Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 16

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 16

–**–**–

باب 16
تنہائي کو تلاش کرنے والے کو
بھلا کس چیز کي تلاش ہوگي؟
جبکہ وہاں دوست کا راستہ ہے
تو پھر صحرا کي کیا ضرورت؟
حافظ
جلتے سورج میں بھي ہمارا رخ مسلسل جنوب کي طرف رہا اور ہم عظیم
مغربي ارگ سے بچتے ہوئے غردايہ سے گذرے۔ سرخ زمین کافي فاصلے تک
ہموار اور مسطح تھي اور اس جگہ کبھي پہاڑوں سے نیچے کو دريا بہتا تھا۔ ہم
لینڈ روور میں ہي کھاتے پیتے اور چلانے کي بارياں لیتے رہے۔ ہم صرف نماز کے
اوقات میں رکتے اور ضروريات پورا کرتے اور ہر بار ہمارا پڑاؤ سڑک سے کافي دور
ہوتا۔
فقیر گاڑي میں ہي رہتا اور اب اس نے بولنا چھوڑ ديا اور محض اشارے سے
رکنے يا چلنے کا اشاره کرتا۔ جہاں تک مجھے علم ہے، فقیر نہ تو سويا اور نہ
ہي اس نے کچھ کھايا پیا۔ شايد سورج کي روشني اس کے زنده رہنے کو کافي
تھي اور ان ديکھا پاني اس کي پیاس بجھاتا تھا۔
عرب اس صحرا کو “الله کا باغ” کہتے ہیں کہ اس نے يہاں سے تمام غیر
ضروري جانداروں کو ہٹا ديا ہے اور وہاں وقت گذار سکتا ہے۔ شايد يہي بیروني
تنہائي قلندر کي اندروني تنہائي سے مل گئي تھي۔ شايد ہمارے تیز سفر سے
اس کے اندر کوئي بجھا ہوا جذبہ بیدار ہو گیا ہو۔ مجھے معلوم نہیں کیوں لیکن
اس کي آنکھیں اس شدت سے جل رہي تھیں کہ ان کو ديکھنے سے مجھے ڈر
لگ رہا تھا۔
آقا نے اسے ہمارا رہنما مقرر کیا تھا اور ہم درويشوں نے اس پر کوئي سوال
نہیں کیا لیکن پروفیسر فري مین مسلسل بے چین ہوتا جا رہا تھا۔
اس کا کیا مسئلہ ہے؟ چپ کیوں ہے؟” اگلي بار جب ہم رکے تو اس نے”
پوچھا۔ شايد اسے اپني بیٹي کي حفاظت کا خیال ستا رہا ہوگا حالانکہ وه
پريشان نہیں دکھائي دے رہي تھي۔
اسے خاموشي کي اہمیت کا علم ہے۔” ربیکا نے کہا۔”
علي اور رامي نے ربیکا کي بات پر سر ہلايا۔ ہم کہتے ہیں کہ صرف کان
سے سیکھا جا سکتا ہے۔ زبان تو وہي کہتي ہے جو وه پہلے سے جانتي ہے۔
اب ہم قريب پہنچ چکے ہیں۔” کیپٹن سیماچ نے کہا۔ کھڑے ہو کر اس نے”اپني آنکھوں پر ہاتھوں کا سائبان بنا کر جنوب کي طرف افق کو ديکھتے ہوئے
کہا۔ اس کي تمام تر حسیں آنے والے طوفان سے قبل کي تبديلیوں کو مثلاً
ہلکي سي آواز يا تبديلي يا اٹھتي ہوئي ہوا وغیره کو جاننے پر مرکوز تھیں۔
خانہ بدوش اسي طرح طوفان کي آمد کا اندازه لگاتے ہیں۔ تاہم اس بار
طوفان ان کے لیے نہیں آنا تھا۔ ايک لحظے کے بعد اس نے نظريں ہٹائیں اور لینڈ
روور میں آ گیا۔ ہم اس کے پیچھے آئے جبکہ ربیکا اپنے باپ کا بازو تھامے اسے
لائي۔ کیپٹن کے الفاظ کي اپني ہي زبان تھي جس میں اس کي سرگوشي
بھي شامل تھي جو طوفان میں ہمارا منتظر تھا۔
علي اور رامي نے ہماري پريشاني سمجھ لي اور انہوں نے ہماري توجہ
صحرا کے مناظر کي طرف متوجہ کرا لي۔ میں مانتا ہوں کہ صاف اور وسیع میدان
میري کمزوري ہیں۔ انہوں نے بتايا کہ صحارا بالکل خالي يا بالکل صاف نہیں ۔ پہاڑ
اس کي ريڑھ کي ہڈي ہیں تو پتھريلے میدان ريگ کہلاتے ہیں جو ان پہاڑوں کے
ارد گرد ہوتے ہیں اور کبھي يہاں بڑے دريا بہتے تھے۔ يہاں کئي طرح کے جاندار
پائے جاتے ہیں جو دنیا کے اس کونے میں رہنے کے قابل بن گئے ہیں۔ ان پہاڑوں
اور میدانوں کے پاس موجود ارگ يا صحرا اصل صحرا ہیں۔ صحارا کا چوتھائي حصہ
انہي پر مشتمل ہے اور ريتلي پہاڑيوں کے درمیان جمع ہونے والي اتفاقیہ بارش
سے جڑي بوٹیاں اور جھاڑياں ُاگ آتي ہیں جو مختلف نسل کے ہرنوں اور خانہ
بدوشوں کے اونٹوں کا چاره بنتي ہیں۔ علي نے ايک لمبے کانوں والي لومڑي
دکھائي جو اپني نسل کي دنیا بھر میں سب سے چھوٹي جسامت والي ہے
اور اس کا شکار ايسے چوہے بنتے ہیں جو خاردار جھاڑيوں کے نیچے بنے
گھونسلوں سے بھٹک جاتے ہیں۔
میرے درويش بھائي صحرا، اس کے انداز اور اس کي مخلوقات کو جانتے
تھے اور ہر چیز کے بارے بتاتے جا رہے تھے۔ ان کے علم سے مجھے خوشگوار
حیرت ہو رہي تھي اور میں کام کي باتیں لکھتا جا رہا تھا اور ربیکا میرے کندھے
کے اوپر سے انہیں پڑھ رہي تھي۔ ال گولیا سے روانہ ہوتے وقت کیپٹن سیماچ
ڈرائیو کر رہا تھا جہاں ہم ايندھن، پاني اور کھانے پینے کا سامان خريدنے رکے
تھے۔ سورج ڈوبنے ہي والا تھا اور دن کي شديد گرمي آہستہ آہستہ کم ہو رہي
تھي اور ہم اب عین صالح کے شمال میں سطح مرتفع کو پہنچنے والے تھے۔
فقیر نے ہمیں سڑک چھوڑنے کا اشاره کیا کہ اب سڑک سطح مرتفع کو جا
رہي تھي اور اس نے کیپٹن سیماچ کو ہاتھ کے اشاروں سے راستہ بتاتا رہا حت ٰي
کہ ہم پتھروں سے بني تنگ سي وادي میں پہنچ گئے جو زمانہ قديم میں پاني
کے بہاؤ سے بني تھي۔ چھجے نما چٹان کے نیچے والي ڈھلوان پر پہنچ کر اس
نے رکنے کا اشاره کیا اور سورج اسي وقت مغربي چٹان کے پیچھے چھپ رہا
تھا۔
اس جگہ بڑے پتھروں کے پیچھے پہاڑي دراڑ میں ايک پوشیده تالاب موجود
تھا۔ علي نے بتايا کہ پورے صحرا میں اس طرح کے سینکڑوں تالاب موجود ہیں
اور خشکي کے موسم میں مختلف جانداروں اور خانہ بدوشوں کي زندگي کا
دارومدار انہي تالابوں پر ہوتا ہے۔
میں تالاب کے کناروں پر بکھرے نشانات پر تحقیق کا سوچ ہي رہا تھا تھاکہ سورج کے ڈوبنے کے ساتھ ہي فقیر لینڈ روور سے نکلا اور اس نے کھردرے
انداز سے ہمیں وہیں تالاب کے پاس موجود ايک غار میں کیمپ لگانے کا حکم
ديا۔ پہلے پہل تو اسے بولتا سن کر ہمیں شديد حیرت ہوئي۔ پھر جونہي ہم نے
کام شروع کیا، وه پھر پتھروں کے پیچھے غائب ہو گیا۔
اب يہ کہاں چلا گیا؟” پروفیسر فري مین نے پوچھا، اگرچہ میرا خیال ہے”
کہ اس نے جواب کا انتظار نہیں کیا ہوگا۔ میں نے ربیکا کے ساتھ مل کر گاڑي
سے سامان اتارا اور علي اور رامي نے پتھر جمع کر کے غار کے سامنے ہوا
سے آڑ بنائي۔ رات بہت طويل اور سرد ہوتي۔
جب شفق بھي اندھیرے میں غائب ہو گئي تو فقیر لکڑيوں کے گٹھے کے
ساتھ واپس لوٹا۔ رامي نے انہیں ايک ڈھیر کي شکل میں رکھا اور آگ جلا دي۔
ہمارے سائے آگ کي روشني میں ناچتے دکھائي دينے لگے۔
ربیکا نے اپنے باپ کے ساتھ مل کر ہمارے لیے انڈے، روٹي اور پنیر کا کھانا
تیار کیا اور آقا کے ديے ہوئے چھوٹے سفري دسترخوان پر بیٹھ کر ہم نے کھانا
کھايا۔ آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے فقیر نے کھانا اپنے دائیں سے بائیں بڑھايا
لیکن خود نہیں کھايا۔ کھانے شروع کرتے وقت ہم سب نے محفوظ سفر پر الله کا
شکر تو ادا کیا لیکن فقیر کے بھوکے رہنے پر ہم نے کچھ نہیں کہا۔ پروفیسر فري
مین نے بھي عبراني میں کھانے کي دعا پڑھي جس پر ربیکا کو بہت خوشگوار
حیرت ہوئي۔
اپنے باپ کا گال چومتے ہوئے اس نے کہا۔ “برسوں سے آپ نے دعا نہیں
پڑھي تھي۔” پروفیسر کچھ بڑبڑايا اور ہم سب ہنس پڑے لیکن فقیر چپ رہا۔
بے شک، اگر ہم خالق کے شکرگذار نہیں ہوں گے تو وه ہمیں کیوں دے؟””
وه بولي۔
پروفیسر نے کوئي جواب نہیں ديا۔
جب کھانا ختم ہوا تو ہم نے دوباره الله کا شکر ادا کیا۔ علي نے آگ کو پھر
تیز کیا۔ درجہ حرارت تیزي سے گرا اور ہمیں سردي لگنے لگي۔ فقیر نے لینڈ روور
کے عقب میں فرشي خانہ کھولا اور ايک بھورے کاغذ میں لپٹا ايک بڑا سا بنڈل
نکالا۔ جب اس نے کھولا تو اس میں ہمارے لیے خانہ بدوشوں والے نیلے کوٹ
تھے۔ انہیں گندورا کہا جاتا ہے اور اس میں ٹوپي بھي ہوتي ہے جو صحرا کي
سرد رات اور ہوا سے اڑنے والي ريت سے بچاتي ہے۔
يہ کہاں سے آئے؟” میں نے پوچھا۔”
قطب کے دوست بے شمار ہیں۔” اس نے آگ کے پاس بیٹھ کر آنکھیں”
موندتے ہوئے کہا۔
ہم سب نے کوٹ پہن لیے۔ ہر ايک کو اس کا کوٹ ايسے پورا آيا جیسے وه
عین اسي کے لیے بنايا گیا ہو۔ علي اور رامي نے آقا کي پیش بندي کي تعريف
کي اور ربیکا بھي مطمئن دکھائي دي جبکہ پروفیسر اور میں نے ايک دوسرے
کو ديکھا اور اپنے يقین کي کمي پر شرمنده ہوئے۔ لینڈ روور، کہ جس کے اندر
چابیاں موجود ہوں، کوئي ُغلطي يا چوري کي نہیں تھي، حالانکہ ہم نے ايسا
ہي سمجھا۔ يہ محض دوستوں کے لیے محبت کا اظہار تھا۔ اب تو مجھے يہ
گمان بھي ہونے لگا کہ کسٹمز کا خالي دفتر بھي شايد پہلے سے طے تھا۔ہم نے اپنے گرد کوٹ کس کر لپیٹ لیے اور پروفیسر فري مین نے آگ کو
کريدا۔
کتنا وقت؟” اس نے پوچھا۔ ہم سب نے فقیر کي جانب ديکھا کیونکہ ہمیں”
پس منظر معلوم تھا۔
ِ
سوال کا
ايک دن ايک رات اور۔” اس نے کہا۔ “صحرا سب کو وہي کچھ دکھائے گا جو”
”ان کے لیے پوشیده ہے۔
کیپٹن سیماچ کي بھنوئیں سوچ سے تن گئیں۔ “اگر پھر طوفان آيا ہوا ہو تو
غار تو چھپ گئي ہوگي۔” اس نے کہا۔
فقیر نے آنکھیں کھولیں۔ آگ کي روشني میں اس کي آنکھیں ياقوت کي
طرح دہک رہي تھیں۔ “جب الله کا چاہتا ہے، پوشیده کو عیاں کر ديتا ہے اور جب
”وه چاہتا ہے عیاں کو چھپا ديتا ہے۔ دوسرا طوفان آ رہا ہے۔
کیپٹن کي بھنوئیں مزيد تن گئیں۔ “ہم اس علاقے میں دوسري سمت سے
جا رہے ہیں۔ مجھے يقین نہیں کہ میں راستہ پہچان پاؤں گا۔” اس نے کہا۔
کیا؟” پروفیسر اٹھنے لگا کہ فقیر نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بیٹھنے”
کا کہا۔
فکر نہ کرو۔ پہلي بار بھي تم نے غار نہیں تلاش کي تھي بلکہ اس نے”
”تمہیں تلاش کیا تھا۔

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 11

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: