Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 1

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 1

–**–**–

اختتامیہ انتساب
ڈاکٹر جاويد نور بخش کے نام
جو نعمت ال ٰہي صوفي سلسلے کے پیر ہیںپیش لفظ
انسان اپنے اعمال پر خود گواه ہے
قرآن 75:14
الله کے نام سے، جو بے انتہا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔
میرا نام اسحاق ہے اور مجھے يہ مسوده لکھنے کي ذمہ داري سونپي
گئي ہے، اپنے پیر و مرشد کے حکم پر میں اس سفر کي داستان لکھ رہا ہوں کہ
جس سے تمام ساتھیوں میں سے صرف میں ہي الله کے کرم سے واپس لوٹا
ہوں۔
علي اور رامي اب نہیں رہے۔ میں نے انہیں آگ میں داخل ہوتے ديکھا تھا۔
دلوں کے راز جاننے والا جاسوس بھي شعلوں کي نذر ہوا۔ عبراني راہب اور اس
کي بیٹي يا عظیم کپتان کا انجام بھي مجھے معلوم نہیں۔ حالانکہ میں نے
انہیں بہت کہا تھا کہ چلے جائیں، مگر وه نہیں گئے۔
مجھے ايک بات کا پورا يقین ہے۔ عفريت ابھي تک وہیں منتظر ہے۔
بالزيبول، آقائے جنات
____________
ہم انہیں نشانیاں دکھاتے ہیں
افلاک میں بھي اور ان کے اپنے اندر بھي
قرآن 41:53
صحرا کے وسط میں صبح کي پہلي روشني نمودار ہوتے وقت کالے
بھنورے ريت سے نکل کر عبادت کرنے کے لئے ريتلے ٹیلے کي چوٹي کو بھاگے
جاتے ہیں۔ چوٹي پر قطار در قطار کھڑے ہو کر سورج طلوع ہوتا ديکھتے اور جھک
جاتے ہیں جیسے رکوع کي حالت میں ہوں۔ ان کے پچھلے حصوں کا رخ سورج
کي جانب ہو جاتا ہے اور شبنم کے قطرے ان کے سخت خول سے پھسلتے
ہوئے ان کے بے تاب منہ میں جا گرتے ہیں۔
میں اس منظر سے رو ديا۔ میرے آخري آنسو۔
میں نے سوچا کہ يہ ہے غفور و رحیم کي جیتي جاگتي نشاني، دعا جو ہرصبح قبول ہو کر زندگي کو پروان چڑھاتي ہے۔ اگر میرا دل عام انساني شکوک و
شبہات سے پاک ہوتا تو اتنے ہي پختہ يقین سے بھرا ہوتا۔ انسان اپني عقل
سے بعید معجزوں کي بھي کوئي نہ کوئي عقلي توجیہہ تلاش کر لیتا ہے، کہ
يہي اس کا معیار ہے۔
آقا نے بالکل درست فرمايا تھا۔ میرے شبہات اور خواہش سے انہیں بخوبي
آگاہي تھي۔ آج سے بہت پہلے، ابتداء سے ہي انہوں نے اسے پوري طرح ديکھ
لیا تھا۔
میں نے ساري رات پاني کے بغیر ارک )صحرائي علاقہ( کا سفر کیا تھا جو
تینیري صحراء میں واقع ہے اور میرا رخ شمال مغرب کو تھا۔ امید تھي کہ میں
اس سڑک تک جا پہنچوں گا جو اگاديز کو جاتي ہے۔ میري توانائي ختم ہونے
والي تھي۔ سپیده سحر نمودار ہونے سے تین گھنٹے قبل میري ہمت جواب دے
گئي اور میں ہلالي شکل کي ايک ريتلي پہاڑي کے پاس گرا اور برچھن )نیم
دائرے والي ريتلي پہاڑي( میں سرد صحرائي رات سے بچاؤ اور کچھ حدت پانے
کے لئے گھس گیا۔
ہوا تھم چکي تھي اور تاريک آسمان پر ستارے دمک رہے تھے۔ حیرت کي
بات ہے کہ مجھے ڈر نہیں لگ رہا تھا حالانکہ میں اچھي طرح سے جانتا تھا کہ
میں اگلا دن زنده نہیں ره پاؤں گا۔ میرا ذہن پرسکون، صاف اور ان ستاروں کي
مانند کہیں دور تھا۔ اب تک چھائي ہوئي مايوسي اور اداسي میرے جسم کي
نمي کي طرح میرا ساتھ چھوڑ چکي تھیں۔ میں کئي دنوں سے صحرا میں بھٹک
رہا تھا۔ شايد مجھے سکینہ کا کچھ حصہ عطا ہو گیا تھا۔ ايسا سکون جو صرف
الله کے سامنے مکمل تابعداري کے بعد دل کو حاصل ہوتا ہے، يا شايد میں
سورج کي گرمي اور پیاس کي شدت سے ديوانہ ہو گیا تھا۔ تاہم جب میں نے
آنکھیں بند کیں تو نہ تو مجھے سانپ بچھو کا کوئي ڈر تھا اور نہ ہي کسي اور
جنگلي جانور يا موت کا انديشہ۔ خوابوں اور انديشوں سے خالي، مجھے علم
بھي نہیں ہوا اور صبح ہو گئي۔
جب سپیده سحر سے میري آنکھ کھلي تو ايک لمحے کے لئے مجھے لگا
کہ جیسے خواب ديکھ رہا ہوں۔ میرے خوابیده شعور کو بمشکل احساس ہوا کہ
ہزاروں کي تعداد میں بھنورے ايک ساتھ اڑنے لگ گئے ہیں اور میرے سامنے
کالے دھبوں کي مانند دکھائي دے رہے ہیں۔ میں نے کبھي ايسا منظر نہیں
ديکھا تھا اور پہلي سوچ يہي آئي کہ يہ بھنورے مجھے کھانے آئے ہیں۔ خود کو
بعجلت ريت سے نکال کر میں رينگتے ہوئے اس جگہ سے دور ہوا۔ يا حیرت،
انہیں میري کوئي پروا ہي نہیں تھي بلکہ ان کا رخ ريتلے ٹیلوں کي چوٹیوں کي
جانب تھا تاکہ وه سورج کي طرف قطاريں بنا سکیں، جو قديم ترين مؤذن تھا۔
ان کي عبادت کي قبولیت کو خولوں پر لڑھکتے شبنم کے قطروں کي
صورت ديکھ کر میں اپنے آنسو نہ روک سکا اور اپنے دکھتے جسم کو گھسیٹ
کر جھکا اور اپنا ماتھا ريت پر ٹیک ديا۔
میرے يا رح ٰمن کا ورد کرتے ہي توارگ میرے پاس ايسے آن پہنچے جیسےبھونروں کي دعا فوري قبول ہوئي تھي۔ ان کي آمد آسیب کي مانند ہوئي تھي،
آہستگي سے گھوڑوں پر سوار، تشکیک کا شکار کہ آيا ان کا سامنا کسي
ديوانے سے ہوگا يا چھلاوے سے۔
نمک کي تجارت کے پرانے راستے پر سفر کرتے ہوئے يہ لوگ حجوج نامي
سیارے کي مدد سے راستے کا تعین کرتے تھے اور آج تک انہیں مجھ سے
زياده عجیب چیز دکھائي نہیں دي تھي۔ جب انہوں نے اشاروں میں مجھ سے
بات کرنے کي کوشش کي تو سر ہلانے کے علاوه میں چپ ہي رہا۔ نیلا گندورا
بھي پہننے کے باوجود مجھے تماشک زبان کے چند ہي الفاظ آتے تھے جو ان
کي اپني زبان تھي ۔ جب انہیں کچھ سمجھ نہ آيا تو مجھے اپنے ساتھ اپنے
کارواں کي جانب لے گئے۔
وہاں پہنچ کر انہوں نے مجھے مشکیزے سے پاني گھونٹ گھونٹ کر کے
پلايا اور ہر گھونٹ پر میں الله کا شکر ادا کرتا رہا اور ہر سانس پر حمد کرتا رہا اور
میر کارواں مودوگو کي واپسي کے منتظر رہے۔ آہستہ آہستہ میري حالت بہتر
ِ
ہم
ہونے لگي۔ تھوڑي دير بعد مودوگو بھي آن پہنچا۔ اس کي چوڑي تلوار لال نیام
میں لٹک رہي تھي اور کالي پگڑي نے اس کي آنکھوں کے سوا پورا سر چھپايا
ہوا تھا۔ تاہم میں نے اسے آنکھوں سے پہچان لیا۔ وه افارنو تھا۔
افارنو اور میں پہلے بھي مل چکے تھے۔
اسي طرح گھوڑے پر سوار افارنو چلايا۔ “میں تو تمہیں مرده سمجھے بیٹھا
“تھا۔ باقي کہاں ہیں؟
وه فرانسیسي اچھي بول لیتا تھا لیکن اسے عربي محض ٹوٹي پھوٹي
آتي تھي۔ تاہم جب میں خاموش رہا تو وه گھوڑے سے اترا اور پاس آ کر مجھے
ديکھنے لگا۔ اسے کیا دکھائي ديا، میں اس بارے محض اندازه ہي لگا سکتا ہوں۔
پھر اس نے اس طرح آہستہ آہستہ وضاحت کي کہ جیسے کسي ُکند ذہن کو
سمجھا رہا ہو۔ اس نے بتايا کہ اس کے اونٹ تسمیت کے نمک کے ڈلوں سے
لدے ہوئے ہیں اور نائجر میں دمرگو کو جا رہے ہیں تاکہ نمک کے بدلے باجره
خريد سکیں۔ تاہم اس نے باد ِل نخواستہ میرے لیے ايک بنده اور دو اونٹ ساتھ کر
ديئے تاکہ اس کے باپ کے پاس جا سکوں جو اس کے قبیلے کا سردار يعني
امینوکل ہے۔
اونٹ کا کجاوه تیار کر کے بغیر الوداع کہے میں اور میرا رہنما تینیري کو عبور
کرنے نکلے۔ دو دن بعد ہم اگاديز میں تھے جہاں میں ابھي تک موجود ہوں۔ میري
ديکھ بھال کے لیے امیر امینوکل کي بیوي اور ايک بوڑھي ملازمہ ہے اور میرا
قیام ان کے گھر کے ايک چھوٹے سے کمرے میں ہے۔
امینوکل کے بارے پتہ چلا کہ وه کیل اہاگر کے تین قبائل کا مشترکہ سردار
طبل جنگ بھي ہے جو توارگ جیسے
ِ
ہے اور اپنے قبیلے کا امرار يعني امیر
جنگجو قبیلے میں بہت اہم عہده ہے۔ پر اب وقت گذر چکا ہے۔ فرانسیسي
قبضے کے بعد سے پرانے دور کا ہر طريقہ بدل گیا ہے۔
اپنے اخلاق اور عادات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امینوکل کو اپني چھوٹي سي
سلطنت پر کتنا فخر ہے۔ بوڑھا ہونے کے باوجود اس کي مہمان نوازي اور آداب
لاجواب ہیں اور اس کے وجود سے اس کے گھر کي شان بڑھ جاتي ہے۔وه میري چارپائي کے ساتھ کھڑے ہو کر سنجیدگي سے میرا جائزه لیتا رہا
لیکن میري حالت کے بارے کوئي سوال نہیں کیا اور خاموشي سے میرا لکھا ہوا
خط اٹھا لیا۔ شايد صحرا میں بھٹکنے والا میں پہلا احمق نہیں تھا يا شايد اسے
کسي انعام کي توقع ہو، لیکن اس سے اس کے مہربان اور سخي میزبان ہونے
پر کوئي فرق نہیں پڑتا۔ شايد اس کے م ِدنظر يہ عرب کہاوت رہي ہو کہ اچھائي
کر کے بھول جاؤ، الله تمہیں اس کا بہترين صلہ دے گا۔
تاہم وه دو خواتین دن کو کمرے کے باہر دروازے پر بیٹھتي تھیں اور ان کي
سرگوشیوں میں چھپا غیر يقیني پن اور تعلق صاف سنائي ديتا تھا کہ ان کے
خیال میں يا تو مجھ پر جادو ٹونا ہوا ہے يا پھر سورج کي تپش اور صحرائي
مشکلات کا شکار ہو کر میں ديوانہ ہو گیا ہوں۔
ان کي حیرت بجا ہے۔
میرے قلم اور سفید کاغذ سامنے رکھے ہیں۔ میري توانائي بحال ہو چکي
ہے لیکن خاموشي جاري ہے۔ صحرا میں فرار ہونے سے لے کر اب تک میں نے
ايک لفظ بھي ادا نہیں کیا۔ تاہم اب مجھے منشي کي ذمہ داري نبھاني ہے ورنہ
میں خاموش ہي رہوں گا۔ اصل واقعات کے علاوه اور کچھ بھي نہیں لکھوں گا۔
الله میري ياداشت کو واضح رکھے۔باب 1
میرا دل اب ہر شکل میں ڈھلنے کے قابل ہو چکا ہے: اس میں ہرنوں کے لئے
گھاس بھي ہے اور عیسائي راہبوں کے لئے کلیسا بھي اور بتوں کا بت کده
بھي اور ُحجاج کا کعبہ بھي اور توريت کي تختیاں اور قرآن کي کتاب بھي۔ اگر
دين محبت کي پیروي کروں تو محبت مجھے جہاں لے جائے گي، وہي میرا
ِ
میں
مذہب اور وہي میرا ايمان ہوگا۔
)ترجمان الاشوق )خواہشوں کا ترجمان
محي الدين ابن العربي
ہم اپنے مرشد کي رہائش گاه میں صبح جلدي اٹھتے تو اس وقت ستارے
مدھم ہو رہے ہوتے تھے اور رات دن کي روشني میں بدل رہي ہوتي تھي۔ شايد
آپ جانتے ہوں؟ تب خاموشي دل کا مکان ہوتي ہے۔ روح کي تختي دھل کر صاف
ہو چکي ہوتي ہے۔
اس وقت میں کھڑکي میں بیٹھ کر باغ ، کھیتوں اور اس کے پیچھے شہر کو
ديکھتا تھا۔ آه، يروشلم۔ وس ِط گرما تھا اور ہوا میں چنبیلي اور سمندر کي خوشبو
پھیلي ہوئي تھي۔
اس دن میں نے صبح کو خوش آمديد کہتے مرغے کي بانگ سني تاہم يہ
صبح میري زندگي کي ديگر صبحوں سے بالکل فرق تھي۔ اچانک ايسے لگا
جیسے پوري دنیا کے پرندے چہچہانے لگ گئے ہوں اور باغ میں درختوں پر چڑيا،
تلیئر، طوطے، فاختہ اور سینکڑوں ديگر پرندے جن کے نام بھي مجھے پتہ نہیں،
چہچہانے لگے اور ہر ايک کي آواز دوسرے سے الگ اور منفرد تھي۔
میں نے آج تک اتني بڑي تعداد اور اتنے مختلف اقسام کے پرندے ايک جگہ
اکٹھے ہوتے نہیں ديکھے تھے۔ حت ٰي کہ ان میں بلبلیں بھي شامل تھیں حالانکہ
بلبل ہمیشہ ستاروں کي چھاؤں میں چہچہاتي ہے۔ يہ بات میرے وہم و گمان
سے بھي باہر تھي کہ يہ سارے پرندے کیوں جمع ہوئے لیکن میري خاموشي
ختم ہو گئي۔ میں چائے کا پاني گرم کرنے سیڑھیوں سے اترا۔
کیتلي کو آگ پر چڑھا کر میں نے باغ کي جانب والا دروازه کھولا تاکہ ان
پرندوں کو روٹیوں کا چورا ڈال کر ان کي چہچہاہٹ بند کر سکوں۔ يا حیرت، آقا
درختوں میں گھري سنگي بنچ پر بیٹھے تھے۔
میں نے حیرت سے سر ہلايا کہ آقا نے اتنے شور و ُغل والي جگہ پر بیٹھنا
کیسے پسند کیا ہوگا اور ان سے چائے کا پوچھنے ہي والا تھا کہ انہوں نے
مجھے ديکھ کر آه بھري اور اپني آنکھیں موند لیں۔ اسي وقت تمام پرندے ايکساتھ اس طرح خاموش ہو گئے جیسے کہ وه صرف آقا کے لئے چہچہا رہے ہوں۔
اس اچانک خاموشي پر میرا سانس رک سا گیا۔ میرے سامنے ايک ايسي
کرامت ہوئي جو عموماً آقا سے منسوب کي جاتي ہیں۔ میں نے کبھي ايسا
حیرت انگیز منظر نہیں ديکھا تھا کہ جس سے میں ششدر ره گیا ہوں۔
ُاس وقت مجھے ان چیزوں کے بارے يا آقا کے بارے کتني کم معلومات
تھیں۔ میرے ذہن میں ہزاروں تصورات گھومتے رہے لیکن میں پرندوں کے اس
رويے کے بارے کوئي توجیہہ نہ سوچ سکا۔ نہ تو مجھے ان کے چہچہانے کي
وجہ سمجھ آئي اور نہ ہي ان کے ايک ساتھ خاموش ہونے کي۔
تاہم زياده سوچنے کا وقت نہیں تھا۔ دن شروع ہو رہا تھا اور گھر کے ديگر
افراد بھي جلد ہي جاگ جاتے۔ میں نے پرندوں کا تذکره گول کر ديا اور نہ ہي
کسي اور سے پوچھا کہ انہوں نے کیا ديکھا يا کیا سنا۔ آقا کي عادات و اطوار پر
بحث نہیں کي جاتي۔ باورچي خانے کے نگران نے نشست کے کمرے میں فرش
پر بچھے ايراني قالین پر صفراء يعني لمبا دسترخوان بچھايا۔ پھر اس نے ناشتے
کے لئے نمک، روٹیاں، پنیر، مکھن اور مربے رکھے۔ تاہم میري بھوک مر چکي
تھي۔
آقا ہمارے ساتھ ناشتے کے لئے نہیں آئے۔ کچھ دير بعد جب میں نے باغ
میں ديکھا تو آقا بھي اور پرندے بھي، دونوں دکھائي نہیں دے رہے تھے۔
دوپہر سے ذرا قبل آقا واپس لوٹے۔ ظاہر ہے کہ کسي نے بھي پوچھنے
کي جرأت نہیں کي کہ وه کہاں گئے تھے۔ آقا بازار چہل قدمي کو جانے لگے تو
بھي کسي نے سوال نہیں کیا۔ اگرچہ آقا بازار کبھي نہیں گئے تھے لیکن اس
بار ان کا مقصد ايک خاص قسم کا قہوه تلاش کرنا تھا جو وه خود نہیں پیتے
تھے۔ ہر کوئي حیران تو ہوا لیکن کسي نے آقا سے پوچھنے کي کوشش نہیں
کي۔ آقا نے مجھے ساتھ چلنے کا اشاره کیا تاکہ ان کي خريدي اشیاء کو اٹھا
سکوں۔
آه، کاش میں بیان کر سکوں کہ اس صبح بازار کي خوشبوؤں اور نظاروں نے
مجھے کتنا خوش کیا تھا۔ دکانوں سے گذرتے ہوئے پرندوں والي بات میرے
حافظے سے محو ہو چکي تھي۔ بہت سارے تاجروں نے آقا کو پہچان کر انہیں
پھل اور روٹیاں پیش کیں اور دعا کي درخواست کي۔ آقا نے مجھے جیبي ڈائري
میں ان سب کے نام لکھنے کا حکم ديا اور تاجروں سے کہا کہ وه ان تمام
نذرانوں کو غريبوں میں بانٹ ديں۔
خالق حقیقي میري دعاؤں کو قبول کرے۔
ِ
”انہوں نے کہا۔ ” شايد اس طرح
چند چیزيں خريدنے کے بعد آقا نے پرانے شہر کا چکر لگانے کا فیصلہ کیا۔
کچھ دير خاموشي سے چلتے ہوئے ہم آخرکار مسجد حرم الشريف جا پہنچے
ہیکل سلیما ؑني کے کھنڈرات پر بنائي گئي
ِ
جس کے بارے مشہور ہے کہ وه
تھي۔
اس عظیم گنبد کے سائے میں مجھے ايک بوڑھا بھکاري دکھائي ديا۔ اس
کا رنگ قہوے کي مانند گہرا تھا اور سفید کچھے اور پھٹي چپلوں کے علاوه اس
نے سر پر ُبني ہوئي ٹوپي پہني تھي۔ سنگي سیڑھیوں پر بیٹھے اپنے کشکول
میں خیرات ڈالنے والے لوگوں کے بارے پیشین گوئیاں کر رہا تھا۔ اس کا قد لمبااور جسم انتہائي دبلا تھا۔ سارے جسم میں پسلیاں اور کمزور سے پٹھے صاف
دکھائي دے رہے تھے۔ ايسا لگتا تھا کہ جیسے وه ابھي ابھي کسي قديم صحرا
سے نکل کر آيا ہو لیکن اس کے سفید بال اور داڑھي صاف ستھري اور کنگھي
شده تھیں جو شايد اس نے نمازيوں کے خیال سے کي تھیں۔
آقا نے رک کر لمحہ بھر اسے ديکھا۔ میں نے اس شخص کو پہلے کبھي
نہیں ديکھا تھا لیکن پھر بھي مجھے جانا پہچانا سا لگا۔ اچانک مجھے اس سے
ہمدردي محسوس ہونے لگي کہ اس کے ضعف کے باوجود اس کي زندگي
کتني سخت ہے۔
آواز بلند کہا۔ “پتہ نہیں اس کي دعائیں قبول بھي ہوتي ہوں
ِ
میں نے بہ
”گي۔
آقا میري جانب مڑے اور بولے۔ “يقین کرو، اس کي دعائیں قبول ہوتي ہیں۔”
آقا کي آنکھیں موٹي اور سفید بھنوؤں کے نیچے چمک رہي تھیں۔ “اس نے اپنے
لیے کچھ نہیں مانگا، اس لیے اس کي دعائیں اتني ہي آساني سے آسمان تک
پہنچتي ہیں جیسے سمندر سے بخارات اوپر کو اٹھتے ہیں۔ يہ فقیر ہے جسے
سکینہ کا حصہ نصیب ہوا ہے۔ ايسا سکون جو صرف الله کي مرضي کے سامنے
سب کچھ قربان کرنے سے ملتا ہے۔ اے اسحاق، اس فقیر کو تم پر ترس آنا
چاہیئے۔ جب تم اپنے دل سے ديکھنا سیکھ لو گے تو تمہاري آنکھیں تمہیں
دھوکہ نہیں دے سکیں گي۔ جا کر اس کے کشکول میں سکے ڈالو۔ تمہاري
”ملکیت جتني کم ہوگي، اتنا ہي نفس کو قابو کرنا آسان ہوگا۔
بظاہر کتني سمجھداري سے میں نے اثبات میں سر ہلايا حالانکہ مجھے
کچھ بھي سمجھ نہیں آئي تھي۔ اب بھي مجھے نہ ہونے کے برابر سمجھ آئي
ہے۔ تاہم میں اس بوڑھے آدمي کے کشکول میں چند سکے ڈالنے کو بڑھا جو
کسي سخت پھل کو تراش کر بنايا گیا تھا۔
جب اس نے سر اٹھا کر مجھے ديکھا تو میرے ہاتھ سے سکے گر گئے۔
اس کے بال اور داڑھي سفید تھے اور بوڑھے چہرے پر جھرياں ايسے پھیلي
ہوئي تھیں جیسے کسي اجنبي سرزمین پر وقت اور صحرائي ہوا سے نقشے
بن جاتے ہیں، بے ڈھنگے لیکن ُپرکشش۔ میں اس سے نظريں ُچرانا چاہتا تھا
لیکن اس کي آنکھوں نے جیسے مجھے جکڑ لیا ہو، میں ہلنے ُجلنے سے بھي
قاصر ہو گیا تھا۔ اس کے بوڑھے چہرے پر اس کي آنکھیں انگاروں کي مانند دہک
رہي تھیں۔ ان میں اتنا سکون تھا کہ مجھے اپنے ُزعم پر افسوس ہونے لگا۔
”اس نے کہا۔ “تم لمبے سفر پر نکلو گے۔
پھر اس نے اپني نظريں جھکا لیں اور پھر نہیں بولا۔ میں بے بسي سے
جھکا اور آقا کے پیچھے کسي بچے کي مانند جا چھپا۔ میں نے بوڑھے کے
الفاظ بمشکل ہي سنے تھے تاہم مجھے پتہ چل گیا تھا کہ يہ فقیر جس کے
پاس الله کے سوا اور کچھ نہیں، امیر انسان تھا جبکہ اچھے کپڑوں میں ملبوس،
ِسکوں اور ترحم کے باوجود میں اصل فقیر تھا۔
سارا دن میں اسي بوڑھے آدمي کے بارے سوچتا رہا۔ ايسا چہره کن
صحراؤں میں پیدا ہوگا ہوگا، کن مشکلات سے گذر کر اس نے دانائي پائي
ہوگي؟ اور اس کي گہري سیاه آنکھوں نے کیسے نظارے ديکھے ہوں گے۔مجھے يقین تھا کہ اس بندے سے يہ میري پہلي ملاقات تھي لیکن پھر بھي وه مجھے مانوس لگ رہا تھا۔ مجھے بے چیني ہونے لگي۔ میں نے فیصلہ کیا کہ
شام کو کھانے کے بعد آقا سے اس بارے پوچھوں گا۔
آقا نے باغ میں میرے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔ “فقیر کي وجہ سے جو
تمہاري ياداشت بیدار ہوئي ہے، وه دراصل روح کي پاک حالت کي ياد ہے جو
”تخلیق سے قبل تھي۔ دل کي يہ کاملیت را ِه حق پر چلنے والوں کو بلاتي ہے۔
میري سوچ کو پڑھتے ہوئے انہوں نے بات جاري رکھي۔ “اور تمہاري بے
چیني کي وجہ تمہارا خوف ہے۔ تم نے اس کي بات کو دھیان سے نہیں سنا
لیکن تمہارا دل را ِه حق کي طرف چل پڑا ہے۔ اس راه کي طرف کہ جس کي گرد
کا ايک ذره بھي دنیا بھر کے سونے کے بدلے تم نہیں خريد سکتے۔ تمہارے
”دنیاوي خدشات تمہیں يہ کہہ کر ڈراتے ہیں کہ اِس طرح تم غريب ہو جاؤ گے۔
اے اسحاق! فیاض دلوں کے پاس دينے کو ہمیشہ بہت کچھ ہوتا ہے۔ جس”
کي روح کنجوس ہو، ان کے پاس دينے کو کبھي کچھ نہیں ہوتا۔ دنیاوي مال و
متاع چھوڑنے سے ُفقر نہیں ملتا اور نہ ہي عبادات اور فاقوں سے۔ خود نمائي کو
ترک کرنے سے اور مسلسل ياد میں محو رہنے سے دل دنیا سے الگ ہو جاتا
ہے۔ اس کے بعد ہاتھوں سے دنیاوي چیزيں چھوٹ جاتي ہیں اور ہاتھ الله کو تھام
”لیتے ہیں۔
میں کچھ نہ بولا اور ان الفاظ کو جذب کر لیا۔ آقا نے مجھے ديکھ کر آه بھري۔
آه۔ مو ٰس ؑي کي طرح تم بھي اصل خیرات کي قدر سے ناواقف ہو۔ تمہاري”
سوچیں ابھي تک اپنے اندر اس طرح منتشر ہیں کہ کسي اور چیز کي جگہ ہي
”نہیں بچي۔
آقا نے حکم ديا کہ آج رات میں باہر سوؤں تاکہ میں بھي اسي زمین پر لیٹ
پر اسي ہوا میں سانس لوں جس میں فقیر بھي سوئے گا۔ شايد اس طرح
میري ياداشت بہتر ہو سکے۔
يوں میں اپنا بستر، کمبل اور تکیہ لے کر باغ میں آيا اور بڑے فوارے کے
پاس بچھے ہوئے ايراني قالین پر لیٹ گیا۔ اس جگہ گرمیوں میں آقا مجالس
منعقد کرتے تھے اور يہاں خاصي توانائي محسوس ہوتي تھي۔ کمبل اوڑھ کر
میں نے ہاتھ اپني ُگدي کے نیچے رکھے اور رات کو جذب کرنے لگا اور ساتھ
بہتے ہوئے فوارے کا پاني مجھے ُپرسکون کرنے لگا۔
مشرقي افق پر پورا سنہري چاند طلوع ہو گیا تھا اور کافي بلند ہو کر بے
شمار ستاروں کے ساتھ يروشلم پر اپني چاندني پھیلا رہا تھا۔ اس سے میرا دل
ان کہي ُہوک سے بھر گیا۔ ايسا لگا جیسے آسمان کي روشنیاں جل رہي ہوں۔
اس خوبصورت اور دلکش منظر نے میري سوچوں تک کو روک ديا۔ میري آنکھیں
بند تھیں اور نیند اور خواب کے بیچ مجھے وه کہاني ياد آئي يا شايد ُاس کہاني
نے مجھے ياد کیا۔
مو ٰس ؑي تنہا صحرا میں گئے اور الله سے دعا مانگي۔ “اے الله، میں برسوں
سے تیرا ُغلام ہوں لیکن تو ايک بار بھي میرے گھر نہیں آيا اور نہ ہي میرے ساتھ
“کھانا کھايا۔ کیا تو کبھي میرے گھر آ کر میرے ساتھ کھانا نہیں کھائے گا؟
الله کو اس درخواست سے بہت خوشي ہوئي اور اس نے جواب ديا۔ “ہاں۔تو واقعي میرا سچا خادم ہے اور آج شام کو میں تیرے گھر آؤں گا اور تیرے ساتھ
”کھانا کھاؤں گا۔
مو ٰس ؑي بہت خوش ہوئے کہ انہیں يہ مرتبہ ملا اور فوراً گھر کو لوٹے اور گھر
والوں کو تیاري کا حکم ديا اور الله کے لئے اپنے ہاتھوں کھانا تیار کیا۔
جب سب تیارياں مکمل ہو گئیں اور شام کے کھانے کا وقت قريب آيا تو
مو ٰس ؑي بہترين کپڑے پہن کر گھر کے باہر الله کے انتظار میں ٹہلنے لگے۔ اس
وقت بہت لوگ دن بھر کي محنت کے بعد گھروں کو لوٹ رہے تھے اور مو ٰس ؑي
کے پاس سے گذرتے ہوئے جھک کر تعظیم ديتے ہوئے جاتے۔
مو ٰس ؑي بے توجہي سے ان کي تعظیم کا جواب دے رہے تھے کہ ان کے
پاس ايک فقیر آن کر جھکا۔ اس کے جسم پر چیتھڑے لٹک رہے تھے اور صندل
کي لکڑي کے سہارے جھکا ہوا تھا۔ اس بوڑھے نے کہا۔ “عالي جناب، آپ اپني
”دولت میں سے مجھے کچھ عنايت فرمائیں گے؟ يہ میري مؤدبانہ التجا ہے۔
مو ٰس ؑي نے شفقت سے مگر بعجلت جواب ديا۔ “ہاں ہاں۔ تمہیں پیٹ بھر کر
کھانا بھي ملے گا اور پیسے بھي۔ لیکن ابھي نہیں۔ ابھي ايک معزز مہمان آنے
”والا ہے۔ ابھي میں مصروف ہوں۔
فقیر چلا گیا اور مو ٰس ؑي انتظار کرنے لگے۔ گھنٹوں پر گھنٹے گذرتے گئے اور
پوري رات اسي طرح بیت گئي لیکن الله نہ آيا۔ مو ٰس ؑي کو بہت افسوس ہوا۔ وه
بہت روئے اور سو نہ سکے۔ يہ احساس کہ الله نے انہیں بھلا ديا ہے، ان کا دل
توڑنے کو کافي تھا۔ پو پھٹنے کے وقت وه دوباره صحرا گئے۔ روتے ہوئے انہوں نے
اپنے کپڑے لیرا لیر کر ديئے اور سجدے میں چلے گئے۔
اے میرے مالک۔ کیا میں نے تجھے ناراض کر ديا کہ تو وعدے کے باوجود”
میرے گھر نہیں آيا؟” انہوں نے روتے ہوئے کہا۔
اسے مو ٰس ؑي، میں وہي فقیر تھا جو تیرے سامنے لاٹھي کے سہارے”
جھکا ہوا تھا اور جسے تو نے خالي ہاتھ بھیج ديا۔ تجھے معلوم نہیں کہ میں
اپني پوري خلقت میں سمايا ہوا ہوں۔ انہیں تو جو کچھ ديتا ہے، وہي میرے
سامنے آن کر رکھا جاتا ہے۔” الله نے جواب ديا۔
جب میں دن کي روشني میں اٹھا تو آنسو میرے گالوں پر نشان چھوڑ
چکے تھے۔ میں اپني لاعلمي اور اس سفر پر خوب رويا جو میرے دل کو ابھي
کرنا تھا۔ ابوالقاسم الجنید کو اپنے وقت کا قطب کہا جاتا تھا، نے ايک بار بتايا۔
“میں ُغلط سمت ہزار قدم چلنے کو تیار ہوں کہ شايد میرا ايک قدم درست
سمت پڑ جائے۔” واقعي، فقیر نے میرے اندر يہي ديکھا تھا۔ میں نے الله کا شکر
ادا کیا کہ اس نے مجھے صحیح راستے کے آقا تک پہنچا ديا تھا اور میري زندگي
اسي کا عظیم تحفہ تھي۔باقي سب کچھ نفس ہے، خوف کي ماري انا کي ضروريات۔ ِ

Read More:  Harma Naseeb Na Thay By Huma Waqas – Episode 5

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: