Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 15

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 15

–**–**–

باب 15
ہر انسان کا سفر اس کي تکمیل کي جانب ہوتا ہے۔
منطق الطیر
)پرندوں کي کانفرنس(
فريد الدين عطار
آدھي رات کے بعد فقیر نے ہمیں جہاز سے اترنے کي اجازت دي۔ کپتان اور
اس کا زياده تر عملہ پہلے ہي ساحل پر پہنچ چکا تھا۔ جہاز میں رات کي نگراني
پر متعین عملہ موجود تھا۔ فقیر عرشے پر خاموشي سے سر جھکائے بیٹھا تھا۔
بعض اوقات وه سر اٹھا کر ستاروں کو ديکھ لیتا اور پھر واپس اسي طرح سر
جھکا لیتا۔ آخرکار وه لمحہ آ گیا جب شايد ستارے مہربان ہو گئے۔ کچھ کہے بنا
وه اپني جگہ سے کھڑا ہوا اور جہاز سے اتر گیا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے
اترے۔ چوکیداروں نے ہمیں نہیں ديکھا اور ہم نے بھي انہیں خدا حافظ نہیں کہا۔
کیپٹن سیماچ نے ہمیں بتايا کہ کسٹمز سے گذرے بنا بندرگاه سے نکلنا
ممکن نہیں ہوگا۔ اونچي ديواريں اور خاردار باڑوں سے ہر دوسرا راستہ مسدود
ہوگا۔ فقیر نے اس بات پر کچھ نہیں کہا اور ہمیں سیدھا کسٹمز آفس کي طرف
لے گیا۔ کسي نامعلوم وجہ سے کسٹمز کا آفس سنسان پڑا تھا۔ ايک بوڑھي
عورت فرش پر جھاڑو پھیر رہي تھي اور کسٹم کا عملہ جو اس وقت ڈيوٹي پر ہوتا
تھا، وه غائب تھا۔
بظاہر اس وقت بندرگاه پر کوئي اور جہاز نہیں آنے والا تھا يا شايد وه لوگ
سونے چلے گئے تھے يا شايد کھانا کھا رہے ہوں؟ مجھے لگا کہ ان کي واپسي
تک ہمیں کافي دير انتظار کرنا پڑے گا۔ لیکن فقیر نے اپني رفتار برقرار رکھي اور
نہ ہي مڑ کر ديکھا اور سیدھا چلتا ہوا کسٹمز کي عمارت سے باہر کو چل ديا۔
ہم اس کے پیچھے پیچھے چلتے رہے اور اس کي رفتار اب اتني تیز ہو گئي تھي
کہ ہمیں ايک طرح سے اس کے پیچھے بھاگنا پڑ رہا تھا۔
تم کیا کر رہے ہو؟” پروفیسر فري مین چلايا۔ “ہمارے پاس پورٹوں اور ويزوں”
“پر مہر نہیں لگي۔ ہم ملک سے باہر کیسے جائیں گے؟
الله کي مہرباني سے۔” فقیر نے رکے بغیر جواب ديا۔”
“اگر ہمیں روکا گیا تو۔ ۔ ؟”
پو پھٹنے سے قبل ہم صحرا میں ہوں گے۔” اس کا جواب تھا۔ اس نے رفتار
بڑھا دي اور جلد ہي ہمارے سانس اتنے پھول گئے کہ ہم بات بھي کرنے کے
قابل نہ رہے۔ کپیٹن سیماچ اور ربیکا اس کا ساتھ دے پا رہے تھے اور ان کے قدم
اس طرح ايک ساتھ اٹھ رہے تھے جیسے کہ کسي فوجي مشق پر ہوں۔ باقيہم کافي پیچھے ره گئے تھے۔
جب ہم قصبے پہنچے تو فقیر کي رفتار کچھ کم ہوئي۔ دکانوں کے در بند
تھے اور کھوکھے خالي تھے۔ ہم نے اسے ايک گلي کي طرف مڑتے ديکھے جو
مشہور بازار کو جاتي تھي۔ کیپٹن اور ربیکا بھي اس کے ساتھ ساتھ تھے۔ جب
ہم گلي کے کونے کو پہنچے تو وه لوگ پہلے ہي اس تنگ سي گلي کے ايک
تاريک دروازے پر کھڑے ہوئے تھے۔
آخرکار ہم پہنچ ہي گئے۔ جب تک ہم قريب پہنچتے، فقیر اندر گھسا اور
دروازه بند ہو گیا۔
فقیر کہاں گیا؟” پروفیسر نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔”
اس نے ہمیں انتظار کا کہا ہے۔” ربیکا نے جواب ديا۔ کیپٹن نے سر ہلايا۔”
رات کي ٹھنڈي ہوا سے ہمارا پسینہ خشک ہوتا رہا اور ہم کافي دير کھڑے
انتظار کرتے اور کانپتے رہے۔
کیا وه ہمیں صحرا اسي رفتار سے چلا کر لے جائے گا؟” پروفیسر نے”
کھانستے ہوئے پوچھا۔
ربیکا نے مڑ کر اسے ديکھا اور سرگوشي میں اسے چپ ہو جانے کو کہا۔
پروفیسر سرگوشي میں ہي کچھ کہنے والا تھا کہ گلي کے دوسرے کنارے
سے روشني نمودار ہوئي۔ ايک دروازه کھلا اور بہت سارے آدمي باہر نکلے اور
پھر دروازه بند ہو گیا۔ ايسا لگتا تھا کہ جیسے شراب خانہ يا قمار خانہ ہو کیونکہ
جب روشني تھي تو میں نے ديکھا کہ ان کے لباس مزدوروں جیسے تھے اور
شراب کي بو بھي آئي تھي۔ کچھ تو ہنسي مذاق کر رہے تھے تو کچھ ايک
دوسرے کو عجیب زبان میں لعن طعن کر رہے تھے۔ جب انہیں ہماري موجودگي
کا احساس ہوا تو وه ايک دم سے خاموش ہو گئے۔
ايک لمحے کو تو يہ خاموشي بہت عجیب لگي۔ پھر ان میں سے ايک نے
آگے بڑھ کر ہم سے کھردرے انداز میں کچھ پوچھا۔
میں نے سوچا کہ يہ تو بربر زبان ہے۔ اگرچہ مجھے سمجھ تو کچھ نہیں
آئي لیکن لہجے سے اندازه ہو گیا تھا۔ کیپٹن سیماچ نے ہونٹوں پر انگلي رکھ کر
ہمیں خاموش ہونے کا اشاره کیا تاکہ ہمارے لہجے سے ہمارے غیر ملکي ہونے
کا اندازه نہ لگايا جا سکے۔ ہماري خاموشي سے انہیں اور بھي الجھن ہوئي۔
انہوں نے ہماري طرف بڑھنا شروع کیا۔ جس نے سوال پوچھا تھا، وه سب سے
آگے تھا۔
کیپٹن سیماچ ايک قدم آگے بڑھا اور ربیکا نے اپنے باپ کو پیچھے چھپا لیا۔
علي اور رامي کپٹن کے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے اور يہ تنگ سي گلي بند ہو
گئي۔ میں قدم بڑھا کر ربیکا اور اس کے باپ کے سامنے آ گیا۔
میرے احساسات خطرے کے احساس کے تحت متحرک ہو گئے اور ہر چیز
جیسے آہستہ آہستہ حرکت کر رہي ہو۔ میں نے ربیکا کو اپنے باپ کو روکنے کي
کوشش کرتے سنا اور علي اور رامي کي کمريں تن گئیں اور مٹھیاں بھینچ
گئیں۔ کیپٹن سیماچ ہاتھ اور ٹانگیں پھیلائے اور گھٹنے ذرا سا جھکائے ايسے
کھڑا تھا جیسے يہ لوگ اسے گلے ملنے آ رہے ہوں۔ مجھے ُغلط فہمي نہیں
ہوئي تھي۔ کیپٹن کا بظاہر پرسکون انداز دراصل ايسي صورتحال سے نمٹنے کےلیے تربیت يافتہ بندے کا انداز تھا۔
پھر بھي وه لوگ آگے بڑھتے اور بولتے آئے۔ انتہائي قريب پہنچ کر ان کے
“لیڈر نے عربي میں چلا کر پوچھا۔ “تم سب بہرے ہو؟ بول نہیں سکتے؟
مجھے خطرے کا احساس ہوا اور اچانک ہي ہمارے بازو والا دروازه کھلا۔
اچانک نمودار ہونے والي روشني سے وه سب چند میٹر دور رک گئے اور فقیر
سامنے آ گیا۔
گدھے کي طرح رينکنا بند کرو۔ احمق کے لیے جواب خاموشي ہي ہوتا”
ہے۔” اس نے لیڈر کو گھورتے ہوئے کہا۔
اس بندے کا غصہ اچانک گم ہو گیا اور آنکھیں پھیل گئیں۔ “ال ُمعظّم!” اس
نے سرگوشي میں کہا اور پیچھے ہٹ گیا۔
اس کا لفظ ديگر لوگوں تک پھیل گیا۔ سب نے ہمیں انتہائي دہشت زده
انداز سے ديکھا۔ کچھ نے آنکھیں ڈھک لیں۔ کچھ ہاتھ کے اشاروں سے ہمیں دور
جانے کا کہنے لگے۔ چند قدم آہستگي سے پیچھے جا کر وه مڑے اور بھاگ
”پڑے۔ کچھ نے بھاگتے ہوئے کہا۔ “شیاطین۔
”مڑے بغیر فقیر نے کہا۔ “آؤ۔ ادھر چلو۔
ہم نے بعجلت اس کے پیچھے دروازه عبور کیا اور مشعلوں سے روشن
صحن کو جا پہنچے۔ اگلے دروازے کو عبور کرتے ہي ہم دوسري گلي جا پہنچے۔
ايک لینڈ روور وہاں موجود تھي اور انجن چل رہا تھا۔
فقیر نے کیپٹن سیماچ سے کہا۔ “تم چلاؤ۔ جنوبي راستہ صاف ہے اور
”دروازے بھي جلد ہي کھل جائیں گے۔
تین گھنٹے بعد ہم اطلس پہاڑوں سے گذر رہے تھے۔ صحارا کو شمالاً جنوباً
عبور کرنے والے پانچ راستوں میں سے يہ مختصر ترين تھا۔ صبح ہوتے ہوتے ہم
لغوات پہنچے جو جنوبي پہاڑيوں کے دامن میں واقع ايک چھوٹا سا قصبہ ہے۔
جلد ہي ہم صحرا کے درمیان میں ہوتے۔ سڑک سچ میں خالي تھي اور محض
چند ديگر گاڑياں ہي دکھائي دي تھیں اور کوئي دروازه بھي نہیں دکھائي ديا تھا۔
علي اور رامي گاڑي کے پیچھے رکھے سامان پر بیٹھے تھے۔ میں پچھلي
سیٹ پر ربیکا اور اس کے باپ کے ساتھ بیٹھا۔ ديگر لوگ تو کچھ دير سوئے تاکہ
شہر والے واقعے کو بھلا سکیں لیکن میں نہ سو سکا۔ فقیر ابھي بھي اسي
طرح بیٹھا، ہلکا سا آگے کو جھک کر تاريکي میں گھورے جا رہا تھا۔
مجھے اب اس قلندر سے دلي لگاؤ محسوس ہو رہا تھا جو پہلي کشش
سے ہٹ کر تھا۔ میرے خیال میں میرے ديگر ساتھي بھي اب اس پر اعتبار کرنا
شروع ہو گئے تھے۔ آقا نے سچ کہا کہ اسے راستے کا علم ہے۔ کچھ دير کے
لیے تو ہم بغیر مہر لگے پاس پورٹوں کو بھول گئے اور نہ ہي کسي نے پوچھا کہ
لینڈ روور کہاں سے آئي۔ پروفیسر نے کہا تھا۔ “سلیما ؑن کي بگھي کي جگہ
جیپ۔” ہم سب ہنس پڑے۔ ساتوں مسافر اب ايک دوسرے کے رفیق بنتے جا
رہے تھے۔
تاہم ايک اور الجھن بڑھ گئي تھي۔ شرابیوں نے اسے ال ُمعظّم کہا تھا اور
اس کي آمد سے گھبرا گئے تھے۔
ال ُمعظّم: جادوگر۔ کالے جادو کي مدد سے بدروحوں سے کام لینے والا۔ديگر ساتھي سو رہے تھے تو میں نے خاموشي توڑي۔
“آگے کو جھک کر میں نے پوچھا۔ “آپ کا ايک اور نام؟
اسي حالت میں بیٹھے ہوئے اس نے جواب ديا۔ “جاہلوں میں ايک يہ نام
”بھي مشہور ہے۔ ان کے خیال میں تم میرے قبضے میں آئي بدروحیں ہو۔
میں اپني سیٹ پر پشت لگا کر بیٹھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ اس سفر پر ہر
شخص نے اسے ايک اور انداز سے ديکھا تھا: جاسوس القلوب، صديق، المعظم۔
ان میں سے کون ہمیں اس طوفان میں لے جائے گا، میں نے سوچا۔

Read More:  Shararat Novel by Nabila Aziz – Episode 1

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: