Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 13

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 13

–**–**–

باب 13
تو نے میرا منہ بند کر ديا ہے تاکہ میں اسرار
کو عیاں نہ کر سکوں اور میرے سینے میں وه در کھول ديا ہے
جس کا کوئي نام نہیں۔
ديوا ِن رومي
ہماري روانگي کي صبح خوب روشن اور صاف تھي جو اچھا شگون تھا۔
کیپٹن سیماچ ناشتے پر ملا اور ٹھیک لگ رہا تھا۔ اگرچہ وه سوچوں میں گم اور
کچھ جھجھک رہا تھا لیکن اس کي کمر فوجي طرز پر بالکل سیدھي اور آنکھیں
پھر سے چمک رہي تھیں۔ جب وه پروفیسر فري مین کے ساتھ آيا تو علي،
رامي، ربیکا اور میں بیٹھ چکے تھے۔ ہم نے اٹھ کر ان کے لیے جگہ بنائي اور
علي ان کے لیے پلیٹیں اور چھري کانٹے لے آيا۔ ہمارے پوچھنے سے قبل ہي
علي نے بتايا کہ آقا اور فقیر پو پھٹنے سے قبل ہي کسي کام سے چلے گئے
تھے اور ابھي تک واپس نہیں آئے۔
گپ شپ کي بجائے ہم نے محض ضروري سوالات کیے۔ آداب کے مطابق
ہم ايک دوسرے کي ذاتي معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ کھانے کے بعد
جب دسترخوان صاف ہو گیا تو رامي نے چائے پیش کي۔ ديوا ِن عام میں ہم آلتي
پالتي مار کر اس طرح بیٹھ گئے کہ لاعلمي میں بھي کیپٹن کے گرد نیم دائره
بن گیا۔
اس نے ہمیں ديکھا اور مسکرايا۔ “آپ سب کو ايک بار پھر ديکھ کر مجھے
”خوشي ہوئي اور آپ سے اپني آواز میں بات کرنا بھي اچھا لگ رہا ہے۔
اس کي اس بات پر ہم سب ہنسے۔ اس کي بات نے ہماري پريشاني ختم
کر دي۔
“پروفیسر نے پوچھا۔ “تمہیں کتنا کچھ ياد ہے؟
کیپٹن سیماچ نے فوراً جواب ديا۔ “سب، مجھے سب ياد ہے۔” اس نے ديوار
پر لگي آقا کي تصوير کو ديکھتے ہوئے کہا۔
کیپٹن کے انداز سے مجھے حیرت ہوئي۔ ايسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس
میں کوئي انجاني خوشي بھر گئي ہو۔ میں نے سوچا کہ کیا وه ُاس کیفیت
سے نکل آيا ہے۔
ربیکا نے اپنے باپ کے ہلکے اصرار کے باوجود کہا۔ “اگر تم اس بارے بات
”نہیں کرنا چاہتے تو۔ ۔ ۔ ۔
کپتان نے اپنا سر نفي میں ہلايا۔ “نہیں، ايسا کچھ نہیں۔ مجھے اس سےتکلیف نہیں ہوئي۔ بس ايسا لگا کہ جیسے کسي نے میرا شعور ہٹا کر ايک
طرف رکھ ديا ہو اور خالي شده ذہن میں عجیب باتیں آنا شروع ہو گئي ہوں۔ پہلے
پہل تو مجھے لگا کہ جیسے يہ میرا اپنا تخیل ہوں، خیر۔ ۔ ۔” اس نے کندھے
اچکائے۔ “آخر میں میں صرف ديکھ اور سن سکتا تھا۔ تاہم میں نے سب کچھ
”ديکھا اور سنا۔
تمہیں ڈر نہیں لگا؟” میں نے پوچھا۔”
شروع میں تو نہیں۔ عام سا لگ رہا تھا۔ کوئي خاص نہیں۔ آہستہ آہستہ”
مجھے اس کا احساس ہونے لگا۔ ظاہر ہے کہ پہلے تو میں نے اسے قبول کرنے
سے انکار کر ديا۔ ايسے لگا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں۔ ڈر بھي لگ رہا تھا۔ پھر
اچانک مجھے محسوس ہوا ۔ ۔ ۔” اس کي آواز نیچے ہو گئي۔ “اس نے مجھے
”چھوا، میں بیان نہیں کر سکتا کہ کہ کیا تھا۔
“اور اب؟” علي نے پوچھا۔ “اب تم ٹھیک تو ہو؟”
میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس کي مسکراہٹ سے ظاہر تھا۔ “اپنے منہ سے”
نکلنے والے الفاظ بھي میں نے سنے۔ ابھي تک میں انہیں اپني زبان پر
محسوس کر سکتا ہوں۔” اس نے اپنا سر ہلايا۔ “پھر وه چلا گیا۔ میں نے اسے
فوراً محسوس کیا اور میرے خالي ذہن اچانک بھر گیا۔ يہ سب اتني جلدي ہوا کہ
”مجھے لگا کہ میں بے ہوش ہو گیا ہوں۔
پروفیسر فري مین نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا۔ “تم اپني عمر
”سے کچھ بڑے لگ رہے ہو۔
”کیپٹن بہت خوش لگ رہا تھا۔ “مجھے لگ رہا ہے کہ میں جوان ہو گیا ہوں۔
مزيد کوئي بات نہیں ہوئي۔ ہم خاموشي سے بیٹھے رہے کہ اچانک آقا
کمرے میں داخل ہوئے۔ کیپٹن سیماچ نے سب سے پہلے ديکھا اور فوراً کھڑا ہو
گیا۔ ہم نے فوراً پیروي کي۔ انہوں نے کیپٹن کا ہاتھ پکڑ کر اس کي آنکھوں میں
جھانکا۔
تمہیں ابھي تک ڈر نہیں لگا؟” آقا نے پوچھا۔”
”کیپٹن سیماچ نے ہنس کر جواب ديا۔ “نہیں آقا۔
آقا؟
اب مجھے اس کي خوشي کي وجہ سمجھ آئي۔ اس نے آقا کو اپنا آقا مان
لیا تھا اور اب آقا اس پر توجہ دے رہے تھے۔
اب يہ نیا درويش ہے۔” آقا نے بتايا۔ “اس کي درخواست پر میں نے اسے”
”کل رات درويش بنا ديا تھا۔ آپ سب سو رہے تھے۔
ہم سب ابھي ششدر کھڑے ہي تھے کہ آقا نے ہاتھ ہلا کر کہا۔ “آگے بڑھ
”کراپنے بھائي کو خوش آمديد کہو۔
سلام!” ہم سب نے ايک ساتھ کہا اور باري باري اس کے گال چومے۔”
اسے چھوتے ہوئے میں ذرا جھجھک رہا تھا لیکن اس کا انداز بالکل سیدھا اور
صاف تھا اور اس نے ہمیں خوش آمديد کہا۔
پروفیسر نے اسے گلے لگايا اور پھر اس کے سامنے کھڑے ہو کر سر ہلايا۔
“!”تو تم بھي ديوانے نکلے
آقا نے يہ سن کر قہقہہ لگايا اور ہم سب بھي ہنسنے لگے، اگرچہ مجھےہنسي نہیں آئي تھي۔
ہم آقا کے گرد بیٹھ گئے۔ آقا نے بتايا کہ ہمیں بلا تاخیر روانہ ہو جانا چاہیے۔
“میں نے تیارياں مکمل کر لي ہیں اور راستے میں دوستوں کو بھي پیغام بھجوا
“ديا ہے۔ ابھي روانہ ہو سکتے ہو؟
ان کا سوال پروفیسر سے تھا۔ جب آقا حکم ديں تو درويش اسي وقت روانہ
ہو جاتا ہے۔
ہاں، کیوں نہیں۔ گرمیوں میں میري کوئي کلاس نہیں۔ سارا وقت میرا اپنا”
ہے۔ تاہم مجھے اپنے گھر کي ديکھ بھال کا انتظام کرنا ہے اور کچھ سامان بھي
باندھنا ہے۔” پروفیسر نے جواب ديا۔
تمہارا ساما ِن سفر میں مہیا کروں گا اور اگر تم چابیاں دے دو تو تمہارے”
گھر کي ديکھ بھال بھي میري ذمہ داري ہوگي۔” آقا نے جواب ديا۔
ربیکا نے فوراً چابیاں آقا کے حوالے کر ديں۔ پروفیسر نے کچھ نہیں کہا۔
جلدي کرو، ايک گھنٹے بعد میں تمہیں سمندر تک لے جاؤں گا۔ وہاں”
تمہارا رہنما منتظر ہوگا۔” آقا نے بتايا۔
ہم ہوائي جہاز سے نہیں جا رہے؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
نہیں میرے دوست، تم سمندر اور صحرا کا راستہ لو گے جو سلیما ؑن کا”
”راستہ تھا۔
بات ختم ہو گئي اور ايک گھنٹے بعد ہم سمندر کو روانہ ہو گئے۔
سفر خاموشي سے طے ہوا اور ہم سب اپني اپني سوچوں میں گم تھے
کہ بندرگاه پہنچ گئے۔ جہاز پرانا مال بردار تھا جو سمندر کي وجہ سے بھورا اور
پرانا لگ رہا تھا۔ اس پر مصري جھنڈا لہرا رہا تھا اور روانگي سے قبل کا دھواں
نکل رہا تھا۔
اس کا کپتان ہٹا کٹا اور مضبوط آدمي تھا اور عرشے پر منتظر ملا۔ بڑھي
ہوئي داڑھي اور چہرے پر ناپسنديدگي کے آثار واضح تھے کہ اسے روانگي کي
عجلت تھي۔ جب اس نے آقا کو ديکھا تو اس کے چہرے کے تائثرات ايک دم سے
بدل گئے۔ فوراً ہماري جانب لپکا اور سر جھکا کر ہمیں خوش آمديد کہا۔ آقا نے
گرمجوشي سے ہاتھ ملايا اور روانگي میں ہماري وجہ سے تاخیر کرنے پر اس کا
شکريہ ادا کیا۔ يقین کیجیے کہ آقا کي اس مہرباني پر اس بندے کا چہره شرم
سے لال ہو گیا اور اس نے پھر جھک کر اجازت لي اور اوپر جا کر جہاز کي
روانگي کے احکامات دے ديے۔
میں نے اسے عملے پر دھاڑتے سنا۔ اچانک آقا نے ہمارے اوپر جنگلے پر
کسي کو ديکھا۔ يہ وہي فقیر تھا۔ وہیں ٹھہرے ہوئے وه ہمیں تکے جا رہا تھا۔ ايک
لمحے کو انہوں نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ديکھا لیکن معلوم نہیں کہ ان کے
درمیان کیا تبادلہ خیال ہوا ہوگا۔ ہمارا رہنما بہت دور تھا اور آقا نے اس کي جانب
نہیں ديکھا۔
آقا کے ساتھ رہتے ہوئے اتنا عرصہ ہوگیا تھا کہ مجھے علم ہو چکا تھا کہ آقا
کسي بھي طريقے سے بات کر سکتے ہیں اور ان طريقوں کو الفاظ میں بیان
کرنا ممکن نہیں۔ کسي درويش نے اس بارے استفسار نہیں کیا۔ دوسرے لوگ
روانگي سے قبل اپنا سامان ديکھ رہے تھے اور انہوں نے بھي نہیں ديکھا۔پروفیسر نے جہاز کو ديکھ کر خوشي سے ہاتھ ملے اور کہا۔ “جب تک ہم
منز ِل مقصود تک نہ پہنچ جائیں، کسي کو علم تک نہیں ہوگا۔ آه، صحرا میں
ہمارے لیے کیسے کیسے اسرار پوشیده ہوں گے۔ شايد سب سے بڑا خزانہ،
”شاه سلیما ؑن کي انگوٹھي مل جائے۔
آقا نے کندھے اچکائے۔ “شايد، يہ انگوٹھي محض نمائشي ہي ہوگي۔ الله
کي رحمت شاه سلیما ؑن پر تھي اور اس رحمت سے اس انگوٹھي میں قوت آئي
تھي۔ تم شايد اپنا خواب بھول چکے ہو؟ تم صحرا میں کھدائي تو نہیں کر رہے
تھے۔ کسي نے بطور خاص تمہیں طوفان کے راستے میں اس کام پر بھیجا تھا۔
جو کچھ تم سیکھنے جا رہے ہو، وه صحراؤں میں چھپے تمام خزانوں سے کہیں
”بہتر ہے۔
!طوفان کا راستہ
پروفیسر نے آقا کي بات سني تو ہماري طرح وه بھي جھجھک گیا۔ پرانے
نفس کا ُغلبہ کتني جلدي ہو جاتا ہے۔ پھر آقا نے اسے گلے لگايا۔ روانگي کا
وقت آن پہنچا تھا اور نقصان اور کمي کا احساس ہونے لگا۔ ہم سب مل کر آقا
کي جانب بڑھے لیکن انہوں نے ہاتھ اٹھا کر ہمیں وہیں روک ديا۔ انہوں نے ہمیں
:ديکھا اور ان کي نگاہوں اور آواز میں محض محبت اور شفقت تھي
ياد رکھو اے درويش، تمہارے سفر کا مقصد کیا ہے۔ اپنے رہنما کے”
احکامات پر عمل کرنا اور اس سے روگرداني مت کرنا۔ اپنے دل کو عام جواہرات
سے ہٹا لو۔ الله کي محبت ہي دراصل سلیما ؑن کي مہر تھي۔ سچے جواہرات کو
”تلاش کرو اور ہمیشہ اچھے جوہري بنو۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: