Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 10

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 10

–**–**–

باب 10
میں محبت کے کٹورے پر کٹورے پیتا رہا
نہ تو محبت ختم ہوئي اور نہ میري پیاس بجھي۔
بايزيد بسطامي
آقا نے مجھے خود آن کر اٹھايا۔ يہ بات اتني غیر معمولي تھي کہ میں ہڑبڑا
کر اٹھ بیٹھا۔
جو بھي تم نے ديکھا اور سنا ہے، اسے لکھ لو۔” انہوں نے کہا۔ “میرا پرانا”
شاگرد اور اس کے دوست جلد ہي صحرا میں جائیں گے اور تم ان کے ساتھ
”میرے منشي کي حیثیت سے جاؤ گے۔
شايد انہوں نے میري آنکھوں میں موجود سوال پڑھ لیا تھا اس لیے وه
مسکرائے اور بولے۔ “فکر نہ کرو۔ علي اور رامي بھي تمہارے ساتھ جائیں گے۔
انہیں صحرا کا علم ہے۔ ربیکا بھي جائے گي۔ وه اپنے باپ کو بخوبي جانتي ہے۔
”جلدي سے سب کو جگا دو۔ دائره پورا ہونے والا ہے۔
!دائره پورا ہونے والا ہے
تب يہ سچ تھا۔ منشي کے لفظ کي جڑ صفر ہے جس کا مطلب “گننا” ہے
لیکن يہ محض منشي گیري نہیں تھي جو آقا مجھ سے چاه رہے تھے۔ مجھے ہر
واقعے کو ديکھنا تھا تاکہ میں گواه بن سکوں۔ قديم ڈھانچے اور خفیہ زبان کي
کسي حد تک وضاحت کي جا سکتي تھي اور يہ بھي کہ وه مہر شايد غار میں
ہي کہیں موجود ہو لیکن وہاں تک لے جانے کے لئے انتہائي غیر معمولي حالات
بن رہے تھے، غیر ارضي ہوائیں اور ناممکنات جیسي مشابہتیں، خواب اور خون۔
کچھ برا ہونے کے خوف کے باوجود میں اس معمے سے مجبور تھا اور
جیسے آقا کے الفاظ نے مجھے اس دائرے میں گھسنے پر مجبور کر ديا جو پورا
ہونے والا تھا۔ مجھے آقا کي بصیرت پر پورا بھروسہ تھا اور چاہے انجام کچھ بھي
ہو، انہوں نے سلیما ؑن کے گوشت پوست سے لکھي ہوئي تحرير پڑھ لي تھي
جس میں ہم سب شامل ہونے والے تھے۔ ربیکا، علي، رامي اور میں، ہمیں اس
کا حصہ بننا تھا۔
جب ہر کوئي بیدار ہو گیا تو میں نے ہماري نئي بہن کو شامل کرنے کي
تیارياں شروع کرائیں۔
اس کي قوت اور متانت مجھے پسند آئي کہ ابھي درويش نہ ہوتے ہوئے
بھي اس نے خاموش رہنا سیکھ لیا تھا۔
جب میں نے ربیکا کے دروازے پر دستک دي تو اس نے گرمجوشي سے
مسکرا کر مجھے خوش آمديد کہا۔ میں اپنے دل پر دائیاں ہاتھ رکھ کر احتراماًجھکا۔ کتني خاموش تھي، میري شمولیت کے برعکس وه کتنا پراعتماد لگ رہي
تھي۔
ہم لوگ تقريباً پورا دن ہي سوئے تھے اور شام ہونے والي تھي۔ ديگر
درويشوں نے بھي آنا تھا اور جو ہمارے ساتھ گذشتہ رات سے تھے، وه ابھي
نیچے نہیں اترے تھے۔ اس لیے جب میں ناشتے کے لئے چائے بنانے گیا تو
ربیکا میرے ساتھ رہي۔
بالکل سیدھي بیٹھي ہوئي ربیکا کي پشت کرسي سے الگ رہي اور اس
کے ہاتھ گود میں رکھے تھے۔ اس کے انداز سے ظاہر تھا کہ وه جیسے مزيد
ہدايات کي منتظر ہو۔
میں نے اسے چائے پیش کي اور سامنے بیٹھ گیا۔ تاہم میں نے آنکھیں
ملانے سے گريز کیا کہ سوچ رہا تھا کہ کہاں سے بات شروع کروں۔ میں نے
پہلے کبھي ايسا نہیں کیا تھا۔
اس نے میري جھجھک کو سمجھ لیا۔
مدد کا شکريہ۔ میں نے کبھي سوچا بھي نہ تھا کہ میں يہاں بیٹھي ہوں”
گي۔” اس نے کہا۔
تمہاري جگہ جب میں بیٹھا تھا تو میں نے بھي يہ کبھي نہیں سوچا تھا۔””
میں بولا۔
”يہ کیسے ہوا تھا۔ تفصیل سے بتاؤ۔”
اظہار تشکر کے لیے
ِ
اس سوال نے میري جھجھک ختم کر دي۔ میں
مسکرايا اور وہیں بیٹھے ہوئے میں نے اسے اپني کہاني سنائي۔
پہلے پہل میں نے آقا کو اتنے شوق سے ديکھا تھا کہ اب ہنسي آتي ہے۔
میں بہت سنجیده طالبعلم ہوا کرتا تھا اور مجھے سچائي اور دانش مندي سے
پیار تھا۔ تم درست سمجھي ہو، میں فلسفے کا طالبعلم تھا۔ میرے پاس ايسے
عالمانہ مشا ُغل کي فرصت بھي تھي۔ میرا تعلق امیر خاندان سے تھا۔
ايک بار موس ِم بہار کے ايک دن میں آخري جماعت کے بعد پارک میں لمبي
سیر پر نکلا اور میرا رخ اپنے کمرے کي جانب تھا۔ فوارے کے قريب درختوں کا
ايک ُکنج تھا جہاں میں بعض اوقات گھاس پر بیٹھ کر مطالعہ کرتا تھا۔ اس بار
جونہي میں ُکنج کے قريب پہنچا تو مجھے موسیقي کي آواز آئي جو ‘نے‘ کي
تھي۔ میں نے اس آواز کا پیچھا کیا۔ میرا خیال تھا کہ کوئي موسیقار يہاں رياض
کرنے آيا ہوگا۔ مگر وہاں جا کر مجھے بہت حیرت ہوئي کہ کافي بڑا مجمع سننے
کو بیٹھا تھا۔ میں نے سوچا کہ شايد کوئي موسیقي کا پروگرام ہوگا اور میں
ماہر فن تھا۔
ِ
بھي ايک جگہ بیٹھ کر سننے لگا۔ موسیقار بہت
يہ علي تھا۔ مختلف عمروں کے دو درجن مرد و زن گھاس پر بیٹھے
خاموشي سے سن رہے تھے۔ پھر رامي میرے پاس آيا۔ وه میري ايک جماعت
زير تعلیم تھا اور ہمارا تعارف بھي نہیں ہوا تھا لیکن پھر بھي واقف چہره
ِ
میں
ديکھنا اچھا لگا۔ اس نے بات کیے بنا مصافحہ کیا اور میرے بازو کو تھام کر مجھے
پیچھے ايک جگہ لے گیا اور ہم بیٹھ گئے۔ بدقسمتي سے يہ سلسلہ زياده دير
جاري نہ ره سکا اور موسیقي رک گئي۔
میں بہت دير سے آيا۔” میں نے رامي سے کہا۔”نہیں نہیں۔ تم بالکل ٹھیک وقت پر پہنچے۔” اس نے جواب ديا۔”
عین اسي وقت آقا مجمعے میں داخل ہوئے۔
سفید کپڑوں اور ٹوپي میں ملبوس آقا خاموشي سے درختوں کے بیچ
چلتے ہوئے آئے۔ جب وه ہمارے سامنے کرسي پر بیٹھے تو ان کے لبادے کے
نیچے سے ان کے جوتے اور سفید جرابیں دکھائي دينے لگیں۔
رامي نے سرگوشي میں بتايا کہ يہ شیخ ہادي ہیں جو صوفي استاد ہیں
عصر حاضر کي محترم ترين شخصیات میں سے ايک۔ اسے خود حیرت ہو رہي
ِ
اور
تھي کہ آقا نے اس طرح کھلے مجمعے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ظاہر ہے کہ مجھے سرے سے بات کي سمجھ نہ آئي۔ میں نے ان کا نام
کبھي نہیں سنا تھا۔ میں تو موسیقي سننے پہنچ گیا تھا اور يہاں شايد کوئي
مذہبي محفل چل رہي تھي اور اگر میں اسي وقت اٹھ کر چل پڑتا تو بہت عجیب
لگتا ۔ جو بھي ہو، اب تو پھنس گیا تھا اور ساري محفل برداشت کرني تھي۔
شیخ ہادي نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور مجمعے کے سامنے جھکے۔
سلام۔” انہوں نے کہا۔”
ان کي گہري اور گونجدار آواز سن کر مجھے حیرت ہوئي۔ جوں جوں وه
محبت اور خدا کي جانب جانے والے راستے کے بارے بات کرتے گئے، فضا پر ان
کي گفتگو چھاتي چلي گئي۔ آپ نے شايد انہیں سنا ہو۔ ان کي آواز میں ايسا
دبدبہ ہوتا ہے کہ آپ اس سے متائثر ہوئے بنا نہیں ره پاتے۔
مجھے فوراً ہي بے چیني ہونے لگي۔
رامي اور ديگر لوگ انہیں محويت سے سنتے رہے۔ تاہم مجھے ايسي
محفلیں ہمیشہ سے مشکوک لگتي تھیں چاہے وه کتني ہي ُپر اثر کیوں نہ ہوں۔
يہ میرے لیے نہیں تھیں۔
پھر کافي زياده تالیاں بجیں تاہم مجھے محض آخري الفاظ ياد ہیں جو کچھ
:ايسے تھے
دوستو، آپ کي قسمت ستاروں سے وابستہ نہیں بلکہ خدائے رحمان و”
رحیم کے ہاتھ ہے۔ خدا کي محبت کو اپنے دل میں رکھو اور فلاح پا جاؤ۔” انہوں
نے کہا۔
مزيد تالیاں بجیں اور میں نے بھي شائستگي سے تالیاں بجائیں اور خوش
ہوا کہ محفل ختم ہوئي۔ میں اٹھنے ہي والا تھا کہ آقا اپني کرسي سے اٹھے
اور اپنا دائیاں ہاتھ سامنے بڑھايا۔ اس پر ايک سکہ تھا۔
ديکھیے۔ جب میں جوان تھا تو میں حج کرنے مکہ گیا۔ میرے گھر سے وه”
فاصلہ ہزار میل کا تھا مگر میں نے گھر سے نکلتے ہوئے اپني جیب میں محض
ايک سکہ رکھا۔ مجھے خدا پر بھروسہ تھا کہ وه میري رہنمائي کرے گا۔ جب میں
”واپس لوٹا تو وہي سکہ تب بھي تک میري جیب میں تھا۔
ہر کوئي ان کي داستان سن کر متائثر ہوا۔ کئي لوگ اسمائے حسنہ
پکارنے لگے۔ مجھے يقین نہیں آيا۔ میرے اندر طالبعلم کي روح بیدار ہوئي اور
عقل نے اسے ماننے سے انکار کر ديا۔
معاف کیجیے گا، اگر آپ کو خدا پر پورا يقین ہوتا تو آپ ايک بھي سکہ”
ساتھ نہ لے جاتے۔” میں نے ان کي جانب رخ کر کے کہا۔مجمعے پر اچانک خاموشي چھا گئي اور جیسے سب کا سانس تھم گیا
ہو۔ مجھے لگا کہ جیسے میں نے بدتمیزي کر دي ہو۔ رامي نے حیران ہو کر میري
طرف ديکھا جبکہ ديگر افراد حیران سے زياده پريشان دکھائي ديے۔ لیکن شیخ
ہادي نے قہقہہ لگايا۔ میري طرف ديکھتے ہوئے مسکرا کر جھکے۔
آپ نے بالکل درست کہا۔ میں اس وقت نرا جاہل تھا۔” انہوں نے سکہ جیب”
میں ڈالتے ہوئے کہا۔
پھر ديگر لوگ باورچي خانے میں پہنچ گئے۔ انہوں نے ہمیں خوش آمديد کہا
اور ربیکا نے اپنے باپ کے گال چومے۔ پروفیسر نے اس کے کان میں کچھ
سرگوشي کي اور ربیکا نے سر ہلايا۔ رامي نے علي، پروفیسر اور کیپٹن سیماچ
کے لئے چائے انڈيلي اور پھر ہم دونوں کو ديکھتے ہوئے دوسروں کو لے کر باہر
باغ میں چلا گیا۔
پھر کیا ہوا؟” ربیکا نے دوسروں کے جاتے ہي پوچھا۔”
میں نے بتايا۔ “وه مجھے ايک طرف لے گئے اور اگلے روز شام کے کھانے
”کي دعوت دي اور کہا کہ درويش شايد میرے علم سے کچھ فائده اٹھا سکیں۔
ربیکا قہقہ لگا کر ہنسي جبکہ میں صرف مسکرايا۔
”انہوں نے جال بچھايا اور تم پھنس گئے۔”
ہاں۔” میں نے بمشکل اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے کہا کہ پراني يادوں”
سے میرا دل بھر آيا تھا۔
“ربیکا سمجھ گئي۔ “آپ کو شايد اس پر ذرا بھي اعتبار نہ آيا ہوگا؟
میں نے بتايا کہ ايسے ہي تھا تاہم میں نے ُاس وقت يہ بات نہیں تسلیم
کي تھي۔
“پھر کیا ہوا؟”
اگلي رات رامي میرے کمرے میں آيا اور کھانے کے لئے مجھے خانقاه تک”
لے گیا۔” میں نے سر سے ملاقاتي کمرے کي جانب اشاره کیا۔ “اس وقت تک
مجھے افسوس ہونے لگ گیا تھا کہ میں نے يہ دعوت کیوں قبول کي۔ میرا خیال
تھا کہ اس وقت ان کے آقا کے سامنے میرے بول پڑنے کي وجہ سے اب مجھے
يہاں بالکل ہي نظرانداز کیا جائے گا۔ تاہم ہر ايک نے انتہائي گرمجوشي سے
میرا استقبال کیا۔ میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے پہلي بار کہیں اس
دوستانہ انداز اور گرمجوشي سے خوش آمديد کہا گیا تھا۔ حت ٰي کہ آقا بھي
مجھے ديکھ کر بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے کھانے کے دوران مجھے اپنے دائیں
جانب بٹھايا اور مجھے اس راه کے بارے بتاتے رہے اور نہايت صبر سے میرے
سوالات کے جواب ديتے رہے جو اس سلسلے کي تاريخ اور افراد سے متعلق
تھے۔ ان کي توجہ سے مجھے بہت حیرت اور خوشي ہوئي اور انہوں نے اس
”بارے ايک مقالہ لکھ کر دينے کا بھي وعده کیا۔
ربیکا ہنسنے لگي۔
سچ ہے۔ جب ہم کھانے کے بعد باغ میں بیٹھے تو میں مسلسل باتیں”
لکھتا رہا۔ شايد میں اس وقت بالکل ہي احمق لگ رہا ہوں گا۔ مجھے اتني توجہ
”کي اہمیت کا اندازه نہیں تھا۔
جلد ہي چائے اور مٹھائیاں پیش ہو گئیں۔ آقا معذرت کر کے اوپر اپنے”کمرے میں چلے گئے تھے۔ علي نے اپني ‘نے‘ بجانا شروع کر دي اور ديگر
درويشوں نے مل کر دف کي تھاپ پر اسمائے حسنہ کا ورد شروع کر ديا۔ میں
نے کبھي يہ ساده آلا ِ ت موسیقي نہیں سنے تھے اور نہ ہي آوازوں میں اتني
خوشي ديکھي تھي۔ میرا قلم رک گیا اور کاپي ايک طرف رکھ دي۔ موسیقي نے
میرے دل میں ايک نئي کسک پیدا کر دي تھي۔ میرے آنسو میري گالوں پر بہہ
رہے تھے۔ میں خود کو کہتا رہا کہ يہ سب بکواس ہے لیکن خود کو رونے سے نہ
”روک سکا۔
بھاري سانسوں کے ساتھ میں نے دوسري طرف منہ پھیر لیا۔ ابھي تک
مجھے وه ياديں متحیر کر ديتي ہیں۔ “میں اس رات وہیں رہا، اگلا دن، اگلا دن اور
”اس سے اگلا دن۔ اگلے ہفتے آقا نے مجھے سلسلے میں شامل کر ديا۔
خاموش سوچ کي حالت میں ربیکا کي بھنوئیں مل گئیں۔
کیا سب ايسے ہي ہوا؟ يعني بالکل ايسے ہي؟” ربیکا نے آخرکار نرم آواز”
میں پوچھا۔
ہاں، کچھ اور بھي تھا۔” میں نے جواب ديا۔”
اس بارے کوئي خواب بھي ديکھے تھے؟” اس نے پوچھا۔”
میں آقا کے سوا کسي سے اس بارے بات نہیں کر سکتا۔ معذرت خواه”
ہوں۔” میں نے جواب ديا۔
ربیکا نے آہستہ سے سر ہلايا اور استفسار والے تائثرات اب قبولیت میں
بدل گئے۔ کھڑے ہو کر اس نے مزيد چائے ڈالي۔ اگرچہ يہ میري ذمہ داري تھي
لیکن میں اس سے لطف اندوز ہوا۔
پھر بتاؤ کہ میرے لیے کیا جاننا ضروري ہے؟” اس نے لمحہ بھر توقف کے”
بعد پوچھا۔
ہاں، بالکل۔ کھانے کے بعد ہم سب ملاقات کے کمرے میں بیٹھیں گے اور”
چائے پیئں گے اور پھر آقا معذرت کرتے ہوئے اوپر اپنے کمرے میں چلے جائیں
گے۔ پھر وه تمہیں بلائیں گے اور تمہیں لے کر میں ان کے پاس جاؤں گا۔ پھر ان
کے کمرے کے سامنے ہم زمین پر اپنے ماتھے ٹیکیں گے۔ پھر آقا تمہیں کو
کمرے کے اندر بلائیں گے۔ میں باہر منتظر رہوں گا۔ تم ان کے عین سامنے بیٹھو
گي اور ان کے بولنے کا انتظار کرو گي۔ ياد رکھو! تم نے تب بولنا ہے جب آقا
کوئي سوال کريں يا بولنے کي اجازت ديں۔ وه تم سے کیا پوچھیں گے، اس
بارے مجھے علم نہیں۔” میں نے کوشش کي کہ عام انداز میں وضاحت کروں۔
“انہوں نے تم سے کیا پوچھا تھا؟”
میں نے سر ہلايا۔ “اس کا کوئي فائده نہیں۔ ہر بندے سے مختلف سوال
”کیے جاتے ہیں۔
پھر؟” اس نے پوچھا۔”
”پھر وه پوچھیں گے کہ تم ان کے لیے کیا لائي ہو۔”
“میں ان کے لیے کیا لے جاؤں؟”
”مٹھائي کا ڈبہ، ہمارے پاس موجود ہے اور ايک انگوٹھي۔”
“ايک انگوٹھي؟”
ہاں، نگینے جڑي انگوٹھي۔ ضروري نہیں کہ مہنگي والي ہو۔ اگر تمہارے””پاس نہیں ہے تو ہم جا کر خريد لیتے ہیں۔
نہیں۔ میرے پاس انگوٹھي ہے۔” لمحہ بھر کے توقف کے بعد اس نے کہا۔”
انگوٹھي کا نذرانہ سخاوت کو ظاہر کرتا ہے۔ امیر ہو يا غريب، درويش”
ہمیشہ اپنے دل سے دنیاوي مال و متاع کي محبت کو نکالتا رہتا ہے۔ انگوٹھي
اسي نیت کو ظاہر کرتي ہے۔ جیسے پرانے دور میں ُغلاموں کو کڑے پہننے ہوتے
تھے، اسي طرح يہ الله سے تمہارے کے تعلق کي نشاني ہوگي اور آقا کو اس
راه پر اپنا رہنما ماننے کي علامت۔ نگینہ اس راه کے مسافر کے سر کو ظاہر کرتا
ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمہیں جو بھي راز کي بات بتائي جائے گي، تم اسے
”کبھي افشا نہیں کرو گي۔
اگر مجھے اپنے والد کي طرح خواب آئے تو۔ ۔ ۔ ؟” اس نے پوچھا۔”
تم انہیں صرف آقا کو بتا سکتي ہو۔” میں نے جواب ديا۔”
“اور مٹھائي؟”
مٹھائي تمہارے دوسرے جنم کي خوشي کو ظاہر کرتي ہے۔ ہم کہتے”
ہیں کہ والده ہمیں اس جہان میں لائیں اور ہماري کي روح کو خدا سے الگ کیا۔
اب ہم محبت کے راستے کي مسافر بن رہے ہیں تو يہ ہمارا دوسرا جنم ہوگا
”جس میں ہم خدا کي طرف واپس جائیں گے۔
”اوه۔”
اس کے ساده تائثر نے مجھے متائثر کیا۔ “آقا کئي اور بھي سوال کر
سکتے ہیں يا تمہیں کچھ بھي بتا سکتے ہیں۔ تاہم يہ ہر انسان کے لیے مختلف
ہوتا ہے۔ آخر میں وه تمہیں ايک ذکر عنايت کريں گے جو کوئي لفظ يا فقره ہوگا
اور اسي سے تم خدا کو ياد کرو گي۔ ہر بار سانس لیتے اور نکالتے وقت تم دل
میں اس کا ورد جاري رکھو گي۔ اس طرح آہستہ آہستہ، کافي عرصے بعد
تمہاري مشق بن جائے گي اور تمہاري ہر سانس عبادت ہو جائے گي جو رحمت
”اور تشکر کو ظاہر کرے گي۔
يہ سن کر اس کي آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور میں اس کے تائثرات
پر مسکرايا۔ “جب آقا تمہیں قبول کر لیں تو تمہارے دونوں گالوں کو چومیں گے۔
پھر وه مٹھائي کا ايک حصہ لے کر باقي لوٹا ديں گے۔ آخر میں وه مجھے بلائیں
گے اور میں تمہیں نیچے لے جاؤں گا۔ جب تم نیچے کمرے میں داخل ہو گي تو
تمام درويش تمہارے احترام میں کھڑے ہوں گے اور تم إ ہر ايک کو مٹھائي کا ايک
ايک ٹکڑا ديتي جاناں گي اور سلام کہہ کر ہر درويش کے دونوں گالوں کو چومتي
”جائیں گي۔ میں اس حلقے میں سب سے آخر پر ہوں گا۔
میں نے ربیکا کو ديکھتے ہوئے گہرا سانس لیا۔
پھر؟” اس نے پوچھا۔”
”میں مسکرايا۔ “پھر تم میري بہن ہو گي اور میں تمہارا بھائي۔
میرا خیال ہے کہ اسے اس وقت احساس نہیں ہوا کہ وه رو رہي تھي۔
مجھے افسوس ہے۔ میں ايک چھوٹي سي بچي ہوں۔” اس نے کہا۔”
اس وقت مجھے احساس ہوا کہ آقا نے مجھے ربیکا کو تیار کرنے کا حکم
کیوں ديا تھا۔
میں بھي۔” میں نے اسے اپنا رومال ديتے ہوئے کہا۔ اس نے میز پر ہاتھ”پھیلا کر میرا رومال لیا اور میرے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اس لمحے
ہمارے رشتے کي صداقت پر مہر لگ گئي۔ دوستوں کے حلقے میں يہ مزيد
گہري دوستي کي ابتداء تھي۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: