Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Episode 9

0
آنائی کے آدم خور وحشی​ از مقبول جہانگیر​ – قسط نمبر 9

–**–**–

جرنگاؤ کا آدم خور
جرنگاؤ ایک چھوٹے سے گاؤں کا نام ہے جو ضلع ڈنگن کے اندر دریائے ڈنگن کے کنارے آباد ہے اور یہیں رہنے والے آدم خور شیر کی داستان میں آپ کو سناتا ہوں۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ اتنا بڑا شیر میں نے زندگی میں اس سے پیشتر کبھی نہیں دیکھا۔ اس کا قد گدھے کے برابر لمبائی اور دس فٹ سات انچ اور منہ ببّر شیر کی مانند چوڑا اور بارعب تھا۔ مکّاری اور قوّت میں بھی وہ ملایا کے عام شیروں سے کچھ زیادہ ہی بڑھا ہوا تھا۔ جرنگاؤ سے تین میل کے فاصلے پر ڈنگن کے کنارے ہی ایک دوسرا کمپونگ واؤ نامی بھی آباد تھا۔ ملائی زبان میں کمپونگ گاؤں کو کہتے ہیں اور اس سے آگے تین میل دور کمپونگ مانچس واقع تھا۔ دریا کا یہ علاقہ جہاں تینوں گاؤں قریب قریب آباد تھے، ربڑ کے درختوں سے پٹا پڑا تھا اور ان باشندوں کی گزر اوقات کا سب سے بڑا ذریعہ ربڑ کے یہی درخت تھے۔ جن سے وہ شب و روز کی سخت محنت کے بعد ربڑ جمع کرتے، لیکن 1950ء کے اواخر میں ان باشندوں پر جرنگاؤ کے آدم خور کی صورت میں ایک مہیب بلا نازل ہوئی جس نے اس بستیوں کا امن چین غارت کر دیا اور بہت سی جانوں کو اپنا لقمہ بنا لیا۔
دریا کے دوسری جانب بھی ربڑ کا جنگل پھیلا ہوا تھا اور اس جنگل سے پرے لوہے کی کانیں تھیں جن میں سے ان دنوں لوہا تیزی سے نکالا جا رہا تھا۔ ریلوے لائن جنگل کے قریب سے گزرتی تھی جہاں چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں خام لوہا بھر کر ضلع ڈنگن پہنچایا جاتا تھا۔ لوہے کی کانوں کے قریب ریل کی آخری حد پر کمپونگ پُولت آباد تھا۔ اس کے عین سامنے دریا کے دوسرے کناروں پر گاؤں مانچس نظر آتا تھا۔ جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے۔ اس مقام پر جرنگاؤ تک پہنچنے کے لیے چھ میل طے کرنے پڑتے تھے اور اس کے دو ہی راستے تھے، پہلا راستہ دریا کا اور دوسرا جنگل کا تھا۔ میرا مکان کیمان میں واقع تھا جو ڈنگن کے جنوب میں ہے۔ اور یہاں سے جرنگاؤ تک پہنچنے میں چھ گھنٹے صرف ہوتے تھے۔
آدم خور نے میرے یہاں پہنچنے سے پیشتر ہی اپنی ہلاکت خیز سرگرمیوں کا آغاز کر دیا تھا اور بہت سے مویشیوں کا اور انسانوں کو ہڑپ کر چکا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ آدم خور نے سب سے پہلا انسانی شکار 12 جولائی 1950ء کو دریائے ڈنگن کے اس حصے میں کیا جو جرنگاؤ اور واؤ کے درمیان واقع ہے یہ ایک بدنصیب مزدور تھا۔ جو سورج غروب ہونے کے بعد کام سے واپس آ رہا تھا۔ اس کے ساتھی آپس میں گپ بازی کرتے ہوئے کچھ پیچھے چلے آ رہے تھے کہ یکایک انہوں نے اپنے ساتھی کی چیخیں سنیں اور پھر شیر کی غرّانے کی آواز سنائی دی جس سے یہ سب دہشت زدہ ہو کر اُدھر ہی بھاگ گئے جدھر سے آ رہے تھے۔
جب دوسرے روز بھی یہ مزدور نظر نہ آیا، تو اس کے ساتھیوں نے سمجھ لیا کہ شیر نے اسے ہلاک کر دیا۔ اب یہ پندرہ بیس آدمیوں کے گروہ کی شکل میں جنگل میں نکلے اور دریا کے کنارے ایک جگہ لمبی گھاس کے اندر انہیں مزدور کی لاش پڑی مل گئی۔ شیر نے اس کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیا تھا۔ اردگرد کی گیلی زمین پر شیر کے پنجوں کے نشان آسانی سے تلاش کر لیے گئے اور یوں معلوم ہوا جیسے اس کی لاش کو بیک وقت دو شیروں نے مل کھایا ہے کیونکہ پنجوں کے یہ نشان ایک دوسرے سے مختلف تھے۔
یہ لوگ مزدور کی لاش کے بچے کھچے ٹکڑے وہاں سے اٹھا کر اس کے گاؤں واؤ میں لے گئے اور اسے بعد ازاں مذہبی رسمیں ادا کرنے کے بعد دفن کر دیا گیا۔ اس سے اگلے روز صبح جب اس گاؤں کے لوگ اپنے کام پر جانے لگے تو یہ دیکھ کر ان کے خوف کی انتہا نہ رہی کہ شیر کے پیروں کے واضح نشان گاؤں کے نواحی علاقے میں موجود ہیں۔ اور جس راستے سے یہ لوگ مزدورکی لاش لے کر آئے تھے، شیر بھی اسی راستے پر ان کا تعاقب کرتا ہوا گاؤں تک پہنچا ہے۔ غالباً وہ یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اس کا کھاجا یہ آدمی کہاں لیے جا رہے ہیں۔
گاؤں کے پینگولو (نمبردار) نے سب مرد عورتوں کو خبردار کر دیا کہ آدم خور جنگل میں چھپا ہوا ہے۔ اس لیے کوئی فرد گاؤں سے اکیلا باہر نہ جائے اس ہدایت پر سختی سے عمل کیا جاتا رہا اور آدم خور نے دو ہفتے تک کسی پر حملہ نہ کیا۔ لیکن جب لوگوں نے دیکھا کہ جنگل میں شیر کے گرجنے اور غرّانے کی آواز سنائی نہیں دے رہی تو وہ سمجھے کہ آدم خور کسی اور جانب چلا گیا ہے۔ اس لیے وہ پھر آزادی سے جنگل میں گھومنے پھرنے لگے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تین روز بعد ہی آدم خور نے ایک اور انسانی جان کو اپنا تر نوالہ بنا لیا۔ یہ بھی ربڑ کے درختوں پر کام کرنے والا ایک مزدور ہی تھا، دو روز تک گھر نہ پہنچا تو اس کے رشتے داروں کو تشویش ہوئی اور جب اسے تلاش کیا گیا تو اس کی لاش اس عالم میں پڑی ملی کہ شیر نے اس کی دائیں ٹانگ ہڑپ کر لی تھی اور لاش کو گھاس کے اندر چھپا دیا تھا۔۔۔ لوگوں نے اس لاش کو بھی وہاں سے اٹھا کر زمین میں دفن کر دیا اور ایک بار پھر احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جانے لگا۔ اس کے بعد کئی ماہ تک اس علاقے میں کوئی واردات نہیں ہوئی۔ البتہ مویشیوں کو شیر اٹھا کر لے جاتا رہا۔ لوگوں نے یہ خیال کیا کہ یہ کسی اور شیر کی حرکت ہے۔
فروری 1951ء میں شیر نے ایک اور مزدور کو ہلاک کیا اور اس کے بعد پندرہ دن کے اندر اندر چار پانچ آدمی اس کے ہاتھوں مارے گئے تو اردگرد کی بستیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مزدوروں نے کام پر جانا چھوڑ دیا۔ ایک روز جب کہ میں دریائے ڈنگن میں کشتی کے ذریعے سفر کر رہا تھا، کمپونگ واؤ کے نزدیک مجھے بہت سے آدمیوں اور عورتوں کا مجمع دکھائی دیا۔ عورتیں اونچی آوازیں میں رو رہی تھیں۔ میں نے کشتی کنارے پر لگائی اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے تو لوگوں نے بتایا کہ شیر نے کل ایک اور آدمی کو مار ڈالا ہے، جس کی لاش ابھی تک وہیں پڑی ہے۔ اور جب چند آدمی لاش اٹھانے کے لیے جنگل میں گئے تو آدم خور نے ان کا بھی تعاقب کیا اور اور وہ وہیں موجود ہے۔ معاملہ روز بروز نازک صورت اختیار کرتا جا رہا تھا۔ خدشہ تھا کہ اگر آدم خور کی ان سرگرمیوں کو فوراً نہ روکا گیا تو وہ ان سب آدمیوں کو ایک ایک کر کے ہڑپ کر جائے گا۔ مزدوروں نے کام پر جانے سے صاف انکار کر دیا تھا اور یہ وہ موسم تھا جب درختوں کے تنے ربڑ کے رس سے بھرے ہوئے تھے۔ اور اگر اس رس کو بر وقت نکالا نہ جائے تو یہ ضائع ہو سکتا ہے۔
ڈنگن کے پولیس اسٹیشن کا انچارج بھی اس صورتِ حال کے اچانک نمودار ہو جانے سے سخت ہراساں تھا۔ اور اس کے ذہن میں اس آفت سے نبٹنے کی کوئی تدبیر نہ آتی تھی۔ اس نے مجھے اور جرنگاؤ کے تھانے کے پولیس افسر کو صلاح مشورے کے لیے بلایا اور ہم دیر تک آپس میں نئی نئی تجاویز پر بحث کرتے رہے۔ اس زمانے میں ملایا کے صوبے ترینگانو کی سرحدوں پر چینی کمیونسٹ دہشت پسندوں کی سرگرمیاں بھی عروج پر تھیں اور پولیس کی ان دہشت پسندوں کے ساتھ جھڑپیں روزانہ ہوا کرتی تھیں۔ اب آدم خور کا معاملہ درمیان میں آن پڑا تو مزدوروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے کام پر حاضر ہونے سے صاف انکار کر دیا۔ اب اتفاق دیکھیے کہ چند روز بعد ہی مجھے خبر ملی کہ ڈنگن پولیس سٹیشن کا انچارج ترینگانو کی سرحد پر گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا اور آدم خور سے دو دو ہاتھ کرنے کا جو پروگرام ہم نے وضع کیا تھا، وہ ایک بار پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔ میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے بھی ڈنگن ہی میں قیام کرنا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ مجھے اس شیر کا قصّہ پاک کرنے کا موقع مل جائے۔ میں نے اپنی مدد کے لیے جرنگاؤ اور ڈنگن سے چند پولیس مین بلوا لیے تھے جو بندوق چلانا جانتے تھے۔
سات مارچ 1951ء کا دن تھا۔ میں صبح ناشتے سے فارغ ہو کر روزانہ رپورٹ لکھنے کی تیاریاں کر رہا تھا۔ کہ ایک پولیس مین کمرے میں آیا اور کہنے لگا کہ ابھی ابھی اطلاع آئی ہے کہ آدم خور نے ایک اور مزدور کو ہلاک کر دیا ہے اور اس کی لاش دریا کے کنارے عین اسی جگہ پڑی پائی گئی ہے جہاں پہلے بھی شیر نے ایک مزدور کو مار ڈالا تھا۔ میں نے فوراً سب سپاہیوں کو بلایا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی بندوقیں لے کر میرے ساتھ چلیں۔ مجھے خدشہ تھا اگر موقعۂ واردات پر پہنچنے میں ذرا بھی تاخیر ہوئی تو دوسرے مزدور لاش کو وہاں سے اٹھا لے جائیں گے۔
دریا پر موٹر بوٹ کا انتظام چوبیس گھنٹے رہتا تھا۔ میں نے اپنی رائفل اور کارتوسوں کا ڈبہ سنبھالا اور سپاہیوں کو لے کر موٹر بوٹ پر سوار ہو گیا۔ اور اسے پوری رفتار سے چلا دیا۔ ابھی ہم دریا میں ایک میل ہی گئے ہوں گے کہ دوسری جانب سے ایک اور موٹر بوٹ آتی ہوئی دکھائی دی۔ جب یہ موٹر بوٹ قریب آئی تو میں نے دیکھا کہ اس میں چھ آدمی سوار ہیں۔ اور درمیان میں اسی مزدور کی لاش پڑی ہے جسے شیر نے ہلاک کیا تھا۔ اس کے کپڑے خون میں لت پت تھے اور چہرہ بُری طرح نُچا ہوا تھا۔ ان مزدوروں نے بتایا کہ وہ یہ لاش مجھے دکھانے کے لیے لا رہے تھے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ لاش کو وہاں سے ہرگز نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ بلکہ اسے وہیں رہنے دیا جاتا تاکہ رات کو کسی وقت شیر اسے کھانے کے لیے آتا تو ہم اسے گولی کا نشانہ بنا دیتے۔ لیکن یہ لوگ اس مشورے پر عمل کرنے کو تیار نہ تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا مذہب لاش کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا اور تاکید کی گئی ہے کہ میّت کو جلد از جلد دفنا دینا چاہیے۔ میں نے انہیں نرمی سے سمجھایا کہ اس طرح آدم خور تم سب کو ایک ایک کر کے ہڑپ کرتا جائے گا اور ہم اسے قیامت تک ہلاک نہیں کر سکیں گے اس لیے بہتر یہی ہے کہ اس لاش کو صرف ایک روز کے لیے وہیں لے جا کر رکھ دو جہاں سے لائے ہو۔ میرا ارادہ ہے کہ میں قریب ہی چھپ کر آدم خور کا انتظار کروں گا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ رات کی تاریکی میں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ضرور آئے گا اور اس وقت میں اسے اپنی رائفل کا نشانہ بنا سکوں گا۔
میں نے لاش کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ شیر نے پہلے اس کے عقب سے آ کر گردن پر پنجہ مارا جہاں گہرا گھاؤ تھا۔ اسی ضرب سے مزدور زمین پر گر گیا ہوگا۔ پھر شیر نے اس کے کندھوں اور سینے پر پنجے مارے اور بعد ازاں گردن منہ میں دبا کر اسے دور تک گھسیٹا تھا۔ گردن پر شیر کے دانتوں کے جو نشانات موجود تھے، ان کو بغور دیکھنے سے یہ انکشاف ہوا کہ شیر کے نچلے دو بڑے دانتوں میں سے ایک دانت یا تو ٹوٹا ہوا ہے یا بالکل ہی غائب ہے۔ اِسی اثناء میں ایک اور خیال میرے دِل میں پیدا ہوا۔ ممکن ہے کہ ہے یہ شیر نہ ہو، بلکہ شیرنی ہو، کیونکہ میں جانتا تھا کہ ملایا کے ان علاقوں میں اکثر شیرنیاں ہی آدم خور بن جایا کرتی ہیں۔
مزدوروں نے لاش کو دوبارہ وہاں لے جانے سے انکار کر دیا۔ مجبور ہو کر میں نے ان سے مزدور کے خون آلود کپڑے حاصل کیے، کیونکہ شیر پھنسانے کی ایک نئی تجویز میرے ذہن میں آ چکی تھی۔ میں نے سپاہیوں کو تو رخصت کیا اور اپنے ڈرائیور کو ساتھ لے کر اسی کشتی کے ذریعے جرنگاؤ پہنچا اور وہاں لوگوں سے آدم خور کے بارے میں تمام تفصیلات حاصل کیں۔ مجھے تعجّب ہوا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران میں کسی شخص نے آدم خور کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا تھا۔ البتہ اس کے غرّانے اور بولنے کی آوازیں ضرور سنی تھیں۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ مجھے وہ مقام دکھایا جائے جہاں مزدور کی لاش پڑی ملی تھی۔ گاؤں سے ساٹھ آدمیوں کا ایک گروہ تیار ہوا اور پھر دریا کے کنارے کنارے جنگل کی طرف چلے۔ میں اس امّید پر زمین کو دیکھتا جا رہا تھا کہ کہیں نہ کہیں آدم خور کے پنجوں کے نشانات دکھائی دیں گے جن سے اس کے نر یا مادہ ہونے کا پتہ لگ سکے گا۔ مگر دور تک کوئی نشان دکھائی نہ دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہاں زمین پر خشک گھاس اگی ہوئی تھی اور خشک گھاس میں شیر کے پنجوں کے نشانات تلاش کرنا ناممکن بات تھی۔
چونکہ دِن کا بڑا حصہ باقی تھا اور چمکیلی دھوپ جنگل میں پھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ شام سے پہلے پہلے اپنی تدبیر کو عملی جامہ پہنا دینا چاہیے۔ ایک گھنٹے کے بعد ہم اس مقام پر پہنچے جہاں مزدور کی لاش پڑی دیکھی گئی تھی۔ یہ دراصل ایک وسیع و عریض دلدلی قطعہ تھا۔ جس کے اوپر گھاس اُگی ہوئی تھی اور بہت کم لوگ ادھر سے گزرنے کی جرأت کرتے تھے۔ اس قطعے کے کنارے جھاڑیوں کے اندر، جہاں دن کے وقت بھی اندھیرا سا محسوس ہوتا تھا، شیر نے لاش چھپائی تھی۔ اردگرد کی زمین پر اس کے پنجوں کے بڑے بڑے نشانات بھی موجود تھے۔ اور پہلی نظر میں پتہ چل گیا کہ آدم خور شیرنی نہیں، شیر ہے۔
میں نے ان نشانات کا تعاقب کیا تو یہ جنگل کے اس حصے کی جانب جاتے تھے، جس کے پار ربڑ کے درختوں کا بہت لمبا چوڑا جنگل اُگا ہوا تھا اور جہاں صبح سے لے کر سورج غروب ہونے تک سینکڑوں مرد، عورتیں اور بچے ربڑ جمع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کی موجودگی کے باعث جنگل میں منگل کی سی کیفیت چھائی رہتی تھی، مگر اب وہاں ایک بھیانک سناٹے کے سوا کچھ نہ تھا۔ کبھی کبھی کسی پرندے کے پھڑپھڑانے اور جنگلی طوطوں کے چیخنے کی آوازیں اس سکوت کو توڑتی ہوئی ہمارے کانوں تک آتی تھیں۔
ربڑ کے اس وسیع قطعے کے مشرقی کنارے پر ایک پگڈنڈی تھی جو گاؤں تک جاتی تھی اور اس پر اکثر آمد و رفت رہتی تھی اور یہیں آدم خور نے اس مزدور پر حملہ کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ راستہ بھی گاؤں والوں کے لیے محفوظ نہیں رہا تھوڑی سی کوشش کے بعد مجھے قطعی طور پر اندازہ ہو گیا کہ شیر نے بدنصیب مزدور پر کس طرح حملہ کیا ہوگا۔ اور میں نے اس حادثے کی بکھری ہوئی کڑیاں اس طرح ترتیب دیں کہ جھٹپٹے کے وقت شیر حسبِ معمول شکار کی تلاش میں نکلا اور پھرتا پھراتا ربڑ کے درختوں کے طرف آن نِکلا اور یہیں اس نے ایک درخت پر مزدور کو دیکھا جو اپنا کام تقریباً ختم کر چکا تھا۔ درخت سے بندھے ہوئے برتن ربڑ سے پُر ہو چکے تھے۔ اور اب انہیں لے جانے کے لیے کھول رہا تھا۔ شیر نے موقع غنیمت سمجھا اور بِلّی کی مانند دبے پاؤں ربڑ کے درختوں کے درمیان چلتا ہوا اس مزدور کے عقب میں کوئی پندرہ گز دور ایک گِرے ہوئے درخت کے پیچھے چھپ کر اسے دیکھتا رہا۔ اسے امید تھی کہ یہ شخص اب اس طرف آئے گا۔ لیکن جب شیر نے دیکھا کہ وہ دوسری جانب جا رہا ہے تو وہ غصّے سے غرایا اور پوری قوت سے دوڑا اور اس سے پیشتر کہ حواس باختہ مزدور اپنے بچاؤ کی تدبیر اختیار کرے، شیر نے اسے نیچے گرا دیا۔
اس مزدور کی دو تین چیخیں جنگل کی خاموش فضا میں گونجیں اور دور فاصلے پر کام کرنے والوں کے کانوں میں گئیں۔ اس نے شیر کےغرانے اور دھاڑنے کی آواز بھی ایک مرتبہ سنی اور پھر وہی بھیانک سکوت جنگل پر طاری ہو گیا۔ اس مزدور نے بعد میں مجھے بتایا کہ ‘شیر کی آواز سن کر میں سمجھ گیا کہ ضرور کوئی شخص اس کے ہتھے چڑھ گیا ہے، لیکن مجھے وہاں جانے کی جرأت نہ ہوئی۔ میں نے اپنا ربڑ وہیں چھوڑا اور گاؤں کی طرف بھاگ گیا۔‘
میں نے اس گرے ہوئے درخت کا معائنہ کیا جہاں شیر مزدور پر حملہ کرنے سے پہلے چھپا تھا۔ اور وہاں میں نے اس کے پنجوں کے گہرے نشانات پائے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اپنے شکار پر حملہ کرنے سے پیشتر پوری تیاری میں تھا اور جس طرح بلّی شکار پر جھپٹتے وقت اپنی گردن اور پیٹ جھکا لیتی ہے اور پچھلے پنجوں پر پورا بوجھ پڑتا ہے، اسی طرح شیر نے بھی دو چھلانگیں لگائیں اور بے خبر مزدور کو جا لیا۔ شکار پر حملہ کرتے ہوئے شیر کے چھلانگیں لگانے کا انداز جن شکاریوں نے دیکھا ہے، وہی سمجھ سکتے ہیں کہ اس وقت دہشت کا کیا عالم ہوتا ہے۔
شیر نے جب دیکھا کہ شکار ٹھنڈا ہو گیا، تو وہ اسے گھسیٹ کر اس مقام تک لے گیا جہاں وہ اس سے پہلے بھی کئی آدمیوں کو لے جا کر ہڑپ کر چکا تھا۔ میں نے اس مقام پر کئی انسانی ہڈیاں پڑی پائیں اور یہ جھاڑ جنکاڑ سے پُر ایسی جگہ تھی کہ اگر اتفاق رہنمائی نہ کرتا تو کوئی بھی یہاں اس مزدور کی لاش نہ پا سکتا تھا۔ اس مقام پر میں نے شیر کے بیٹھنے اور آرام کرنے کی واضح علامات بھی پائیں، گویا دوسرے الفاظ میں آدم خور رہتا بھی یہیں تھا۔
اب مجھے ایک ایسے مناسب درخت کی تلاش تھی جہاں میں مچان باندھ کر کسی خطرے کے بغیر اطمینان سے بیٹھ کر شیر کا انتظار کر سکوں اور وہ مجھے نہ دیکھ سکے۔ ربڑ کے درخت ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر قطعاً اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس موقعے پر انہی میں سے ایک اونچے درخت کا اعتبار کرنا پڑا۔ میرے ڈرائیور نے جلدی سے اس پر چڑھ کر دو مضبوط شاخوں کے درمیان رسیّوں سے ایک تختہ باندھا۔ جس پر میں بیٹھ سکتا تھا اور لیٹنا چاہتا تو تھوڑی دیر کے لیے لیٹ بھی سکتا تھا۔ اپنے آپ کو شیر کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنے کے لیے تختے کے اردگرد کی شاخوں پر دوسرے درختوں سے پتّوں کی ٹہنیاں اور گھاس پھونس جمع کی گئی اور اسے بھی ڈوریوں کے ذریعے باندھ دیا گیا۔ اب میں ان پتوں اور گھاس کے اندر اس طرح چھپ گیا تھا کہ درخت کے نیچے کھڑا ہوا کوئی بھی شخص میری موجودگی سے آگاہ نہ ہو سکتا تھا۔
اس کام سے فارغ ہو کر ہم نے اب دوسرا مرحلہ طے کیا۔ مزدور کے خون آلود کپڑے میرے پاس تھے۔ میں نے اسی جگہ جہاں لاش ملی تھی، یہ کپڑے گھاس پھونس کا ایک انسانی جسم بناکر اس پر پھیلا دیئے۔ دور سے دیکھنے پر کوئی بھی دھوکہ کھا جاتا کہ یہ آدمی مرا پڑا ہے۔ اگرچہ مجھے پورا یقین نہیں تھا کہ شیر آج رات ضرور ہی ادھر آئے گا تاہم میں نے ارادہ کر لیا کہ مسلسل کئی راتوں تک اس کا انتظار کروں گا۔ اس لیے میں نے ڈرائیور سے کہہ دیا کہ جرنگاؤ ہی میں میری رہائش کا انتظام کرے اور کوئی مناسب سا مکان تلاش کرے تاکہ میں ڈنگن سے اپنی بیوی کو بھی بلوا لوں جو میری ان سرگرمیوں پر بہت خوفزدہ رہتی ہے اور اگر میں چار پانچ روز تک واپس نہ گیا تو وہ یہی سمجھے گی کہ شیر نے مجھے بھی اپنا لقمہ بنا لیا ہے۔
چونکہ مجھے شیر کے انتظار میں رات بھر جاگنا تھا۔ اس لیے میں نے تھرماس میں گرم چائے بھروا کر اپنے پاس رکھوا لی۔ سگرٹوں کے پیکٹ، ماچس اور برقی ٹارچ میرے پاس پہلے ہی سے موجود تھی۔ جب شام کے سائے گہرے ہونے لگے اور پرندوں کی ٹولیاں اپنے اپنے آشیانوں کو واپس آنے لگیں تو میں نے اپنے ڈرائیور صالح بن محمود کو جرنگاؤ چلے جانے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ علی الصبح آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے جائے۔
سورج غروب ہوتے ہی فضا میں خنکی بڑھنے لگی اور اب مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا کہ میں نے سردی سے بچنے کا تو کوئی انتظام ہی نہیں کیا۔ کم از کم ایک کمبل ہی منگوا لیتا۔ اب تو ڈرائیور یہاں سے جا چکا۔ رات بھر مجھے سردی سے ٹھٹھرنا پڑے گا۔ میری جیبوں میں اتفاق سے دستانے موجود تھے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ ہاتھوں کو تو سردی سے بچایا جا سکتا ہے، ورنہ رائفل چلانے میں بڑی دقّت ہوتی۔ میں نے گھڑی پر نظر ڈالی، سات بج رہے تھے اور جنگل میں گھپ اندھیرا چھا چکا تھا۔ ہر شے پر سکوت طاری تھا۔ دلدل کے اوپر جھاڑیوں کے قریب بہت سے جگنو چمک کر شراروں کی مانند اڑ رہے تھے۔ میں دیر تک انہیں دیکھتا رہا۔
مجھے قطعاً احساس نہیں ہوا کہ میں کب نیند کی آغوش میں پہنچ گیا۔ اچانک میری آنکھ کھلی۔ ایک اُلو کہیں بھیانک آواز میں چیخ رہا تھا۔ سردی کا اثر زائل کرنے کے لیے میں نے تھرماس سے چائے نکال کر پی اور سگرٹ سلگا لیا۔
تھوڑی دیر بعد مشرق کی جانب سے پچھلے پہر کے زرد چاند کا ابھرتا ہوا چہرہ دکھائی دیا اور جنگل میں مدھم سی سوگوار روشنی پھیل گئی، جس میں ہر شے ساکت اور خاموش دکھائی دیتی تھی میں نے اپنی چھٹی حِس کو بیدار پایا اور رائفل سنبھال کر مصنوعی لاش کی طرف دیکھنے لگا چس کے اوپر رکھی ہوئی ہڈّی دکھائی دے رہی تھی۔ دفعتہً میں نے دلدل کے قریب کھڑکھڑاہٹ اور خشک پتّوں کے چرچرانے کی آواز سنی۔ میں سانس روک کر بیٹھ گیا اور پلک جھپکائے بغیر اُدھر تکنے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ آدم خور مصنوعی لاش کے قریب کھڑا ہے اور غالباً اسے بھی کسی ‘دشمن’ کی موجودگی کا احساس ہو گیا ہے۔ میرا دل دھڑکنے لگا اور سردی کے باوجود پیشانی پر پسینے کے قطرے پھوٹنے لگے۔ بلند مچان پر بیٹھنے اور کئی شیروں کو ہلاک کرنے کے باوجود مجھ پر آدم خور کا خوف سوار ہو گیا کیونکہ یہ اس سے میرا پہلا سابقہ تھا۔
میں نے ابھی تک اسے دیکھا نہیں تھا اور جانتا تھا کہ اگر میری جانب سے اس نے ذرا سی بھی آہٹ پائی تو وہ فرار ہو جائے گا اور پھر کبھی ادھر کا رخ نہ کرے گا۔ پس میں سانس روکے اپنی جگہ بیٹھا رہا۔ چند منٹ بعد درختوں کے پار میں نے اس کی ہلکی سی جھلک دیکھی وہ دبے پاؤں چل رہا تھا۔ پھر اس نے مُنہ پھیر کر اس جانب دیکھا، جدھر میں بیٹھا ہوا تھا اور خون میری رگوں میں جمنے لگا۔ خدا کی پناہ۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں انگاروں کی مانند دہک رہی تھیں، لیکن ارادے کے باوجود فائر کرنے کی جرأت نہ ہوئی۔ چند سیکنڈ بعد آدم خور میری نظروں سے اوجھل ہو گیا، تو میری جان میں جان آئی اور مجھے اپنی بزدلی پر شرم آئی کہ شیر سے اس قدر فاصلے پر اور مچان پر محفوظ ہونے کے باوجود میں اس سے ڈر رہا ہوں۔
ایک بار پھر میں نے جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ سنی، آدم خور غالباً مصنوعی لاش کو نوچ رہا تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو وہ اس طرح کھڑا تھا کہ مجھے اس کی پشت دکھائی دے رہی تھی۔ میں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر نشانہ باندھا اور خدا کا نام لے کر لبلبی دبا دی۔ رائفل کے منہ سے شعلہ نکلا اور جنگل گونج اٹھا۔ میں نے صرف اتنا دیکھا کہ شیر نے ایک ہولناک گرج کے ساتھ جست کی اور دوڑتا ہوا ادھر چلا گیا، جدھر سے آیا تھا۔ اس کے غرانے اور گرجنے کی آوازوں سے جنگل دیر تک لرزتا رہا اور پرندے اپنے اپنے گھونسلوں سے نکل کر فضا میں اڑنے لگے اور بندروں نے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ میں حیران تھا کہ کہ صحیح نشانہ باندھنے کے باوجود بچ کر نکل گیا۔ ممکن ہے وہ زخمی ہو چکا ہو۔ یہ خیال آتے ہی میرے دل کی ڈھارس بندھی اور میں صبح کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن آدھے گھنٹے بعد ہی جنگل میں لالٹینوں کی روشنیاں۔۔۔۔۔ اور پھر بہت سے آدمیوں کے قدموں کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔۔ جرنگاؤ کے آدمیوں تک رائفل کی آواز پہنچ گئی تھی۔
بارہ آدمی لاٹھیاں اور لالٹینیں لیے نمودار ہوئے ان کے ساتھ بندوقیں سنبھالے ہوئے تین سپاہی اور میرا ڈرائیور صالح بن محمود تھا۔ انہوں نے سیڑھی لگا کر مجھے نیچے اتارا اور پھر ہم نے اس مقام کا معائنہ کیا جہاں شیر کھڑا تھا۔ اس نے مصنوعی لاش کو نوچ ڈالا تھا۔ اس کے پنجوں کے نشان زمین پر گہرے تھے اور قریب ہی ایک شاخ پر میری رائفل سے نکلی ہوئی گولی کا نشان تھا۔ آدم خور بال بال بچ گیا تھا۔
صبح کاذب کا دھندلکا آسمان کے مشرقی گوشے پر شفق کی ہلکی سرخی میں آہستہ آہستہ تبدیل ہو رہا تھا۔ میں مایوسی کی حالت میں منہ لٹکائے ان لوگوں کے ساتھ جرنگاؤ چلا آیا۔ رات بھر کا جاگا ہوا تھا۔ اس لیے خوب گھوڑے بیچ کر سویا۔ سہ پہر کے بعد میری آنکھ کھلی تو میں نے سب سے پہلے اپنے ڈرائیور سے پوچھا کہ آدم خور کے بارے میں کوئی تازہ خبر ملی؟ اس نے اثباب میں سر ہلایا اور کہا! ‘شیر کے پنجوں کے نشانات جرنگاؤ کے اندر پائے گئے ہیں۔ لیکن اسے کسی آدمی پر حملہ کرنے کا موقع نہیں مِلا۔ بھوکا ہونے کے باعث اس نے ایک گائے کو ہلاک کیا اور گھسیٹ کر لے جا نہ سکا۔ سبھی لوگ اس واقعے سے بے حد خوف زدہ ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ وہ اس وقت تک گھروں سے باہر قدم نہیں رکھیں گے جب تک اس بلا کا خاتمہ نہ ہو جائے۔ گیم ڈیمپارٹمنٹ والوں نے وعدہ کیا کہ وہ عنقریب چند تجربہ کار شکاری بھیج رہے ہیں۔
‘گائے کو شیر نے کہاں ہلاک کیا؟’ میں نے سوال کیا۔
‘باڑے میں گھس کر۔’ محمود نے جواب دیا۔ ‘آپ کو معلوم ہے کہ گاؤں کے سب مویشی ایک ہی باڑے میں رات کو بند کیے جاتے ہیں۔ لکڑی کے مضبوط تختوں کی ایک وسیع چار دیواری ہے جس کی اونچائی چار فٹ ہے اور شیر اس کے اندر چھلانگ لگا کر بخوبی داخل ہو سکتا ہے۔ گزشتہ رات جب آپ نے شیر پر فائر کیا تو وہ بے چین ہو کر ادھر ادھر گھومتا رہا۔ اسے یقیناً بھوک ستا رہی تھی۔ پس وہ گاؤں میں گھس گیا۔ وہاں کتّوں نے اسے دیکھ کر بھونکنا شروع کیا تو وہ مویشیوں کے باڑے میں پھلانگ گیا اور ایک گائے کو گرا لیا۔ شیر کے اندر آتے ہی سو ڈیڑھ سو مویشیوں میں بھگدڑ مچ گئی جس نے شیر کو بدحواس کر دیا اور وہ غرّاتا ہوا وہاں سے نکلا اور جنگل کی جانب چلا گیا۔ آپ چائے پی کر میرے ساتھ چلیے، تو میں گائے کی لاش اور شیر کے پنجوں کے نشان آپ کو دکھا دوں۔’
میں نے جلد جلد چائے زہر مار کی اور محمود کے ساتھ گائے کی لاش دیکھنے چلا۔ باڑے کے باہر ریتلی زمین پر شیر کے پنجوں کے گہرے نشان دکھائی دیے۔ جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس نے اندر داخل ہونے سے پہلے چاروں طرف چکر لگایا اور جب وہ باڑے میں کودا تو جانوروں میں ہل چل مچ گئی۔ شیر نے طیش میں آکر ایک گائے پر حملہ کیا اور اسے شدید زخمی کر دیا لیکن اس دوران میں دوسرے مویشیوں نے شیر کے خوف سے ادھر ادھر دوڑنا اور اچھلنا شروع کر دیا ۔ شیر اپنے شکار کا خون بھی چکھ نہ سکا اور بدحواس ہو کر باہر بھاگ گیا، اتنے میں گاؤں کے بہت سے لوگ مویشیوں اور شیر کے غرانے کی آواز سن کر وہاں پہنچ گئے۔ اگرچہ اندھیرا کافی تھا مگر انہوں نے شیر کی سرخ آنکھیں دیکھ ہی لیں۔ افسوس کہ ان میں سے کسی کے پاس رائفل نہ تھی ورنہ آدم خور کا کام اسی وقت کام تمام ہو جاتا۔ یہ لوگ ہاتھوں میں لاٹھیاں لیے ہوئے تھے اور اگر ہمت کر کے شیر کو گھیر کر اس پر لاٹھیاں برسا دیتے تو یقیناً اس کا کچومر نکل جاتا۔
میں نے گائے کی لاش کو وہاں سے اٹھوایا اور جنگل میں عین اس مقام پر رکھوا دیا جہاں گزشتہ رات مصنوعی لاش بناکر رکھی گئی تھی۔ مجھے اب ایک بار پھر شیر کے انتظار میں اسی مچان پر رات کاٹنی پڑی۔
وقت مقررہ پر میں کیل کانٹے سے لیس ہو کر مچان پر پہنچ گیا اور آدم خور کا انتظار کرنے لگا۔ اس مرتبہ مجھے یقین تو نہیں تھا کہ وہ ادھر کا رخ کرے گا تاہم اس کا یہاں آنا محال بھی نہ تھا۔ قصّے کو مختصر کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ رات ایک بجے جب میرے اعصاب پر میرے پژمردگی طاری ہو چکی تھی اور میں آدم خور کی آمد سے تقریباً مایوس ہو چکا تھا کہ درختوں پر بسیرا کرنے والے سینکڑوں پرندے یکایک اپنے اپنے آشیانوں سے اڑے اور فضا میں سایوں کی مانند چکر کاٹنے لگے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ شیر اپنی کمین گاہ سے برآمد ہو چکا ہے۔ اور شکار کی تلاش میں پھر رہا ہے۔ دفعتہً میرے ذہن میں ایک تدبیر آئی جو میں اپنے ایک پیشرو شکاری۔۔۔۔۔ کینتھ اینڈرسن کے حالات میں دیکھ چکا تھا کہ جب وہ شیر کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تو اونچی آواز میں بولنا یا گانا شروع کر دیتا۔ آدم خور شیر چونکہ انسانی آواز فوراً پہچان لیتا ہے۔ اس لیے بے دھڑک اس جانب دوڑ کر آتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی بھولا بھٹکا انسان جنگل میں آنکلا ہے جسے تر لقمہ بنایا جا سکتا ہے۔
اگرچہ یہ حربہ ایک حماقت ہے لیکن اس کے موثر ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ میں نے یہ محسوس کر کے شیر قریب ہی موجود ہے، اونچے لہجے میں بولنا اور نادیدہ لوگوں کی آوازیں دینی شروع کر دیں۔ چند منٹ بعد اچانک ایک جانب سے شیر کے غرّانے کی ہلکی سی آواز آئی۔ اور میرا کلیجہ سمٹ کر حلق میں آ گیا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ اس درندے کی آواز میں کیسا دبدبہ اور رعب تھا کہ نڈر سے نڈر آدمی کی ایک مرتبہ گھگھی بندھ ہی جاتی ہے۔
میرے چاروں طرف گھپ اندھیرا تھا۔ اور میں بار بار مشرق کی طرف دیکھتا کہ پچھلے پہر کا چاند نمودار ہونے میں کتنی دیر ہے تاکہ شیر کی موجودگی کا صحیح اندازہ کرسکوں۔ میری رائفل پر اگرچہ طاقتور برقی ٹارچ لگی ہوئی تھی لیکن جب تک شیر کی صحیح پوزیشن کا علم نہ ہو جائے، ٹارچ روشن کرنا حماقت تھی۔ شیر اس کی روشنی دیکھتے ہی فرار ہو جاتا ہے۔
چند منٹ تک جنگل پر موت کا سا سکوت طاری رہا۔ فضا میں اڑتے ہوئے پرندے اب آہستہ آہستہ درختوں پر جمع ہوتے جا رہے تھے۔ شیر یقیناً کسی درخت کی اوٹ میں کھڑا منتظر تھا کہ ‘راہ گیر’ اس کے پاس سے گزرے، تو وہ حملہ کرے۔ میں نے ایک بار پھر گانا شروع کر دیا ۔ اور اب جواب میں شیر غرایا۔۔۔۔۔۔ اب میں اس کی آواز کا رخ پہچان لیا۔ چاند نکلنے کا انتظار فضول تھا۔ میں نے خدا کا نام لے کر رائفل کی نالی اس طرف پھیری۔ اور ٹارچ روشن کر دی۔ آدم خور ایک بھیانک آواز کے ساتھ دھاڑا اور چھلانگیں لگاتا ہوا میرے سامنے سے گزرا۔ بس وہی لمحہ تھا کہ میں نے نشانہ لیے بغیر فائر کر دیا ۔ شیر نے ایک قلابازی کھائی اور وہیں گر پڑا۔ میں نے فوراً دوسرا فائر کیا اور یہ گولی بھی شیر کے شانے میں پیوست ہوگئی۔ اور چند منٹ بعد وہ سرد ہو چکا تھا۔
میں فرطِ مسّرت سے بے تاب ہو کر مچان سے درخت پر پھسلتا ہوا اترا اور شیر کی جانب بھاگا۔ اس کا دم لبوں پر تھا۔ جبڑا کھلا ہوا تھا۔ اور سرخ آنکھیں اپنی چمک زائل کرتی جا رہی تھیں۔ مجھے قریب دیکھ کر اس نے آخری کوشش کی اور میری جانب جست کی۔ میں اسے مردہ سمجھ کر قطعاً غافل تھا۔ شیر میرے اوپر آن پڑا۔ اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے بوجھ سے میری کمر ٹوٹ جائے گی۔ رائفل میرے ہاتھ سے چھوٹ کر ایک طرف جا گری۔
اب مَیں آدم خور کے رحم و کرم پر تھا۔ میں نے اپنے حواس بحال کر کے اس کے بوجھ سے آزاد ہونے کی کوشش میں پوری قوت صرف کر دی اور جھپٹ کر رائفل اٹھالی اور دو گولیاں اس کی کھوپڑی میں اتار دیں۔ آدم خور کے پیر تھرتھرائے اور وہ بالکل ختم ہو گیا، اور اس طرح جرنگاؤ کا وہ آدم خور جس نے کئی انسانی جانوں کو ہڑپ کیا تھا بالآخر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: