٹ انتظار کے بعد لائن مل گئی اور میں نے سلطان کی آواز سُنی:
‘بھئی میں نے تم سے فون پر بات کرنے کی کوشش کی تھی، مگر معلوم ہوا کہ ہوٹل کا فون خراب ہے۔ مجبوراً تار بھیجنا پڑا۔ تم فوراً پہنچو۔’
میں نے اپنے ملازم علی سے کہا کہ وہ موٹر کا انتظام کرے۔ جلد جلد میں نے ضرورت کی چند چیزیں اپنے تھیلے میں رکھیں اور موٹر میں بیٹھ کر ستر میل فی گھنٹے کی رفتار سے جہور کے جنگل کی جانب روانہ ہو گیا۔ میرے جوش و اضطراب کی انتہا نہ تھی۔ اب مجھے صرف یہ فکر تھی کہ وہ بے وقوف مزدور کوئی ایسی حرکت نہ کر دیں جس سے گڑھے میں گرا ہوا شیر فرار ہونے میں کامیاب ہو جائے۔ میں جب وہاں پہنچا تو ایک ہنگامہ برپا تھا۔ ہر شخص بدحواسی کے عالم میں ادھر سے ادھر بھاگا پھر رہا تھا۔ اتنا شور تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ سینکڑوں مزدور اور قلی جنگل میں اور انناس کے درختوں کے جھنڈ میں کھڑے تھے اور سب کی نظریں اس گڑھے پر لگی ہوئی تھیں جس کے اوپر کٹے ہوئے درختوں کے بڑے بڑے تنے رکھ دیے گئے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ گڑھے میں سے جب شیر کے غرّانے کی آواز کان میں پہنچی، تو پہلی بار فتح مندانہ مسکراہٹ میرے لبوں پر نمودار ہوئی۔ میں نے علی سے کہا:
‘دیکھا، آخر ہم نے شیر کو پکڑ ہی لیا۔’
وہ قہقہہ مار کر ہنسا اور بولا: ‘جناب’ مجھے پہلے ہی پتہ تھا کہ شیر ضرور اس میں گرے گا۔’
‘ہاں ہاں۔ تمہیں تو پہلے ہی سے ہر بات کا پتہ ہوتا ہے۔’
میجر اور اس کے سپاہی بھی وہاں موجود تھے۔ ان کے علاوہ انگریز عورت اور اس کا شوہر بھی بڑی دلچسپی سے یہ تماشا دیکھ رہے تھے۔ عورت کے ہاتھ میں کیمرا تھا اور وہ مختلف زاویوں سے تصویریں اتار رہی تھی۔ مجھے دیکھتے ہی مزدوروں کے چہرے کھل اٹھے اور وہ بھاگ بھاگ کر میرے گرد جمع ہونے لگے۔ اب ہر شخص اس کوشش میں تھا کہ شیر کے پکڑے جانے کی داستان سب سے پہلے وہ سنائے۔ میں نے بمشکل ان کو پرے دھکیلا اور کہا: ‘مجھے پہلے شیر کو دیکھنے دو اس کے بعد میں ہر شخص کا قصّہ سننے کے لیے تیار ہوں۔’ میجر اور اس کے سپاہیوں نے گڑھے پر رکھے ہوئے بڑے بڑے تنوں میں سے ایک تنا اٹھایا، میں نے جھک کر گھاس پھونس اور پتّوں میں سے جھانکا، تو ایک بہت بڑا شیر منہ اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے مجھے گھور رہا تھا۔ آن واحد میں وہ غرّا کر اچھلا اور پنجہ مارنے کی کوشش کی۔ اس کا پنجہ میرے چہرے سے ایک فٹ دور ہی رہ گیا۔ میں نے اندازہ کیا کہ اگر درخت کے تنے گڑھے کے منہ پر نہ رکھے جاتے، تو یہ قوی الجثہ شیر اس گڑھے میں سے بڑی آسانی سے نکل سکتا تھا۔ اس کے لیے صرف ایک چھلانگ ہی کافی تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے جسیم اور قوی شیر دیکھے تھے لیکن ملایا کا یہ آدم خور اپنی مثال آپ تھا۔ اس کا قد بلا مبالغہ گدھے سے بھی اونچا اور لمبائی بارہ فٹ تھی۔ بلکہ اس سے بھی زائد ہوگی۔ اب میرے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ اتنے قوی شیر کو اس گڑھے میں سے کیسے نکالا جائے۔ اس دوران میں اگر یہ آزاد ہو گیا تو پھر کیا ہوگا؟ پہلے میرا خیال تھا کہ کوئی چھوٹا موٹا شیر ہوگا، اسے میں رسّیوں کے پھندے کے ذریعے جکڑ کر باہر نکالوں گا۔ ایک بات میں آپ کو بتانا بھول گیا کہ گڑھا اوپر سے چار فٹ لمبا اور چار فٹ چوڑا تھا۔ لیکن زیادہ گہرائی میں جا کر اس کی وسعت بھی دس فٹ تک پھیل گئی تھی تاکہ اتنی جگہ میں پنجرہ بھی اتارا جا سکے۔ شیر کو دیکھ کر میں سخت بدحواس تھا کہ اسے آخر کس طرح پنجرے میں بند کیا جا سکے گا۔ میرا طریقہ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ شیر جب گڑھے میں گرجاتا، تو میں رسیوں کی مدد سے لوہے کا پنجرہ گڑھے میں لٹکا دیتا۔ اس پنجرے میں کسی جانور کو بند کر دیا جاتا۔ پنجرے کا دروازہ رسی کے ذریعے مرضی کے مطابق کھولا اور بند کیا جا سکتا تھا۔ پنجرے کا دروازہ رسی کے ذریعے مرضی کے مطابق کھولا اور بند کیا جا سکتا تھا۔ شیر کو ایک دن بھوکا رکھا جاتا، شیر پنجرے کے جانور کو کھانے کے لیے جب بالکل آمادہ ہو جاتا، تو پھر پنجرے کا دروازہ اوپر اٹھا لیا جاتا شیر پنجرے میں گھس کر اس جانور پر جھپٹتا اور فوراً ہی پنجرے کا دروازہ گرا دیا جاتا۔ اس طرح شیر پنجرے میں قید ہو جاتا اور ہم اُسے آسانی سے باہر نکال لیتے، لیکن اس شیر کے معاملے میں صورت حال ہی دوسری تھی۔ میں نے جو گڑھا قاعدے کے مطابق کھدوایا تھا، وہ اس شیر کے لیے ناکافی تھا۔ فرض کیجیے، میں پنجرہ نیچے لٹکاتا ہوں، جانتے ہو شیر کیا کرے گا؟ وہ فوراً پنجرے پر چڑھے گا اور دوسرے ہی لمحے چھلانگ لگا کر گڑھے سے باہر آ جائے گا۔ مجھے دراصل پندرہ بیس فٹ کے بجائے یہ گڑھا تیس فٹ کی گہرائی تک کھدوانا چاہیے تھا۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا؟
میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی، سورج غروب ہونے میں ابھی کئی گھنٹے باقی تھے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ ہو مجھے آج ہی اس آدم خور کو پنجرے میں قید کر کے سنگاپور لے جانا ہے۔ میں نے لوگوں کو ہدایت کی کہ میں سنگاپور جا رہا ہوں، ضروری انتطامات کے بعد پھر واپس آؤں گا۔ اس دوران میں وہ آدم خور کی پوری حفاظت کریں ایک بار پھر میں نے اپنی موٹر کو ساٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چھوڑ دیا۔ علی میرے ساتھ تھا۔ ہن مونگ اور اس کے شاگرد اپنے مکان پر موجود تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ فوراً سب کام چھوڑ کر ایک بڑا پنجرہ ایک گھنٹے کے اندر اندر تیار کر دیں۔ میں نے شیر کی جسامت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے پنجرے کا نقشہ بھی انہیں سمجھا دیا۔ پھر بازار سے تین سو فٹ لمبا اور ڈھائی انچ موٹا بے حد مضبوط رسّا خریدا۔ رسّا خریدنے کے بعد میں بندرگاہ پر گیا اور وزن اتارنے کی مشین عاریتاً حاصل کی۔ اس کے بعد شہر واپس آ کر ایک ٹرک کرائے پر لیا۔ اس اثناء میں ہن مونگ اور اس کے شاگرد پنجرہ تیار کر چکے تھے۔ پنجرہ، رسّا اور جرِّ ثقیل میں نے ٹرک میں رکھ لی۔ علی کے بھتیجے سے کہا کہ وہ فوراً جہور کی طرف چل پڑے۔ میں علی کو لے کر اپنی کار میں پیچھے پیچھے آتا ہوں۔ میرا ارادہ تھا کہ راستے میں قلعۂ جہور میں رک کر سلطان سے ملاقات کرتا چلوں۔ جونہی میری گاڑی قلعے کی وسیع صحن میں رکی سلطان اپنے کمرے سے برآمد ہوا اس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا۔ اس نے گرم جوشی سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ پھر کہنے لگا۔
‘اچھا ہوا کہ تم یہاں آ کر مجھ سے مل لیے، ورنہ شیر تم کو کھا جاتا تو میں کبھی تمہیں معاف نہ کرتا۔’ میں ہنس پڑا۔ سلطان کی نظر کار میں رکھی ہوئی چمڑے کی کمند پر پڑی۔ اس نے حیرت سے پوچھا:
‘کیا تم کمند کا استعمال جانتے ہو؟ لیکن میں نے سنا ہے کہ امریکہ میں کاؤ بوائے کمندوں کے ذریعے گھوڑوں اور سانڈوں کو قابو میں لایا کرتے ہیں۔ اب تم یہ طریقہ شیر پر آزمانا چاہتے ہو۔ میرے خیال میں ایسا کرنا خطرناک ہوگا۔’
‘ہز ہائی نس، آپ فکر نہ کریں، میں اس کمند کو پہلے بھی کئی مرتبہ شیروں پر استعمال کر چکا ہوں اور کبھی ناکام نہیں ہوا۔ ایک دن آپ دیکھیں گے میں اسی کے ذریعے ہاتھی کو بھی گرفتار کر لوں گا۔’
سلطان نے قہقہہ لگایا۔ ‘ارے تم اس شیر کو تو پہلے پکڑو، ہاتھی تو بعد میں آئے گا۔ بھائی یہ امریکی گائے نہیں، ملایا کا شیر ہے شیر۔ کیا سمجھے؟’
یہ سن کر میری رگ حمیت پھڑک اٹھی اور میں نے کہا:
‘ہز ہائی نس، اگر آج سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے شیر کو آپ کے قدموں میں ڈال دوں، تو آپ کیا انعام دیں گے؟’
‘ناممکن۔ قطعی ناممکن۔’ سلطان نے ایک اور قہقہہ لگایا۔ ‘مجھے خدشہ ہے کہ وہ تمہیں ہڑپ نہ کر جائے۔ علی اپنے ‘صاحب’ کا ذرا خیال رکھنا۔ بہرحال اگر تم کامیاب ہوئے تو شامپین کی ایک بوتل تمہارے لیے تیار ہوگی۔ اب جاؤ، خدا حافظ!’
جب میں قلعے سے موٹر لے کر نکلا، تو آسمان پر سیاہ بادل جمع ہو رہے تھے اور کہیں کہیں بجلی کڑک رہی تھی۔ علی نے کہا: ‘بارش ہونے والی ہے، ذرا جلدی پہنچنا چاہیے۔’
میں نے ایکسیلیٹر پر پیر رکھ دیا اور موٹر ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اگر بارش شروع ہو گئی، تو کام بگڑ جائے گا۔ سب سے پہلی مشکل تو یہ ہوگی کہ جنگل کی نرم زمین بارش میں بھیگ کر پھسلواں ہو جائے گی۔ اور دوسری رکاوٹ رسّا پیدا کرے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ پانی میں تر ہو کر رسا کتنا سخت ہو جاتا ہے۔ میں اگر شیر کو سورج چھپنے سے پہلے پہلے سلطان کے پاس نہ لے جا سکا، تو بڑی سُبکی ہوگی۔ شاید قدرت مجھے اس بے جا دعوے کی سزا دینے کے لیے بارش کا یہ زبردست طوفان نازل کر رہی تھی۔
اس روز میں نے ستّر میل فی گھنٹے کی رفتار سے موٹر چلائی۔ علی میرے ساتھ بیٹھا تھرتھر کانپ رہا تھا۔ اس نے دبی زبان میں موٹر آہستہ چلانے کے لیے کہا بھی تھا، مگر میں تو بارش سے پہلے وہاں پہنچنا چاہتا تھا، لیکن جونہی سڑک کی آخری حد تک پہنچ کر موٹر سے اترا، بارش شروع ہو گئی اب ہمیں تین میل کا سفر پیدل طے کرنا تھا، کیونکہ آگے گھنا جنگل تھا اور موٹر اس کے اندر نہیں جا سکتی تھی ہمارے کپڑے جلد ہی پانی سے تر ہو گئے، مگر ہم رُکے نہیں، بلکہ ہم مسلسل دوڑتے رہے۔ گڑھے کے ارگرد بہت سے قُلی گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ میجر اور اس کے سپاہی بھی بارش میں بھیگ رہے تھے۔ مجھے ان کی فرض شناسی پر دلی خوشی ہوئی میں نے میجر کا شکریہ ادا کیا، تو وہ صرف مسکرا دیا۔
بارش کی پروا کیے بغیر میں تندہی سے اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ گڑھے کے اندر شیر پانی میں بھیگنے کے باعث غرّا رہا تھا اور مزدور خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹنے لگے تھے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ شیر اس گڑھے میں سے نکل نہیں سکتا، اس لیے وہ اطمینان سے وہیں کھڑے رہیں۔ میں چند منٹ میں اسے پنجرے کے اندر بند کر دوں گا۔ وہ سب مجھے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنا لمبا شکاری چاقو نکالا اور رسے کے کئی ٹکڑے کر دیے۔ پھر ان کے سروں پر مختلف پھندے بنائے، اس کے بعد میں نے مزدوروں کی مدد سے گڑھے کے اوپر رکھے ہوئے تنوں میں سے درمیانی تنا اٹھایا۔ اب میں شیر کو گڑھے کے اندر اچھی طرح دیکھ سکتا تھا۔ بارش کا پانی گڑھے میں جمع ہونے کے باعث شیر کا جسم کیچڑ میں اچھی طرح لت پت ہو چکا تھا اور وہ منہ کھولے بُری طرح سے دھاڑ رہا تھا۔ غالباً وہ بھوکا بھی تھا۔
چند منٹ تک شیر کی حرکات بغور دیکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کے پنجے چکنی مٹی کے اندر پھسل رہے ہیں، کیونکہ جب وہ بے قراری سے ادھر ادھر گھومتا یا گڑھے کی دیوار پر پنجے رکھ کر اوپر اچھلنے کی کوشش کرتا، تو اس کے پنجے پھسل جاتے اور وہ پیٹھ کے بل گڑھے میں جا گرتا۔ میں خوش تھا کہ بارش نے میرے کام میں جو رکاوٹ ڈالی تھی، شیر بھی اس سے محفوظ نہیں رہا۔ میں نے میجر اور اس کے سپاہیوں سے کہا کہ وہ ہوشیار رہیں۔ اپنی بندوقیں ہنگامی حالت کے لیے تیار رکھیں، کیونکہ ہمارا واسطہ ایک آدم خور درندے سے ہے جو نہ جانے کب ہمارے ہاتھوں سے نکل جائے اور کسی کی جان لے لے۔ ادھر بارش لمحہ بہ لمحہ تیز ہوتی جا رہی تھی آسمان پر سیاہ بادلوں کی فوج اُمڈ امڈ کر آ رہی تھی اور بجلی اس زور سے کڑکتی کہ دل دہل جاتے۔ ہوا کی شدت سے پانی کے تھپیڑ سے اس زور سے چہرے پر پڑتے کہ کچھ سجھائی نہ دیتا۔ پھر آدم خور کا مسلسل چیخنا اور دھاڑنا۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کیا قیامت خیز سماں ہوگا۔
میں گڑھے کے کنارے پر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کمند شیر کی گردن میں پھنسانے کی کوشش کرنے لگا۔ کئی مرتبہ پھندا اس کے گلے میں پڑا، مگر جونہی میں اسے کھینچنا چاہتا، شیر زور سے جھٹکا مارتا اور اپنی گردن پھندے سے نکال لیتا اور پھر غیظ و غضب سے دھاڑنے اور اچھلنے لگتا۔ اسے فوراً یہ احساس ہو گیا تھا کہ میں اس کی گردن رسّے سے جکڑ لینا چاہتا ہوں۔ ایک بار جب میں نے بڑی احتیاط سے پھندا اس کی گردن پر پھینکا تو شیر نے اپنا منہ کھول کو اسے دانتوں میں دبا لیا اور اس زور کا جھٹکا مارا کہ اگر گڑھے کے اوپر رکھے ہوئے تنوں کا سہارا مجھے نہ ملتا، تو میں لازماً اس میں جا گرتا اور شیر کی خوراک بن جاتا۔ ظالم کے دانت ریزر بلیڈ کی مانند تیز تھے۔ اس نے کئی رسوں کو دانتوں سے کاٹ کاٹ کر بیکار کر دیا۔
ایک گھنٹے کی زبردست اور جان لیوا کوشش نے مجھے اور شیر دونوں کو تھکا دیا۔ اب میں نے ایک نیا پھندا بنا کر ڈالا۔ شیر نے اسے بھی منہ میں دبانا چاہا مگر کامیاب نہ ہوا۔ میں نے فوراً رسّا کھینچ لیا اور شیر کا جبڑا پھندے میں آ کر کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اب وہ اپنے منہ بند نہیں کر سکتا تھا میں نے جلدی سے رسّے کا سرا دو مزدوروں کو تھمایا اور انہیں ہدایت کی کہ اسے ڈھیلا نہ ہونے دیں۔ اس کے بعد دوسرا پھندا پھینکا اسے شیر کے دائیں پنجے میں پھنسا کر یہ بھی میں نے دو مزدوروں کے حوالے کیا۔ پھر اس کا بایاں پنجہ اور کمر رسّوں میں جکڑ لی۔ اب بیک وقت پندرہ مزدور اس قوی ہیل شیر کو رسوں میں پھنسائے ہوئے کھڑے تھے۔ شیر گڑھے کے اندر پوری قوّت سے اچھل رہا تھا۔ میں نے اسے اب آٹھ پھندوں میں گرفتار کر لیا۔ گڑھے کے چاروں طرف مزدور اور قلی رستے تھامے ہوئے تھے اور اکیلا شیر قوت میں ان سب پر بھاری تھا۔ میں بار بار انہیں ہدایت کرتا کہ اگر رسّے ذرا بھی ڈھیلے ہوئے، تو شیر آزاد ہو جائے گا۔ شیر سے اس زور آزمائی اور بارش میں مسلسل بھیگنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے کندھے، گردن اور پیٹھ شل ہو گئی۔ ادھر پانی آنکھوں میں بار بار آ جاتا۔ جب میں نے دیکھا کہ شیر اچھی طرح قابو میں آ گیا ہے، تو قلیوں کو حکم دیا کہ وہ آہستہ آہستہ رسوں کو اپنی طرف کھینچیں اور شیر کو گڑھے کی گہرائی سے نکال کر سطح کے قریب لے آئیں۔ شیر کو اوپر اٹھانے کے لیے مزدوروں کو اس قدر زور لگانا پڑا کہ بیچارے ہانپنے لگے، تاہم انہوں نے ہمت نہ ہاری۔
ابھی میں سپاہیوں کو پنجرہ گڑھے میں لٹکانے کا حکم دینے ہی والا تھا کہ ایک قلی کی چیخ سنائی دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا، تو وہ قلی جس نے سب سے پہلے رسا تھام رکھا تھا، پھسلتا ہوا گڑھے کے کنارے تک آ گیا تھا۔ اس کے قدم اکھڑ چکے تھے میں اب اس پوزیشن میں کھڑا تھا کہ ہاتھ سے بڑھا کر اسے تھام لوں اور جونہی میں نے لپک کر اسے پکڑنا چاہا، خود میرے پیر بھی پھسل گئے اور میں قلی کے ساتھ گھسٹتا ہوا گڑھے میں گرنے ہی والا تھا کہ میرے عقب میں کھڑے ہوئے علی نے جست لگا کر وہ رسّا پکڑ لیا جو میرے ہاتھ سے چھٹنے والا تھا۔ پھر سپاہیوں نے فوراً ہمیں آن کر تھام لیا۔ ورنہ میں اور دو قلی ضرور گڑھے میں گر جاتے اور ہمارا کیا حشر ہوتا، اسے سوچ کر میں آج بھی کانپ جاتا ہوں۔ نتیجہ یہ نکلتا کہ میرے اور قلی کے گرتے ہی دوسرے قلی بدحواس ہو کر رسے چھوڑ دیتے اور آدم خور آزاد ہو کر ہمارے ساتھ ہی گڑھے میں گرتا۔
قلیوں کے حلق سے اس اچانک خطرے پر چیخیں نکل رہی تھیں۔ بارش نے زمین اس قدر چکنی اور پھسلواں کر دی تھی کہ ان کے قدم جمنے دشوار ہو رہے تھے۔ ادھر شیر ان کو مسلسل جھٹکے دے رہا تھا۔ سپاہیوں نے جلدی سے پنجرہ گڑھے میں اتارا۔ شیر کا سر گڑھے کی سطح کو چھو رہا تھا اور اس کی دم نیچے لٹک رہی تھی۔ میں نے پنجرہ اس رخ سے گڑھے میں رکھوایا کہ اس کا دروازہ اوپر کی جانب کھلتا تھا۔ اب شیر کو اس دروازے کے اندر داخل کرنا تھا۔ اس کے بعد وہ بالکل ہمارے قابو میں آ جاتا، لیکن یہی سب سے زیادہ خطرناک کام تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ اگر تھوڑی دیر تک ان مزدوروں کو رسّے سے نجات نہ دلائی گئی، تو رسّا ان کے ہاتھوں سے نکل جائے گا۔ اور اس طرح ساری محنت پر آنِ واحد میں پانی پھر سکتا ہے میں نے جلد جلد علی کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا۔ پھر میں نے میجر سے کہا۔
‘میجر، اب میں معاملہ تمہارے اوپر چھوڑتا ہوں۔ ان قلیوں کو سنبھالے رہنا۔’ اس سے پیشتر کہ وہ کچھ پوچھے یا کہے، میں ںے ایک اور رسّا پکڑا اور اس کے سہارے گڑھے میں اتر گیا۔ اب شیر میرے سر پر لٹک رہا تھا۔ اور میں پنجرے کے قریب کھڑا اسے دیکھ رہا تھا میں نے ایک بار پھر گڑھے میں سے چلّا کر کہا: ‘میجر’ رسّوں کو مضبوطی سے تھامے رکھنا، ورنہ شیر مجھے زندہ نہ چھوڑے گا۔ بس چند منٹ کی تکلیف اور ہے ہاں اپنی بندوقیں بھی سنبھالے رکھو۔’
اب میں خود مٹی اور کیچڑ میں اچھی طرح لت پت ہو چکا تھا۔ پنجرے کا دروازہ کھولنے کے بعد میں نے شیر کی دم پکڑ لی اور اسے گھسیٹ کر پنجرے کے عین اوپر لے آیا اور پھر پکار کر کہا:
‘اب سب لوگ نہایت احتیاط سے آہستہ آہستہ آگے بڑھتے جائیں۔ دیکھنا کسی کا پیر نہ پھسلنے پائے۔’
شیر کا آدھا دھڑ جب پنجرے میں داخل ہوا تو میں نے کہا: ‘رسّے چھوڑ دو۔’
قلیوں نے ایک دم رسّے چھوڑ دیے اور ایک دھماکے کے ساتھ جہور کا آدم خور پنجرے میں گر گیا۔ میں نے پھرتی سے سلاخ دار دروازہ گرا دیا۔ شیر بُری طرح دھاڑ رہا تھا۔ پنجرے میں بند ہوتے ہی اس نے اس کی دیواروں کو ہلانا شروع کر دیا اور اس سے پیشتر کہ میں گڑھے سے باہر نکلوں، لکڑی کے بنے ہوئے بے حد مضبوط پنجرے کی ایک دیوار چرچرانے لگی اور اس کا ایک تختہ باہر نکل آیا۔ یہ دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے۔ شیر اگر اسے دھکا اور لگاتا تو تختہ یقیناً اکھڑ جاتا۔ یقین کیجیئے، دہشت سے میرا بدن سن ہو گیا۔ شیر کا وزن کم از کم تین سو پونڈ تھا اور ظاہر ہے کہ اتنے وزنی درندے کے لیے لکڑی کا پنجرہ توڑ دینا آسان بات تھی۔ ایک بار پھر میں حلق پھاڑ کر چیخا: ‘جلدی سے ہتھوڑا اور کیلیں مجھے دے دو جلدی۔۔۔ خدا تمہیں غارت کرے۔ ہتھوڑا اور کیلیں مجھے پکڑا دو۔’
اتنے میں تختہ ذرا سا اور باہر نکلا۔ میں نے اسے پیچھے دھکیلنے کے لیے اپنی پوری جسمانی قوت صرف کر دی۔ کئی منٹ گزر گئے، ہتھوڑا اور کیلیں مجھے نہ ملیں، البتہ گڑھے کے اوپر مزدوروں کے چلّانے اور بھاگنے دوڑنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ مجھ پر ایک ایک لمحہ عذاب کی مانند گزر رہا تھا۔ میں پھر پاگلوں کی طرح چیخا: ‘ارے ظالمو’ ہتھوڑا اور کیلیں مجھے دے دو۔ علی، تم بھی بھی میری آواز نہیں سنتے؟’
تب علی نے گڑھے کے اوپر سے جھانک کر دیکھا اور کہا: ‘صاحب ہتھوڑا اور کیلیں مل ہی نہیں رہیں۔ سب لوگ تلاش کر رہے ہیں۔ شاید وہ مٹی کے ڈھیر میں گم ہو گئی ہیں۔’
میں نے اپنا سر پیٹ لیا۔ ’میں تم سب کو قتل کر دوں، کسی کو زندہ نہ چھوڑوں گا۔ ورنہ مجھے ہتھوڑا اور کیلیں مہیّا کرو۔ اُلّوو، گدھو’۔۔۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے قلیوں اور مزدوروں کے علاوہ میجر اور اس سپاہیوں کو بھی کتنی گالیاں دے ڈالی تھیں۔ آخر آواز آئی، ‘ہتھوڑا مل گیا ہے مگر کیلیں نہیں ملتیں۔’
مجھے اس وقت ایسا غصہ آیا کہ اگر ان میں سے کوئی میرے نزدیک ہوتا، تو میں ضرور گلا گھونٹ دیتا۔ پھر کسی نے اوپر سے ہتھوڑا نیچے پھینکا۔ ادھر شیر پنجرے کا ایک کمزور مقام تلاش کر کے وہان قوت آزمائی کر رہا تھا۔ میں نے گڑھے کی دیوار میں اپنے دونوں پیر ٹکا کر ہاتھوں کی قوت سے تختے کو اندر دھکیلا۔ پھر ہتھوڑا لے کر اس تختے کے کنارے پر ابھری ہوئی کیلیں ٹھونکیں۔ کم بخت ہن مونگ نے جلدی میں پنجرے کے اس جانب کیلیں بہت کم لگائی تھیں۔ اور یہی وجہ تھی کہ تختہ اکھڑ رہا تھا۔ خدا خدا کر کے علی نے کیچڑ میں سے کیلیں تلاش کر کے مجھ تک پہنچائیں اور جب میں نے سب کیلیں اچھی طرح ٹھونک دیں، تو میں بے دم ہو کر وہیں گڑھے میں لیٹ گیا۔
جب ہم نے آدم خور کے پنجرے کو گڑھے سے نکال کر ٹرک میں رکھا تو بارش کے طوفان کی تُندی میں فرق آ چکا تھا۔ بادل آہستہ آہستہ پھٹنے لگے اور جب ہم جہور کے قلعے تک پہنچے، تو سلطان میرے استقبال کے لیے دروازے پر کھڑا تھا۔ عین اس وقت مغرب میں بادلوں کے اندر سے ڈوبتے ہوئے سورج نے ایک لمحے کے لیے جھانکا اور پھر روپوش ہو گیا۔ سلطان کا چہرہ فرطِ مسرت سے تمتما رہا تھا۔ اس نے آگے بڑھ کر مجھے سینے سے لپٹا لیا اور جب وہ معانقے کے بعد الگ ہوا، تو میرے جسم پر تھپی ہوئی کیچڑ کا بڑا حِصّہ اس کے قیمتی کپڑوں کو داغدار کر چکا تھا۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: