Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 14

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 14

–**–**–

باب 14
میں نے طاقت مانگي تو وه علم میں ملي۔
میں نے عزت مانگي تو وه غربت میں ملي۔
میں نے صحت مانگي تو مجاہدے میں ملي۔
میں نے الله کے سامنے حساب کتاب کو آسان مانگا
تو وه خاموشي میں ملا۔
میں نے تسلي مانگي اور وه مايوسي میں ملي۔
علي سہل اصفہاني
ہمیں پرسکون سمندر میں نکلے دو دن ہو گئے اور ہمارا رخ الجیرز کي طرف
تھا۔ ہم لوگ اگلے عرشے پر عملے سے دور سوتے تھے۔ ہمارے رہنما نے کیبن
لینے سے انکار کر ديا اور ہمیں سختي سے کہا کہ ہم سب خاموش ہي رہیں
کہ کہیں ُغلطي سے بھي کوئي راز کي بات نہ نکل جائے۔ يہ کام بہت آسان
تھا۔ ہم فقیر کے ساتھ ہي تھے اور وه کیپٹن اور چند ديگر ملاحوں کو جانتا تھا اور
اس نے کسي طرح ان لوگوں کي توجہ ہماري جانب سے ہٹا دي تھي۔ تاہم وه
لوگ فقیر کو انتہائي عزت سے مخاطب کرتے تھے۔
کپتان بذا ِ ت خود ہمارے لیے کھانا لاتا تھا اور ہم اس کا غسل خانہ استعمال
کرتے تھے۔ ہم اپنے کپڑوں میں سوتے اور ايک ساتھ کھانا کھاتے اور مدہم آواز
میں بات کرتے۔ جب علي نے اپني ‘نے‘ بجانے کي اجازت مانگي تو قلندر نے رد
کر دي۔ شايد اس کا خیال ہو کہ اس طرح کئي لوگوں کي توجہ ہماري جانب
مبذول ہو جائے گي۔ خیر جو بھي ہو، علي نے بحث نہیں کي۔ آقا نے ہمیں
سختي سے ہدايت کي تھي کہ ہم ہر معاملے میں اپنے رہنما کا کہنا مانیں۔
ہمیں قلندر کے الگ تھلگ رہنے اور اپنے آپ میں گم ہونے کي عادت نہیں
تھي۔ اکثر وه کئي کئي گھنٹوں کے لیے غائب ہو جاتا جیسے جہاز کے کسي
دوسرے حصے پر سونے يا کھانے کے لیے چلا گیا ہو۔ نماز کے اوقات میں بھي
وه گم ہو جاتا۔ ہمارے ساتھ ہوتے ہوئے بھي وه کم ہي بات کرتا اور ہم سے الگ
الگ رہتا اور اکثر اس کي ايک آنکھ بند اور ايک ٹانگ دوسري کے نیچے دبي
ہوتي۔ اس کا ہاتھ اور اس کي تھوڑي اس کے گھٹنے پر رکھي ہوتیں۔ کبھي کبھار
سر اٹھاتا بھي تو محض آه بھرنے کو۔
میں نے پوري توجہ سے اسے ديکھا تو اس پر رشک آنے لگا۔ اس راستے
کے ايک سرے سے دوسرے سرے تک کا فاصلہ بہت طويل ہے۔ عموماً ہم
مراقبے میں اکٹھے ہوتے جبکہ پروفیسر فري مین محض ہمارے ساتھ بیٹھ کرہمیں ديکھتا۔ جونہي اسے جہاز کي منزل کا پتہ چلا تو وه مايوس ہو گیا اور جب
ہم منزل کے قريب پہنچنے لگے تو اس کي مايوسي ديدني تھي۔ اس نے کہا۔
“شیخ ہادي نے کہا تھا کہ ہم شاه سلیما ؑن کے راستے پر چلیں گے۔ لیکن شاه
سلیما ؑن مصر تک سمندري راستے سے گئے تھے اور پھر تانس کے شمال
“مغربي ڈيلٹا کو۔ ہم اتني مغرب میں کیوں جا رہے ہیں؟
کسي کے پاس جواب نہیں تھا۔ پروفیسر فري مین کے اندازے شايد
درست ہوتے لیکن آقا نے ہمیں پہلے سے بتا ديا تھا کہ ہمارا رہنما راستہ جانتا
ہے۔ تاہم کیپٹن سیماچ کو اس سے کوئي غرض نہیں تھي۔
ہمارے پاس کسي بھي راستے کے بارے ثبوت نہیں ہیں۔ تاہم میرا خیال”
ہے کہ ہمیں جہاں لے جايا جائے، وہیں جائیں۔ الله ہي درست راستے کو جانتا
ہے۔” کیپٹن نے کہا۔
يہ تو آقا کا تکیہ کلام تھا۔ پروفیسر اور اس کي بیٹي نے حیرت سے کیپٹن
سیماچ کو ديکھا لیکن علي اور رامي نے اثبات میں سر ہلايا۔ پروفیسر بہت
مشہور عالم تھا لیکن يہ سفر ابتداء سے ہي اس کے علم کي حدود سے باہر
تھا۔ لیکن ہمارے نئے درويش بھائي کو جو کچھ معلوم تھا، اسے جھٹلانا بھي
ممکن نہیں تھا اور ايسے لگتا تھا کہ جیسے اس کي ياداشت میں کچھ ايسا ہو
جو اس کا اپنا نہیں۔
الجزائر۔
ہم اندھیرا ہونے سے ذرا قبل پہنچے لیکن فقیر نے ہمیں ساحل پر جانے
سے منع کر ديا۔ ہم اس کے ساتھ خاموشي سے بیٹھ کر انتظار کرنے لگے کہ
ہمیں علم نہیں تھا کہ اب کیا کريں گے۔ آخرکار کپتان آيا اور اس کے ساتھ اس
کے عملے کے دو انجان اراکین بھي تھے جو سخت جان دکھائي دے رہے تھے۔
ان کے پیچھے ايک لڑکا بھي تھا۔
کپتان نے اس لڑکے کا نام احمد بتايا جو کپتان کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا۔
پندره سال کا اور ذہین لڑکا تھا اور اپنے باپ کے ساتھ پہلي بار بحري سفر پر
نکلا تھا۔ تینوں انتہائي محتاط انداز سے ہمارے پاس پہنچے کہ وه فقیر سے
قريب لیکن ہم سے دور ہوں۔ ہمارا رہنما اٹھ کر ان کي طرف چل پڑا۔ میں ان کے
پیچھے اتنے قريب پہنچا کہ ان کي باتیں سن سکوں۔
سلام۔” کپتان نے سلام کیا۔ “الله کي رحمت سے ہم بخیريت پہنچ گئے”
“ہیں۔ آپ سب ٹھیک ہیں نا؟
الله کي رحمت اور آپ کي سخاوت سے، ہم بالکل ٹھیک ٹھاک پہنچے”
ہیں۔” فقیر نے جواب ديا۔
الحمدͿ۔” کپتان نے جواب ديا اور ہلکا سا جھک کر اس نے شکريہ بھي ادا”
کیا۔ “الله کا شکر ہے۔ اے صديق! میں آپ کو تکلیف نہیں دينا چاہتا لیکن اگر
”اجازت ہو تو ايک ايسا معاملہ پیش آيا ہے کہ آپ کي رہنمائي درکار ہے۔
صديق؟ يہ نام تو جنوبي صحرا میں رہنے والے بربر اور اہاگر قبائل نیک
آدمیوں کو ديتے ہیں۔ يہ نام پہلے خلیفہ ابو بکر کو بھي ملا تھا اور اس انسان
کي اندروني بصیرت کو ظاہر کرتا تھا کہ جن کا ہر لفظ سچ ہوتا ہے۔
خلوص قلب۔ اسے کسي جھگڑے کو سلجھانے میں منصف بنايا جا
ِ
صديق؟رہا تھا۔
میں آپ کي کیا خدمت کر سکتا ہوں؟” فقیر نے پوچھا تو کپتان سے لیکن”
اس کي توجہ دونوں آدمیوں اور لڑکے پر تھي۔
جناب، میري تجوري سے ايک قیمتي چیز چوري ہوئي ہے اور يہ آدمي۔ ۔ ۔””
ايک نے کہا۔
میں بے گناه ہوں۔” دوسرے نے غصے بھرے انداز سے جواب ديا۔ “میں نے”
”تجوري کھلي ہوئي ديکھي اور محض۔ ۔ ۔ ۔
خاموش” کیپٹن دھاڑا۔ دونوں آدمي ايک دوسرے کو گھورنے لگے لیکن”
کچھ بولے نہیں۔
فقیر نے دونوں کو گھورا۔ لڑکے کے علاوه سبھي اس کے گھورنے سے
پريشان دکھائي دے رہے تھے۔ آخرکار اس نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور ہتھیلیاں اوپر
کي طرف رکھیں اور ملزم کي طرف اشاره کیا اور بولا۔ “اس جرم سے تم پاک ہو۔
سکون سے جاؤ اور بے فکر ہو جاؤ۔” اس نے کہا۔
ملزم نے تشکر بھرا سانس لیا۔ اس نے صديق کے فیصلے پر اس کا شکريہ
ادا کیا اور چلا گیا۔
اتني دير میں فیصلہ ہو گیا۔ صديق نے سچ ديکھ کر فیصلہ کیا جو قطعي تھا
اگرچہ اس سے دوسرا مطمئن نہ تھا۔ الزام لگانے والے نے دوسرے آدمي کي
پشت کو گھورا اور اس کا چہره بگڑا ہوا تھا۔
فقیر اس کي طرف مڑا۔ “شک مت کرو۔ تمہارا ساتھي سچ کہہ رہا ہے۔
تمہاري تجوري کھلي تھي اور وه اسے بند کرنے لگا تھا کہ تم آن پہنچے۔ اس
بارے مزيد کچھ نہیں کہوں گا۔ کیا تمہاري چیز اتني قیمتي تھي کہ تم اس کي
خاطر اپنے پرانے دوست کو کھونے پر تیار ہو گئے کہ جس کے ساتھ تم نے
مشکل وقت گذارا؟ جا کر معافي مانگ لو، الله کے حضور تمہارا حساب آسان ہو
”جائے گا۔
يہ سن کر اس آدمي کے تائثرات نرم پڑے۔ اس نے نظريں جھکا لیں۔ آخرکار
اس نے جھک کر فیصلہ قبول کیا۔ کپتان نے اسے بازو سے پکڑا اور کہا۔ “تم نے
صديق کا فیصلہ سن لیا۔ چلو، جا کر معافي مانگ لو۔ پھر میں تمہاري گمشده
چیز تلاش کرنے میں تمہاري مدد کروں گا اور اگر ناکام رہے تو میں نقصان پورا
کروں گا۔ میرے جہاز پر گڑبڑ نہیں ہوني چاہیے۔” اور وه چل ديے۔
دونوں نیچے چلے گئے۔ لڑکا ره گیا۔ فقیر ايک کريٹ پر بیٹھ گیا اور لڑکا اس
کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
میں کبھي نیک آدمیوں سے نہیں ملا۔” لڑکے نے کہا۔”
”فقیر نے جواب ديا۔ “جانتا ہوں۔
آپ مستقبل کا حال بتانے والے ہیں نا؟” اس نے پوچھا۔”
فقیر نے کندھے اچکائے۔
احمد نے پوچھا۔ “کیا آپ مجھے يہ ہنر سکھائیں گے۔” میں يہ سن کر
مسکرايا لیکن فقیر براه راست احمد کي آنکھوں میں گھورتا رہا۔
تمہارے پاس پہلے ہي ايک ہنر ہے لڑکے اور تمہاري زبان اور تمہارے ہاتھ”
”بھي وه ہنر جانتے ہیں۔ يہ دو ہنر ايک انسان میں نہیں ہونے چاہیں۔لڑکا يہ سن کر گھبرا گیا اور اٹھنے لگا۔
وہیں بیٹھے رہو۔” فقیر نے حکم ديا۔”
احمد وہیں بیٹھ گیا اور پھر حرکت نہیں کي۔ وه خوفزده دکھائي دے رہا تھا
لیکن میں اس کي آنکھوں کے تائثرات پہچانتا تھا جس میں غرور، رازداري اور ضد
شامل تھے۔
ڈرو مت۔” فقیر نے کہا لیکن اس کي آنکھوں نے لڑکے کو ايک ہي جگہ”
”روکے رکھا۔ “اپني جیبیں خالي کرو۔
لڑکے نے جیسے کسي ان ديکھي قوت سے لڑائي کي ہو، اس کے ہاتھ
ايسے حرکت کر رہے تھے جیسے کسي دوسرے کے اشارے پر چل رہے ہوں۔
جونہي اس کي جیب سے ملاحوں کا جیبي چاقو، چند دينار اور ايک انگوٹھي
نکلے تو اس کي مايوسي ديدني تھي۔
ايک چور دوسرے کو بخوبي پہچانتا ہے۔” فقیر نے کہا۔ “اس نے تم سے”
ايسا تحفہ تو نہیں مانگا تھا۔ پھر تم کیوں اسے گندے ہاتھوں سے يہ تحفہ کیوں
“دينا چاہتے تھے؟
احمد کا چہره زرد پڑ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ اس کا منہ کھلا
اور پھر بند ہوا لیکن کچھ کہہ نہ سکا۔
جواب دو۔” فقیر نے پھر زور ديا۔”
احمد نظريں نہ ہٹا سکا۔ اس کي آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “میرا يہ
مطلب نہیں تھا۔ مجھے افسوس ہے۔ ۔ ۔” اس کي آواز سرگوشي میں بدل گئي۔
احمق لڑکے!” الله کي دي ہوئي عقل سے ہمیں محبت کا سبق ملتا ہے۔”
حت ٰي کہ چھوٹے چھوٹے ذرات بھي ايک دوسرے کو اپني طرف کھینچتے ہیں۔
کبوتر بہ کبوتر، باز بہ باز۔ يقین کرو کہ تم محبت کو کبھي بھي کمینگي سے
”نہیں پا سکتے۔ يہ کھو گئي ہے۔ چور کي منزل محض جہنم ہے۔
احمد اس کي بات پر آنکھیں جھپکاتا رہا۔ وه بہت خوفزده تھا اور مسلسل
روئے جا رہا تھا۔ “کیا آپ میرے باپ کو بتائیں گے؟” اس نے پوچھا۔
میں تمہارا منصف نہیں ہوں۔” فقیر نے کہا۔ “تاہم الله بڑا مہربان ہے۔ تم جا”
“!کر توبہ کرو اور اس سے معافي مانگو۔ جاؤ
فقیر نے آه بھر کر اپني آنکھیں جھکا لیں۔ لڑکے نے ايسے جھرجھري لي
جیسے وه کسي سحر سے نکلا ہو۔ کھڑے ہو کر اس نے اپني آنکھیں صاف کیں
اور کچھ کہے بغیر بعجلت چل ديا۔ میں اس وقت دوسروں کي جانب مڑنے والا
ہي تھا کہ فقیر نے مجھے ديکھ کر اس لڑکے کي جگہ پر بیٹھنے کا اشاره کیا۔
میں نے تعمیل کي۔
اس نے میري نوٹ بک پر نگاه ڈالي اور کہا۔ “اس واقعے کو بھي اپني
ياداشتوں میں لکھ لو کہ ُغلطي اس کے طريقے میں نہیں بلکہ اس کي ديوانگي
”میں تھي۔
“ايسا ہي کرتا ہوں۔” میں نے کہا۔ “تاہم میں صديق کے بارے کیا لکھوں؟”
اس نے سوال کو نظر انداز کر ديا۔ “دنیا کے اس حصے میں مجھے اس نام
”سے جانا جاتا ہے۔
“کیا آپ کے اور بھي نام ہیں؟””ہاں، بہت سارے۔”
ہدايت کے مطابق میں نے تحرير کیا، اگرچہ میں بہت الجھ گیا تھا لیکن میں
اس سے زياده اصرار نہیں کر سکتا تھا۔ تکلف اور اس فقیر کے لیے میرے دل
میں موجود عجیب ہمدردي اور اس کي اچھائي کے خیال سے میں نے موضوع
بدل ديا۔
“لڑکے کا کیا ہوگا؟”
فقیر نے شانے اچکائے۔ “بہت سے لوگ اس سے بھي کم تر وجہ سے
ايسي چیزيں مانگتے ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں ہوتیں۔ انصاف محض الله
کا کام ہے۔” اس نے سر ہلايا۔ “انسان نہیں جانتا کہ محبت کے شعور میں الله کا
شعور چھپا ہوتا ہے جو انہیں دکھائي نہیں ديتا۔ پھر بھي انسان اپنا راستہ تلاش
کر ہي لیتا ہے۔ ٹیڑھا پاؤں پھر بھي سیدھے راستے پر چل سکتا ہے۔ نوجوانوں
”کے لیے خوف عموماً بہترين رہنما ثابت ہوتا ہے۔
يعني چوروں کو جہنم سے نہیں ڈرنا چاہیے؟” میں نے پوچھا۔ فوراً ہي”
مجھے اپنے الفاظ پر افسوس ہوا تاہم فقیر کے چہرے پر مجھے کوئي برا تائثر
نہیں دکھائي ديا۔ شايد اس کي توجہ کہیں اور تھي کہ وه اٹھا اور جنگلے کي
طرف چل ديا۔ ڈوبتا سورج اب افق کو چھو رہا تھا اور آسمان اور سمندر، دونوں کو
جیسے آگ لگي ہو۔
بوڑھا فقیر کچھ دير تو سوچوں میں گم دکھائي ديا اور اس کي توجہ بظاہر
لہروں اور سمندر پر مرکوز تھي۔ اس کا چہره اور داڑھي سمندر کي مانند سرخ
دکھائي دي جیسے وه بھي اس روشني کو جذب کر رہا ہو۔
مڑے بغیر اس نے جواب ديا۔ “بے شک الله کي رحمت اس کے غضب پر
غالب ہے۔ يقین رکھو کہ جہنم کے باسي اس دنیا سے زياده وہاں خوش ہوتے
ہیں کیونکہ جہنم میں انہیں الله سے آگہي مل جاتي ہے جبکہ دنیا میں وه الله
سے لاعلم رہتے ہیں۔ اس زندگي يا اس کے بعد کي کوئي بھي چیز الله کي ياد
سے زياده بہتر نہیں۔” پھر اس نے گہري سانس لي اور سمندر کي تازه ہوا اپنے
پھیپھڑوں میں بھري۔ اس کا جسم ہلکا سا کانپا۔ جیسے اس نے آه بھري ہو۔
“اگرچہ يہ تمہارے سماع سے ہزار گنا بڑي بھي ہو، لیکن پھر بھي اس کي
”تسکین نہیں ہو پاتي۔ وه بنجر ہوتے ہیں۔ تم خود ديکھو گے۔
تم خود ديکھو گے! اس کے الفاظ سے مجھے خوف محسوس ہوا۔
يہ بوڑھا اور عجیب آدمي کون ہے؟ میں نے پھر سوچا۔ اور يہ ہمیں لے کر
کہاں جا رہا ہے؟

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: