Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 18

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور- قسط نمبر 18

–**–**–

باب 18
اے جنات
اور انسان کے غول! اگر چاہو
تو آسمان اور زمین
!کے کناروں سے آگے نکل جاؤ
لیکن اجازت کے بعد
!تمہیں جانے کي اجازت ہوگي
قرآن، 55:33
ہم کئي گھنٹوں تک بیٹھے اور خاموشي سے دائرے کے پورا ہونے کا انتظار
کرتے رہے۔ ہم سو بھي نہیں سکتے تھے اور مجھے شک تھا آيا کبھي صبح
بھي ہوگي۔ جتني دير ہم بیٹھے رہے، ستارے اپني اپني جگہوں پر قائم رہے۔ ہم
اپني قسمت کے طوفان کے دوران اپنے اپنے کوٹ پہنے بیٹھے رہے۔
سچ پوچھیں تو مجھے پورا يقین نہیں تھا کہ کبھي طوفان آئے گا۔ بے شک
میں ُغلطي پر تھا۔ آہستہ آہستہ دور سے آنے والا شور قريب آتا گیا جو مسلسل
سیٹي کي مانند سنائي دے رہا تھا جس کي شدت مسلسل بڑھتي جا رہي
تھي، جیسے تمام دنیا کي ہوائیں اس میں جمع ہوتي جا رہي ہوں۔
يہ دائره کتنا بڑا تھا، میں نے خوف اور دہشت کے مارے سوچا۔ اگرچہ
دکھائي نہیں دے رہا تھا لیکن طوفاني ہوا مسلسل قريب ہوتي جا رہي تھي
جیسے آسمان سے نازل ہو رہي ہو۔ طوفان کي دہشت ہمارے دلوں میں بیٹھ
رہي تھي۔
میں مزيد برداشت نہ کر سکا۔ گھنٹوں کے بل جھک کر میں نے سر اٹھا کر
ساکن ستاروں کو ديکھا اور الله سے مدد مانگي۔ بار بار میں نے يہي دعا کي۔
ارکتورس عین سر پر تھا۔ کاش کہ میري دعا قبول ہو جائے۔
ربیکا میرے پاس بیٹھ گئي اور مجھے تھام لیا لیکن میں نے تب تک دعا
جاري رکھي جب تک اچانک فقیر ہمارے سامنے نہ آ گیا۔
وه دھاڑا۔ “احمق، قبل از وقت کیوں شور مچا رہے ہو؟ اٹھو اور ہمیں اب وہي
”کرنا ہے جو ہمارے لیے لکھ ديا گیا ہے۔ روانگي کا وقت آ گیا۔
اس کي آواز سے میري زبان رک گئي لیکن کیپٹن سیماچ يہ سنتے ہي اٹھ
کھڑا ہوا۔ “ہاں، وقت آ گیا ہے۔” اس نے کہا اور سیدھا سامان اٹھا کر اونٹ کي
جانب چل ديا۔ اس کي عجلت سے ہمیں بھي تحريک ملي۔ علي اور رامي اس
کي مدد کو لپکے جبکہ ربیکا اور میں آگ بجھانے لگے۔ پروفیسر نے کیپٹن کوسامان اونٹ کي کوہان پر رکھنے میں مدد کرنے کي کوشش کي۔
تمہیں کیا ہو گیا ہے؟” پروفیسر نے کیپٹن سے پوچھا۔ کیپٹن کي رفتار کا”
ساتھ دينا پروفیسر کے لیے ممکن نہیں تھا اور کیپٹن پہلے ہي اونٹ کو کھول کر
وادي کي جانب جا رہا تھا۔
فقیر ہنسا۔ اس کي ہنسي کھردري اور خشک تھي۔ میں نے کبھي ايسي
آواز نہیں سني تھي۔ “تم لوگ چار عناصر، پانچ حواس اور چھ سمتوں میں قید
رہنے والي مخلوق ہو جبکہ ہم چار، پانچ اور چھ کي قیود سے آزاد ہیں۔ ديکھتے
نہیں؟ بادشاه کي روح نے اس کي کي روح کو چمکا ديا ہے۔ وه اسے ايسے
کھینچ رہي ہے جیسے مقناطیس لوہے چون کو کھینچتا ہے۔ ہم نے اس کا پیچھا
”کرنا ہے۔
ہم ايک اور راستے سے وادي سے نکلے اور کیپٹن کا پیچھا شروع کر ديا۔
ہماري رہنمائي کے لیے ہمارے آگے کیپٹن کي ٹارچ کي روشني تھي۔ میں سب
سے پیچھے تھا اور میں نے ايک بار مڑ کر لینڈ روور کو ديکھا جس نے يہاں تک
ہمارا ساتھ بخوبي نبھايا تھا۔ وادي کي مشرقي ڈھلوان بہت اونچي تھي اور ہم
آہستہ آہستہ اس پر بنے قدرتي راستے سے اوپر کو چڑھے جو بل کھاتا اور اوپر
کو جا رہا تھا۔ میں کبھي بھي اس راستے کو دن کي روشني میں نہ تلاش کر
پاتا، کجا رات کے اندھیرے میں ہم اس پر چل رہے تھے۔
کیپٹن کي رہنمائي کرنے والي طاقت اسے اپني جانب کھینچ رہي تھي اور
ہم بمشکل اس دشوار راستے پر اس کا پیچھا کر رہے تھے۔ فقیر اس راستے پر
بہ آساني چل رہا تھا جیسے وه يہاں سے بخوبي واقف ہو يا پھر اندھیرے میں
بھي ديکھ سکتا ہو۔ ايک وقت آيا کہ وه کیپٹن سیماچ سے بھي آگے پہنچ گیا اور
ہماري رہنمائي کرنے لگا۔
ايک گھنٹے بعد ہم وادي سے نکل پائے اور ہمارے سامنے وسیع ريگستان
آ گیا۔ ہم پاني کے چند گھونٹ پینے کو رکے۔
کارواں کا کیا ہوا؟” ربیکا مڑ کر راستے کو ديکھتے ہوئے پوچھا۔ “وه تو”
”طوفان سے نہیں بچ پائیں گے۔
”انہیں کوئي خطره نہیں۔” فقیر نے کہا۔ “طوفان ان کے لیے نہیں آيا۔”
!ان کے لیے نہیں! ہمارے لیے
گھنٹوں تک ہم تاريکي میں کچھ کھائے پیے بنا سفر کرتے رہے اور تیز ہوا
مسلسل قريب ہوتي جا رہي تھي۔ اچانک ايک جگہ ہمارے قدموں تلے سخت
زمین کي جگہ ريت آ گئي۔
آخرکار ہم اصلي صحرا تک پہنچ ہي گئے اور اس ريت کے سمندر کے
کنارے کھڑے اکلوتے ببول کے درخت کے نیچے ہم رکے۔
درخت کي شاخوں تلے کھڑے ہو کر مجھے بہت تھکن محسوس ہوئي اور
دل چاہا ہے کہ اب قیامت تک سويا رہوں لیکن علي اور رامي نے مجھے کھڑا کیا۔
کیپٹن سیماچ اور فقیر دونوں مشرق کي جانب رخ کیے اس طرح کھڑے تھے
جیسے کسي نے پتھر سے انہیں تراشا ہو۔ میري شديد خواہش تھي کہ وه
ريتلي پہاڑيوں کے اوپر مشرق سے طلوع ہوتے سورج کو ديکھنے کے لیے کھڑے
ہوں مگر وائے قسمت، جو چیز آتي دکھائي دي، وه سورج نہیں تھا۔افق سے نمودار ہونے والي گرجدار آواز سے آنے والي گھومتي ہوا کي
ناقابل
ِ
ديوار آسمان کے ايک سرے سے دوسرے تک پھیلي ہوئي دکھائي دي جو
يقین تیزي سے ہماري جانب بڑھ رہي تھي۔ ايسے لگتا تھا کہ جیسے رات کا
اندھیرا ايک ديوار کي شکل میں بڑھتا چلا آ رہا ہو۔ ديوار نے بڑھتے بڑھتے چاند
اور ستاروں کو بھي چھپا لیا۔
مجھے اس کا دوسرا سرا نہیں دکھائي ديا حالانکہ میں نے ہر طرف گھوم
کر ديکھا۔ اس ديوار نے ہمیں اپنے اندر سمو لیا۔ اس کے درمیان ہمیں طوفان کي
آنکھ دکھائي دي اور ہم اس کے پاس آنے کا انتظار ہي کر سکے۔
فقیر اس طوفان کو آتے اور چھاتے ديکھ کر بھي بے حس و حرکت کھڑا رہا۔
کیپٹن سیماچ نے بھي کوئي ر ِد عمل ظاہر نہیں کیا۔ اونٹ کا بلبلانا بھي ان کے
انہماک کو نہ ختم کر سکا۔ بے چاره اونٹ ہر سمت سے بڑھنے والے اس ہولناک
طوفان سے لرز رہا تھا۔ آخرکار رامي نے اپنے گندورا کي ٹوپي پھاڑ کر الگ کي
اور اونٹ کے سر اور آنکھوں کو ڈھانپ کر اس کي اگلي بائیں ٹانگ پر ضربیں
لگائیں حت ٰي کہ اونٹ بیٹھ گیا۔ علي نے اسے درخت سے باندھا اور پروفیسر
فري مین اور ربیکا کے ساتھ میں بھي اونٹ اور درخت کے بیچ کانپتے ہوئے بیٹھ
گئے۔
جب طوفان نازل ہوا تو ہمارے دل سے لاکھوں دعائیں نکلنے لگیں۔ کیپٹن
سیماچ گھٹنوں کے بل جھک کر اس بگولے کو ديکھنے لگا جو ہمارے گرد پانچ
ہزار فٹ جتنا بلند تھا۔ فقیر اسي طرح بے حس و حرکت کھڑا رہا۔ البتہ اس نے
اپنے ہاتھ ايسے اٹھائے جیسے طوفان کو خوش آمديد کہہ رہا ہو۔
بجاؤ!” اس نے چلا کر علي سے کہا اور اس کي آواز طوفان پر بھاري”
تھي۔
يہ لفظ طوفان میں لپٹ کر ہمارے گرد گھومنے لگا اور بار بار پہاڑوں سے
اس کي بازگشت سنائي ديتي رہي۔ علي نے کانپتي انگلیوں سے ‘نے‘ کو
ہونٹوں سے لگايا اور اس کے پہلے سر ڈراؤنے اور خوفناک تھے لیکن پھر آہستہ
آہستہ لے بہتر ہوتي گئي۔ ايسا لگتا تھا کہ جیسے نے کے ُسر طوفان میں
گھلتے جا رہے ہوں۔ اس کي آواز اونچي ہوتے ہوتے طوفان پر غالب آ گئي اور
ايسا لگتا تھا کہ ہوا کا گھومتا عمودي ستون ايک مجسم ‘نے‘ بن گیا ہو۔ آہستہ
آہستہ ہمارا کانپنا بند ہو گیا اور ہمارے دل پرسکون ہوتے گئے۔
الله کي مہرباني سے طوفان کي آنکھ بند نہ ہوئي۔ طوفان مسلسل اس
درخت اور ہمارے گرد گھومتا رہا اور ہمارے سروں پر بجلي چمکتي رہي لیکن
ہمارے پاس نہ آئي۔ جیسے ہماري دعاؤں کے بل پر آسماني پہیہ گھوم رہا ہو اور
کسي انجان مقصد کو پورا کر رہا ہو۔
اس مقصد کا مجھے علم نہیں تھا اور نہ ہي اس آفت کا ہم تک نہ پہنچ
سکنا مجھے سمجھ آيا۔ ريتلے طوفان ہزاروں کلومیٹر پر پھیلے ہوتے ہیں لیکن
اس طوفان کے بارے کیپٹن سیماچ نے ہمیں نہیں بتايا تھا۔ اس نوعیت کا طوفان
ہماري ہڈيوں سے گوشت کو الگ کر ديتا اور پھر ہماري ہڈيوں کو گھسا کر سرمہ
بنا ديتا۔ اس کے باوجود ايک پتہ اور ايک بال بھي اڑتا نہیں دکھائي ديا۔
تاريکي سے گھرے ہوئے پريشاني کے آنسو ہماري آنکھوں سے بہتے رہے۔علي کے آنسوؤں نے اس کي آنکھوں کو اندھا کر ديا تھا اور اس کي ‘نے‘ کي
آواز رک گئي تھي۔ ‘نے‘ اس کے ہاتھوں سے گر گئي۔ ہم سب مسلسل روتے
رہے اور سر جھکائے ہم چپ چاپ اسي انجان نیند کي وادي میں کھوتے گئے
جہاں کیپٹن سیماچ پہلے کھويا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: