Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 2

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 02

–**–**–

باب 2
،میں نے تجھے اپنے دل کا ساتھي بنايا ہے
،لیکن میرا جسم يہیں ان لوگوں کے لئے ہے جو اس کا ساتھ چاہتے ہیں
،اور میرا جسم اپنے مہمان کے لئے دوستانہ رہے گا
لیکن میرے محبوب میري روح کے دوست ہوں گے۔
رابعہ الادويہ بصري
ہم خوش تھے۔ ہم آقا کے گرد نیم دائرے کي شکل میں بیٹھے ہوئے دعوت
کے منتظر تھے کہ جس کا حکم آقا نے ديا تھا اور اس دعوت کي خاطر ہر
درويش اور ہر سلسلے کو خانقاه میں آنے کي دعوت دي گئي تھي۔
ناقابل وضاحت رويے کے باوجود
ِ
ہمارے لیے ہمارے آقا اپنے تمام تر جلال اور
والد کي طرح عزيز تھے کہ ہمارے والدوں نے ہمیں بچپن سے دنیا کے طور
طريقے سکھائے تھے اور آقا ہمیں طريقت کے حوالے سے رہنمائي کرتے تھے
جو دل کا راستہ ہے اور صوفیا کي صرا ِط مستقیم ہے۔
نوع انسان، میرے آقا شیخ امیر الہادي ہیں جو صوفي سلسلے
ِ
اے بني
سے منسلک ہیں اور دانش مندي اور کامیابیوں کے حوالے سے کوئي ان کا
مقابلہ نہیں کر سکتا۔ انہیں قط ِب وقت کہا جاتا ہے جو باطن کے سفر کے لئے
مقناطیسي قطب کا کام کرتے ہیں۔
میرے خیال میں يہ عجیب کشش دراصل رات کو ہونے والے واقعات کي
وجہ تھي۔
کہا جاتا ہے کہ جس خوشي کو توقع نہ ہو، اس کا مزه دہرا ہوتا ہے، آقا
شاذ و نادر ہي ايسي ملاقاتوں کا حکم ديا کرتے تھے۔
اس داستان کے لئے ضروري افراد کو چھوڑ کر میں کسي کا نام نہیں لوں
گا، اتنا کہنا کافي ہے اس محفل میں 12مرد اور 14خواتین آئي تھیں کہ اطلاع
بہت دير سے دي گئي تھي۔ اگرچہ عموماً بچوں کو آنے سے روکا تو نہیں جاتا
مگر آقا نے اس بار بچوں کو نہیں بلايا تھا۔ اس محفل میں تین کنوارے مردوں کي
آمد سے ظاہر تھا کہ آقا نے انہیں کسي خاص مقصد کے لئے بلايا ہوگا۔ آقا کے
ساتھ طويل عرصے سے رہنے کي وجہ سے مجھے معلوم تھا کہ اکثر آقا کے
ايسے افعال بظاہر تو عام سے لگتے تھے لیکن بعد کے واقعات ثابت کر ديتے
ہیں کہ ان کے يہ افعال سو فیصد درست تھے۔
شام کي عبادت کے بعد جب ابھي کھانا تیار ہو رہا تھا کہ ہم سب اس
ديواروں سے گھرے باغ میں گھاس پر آلتي پالتي مار کر بیٹھ گئے اور آقا کےبولنے کا انتظار کرنے لگے۔
لیموں کے پھول ِ کھلے ہوئے تھے اور ان کي خوشبو سے ہمارے قلب معطر
ہو رہے تھے۔ اس کے علاوه گلاب اور سنبل کے پھولوں کے علاوه بھي بے شمار
اقسام کے پھولدار پودے اور سرو اور چنار کے درخت بھي تھے جو متناسب
طريقے سے اس باغ میں ُاگائے گئے تھے۔ بنجر علاقے میں اس کي موجودگي
نخلستان سے کم نہیں تھي اور عین وسط میں موجود فوارے سے نکلنے والے
پاني کي لہريں نمعلوم کہاں تک جاتي تھیں۔
ہم حس ِب معمول اس طرح بیٹھے تھے کہ ہمارا دائیاں ہاتھ ہماري بائیں ران
پر جبکہ بائیاں ہاتھ دائیں کلائي کو پکڑے ہوئے تھا جو عربي کے لفظ۔ “لا” يعني
“نفي” کي علامت ہے۔ يہ وہي نفي ہے جس سے درويش دنیاوي مال اسباب
سے اپنے ہاتھوں اور اپنے دل کو خالي کرنے کي کوشش کرتا ہے کہ ہر چیز جو
ہاتھ سے دے دي جائے گي، اس راه میں ايک قدم آگے لے جائے گي۔
اس شب خدمت پر معمور افراد ہمارے لیے گرم قہوے کي چھوٹي پیالیاں
اور چیني کے ڈلے لے کر آئے جن کو بعض افراد منہ میں رکھ کر چائے پیتے ہیں۔
ہم بے چیني سے منتظر تھے کہ آقا کب بات شروع کريں گے۔ تاہم لگتا تھا کہ
انہیں کوئي عجلت نہیں تھي اور وه اپنے ہاتھوں لگائے ہوئے بادام کے بوڑھے
درخت کے ساتھ ٹیک لگائے اپني داڑھي میں خلال کرنے کے ساتھ ساتھ ہاتھي
دانت کے بنے پرانے پائپ کو بھر رہے تھے۔ ظاہر ہے کہ آقا کي موجودگي میں
کوئي درويش بولنے میں پہل نہیں کر سکتا۔ باغ کے دروازے کے اوپر خوش خط
”لکھا ہوا تھا۔ “خاموش، سانس الله کي نعمت ہے۔
آخرکار چند طويل کش لینے کے بعد آقا نے علي کو موسیقي شروع کرنے
کا اشاره کیا۔ علي نے فوراً سرکنڈے سے بني اپني ‘نے‘ اٹھائي اور رامي نے
اپنا اکتاره سنبھالا اور تاروں کو چھیڑنا شروع کر ديا۔ ديگر افراد نے مختلف دف
اٹھائے جو بکري کي کھال سے بنے ہوتے ہیں اور ہاتھ سے بجائے جاتے ہیں۔ آقا
نے حکم ديا کہ ديگر تمام آلات کو رکھ ديا جائے۔ مجھے اس پر حیرت تو ہوئي
کیونکہ اس طرح کي محافل میں ہمیشہ موسیقي چلتي ہے اور ساتھ تالیاں اور
گانے بھي چلتے ہیں، لیکن علي نے جب موسیقي شروع کي تو میں سب کچھ
بھول گیا کیونکہ ‘نے‘ کي آواز انساني آواز سے مشابہہ ہوتي ہے اور کسي
مؤذن کي طرح صاف بھي۔
نے‘ کي آواز ہوا کے ساتھ ساتھ باغ میں پھیلتي گئي جس میں رات کي‘
کیفیت اور لالٹینوں کي دمک واضح تھي اور ہمارے دل اس طرح کھلتے گئے
جیسے ہمارے اردگرد ياسمین کے پھول کھل رہے تھے۔ ہم سماع میں کھوتے
چلے گئے۔
بہت سے دلوں کي ہوک آہستہ آہستہ پورے باغ کو بھرتي ہوئي، ديواروں
کے اوپر سے اٹھتي ہوئي ستاروں کي سمت چل پڑي۔ جیسے ‘نے‘ يعني
بانسري اپنے بانس سے جدائي پر نوحہ کناں ہو، اسي طرح جیسے روح جنت
سے اپني جدائي پر روتي ہے۔
جوں ہي بانسري کے آخري ُسر رات میں گم ہوئے تو ہم آہستہ آہستہ بیدار
ہوئے اور اپني موجوده حالت میں آن پہنچے۔ ہمارے گالوں پر نہ تھمنے والےآنسوؤں کي لکیريں بہہ کر نیچے گھاس تک جا رہي تھیں۔ حت ٰي کہ جیسے پھول
بھي اپني کیاريوں میں رو رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ ہماري کسک کم ہوتي گئي اور
ہم واپس اپني موجوده حالت میں آ گئے۔ ہر ايک کا رخ آقا کي جانب تھا جو ابھي
تک سر جھکائے بادام کے درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔
جب آقا نے سر اٹھايا تو ان کي آنکھیں خشک اور صاف تھیں اور انہوں نے
اپنے گرد دائرے میں ديکھا اور ہر ايک کي شکل کو اپنے اندر جذب کر لیا۔
کاش کہ دل وه ياد رکھے جو عقل بھول جاتي ہے۔ سننے والو، بادشاه”
سلیما ؑن کي داستان سنو۔ وہي سلیما ؑن جو ازل سے ابد تک کے ذہین ترين اور
طاقتور ترين بادشاه تھے۔ ان کي دولت کا کوئي شمار نہیں اور ان کي عقل و
دانش کے بارے صرف الله جانتا ہے۔” انہوں نے کہا۔
اور وه ہوا پر حاکم تھے، جن و ُانس پر بھي اور پرندوں اور جانوروں پر بھي”
ان کا حکم چلتا تھا۔ ساري مخلوقات ان کي ماتحت تھیں۔ تاہم انہیں الله کي رضا
نہیں ملي کہ الله کي رضا نہ تو دولت سے ملتي اور ہے نہ ہي طاقت يا ذہانت
”سے۔
ايک دن جب شاه سلیما ؑن شاہي باغ میں اکیلے چہل قدمي کر رہے تھے”
تو ملک الموت عزرائیل فرشتہ دکھائي ديا جو انتہائي فکرمندي سے ٹہل رہا تھا۔
شاه سلیما ؑن موت کے فرشتے سے بخوبي واقف تھے کہ انہوں نے اپني بصیرت
سے موت کے اس فرشتے کو بار بار ديکھا ہے، چاہے وه میدا ِن جنگ ہو يا پھر
زخمیوں اور بیماروں کے خیمے ہوں۔ جب سلیما ؑن نے اس بے چیني کي وجہ
پوچھي تو فرشتہ اجل نے جواب ديا کہ اس کے پاس موجود فہرست میں
”سلیما ؑن کے دو منشي الیہورف اور علیجاه بھي شامل ہیں۔
سلیما ؑن کو بہت افسوس ہوا کہ يہ دونوں منشي بچپن سے ان کے ساتھ”
تھے اور وه انہیں اپنے بھائي سمجھتے تھے۔ انہوں نے اپنے جنات کو حکم ديا
کہ دونوں کو اٹھا کر “لوذ” پہنچا ديا جائے کہ دنیا میں يہ واحد مقام ہے جہاں
موت کا کوئي زور نہیں چلتا۔ پلک جھپکنے سے بھي قبل جنات نے حکم کي
تعمیل کر دي۔ تاہم جونہي يہ دونوں منشي اس شہر کے پھاٹک پر پہنچے تو ان
”کي جان نکل گئي۔
اگلے دن عزرائیل سلیما ؑن کے سامنے حاضر ہوئے۔ ملک الموت بہت خوش”
دکھائي رہے تھے اور انہوں نے کہا۔ ” اے بادشاه میں آپ کا شکر گذار ہوں کہ آپ
نے اپنے ملازمین کو بعجلت اس جگہ پہنچايا جہاں ان کي روح قبض کي جاني
تھي۔ ان کي قسمت میں اس دور کے شہر کے پھاٹک پر مرنا لکھا تھا لیکن
مجھے علم نہیں تھا کہ وه اتنے کم وقت میں اتنا طويل فاصلہ کیسے طے کريں
”گے۔
سلیما ؑن کو اپنے دوستوں اور منشیوں کي موت پر بہت افسوس ہوا اور”
”بني نوع انسان کي بے بسي پر ان کا دل بھر آيا۔ عزرائیل کو بہت حیرت ہوئي۔
“اے پوري دنیا کے بادشاه، آپ کیوں روئے؟”
دونوں میرے بچپن کے دوست تھے جو اب میرے ساتھ نہیں رہے۔ کیا”
تمہیں ان لوگوں پر ترس نہیں آتا جن کي تم جان نکالتے ہو؟” انہوں نے جواب ديا۔
“عزرائیل نے طنزيہ کہا۔ “ترس؟ آپ اپني دوستي کے لیے رو رہے ہیں۔ آپ
کي اصل اداسي آپ کے اپنے نقصان سے متعلق ہے۔ افسوس، آپ کي ذہانت
دھندلا گئي۔ موت تو الله کا سب سے خوبصورت تحفہ ہے جسے زندگي کي دور
ہوتي خوشیوں اور اداسیوں سے کشید کیا جاتا ہے۔ اے بادشاه! يہ وہي پاکیزه
شراب ہے، جو نور کے سمندر میں ڈالي جاتي ہے۔ الله کا شکر ادا کريں کہ میں
”جو موت کا فرشتہ کہلاتا ہوں، درحقیقت رحم کا فرشتہ ہوں۔
آقا نے باري باري ہم سب کو ديکھا اور پھر اپنا سر ہلا کر مسکرا ديئے۔ ہم
میں سے چند افراد بھي مسکرائے لیکن میں نہیں مسکرايا اور نہ ہي بوڑھے
درويش مسکرائے۔ بادشاه سلیما ؑن؟ آقا نے کبھي اس طرح کي داستان نہیں
سنائي تھي يا کم از کم اس گروه میں نہیں سنائي تھي جس کا میں حصہ تھا۔
تاہم آقا ہمیں مسلسل اور مختلف طريقوں سے پڑھانے اور سمجھاتے تھے جو
بھي ان کے نزديک ہمارے لئے مناسب ہوتا۔ اس طرح کي داستان ہمیشہ
ُپرکشش ہوتي ہے اور بظاہر سیدھي سي بات دکھائي ديتي ہے۔ مجھے يہ تو
علم نہیں تھا کہ اس میں اور کیا معني پوشیده ہو سکتا ہے لیکن اس طرح کي
داستانوں میں ہمیشہ سات مختلف معاني پوشیده ہوتے ہیں۔
ہم آقا کے آگے بولنے کے منتظر رہے کہ ہمیں امید تھي کہ وه اس بارے
مزيد روشني ڈالیں گے، لیکن پھر انہوں نے کہا۔ “جب الله نے آدم کي روح کو
جسم میں داخل ہونے کا اذن ديا تو وه بہت خوفزده تھي اور نہ جانا چاہتي تھي۔
“اے مالک، آپ سے الگ ہو کر اس طرح کا وجود مجھے پسند نہیں۔” الله نے کہا۔
“تم اندر جاتے ہوئے بھي جھجھکو گي اور اس سے باہر آتے ہوئے بھي جھجھکو
گي۔” يہي حقیقت ہے۔ موت سے مفر نہیں پھر بھي تم اس سے ڈرتے ہو۔
صوفي کو کچھ درکار نہیں ہوتا اور اسے کسي چیز کا خوف بھي نہیں ستاتا۔
اس کي زندگي الله کے حوالے ہوتي ہے اور ہر مادي قرباني دينے کے لئے تیار
”رہتا ہے۔
اے میرے بہادر اور قناعت پسند درويشو، اگر آج سلیما ؑن دروازه کھٹکھٹا کر”
تمہیں ايک بہت دور کے ملک کے سفر پر بھیجیں جہاں موت کا بھي انديشہ ہو،
“تو تم میں سے کون اسے اپنا نصیب سمجھ کر شامل ہونا چاہے گا؟
لمحے بھر کو ہم سب دم بخود ہو کر ايک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
شايد کوئي بھي تیار نہیں؟” آقا نے سب کو ديکھتے ہوئے پوچھا۔ “شايد”
“کسي نے میري بات نہیں سني؟
مجھے حیرت ہوئي کہ يہ سب کیا ہے؟شايد کوئي پہیلي تو نہیں؟ يا
ہمارے آگے بڑھنے کے لئے کوئي امتحان، جس کا جواب ضروري ہو؟
علي ہنستے ہوئے پکارا۔ “میں چلوں گا۔” شايد اس کا خیال تھا کہ يہ
پہیلي ہوگي۔
علي کا کزن رامي بولا۔ “میں بھي چلوں گا۔” اس کے انداز سے لگ رہا تھا
کہ وه اسے امتحان سمجھ رہا ہے۔
کئي آوازيں ابھريں جو سلیما ؑن کے ساتھ اس سفر کے لیے اپني آمادگي
کا اظہار کر رہي تھیں۔ میں نے اپني زبان دانتوں تلے دبائے رکھي۔ آقا کي بات
میں کچھ ايسا ضرور تھا جس نے مجھے بولنے سے روکے رکھا۔ آقا نے شايدہي کبھي اتنا آسان سوال پوچھا ہو اور ان کي کہاني پر کسي نے سنجیدگي
سے توجہ نہیں دي۔ میں نے انتظار کرنے کا فیصلہ کیا لیکن میري حیرت
ديکھیئے کہ میرے منہ سے نکلا۔ “اس راه پر کون ايسا ہے جو يہ سفر نہیں کر
رہا؟” ظاہر ہے کہ میں بولنے کا اراده بھي نہیں کر رہا تھا اور اگر بات کرتا بھي تو
ہرگز ايسے انداز میں نہ کرتا۔
پورے کمرے میں خاموشي چھا گئي۔
تمام لوگ مجھے ديکھنے لگے۔ مجھے ايسے لگا کہ میرے دائیں بائیں
بیٹھے افراد غیر محسوس طور پر مجھ سے دور ہو رہے ہیں۔ آقا نے میري جانب
رخ کیا اور میں اپني جگہ جیسے جم گیا۔ ان کي آنکھوں نے میري آنکھوں کو
جکڑا تو ايسے لگا کہ جیسے پورے چوبیس گھنٹے گذر گئے ہوں، لیکن پھر انہوں
نے سر اٹھايا اور ہنس ديئے۔ مجھے احساس ہوا کہ جتني دير ہماري نگاہیں چار
رہیں، میں سانس روکے بیٹھا تھا۔ میرا سانس زور سے نکلا۔
سب ہنس پڑے۔ مجھے ان کي ہنسي سے شرمندگي ہونے لگي۔ خواتین
بھي مجھ پر ہنس رہي تھیں۔
آقا نے خاموش کرانے کے لئے اپنا ہاتھ اٹھايا اور میري جانب ديکھا۔
اسحاق، اپنے ساتھیوں کي ہنسي سے شرمنده نہ ہو۔ ہنسي ايک تحفہ”
ہے جو تم نے انہیں ديا ہے۔ میرا خیال ہے کہ يہ روح ہے جس نے تمہارے ذہن
سے آگے نکل کر جواب ديا ہے۔ بجا۔ تم سب يہاں اسي راه پر چلنے والے ہو۔
تمہارا راستہ تمہیں کہاں لے جائے گا، تم میں سے ہر ايک اس کا الگ الگ
جواب پائے گا۔” آقا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
گھبراؤ مت۔ اگر تمہارے لیے اچھا نصیب لکھ ديا گیا ہے تو اسے پانے کے”
لئے تمہیں محض ہمت درکار ہے اور براکا بھي، جو تمہیں عطا ہوگا۔ جو ہونا ہے،
ہو کر رہے گا۔” انہوں نے رک کر پہلے علي اور پھر رامي کي طرف ديکھا۔ “علي،
تم پہلے بولے ہو، رامي، تم اس کے بعد بولے اور اسحاق بھي تمہارے ساتھ
جائے گا۔ اس چادر کے دھاگے بہت گنجلک ہیں۔” آه بھر کر انہوں نے سر جھکايا
اور اپني آنکھیں بند کر لیں۔
عین اسي وقت دروازے پر زور سے دستک ہوئي۔
علي اور رامي نے گھبرا کر ايک دوسرے کو ديکھا اور مجھے اپنے رونگٹے
کھڑے ہوتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ہمیں صحن والے دروازے کي گھنٹي نہیں
سنائي دي تھي۔ شايد کوئي بند کرنا بھول گیا ہوگا۔ کمرے میں موجود ايک
خاتون موجده ديکھنے اٹھي۔ میں نے اس کي آنے والوں سے ہونے والي گفتگو
سننے کي ناکام کوشش کي۔ آقا نے دستک جیسے ان سني کر دي۔ تاہم جب
موجده لوٹي تو اس کے چہرے پر عجیب سے تائثرات تھے اور آقا نے اس کي
جانب ديکھا۔ جھک کر اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور بولي۔ “آقا، سلیمان آ گئے
”ہیں۔

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 1

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: