Aangan main utray chand by Mariam Sajid – Episode 1

0
آنگن میں اترے چاند از تحریر مریم ساجد – قسط نمبر 1

–**–**–

اصول تو یہ ہونا چاہیے جو سالن بنا ے برتن بھی اسے ہی دھونے چاہییں ۔سنک پر جھکا وجود جو جلی ہوئی دیگچی مانجتے ہوئے خود بھی جل بھن رہا تھا ۔بولا
بالکل ٹھیک ! اور جو گند ڈالے اسے ہی فر ش چمکانا چاہیے ۔فرش پر پونچھا لگاتے وجود نے بھی دہائ
ہاں! سب کو اپنے کپڑے بھی خود دھونے چاہیے! کچن کے پچھلے دروازے کے پاس واشنگ مشین لگاے ایک اور وجود میدان میں کودا۔
کیوں کیوں کیوں؟؟؟ ڈسٹنگ کرتا وجود تڑپ کر سیرھا ہوا۔یہ اس کے لیے سب سے نا پسندیدہ کام تھا
ارے تم لوگوں نے ابھی تک اپنا کام ختم نہیں کیا؟؟؟ اوپر سے مزید تین افراد نیچے
دیکھ لو ہم جیت گیے حلانکہ ہماری تعداد کم تھی
بڑا تیر مار لیا ہے تم لوگوں نے تو ‘ ہمارا کام دیکھو اور اپنا کام ۔۔۔
برتن دھوتا وجود تو کچھ زیادہ ہی تھکا ہوا تھا ۔آدھے برتن ادھورے چھوڑ کر لاوُنج کے صوفہ پر نیم دراز ہو گیا ۔
ماسی مصیبتے! تمہیں تو ہر کام ہی بڑا لگتا ہے۔
اوپر سے آے افراد میں سی ایک بولا تو دوسرے نے اسکی تا ئید کرتے ہوئے کہا۔
ہر کام نہیں بلکہ صرف وہ کام جو اس نے کرنا ہو ۔۔۔
آ ۔۔اچھا !! صوفہ پر نیم دراز وجود تڑپ کر سیدھا ہوا۔۔
تو پھر ٹھیک ہے کل سے برتن تم دھونا ۔۔
اوکے ! اور کل سے اوپر کے سارے کمروں کی ڈسٹنگ اور ہر اتوار کو تمام کمروں کے باتھ روم اور وارڈ روب آپکے زمے ۔۔
ارے واہ !!! میں کیوں کروں یہ سارے کام؟؟؟
کیوں کے میرے زمے بھی یہی کام ہیں۔اب اگر آپکے حصے کے کام میں نے لیے ہیں تو میرے حصے کے سارے کام آپکو کرنے ہیں اور ہاں ساتھ میں شام کی چا ے بھی بنانی ہے ۔ہفتے میں چار دن ۔۔اس نے ساری تفصیل بتائی بس بس! میرے زمے جو کام ہیں وہی بہت ہے۔سوار ی مرے مرے قدموں سے اٹھ کر چلتی ہوئی واپس کچن میں غروب ہو گئی ۔۔
او ہو بھی ے تو انکا روز کا معمو ل ہے ۔چلیے ان سے تعارف حاصل کرتے ہیں اور مکمل تعارف کے لیے آپکو گھر سے باہر آنا پڑے گا ۔۔۔۔
ہاں جی! تو جو یہ سلور گرے کلر کا گیٹ ہے نا ۔۔۔۔
چلیے بسم اللّه کریں اور اندر قدم رکھیں ۔۔۔۔سر خ پتھروں کی روش ۔۔۔۔۔اس گیٹ سے شرو ع ہوتی ہے اور دوسرے گیٹ تک جا پہنچتی ہے ۔۔
وہ دیکھے ذرا وہ بنگلے کے دائیں جانب کون ہے بھلا ! چلیں پہلے ان سے ہی تعارف حاصل کرتے ہیں ۔۔۔۔
بس آیندہ میں نے کپڑے نہیں دھونے ۔۔
غضب خدا کا ۔پورے ہفتے کے کپڑے دھونا کوئی آسان بات ہے اور وہ بھی پورے آٹھ لوگوں کے۔۔بس ختم۔۔۔۔۔
یہ اعلان کرنے والے وڑائچ صاحب کے چوتھے نمبر والے بیٹے عمیر صاحب ہیں ۔جو خالص دھو بیو ں والے انداز میں کپڑے پٹخ رھے ہیں اور ساتھ ساتھ زور و شور سے بڑبڑا رھے ہیں۔چلیے آگے چلتے ہیں ۔۔۔۔
یہ تو کچن ہے اور برتنوں پر اپنا غصہ نکالتے ہوئے اس گھر کے دوسرے نمبر والے سپوت شہر یار صاحب ۔۔بر تنو ں سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے مگر وہ یہ کام چھوڑنا بھی نہیں چاہتے ۔۔۔۔کیوں ؟ یہ تو شہریار صاحب ہی جانیں
چلیں اور آگے چلتے ہیں۔یہ تیسرے نمبر والے موصوف فہد وڑائچ ہیں۔گندگی ان سے بالکل برداشت نہیں ہوتی سو پونچھا لگانا انکی پارٹ ٹائم ہو بی ہے۔
اور یہ جو لاو ُنج میں صوفوں پر افراد بیٹھے ہیں۔ان میں دائیں ہاتھ پر چنیل سرچنگ کرتے ہوئے موصوف وڑائچ صاحب کے عہد اور سب سے بڑے صاحب زادے آفاق وڑائچ ہیں۔
ان کے ساتھ ہی یہ جو کیمسٹری کی کتاب میں منہ گھسیڑے رٹا لگانے میں مسروف ہیں یہ ہیں سب سے چھوٹے میاں یعنی سب سے چھوٹے صاحب زادے عاصم وڑائچ اور یہ جو دوسرے صوفہ پر بیٹھے ہوئے مسلسل میگزین کھنگال رھے ہیں یہ ہیں قاسم وڑائچ ۔نہا یت منہ پھٹ واقع ہوئے ہیں مو صوف ۔۔۔۔
ارے ارے ذرا دیکھ کر ۔۔۔۔۔کوئی ڈنڈا لے کر آرہا ہے ۔۔۔۔ڈریں نہیں ۔۔۔۔ارے بھی جا لے اتارنے ہیں اس ڈنڈے سے آپکو تھوڑی مارنا ہے۔۔۔لیکن یہ ہے کون ! آ ں ہاں اب سمجھ ای آپکی حیرانی کی وجہ ۔ ۔۔۔۔
عمیر صاحب اتنے اچھے نہیں کے ایک وقت میں دو دو کام کریں ۔بھی یہ تو اپنے عزیر صاحب ہیں۔عمیر کے جڑواں بھائی ۔۔۔صرف چند منٹ چھوٹے ہیں عمیر صاحب سے سو ان کا نمبر پانچواں بنتا ہے شکلاً بھی جڑ واں اور عادتاً بھی جڑواں ۔۔۔حد سے زیادہ شیطانی دماغ رکھتے ہیں یہ دونو بھائی اور قاسم سے ان دونوں کی نہیں بنتی کیوں کے قاسم صاحب کو تو مرض لاحق ہے ہر راز بیچ چوراہے پر پھوڑنے کا تو بھلا ایسے بندے کے ساتھ ان کا گزارا ہو سکتا ہے ؟؟؟؟
گھسڑ گھسڑ گھسڑ سڑپ گھسڑ!! ارے یہ تو دیکھے بھلا کون ہیں قمیض دھوتی کے ساتھ ہوائی چپل پہنے ایک بازو میں اچار والا مر تبا ن ایسے جکڑ ے ہوئے جیسے ذرا سی گر فت ڈھیلی ہوئی تو مرتبا ن صاحب چھلانگ لگا کر یہ جا وہ جا ہو جایں گے اور دوسرے ہاتھ سے اپنی دھوتی سنبھالنے میں مصروف ۔۔۔۔
اوں ہوں ۔۔۔کچھ غلط مت سوچئے
با ادب با ملاحظہ ہوشیار
یہ ہیں اس گھر کے سربراہ چودھری شیراز وڑائچ صاحب ۔۔۔۔۔
ارے آپ تو بیہوش ہونے لگے ۔یہ تو بھئ ایسے ہی ہیں ۔۔۔
یہ تو تھے اس گھر کے جملہ افراد ۔۔۔۔
اں ۔۔۔۔صنف نازک کے نام پر اس گھر میں چند ماہ پہلے ایک بوا رہتی تھی مگر پھر انکا انتقال ہو گیا اور یہ گھر صنف نازک سے محروم ہو گیا ۔۔۔۔چودھری صاحب کی بیگم کا انتقال تو عاصم کی پیدائش پر ہی ہو گیا تھا ۔۔۔۔سو اب اس گھر کا صنف نازک سے تعلق نام کی حد تک ہی تھا یعنی
قصر ِ لائلہآج اتوار تھا۔۔۔۔اس لیے یہ سب اس حلیے میں نظر آرہے تھے ورنہ چودھری شیراز صاحب اس شہر کے مشہور بزنس مین ہیں اور آفاق بھی انکا ہاتھ بٹا تا ہے جب کہ شہریار ایک زہین انجنیئر ہے البتہ یہ ذہانت اور قابلیت صرف انجینرنگ تک ہی ہے۔ورنہ گھر کے کاموں میں خاصا پھوہڑ قسم کا مرد ہے ۔۔
فہد وڑائچ ایک قابل ڈاکٹر ہیں اور شہر کے مشہور ہسپتال سے وابستہ ہیں ۔خاصے صلح جو قسم کے ہیں۔مگر انکی ایک خامی انکی سب خوبیوں پر بھاری ہے۔وہ یہ کہ موصوف ڈاکٹر تو بن گے مگر بلا کے بھلکڑ ہیں۔۔اپنی اس عادت سے وہ خود بھی عاجز ہیں اور دوسروں کو بھی عاجز کیے رکھتے hen
عمیر اور عزیر دونوں MBA فائنل کے نہا یت زہین طالب علم ہیں۔قاسم شہریار کے نقش قدم پر چلتا ہوا اب انجینرنگ کے پہلے سال میں ہے جب کہ عاصم اپنے فہد بھائی کو idealize کرتا ہوا پری میڈیکل فرسٹ ایر میں تھا۔۔۔
شیراز صاحب نے ان سب لڑکوں کو حقیقتاً ماں بن کر پالا تھا۔صبح صبح اٹھ کر سب کے لیے ناشتہ بنانا لنچ بنا کر بیگ میں ڈالنا ۔قاسم اور عاصم کو اسکول کے لیے تیار کرنا۔پھر رات کہ کھانا بنانا ان لوگوں کو ہوم ورک کروانا پیرنٹس ٹیچر meating بھگتانا ۔غرض کے شیراز صاحب نے حقیقتاً بہت ٹف اینڈ ٹائٹ زندگی گزاری ملازم رکھنا وہ افو رڈ تو کر سکتے تھے مگر کوئی ٹکے بھی تو سہی ۔۔
ان لڑکوں کے بیچ گھن چکر بن کر ہر نوکر ایک ماہ بھی بمشکل گزار پاتا اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوتا۔اگر ایک کو چاے چاہیے تو دوسرے کو کافی تیسرے کو جوس چوتھے کو دودھ پانچویں کو کچھ اور ملا زم بیچارہ تو چکرا کے رہ جاتا۔
پھر کچھ ماہ پہلے شیراز ایک بوڑھی عورت کو نا جانے کہاں سے لے آے تو آہستہ آہستہ گھر کہ نظام درست ہونے لگا ۔لڑکے بھی بوا سے مانو س ہو گے ۔اب ہر کام وقت پر ہونے لگا۔سب کو اپنی اپنی ضرورت کی چیزیں آرام سے ملنے لگی۔اگر بوا ان سب کہ خیال رکھتی تھی تو یہ سب بھی بوا کا بہت خیال رکھتے تھے ۔انکی ضرور یات انکی ادویات اور انکا ریگولر چیک اپ۔غرض کہ بوا کی حیثیت اس گھر کے ایک فرد کی سی تھی۔
مگر یہ پر امن دور بھی بہت مختصر ٹھہرا ۔بوا کے انتقال کے بعد قصر لائلہ کا نظام ایک دفعہ پھر درہم برہم ہو گیا ۔پہلے پہل تو سب نے بڑھ چڑھ کر گھر کے کاموں میں حصہ لیا مگر جب مستقل طور پر کام سب کے ز مے لگ گے تو وہ جھنجھلا اٹھے ۔شیراز صاحب نے بھی اب پورا گھر ان کے حوالے کر دیا تھا
اویار خدا کے لیے۔کسی ایک چینل پر لگا رہنے دے۔ فہد نے شہریار کے ہاتھ سے ریموٹ چھیننے کی کوشش کی ۔مگر وو بھی سنبھل کر بیٹھا ہوا تھا۔
اسکے ہاتھ میں تو خارش ہوتی رہتی ہے۔آفاق نے بے زاری سے کہا۔
پاکستان اور انڈیا کا میچ لگا ہوا تھا اور ریموٹ شہریار کے ہاتھ میں تھا اور وہ اشتہارات کے دوران چنیل تبدیل کر دیتا اور وہ سب بد مزہ ہو جاتے۔
اس وقت وہ سب لاوُنج میں بیٹھے میچ دیکھ رھے تھے شیراز صاحب اپنے کسی کام سے گے ہوئے تھے جب کہ عمیر ابھی باہر گیا تھا اور عاصم اکیڈمی میں تھا۔
تم لوگ اپنی چونچیں بند کرو گے یا میں ٹی وی بند کر دوں ؟؟؟ آخر کار آفاق کو بڑے بھائی والا کردار ادا کرناپڑا ۔۔۔۔
ایکسکیوز می!
اس صدا پر سبکی نظریں اور گردنیں مشینی انداز میں مڑی ۔
ٹی وی لاوُنج کے آخری سرے پر پورے اعتماد سے کھڑی سیلز گرل ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ میچ بھول گیے
جی فرمایے ! باقی سب کہ سکتے سے نکلنے کا کوئی امکان نہیں تھا سو آفاق کو ہی پہل کرنی پڑی ۔۔۔
ایم سوری ! وہ گیٹ کھلا ہوا تھا تو میں اندر آگئی میں پنک روز کمپنی کی طرف سے ای ہوں۔ہماری کمپنی لپ سٹک ۔۔۔آئ شیدو ۔۔۔۔۔۔
وو اپنی پیشہ ورانہ مسکراہٹ کے ساتھ مختلف products کے نام گنوانے لگی
مس ! آپ کھڑی کیوں ہیں آہیں بیٹھیں نا۔
عزیر نے فورا ً اپنی جگہ خالی کی تو سیلز گرل ایک لمحے کے لیے کنفیوژ ہو گئی۔۔۔
کائنڈلی آپ اپنے گھر کی خواتین ۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے آپ پہلے بیٹھیں تو سہی۔۔۔۔
آفاق کے گھورنے کے با وجود عزیر نے اسے بیٹھنے کی پیشکش کردی۔۔۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب وہ بیچاری گھبرا گئی۔۔۔۔
ارے آپ لیکن ویکن چھوڑیں ۔۔بیٹھیں پلیز ۔۔۔پلیز۔۔۔۔شہریار نے بھی اصرار کیا تو وو بیٹھ گئی مگر اسکی چھٹی حس جاگ اٹھی تھی۔۔اسنے اپنا بیگ سینٹرل ٹیبل پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔جی تو مس۔۔ کھولیں اپنی پٹاری ۔۔۔۔فہد نے جھانک کر اسکے بیگ میں دیکھا۔۔۔۔
لیکن یہ تو۔۔۔۔۔۔۔اس نے ایک دفع پھر کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا لیکن قاسم نے اسکی بات کاٹ دی ۔۔۔۔
ایک تو آپ “لیکن” کا استمال بہت کرتی ہیں۔۔۔۔۔
دیکھیں آپ پلیز اپنے گھر گھر کی لیڈیز کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پھر بولی۔۔۔۔۔
ارے گولی ماریں گھر کی لیڈیز کو۔۔۔۔پہلے جینٹس کو تو نبٹا لیں۔۔۔۔شہریار اپنی مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
پلیز! آپ گھر کی لیڈیز کو بلوائیں گے یا میں جاؤں ؟؟ وہ کھڑی ہو گئی۔۔۔
لیکن یہاں تو کوئی لیڈی ہے ہی نہیں سواے آپ کے! شہریار نے گویا اسکے سر پر بم پھوڑا تھا ۔
کک ک کیا مطلب ! رنگت تو پہلے ہی اڑی ہوئی تھی اب تو چہرے پر ہوائیاں بھی اڑنے
مطلب بالکل وہی ہے جو آپ نے سمجھا ہے۔عزیر نے اسکے تاثرات سے لطف اٹھاتے ہوئے کہا تو وہ بجلی کی سی تیزی سے اٹھ بھاگی مگر شو مئی قسمت اندر آتے عمیر سے ٹکرا گئی۔۔۔۔
سر تو چکرآیا ہی تھا لیکن عمیر کے چہرے پر نظر پڑتے ہی اسکی آنکھوں کے آگے تارے بھی ناچنے لگے ۔۔
ابھی تو وہ وہاں تھا اندر۔۔۔۔تو یہاں کیسے۔۔۔۔۔بب بھوت بنگلہ ۔۔اپنے اڑتے حواس کو قابو میں کیا اور پوری رفتار سے عمیر کے پاؤں کو کچلتی باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔۔۔
عمیر جو ابھی ٹکر سے ہی سنبھل نا پایا تھا پاؤں پر ہونے والا ستم نے اسے ایک ٹانگ پر ناچنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
یہ۔۔یہ کون تھی؟ بالآخر اپنا بریک ڈانس روک کر اس نے پوچھا ۔
سیلز گرل۔۔قاسم نے جواب دیا۔وہ سب بھی اس کے اس ترح اٹھ بھاگنے پر حیران تھے ۔
لیکن یہ اس طرح بھاگی کیوں تھی؟؟
وو صوفہ پر بیٹھ کر اپنے پاؤں کا معائنہ کرنے لگا۔
پٹا نہیں شاید ۔۔۔۔۔۔فہد کچھ کہتے کہتے رک گیا اسکی نظروں کے سامنے اس لڑکی کا گھبرایا ہوا چہرہ گھوم گیا
ارے۔۔۔یہ اسکا بیگ تو یہیں رہ گیا ۔شہریار نے کہا تو سب کی نظریں اس طرف گئی صوفہ ک پاس نیچے کارپٹ پر ایک چھوٹا سا بیگ پڑا حق تھا۔
شاید جلدی مے بھاگتے ہوئے اسے اٹھانا بھول گئی تھی
ہاں! جلدی سے کھول کے دیکھو کہیں کوئی بم وم نا ہو۔قاسم چھلانگ لگا کر دور ہٹ گیا
اوہو اتنے سے بیگ مے کیا بم ہوتا ہے۔آفاق نے کہا
ویسے کھول کر دیکھ لو شاید کوئی کونٹکٹ نمبر وغیرہ ہو تو واپس کر آنا ۔۔شہریار کیہ کر میچ کی طرف متوجہ ہو گیا
فہد نے بیگ کھول کر دیکھا
آدھا برگر ایک پانی کی بوتل ایک سو تیس روپوں اور آیڈی کارڈ کے علاوہ اسکے بیگ سے کوئی قابل ذکر چیز بر آمد نہیں ہوئی آی ڈی کارڈ پر جو پتہ لکھا تھا اس جگہ کا نام تو اسنے سنا ہوا تھا مگر کبھی گیا نہیں تھا
چلو ہسپتال سے واپسی پر چلا جاؤں گا۔۔اسنے سوچا اور میچ کی طرف متوجہ ہو گیا *********
بچپن سے ہی ان دونوں نے محلے والوں کی ناک میں دم کر رکھا تھا جڑواں ہونے کا وہ بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔سکول میں بھی وو کسی پل چین سے نہیں رہتے تھے ۔کلاس فیلوز تو کلاس فیلوز انہوں نے تو ٹیچرز کو بھی نہیں چھوڑا تھا ۔ہم شکل ہونے کے انہوں نے ۔بہت جائز اور نا جائز فائدے اٹھا ے تھے۔
پرچے کے دوران وہ دونوں اپنی اپنی سیٹوں سے اٹھے پانی پی اور واپس جا کر بیٹھ گیے ۔بظاہر تو کچھ بھی نہیں ہوا مگر رزلٹ دونوں کا ایک جیسا ہی آیا ۔دونوں کی اپنی جماعت میں پہلی پوزیشن آیی تھی۔ساتویں تک یہی ہوتا رہا مگر ساتویں جماعت میں ایک نئے سر نے انھیں پکڑ ہی لیا.ہوا کچھ یوں کے وہ پچھلے تین پپرز میں انکا ے تماشا دیکھتے رھے کے دونوں ہی ایک ساتھ اٹھتے کبھی پانی پینے کبھی کچھ پوچھنے کے لیے یا پھر کسی بھی وجہ سے اور پھر واپس اپنی اپنی جگہ پر چلے جاتے ۔انھیں کسی گڑبڑ کا احساس ہوا لہزا چوتھے پیپر والے دن انہوں نے پیپر پر دستخط کرتے ہوئے ایک لائن اپنے پین سے ایک کی شرٹ پر لگا دی ۔۔
جیسے ہی حسب سابق دونوں اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے دونوں نے پانی پی اور واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گیے ۔تھوڑی دیر بعد سر ایک کے پیچھے جا کر کھڑے ہو گیے ۔البتہ ان کے چہرے پر ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ تھی۔عمیر بیٹا آپ غلطی سے عزیر کی جگہ پر بیٹھ گیے ہیں۔
وو پہلے تو بوکھلا یا مگر پھر اعتماد سے بولا۔
سر آپکو غلط فہمی ہوئی ہے مے عزیر ہی ہوں ۔وہ مسکرا یا
بیٹا! غلط فہمی مجھے نہیں آپکو ہوئی ہے ے نشان دیکھیں ذرا ے مینے ہی عمیر کی شرٹ پر لگایا تھا
انہوں نے اسے اسکے کندھے پر لگا ہوا نشان دکھایا
لیکن سر! اس نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا مگر کوئیبہانہ ہی ذہن مے نہیں آیا ۔سر نے انھیں رنگے ہاتھوں پکڑا تھا۔
پرنسپل صاحب نے شیراز صاحب کو وارننگ دی شیراز صاحب وہاں سے تو چپ چاپ اٹھ کر آگے مگر گھر آکر وو پہلی بار ان پر برسے اور ان سے بات چیت بند کردی ۔
سوری ڈیڈی ۔رات گیے وہ شیراز صاحب کے کمر ے میں تھے ۔شیراز صاحب ابھی تک جاگ رھے تھے۔وہ دونوں سر جھکاے ان کے سامنے کھڑے ہو گیے
تم لوگوں کو سوری کہنے کی کیا ضرورت ہے؟؟ انکا لہجہ سنجیدہ اور سرد تھا
بلکہ سوری تو مجھے کہنا چاہے ۔شاید میری تر بیت میں ہی کچھ کمی تھی۔میں تم لوگوں کو ویسی تو جہ نہیں دے سکا جیسی مجھے دینی چاہے تھی ۔حالانکہ مینے تو اپنی طرف سے پوری کوشش کی ٹی لیکن اس سب کے لیے ویری ویری سوری بیٹا۔۔۔۔۔انہوں نے گلاسز اتار کر ٹیبل پر رکھے اور آنکھیں موند لی ۔ے انکا انتہائی ناراضی کا انداز تھا۔۔۔
سوری ڈیڈی ۔۔۔پلیز اس دفع معاف کر دیں ۔پلیز ڈیڈی ۔وہ دونوں اکھٹے گھٹنوں کے پاس بیٹھ گیے تھے۔
انہوں نے ایک نظر اپنے بیٹوں کو دیکھا جن کی شکل سے ہی ندامت ظاہر ہو رہی ٹی۔
اوکے! بٹ دس از فرسٹ اینڈ لاسٹ وارننگ ۔۔۔انڈر اسٹینڈ ؟؟؟؟؟
اسکے بعد انہوں نے ایسی تمام شرارتین بند کردی جو انکے نزدیک انھیں یا کسی اور کو نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتی تھی
مگر۔دوسروں کو چکرا دینےوالی شرارتیں جاری رکھیں۔۔۔۔
یونیورسٹی کے پہلے سال تو انہوں نے پورے ڈیپارٹمنٹ کا جینا حرام کیے رکھا کیا کلاس فیلوز اور کیا سینئرز ۔۔۔۔سب ہی inکی شرارتوں کا نشانہ بنے رھے مگر پھر آہستہ آہستہ سب کو علم ہو گیا اور پھر نئے انے والوں کی سختی آگئی
وو دونوں زیادہ تر ایک جیسی ڈریسنگ کرتے تھے عمیر کسی جونیئر کو نوٹس پکڑا جاتا ۔عزیر جا کر لے اتا۔عمیر واپس جا کر طلب کرتا تو جونیئرز کی حالت دیکھنے والی ہوتی۔کئی دفعہ ایسا ہوتا کے کوئی ان سے راستہ پوچھتا تو ایک پہلے ہی اس جگہ پر موجود ہوتا ۔راستہ پوچھ کر جانے والا بیچارہ حیران پریشان رہ جاتا۔ایکسکیوزمی! عمیر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہر نئے چہرے پر تبصرہ کر رہا تھا جب ایک لڑکی نے اسے متوجہ کیا
جی فرمایے ! عمیر نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا ۔اسکے دوستوں نے آنکھیں گھما ییں
وہ مجھے لائبریری ۔۔۔۔لائبریری کہاں ہے؟ وہ یقیناً نئی ہی تھی مگر iسکے چہرے پر ذرا ب گھبراہٹ نہیں تھی ۔کائنڈلی آپ مجھے گائیڈ کر سکتے ہیں؟
جی ضرور کیوں نہیں۔۔۔اسنے مسکراہٹ دبائ کیوں کہ عزیر لائبریری ہی گیا ہوا تھا ۔اسنے اطمینان سے راستہ بتایا ۔
سو ناءس آف یو ۔۔اسنے مسکرا کر کہا اور چلی گئی۔عمیر مسیج کرنے لگا۔۔۔
لیکن تھوڑی دیر بعد عزیر اسکے سر پر تھا۔
اوے کون سا راستہ سمجھایا ہے اسے؟؟ عالم بالا کا؟؟؟لائبریری تو وو پہنچی ہی نہیں ۔۔۔بلکہ اس حلیے کی کوئی بھی لڑکی ای ہی نہیں وہاں !
اچھا! عمیر کو مایوسی ہوئی ۔۔۔سمجھایا تو صحیح تھا۔چلو خیر ہے۔بچت ہو گئی بیچاری کی۔۔۔۔۔
ہنہ ۔۔۔۔عزیر پاؤں پٹختا ہوا واپس چل پڑا ۔اتنے اہم نوٹس بنا رہا تھا مگر عمیر کے مسیج کی وجہ سے چھوڑنے پڑے ۔۔
سنیے ! ابھی وہ لائبریری پوہنچا ہی تھا کہ ایک لڑکی نے اسے روکا۔۔
جی۔۔۔۔اسنے کچھ جھنجھلا کر جواب دیا وہ! کچھ جھجھک سی گئی ۔ہونٹ کاٹتے ہوئے پوچھا
مارکیٹنگ کی کلاس کس طرف ہوگی؟؟؟
میرے سر پر ! اسکا دل چاہا کہ دے مگر شرافت سے اسے بتا دیا ۔کیوں کہ ے اسکا اپنا ہی ڈیپارٹمنٹ تھا کچھ سیڑھیاں چڑھ کر اسے کچھ خیال آیا تو اسنے عمیر کو مسیج کر دیا اور مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا *************
عزیر جلدی فارغ ہو کر واپس اگیا تھا ۔اب آرام سے ٹی وی کے آگے بیٹھا تھا ۔عمیر آندھی طوفان کی طرح اندر داخل ہوا۔۔۔
تم۔۔۔تم بد تمیز انسان۔۔۔۔۔غصے کی وجہ سے اس سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا ۔عزیر نے اطمینان سے اسے دیکھا اور ٹی وی کا volume کم کر دیا۔
کیا ہوا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: