Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 12

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 12

–**–**–

باب 12
الله نے دل کو خون اور آنسوؤں میں بدلا
اور پھر اپنے عجائبات اس پر نقش کیے۔
مثنوي جلال الدين رومي
نماز کے بعد تمام درويشوں کو شب بخیر کہنے کے لیے آقا صحن کے
دروازے پر کھڑے ہوئے اور ہر درويش کے گال چوم کر انہیں چند الوداعي کلمات
کہے۔ ان کي اپني بیٹیاں اپنے شوہروں کے ساتھ روانہ ہوتے وقت ان کے اس
سلوک پر حیران تھیں۔
میں اور علي ان کے پاس کھڑے تھے۔ مجھے ہرگز علم نہ تھا کہ ہماري
اگلي ملاقات کب ہوگي۔
مجھے رخصتي کے خیال سے بہت تکلیف ہوئي اور جب آقا خانقاه میں
واپس چلے گئے تو میں نے بیروني دروازه بند کیا اور آنے والے سفر کے بارے
سوچنے لگا۔
ہم آقا کے پیچھے ديوان خانے کو چلے جہاں پروفیسر فري مین اس قديم
نسخے پر جھکا ہوا اس کے پوشیده مفہوم تلاش کر رہا تھا۔ تاہم اس بار وه اکیلا
تھا۔
کیپٹن سیماچ کہاں ہے؟” آقا نے پوچھا۔“
پروفیسر نے اپنے کندھے کے اوپر سے کمرے کے دوسرے کونے کو ديکھا
اور اسے خالي پا کر بہت حیران ہوا۔ آقا نے سر ہلايا اور باورچي خانے سے ہو کر
باغ کو چل ديے۔
کیپٹن سیماچ وہاں تھا۔ گھر سے چھن چھن کر آنے والي روشني میں نیم
تاريک درختوں کے ساتھ والي بنچ پر بیٹھا تاريک آسمان کو گھورے جا رہا تھا۔
اس کے پاس ايک اور آدمي بھي بیٹھا تھا اور جب ہم نزديک پہنچے تو
مجھے يہ ديکھ کر بہت حیرت ہوئي کہ اس کے پاس وہي بوڑھا فقیر بیٹھا تھا جو
صبح آقا کے ساتھ بازار جاتے ہوئے میں نے ديکھا تھا۔
”آقا نے مسکرا کر کہا “پرانے شعبدے۔
”فقیر نے جواب ديا “ہرگز نہیں۔ باغ کا دروازه کھلا تھا اور يہ منتظر بیٹھا تھا۔
وقت آ گیا ہے۔” آقا نے کہا۔“
ہاں۔” بوڑھے نے تائید کي۔“
فقیر اپني جگہ سے اٹھا اور آقا نے اسے گلے لگايا۔ دونوں نے ايک دوسرے
کے گال چومے اور ان کي سرگوشیوں کو میں نہ سن پايا۔باقي سب يہ ديکھ کر حیران تھے۔ آقا نے جب فقیر کو صبح کے وقت
مسجد کے پاس ديکھا تو انہوں نے اس سے اجنبیت ظاہر کي تھي اور اب دونوں
ايسے مل رہے تھے جیسے پرانے دوست ہوں۔
آقا نے کہا۔ “قلندر سے ملو جو اس سفر پر تمہاري رہنمائي کرے گا۔ اس کا
”نام جاسوس القلوب ہے۔ مجھ سے زياده اسے کوئي نہیں جانتا۔
جاسوس القلوب! دلوں کا بھیدي! يہ لقب تو بہت پہلے چند صوفي اساتذه
کو ديا گیا تھا۔ يہ خطاب نہ صرف ان کي روحاني کامیابیوں کو بلکہ ان کي محیر
العقول صلاحیتوں کو بھي ظاہر کرتا تھا۔
اس نے میري قسمت کا حال بالکل درست بتايا تھا۔
اسے اپنا رہنما ديکھ کر مجھے تسلي ہوئي۔ آقا نے بتايا کہ وه ہمارے ساتھ
نہیں جائیں گے اور مجھے ان کي محبت اور رہنمائي کے بغیر جانے کے خیال
سے الجھن ہونے لگي۔ کہا جاتا ہے کہ قلندر نہ صرف نڈر ہوتے ہیں بلکہ اولیاء
بھي، يعني الله کے دوست۔ دنیا میں اس وقت بہت کم قلندر باقي ہیں۔
قلندر صبح والے کپڑوں میں ملبوس تھا اور آقا نے باري باري سب کا تعارف
کرايا۔
سلام!” فقیر نےعلي اور رامي سے کہا لیکن نہ تو ہاتھ ملايا اور نہ ہي“
گال آگے بڑھايا۔ اس لیے علي اور رامي بھي محض احتراماً دل پر ہاتھ رکھ کر
جھکے۔
سلام! اور خوش آمديد۔” فقیر نے ربیکا سے کہا۔ ربیکا حیرت سے“
مسکرائي اور اسي طرح جواب ديا۔
فقیر کو علم تھا کہ ربیکا درويش ہے۔
پھر فقیر نے پروفیسر کو خوش آمديد کہا جو اس کي آمد سے زياده خوش
نہیں دکھائي دے رہا تھا۔ فقیر نے ايک دو لمحے پروفیسر کي آنکھوں میں ديکھا
اور پھر سر ہلا کر بولا۔ “ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔” پتہ نہیں وه کس بات کي تصديق
کر رہا تھا۔
آخر میں اس نے مجھے سلام کیا۔
سلام!” اس نے میري طرف جھک کر کہا۔ اس سے عجیب سي بو آ رہي“
ناقابل برداشت نہیں۔
ِ
تھي جو تیز تو تھي لیکن
سلام!” میں نے جواب ديا اور اس کے ہونٹوں پر ہلکي سي مسکراہٹ دوڑ“
گئي۔ اس کي کالي اور تیز آنکھوں نے مجھے ايک بار پھر جکڑ لیا اور نہ ہي میں
بول سکا اور نہ ہي رخ پھیر سکا۔ اس کي آنکھوں کي تیزي نے میرے دل کو تلوار
کي مانند چھید ديا۔ اس ايک لمحے میں بے پناه علم نے مجھے جکڑ لیا جسے
میں کوئي نام نہ دے سکا۔ میري تمام فکريں اور انديشے جیسے ہوا ہو گئے۔
ناقابل بیان سوال نے مجھے بولنے پر مجبور کر ديا۔
ِ
تاہم ايک عجیب اور
آپ اس کہاني والے فقیر ہیں؟” میں نے سرگوشي میں پوچھا۔“
قلندر کي مسکراہٹ اور گہري ہو گئي اور آنکھیں ستاروں کي مانند
”چمکنے لگیں۔ “نہیں نوجوان طالب، میں ڈاکو سردار ہوں۔
اگر آقا میرے بازو کو چھو کر مجھے واپس نہ لاتے تو میں شايد تا ابد اسي
طرح حیرت کے مارے منہ کھولے کھڑا رہتا ۔”انہوں نے کہا۔ “کیپٹن سیماچ کو اندر لاؤ۔
میري مايوسي کو اندھیرے نے چھپا لیا۔ ڈاکو سردار؟ میں نے سوچا کہ
وہي ڈاکو سردار؟ پروفیسر کے ساتھ مل کر کیپٹن سیماچ کو اٹھاتے ہوئے میں
نے اپني عجلت پر خود کو کوسا۔ اس کي آنکھیں ابھي تک آسمان کو تک رہي
تھیں لیکن بغیر کسي دقت کے ہمارے ساتھ وه خود چل کر خانقاه کے اندر آن
پہنچا۔
آقا کي ہدايت پر ہم نے کمرے کے درمیان آلتي پالتي کے انداز میں اسے
بٹھايا اور اس کے سامنے نیم دائرے کي شکل میں ہم سب بیٹھ گئے۔ فقیر
کیپٹن سیماچ کے عین سامنے بیٹھا۔
اسے کیا ہوا؟” پروفیسر نے پوچھا۔ کیپٹن سیماچ کي آنکھیں اب بند تھیں“
پرناقابل بیان تائثر تھا۔
ِ
اور سر ہلکا سا جھکا ہوا۔ اس کے چہرے
اسے آرام کرنے دو۔” آقا نے سوال کا جواب گول کرتے ہوئے کہا۔ آقا پھر“
کیپٹن کے عین سامنے بیٹھ گئے۔
مجھے تو بیمار لگتا ہے۔ ڈاکٹر کو بلوائیں؟” پروفیسر نے اصرار کیا۔“
اس کا علاج کسي ڈاکٹر کے پاس نہیں۔” آقا نے جواب ديا۔“
”پروفیسر کے انداز سے پريشاني جھلکنے لگي۔ “پھر اسے کیا ہوا؟
اسے غار میں ڈھانچے اور سلنڈر کے علاوه بھي کچھ ملا تھا۔ جس قديم“
مخطوطے کا تم نے ذکر کیا ہے، اس کے ساتھ مہر بھي ہے۔ کیپٹن سیماچ اب
ايک قاصد بھي ہے۔ مگر مہر اس کے دل پر ثبت ہو چکي ہے۔” آقا نے آرام سے
جواب ديا۔
ہم نے کیپٹن کو ديکھا۔ ايسے لگ رہا تھا جیسے وه سو رہا ہو يا مراقبے
میں ہو۔ علي اور رامي نے ايک دوسرے کو ديکھا۔ ربیکا مسلسل کیپٹن کو تکے
جا رہي تھي۔ اس کي آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔
پروفیسر نے اپني بیٹي کے چہرے پر رحم کے جذبات ديکھے تو اس کا ہاتھ
تھام لیا۔ شايد اس نے آقا کے الفاظ کي سچائي کو قبول کر لیا يا پھر اس کي
بیٹي کے آنسوؤں نے اسے مجبور کر ديا۔
آپ اس کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟” پروفیسر نے ملتجیانہ انداز میں“
پوچھا۔
وه مجھ سے مدد مانگنے نہیں آيا۔ يہ پیغام میرے لیے نہیں ہے۔” آقا نے“
جواب ديا۔
پروفیسر فري مین سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اس نے خاموشي سے کیپٹن
سیماچ کو ديکھا۔
شلومہ، صرف تم ہي اس کي مدد کر سکتے ہو۔ يہ آندھي تم دونوں کے“
لیے آئي تھي۔” آقا نے بتايا۔
ان الفاظ نے جیسے پروفیسر کو جھنجھوڑ ديا ہو۔ آقا نے بہت آہستگي سے
لیکن پورے تی ّقن سے کہا تھا۔
”لیکن۔ ۔ ۔ میں کیا کر سکتا ہوں؟“
”اس سے پوچھو۔“
”پوچھوں۔ ۔ ۔ ؟“اس سے پوچھو۔” آقا نے دہرايا۔“
پروفیسر فري مین نے کیپٹن سیماچ کو ديکھا اور تھوک نگلي۔ آقا اور فقیر،
دونوں نے آنکھیں بند کر کے سر جھکا لیے۔
ہم حیران اور منتظر ہو کر ديکھنے لگے۔ اس نیم دائرے کے مشرقي سرے
پر میں تھا اور میں نے ديکھا کہ آقا اور فقیر، دونوں نے ايک ہي ساتھ سر اٹھائے۔
اس سے پوچھو۔” آقا نے دہرايا۔“
”پروفیسر نے گہرا سانس لیا اور سرگوشي میں بولا “آرون۔ ۔ ۔ ؟
کیپٹن سیماچ بے حس و حرکت بیٹھا رہا۔
آرون؟” اس نے کیپٹن کے کندھے کو چھو کر دوباره پوچھا۔ ”کیا ہوا؟ تمہیں“
”کچھ کہنا ہے؟
کیپٹن سیماچ میں حرکت پیدا ہوئي۔ آہستگي سے اس نے سر اٹھايا۔ وه
پريشان اور تھکا ہوا لگ رہا تھا لیکن آنکھیں کھلي تھیں۔ اس نے پلکیں جھپکائیں۔
فقیر اس کے سامنے اتنا جھکا کہ اس کي کمر ہلال کي مانند خم کھا گئي اور
اس نے براه راست کیپٹن سیماچ کي آنکھوں میں ديکھا۔
بولو!” آقا نے کہا۔“
اور آرون سیماچ نے آقا کے محبت اور شفقت سے بھرے حکم کو سنا۔
سیدھا بیٹھ کر اس نے براه راست فقیر کي آنکھوں میں جھانکا۔ آہستگي سے
سانس بھرا اور پھر پلکیں جھپکائیں اور اس کي آنکھوں میں روشني آنے لگي۔
پھر ايک آنسو اس کي گال سے ہوتا ہوا نیچے گرا۔
ايک بڑي آه کے ساتھ اس نے بولنا شروع کیا۔ اس کے دل پر لگي مہر ٹوٹ
چکي تھي۔
!او مالک، او مالک! تا ابد نہیں“
”!رحم اے الله، آگ بجھ جائے
اس کي آواز کمرے میں ايسے گونجي جیسے پہاڑوں میں بازگشت
سنائي ديتي ہے۔
اس آواز سے میں کانپ کر ره گیا۔ يہ آواز آرون سیماچ کي تو نہیں تھي۔
آقا نے وعده کیا تھا کہ تمام آوازيں سني جائیں گي لیکن يہ الفاظ اس کے
گلے سے کس نے ادا کیے؟ میں نے انہیں بالکل ويسے ہي درج کیا ہے لیکن
کوئي بھي قلم ان کي کیفیت کو بیان نہیں کر سکتا۔ يہ الفاظ اس کے ہونٹوں
سے انتہائي درد بھري کیفیت سے نکلے تھے۔
مجھے احساس ہوا کہ میں رو رہا ہوں۔ ديگر افراد بھي اپنے آنسو پونچھ
رہے تھے۔ ہم سب نے ايک دوسرے کو ديکھا اور احساس ہو گیا کہ ہمارے اندر
ايک ہي خیال زور کر رہا ہے کہ جیسے کوئي ہمیں بتا رہا ہو۔ “جلدي کرو، ہمیں
”اب جانا ہے۔
تاہم آقا نہ روئے اور فقیر ابھي تک کیپٹن سیماچ کي آنکھوں میں جھانک رہا
تھا جس سے آنسو بہہ رہے تھے اور پھر کیپٹن سیماچ بے سدھ ہو کر آقا کي
بانہوں میں جھول گیا۔
کچھ دير تک تو آقا نے ہمیں خاموشي سے بیٹھے رہنے کا اشاره کر کے
اسے ہوش میں لانے کي کوشش کي۔ آخرکار انہوں نے علي اور رامي کو کہاکہ وه کیپٹن سیماچ کو اس کے کمرے میں لے جائیں اور اس کے ساتھ ہي
رکیں۔
وه سو رہا ہے اور ابھي کچھ دير مزيد سوئے گا۔” آقا نے کہا۔“
پروفیسر مايوس اور صدمے کا شکار تھا۔ “لیکن يہ کیا تھا؟ اور کیا۔ ۔ ۔ ؟”
ہکلاتے ہوئے اس نے آقا سے سوال کیا۔ ربیکا نے اپنے باپ کا ہاتھ سختي سے
تھام لیا۔
شا ؑه نے بات کي ہے!” فقیر نے پوچھا۔“
ہاں۔” آقا نے کہا۔ “شاه سلیما ؑن نے يہ الفاظ اس کے دل پر ثبت کر ديے“
تھے! اس میں کوئي شک نہیں۔ ان کي روح اس غار میں منتظر تھي۔ اس روح
”کي آواز کي بازگشت تمہارے دوست کے منہ سے نکلي۔
پروفیسر فري مین نے پہلے فقیر کو اور پھر اپني بیٹي کو ديکھا لیکن انکار
نہ کر سکا۔
لیکن اس کا مطلب کیا ہے؟ وه الفاظ۔ ۔ ۔ ؟” پروفیسر نے جھجھکتے اور“
کانپتے ہوئے پوچھا۔
تمہیں اس کي وصولي کے لیے چنا گیا ہے۔ اور اس کا مطلب تم خود“
تلاش کرو گے۔ تمہاري پیدائش پر تمہیں يہ بتا ديا گیا تھا۔” آقا نے جواب ديا۔
”!ربي“
”ہاں“
”!لیکن مجھے تو ياد نہیں کہ اس نے کیا کہا تھا“
واقعي؟ پھر بھي تمہیں يقین ہے کہ تمہاري ماں کا خواب سچ ہے اور يہ“
”بھي کہ يہ جو تحرير میں ہوگا، وه تمہارے لیے لکھا ہوگا۔
پروفیسر نے نگاہیں جھکا لیں۔
آقا نے انتہائي شفقت سے اسے ديکھ کر کہا۔ “سچ روح کي ايک خاصیت
ہے شلومہ، ياداشت کي نہیں۔ اس سفر سے نہاں بات عیاں ہو جائے گي،
”چاہے وه غار میں چھپي ہے يا تمہارے دل میں۔
پروفیسر فري مین نے پوري توجہ سے بیان سنا اور اس کے اندر ہونے
والي جنگ صاف محسوس ہو رہي تھي۔ عقل سے آگے کي چیز کو سمجھنے
کے لیے سوچ کا انداز بدلنے کي ضرورت تھي۔
میں ہي کیوں؟ میں تو سائنس دان ہوں، صوفي نہیں۔” اس نے ايک لمحہ”
رک کر کہا۔
آقا اس کي بات سن کر مسکرائے اور بولے۔ “شلومہ، جب میں اس راستے
پر پہلے پہل چلنا شروع ہوا تو میں نے الله کي ياد کو اپنا معمول بنا لیا تھا۔ میں
الله کو جاننا اور اس سے محبت کرنا اور اس تک پہنچنا چاہتا تھا۔ تاہم جب میں
آخر پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ہمیشہ مجھ سے پہلے الله نے مجھے ياد کیا تھا اور
میرے بارے اس کا علم اس کے بارے میرے علم سے کہیں زياده تھا۔ اسے مجھ
سے تب بھي محبت تھي جب مجھے اس سے محبت نہیں شروع ہوئي تھي
اور وه مجھے تب بھي چاہتا تھا جب میں نے اسے چاہنا شروع نہیں کیا تھا۔ الله
کي مصلحت تو الله ہي جانتا ہے۔ شلومہ، تمہیں اس مقصد کے لیے چن لیا گیا
”ہے۔ يہ طوفان تمہارے لیے آيا تھا۔سالومن فري مین رونے لگا۔ اس کي بیٹي نے اسے سنبھال لیا۔
آقا نے مزيد کچھ نہ کہا۔ انہوں نے فقیر کي جانب ديکھا اور پھر اتني تیزي
سے اٹھ کر کمرے سے باہر چلے گئے کہ ہمیں ان کے احترام میں کھڑا ہونے کا
موقع تک نہیں ملا۔ میں نے ان کے قدموں کي چاپ سیڑھیوں پر سني اور پھر
دھیمے سے انہوں نے کچھ کہا۔ علي اور رامي واپس آ گئے۔ ہم نے ايک دوسرے
کو ديکھا اور پھر مجھے لگا کہ ہمیں جلدي کرني چاہیئے۔ ہم دور دراز کي
سرزمین کو سفر کے لیے تیار تھے اور خطرات اور موت کا سامنا کرنے کے لیے
بھي۔
مجھے اس وقت اپني زندگي میں سب سے زياده ڈر اور خوشي محسوس
ہوئي۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: