Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 11

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 11

–**–**–

باب 11
سمندر
سمندر رہے گا
قطرے کا فلسفہ جو بھي ہو۔
فريد الدين عطار
ايسے ہي ہوا۔ شام کے کھانے کے بعد ہمارے درمیان مسکراہٹوں کا تبادلہ
ہوتا رہا۔ جس سے اس کے تجسس کي شدت کم ہوتي رہي لیکن مجھے علم
نہیں کہ اس نے کتني حد تک میري باتیں سمجھي تھیں۔ آقا اپني سوچوں میں
گم تھے اور انہوں نے کم ہي توجہ دي۔ کھانے کے اختتام پر انہوں نے ايک بزرگ
درويش سے کچھ کہا اور اوپر چلے گئے۔
جب برتن اٹھا لیے گئے اور دسترخوان اٹھا لیا گیا تو چائے پیش ہوئي۔
پروفیسر فري مین اور کیپٹن سیماچ کمرے کے دوسرے کونے میں ايک ساتھ
بیٹھے تھے جبکہ ربیکا میرے ساتھ سر جھکائے بیٹھي رہي۔
احتراماً کسي درويش نے ہماري جانب نظر اٹھا کر نہیں ديکھا۔ انہیں اس کا
بخوبي علم تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور وه ربیکا کي محويت کو توڑنا نہیں چاہتے
تھے۔
اس طرح ہم بیٹھے رہے حت ٰي کہ بزرگ درويش ہمارے سامنے گھٹنوں کے
بل جھک کر بیٹھے اور بتايا کہ وقت ہو گیا ہے۔
میں ربیکا کو فوراً اوپر آقا کے کمرے کي جانب لے گیا اور ہم انتظار گاه میں
بیٹھ گئے۔ آقا کے کمرے کا دروازه کھلا تھا اور ہم انہیں تکیے کے سہارے بیٹھا
پائپ پیتا ديکھ سکتے تھے۔ چائے کے دو گلاس اور مٹھائي کي چھوٹي طشتري
ان کے ساتھ رکھي تھي۔
ہم دونوں نے ان کے سامنے اپنا ماتھا زمین پر ٹکايا اور آقا کو ربیکا کي آمد
کے بارے مطلع کیا۔
اندر بھیجو۔” انہوں نے کہا۔”
ربیکا کمرے میں داخل ہو کر ان کے سامنے بیٹھ گئي۔ میں نے دروازه بند
کر ديا۔
تاہم چند منٹ گذرے تھے کہ دروازه کھلا اور ربیکا باہر آئي۔ مجھے بعجلت
ديکھتے ہوئے وه غسل خانے گھس گئي۔ فوراً ہي مجھے غسل کي آواز آنے
لگي۔
ايسي علامتي صفائي بھي اس ابتداء کا حصہ ہو سکتي ہے تاہم پانيبہت زياده دير تک گرتا رہا اور اتني دير میں تو پانچ مرتبہ غسل لیا جا سکتا تھا۔
واپس جاتے ہوئے اس نے میري جانب نہیں ديکھا۔ اس کے بال گیلے تھے اور
اس نے اندر جا کر دروازه بند کر ديا۔
اس بار دروازه شايد گھنٹے بھر بعد کھلا اور ربیکا باہر نکلي اور الٹے قدموں
چلتے ہوئے اس نے دروازه بند کیا۔
اس کي ابتداء ہو چکي تھي۔ تاہم اس بار يہ عمل غیر معمولي طور پر طويل
تھا۔ تاہم ہمارے سلسلے میں ايک نئي درويش کي آمد ہو گئي تھي اس لیے
میں نے کھڑے ہو کر اسے خوش آمديد کہا۔
سلام۔” اس نے آہستگي سے کہا اور میرے شانے تھام کر میرے گال”
چومے۔
سلام۔” میں نے جواب ديا اور اس کے گال چومے تو اس کے گالوں پر”
نمکین آنسوؤں کا ذائقہ محسوس کیا۔ وه خاموشي سے رو رہي تھي اور
مٹھائي اس کے ہاتھ میں تھي۔
سبزه زار کے مسکرانے سے قبل بادلوں کو رونا پڑتا ہے۔ يہ تو بہت متبرک”
آنسو ہیں۔” میں نے رومي کے کلام کا سہارا لیا تاکہ اسے بہتر محسوس ہو۔
اس طرح تو میں ولي الله ہوئي۔” اس نے کہا اور ہم دونوں ہنس پڑے۔”
ابھي تک میرا رومال اس کے ہاتھ میں تھا اور وه اپنے آنسو پونچھ رہي
تھي۔ پھر ہم نیچے گئے۔
سلام۔” میں نے زور سے کہا اور پروفیسر اور کیپٹن سیماچ سمیت سب”
کھڑے ہو گئے۔
میں نے ربیکا کو ہماري روايات کے مطابق دائیں جانب سے ابتداء کر نے کا
کہا اور اس طرح گھڑيال مخالف انداز میں ہم آگے بڑھے۔ اس نے ہر درويش کو
سلام کیا، اس کے گال چومے اور اسے مٹھائي کا ايک چھوٹا سا ٹکڑا تھمايا۔
کسي نے مٹھائي منہ میں ڈال لي تو کسي نے بعد میں چائے کے ساتھ
کھانے کے لئے رکھ لي۔ اس نے اسي انداز سے کیپٹن سیماچ کو بھي سلام
کیا اور اپنے باپ کو سختي سے بھینچا۔ آخر میں اس نے مجھے سلام کیا اور
مٹھائي کا آخري ٹکڑا ديا۔
بار دگر خوش آمديد۔” میں نے کہا۔”
ِ
اس نے آہستگي سے آه بھري۔
پھر میں اسے ايک خاموش کونے میں لے گیا تاکہ وه بیٹھ کر آقا کي آمد
تک ذکر دہراتي رہے۔
يہ محاسبے کا وقت تھا يعني احتساب کا۔ جیسے قرآن میں ذکر ہے:
“يقین رکھو، تمہارے اندر جو کچھ پوشیده ہو يا ظاہر، تمہیں الله کو حساب دينا
ہوگا۔” اس لیے ہم اپنے اندر موجود انا کي خامیوں اور ديگر برائیوں کو ختم کرنے
کي کوشش کرتے ہیں اور اپني خدمتوں سے الله کي نعمتوں کا شکريہ ادا
کرتے ہیں۔
دس يا پندره منٹ بعد آقا نمودار ہوئے۔ ہم سب ان کے احترام میں کھڑے ہو
گئے اور آقا نے بھیڑ کي کھال کو اپني نشست بنايا اور ان کے حکم پر ہم بھي
بیٹھ گئے۔ انہوں نے بتايا کہ ربیکا ان کي دائیں جانب بیٹھے گي اور پروفیسر اورکیپٹن سیماچ اس کے دائیں جانب اور میں ربیکا کے بائیں جانب۔ علي اور رامي
میرے بائیں جانب بیٹھیں گے۔ جب ہماري نشست آقا کي منشا کے مطابق ہو
:گئي تو چائے پیش کي گئي۔ انہوں نے گھونٹ لیا اور بولنا شروع کر ديا
اے درويش، جب الله نے بني نوع انسان کو تخلیق کیا تو سب نے الله”
سے محبت کا دعو ٰي کیا۔ اس لیے الله نے دنیا کي نعمتیں پیدا کیں تو نوے فیصد
نے الله کو چھوڑ ديا۔ پھر الله نے جنت کي تخلیق کي تو بقیہ دس میں سے نو
نے الله کو چھوڑ ديا اور محض ايک فیصد باقي بچے۔ بقیہ کو جب تکلیف دي گئي
“تو ان میں سے نوے فیصد ساتھ چھوڑ گئے۔
آقا نے رک کر اپنا پائپ سلگايا اور تمباکو پینے لگے۔ “بني نوع انسان ايسي
ہي ہے جو لذتوں، امید اور مايوسي میں منقسم ہے۔ تاہم ساتھ ره جانےو الے
جو دس فیصد کے دسويں حصے کا بھي دس فیصد تھے، وه منتخب قرار پائے۔
انہیں دنیا کي خواہش، جنت کي طلب يا تکالیف سے کوئي غرض نہیں تھي۔
انہیں صرف الله درکار تھا۔ حالانکہ ان پر لائي گئي تکالیف سے پہاڑ بھي ہل
جاتے لیکن انہوں نے الله کي محبت اور اخلاص میں فرق نہ آنے ديا۔ بے شک
”وہي افراد الله کے خادم اور سچي محبت کرنے والے ہیں۔
آقا کي بات سن کر بہت سارے درويش رونے لگے اور آقا نے بات جاري
رکھي۔ “محبت کي راه پر چلنا الله کے خادموں کے لیے ہے اور الله کے خادم
مخلوق کے بھي خادم ہوتے ہیں تاکہ وه بھي اس راستے پر چل سکیں۔ اسي
”طرح الله کي رحمت مصر کے ذوالنون کے دل میں بھي آئي۔
الله نے انہیں کہا: ‘اگر میري جدائي میں کوئي بیمار تمہارے پاس آئے تو”
اس کا علاج کرنا، میرا باغي آئے تو اسے حوصلہ دينا، مجھ سے ملنے کا متمني
آئے تو اس کي حوصلہ افزائي کرنا، میري رحمت سے مايوس ہو تو اس کي مدد
کرنا، میري محبت اور شفقت کا طالب ہو تو اسے خوشخبري سنا دينا، میرے
بارے سچے خیالات ہوں تو اسے خوش آمديد کہنا، میري خاصیت جاننا چاہے تو
اس کي رہنمائي کرنا۔ اور اگر کوئي زخمي تمہارے پاس مدد مانگنے آئے تو اس
کي مدد کرنا، تاہم اگر اس نے میري رحمت و شفقت کے باوجود برائي کي ہے
تو احتجاج کرنا اور اگر اسے يہ بات بھول گئي ہو تو اسے ياد دلانا اور اگر وه بھٹک
گیا ہو تو اسے راه تلاش کر کے دينا۔ میں نے تمہارے لیے اپنا کام مخصوص کر
”ديا ہے اور تمہیں اپني خدمت کے لیے مقرر کیا ہے۔
ان الفاظ سے ہمارے دل پھٹنے کے قريب ہو گئے اور میري ياداشت میں
ابھي تک يہ محفوظ ہیں۔ میں نے کبھي آقا کو اتني طاقت سے بولتے نہیں سنا
آواز بلند ‘الله‘
ِ
تھا اور نہ ہي ان کي آواز اتني متائثر کن تھي۔ کئي درويش با
اظہار تشکر کے لیے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
ِ
پکارے اور
پروفیسر فري مین نے اپني روتي ہوئي بیٹي کو پکڑا تو اس کي اپني
آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ کیپٹن سیماچ بہت متحیر دکھائي دے رہا تھا۔
اس کا چہره اور بازو آسمان کي جانب اٹھے ہوئے تھے جیسے وه آسمان سے
کچھ مانگ رہا ہو اور جیسے آواز کے بناء کچھ بول رہا ہو اور اس کا چہره جیسے
اندروني تکلیف کو دکھا رہا ہو۔ آقا نے ربیکا اور پروفیسر کے سامنے سے جھک
کر کیپٹن سیماچ کے کندھے کو ُچھوا۔ اس کے ہاتھ گود میں گر گئے اور اس نےخاموشي سے سر جھکا لیا۔
ابھي میں اس پر حیران ہو ہي رہا تھا کہ آقا نے اپنا دائیاں ہاتھ اٹھايا تو ہر
طرف خاموشي چھا گئي۔ انہوں نے موسیقي کا حکم ديا اور علي نے ‘نے‘ اور
رامي نے ‘تار‘ سنبھال لیے اور کئي درويشوں نے دف اٹھا لیے۔ ايک بزرگ درويش
نے ايک قديم تمبیک نکالا جو شہتوت کي لکڑي سے بنا ڈھول نما آلہ تھا جس
پر بکري کي کھال منڈھي ہوئي تھي۔ اس نے اسے ب ُغل میں دبايا ہوا تھا۔
نے‘ نے اپني کسک کا اظہار شروع کیا اور تار کي تاريں آہستہ سے امید‘
کے ديے جلانے لگیں۔ جلد ہي دف کي آواز ہم آہنگ ہو گئي اور تالیوں کي آواز
بھي واضح ہونے لگي۔
:وه آقا کي ايک نظم گا رہے تھے
سنو اے درويش، محبت کا نغمہ
دل کي لازوال داستان
“الله نے سرگوشي کي۔ “کن
لا محدوديت چل پڑي۔
محبت سے تاريکي چھٹتي ہے
اور دنیا میں روشني آتي ہے۔
پہاڑ، سمندر اور ستارے شاہد ہیں
لا الہ الا الله
اے صوفي، کائنات گنگنا رہي ہے۔
میرے ترجمے کے معیار سے صر ِف نظر کیجیے۔ اصل نظم بہت خوبصورت
ہے۔ تاہم جو بھي کمي ره گئي تھي، وه دف اور تالیوں کے تسلسل سے چھپ
گئي تھي اور ہر درويش شہادت دے رہا تھا۔ ‘لا الہ الا الله‘ الله کے سوا کوئي
معبود نہیں۔
نے‘ اور تار خاموش ہو گئے لیکن تالیوں اور دف کي آواز بڑھتے بڑھتے اتني‘
بڑھ گئي کہ ديواريں لرزنے لگیں اور دل کي دھڑکن سے ہم آہنگ ہو گئي اور
:جسم کا ہر خلیہ يہي گنگنانے لگا
! لا الہ الا الله ! لا الہ الا الله
دس منٹ، بیس منٹ، نصف گھنٹہ گذر گیا اور رندھے گلے اور سوجے
ہاتھوں کے ساتھ دل میں خون کے ساتھ ساتھ آنسو دوڑنے لگے۔ آخرکار آقا نے
ہاتھ اٹھايا اور دف بجنا بند ہو گئے۔
آہستہ آہستہ خاموشي چھا گئي اور سسکیوں کے ساتھ چند درويشوں
کے رونے کي آوازيں ابھي تک جاري تھیں۔
خاموشي چھاتے ہي آقا نے اپنا پائپ سلگايا اور بولنا شروع کیا۔
آپ لوگ کیوں روتے اور عجز کا اظہار کرتے ہیں؟ کس وجہ سے آپ”
“سسکیاں بھرتے ہیں؟
آواز بلند بولے۔”
ِ
الله کے لیے۔” بہت سے درويش با
بےشک۔” آقا نے کہا۔ “الله ہي ہمارے دل میں خوشي يا رنج پیدا کرنے کا”واحد ذريعہ ہے۔ وہي تکلیف ديتا ہے اور اس کا علاج بھي عطا کرتا ہے۔ روح اس
بات کو ايسے ہي جانتي ہے جیسے قطره سمندر کو جانتا ہے اور اسي وجہ
سے روح اس عظیم ترين ملاپ کے لیے تڑپتي ہے۔ تم لوگ سیکھو گے کہ يہ
راستہ محض سچ کا راستہ ہے اور الله کي ياد ہي تمام علوم کي بنیاد ہے۔ اس
لیے ہم اپنے دل کو آنسوؤں سے چمکاتے ہیں تاکہ اس میں صرف اور صرف الله
”کي رحمت اور الله کے لیے ہمارے جذبات باقي ره جائیں۔
اسي طرح، بہت عرصہ قبل جب قلندر کي ملاقات ڈاکوؤں کے سردار سے”
” ہوئي۔ ۔ ۔
اس طرح آقا نے آخري کہاني شروع کي جو غیر متوقع تھي کہ اتنا تاخیر
سے آقا نے کبھي کوئي کہاني نہیں سنائي تھي۔ تاہم ہم سب آرام سے
سنتے رہے کہ آقا کا ہر کام مصلحت سے خالي نہیں ہوتا۔
:آقا نے پائپ سے ايک اور کش لیا اور پھر بولے
بہت عرصہ نہیں گذرا کہ مغربي صحرا کے ايک دور افتاده نخلستان میں”
ايک فقیر آيا جو قلندر يعني آواره پھرنے والا درويش تھا۔ بہت برسوں سے وه
عرب اور افريقہ کے صحراؤں میں پھرتا رہا تھا تاکہ کوئي تنہائي والي جگہ تلاش
کر کے اپنے خالق کو ياد کر سکے اور کائنات کے اسراروں پر غور و فکر کر سکے۔
اس کا ايمان اور اس کي نیکي اور اس کا الله کي مشیت کو قبول کرنا ايسے
امور تھے کہ جن کي وجہ سے اس کي روح کو سکون نصیب ہوا اور اس کے
اخلاص اور محبت کے راستے سے لگن اتني عظیم تھي کہ اس کے دل پر
” مخفي راز آشکار ہونے لگے اور وه ولي يعني الله کا دوست بن گیا۔
اب ہوا کچھ يوں کہ جس رات فقیر پھرتا ہوا اس نخلستان کو پہنچ کر کھجور”
کے ايک درخت کے نیچے تہجد سے قبل لیٹ کر آرام کرنے لگا تو اس کے پاس
”ہي ايک اور درخت کے نیچے ايک اور بنده بھي سونے کي تیارياں کر رہا تھا۔
تاہم يہ دوسرا آدمي ايک بدنا ِم زمانہ قذاق تھا جو کبھي مشہور قذاقوں”
کے ايک گروه کا سردار ره چکا تھا۔ يہ قذاق مسالے کے کاروانوں اور ساحل سے
اندرو ِن ملک سفر کرتے امیر مسافر تاجروں کو لوٹتے تھے۔ اس کي بے باک
کاروائیوں کي شکايت آخرکار سلطان کے کانوں تک جا پہنچي۔ سلطان نے اپنے
فوجیوں کو حکم ديا کہ اس گروه کو تہس نہس کر ديا جائے۔ بہت سارے ڈاکو
گرفتار ہوئے اور ان کے سر قلم کر ديے گئے۔ بہت ساروں نے خوف کي وجہ سے
اپنے سردار کو چھوڑ ديا کہ کہیں انہیں بھي گرفتاري اور سزائے موت نہ مل
”جائے۔
آخرکار سردار اکیلا ره گیا۔ اس کي تمام تر دولت فرار پر خرچ ہو گئي تھي”
اور اب وه ايسا اشتہاري مجرم تھا کہ جس کے سر پر قیمت مقرر ہو چکي تھي۔
حٰتي کہ اس کے بے ايمان تاجر ساتھي جو اس سے لوٹا ہوا سامان خريدا کرتے
تھے، نے اس پر اپنے دروازے بند کر ديے۔ انہیں ڈر تھا کہ سلطان کا غضب کہیں
ان پر بھي نہ نازل ہو جائے۔ کئي دن تک بھاگنے کے بعد سردار اس نخلستان
پہنچا تو بہت بھوکا اور تھکا مانده تھا۔ درخت کے نیچے بیٹھ کر اس نے اپني
”قسمت کو کوسنا شروع کر ديا۔
اب میں پوچھتا ہوں کہ ان دونوں میں سے کون بڑا انسان ہے اور کون”چھوٹا؟ کس پر الله کي رحمت ہوئي اور کس پر الله کا غضب ہوا؟ ابھي جواب مت
دو کہ ابھي تمہیں جواب کا علم نہیں کیونکہ تم ان کے منصف نہیں ہو۔ صرف ان
”کا خالق ہي ان کا منصف بن سکتا ہے۔
منکر اور نکیر دو فرشتے ہیں جو ہر انسان کي قبر میں بھیجے جاتے ہیں”
اور اس سے سوال پوچھتے ہیں۔ انہوں نے ان دونوں پر نظر ڈالي اور آه بھري۔
منکر بولا ‘واقعي اب کھرے اور کھوٹے کا فرق پتہ چلے گا، اگرچہ ان کا آخري
وقت ابھي دور ہے۔ الله کے پاس بڑا انسان پہنچے گا اور سلطان کے پاس چھوٹا‘۔

آه، ايسا ہي ہونا چاہیے۔ کھري چیز بہت کمیاب ہوتي ہے اور اسي وجہ‘
سے جنت اتني وسیع ہے جبکہ جہنم کے گڑھے بام تک بھرے ہوئے ہیں‘۔ نکیر
نے تائید کي۔
الله کو اپنے م ّقرب فرشتوں کے خیالات کا علم ہو چکا تھا اور انہوں نے”
فرشتوں کے دل میں کہا۔ ‘سچ میں تم نے ان کي قسمت کا درست فیصلہ کیا۔
تاہم اگر يہ دنیا محض انصاف پر قائم ہوتي تو بہت برا ہوتا۔ کیا میں رحمان اور
رحیم نہیں؟ میں انہیں نیند میں ملوں گا اور پھر تمہیں میري مخلوق کي
حقیقت کا علم ہوگا‘۔
پھر الله نے ان دونوں کو نیند بھیجي اور وه دونوں گہري نیند سو گئے۔ پھر”
قلندر کي آنکھ جہنم میں کھلي اور وه جہنم کي آگ کے بہت بڑے گڑھے میں
تخت
ِ
تھا۔ ڈاکو سردار کي آنکھ کھلي تو اس نے خود کو نیکوکاروں کے درمیان اور
”خداوندي کے سامنے پايا۔
آقا نے اپنا پائپ رکھ کر چائے کي چسکیاں لینا شروع کیں۔ عینک کے
پیچھے سے ان کي آنکھیں ہمارا جائزه لے رہي تھیں۔
کیا يہ رحم ہے کہ برے انسان کو جنت بھیجا گیا يا يہ انصاف ہے کہ بہترين”
انسان کو جہنم میں جگہ ملي؟” انہوں نے پوچھا۔
کسي کو جواب دينے کي ہمت نہ ہوئي۔
شاباش۔” آقا نے کہا۔ “انصاف کے دل کي صفائي کے لیے اسے محبت”
خالق حقیقي سبق منکر اور نکیر دينا
ِ
کے راستے سے ديکھنا ضروري ہے۔ يہي
“چاه رہے تھے۔
جب انہوں نے اس فقیر کو جاگتے اور جہنم کے عین درمیان اچھے اچھوں”
کو بالکل برہنہ ہوتے اور آگ سے ان کا گوشت جل کر گرتے ديکھا تو ان کي چیخ
و پکار اس کے کانوں کو چھیدنے لگي۔ تاہم شعلوں سے اسے کوئي تکلیف
نہیں محسوس ہوئي اور نہ ہي اس نے خوف يا حیرت کا اظہار کیا۔ اس کي سوچ
محض اس کے محبو ِ ب حقیقي پر مرکوز تھي اور کسي چیز سے اس کي توجہ
نہیں بٹ سکتي تھي۔ شعلوں اور مصائب کے درمیان وه کسي درويشوں کے
” انداز سے بیٹھا اور پھر اس کي آواز واضح اور بلند سنائي دينے لگي۔
“!لا الہ الا الله! لا الہ الا الله”
جب اس نے ورد شروع کیا تو جہنم کے شعلے زور سے بھڑک رہے تھے۔”
لیکن اس کے ورد کے ساتھ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وه محض دہکتے کوئلے بچ گئے
اور آگ کے پہاڑ بھي مقدس ورد سے کانپنے لگے۔ اب تکالیف میں مبتلا لوگوںنے چیخ و پکار بند کي اور الله کا نام سننے لگے کیونکہ يہ نام آج تک جنہم کے
گڑھوں میں نہیں لیا گیا تھا۔ کچھ دير بعد پورے جہنم میں يہي ايک آواز سنائي
دے رہي تھي۔ يہ حمد جاري رہي اور جہنم کي بنیاد ہلنے لگي۔ جنہمیوں کو
”اپنے بچاؤ کي موہوم امید دکھائي دينے لگ گئي۔
اگر شیطان بذا ِ ت خود ظاہر نہ ہوتا تو شايد جہنم تباه ہو جاتي۔ شیطان نے”
فقیر سے چلے جانے کي درخواست کي۔ تاہم فقیر نے اپنا ورد جاري رکھا کہ
اس نے را ِه محبت پر بہت سال گذارے تھے اور اس کے محبو ِ ب حقیقي کي
”خواہش اس کي خواہش بن گئي تھي، چاہے وه جنت ہو يا ابدي جہنم۔
آقا نے ايک لمحے کو ُرک کر پاس رکھي چائے کا گھونٹ لیا۔ انہوں نے
ہماري جانب ديکھے بنا پھر کہاني جاري رکھي۔
ڈاکوؤں کے سردار کا کیا بنا؟” چائے کا گلاس خالي کرنے کے بعد انہوں”
نے پوچھا۔ “ڈاکوؤں کا سردار کي دہشت چہار دانگ پھیلي ہوئي تھي اور اس کا
”برا وقت شروع ہو چکا تھا جیسا کہ اس طرح کے برے انسانوں کا انجام ہوتا ہے۔
پھر الله نے فرشتوں کو اس کي خبر لینے کو بھیجا اور انہوں نے ديکھا کہ”
وه سفید لباده پہنے کھڑا ہوا اور الله کي دہشت سے کانپنے لگا۔ پھر فرشتہ
”جبرائیل اس سے مخاطب ہوا۔
الله کي رحمت سے، جو کہ تمہارا خالق ہے، تمہاري خطائیں معاف کر‘”
”دي گئي ہیں اور اب تمہیں کوئي خطره نہیں‘۔ اس نے کہا۔
پھر سچ اس کے دل پر چھا گیا اور انتہائي حیرت کے عالم میں اس کي”
نگاہوں سے سارے حجاب ہٹ گئے اور اس نے الله کو اور اس کے فرشتوں کو
”ديکھا اور رونے لگا۔
الله نے اسے مخاطب کیا ‘ڈرو مت۔ تم کبھي اتنا نیچے نہیں گر سکتے کہ”
”میں تمہیں نہ اٹھا سکوں‘۔
ڈاکو کے دل سے خوف نکل گیا۔ جھک کر اس نے الله کو سجده کیا اور”
رونے لگا۔ اپني ضائع کرده زندگي کے حوالے سے اس کے آنسو بہتے چلے گئے
ح ٰتي کہ اس کے آنسو رحمت بنتے گئے اور نہ رک سکے اور ولیوں کے پیر اس
”کے آنسوؤں سے ُدھلنے لگے۔
وه تا ابد روتا رہتا مگر اچانک اس کا خواب ختم ہوا اور دونوں آدمي جاگ”
اٹھے۔ چور جب کھڑا ہونے لگا تو اس نے فقیر کو ديکھا اور خواب والي کیفیت
سے روتے روتے اس تک آيا۔ فقیر نے اس کا حال جان لیا اور اسے گلے لگايا اور
دونوں نے نصف شب سے فجر تک نوافل ادا کیے۔ اس کے بعد بہت کچھ ہوا اور
”ڈاکو نے فقیر کي راه اپنا لي۔ تاہم اس سے زياده کچھ نہیں بتاؤں گا۔
منکر اور نکیر نے اپنے پروردگار کي بے کراں رحمت کے انتہائي معمولي”
سے حصے کا مشاہده کر لیا اور اپنے پرودرگار کے سامنے جھکے اور اپني
جلدبازي پر شرمنده ہوئے۔ واقعي، الله کا فیصلہ انسانوں اور فرشتوں کے فہم و
”ادراک سے کہیں باہر ہے۔
اس کہاني پر بہت سے درويش روئے اور ربیکا بھي رو رہي تھي۔ جب باقي
سب چپ ہو گئے تو بھي ريبکا کا رونا نہ رکا جیسے اس کا دل ٹوٹ گیا ہو۔ اس
کے باپ نے ربیکا کي کمر کے گرد ہاتھ ڈال کر اسے چپ کرانے کي کوشش کيلیکن ربیکا کا رونا نہ تھما۔ شايد اس کہاني سے میري نئي بہن کي کسي
دکھتي رگ پر چوٹ لگي ہوگي اور مجھے اس کي فکر لاحق ہو گئي۔ آقا نے
ربیکا کو رونے ديا لیکن اسے رحم اور ترس کے ساتھ ديکھتے رہے اور پھر دو
خواتین کو اشاره کیا کہ وه ربیکا کو اس کے کمرے میں چھوڑ آئیں۔
میري ہي طرح پروفیسر فري مین بھي حیران تھا۔ وه اپني بیٹي کے پیچھے
جانے کو اٹھنے ہي لگا تھا کہ آقا نے اس کي طرف جھک کر نرم مگر واضح الفاظ
میں کہا۔
جاؤ اور اس کے ساتھ رکو۔ اسے اپني ماں کا غم ستا رہا ہے اور بہت”
عرصے بعد اسے کھل کر رونے کا موقع ملا ہے۔” آقا نے کہا۔
يہ سن کر پروفیسر کي فکر پر غم غالب آ گیا۔ وه فوراً ہي ربیکا کے پیچھے
گیا اور جیسے ريبکا کي سسکیوں کي آواز سے اس کي رفتار میں تیزي آ گئي
ہو۔
مجھے آقا کے الفاظ ياد تھے: ‘تمہارا کوئي پہلو چھپا نہیں رہے گا‘۔
:جیسے آقا نے میري سوچ پڑھ لي ہو اور بولے
اے درويش، الله کي ياد ہي روح کي غذا ہے۔ يہي زخمي دل کا مرہم ہے۔”
ابتداء سے ہي ذکر ماضي کي گرفت ڈھیلي کرنے لگتا ہے اور آہستہ آہستہ
نفس ہلکا ہونے لگتا ہے۔ ذره ذره کر کے خود جذبي کا وزن، لالچ اور متشدد رويے
ختم ہو جاتے ہیں اور بوجھ کم ہوتا جاتا ہے اور سفر آسان تر ہوتا جاتا ہے۔ خوف
اور افسردگي ابتداء میں نظر دھندلا ديتے ہیں لیکن مايوسي نہیں ہوتي۔ تاريکي
میں سچ تیز روشني کي مانند دکھائي ديتا ہے۔ دل کي آنکھیں آہستہ آہستہ
”کھلني چاہیئں۔
نرم الفاظ کي محبت بھري نرمي سے ادائیگي سے میرے ذہن میں میرے
مرحوم والد کي وفات کي ياد تازه ہوئي اور میں رونے لگ گیا۔ کئي دوسرے
درويش جو چپ ہو چکے تھے، پھر سے رونے لگ گئے، شايد انہیں ان کے
کھوئے ہوئے رشتے ياد آ گئے ہوں گے۔
ہمارے غم کے دوران بھي آقا ہمیں شفقت سے ديکھتے رہے اور دل ہي
:دل میں امید کي کرن جاگي۔ انہوں نے گانا شروع کیا
اے محبوب، تمہارے غم دل میں چبھتے ہیں
بے رحمي سے۔ مگر میں ہمیشہ
بے رحم ہدف رہوں گا
سنہري کمان اور لا ُمتناہي تڑپ کا۔
!الله! الله! الله
،کسي غم کو تمہارے سوا کوئي ہادي نہیں
،تمہارے سوا کوئي امید نہیں، تمہارے سوا کوئي خوشي نہیں
!تم ہي درد ہو، اور تم ہي دوا ہو
:نغمے نےہر دل کو چھو لیا اور ہماري آواز کے ساتھ آنسو شامل ہو گئے
!الله! الله! الله
!تم ہي درد ہو، اور تم ہي دوا ہواور پھر اس طرح ہمارے آنسوؤں میں آہستہ آہستہ خوشي شامل ہونے
لگي اور ہمارے خون شراب سے زياده مخمور ہو گئے۔ آہستہ آہستہ ہم نشے
میں چور ہونے لگے اور جھومتے ہوئے تالیاں بجانے لگے جیسے شراب ہماري
رگوں میں دوڑنے لگي ہو۔
ربیکا بھي اس نغمے کي طرف کھینچتي گئي اور تھوڑي دير میں
سیڑھیوں سے اتر کر ہمارے ساتھ آن کر بیٹھ گئي اور پروفیسر بھي آ گیا۔ ربیکا
ابھي بھي رو رہي تھي لیکن بہتے آنسوؤں سے اس کا غم کم ہوتا گیا اور اس
کي آواز واضح اور صاف ہوتي گئي۔
ہم اس غم کو گاتے رہے جو اس دنیا کي تخلیق سے چلا آ رہا ہے اور اس
خوشي کو بھي، کہ دنیا ختم ہونے سے قبل جو ملنے کے امکانات تھے۔ ہم
گاتے رہے ح ٰتي کہ ہمارے آنسو خشک ہو گئے اور آقا نے اس نغمے کو آہستہ
آہستہ ختم کر ديا۔ نصف شب ہونے والي تھي۔
الله۔” ہم سب پکارتے رہے اور جب ہمارا دورا ِن خون اور ہمارے سانس قابو”
میں آئے تو ہم چپ ہو گئے۔ آقا نے ہمیں رات کي نماز پڑھائي۔
ہم مشرقي کھڑکي کے سامنے کھڑے ہو کر الله کو پکارتے رہے جو بڑا
رحمان اور نہايت رحم کرنے والا ہے۔ ہم اس کے رحم اور اس کي مرضي کے
آگے جھکے۔ جب ہم سیدھے ہوئے تو چاند کي روشني ہمارے چہروں پر پڑنے
لگي لیکن آقا جیسے چاندني میں نہائے کھڑے ہوں، جیسے محبو ِ ب حقیقي
کي مسکراہٹ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: