Aangan main utray chand by Mariam Sajid – Episode 2

0
آنگن میں اترے چاند از تحریر مریم ساجد – قسط نمبر 2

–**–**–

اسکے اطمینان کو دیکھ کر عمیر کو تو آگ ہی لگ گئی تھی
پاگل سمجھا ہوا ہے مجھے ؟ الو کا پٹھا ہوں ‘ گدھا ہوں میں۔۔۔؟
جو بھی سمجھ لو۔۔اب میں تو کچھ نہیں کہ رہا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکرایا اور پھر ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گیا۔
تم نے کہا تھا کا وو لڑکی ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی طرف آرہی ہے۔۔۔۔وہ کمر پر ہاتھ ٹکا کر اس کے عین سامنے کھڑا ہو گیا ۔
ہاں تو پھر؟؟؟
جھوٹ کیوں بولا تم نے؟؟؟
میں نے جھوٹ نہیں بولا وہ سچ میں مجھ سے راستہ پوچھ کے گئی تھی۔ ہو سکتا ہے راستہ سمجھ میں نا آیا ہو ۔۔۔۔تم نے بدلہ لیا ہے نا مجھ سے؟؟ عمیر کو یقین نہیں آیا تھا۔۔کس بات کا؟؟ عزیر نے نس سمجھی سے اسکی طرف دیکھا
جو لڑکی میں نے تمہاری طرف بھیجی تھی وہ بھی تم تکنہیں پہنچی تھی۔اس لیے۔اسنے مشکوک نظروں سے عزیر کو گھور ا ۔
اوہو! نہیں بھائی ! میں نے کوئی بدلہ نہیں لیا۔واقعی مجھ سے ایک وائٹ اور purple کپڑوں والی لڑکی نے مجھ سے ہمارے ڈیپارٹمنٹ کا پوچھا تھا ۔۔۔
حیرت ہے پھر وو مجھے نظر کیوں نہیں آئ ۔۔عمیر حیران پریشان تھا۔۔۔۔۔
******************************آج وہ ہسپتال سے جلدی فارغ ہو گیا تو اسے خیال آیا کہ اسنے اس دں والی سیلز گرل کی چیزیں واپس کرنی تھی۔۔۔ا و شٹ ! اسنے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا ۔
ہو سکتا ہے اسے ان چیزوں کی ضرورت ہو اور میں لے کر بیٹھا ہوا ہوں
اسنے گاڑی میں ہی بیگ رکھا ہوا تھا تا کہ جب بھی وقت ملے تو وہ اسے لوٹا سکے ۔اسنے ہاتھ بڑھا کر پچھلی سیٹ سے بیگ اٹھایا اور اسکا آئ ڈی کارڈ نکال کر ایڈریس دیکھنے لگا۔
اس علاقے کا اسنے صرف نام ہی سنا ہوا تھا۔کافی گنجان آباد علاقہ تھا اسے ڈرائیونگ میں مشکلات پیش آرہی تھی ۔کئی دفعہ اسکا دل چاہا بھا ڑ میں جایں اسکی چیزیں مگر اسکی فطرت نے اسے ایسا کرنے نا دیا ۔
آخر کار راستہ پوچھ پوچھ کر وہ اس محلے تک تو پہنچ گیا مگر گھر ڈھونڈنے میں اسے ابھی تک دشواری کا سامنا تھا گاڑی اسے کافی دور ہی روکنی پڑی تھی ۔
یہاں وہ جس سے بھی صبا کے گھر کا پوچھتا وہ اسکو ایک منٹ کے لیے سر سے پاؤں تک گھورتا اور پھر آگے بڑھ جاتا۔
بالآخر اسے مطلوبہ مکان مل ہی گیا ۔وہ دروازے پر پہنچا تو وہاں پندرہ سولہ سال کا ایک لڑکا کھڑا تھا۔فہد نے اس سے پوچھا۔
مس صبا یہیں رہتی ہیں ؟؟؟؟
لڑکے نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر عجیب سی نظروں سے اسکا جائزہ لینے لگا فہد کو الجھن محسوس ہوئی ۔اسنے پھر کہا
مجھے مس صبا سے ملنا ہے۔۔
لڑکا اندر چلا گیا ۔اسے گیے تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ فہد کو گھر کے اندر سے چیخنے چلانے کی آوازیں انے لگی۔
ابھی وہ اس پر غور کر ہی رہا تھا کہ اچانک اسی گھر کے دروازے سے ایک عورت نے ایک لڑکی کو بری طرح دھکا دے کر باہر پھینکا ۔وہ لڑکی لڑکھڑاتی ہوئی فہد کے قدموں میں آگری۔
فہد گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹا ۔اسنے عورت کی طرف دیکھا۔وہ عورت اس لڑکی پر بری طرح چیخ چلا بھی رہی تھی۔گالیوں اور کوسنوں کا ایک طوفان تھا جو برس رہا تھا اسی دوران اسکی آوازیں سن کر محلے کے کچھ لوگ بھی جمع ہو گیے تھے ۔ان میں ہر عمر کی عورتیں اور مرد شامل تھے ۔۔۔
فہد جھکا۔اسنے لڑکی کو کندھوں سے تھام کر اٹھایا وہ لڑکی بری طرح رو رہی تھی۔گرنے سے اسکی پیشانی زخمی ہو گئی تھی اور خون بہ رہا تھا۔۔
فہد اسے پہچان گیا۔وہ صبا تھی۔اسکے جسم پر مزید کئی چوٹوں کے نشان بھی تھے۔اس عورت نے اسے دھکا دینے سے قبل غالباً اس پر خاصا تشدد بھی کیا تھا۔
بیغرت بے حیا ! تو اسی کے لیے میرے بھائی سے شادی نہیں کر رہی تھی۔۔
عورت نے دانت پیس کر فہد کی طرف اشارہ کیا فہد بوکھلا گیا۔وہ ابھی تک صبا کو پکڑے کھڑا تھا۔اسنے گھبرا کر جلدی سے اپنے ہاتھ اسکے کندھوں سے ہٹاے ۔مجمع عجیب سی نظروں سے فہد کو دیکھ رہا تھا۔فہد کو کچھ ملامتی آوازیں بھی سنائی دی ۔۔۔۔۔
صورت سے تو بڑا شریف دکھتا ہے۔۔فہد کا حلق خشک ہو گیا ۔اسنے بے بسی سے مجمع کی طرف دیکھا پھر اس عورت کو۔۔۔
جا لے جا اپنی سگی کو۔۔۔۔۔۔میرے گھر میں اسکے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔اس عورت نے صبا کو دھکا دیا اور گھر کا دروازہ بند کرنے لگی۔صبا بجلی کی طرح اسکی طرف بڑھی۔
خدا کے لیے اماں ! ایسا نا کرو۔۔۔۔رحم کرو مجھ پر۔۔۔۔اماں ! مجھے نا نکالو۔۔۔وہ اس عورت کی ٹانگوں سے لپٹ گئی مگر اس عورت نے اسے پھر اتنے زور سے دھکا دیا کے اسکا سر دروازے کی چوکھٹ سے ٹکرایا اور ماتھے پر ایک اور کٹ لگ گیا ۔وہ چکرا کر گری اور ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی۔۔۔
پرے مر ۔۔۔۔۔۔اسے ایک موتی سی گالی دے کر عورت نے دروازہ بند کرنے کی کوشش کی۔فہد کی برداشت بس اتنی ہی تھی۔۔۔
یہ ۔۔۔۔یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ اسکی آواز پر سب اسکی طرف متوجہ ہو گیے ۔اس عورت کا ہاتھ بھی رک گیا۔۔
دیکھا میں کہتی تھی نا۔یہ آوارہ بد چلن ۔۔۔کہیں نا کہیں منہ کالا کر کے آئ ہے ۔اب دیکھ لیا نا سب نے ۔۔۔۔۔اپنی آنکھوں ۔۔۔سے۔اگیا اسکا سگا۔۔۔۔وہ عورت تقریر کرنے والے انداز میں جیسے پورے مجمع سے خطاب فرما رہی تھی۔۔۔۔فہد کا چہرہ غصّے سے سرخ ہو گیا ۔۔۔
محترمہ اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھیں۔یہ نا ہو کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فہد کا غصّے سے برا حال تھا۔خوامخواہ یہ عورت صبا کو اسکے ساتھ نتھی کر رہی تھی ۔۔۔اسنے ایک نظر پھر صبا کو دیکھا ۔
میری برداشت ختم ہو جائے گی۔۔۔۔
برداشت تو میری ختم ہو چکی ہے۔۔۔لے جو اب اپنی اس۔۔۔۔۔۔! اس مرتبہ موٹی سی ایک اور گالی اس لڑکی کا نصیب تھی۔
بس۔۔۔۔۔۔فہد زور سے چلایا ۔۔
خبردار! اب ایک لفظ بھی اور کہا! اسنے انگلی اٹھا کر اسے خبردار کیا تو وہ عورت جو پہلے ہی اسکے حلیے سے مر عوب تھی ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئی۔پھر کچھ بڑبڑاتے ہوئے زور سے دروازہ بند کر دیا۔۔
اور تم لوگ؟ صرف تماشا دیکھنے کے لیے آے ہو؟ کوئی روکتا کیوں نہیں انہیں؟ انسانیت نام کی کوئی چیز ہے تم لوگوں میں یا نہیں؟ لیکن نہیں ۔۔۔۔۔۔۔تم لوگ تو انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہو۔بے حس۔۔ہنہ ۔۔۔۔۔
اسنے مڑ کر پورے مجمع کو لتاڑا تو لوگ الٹا اس پر چڑھ دوڑے ۔۔۔تم اس طرح ایک لڑکی کی عزت سے نہیں کھیل سکتے۔ایک بزرگ گرجے ۔اگر جان عزیز ہے تو ابھی اس سے نکاح کرو۔فہد بوکھلا گیا۔عجیب جاہل لوگ تھے کوئی اسے سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔
جی ۔۔۔ی ۔۔۔ی ۔۔۔۔۔اسنے ایک بے بس سی نظر بیہوش پڑی صبا پر ڈالی۔وہ ہوش میں ہوتی تو انکی غلط فہمی دور بھی کرتی
ہاں ہاں! تم سمجھتے ہو اس لڑکی کا کوئی نہیں ہے تو تم جو چاہے کر سکتے ہو؟ نکاح تو تمہیں ابھی اور اسی وقت کرنا ہو گا ۔۔۔ایک اور آواز آئ
م ۔۔۔۔مگر میں تو انہیں جانتا تک نہیں ۔۔۔۔اسنے کمزور سی صدا ی احتجاج بلند کی جانتا نہیں تو اسکے گھر کیوں آیا تھا ؟ میں نے تجھے خود اسکے دروازے پر کھڑا دیکھا ہے۔۔بول کیوں آیا تھا؟؟؟؟
ایک جوشیلے نو جوان نے فہد کو کالر سے پکڑ کر جھٹکا دیا تو فہد کے ہاتھوں سے صبا کا والٹ گر گیا۔۔
گرنے کے ساتھ ہی والٹ کھل گیا اور صبا کا شناختی کارڈ باہر جھانکنے لگا ۔اب یہ فہد کی بد قسمتی ہی تھی کہ کارڈ کا جو حصہ باہر آیا اس پر صبا کی تصویر جگمگا رہی تھی۔نوجوان نے فہد کا گریبان چھوڑ دیا۔اسنے جھک کر شناختی کارڈ اٹھایا اور صبا کی تصویر اسکی آنکھوں کے آگے لہرا کر طنزیہ انداز میں بولا اب بھی کہو گے۔۔اسے نہیں جانتے؟
وہ۔۔میں یہی تو ۔۔۔۔واپس کرنے آیا تھا۔۔۔۔۔فہد ہکلانے لگا۔
اور یہ تیرے پاس جادو سے چل کر پہنچا تھا۔نوجوان نے پھر شناختی کارڈ لہرایا ۔
اب شرافت سے نکاح کر لے ورنہ اپنے قدموں پر چل کے جانے کے قابل نہیں رہے گا۔
فہد کے پاس کوئی چارہ نا تھا۔نکاح کے انتظامات ہونے لگے۔اسی دوران صبا کو بھی ہوش اگیا تھا مگر کسی نے اسکا احتجاج بھی نہیں سنا۔ نا چار دونوں کو نکاح کرنا ہی پڑا ۔
صرف تین گھنٹے گزرے تھے اور اسکی زندگی نے کیسے پلٹا کھایا تھا۔کے وہ خود بھی حیران رہ گیا تھا اسنے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے اس طرح کے حالات اسکے ساتھ پیش آ سکتے ہیں ۔صبا سے نکاح تو اسنے کر لیا تھا مگر اس سے آگے کا نہیں سوچا تھا
آتے وقت وہ اکیلا تھا اور جاتے وقت۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ایک نظر اسے دیکھا جو رخ موڑے باہر دیکھ رہی تھی۔کون کہ سکتا تھا کہ گا ڑی میں سفر کرتے یہ وجود کسی رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔وہ دو اجنبیوں کی طرح تھے۔
وو اسے لے کر سیدھا ایک پرائیویٹ ہسپتال میں گیا۔
ہم یہاں کیوں آے ہیں؟ صبا نے پوچھا اور ے پہلی بات تھی جو اس نے اس سے کی thiوہ گاڑی سے اترتے اترتے رک گیا اور پھر دوسری طرف سے آکر اسے سہارا دے کر اتارتے ہوئے بولا
کیونکہ محترمہ فلحال آپکے لیے یہی سوٹ ایبل جگہ ہے۔اسکے بعد کہیں کا سوچیں گے۔آخر میں اسکا لہجہ خود بخود شریر سا ہو گیا جس پر وہ خد بھی حیران تھا۔
اس پرائیویٹ ہسپتال میں اسکا ڈاکٹر ہونا کام آیا تھا ورنہ جتنی چوٹین صبا کو آئ تھی اچھا خاصا پولیس کیس بن سکتا تھا ۔اسے ہسپتال میں ایڈمٹ کر لیا گیا۔
مغرب کی اذان ہو رہی تھی جب قاسم کی کال آئ ۔
بھائی آپ کہاں ہیں؟ اور ۔۔آپ کہاں ہیں؟ کے جواب نے اسے پریشان کر دیا فوری طور پر اسنے اسے ٹالنے کے لیے کہ دیا کے وو اس وقت کسی دوست کے ساتھ ہے
مگر اب ایک بہت بڑا سوالیا نشان اسکے سامنے تھا صبا کی صورت میں۔
وو پریشانی کے عالم میں روم میں ہی ٹہلنے لگا۔
آپ میری وجہ سے پریشان ہیں جی؟ صبا جو کافی دیر سے اسے ٹہلتے ہوئے دیکھ رہی تھی پوچھ ہی بیٹھی۔
ہوں؟؟ وہ چونکا
نہیں تو۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔نہیں وہ۔۔۔۔۔اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کے وہ کیا کہے ۔صبا حیرت سے اسے دیکھنے لگی
اصل میں۔۔۔اسنے فیصلہ کیا کے پہلے اسے اپنے بارے میں سب کچھ بتا دے میرے بارے میں تو تمہیں کچھ نہیں معلوم ۔۔ہم لوگ سات بھائی ہیں ہماری مما کا انتقال کافی عرصہ پہلے ہو گیا تھا اور ڈیڈ نے ہمیں ماں اور باپ بن کر پالا ہے ماشاء اللّه ہم سب بھائی ان کی وجہ سے ہی اپنی اپنی فیلڈ میں کامیاب ہوئے ہیں۔میں خود ایک ڈاکٹر ہوں۔۔ہم سب بھائی کوئی کام بھی انکے علم میں لائے بغیر نہیں کرتے اور کجا یہ کے شادی ہی کر لیں ۔۔۔اسنے اپنی پریشانی بتا دی ۔
پھر اب؟ صبا نے پوچھا
وہی تو سمجھ میں نہیں آرہا۔صوفہ پر بیٹھتے ہوئے اسنے پیشانی مسلی میں آپکو ایک مشورہ دوں؟ اسنے ڈرتے ڈرتے کہا تو فہد سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگا۔
اگر آپ مجھے دارلامان میں چھوڑ آہیں ابھی تو کسی کو بھی معلوم نہیں اور کسی کو معلوم ہوگا بھی نہیں۔۔۔۔وہ رک رک کر نظریں جھکا کر اپنی بات مکمل کر رہی تھی۔
جسٹ آ منٹ ! فہد نے اسے ٹوکا
پلیز اپنے ذہن سے یہ خیال تو نکال دو کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔اب تم کو میرے ساتھ ہی رہنا ہے سو اسکے علاوہ کوئی حل ہے تو بتاؤ۔
فہد کی اس بات پر وہ پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگی۔اسے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ اس امیر زادے نے اسے qpniاپنی زندگی میں شامل کر لیا تھا اور وہ بھی بہ خوشی ۔۔۔۔اس لیے اسنے ایسا مشورہ دیا تھا مگر فہد کے جواب نے اسے حیرت میں ڈال دیا تھا۔کیا دنیا میں ابھی بھی اپنی بات نبھانے والے تھی۔
ہیلو مسز ! مانا کہ میں ہینڈ سم ہوں مگر اتنا کہ میری اپنی ہی مسز مجھے دیکھ کر کھو جائے یہ مجھے آج ہی پتا چلا ہے ۔فہد نے اسکی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرایا اسکی بات پر صبا جھینپ گئی
اوکے مسز ! پھر کل ملتے ہیں۔
وہ اٹھ کھڑا ہوا
دو دن رہ گیے ہیں رمضان انے میں ۔۔۔اور ہم نے کوئی تیاری ہی نہیں کی۔۔عمیر نے کہا ۔اس وقت وہ لاوُنج میں تھے ۔عمیر پیاز کاٹ رہا تھا۔آفاق لہسن چھیل رہا تھا اور شہریار آلو چھیل رہا تھا۔
اس رمضان کی کونسی تیاری کی جاتی ہے۔تیاری تو عید کی ہوتی ہے۔عزیر نے حیرت سے کہا
سب لوگ کرتے ہیں۔۔۔ہم کیوں نہیں کرتے۔۔۔پھر وہی مرغی کی ایک ٹانگ کی مانند عمیر نے اپنا سوال دوہرایا مگر ذرا گھما کے۔۔۔ساتھ ہی اپنی آنکھیں صاف کی ۔۔
او بھائی میرے کون سی تیاری کرنی ہے تجھے رمضان کی۔شہریار نے اکتا کر پوچھا
السلام علیکم ! کیا ہو رہا ہے بھئی! فہد لایو نج میں داخل ہوا تو تینوں اسے گھور کر رہ گیے
کہاں تھے اتنی دیر سے؟ آج تو جلدی فری ہونا تھا نا تمہیں؟ شہریار نے پوچھا
ایک کام نکل آیا تھا اس لیے دیر ہو گئی ۔اسنے جواب دیا اور صوفہ پر ڈھیر ہو گئا
تمہیں یاد ہے کہ آج سالن بنانے کی باری تمہاری تھی ۔آفاق نے پوچھا
اوہ ۔میں بالکل بھول گیا تھا ۔۔۔سو سوری! اب جا کر اس نے دیکھا کہ وہ کیا کام کر رھے ہیں اور ساتھ ہی اسے پیاز کی جلن آنکھوں میں محسوس ہوئی۔
قاسم نے تمہیں کال بھی کی تھی۔عمیر نے کہا
ہاں آئ تھی کال۔۔۔۔! یار یہ پیاز تو کچن میں ہی کاٹا کرو! فہد نے ٹائی کی گرہ ڈھیلی کرتے ہوئے کہا
ہاں تو جا کر خود کاٹ لو نا! اسنے فورا ً چھری رکھ دی تو فہد نے منہ بنا لیا ۔
میں جب بھی رمضان کی تیاری کی بات کرتا ہوں۔ہمیشہ سب موضوع چینج کر دیتے ہیں۔عمیر نے دہائی دی۔
او یار کون سی تیاری کی بات کر رھے ہو رمضان کی؟ کیا تیاری کرنی ہے۔کس قسم کی؟ فہد نے پوچھا۔
بھائی جیسی سب کرتے ہیں۔گھر صاف کرتے ہیں۔کچھ چیزیں بنا کر فریز کرتے ہیں۔تا کہ رمضان کے ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزار سکیں ۔
ان بھائیوں کی سب سے اچھی عادت یہ تھی کے کوئی بھی روزہ خور نہیں تھا۔عاصم اور شہریار تھوڑے نخرے کرتے تھے مگر روزے چھوڑتے نہیں تھے۔۔
یہ اچانک تمہیں کہاں سے ایسا خیال آگیا ؟
عزیر سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی تھی
وہ میں اس دن حماد کے گھر گیا تھا تو اسکی امی کہ رہی تھیں
اوہ تو تمہیں وہاں سے یہ خیال آیا؟ اچھا تو وہ کیا کیا بنا کر فریز کر رہی تھیں ؟شہریار نے پوچھا
سموسے کباب اور بہت کچھ۔۔۔
ہوں ۔۔وہ سب سوچنے لگے جب کہ فہد آلو لہسن اور پیاز اٹھا کر کچن کی طرف چلا گیا ۔
تو ٹھیک ہے۔ہم بھی رمضان کی تیاری کرتے ہیں۔آفاق نے بولنے میں پہل کی۔
کل تو چھٹی ہے ہی اور پرسوں خود چھٹی کرتے ہیں اور ان دو دنوں میں ہم سے جو تیاری ہو سکی وو کرتے ہیں۔عزیر نے بھی بھائی کی بات سے اتفاق کیا تھا۔۔۔۔۔__________________________________________
اگلے دن عمیر اور شہریار بازار گیے۔رمضان کی خریداری کے لیے۔ان کے پیچھے باقی بھائیوں نے مل کر گھر کی صفائی ستھراائ کی ۔پورےقصر لا ئلہ کی تفصیلی صفائی کی گئی۔شیراز صاحب اپنے بچوں کا جوش و خروش دیکھ کر خوش تھے اور بسا ط بھر انکی مدد اور بھر پور حوصلہ افزائی بھی کر رھے تھے۔پانچ چھ گھنٹے لگا کر شہریار اور عمیر واپس آے تو لدے پھندے تھے۔۔
اف! میرا خیال ہے اب کھانے پکانے کا کام کل پر ہی چھوڑ دیا جائے۔عمیر نے کہا۔وہ سب اب فریش ہو کر شام کی چا ے سے لطف اندوز ہو رھے تھے۔
ہوں! فہد نے تائید کی۔
بس کل صرف کچن کا کام ہی ہوگا۔سب مل کر کریں گے تو جلدی ختم ہو جائے گا۔۔
یار قسم سے یہ زنانہ قسم کے کام کر کر کے میں تو تنگ آگیا ہوں۔شہریار نے منہ بنایا
سچی! یہ عورتوں والے کام کر کر کے میں تو خود کو عورت ہی سمجھنے لگا ہوں۔۔۔اور اس وقت فہد کو یاد آیا کے ایک عدد لڑکی کو وہ بھی ہسپتال چھوڑ کر آیا ہوا ہے اور جسے کل شام سے بھولا ہوا ہے۔
بھائی ! املی والی چٹنی بھی بنایں گے نا؟ اتنی دیر سے خاموش عاصم نے سوال کیا ۔
املی کی چٹنی؟ عزیر نے پوچھا
ہاں نا! مجھے بہت پسند ہے۔ پلیز بنا لیں گے نا۔۔۔۔۔۔۔
لیکن ! اسنے سبکی طرف دیکھا ۔۔۔۔ہمیں تو بنانی ہی نہیں اتی۔
پھر؟ عاصم نے سوالیا نظروں سے اپنے بھائیوں کی طرف دیکھا
یار! کسی سے ریسیپی پتہ کر لیتے ہیں نا۔۔۔۔
شہریار نے تجویز پیش کی
ہوں ! فہد کو اب ہسپتال جانے کی جلدی تھی سو وہ اٹھ کھڑا ہوا 7انسان چاہے ساری دنیا کل بھول جائے مگر اپنی بیوی کووہ بھی نئی نویلی ۔اگر پرانی ہو تو پھر بھی کوئی بات ہے۔مگے نئی بیوی کو کیسے بھول سکتا ہے۔مگر ڈاکٹر فہد صاحب ایسے ہی واقعہ ہوئے تھے۔اور ابھی ابھی اسے یاد آیا تھا کہ وہ اسے صرف تین کپڑوں میں لآیا تھا اور ان کپڑوں کی حالت بھی بہت خراب تھی کم از کم اسے اس کی ضروریات کا خیال تو رکھنا چاہے تھا یہی سوچ کر اسنے گا ڑی پہلے مارکیٹ کی طرف موڑ لی۔کپڑے جوتے میک اپ برش اور بھی بہت سی ضروریات کی اشیا خرید کر وہ ہسپتال پہنچا ۔
آئ ایم رئیلی سوری۔بالکل ہی بھول گیا تھا۔کمرے میں داخل ہوتے ہی اسنے کہا۔وہ کل کی نسبت آج بہتر لگ رہی تھی۔دھلے دھلا ے منہ کے ساتھ شاید ایسے ہی ہاتھ مار کر بال بھی ٹھیک کیے تھے ۔وہ کچھ نہیں بولی تھی۔
یہ میں تمہارے لیے لآیا ہوں۔اسنے سارے شاپر ایک طرف رکھ دئے ۔
اسکی کیا ضرورت تھی۔اسکی آواز میں نمی تھی۔فہد نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔
کیا ہوا؟ تم روتی رہی ہو؟
آپ بھول گیے اور میں انتظار کرتی رہی۔وہ رو پڑی فہد بوکھلا گیا
صبا آئ ایم رئیلی سوری۔ایکچولی آج۔۔۔۔۔وہ بتاتے بتاتے رک گیا۔کہ آج پورا دن اسنے کیا کیا تھا جالے اتار ے تھے پنکھے صاف کیے تھے گملے صاف کیے ٹیرس دھویا ۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج میں تھوڑا بزی تھا۔۔۔۔جیسے ہی فری ہوا یہاں آگیا۔وہ وضاحتیں دے رہا تھا۔کسی روتی لڑکی کو چپ کروانے کا اسکا پہلا تجربہ تھا۔لہٰذا وہ بری طرح بوکھلا یا ہوا تھا کہ کرے تو کیا کرے
دیکھو پلیز چپ ہو جو! فہد کی در خواست نظر انداز کر کے اسنے اپنا رونا جاری رکھا۔
پلیز چپ ہو جاؤ ورنہ۔۔۔۔۔۔۔ورنہ کی دھمکی کام کر گئی۔اسنے سر اٹھا کر دیکھا مگر آنسو پھر بھی بہ رھے تھے۔
ورنہ میں بھی رونے لگو ں گا۔فہد کی شکل واقعی رونے والی ہو گئی۔اور اسکی بات سن کر وہ روتے روتے ہنس پڑی ۔
اوکے اب میں چلتا ہوں کل آؤں گا۔ہو سکتا ہے کل تمہیں ڈس چارج کر دیا جائے ۔۔۔۔اللّه حافظ ۔۔۔مگر در وازے تک جا کر وہ پلٹا ۔
ایک بات پوچھوں ؟
جی۔۔صبا پریشان ہو گئی کہ نجانے کیا پوچھنے جا رہا ہے۔
وہ۔۔۔۔وہ کان کھجاتے ہوئے بولا۔۔۔۔تمہیں املی کی چٹنی بنانی آتی ہے؟
جی؟؟
ہاں وہ۔۔۔۔اب وہ اسے کیا بتاتا۔
آتی تو ہے لیکن۔۔اس عجیب سوال پر وہ حیران بھی تھی اور پریشان بھی۔۔کہ اس وقت سرتاج کو بطور خاص املی کی چٹنی کیوں یاد آئ۔
اوہ ویری گڈ ۔وہ خوش ہو کر بولا۔ایک پیپر پر لکھ دو۔کہنے کے ساتھ ہی اسنے پیپر کی تلاش میں نظریں ادھر ادھر دوڑا ییں لیکن وہ ہوتا تو ملتا نا کچھ دیر سوچنے کے بعد اسنے اپنا موبائل اسے پکڑا دیا
یہ لو۔۔تم ساری ترکیب تفصیل سے بولتی جاؤ۔اس میں ریکارڈ ہو جائے گی۔
مگر۔۔۔وہ اس انو کھے تقاضے پر ابھی تک حیرت میں ڈوبی ہوئی تھی
مسز۔۔ایک تو تم اگر مگر بہت کرتی ہو۔پلیز ۔۔جلدی سے شورع ہو جاؤ۔
پھر صبا نے ساری ترکیب ریکارڈ کردی۔بیچ بیچ میں وہ سوال بھی کرتا رہا اور وہ جواب دیتی رہی۔
چلو عاصم صاحب کا مسلہ تو حل ہوا۔گا ڑی میں بیٹھتے ہوئے اسنے خود سے کہا تھا
*******************
اوہ خدا کے بندے بس کر دے۔بس کر دے۔چھینک چھینک کر میرا برا حال ہو گیا۔مگر تیرا مسالا بن کر نہیں دیا۔شہریار نے عمیر کو لتاڑا۔
قصر لائلہ کے کچن میں اس وقت رونق لگی ہوئیتھی۔ ڈاکٹر فہد صاحب سبزیاں کاٹتے ہوئے انکی افادیت پر خاصا بور قسم کا لیکچر دے رھے تھے اور قاسم اور عاصم کو نا چاہتے ہوئے بھی سننا پر رہا تھا کیوں کہ وہ تینوں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے ۔
آفاق کہنی تک آستیں فولڈ کیے ہوے چکن دھو کر رکھ رہا تھا جب کہ شہریار سارے پیس الگ الگ پیکٹ میں رکھ کر فریزر میں رکھتا تھا۔عزیر بیسن چھان کر رکھ رہا تھا۔جب کہ عمیر رول کی فلنگ بنا رہا تھا جو تیاری کے تقریباً آخری مرحلے میں تھی۔وہ کافی دفع چیک کر چکا تھا مگر پھر بھی کوئی نا کوئی کمی نکل ہی آتی تھی۔
بھائی میری چٹنی۔۔۔۔عاصم نے اسے یاد دلایا
چٹنی بھی بن جائے گی یار۔۔۔پہلے ے کام تو ختم ہو جائے۔فہد نے اسے دلاسہ دیا اور ساتھ ہی اسے چٹنی والی بھی یاد آئ۔
اوہ آج تو اسنے ڈسچارج ہونا تھا۔اسنے سوچا۔
اوہ شٹ! اسنے سر پر ہاتھ مار کر کہا تو باقی سارے اسکی طرف متوجہ ہو گیے۔
کیا ہوا؟ آفاق نے پوچھا۔
بھلکڑ صاحب کو پھر کوئی کام یاد آگیا ہوگا۔شہریار نے ازرہ مذاق کہاکسی پیشنٹ کو بھول گیے ہوں گے ۔قاسم نے مٹر پھانکتے ہوئے کہا۔
اوہ ہاں! مجھے ابھی جانا ہوگا
اسنے فورا ً سبزیاں چھوڑی اور ہاتھ دھونے لگا۔
بھائی میری چٹنی! عاصم نے یاد دلایا
آکر بنا دوں گا تمہاری چٹنی۔اسکے جملے پر سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی جب کہ عاصم منہ بنانے لگا۔۔۔
*******************
ہسپتال سے ڈسچارج کروا کے وہ اسے ایک گرلز ہوسٹل میں لے گیا۔کیوں کہ فلوقت اسے یہی بات سوجھی تھی۔اور صبا کے لیے مناسب ترین ٹھکانہ بھی یہی لگا تھا۔
اسے ہوسٹل میں داخل کروا کے وہ اپنے تئیں بہت بڑی ذمہ داری سے نجات حاصل کر چکا تھا وہ خود تو مطمئن ہو گیا تھا جب کہ صبا کی شکل سے ہی لگ رہا تھا کہ وہ بہت گھبرائ ہوئی ہے۔
ارے یار گھبرا کیوں رہی ہو میں ہر ہفتہ آیا کروں گا تم سے ملنے اور موقع دیکھ کر ڈیڈی سے بھی بات کرتا ہوں۔پریشان ہونے کی ضرورت بالکل بھی نہیں اوکے ٹیک کئیر ! وہ ہاتھ ہلا تا ہوا واپس چلا گیا۔اور وہ وہیں کھڑی سوچتی رہی کے نجانے اب وہ اسے یاد رہے گی یا نہیں۔عجیب چھلاوہ سا بندہ تھا
************************
بھائی! یہ کیا کر رھے ہیں؟ فہد کچن میں اکیلا ہی مصروف تھا۔جب عاصم نے اسے متوجہ کرنے کی کوشش کی مگر وہ کانوں مے ہیڈ فون لگے خلا میں گھور رہا تھا اور ساتھ ساتھ سامنے رکھی چیزوں کو غور سے دیکھنے لگتا
بھائی! اسنے فہد کی آنکھوں کے آگے ہاتھ لہرا یا
تم؟ تم کب آے؟ وو چوںک گیا۔
یہ آپ کیا کر رھے ہیں؟
یہ! فہد نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر اپنے ہاتھوں کو جو پورے کے پورے املی کے رس سے سنے ہوئے تھے۔
یہ میں تمہارے لیے املی کی چٹنی بنا رہا ہوں۔۔۔
اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر خود اسکے دل کو کچھ ہوا تھا
بھائی یہ اتنے گندے تریقے سے بنتی ہے؟ عاصم نے برا سا منہ بنایا
جیسے بھی بنتی ہو۔تم چلے جاؤ اندر۔جب بن جائے گی تو آجانا۔فہد نےنے اسے وہاں سے ٹالا تھا۔اور املی کے ملغوبے کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔کچھ دیر دیکھنے کے بعد اسنے اپنی ایک انگلی کو زبان سے چکھا ۔۔۔
ہوں۔۔۔ناٹ بیڈ ۔۔۔اس نے ساری انگلیاں ہی چاٹ ڈالیں
**********”””
یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا میں صرف ایک گاڑی کی جگہ بچی تھی۔۔آج کوئی سیمینار تھا لہٰذا کافی سارے باہر کے لوگ بھی آے ہوئے تھے۔
آمنے سامنے سے آنے والی دونوں گاڑیاں ایک دوسرے کے بالکل قریب رکی ایک گاڑی میں ایک لڑکی تھی جب کہ دوسری گاڑی میں عمیر اور عزیر تھے۔لڑکی نے ہارن بجا کر انھیں گاڑی پیچھے کرنے کے لیے کہا۔
اوے یہ تو وہی ہے جو اس دن لائبریری میں ملی تھی۔عزیر نے کہا۔اسکا ہارن سننے کی بجاے وہ لوگ اپنی گفتگو میں لگے ہوئے تھے۔
اور تجھ سے اپنے ڈیپارٹمنٹ کا پوچھ رہی تھی۔عمیر نے اسے گھورا
ہاں! عزیر نے اسکے گھور نے کی پرواہ کئے بغیر سر ہلا دیا
ابے گھا مڑ ! یہی تو مجھ سے لائبریری کا پوچھنے آئ تھی۔عمیر غصّے سے بولا
مسٹر ! اگر آپکو گاڑی میں سونے کا شوق ہے تو یہ شوق کہیں اور جا کر پورا کیا جا سکتا ہے۔۔۔پلیز یہاں سے گاڑی ہٹا ییں ۔میری کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔
باتوں باتوں میں انھیں پتہ ہی نہیں چلا کب وہ لڑکی گاڑی سے اتر کر انکے سر پر پہنچ چکی تھی۔اسنے شیشہ بجا یا تو وو چونکے
تو محترمہ! آپ اپنی گاڑی ذرا پیچھے کریں کہ ہم اپنی گاڑی پارک کر کے آپکو راستہ دے سکیں۔۔۔ویسے سائیڈ سے آپکی گاڑی آرام سے گزر سکتی ہے۔۔۔۔عمیر مزے سے بولا
مجھے راستہ نہیں چاہیے ۔۔وہ جھنجھلا کر بولی
تو کیا دل چاہیے؟ یوں کھڑے کھڑے ؟ عمیر نے مصنوعی حیرت کا مظاہرہ کیا ۔عزیر نے عمیر کو اس بکواس پر گھورا
واٹ ؟ دماغ درست ہے اپکا؟ وہ لڑکی اچھل ہی پڑی
کیوں آپکو ٹھیک کرنا اتا ہے؟ عمیر چہکا
اور عزیر کو یقین ہو گیا کہ وہ واقعی اسکا دماغ ٹھیک کر دے گی کیوں کہ اس لڑکی کا چہرہ غصّے سے سرخ ہو رہا تھا۔
جی ہاں! بہت اچھی طرح ۔۔۔۔اور آپ جیسوں کا تو میں فری میں ہی کر دیتی ہوں۔۔۔۔۔
آ ں ہاں!
ایڈیٹ راستہ دو مجھے گاڑی پارک کرنی ہے۔۔۔
اے ہیلو میڈم ایڈیٹ کیسے بولا؟ عمیر کو بھی غصہ آگیا۔
کام داؤن یار! عزیر نے عمیر کے شانے پر ہاتھ رکھ کر اسے ٹھنڈا رہنے کو کہا
ایڈیٹ کو ایڈیٹ نہیں کہوں گی تو اور کیا کہوں گی؟ اتنے میں ایک اور جگہ سے گاڑی نکلی تو وہاں جگہ خالی ہو گئی
چل ادھر پارک کر لیتے ہیں۔عزیر نے کہا تو عمیر نے ایک غصیلی نظر اس لڑکی پر ڈالی اور آندھی طوفان کی طرح گاڑی اسکے قریب سے لے گیا وہ لڑکی اچھل کر دو قدم پیچھے ہٹی تھی۔
یو ایڈایٹ! اسنے چلا کر کہا۔۔*************************
میرا دل کر رہا ہے اسکی گردن مروڑ دوں! گھر آکر بھی عمیر کو سکون نہیں مل رہا تھا۔
تو مروڑ دینی تھی نا۔قاسم نے روزے سے نڈ ھآل ہوتے ہوئے کہا۔منہ پر کشن رکھ کر وہ سونے کی کوشش کر رہا تھا مگر نیند پھر بھی نہیں آرہی تھی
بس بیٹا بس! اتنی انرجی ویسٹ نا کریں۔ہوتا آپ سے کچھ نہیں۔۔۔۔صرف باتیں نا کیا کریں۔۔عزیر نے جلتی پر تیل ڈالا تھا ۔۔۔
تم پھا پھا کٹنے! تم نے ہی کہا تھا نا کام داؤن ۔۔۔
اور تو ہو گیا؟ شاباش ! قربان جاؤں تیری فرماں برداری کے۔
اب مجھے وہ ملی نا پھر دیکھنا! عمیر نے لب بھینچتے ہوئے کہا۔
کیا کرے گا ۔اسکے پاؤں پر جائے گا؟
میرا اس وقت تمہارے ساتھ لڑنے کا کوئی موڈ نہیں۔اس لیے چپ کر جاؤ۔ویسے بھی میں روزے سے ہوں!
اچھا تو اس سے لڑنے کا موڈ ہے؟ عزیر صاحب آج زیادہ ہی چہک رھے تھے۔عمیر نے کشن اٹھا کر اسے مارا اور اوپر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔
دو ہفتوں بعد اسے یاد آیا کہ وہ صبا سے ہر ہفتے انے کا وعدہ کر کہ آیا تھا
مجھے تو لگتا ہے کسی دن آپ بھول ہی جایں گے کہ صبا نام کی کوئی لڑکی بھی تھی۔
یہ فہد کے دوستانا روا یہ کا کمال تھا جو اسکے منہ سے ایسا شکوہ نکلا تھا پہلے دن تو وہ اتنی ڈری سہمی تھی کہ فہد کے مخاطب کرنے پر بھی بمشکل جواب دے پاتی تھی۔کجا اس طرح کے شکوے شکایات کرنا۔
ارے بھی ! بھولا تھوڑی تھا بس ذہن سے نکل گیا تھا۔ انوکھی ہی وضاحت تھی وہ مسکرا دی
اپنی مسز کو کون بھول سکتا ہے
وہ آپ سے ایک بات کہنی تھی۔وہ کچھ دیر کے بعد جھجھک کر بولی
وہ میں یہاں سارا دن فارغ بیٹھ بیٹھ کر بور ہوتی ہوں۔یہاں تقریباً ساری لڑکیاں اپنے اپنے کام پر چلی جاتی ہیں۔وہ رک گئی
ہوں! اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کہنا کیا چاہتی ہے۔
تو اگر آپ اجازت دیں تو میں۔۔۔میں بھی کوئی جاب کر لوں ۔اسنے بہت جھجھکتے ہوئے اٹک اٹک کر اپنا مدعا بیان کیا ۔
اگر تم سمجھتی ہو کہ جاب کرنے سے تمہارا مسلہ حل ہو جآے گا تو اس میں پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ اسے ابھی تک اجازت والی بات سمجھ میں نہیں آئ تھی کیوں کہ گھر میں کبھی ایسا ماحول دیکھا ہی نہیں تھا سو اسے نہیں معلوم تھا کہ سپیشلی اجازت لینے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے ۔
وہ آپ میرے ہسبنڈ ہیں۔ سو آپ ہی سے اجازت لینی تھی۔
اوکے اوکے مگر کرو گی کہاں؟ فہد کے مان جانے پر صبا کا چہرہ کھل اٹھا ۔
وہ میری روم مٹ ہے وہاں اسکے سکول میں ایک ٹیچر کی ضرورت ہے۔وہاں۔وہ خوشی خوشی بتانے لگی۔ٹھیک۔جب تک ہمارا مسلہ حل نہیں ہوتا۔تب تک کر لو۔
______________________””””””””””””””””””””
وو تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا اوپر جا رها تھا کہ ایک لڑکی اس سے ٹکراتے ٹکرا تے بچی ۔
اوہ! عزیر اس لڑکی کو پہچان گیا تھا۔کچھ دیر پہلے عمیر بھی یہاں سے گزرا تھا اگر یہ اس سے ٹکرا جاتی تو۔
شکر! اسکے منہ سے بے اختیار نکلا مگر لڑکی کے چہرے پر شناسائی کے کوئی آثار نہیں تھے۔
اب وہ جدھر ہوتا وہ لڑکی بھی ادھر ہو جاتی۔کافی دیر یہی ہوٹا رہا تو عزیر دیوار کے ساتھ لگ گیا۔پہلے آپ چلی جایں۔اسنے مسکراتے ہوئے کہا
تھنکس ! وہ کہ کر نیچے اتر نے لگی۔
ایکسیوز می! عزیر نے اسے روکا۔وہ پلٹی
آج گھر جا کر شکرانے کے نفل ادا کیجیے گا۔
وہ کیوں؟ اسنے حیرت سے پوچھا
ایکچولی چند لمحے پہلے میرا بھائی بھی یہاں سے گزر کر گیا ہےجس کی آپ نے اس دن بستی کردی تھی۔سو اب وہ آپکو ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔
لیکن میں نے کب؟ وہ آنکھوں میں حیرانی لیے اس سے پوچھ رہی تھی۔
ارے آپکی یاد داشت کافی کمزور ہے۔۔۔لڑکی نے اسے گھور ا
اس دن جب آپ اپنی گاڑی پارک۔۔۔۔۔۔۔وہ یاد دلانے لگا
اوہ ہاں یاد آگیا ۔وہ اچانک بول پڑی ۔۔۔حلانکے اسکے چہرے کے تاثرات اسکے بر عکس تھے۔
تو غلطی بھی تو آپکے بھائی کی ہی تھی ایک تو مجھے پہلے ہی دیر ہو گئی تھی اوپر سے انہوں نے فضول باتیں شورو ع کر دی تھی ۔۔۔اوکے آئ ہیو تو گو ناؤ ۔وہ پلٹی اور تیزی سے سیڑھیاں اترتی چلی گئی
عجیب لڑکی ہے اس دن کیسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی اور آج ۔۔۔۔۔خیر مجھے کیا۔۔وہ پھر تیزی سے سیڑھیاں پھلانگنے لگا۔
ویسے آج کافی اچھی لگ رہی تھی۔اسنے سوچا۔
///////////////////////
رمضان میں سب سے بڑا مسلہ سحر ی میں اٹھنے کا تھا باقی تو سب آرام سے اٹھ جاتے تھے مگر عزیر اور شہریار نے سب کا ناک میں دم کر رکھا تھا ہر پانچ منٹ بعد کوئی نا کوئی انھیں اٹھانے اتا اور وہ ہر کسی کو پانچ منٹ کے لیے ٹال دیتے۔
آخر کار قاسم کے دماغ نے ہی کام کیا۔اسنے اپنے سیل میں سائر ن والی ٹو ن داؤن لوڈ کی۔اب وہ آدھا گھنٹہ پہلے ہی وو ٹو ن لگاتا اور وھ دونوں بند آنکھوں سے ٹیبل پر موجود ہوتے ۔
آج افطاری بنانے کی ذمہ داری شہریار کی تھی۔روزانہ کچھ سامان بازار سے آتا تھا مگر آج شہریار صاحب سارا کا سارا سامان ہی بازار کا اٹھا لاے ۔
اف ۔۔۔میری آنکھوں کے اگے تارے ناچ رھے ہیں۔بازار سے سامان خرید کر اور اسے کچن تک پہنچا نے میں ہی اسکی آنکھوں کے اگے تارے ناچنا شرو ع ہو گیے تھے۔
بیٹا جی! جب ہم یہ سب بناتے ہیں تو کھاتے ہوئے تمہاری آنکھوں کے آگے تارے نہیں ناچتے ؟ آفاق جو ابھی ابھی شاور لے کر آیا تھا بولا۔گرمیوں کے روز وں نے ویسے ہی سب کی مت ماری ہوئی تھی۔
یار قسم سے نازک مزاجی میں تو تو عورتوں کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے۔فہد جو ٹی وی دیکھ رہا تھا۔نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔
ویسے آپکی بیگم کا کیا ہوگا؟ عمیر بولا تو فہد گڑ بڑا گیا ۔مگر وہ شہریار سے مخاطب تھا۔
ہاے وہ اے تو سہی۔شہریار نے آہ بھری ۔
ہاں آے اور پھر کہے اللّه ! میرے لیے یہی نمونہ رہ گیا تھا۔وہ عمیر ہی کیا جو آگے سے جواب نا دے۔
تم تو چپ ہی رہو میرے صدا کے دشمن۔
میرے سپنوں کی رانی کب آے گی تو۔وہ آنکھیں بند کر کے گنگنانے لگا۔
###########
صائمہ صدیقی
******************”*”””
ہم لوگ لائبریری میں ہی ہوں گے۔تم وہیں آجانا ۔عمیر نے عزیر سے کہا جو assignment لے کر اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف بھگا تھا۔
وہ لوگ ابھی دروازے سے داخل ہونے ہی والے تھے کہ لڑکیوں کا ایک گروپ تیزی سے باہر نکلا تھا۔وہ سب آپس میں باتیں کر رہی تھیں ۔عمیر کا ایک دوست سعد اس گروپ کی ایک لڑکی سے ٹکرا گیا۔
اوہ ایم سوری۔سعد نے فورا ً معذرت کرلی ۔حلانکھ غلطی اس لڑکی کی ہی تھی۔
اوہ اٹس اوکے ۔وہ لڑکی ابھی بولنے ہی لگی تھی کہ انکے گروپ کی ایک دوسری لڑکی بول پڑی
وہاٹ سوری! تم لوگوں کا تو کام ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمیر کے ذہن میں جھماکہ ہوا۔ارے یہ تو وہی ہے۔
ہم لوگ تو جو بھی ہیں محترمہ۔۔۔۔ذرا اپنا حدود و اربع بتانا پسند کریں گی ؟ ہر کسی سے خوامخواہ فری ہونے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔شاید ہوبی ہے آپکی۔۔۔جن بیچاروں کی ٹکر ہوئی تھی وہ آپس کی معذرت اور بات بھول کر ان دونوں کو خاموش کروانے میں لگ گیے۔
تم سے فری ہونے کی کوشش۔۔۔۔۔۔۔۔مائی فٹ۔۔۔۔شکل دیکھی ہے اپنی۔۔۔۔۔۔۔سڑے ہوئے بینگن ۔
اور تم۔۔۔۔۔تم کیا ہو۔۔۔۔۔کیڑا لگی بھنڈی ۔۔۔۔
عزیر assignmentجمع کروا کر واپس بھی آگیا تھا۔تیزی سے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسنے لائبریری کے دروازے کے باہر ایک ہجوم دیکھا۔یھ یہاں کونسی کانفرنس ہو رہی ہے۔وہ حیران ہوتا ہوا آگے بڑھا۔
تم۔۔۔تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اس طرح بات کرنے کی۔وہ لڑکی غصے سے لال پیلی ہو رہی تھی۔
اس میں ہمت کی کونسی بات ہے۔ذرا سی زبان ہی ہلا نی تھی۔۔عمیر شاید دل کی بھڑاس نکال چکا تھا۔سو اب اسے ز چ کر رہا تھا اور وہ۔۔۔۔اسکی آنکھیں۔۔۔۔اس لڑکی کا بس نہیں چل رہا تھا وہ عمیر کے ساتھ کیا کر ڈالے۔یہ کیا ہو رہا ہے؟ عزیر نے آگے بڑھ کر عمیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
کچھ نئی یار ے عادت سے مجبور ہے۔وھ ہلکے پھلکے انداز میں کندھے اچکا کر بولا۔
میں عادت سے مجبور ہوں یا ۔۔۔۔۔۔وہ پھر شروع ہو گئی
پلیز بس بات ختم کریں۔کافی تماشا ہو چکا ہے۔اسنے عمیر کا ہاتھ پکڑا اور واپسی کے لیے قدم بڑھایے
توبہ لڑکی ہے یا پٹاخہ ۔سعد تھوڑا آگے جا کر بولا۔
ایٹم بم ہے پوری۔عمیر ہنسا
لیکن اس دن تو۔۔عزیر نے الجھ کر سوچا۔ویسے عمیر کی شکل بھی تو ایسی ہے ۔ہاہاہا۔۔۔لیکن میری کونسا الگ ہے۔۔۔وہ دل ہی دل میں ہنسا
________________________اگلی دفع وہ واقعی ایک ہفتے بعد اس سے ملنے پہنچ گیا تھا۔
اب آپکی یاد داشت کچھ کچھ بہتر ہوتی جا رہی ہے۔وہ دھیرے سے ہنسی تھی
بس دیکھ لو! میں نے کہا تھا نا کہ اپنی مسز کو کون بھول سکتا ہے۔وہ گڑ بڑا کر بولا تھا۔ کیوں کہ یہ تو اسکا ایک دوست اپنی مسز کی بھاری شاپنگ کے ڈیمانڈ کا رونا نا روتا تو اسے یاد ہی نا آتا کے وہ بھی ایک عدد مسز رکھتا ہے۔اور پھر فورن ہی اسے یاد آیا کہ اسنے صبا سے ہر ہفتے انے کا وعدہ کیا تھا۔سو وہ اب اسکے سامنے تھا۔
اور کیسا گزر رہا ہے وقت؟ جاب سے مطمئن ہو؟ اسنے بات براے بات کی تھی
اور آگے سے وہ مکمل اور بھرپور جواب دینے لگی ایک ایک تفصیل کے ساتھ۔شاید پورے ہفتے کی باتیں جمع کر کے رکھی ہوئی تھی وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے پوری توجہ کے ساتھ سن رہا تھا ۔
جو بات کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ہاتھوں کو بھی ہلا ہلا کر بتا رہی تھی۔اور اسکی آنکھیں۔۔۔۔۔اسکے تاثر ات کی مکمل عکاسی کر رھے تھے۔
آتے ہوئے وہ اسے کافی ساری رقم دے کر آیا thا تا کہ وہ صرف اپنی تنخواھ کی محتاج نا رہے
یار ہم لوگ عید کی تیاری کب کریں گے؟ عمیر بولا
اپنے اپنے حصے کے کام نپٹا کر اب وہ افطا ری کے بعد لاوُنج میں بیٹھے تھے۔شیراز صاحب اپنے ایک دوست کی طرف جا چکے تھے۔جب کہ وہ سب چا ے سے لطف اندوز ہو رھے تھے۔تراویح کے لیے سب اکھٹے ہی جاتے تھے۔اگر ایک بھی افطا ری کے بعد روم میں گھس جاتا تو پھر سحر ی کے وقت ہی نکلتا تھا۔
ہائیں! شہریار اچھل پڑا ۔
کیا کہا تم نے۔عزیر ذرا اسکی کمپنی چیک کر۔پہلے اسے رمضان کی تیاری کرنی تھی اور اب بیسویں روزے کو ہی عید کی تیاری کی یاد آگئی ۔۔۔عمیر صاحب سب ٹھیک ہے نا؟ اسنے مشکوک نظروں سے عمیر کو گھور ا
ایک تو تم بھی الٹا مطلب لے لیتے ہو ہر بات کا۔عمیر کو چند لمحے ہی لگتے تھے غصے میں انے میں
تو تم باتیں ہی ایسی کرتے ہو۔بندہ مجبور ہو جاتا ہے شک کرنے پر
آفاق بھائی! میں یہ کہ رہا تھا کہ ہم لوگ عید کی شوپنگ کب کریں گے ؟ شہریار کی طرف سے رخ موڑ کر اب وھ آفاق کی طرف متوجہ ہوا
کیوں؟ آفاق نے پوچھا۔
کیوں کیا ہوا؟ کرنی تو ہے ہی۔۔پھر جلدی جلدی کرتے ہیں نا۔۔۔۔اچھا لگے گا نا۔سب اکھٹے ساتھ جایں گے۔۔
آہم آہم۔۔۔۔کیوں بھائی۔۔۔۔بچیوں کی جان لینے کا ارادہ ہے۔۔۔سارے شہزادے اکھٹے نکل پڑے تو۔۔۔۔۔۔۔
قاسم نے کہا تو سب نے قہقہہ لگایا
ویل سیڈ قاسم!
یار مجھے بتاؤ۔تمہارے ساتھ پرابلم کیا ہے؟ عزیر نے اس سے پوچھا
بس میں چاہتا ہوں کہ ہمارے گھر بھی ویسی تیاری ہو جیسی سعد وغیرہ کے گھر ہوتی ہے۔بازاروں کے چکر۔۔کبھی دو پٹے رنگوانا ۔کبھی لیس وغیرہ کے کلر۔پھر چوڑیا ں مھندی۔۔۔ابھی وہ بول ہی رہا تھا کہ شہریار پھر بول پڑا
دیکھا! میں نے کہا تھا نا کہ اسکی کمپنی چیک کرو۔مجھے بتاؤ ذرا یہ سعد نے کب سے دوپٹتا لینا شروع کر دیا۔اور یہ مھندی چوڑ یا ں ۔۔۔۔۔آر یو کریزی ؟
اور تمہیں اس گھر میں ایسی کوئی مخلوق نظر آتی ہے جو یہ سب چیزیں یوز کرے؟ عزیر نے کہا۔
تم تو بس۔۔۔۔عمیر نے منہ بنا لیا
عمیر بی سیریس ۔تم خود بتاؤ ہمارے گھر میں یہ سب پہننے والا ہے کون جو ہم یہ لاتے پھریں ؟ آفاق نے اس سے پوچھا تو اس نے سر جھکا لیا
تو ہم اپنی شاپنگ۔۔۔یوز پھر یاد آیا۔
وہ ہم چاند رات کو ہی کریں گے۔اگر پہلے کر لی تو عید کا جو تھوڑا بہت احساس ہوتا ہے وہ بھی جاتا رہے گا۔آفاق نے کہا تو وہ کچھ سوچ کر چپ ہو گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: