Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 17

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 17

–**–**–

باب 17
خالص دل
آئینے کا کام ديتا ہے؛
اسرار اسي میں ديکھے
جا سکتے ہیں۔
ديوا ِن حکیم سنائي
پو پھٹتے ہي ہم اٹھے اور سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ ايک بار پھر کیپٹن
سیماچ گاڑي چلا رہا تھا اور ہمارا رہنما اسي طرح خاموش اور ساکت بیٹھا رہا اور
ہم عین الصالح سے گذر کر اٹکو پہاڑوں میں داخل ہوئے جو اہاگر کے عین قلب
میں ہے۔
میں نے اس طرح کے مناظر پہلے کبھي نہیں ديکھے تھے، گرينائٹ کے
گنبد اور بسالٹ کي چٹانیں ستون نما شکلوں میں کھڑي تھیں اور ان پر کسي
قسم کي نباتات نہیں تھي۔ ايسے لگتا تھا کہ جیسے يہ چٹانیں زمین کے دانت
ہوں۔ پروفیسر فري مین نے بتايا کہ توارگ ان پہاڑوں کو “خوف کا ملک” کہتے ہیں
اور مجھے اس کي بات پر پورا يقین تھا۔ جب ہم يہاں سے نکل کر تمنراست کو
روانہ ہوئے تو میں نے سکون کا سانس لیا۔
يہ کافي بڑا شہر تھا اور فرانسیسي نوآبادياتي دور میں يہ اس علاقے کا
حکومتي مرکز بھي تھا۔ ہم آہستگي سے اس کي تنگ سڑکوں سے گذرتے
ہوئے بازار تک پہنچے جہاں ہم نے گاڑي میں ايندھن بھرا اور خوراک اور پاني
بھي خريدا۔ کسي کے کہے بغیر بھي ہم گاڑي سے باہر نہ نکلے۔ بازار میں
کافي رش تھا اور بہت سارے غیر ملکي بھي پھر رہے تھے۔ میں نے سیاحوں کو
فرانسیسي اور جرمن بھي بولتے سنا۔ بعض لوگوں نے اگلي نشست پر بیٹھے
فقیر کو دلچسپي سے ديکھا لیکن کسي نے آگے بڑھ کر بات کرنے کي ہمت
نہیں کي۔ شہر کے باسي بھي قريب نہ آئے اور میں سوچنے لگا کہ کیا اسے
يہاں بھي کوئي پہچاننے والا ہوگا؟
جب ہم روانہ ہونے لگے تو فقیر کا رويہ اور بھي عجیب ہو گیا۔ اس وقت میں
گاڑي چلا رہا تھا کہ فقیر نے جنوب کو جانے والي سڑک کي طرف جانے کا
اشاره کیا جو شہر سے باہر کو جا رہي تھي۔ چند لمحوں بعد اس نے مجھے
رکنے کا اشاره کیا۔ ہم شہر کے کنارے پر تھے کہ جہاں کوئي بھي خاص چیز
ہمارے آس پاس نہیں تھي۔ آسمان پر سورج افق کے قريب ہو رہا تھا اور گلیوں
میں چند ہي لوگ کام سے فارغ ہو کر گھروں کو جا رہے تھے۔فقیر نے اچانک جست لگائي اور پاس سے گذرتے ہوئے ايک لڑکھڑاتے ہوئے
بندے کي جانب لپکا۔ شايد کوئي شرابي گھر جا رہا تھا۔ فقیر نے زمین سے پتھر
اٹھا کر جب اس بندے کي جانب پھینکا تو مجھے خوف محسوس ہوا۔ پتھر
سیدھا اس کے سینے پر لگا۔ اس چوٹ سے وه بے چاره حواس باختہ ہو کر
دوسري جانب مڑ گیا۔
اپنے ساتھیوں کي طرح میں نے بھي ايک دوسرے کو حیران ہو کر ديکھا کہ
فقیر آرام سے واپس اپني نشست پر آن کر بیٹھ گیا۔ اس نے جنوب کو اشاره کیا
اور میں نے بلا توقف گاڑي اس سمت کو دوڑا دي۔ اس کے بعد کسي نے بھي
سوال نہیں کیا حالانکہ ہم سبھي کے ذہنوں میں ايک ہي سوال کلبلا رہا تھا۔
تمنراست سے چند سو کلومیٹر کے فاصلے پر جب ہم شاہراه سے ہٹ کر
جنوب مشرق کو اہاگر کي جانب روانہ ہوئے تو زمین نسبتاً مسطح ہونے لگي۔
جب ہم نائجر کي سرحد کے پاس پہنچے تو يہاں سے صحرائے تینیري پاس ہي
تھا۔ سورج غروب ہونے والا تھا اور اونچے اونچے بادلوں سے ڈوبتے سورج کي
روشني منعکس ہو رہي تھي۔ طوفان سے قبل شايد يہ ہماري آخري رات تھي۔
ہم نے ايک بے نام وادي میں پڑاؤ ڈالا اور ہمارا رہنما اس بار کہیں گم نہیں
ہوا۔ وه ايک گرے ہوئے درخت کے تنے پر بیٹھ گیا اور ہمیں گاڑي سے سامان
اتارتے ہوئے ديکھتا رہا۔ جب میں نے آگ کي خاطر لکڑياں جمع کیں تو مجھے اس
کے گھورنے سے الجھن ہوني لگي۔
پروفیسر فري مین نسبتاً ُپر سکون تھا۔ پھر عارضي طور پر اس کي توجہ
ايک زہريلے پودے کي جانب مبذول ہو گئي جو اپنے اصل مسکن سے ہزاروں
میں دور يہاں صحرا میں اگا ہوا تھا۔
ہوا کي لہروں پر تیرتا ہوا بیج شايد يہاں تک آن پہنچا ہوگا۔” اس نے کہا۔”
يہاں اس نے گیلي ريت میں جڑيں پکڑ لیں اور اب ايک سبز جھاڑي کي شکل
اختیار کر چکا تھا اور اس پر چھوٹے سے گلابي اور سفید پھول ُاگے ہوئے تھے۔
مجھے يہ تو علم نہیں لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اس پودے کي مدد سے آپ”
شہري اور صحرائي اونٹوں میں فرق کر سکتے ہیں۔” علي نے کہا۔ “صحرائي
اونٹوں کو علم ہے کہ اس کے پتے زہريلے ہیں اور وه نہیں کھائیں گے۔ شہري
”اونٹوں نے کبھي اسے نہیں ديکھا اور اسے کھا کر بیمار ہو جائیں گے۔
پروفیسر نے اس کي پیٹھ تھپکي اور کہا۔ “يہ شہري اونٹ اپنے ساتھ
”صحرائي اونٹ کے ہونے پر خوش ہے۔
فقیر ان الفاظ پر سر ہلا کر بولا۔ “بے شک۔ اب ہمیں صحرائي اونٹ کي
”ضرورت ہے۔
سورج ڈوب چکا تھا اور اس کي قو ِ ت گويائي لوٹ آئي تھي۔ ہم اس کي
طرف مڑے اور قبل اس کے کچھ پوچھ سکیں، ہمیں دور سے اونٹوں کے بلبلانے
کي آواز آئي۔ شايد کوئي کاروان وادي میں پڑاؤ ڈالنے والا ہو۔ ہم نے ايک دوسرے
کو تو ديکھا لیکن بولے کچھ نہیں۔ رامي نے آگ جلائي اور جلد ہي ہمیں قدموں
کي چاپ آتي سنائي دي۔
نصف درجن بندے جب قريب پہنچے تو ہم کھڑے ہو کر ان کے استقبال کے
لیے تیار تھے۔ تاہم فقیر اپني جگہ بیٹھا رہا۔ اس سے مجھے لگا کہ جیسے فقیرکو ان کي آمد کا علم تھا۔
سلامتي ہو، افارنو۔” اس نے نئے آنے والوں کے رہنما سے کہا ۔ “اور”
”تمہارے ساتھیوں پر بھي۔
آپ پر بھي سلامتي ہو اے مرا ُبوت، اور آپ کے ساتھیوں پر بھي۔” نوارد نے”
کہا۔
افارنو نے بھي نیلا گندورا پہنا ہوا تھا مگر اس کے ساتھي اس کے بغیر
تھے۔ اس کے سر پر توارگوں والا کالا کپڑا کچھ اس طرح منڈھا تھا کہ محض
آنکھیں دکھائي دے رہي تھیں۔ تاہم جب وه فقیر سے بولا تو اس نے منہ سے
کپڑا ہٹا لیا۔
اس نے فقیر کو مرا ُبوت کہا جو توارگ لوگ نیک انسان کے لیے استعمال
کرتے ہیں۔ فقیر کا ايک اور نام ہمیں پتہ چلا۔
میر کارواں ہونے کي حیثیت
ِ
افارنو نے وقت يا الفاظ کے ضیاع سے گريز کیا۔
سے اس نے اپنے ساتھیوں کو واپس کارواں کو بھیج ديا کہ وه اب مرا ُبوت کے
ساتھ تھا۔ اگرچہ ہمیں ديکھ کر اس نے حیرت کا اظہار نہیں کیا لیکن اس کے
انداز سے شک عیاں تھا۔
میرے والد نے بھي سلام بھیجا ہے۔ انہوں نے مجھے آپ کي خدمت پر”
”مامور کیا ہے، اگرچہ مجھے علم نہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔
مجھے تمہاري ضرورت نہیں۔” فقیر نے جواب ديا۔ “مجھے صرف ايک اونٹ”
چاہیے جو صحرا میں ہمارا سامان لے جا سکے کہ وہاں ہماري گاڑي نہیں جا
”سکتي۔
اونٹ؟ لیکن ہم۔ ۔ ۔ والد نے اس بارے تو کچھ نہیں کہا!” اس نے غصے”
”سے کہا۔ “ہم اپنے راستے سے کئي کلومیٹر ہٹ کر ادھر۔ ۔ ۔ ۔
اگر تم کام کرنے آئے ہو تو کرو اور جاؤ۔ بھوک کو روٹي کے وعدے سے”
”نہیں مٹايا جا سکتا اور الله کو باتوں سے زياده عمل پسند ہے۔
اس نے خاموشي سے بات سمجھ لي۔ نہ تو وه اپنے باپ سے کچھ پوچھ
سکتا تھا اور نہ ہي فقیر سے، چاہے اس کے ذہن میں کچھ بھي ہو۔ اس نے لینڈ
روور کو ايسے ديکھا جیسے کسي دوسري دنیا سے آئي ہوئي چیز ہو کہ جس
کا استعمال اسے نہ آتا ہو۔
جیسے آپ کہیں۔” اس نے سردمہري سے کہا۔ “اگر آپ ايسا ہي چاہتے”
”ہیں تو آپ اونٹ پر سوار ہوں اور ديگر افراد سامان اٹھا لیں گے۔
”اس سمندر کو عبور کرنے کے لیے مجھے کسي جہاز کي ضرورت نہیں۔”
میر نے خاموشي سے کچھ سوچا اور پھر ہمارا قريب سے جائزه
ِ
کارواں
لینے لگا۔ اس نے علي اور رامي پر چھچھلتي ہوئي نگاه ڈالي اور مجھے کچھ
لکھتے ہوئے ديکھ کر اس نے ہنکارا بھرا۔ پھر اس نے پروفیسر فري مین اور ربیکا
کو ديکھا لیکن اس کي خاص توجہ کیپٹن سیماچ پر مرکوز رہي اور کیپٹن نے
بھي اسے بے خوفي سے گھورا۔
ہڈيوں کے شکاري۔” اس نے کہا اور میرا سانس جیسے تھم گیا ہو۔”
کیا مطلب؟” پروفیسر نے محتاط انداز میں پوچھا۔”
ہاں ہاں، تم گندورے کبھي اپنے اصل مقصد کو نہیں چھپاتے اور نہ ہي”پہلي بار میں تم جیسوں سے مل رہا ہوں۔ ريت چھانتے اور زمانہ قديم کے
جانوروں کي ہڈياں تلاش کرتے ہو، جیسے گدھ لاش کو نوچتے ہیں۔ پتہ نہیں
“میرا باپ کیوں تمہاري مدد کرنا چاہتا ہے؟
پروفیسر فري مین نے اسے محض گھورا لیکن میں نے اطمینان کا سانس
لیا۔
ماہرين
ِ
اس کے خیال میں ہم متحجرات يعني فاسلز تلاش کر رہے تھے۔
متحجرات۔
پھر؟ کچھ کہنے کو بھي نہیں؟” اس نے پھر پوچھا۔”
جب ہم میں سے کوئي نہ بولا تو اس نے سر ہلايا اور ايسے گفتگو کرنے
لگا جیسے ہم بے وقوف بچے ہوں اور آسان سي بات بھي نہیں سمجھ پا رہے۔
طاسیلي کا علاقہ تمہارے لیے بہتر رہے گا۔ وہاں ہڈياں بھي بہت ملتي ہیں
اور ٹوٹے تیر بھي اور قديم دور کے غاروں میں بني تصاوير بھي۔ گاڑي پر بیٹھو اور
وہاں چلے جاؤ، اسي میں تمہاري بھلائي ہے۔ صحرا میں سفر کرنے کے لیے
”تمہارے پاس سامان مناسب نہیں۔
سچ کہا۔ ہم نے زياده سامان نہیں لیا۔” فقیر نے اس کے الفاظ میں چھپي”
دھمکي کو نظرانداز کر کے جواب ديا۔ “اور ہم تمہارے اونٹ کے لیے بھي بوجھ
نہیں بنیں گے۔ ايک اونٹ اپنے پڑاؤ کے باہر چھوڑ دينا۔ ہم علي الصبح اسے لے
جائیں گے اور تم اپنا سفر جاري رکھنا۔ اتنا کافي نہیں کہ تمہارا باپ جانتا ہے کہ
“ہماري مدد کیوں کي جائے؟
”میرے پاس کوئي فالتو زا ِد راه بھي نہیں ہے۔”
”ہمیں درکار بھي نہیں۔ جاؤ اور اپنے کارواں کي رہنمائي کرو۔”
اس طرح رخصت کي اجازت ملنے پر اس نے ہاتھ ملے۔ آداب کے مطابق ہم
اسے رکنے کا کہتے تاکہ ہمارے ساتھ کھانا کھا سکے۔ مايوسي سے ہم سب
کو ديکھ کر مڑا اور پھر چلتے ہوئے تاريکي میں غائب ہو گیا۔
میر کے غصے کا کوئي اثر نہیں ہوا۔ وه بیٹھا شعلوں
ِ
ہمارے رہنما پر کارواں
کو گھورتا رہا اور ہم نے خاموشي سے کھانا کھايا۔
افارنو نے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے صبح تک انتظار نہیں کیا اور جلد
ہي اس کا آدمي ہمارے لیے ايک اونٹ لے آيا اور اس کو باندھ کر جھکا اور اجازت
لے کر چلا گیا۔
رامي نے اونٹ ديکھا تو مايوسي سے سر ہلايا۔ “بہت بوڑھا اور کمزور اونٹ
”ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ ان کے اپنے سفر کے اختتام تک بھي زنده ره پاتا۔
الله نے اسے ہمارے لیے کچھ اضافي موقع دے ديا۔” فقیر نے کہا۔”
رامي اسے تالاب کے کنارے لے گیا تاکہ اونٹ کھا پي سکے، اونٹ نے اس
زہريلي جھاڑي کو چھوا تک نہیں۔
اگر آپ اجازت ديں تو اے صديق، ہماري رہنمائي کے لیے آپ بتائیں گے کہ”
“آپ نے تمنراست میں جو کیا، اس کي کیا وجہ تھي؟
ہلکي سي مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئي۔ “کیا پوچھنا چاہتے
“ہو؟
آپ نے اس بیچارے کو پتھر کیوں مارا تھا؟” ربیکا نے پوچھا۔”بیچاره تو وه واقعي تھا۔ لٹیرا اور ڈاکو، جس کے ہاتھ بے گناہوں کے خون”
سے رنگے ہیں۔ اس کا نام الله کے نافرمانوں کي فہرست میں بہت اونچا لکھا
ہے۔ پھر بھي اس نے آج ايک اچھا کام کیا۔ اس نے ايک اندھي عورت کو مسجد
پہنچايا۔ خود بھي اندر جا سکتا تھا لیکن اسے ہوٹل جانا تھا اور وہاں سے
واپسي پر گھر کا راستہ بھول گیا۔ میرے پتھر نے اسے صحیح راستے پر ڈال
”ديا۔
ہم سب نے ايک دوسرے کو ديکھا۔ بے شک اس نے اتني دور تک ديکھ لیا
تھا جہاں عام انسان کي نظر نہ پہنچ پاتي۔ تاہم پروفیسر فري مین مطمئن نہیں
ہوا۔
آپ يہ کہہ رہے ہیں کہ آپ کو ماضي اور مستقبل، دونوں دکھائي ديتے”
“ہیں؟” اس نے پوچھا۔ “يہ کوئي کیفیت ہے يا منظر؟ کس طرح دکھائي ديتا ہے؟
تم پیشین گوئي اور مستقبل بیني کو ملا رہے ہو اور تمہیں سمجھ کسي”
کي بھي نہیں آتي۔” اس نے جواب ديا۔
برا ِه کرم، مجھے دونوں کو سمجھنا ہے۔” پروفیسر نے کہا۔”
تم اسے الفاظ سے نہیں سمجھ سکتے۔ ايک روح دوسري روح سے”
گفتگو کرتي ہے۔ صرف قطب ہي تمہیں اس منزل تک لے جا سکتے ہیں، اگر تم
”چاہو تو۔
پھر اس نے آگ کو منہ پھیرا اور پھر کسي سوال کا جواب نہیں ديا۔ گھنٹہ
گذر گیا اور ہم میں سے ہر ايک اپني سوچوں میں گم رہا۔ میں اونگھنے ہي لگا
تھا کہ فقیر نے نے اچانک اٹھ کر ستاروں کو غور سے ديکھنا شروع کر ديا۔ اس
کي آنکھیں جیسے جل رہي ہوں اور پھر اس نے دائیاں ہاتھ اٹھا کر افق پر
جیسے کسي خاص مقام کي جانب اشاره کیا۔
اٹھو۔ سونے کا وقت گذر چکا۔” اس نے تیزي سے کہا۔ “اب واپسي کا وقت”
ختم ہو چکا ہے۔ آسمان کے دروازے کھل چلے۔” پھر اس نے ايک جانب کا رخ کیا
اور آگ کي روشني سے دور گم ہو گیا۔
ہم سب عجلت سے کھڑے ہوئے لیکن فقیر کے قدموں کي چاپ بھي گم
ہو چکي تھي۔
کیا کہنا چاه رہا تھا؟” ربیکا نے تاريکي میں فقیر کي روانگي کي سمت”
“ديکھتے ہوئے پوچھا۔ “کون سے دروازے کھل گئے؟
کیپٹن سیماچ نے بھي آسمان کي طرف ديکھا لیکن جواب نہیں ديا۔
پروفیسر فري مین نے بھي کیپٹن سیماچ کي طرح آسمان کو ديکھتے ہوئے ايک
چکر پورا کیا۔
وه شايد ابواب کے ستاروں کا کہہ رہا تھا۔” اس نے دور واقع ستاروں کي”
جانب انگلي سے اشاره کرتے ہوئے کہا۔ “ديکھا؟ قل ِب عقرب جنوب مشرق سے
نکل رہا ہے اور الواقع شمال مشرق میں ہے۔ الملیک يا العبوق شمال مغرب میں
غروب ہو رہا ہے اور سیريس جنوب مغرب میں غروب ہو رہا ہے۔ رات کے اس وقت
يہ شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کي سمتوں کي نشاندہي کرتے ہیں۔ کبھي
”انہیں ‘آسمان کے ستون‘ کہا جاتا تھا تو کبھي ‘آسمان کے دروازے‘۔
پروفیسر نے بات سمجھ کر تالي بجائي جس کي آواز کي گمک نے ہمیںڈرا ديا لیکن پھر ہم ہنس پڑے۔
ڈرنے کي کوئي بات نہیں۔” پروفیسر نے ربیکا کي کمر کے گرد بازو حمائل”
کیا۔
بالکل ٹھیک۔” علي نے کہا۔ “صحرا کے مسافروں کو ستاروں کا علم ہوتا”
ہے۔ ان کے مقامات سے رات کا سفر کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ وه ديکھیں۔” اس نے
اوپر کو اشاره کیا۔ “ماده اونٹ کي مدد سے ہم قطبي تارے کو تلاش کرتے ہیں
”جو ہمارا رہنما ہوتا ہے۔
”پروفیسر فري مین نے سر ہلايا۔ “دب اکبر۔
ٹھہريں۔ ۔ ۔” رامي نے کہا۔ وه کچھ پريشان دکھائي ديتا تھا۔ اس نے افق”
اور آسمان کو ديکھا اور زياده پريشان دکھائي دينے لگا۔
کیا ہوا؟ کیا ہوا؟” ربیکا نے اس کي نگاه کا پیچھا کرتے ہوئے پوچھا۔”
رامي کچھ نہ بولا۔ اس نے علي کو ديکھا اور سر ہلايا۔ دونوں آگ کے پاس
بیٹھ کر اپنا ذکر کرنے لگ گئے۔
کیا ہوا؟ تمہیں کیا دکھائي ديا؟” پروفیسر نے دونوں کے پاس کھڑے ہو کر”
اصرار کیا۔
تاہم جواب کیپٹن سیماچ کي طرف سے آيا۔ اس نے سر اٹھايا اور ہوا کو
سونگھا۔ “ستارے حرکت نہیں کرتے۔ اب تک انہیں غروب ہو جانا چاہیے۔ اور سنو۔
کوئي آواز نہیں آ رہي! نہ کوئي جانور اور نہ ہي کوئي پرنده اور نہ ہي کوئي
حشرات!” وه خوش دکھائي دينے لگا۔ “ہم وقت سے نکل آئے۔ ہوا بڑھ گئي ہے۔
”تمہیں نہیں محسوس ہو رہا؟ اس وقت ہم طوفان کے عین مرکز میں ہیں۔

Read More:  Uqaab by Seema Shahid – Episode 2

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: