Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 19

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 19

–**–**–

باب 19
“میں نے پوچھا۔ “دانش مند روح کہاں سے ملے گي؟
”اس نے کہا۔ “اگلے جہان میں۔
نصیر خسرو
میں کتني دير سويا، اس کا مجھے علم نہیں۔ اور نہ ہي يہ پتہ چلا کہ کب
طوفان تھما۔ يہ ياد ہے کہ آگ کي روشني اور حدت کے ساتھ ہلکي سي
بھنبھناہٹ کي آواز سے جاگا۔ مجھے ربیکا کي آواز سنائي دي جو کسي سے
اجازت مانگ رہي تھي کہ مجھے جگا دے۔
جو بنده سونے کي اداکاري کر رہا ہو، اسے کون جگا سکتا ہے۔” کیپٹن”
سیماچ میرے سامنے کھڑا ہو کر مسکراتے ہوئے بولا اور میں اٹھ بیٹھا۔
کیا ہوا؟” میں نے پوچھا۔ آس پاس سفیدي مائل گرد آسمان پر چھائي”
ہوئي تھي۔ ستارے بھي اپني سابقہ جگہوں پر ساکن تھے۔ آسمان کے دروازے
ابھي تک وا تھے۔
ہمیں تمہارا انتظار تھا۔” اس نے کہا۔”
“جگايا کیوں نہیں؟”
”ہمیں علم نہیں تھا کہ تم کیوں سوئے۔”
میں نے سر ہلايا۔ مجھے ياد آ گیا کہ نیند کا ُغلاف کس طرح نرمي سے
مجھ پر چھاتا گیا تھا۔ میں بالکل تازه دم اور پوري طرح ہوشیار تھا لیکن میں نیند
سے تو نہیں بیدار ہوا تھا۔
“طوفان۔ ۔ ۔ ؟”
کیپٹن سیماچ نے اپنے کندھے کے اوپر ديکھا اور پھر میري نگاہوں سے دور
ہو گیا۔ “طوفان نے پوشیده کو عیاں کر ديا ہے۔” اس نے جواب ديا۔
اٹھتے ہوئے میں نے ايک عظیم الشان شہر کے کھنڈرات ديکھے جو آدھا
ريت میں دفن تھا۔ اس کي ديواريں اور محرابیں ريتلے ٹیلوں سے عیاں تھیں۔
ہٹي ہوئي ريت ہزار فٹ اونچي ديواروں کي شکل میں ہمارے اطراف میں موجود
تھي۔ واحد عمارت جو ٹھیک حالت میں تھي، وه ہمارے درخت کے پاس واقع
صحن میں گول عمارت تھي جس پر قديم طرز کا گنبد موجود تھا۔
“يہ کیا جگہ ہے؟”
پروفیسر فري مین نے شانے اچکائے لیکن اس کي بے تابي مجھ سے نہ
چھپ سکي۔ “يقین سے نہیں کہہ سکتا۔ مگر ايسا لگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ اگر مجھے۔ ۔
”۔ ۔
”ابھي نہیں۔” ربیکا نے لقمہ ديا۔ “پہلے کھانا۔”اس بات پر کسي نے بحث نہیں کي۔ غار بھي نہیں تھي۔ فقیر نے ٹھیک
کہا تھا۔ اس بار ايک الگ مقصد نے ايک الگ انداز سے ہماري رہنمائي کي تھي۔
ہمارا رہنما کہاں ہے؟” میں نے پوچھا۔
چلا گیا۔” کیپٹن سیماچ نے کہا۔ اسے اس بات پر کوئي حیرت نہیں تھي۔”
“تاہم شکر ادا کر کے پیٹ بھرتے ہیں اور پھر جا کر ديکھتے ہیں کہ يہ کھنڈرات
”کیا ہیں اور ان میں ہمارے لیے کیا پوشیده ہے۔
سب نے اس تجويز پر اتفاق کیا۔ اونٹ سے سامان اتار کر اسے چرنے کو
چھوڑ ديا گیا۔ بے چاره بہت بھوکا لگ رہا تھا۔ اسے بھي نیند آ گئي تھي۔ پھر دعا
کے بعد ربیکا نے صفرا بچھايا اور روٹي، پنیر اور مالٹوں کا ٹھنڈا ناشتہ رکھا۔
اگرچہ بولنے کو بہت کچھ تھا لیکن ہم نے خاموشي سے ناشتہ کیا۔ بار بار
ہماري نگاہیں ان کھنڈرات کو اٹھ جاتیں۔ ايک بار پھر ہم نے الله کا شکر ادا کیا کہ
ہم بحفاظت يہاں تک پہنچ گئے۔
کیپٹن سیماچ نے اس بات پر کوئي افسوس نہیں کیا کہ طوفان سے غار يا
ہڈياں نہیں عیاں ہوئیں۔ اگر اسے اس بات کا علم تھا بھي کہ جو چیز عیاں ہوئي
ہے، اس کا کیا مقصد ہے، تو بھي اس نے خاموشي اختیار کي۔
فقیر واپس نہ لوٹا اور ہم مزيد انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ برتنوں کو صاف
کر کے سامان میں باندھ ديا گیا اور ہم اس عمارت کي جانب ايسے لپکے
جیسے لوہا چون مقناطیس کي سمت کھنچتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہر کھنڈر میں
خزانہ چھپا ہوتا ہے اور ہمارے سامنے ہمارا خزانہ کہیں تھا، جو ہمیں تلاش کرنا
تھا۔
ستارے اپني جگہ پر قائم اور غیر معمولي روشني دے رہے تھے۔ پروفیسر
فري مین نے اس عمارت کے قريب پہنچتے ہوئے اس کي شناخت شروع کر دي
اور راہداري کے ايک ستون، اوپر لٹکتے دالان اور گنبد کي جانب اشاره کیا۔ وه
سب سے آگے عمارت کے گرد گھوما اور اس کي اونچائي اور چوڑائي کا تخمینہ
لگايا اور اس کي عمر کے بارے حساب کیا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے اس کي
ہدايات کے مطابق اس کے ساتھ چلتے اور رکتے جا رہے تھے۔ اسے يہ ديکھ کر
خوشي ہوئي تھي کہ شمال، جنوب، مشرق اور مغرب کي جانب چار اونچے اور
وسیع در تھے اور مغربي در کا رخ براه راست اس درخت کي جانب تھا۔ اوپر سے
بھي روشني آ رہي تھي جو شايد ٹوٹي چھت کي وجہ سے ہو يا پھر شايد
چھت کا انداز ايسا ہو۔
تاہم بیروني سطح پر کسي قسم کا کوئي نشان يا حرف نہ پا کر پروفیسر
کو بہت حیرت ہوئي۔
اس طرح کي ترقي يافتہ عمارت میں کسي قسم کي تحرير يا نشان کا”
نہ ہونا بہت حیرت انگیز ہے۔” اس نے مشرقي دروازے سے گذرتے ہوئے کہا۔
جب کیپٹن سیماچ کي ٹارچ سے کالے پتھروں سے بنا ايک گول چبوتره
دکھائي ديا تو پروفیسر بہت مايوس ہوا۔ يہ ايک میٹر اونچا اور تین میٹر چوڑا تھا
جو عین وسط میں گنبد کے بالکل نیچے بنا ہوا تھا۔ پتھريلے فرش پر ريت کے
سوا اور کچھ نہیں دکھائي ديا۔
شايد کچھ اور بھي تھا۔ تاروں کي روشني کے باوجود اندروني حصہ کسيمقبرے سے زياده دہشت ناک لگ رہا تھا۔ ايک بے نام سا خوف میرے دل پر
چھانے لگا اور سانس لینا دشوار ہو گیا جیسے کچھ ہونے والا ہو۔
آہستگي سے آگے بڑھتے ہوئے میں نے خاموشي سے اپنا ذکر جاري رکھا
اور میرا خوف ہر قدم کے ساتھ بڑھتا گیا۔ ہم سب کالے پتھروں پر جمع ہوئے۔ اس
کے اوپر ٹھوس لکڑي کي ايک تہہ تھي جو اس کے منہ کے برابر بنائي گئي
تھي۔
يہ کوئي چبوترا نہیں بلکہ شايد کنواں ہے۔” پروفیسر نے غصے سے کہا۔”
میں اس سے پاني نہیں پیوں گا۔” رامي نے کہا۔”
پروفیسر نے سر ہلايا۔ “میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئي پاني بچا ہو۔
لکڑي ديودار کي لگتي ہے۔ وہي لکڑي گلے بغیر طويل عرصے تک بچ سکتي
ہے۔” گھٹنوں کے بل جھک کر اس نے محدب عدسے کي مدد سے پتھروں کا
معائنہ شروع کر ديا۔ ہر پتھر کو ٹارچ کي روشني میں اس نے اچھي طرح ديکھا۔
اس نے اوپري تہہ سے نیچے تک، تمام پتھروں کو باري باري ديکھا۔
کافي دير تک يہ سلسلہ جاري رہا اور علي اور رامي بے چین ہونے لگے۔
ان کي آنکھیں سايوں کو ديکھ رہي تھیں۔ انہیں اس جگہ موجود بے چیني کا
احساس ہو گیا۔ وه کیپٹن سیماچ کے پاس جا کھڑے ہوئے جو اس وقت کنويں
کے پاس کھڑا ہو کر اس کے چوبي ڈھکن سے ريت صاف کر رہا تھا۔ ربیکا نے
انہیں حرکت کرتے ديکھا تو اپنے باپ کے پاس جا کھڑي ہوئي جو اب گھٹنوں کے
بل جھک کر معائنہ کر رہا تھا۔ جوں جوں ہم ايک دوسرے کے قريب آتے گئے،
ہمارے خوف کي شدت بڑھنے لگي۔ صرف پروفیسر اس سے متائثر نہیں ہوا۔
يہ پتھر کالے پتھر سے نہیں کاٹے گئے۔” نچلي تہہ کا معائنہ کر کے وه”
”کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔ “يہ آگ کي وجہ سے سیاه پڑے ہیں۔ عجیب بات ہے۔
ربیکا نے پوچھا کہ کیا مزيد جگہیں بھي ديکھنے سے کوئي فائده ہوگا تاہم
کیپٹن سیماچ کنويں کے پاس سے نہیں ہٹا۔
ہمیں اسي جگہ بلوايا گیا ہے، چاہے غار ہو يا نہ ہو۔” اس نے کہا۔ “شا ؑه کا”
ڈھانچہ شايد ہمیں دوباره نہ مل سکے، لیکن وه اپنا کام کر چکا ہے۔ اس کا کیا
”مطلب ہوگا، يہ ہمیں يہیں تلاش کرنا ہے۔
يہیں سے کیا مراد ہے؟” پروفیسر نے کہا۔ “يہاں کوئي بھي علامات”
موجود نہیں اور نہ ہي کوئي برتن وغیره۔ کون سي نسل ايسي چیز بنا سکتي
ہے؟ آج تک کي کسي بھي ديومالا وغیره میں ہمیں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ عین
ممکن ہے کہ کسي دوسرے سیارے پر ہو؟” اس نے آه بھري۔ “اگر شیخ ہادي
يہاں ہوتے تو کچھ کرتے۔ قديم مذہبي علامات کے بارے ان کا علم مجھ سے
”کہیں وسیع ہے۔
میرا خیال ہے کہ يہاں کوئي علامات نہیں۔” ربیکا نے کہا۔”
طرز تعمیر اپني جگہ ايک”
ِ
بے شک علامات نہیں ہیں لیکن عمارت کا
علامت ہے اور اس کے گرد موجود تعمیرات کا اپنا مفہوم ہوگا۔ میں نے کبھي
ايسي عمارت نہیں ديکھي اور مجھے يقین ہے کہ اس کي کوئي نہ کوئي
مذہبي اہمیت ہوگي۔ چھت میں موجود کھلا دائره جس کا محیط اس کنويں کے
”برابر ہو، کسي خاص مقصد کے تحت بنايا گیا ہوگا۔ سوچتا ہوں کہ۔ ۔ ۔ ۔اس نے بات پوري نہیں کي بلکہ کنويں کے گرد چلنا شروع کر ديا اور اوپر
چھت کو ديکھتا رہا۔ دو بار اس نے ايسے ہي چکر کاٹا اور مسلسل اپنے مختصر
بالوں پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ پھر اس نے کمرے کے رقبے کو ماپنا شروع کر ديا اور اندازاً
کنويں کے وسط سے شروع کیا۔ مشرق سے مغرب تک 99قدم اور شمال سے
جنوب بھي 99قدم بنے۔ ربیکا اس کے بالکل پیچھے چل رہي تھي جبکہ میں
مشرقي دروازے کے پاس جا کر ستاروں کي روشني میں ياداشتیں لکھنے لگا۔
چند لمحوں بعد کیپٹن سیماچ نے پروفیسر کو بلايا۔ اس نے کنويں کے
چوبي ڈھکن پر سے ريت صاف کي تھي اور اپني ٹارچ کي روشني میں اس کے
وسط پر کچھ ديکھ رہا تھا۔
خدايا، ادھر آ کر ديکھو۔” پروفیسر بولا اور اس کي سانس لینے کي آواز”
سنائي دي۔
میں نے ايک بار پھر ذکر شروع کر ديا کیونکہ اس نئي دريافت کے بارے
مجھے دلچسپي کے ساتھ ساتھ ڈر بھي لگ رہا تھا۔ آخرکار دھڑکتے دل کے
ساتھ میں ديکھنے جا پہنچا اور پروفیسر کے کندھے کے اوپر سے ديکھا۔
پروفیسر نے سامان سے ايک نرم کپڑا نکالا اور ايک چھوٹي بوتل سے اسے
کسي محلول سے تر کیا۔ کیپٹن سیماچ نےٹارچ تھامے رکھي اور پروفیسر نے
لکڑي کي سطح کو صاف کرنا شروع کیا۔
يہ ديکھو۔” پروفیسر نے کہا۔ محلول نے اپنا کام دکھانا شروع کر ديا تھا۔”
پروفیسر نے محدب عدسے سے اسے بغور ديکھا۔ شش پہلو ستاره دکھائي ديا
جس پر دو ہم مرکز دائرے بنے ہوئے تھے۔
مہر سلیما ؑني
ِ
!
ربیکا نے گہرا سانس لیا اور میرا دل بھي تیزي سے دھڑک رہا تھا۔ ستارے
کے وسط میں سیاه رنگ کا نشان تھا جیسے کسي نے اس پر موجود تحرير کو
ہماري نظروں سے چھپا لیا ہو۔
ايسا لگتا ہے کہ جیسے کسي نے لکڑي کو جلا کر يہ حصہ ثبت کیا ہو!””
پروفیسر نے سرگوشي میں پوچھا۔ “مجھے اس کي سمجھ نہیں آ رہي لیکن يہ
مہر ہي ہے۔ مہر کے علاوه کچھ نہیں ہو سکتا۔ شاه سلیما ؑن يہاں تھے!” اس نے
کیپٹن سیماچ کو ديکھا۔ “لیکن مہر کا دائره کنويں کے ڈھکن پر کیوں لگا ہے؟ اس
“کا کیا مطلب ہوگا؟
کیپٹن نے کوئي جواب نہیں ديا۔ مجھے ٹارچ تھما کر اس نے ڈھکن پر ہاتھ
جمائے اور اسے ہٹانے کي کوشش کرنے لگا۔ پروفیسر اور ربیکا نے فوراً اس کا
ساتھ ديا۔ زور آزمائي کي وجہ سے ان کي کمريں خم کھا گئیں۔
يہ کیا کر رہے ہیں؟” میں نے دہشت زده انداز میں پوچھا۔ “ہمارا رہنما ابھي”
”تک نہیں لوٹا اور ہمیں نہیں معلوم کہ۔ ۔ ۔ ۔
تاہم دير ہو چکي تھي۔ ڈھکن محض اپنے وزن کي بنا پر جما ہوا تھا۔ ايک
ہي لمحے میں وه کنويں کے منہ سے سرک کر ہٹ گیا۔ علي اور رامي نے بھاگ
کر اسے سن ِ گ مرمر کے فرش پر رکھنے میں مدد کي۔
ہم سب نے ايک دوسرے کو اور پھر کنويں کو ديکھا۔ اس کے اندر ديکھنے
کي کوئي خواہش نہیں تھي لیکن پھر بھي میں خود کو نہ روک سکا۔ میں نےٹارچ کو اس کے اوپر تھاما۔ پاني نہیں دکھائي ديا۔
اس کے اندر کے پتھر بھي سیاه دکھائي دے رہے ہیں۔” پروفیسر نے”
کیپٹن سیماچ کو ديکھتے ہوئے کہا۔ کیپٹن نے سر ہلايا۔ جہاں تک روشني جا
رہي تھي، سیاہي دکھائي دے رہي تھي۔
يہ کنواں چاروں سمتوں کے علاوه اوپر کي سمت يعني آسمان کو بھي”
کھلا ہے۔” پروفیسر نے کہا۔ “اس کے علاوه چھٹي سمت نیچے کي جانب بھي
”ہے۔ يہ تو شش پہلو ستارے کي سہ ُبعدي شکل ہوئي۔ سوچتا ہوں کہ۔ ۔ ۔ ۔
پروفیسر نے اپنے کندھے سے بیگ اتارا اور ٹٹول کر اس میں سے لائٹر
تلاش کر کے نکالا۔ پھر اس نے اپنا گندورا اتار کر اسے ٹوٹي ہوئي اينٹ پر لپیٹ
کر گولہ سا بنايا اور بوتل کا بقیہ محلول اس پر انڈيل ديا۔
اس نے ہم سب پر نظر ڈالي اور افسوس، ہم میں سے کسي نے اسے
روکنے کي کوشش نہیں کي۔ اس نے لائٹر سے آگ جلائي اور گندورے نے فوراً
آگ پکڑ لي۔ اس نے پھر جلتے گندورے کو کنويں میں پھینک ديا۔
منڈير پر جھک کر ہم نے جلتے ہوئے گندورے کو تاريکي میں نیچے جاتے
ديکھا جو نیچے جاتے جاتے ہماري نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
پھر بھي ہم امید اور ياس سے نیچے ديکھتے رہے اور بخوبي علم تھا کہ آج
تک کسي انسان نے اتنا گہرا کنواں نہیں بنايا گیا ہوگا۔
ناممکن۔” پروفیسر چلايا اوراس کنويں کي انتہائي گہرائي سے اس کي”
آواز کي بازگشت ہمیں بار بار سنائي دي اور پھر آہستہ آہستہ ڈوب گئي۔
عین اسي وقت ان الفاظ کا جواب انتہائي دور سے آنے والي چیخ سے
ملا۔ بہت نیچے کہیں آگ کا مختصر سا شعلہ دکھائي ديا جیسے گندورے کي
آگ سے کہیں نیچے موجود کوئي چیز جلي ہو۔ شعلہ اوپر کو اٹھنے لگا۔
ناقابل يقین تیزي سے اوپر کو
ِ
کنويں کے اندر جیسے آگ لگ گئي ہو۔ يہ آگ
اٹھنے لگي۔
آئي!” علي چلايا اور اسي لمحے ہم سب دھکے سے پیچھے کو گرے اور”
آگ کا ستون کنويں سے نکلا اور ہمارے سروں پر گھومنے لگا۔
میں گھنٹوں کے بل رينگتا ہوا مشرقي سرے پر جا ٹھہرا کہ خوف اور گرد
سے میرا سانس رک رہا تھا جبکہ آگ کا ستون مسلسل بلند ہوتا جا رہا تھا۔
قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میري آنکھوں کے سامنے يہ ستون آسمان تک بلند ہوا
اور پھر مڑا اس سے دو پر نکلے جو مشرق اور مغرب تک پھیل گئے۔ پھر سدوم
کے عذاب کي مانند يہ اس بے نام اور پرانے شہر پر گرا۔
اس دائرے سے سماعت شکن چیخ سنائي دي اور آگ کا بہت بڑا شعلہ
لپکا اور ہمارے گرد گھومنے لگا۔ انتہائي دہشت سے میں اس بغیر دھويں والي
آگ کو اپنے سروں پر گھومتے ديکھنے لگا اور عجیب آوازيں نکالتے ہوئے اس کي
شکل بدلنے لگي۔
کیپٹن سیماچ سب سے پہلے کھڑا ہوا۔ سر سے پاؤں تک اس کا جسم
گرد سے اٹا ہوا تھا اور اس کے چہرے پر لکیريں پڑي تھیں۔ تاہم میں نے ديکھا کہ
اس نے سر اٹھا کر اس تاريک جسم کا رخ کیا اور بے خوف انداز سے اس کے
تاريک اور خوفناک چہرے کو ديکھنے لگا۔بالزيبول۔” اس نے نرمي سے کہا۔”
ديو اپنا نام سن کر چنگھاڑنے لگا اور عمارت کي بنیاديں تک لرزنے لگیں۔
جب ديو نے نیچے ہماري جانب ديکھا تو خوف کے مارے میرا دل رکنے لگا۔
بالزيبول! الله ہماري حفاظت کر رہا ہے! ہم نے يہاں جنوں کے شاه کو بلايا
!ہے
تاہم ديو کي آنکھوں نے ہمیں شايد نہیں ديکھا۔ اس کي توجہ کیپٹن
سیماچ پر مرکوز تھي۔
بہت دير ہو گئي ہے۔ بہت دير ہو گئي ہے!” جن چنگھاڑا۔ جب اس نے اپنا”
پنجہ نما ہاتھ کیپٹن سیماچ کي طرف بڑھايا تو میرا دل جیسے تھم گیا ہو۔
علي اور رامي نے جست لگا کر کیپٹن کو بازوؤں سے پکڑ کر نیچے گرايا۔
میرا خیال تھا کہ وه کیپٹن کو اپنے جسموں کي اوٹ میں بچائیں گے لیکن انہوں
نے ديو کي طرف بڑھنا شروع کر ديا۔
رکو!” میں چلايا لیکن وه نہ رکے۔”
ديو ان کي پیش قدمي سے خوفزده دکھائي ديا۔ مجھے يقین نہیں آيا۔ ديو
نے پھر کنويں میں اترنا شروع کر ديا۔
جب سارا ديو نظروں سے اوجھل ہو گیا تو وه کنويں کے منہ کو لپکے۔ میں
وه خوفناک منظر کبھي نہیں بھولوں گا جب دونوں کزنز نے ايک دوسرے ديکھ کر
ہاتھ پکڑے اور الله اکبر کا نعره لگا کر انہوں نے بھي شعلوں میں چھلانگ لگا دي
اور غائب ہو گئے۔
میں دہشت کے مارے بمشکل اپنے پیروں پر کھڑا ہوا لیکن ٹانگوں نے میرا
بوجھ سہارنے سے انکار کر ديا اور میں گھٹنوں کے بل گرا۔ ربیکا کي ناک سے
خون بہہ رہا تھا اور ہاتھ بھي خون آلود تھا لیکن وه اپنے باپ کو ہوش میں لانے
میں مصروف تھي۔ پروفیسر کے پیشاني کي ايک جانب زخم تھا جس سے خون
بہہ رہا تھا۔ کیپٹن سیماچ بھي آہستہ آہستہ اٹھ رہا تھا۔ اس نے اپني گدي کو
تھاما ہوا تھا جیسے گرتے ہوئے چوٹ لگي ہو۔
کنويں سے ابھي بھي آگ دکھائي دے رہي تھي جیسے ہمیں بلا رہي ہو۔
مجھے انتہائي کمزوري اور بے بسي کا احساس ہوا۔ گرد سے بھرے گالوں پر
میرے آنسو لکیريں بنا رہے تھے اور میں نے الله سے مدد مانگي۔ میں دعا میں
اتنا مصروف تھا کہ کسي کي آمد کا احساس تک نہیں ہوا۔
فقیر لوٹ آيا تھا۔
گدھو! يہ کیا کر ديا؟” اس نے غصے کي شدت سے چلا کر کہا اور عمارت”
کا جائزه لیا۔ ايک ہي لمحے میں اس نے کنويں کا کھلا منہ اور زمین پر پڑا لکڑي
کا ڈھکن بھي ديکھ لیا اور يہ بھي کہ کون موجود ہے اور کون غائب۔
”احمقو، گدھو!” اس نے کہا اور کنويں کو لپکا۔ “مہر واپس رکھو۔”
رکیں۔ کیا۔ ۔ ۔” میں نے بولنے کي کوشش کي۔”
خاموش!” اس نے مڑ کر مجھے حکم ديا۔ اس کي آواز سے میرا سوال”
غائب ہو گیا۔ “بھاگو اور بھاگ کر آقا کو خبر دو۔ اب وہي ان کي مدد کر سکتے
“!ہیں
پھر مڑ کر اس نے کنويں میں چھلانگ لگا دي۔عین اسي وقت شعلے پھر سے بلند ہوئے اور چھت کے سوراخ سے ہوتے
ہوئے اوپر کو نکل گئے۔ تاہم فقیر نہیں گرا۔ وه شعلوں پر تیرتا رہا جیسے ابراہیم
علیہ السلام کو نمرود کي آگ کچھ نہ کہہ سکي۔ اس کي آنکھیں انگاروں کي
طرح دہک رہي تھیں۔ مجھے شک ہوا کہ کہیں میں کوئي معجزه تو نہیں ديکھ
رہا۔ لیکن آخرکار فقیر کي داڑھي اور سر کے بال جلے، پھر اس کي خشک جلد
جل کر ٹوٹي اور الگ ہو گئي اور پھر اس کا سارا جسم راکھ ہو کر گم ہو گیا اور
اس کي روح بچ گئي۔
اب اس کي آنکھوں میں درد اور غصہ تھا اور وه ہمارے اوپر چھا گیا اور اس
کے چہرے پر تکلیف اور شیطاني غصہ دکھائي دے رہا تھا اور اس کا چہره اس
کي نسل کي مانند دھندلا اور خوفناک تھا اور اس کے جبڑے میں نوکیلے دانت
دکھائي دے رہے تھے۔
اورنیاس!۔” واحد لفظ تھا جو میرے منہ سے نکلا۔”
میرے اولین ناموں میں سے ايک!” وه جني زبان میں دھاڑا اور پھر شعلوں”
میں ڈوب گیا۔ “تمہیں بتايا نہیں تھا کہ میں ہي چور تھا؟” پھر وه اور آگ، دونوں
ہي گم ہو گئے۔
اورنیاس! اورنیاس! میں اس نام کو دل ہي دل میں بار بار دہراتا رہا۔ بطور
فقیر، اس کے آخري حکم نے میرا گلا بند کر ديا تھا اور میري زبان بندي ہو گئي
تھي۔ اگرچہ خوف اور دہشت سے میرا برا حال تھا لیکن پھر بھي مجھے ايک ہي
فکر تھي کہ آقا کو تلاش کرنا ہے۔ بمشکل تمام میں دوسروں کو کھڑا کر سکا اور
اشارے سے انہیں اس منحوس جگہ سے نکلنے کا کہا۔ کیپٹن سیماچ نے ٹارچ
سے کنويں میں جھانکنے لگا لیکن اس نے حرکت نہیں کي اور ربیکا اپنے
زخمي باپ کو نہیں چھوڑ سکتي تھي۔
اس لیے میں رات کے اندھیرے میں دکھتے دل کے ساتھ نکلا اور میرا
جسم اور میري سوچ ہمارے رہنما کے آخري انساني الفاظ سے بندھي ہوئي
تھي۔
میں شہر کے کھنڈرات سے دوڑ کر نکلا اور ايک انتہائي اونچے ريتلے ٹیلے
پر گرتے پڑتے چڑھا اور آخرکار صحرا تک پہنچ گیا۔ بھاگتے بھاگتے میرے پھیپھڑے
پھٹنے کو آ گئے اور میں تھک ہار کر ساکن ستاروں کے نیچے گر پڑا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: