Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 20

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 20

–**–**–

باب 20
اے بھٹکے دل کے رہنما! الله کے نام پر میري مدد کر۔
کہ اگر مسافر بھٹک جائے تو محض رہنما ہي اس کي رہنمائي کر سکتا ہے۔
حافظ
سورج کي روشني سے میري آنکھ کھلي۔ میں بہت تھکا ہوا تھا۔ سردي
سے ٹھٹھر رہا تھا اور صورتحال کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ آخرکار سورج
نکل ہي آيا۔ ريت سے سر اٹھا کر میں نے سورج کو خوش آمديد کہا اور رات کے
گذر جانے پر شکر ادا کیا۔ جب جسم کچھ گرم ہو گیا تو مجھے احساس ہوا کہ
میں کھانے يا پاني کے بناء ہي نکل کھڑا ہوا تھا۔ شايد میري ٹانگوں کو ديا گیا
حکم پاني يا خوراک سے زياده اہم ہو۔ اس سوچ پر مجھے ہنسي آئي۔
الله کي رحمت نے عظیم ترين ہواؤں اور طاقتور ترين ديو سے مجھے بچايا
اور میرا دل تشکر کے احساس سے جلنے لگا۔ سورج سے سمت کا تعین کر
کے میں شمال مغرب کو صحرا عبور کرنے روانہ ہو گیا۔
تین دن اور تین راتیں میں چلتا رہا حت ٰي کہ بھنوروں نے مجھے عبادت ياد
کرائي۔ پھر توارگ مجھے ملے اور اگاديز لے آئے۔ يہاں میري اچھي ديکھ بھال کي
جا رہي ہے اور ہوش اور نیم بیہوشي کے درمیان میں وقت گذار رہا ہوں اور يہ
ياداشتیں قلمبند کرنے کے ساتھ ساتھ میں آقا کے جواب کا بھي منتظر ہوں۔
ايک ہفتہ گزرا ہے، ايک ماه يا دو ماه، مجھے کچھ علم نہیں۔ دونوں خواتین
جو میري ديکھ بھال کر رہي ہیں، اس بارے کچھ نہیں بتاتیں اور نہ ہي کوئي اور
چکر لگاتا ہے۔ دروازے کے باہر وه بیٹھي سرگوشیاں کرتي رہتي ہیں جو مجھے
سمجھ نہیں آتیں۔ میں محض ان واقعات کو درج کرتا رہتا ہوں۔ آنسوؤں اور يادوں
سے بھري يہ داستان اب پوري ہو گئي ہے۔ اب میرے آنسو اور میري سیاہي
دونوں ہي خشک ہو گئے ہیں۔ کہاني پوري لکھ دي ہے۔
کئي دن اور کئي راتوں تک میں سوتا رہا ہوں اور میرا جنون الفاظ سے بیان
نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوه مجھے ہمیشہ خواب میں آقا دکھائي ديتے۔ آخر
ايک دن صبح جب آنکھ کھلي تو آقا میرے ساتھ بیٹھے تھے۔
ان کا نام میرے ہونٹوں سے ايسے نکلا جیسے میں ابھي بھي خواب کي
کیفیت میں ہوں۔ ان کا ہاتھ چومتے ہوئے میرے آنسو نکل آئے۔ ان کے تسلي
بخش الفاظ نے جیسے مرہم کا کام کیا۔ میرا دائیاں ہاتھ انہوں نے دونوں ہاتھوں
میں تھام لیا۔ آقا کي موجودگي سے میري توانائي بحال ہو گئي اور ان کے لمس
سے میرا دل منور ہو گیا کہ جیسے وه محض لمس سے گذرے دنوں اور راتوں کو
ديکھ رہے ہوں۔ مجھے يقین ہے کہ انہیں کسي نہ کسي طرح ان واقعات کا علمہو چکا تھا۔ جتني دير میں میں مناسب الفاظ سوچتا، آقا نے کہا۔ “ابھي بولنے
”کي کوشش مت کرو۔
آقا کي آواز سے مجھے تسلي ملي اور انہوں نے ايک ہاتھ سے میري
کلائي پکڑي اور دوسرا ہاتھ میرے ماتھے پر رکھ ديا۔ میں نے بیٹھنے کي کوشش
کي لیکن انہوں نے پھر سر کے اشارے سے روک ديا۔
انہوں نے اپني آنکھیں بند کر لیں اور میں نے بھي تقلید کي۔ ماتھے پر
رکھے ان کے ہاتھ نے میري ياداشت پر پرده کر سرکانا شروع کر ديا۔ سفر کي
سیل رواں کي مانند لوٹ آئیں۔ خوف، تشکیک، حیرت، مايوسي اور امید،
ِ
ياديں
سبھي بہہ نکلیں۔ ماہر طبیب کي طرح انہوں نے میرے دل پر چڑھا طلسم اتار
ديا۔
اب بولو۔” انہوں نے نرمي سے کہا۔”
آقا۔” میں نے رندھے ہوئے گلے سے کہا کہ گلے کے عضلات درد کر رہے”
تھے۔
انہوں نے مجھے تھوڑا سا پاني پلايا اور میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ پھر پھنسي
پھنسي سي آواز میں میں نے آقا کو طوفان اور گمشده شہر اور کنويں کے ديو
کے بارے بتايا۔ انہوں نے سر سے چھوٹي میز کو اشاره کیا جہاں میري
”ياداشتوں کا مسوده رکھا تھا اور کہا۔ “میں پڑھ چکا ہوں۔
آقا ۔ ۔ ۔ فقیر، جاسوس ۔ ۔ ۔ کے اور بھي کئي نام تھے لیکن وه سب آگ”
”میں جل گئے۔ وه ۔ ۔ ۔ وه اورنیاس ہے، کہاني والا جن۔ میں نہیں ۔ ۔ ۔ ۔
میں جانتا تھا۔” آقا نے نرمي سے کہا۔ “قابل رہنما تمہیں کنويں تک لے گیا”
”تھا۔
“!لیکن وه جن تھا! عفريت بالزيبول کي مانند”
اس جیسا تو تھا، لیکن اس جیسا نہیں بھي تھا۔ تمہیں اس طويل کہاني”
کا علم نہیں ہے اور نہ ہي اس کے ناموں کي سچائي کا۔ بالزيبول نے اس کي
آمد کو دور سے محسوس کر لیا تھا اور اسي وجہ سے کنويں میں چھپا اور پھر
آرون میں شاه کے پاس چلا گیا۔ اگر تم لوگ انتظار کرتے کہ تمہارا رہنما اس مہر
کو توڑتا تو جنات کا بادشاه بھي اس کے سامنے بے بس ہوتا اور بخوشي تمہیں
”خوش خبري لا ديتا کہ وه بھي ايک پیغام رساں تھا۔
پیغام رساں؟ خوشخبري؟ اتنا تو مجھے علم تھا کہ مجھے سوال نہیں کرنا
لیکن يہ سمجھ بھي نہ آيا کہ کیا کہوں۔ مجھے اس بات سے شديد حیرت ہو
رہي تھي کہ ہمارے رہنما کي حقیقت آقا سے پوشیده نہیں تھي۔
آقا میرے شش و پنج پر مسکرائے۔ “تمہیں اتنا علم ہو چکا ہے کہ تم کیا
”نہیں جانتے۔ اس سفر سے کم از کم يہ تو بات پتہ چلي۔
”آقا، بے چارے علي اور رامي۔ وه ۔ ۔ ۔ ۔”
انہوں نے حفاظت میں کوئي کمي نہیں کي اور کنويں کے منہ کو اپنے”
جسموں سے بند کر ديا تاکہ کوئي اور جن نہ نکل سکے۔ اسي وجہ سے وه
قید ہو گئے ہیں اور اب ہمیں ان سے ملنا ہے۔ اب تم ٹھیک ہو چکے ہو۔ تمہارا
”داستان نويسي کا کام ابھي ختم نہیں ہوا۔
علي اور رامي قید ہیں؟ زنده بھي؟ میرے دل کي دھڑکن تیز ہو گئي۔ جنات!کي سرزمین پر! الله ان پر رحم کرے
مجھے آقا کي بات پر پورا يقین تھا۔ قطب جنات اور انسان، دونوں جہانوں
کے درمیان کام کرتے ہیں، اگرچہ آج سے قبل میں اسے محض سني سنائي
بات سمجھتا رہا تھا۔ بے شک، داستان نويس کا کام ابھي ادھورا تھا اور مجھے
اپنے ہمراہیوں کي زندگي کي خبر سن کر بہت خوشي ہوئي اور پروفیسر اور
اپنے درويش بہن بھائي کو چھوڑنے پر شرمندگي بھي محسوس ہوئي۔
میں نے ان کے بارے پوچھا لیکن آقا نے سر ہلايا۔
ان کي طويل رات ابھي ختم نہیں ہوئي۔ صرف تمہیں صبح تک کا راستہ”
”عطا کیا گیا تھا۔ فکر نہ کرو، جلد ہي تم اپنے ساتھیوں کو ديکھو گے۔
راستہ؟ “آقا، کیا اورنیاس ہمیں کنويں کو کھولنے سے روک نہیں سکتا تھا؟
”اسے تو مستقبل کا بھي علم ہوتا ہے۔
جب آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں تو پھر کوئي مستقبل يا ماضي”
”نہیں ره جاتا نوجوان۔
” بے شک!۔ “لیکن پھر۔ ۔ ۔
بس کرو! لفظوں سے تمہاري بے چیني نہیں ختم ہوگي۔ کل صحرا ہمیں”
”اصلي کہاني دکھائے گا۔
پھر سے صحرا! میں نے آه بھري، اگرچہ مجھے اس مہم کا سوچ کر ہلکا
سا خوف بھي محسوس ہوا۔ آقا آ گئے تھے اور ان سے بہتر رہنما ممکن نہیں تھا
اور غیر متوقع امید سے میرے تن بدن میں نئي توانائي آ گئي تھي۔ میرے
سارے انديشے ہوا ہو گئے تھے۔ جیسے کاتب کي قلم کو آگے سے کاٹا جاتا
ہے، اسي طرح محبت کا راستہ عقل کي راه کاٹ ديتا ہے۔ ايسے قلم کو دل
میں اگے سرکنڈوں سے کاٹا جاتا ہے اور اس پر يہ طلسم پڑھا جاتا ہے: “مجھے
”بخوشي قبول ہے۔
میں نے جلدي جلدي کپڑے بدلے اور آقا کے پیچھے چل ديا۔ ان کي پیروي
کرتے ہوئے میري خوشي ديدني تھي۔ وه مجھے امینوکل کے گھر کے صحن
میں لے گئے جہاں وه افارنو کے ساتھ بیٹھا چائے پي رہا تھا۔ ہمارے اندر جاتے
ہي دونوں اٹھ کھڑے ہوئے۔
بار دگر۔” امینوکل نے مسکراتے ہوئے کہا۔”
ِ
خوش آمديد۔ خوش آمديد
””مجھے خوشي ہے کہ تم ٹھیک ہو گئے ہو۔
میں ان دونوں کے سامنے جھکا۔ اپنے ساتھیوں سے بچھڑنے کے غم سے
میرے آنسو نکل آئے۔ کہتے ہیں کہ انتہائي خوشي کي مانند انتہائي غم بھي
انسان کو بولنے سے معذور کر ديتا ہے۔
امینوکل چپ رہا لیکن افارنو کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وه مجھے بوجھ
سمجھ کر مشکل سے برداشت کر رہا ہے۔ اس کے باپ نے اسے ہمارے لیے
چائے اور مٹھائي لانے کا حکم ديا۔ ہمیں گھورتے ہوئے افارنو چلا گیا۔
میرے بیٹے کو معاف کر دو۔” اس نے مجھے کہا۔ “اسے تمہارے سفر کے”
”بارے کچھ خبر نہیں اور اسے تمہارے غم کا بھي اندازه نہیں ہے۔
آقا نے سر ہلايا۔ “آنسو خو ِن جگر ہوتے ہیں جو غم کي شدت سے پاني بن
”جاتے ہیں۔”اے کاش۔” امینوکل نے جواب ديا۔ “جلد ہي سمجھ جائے گا۔”
میں نے باري باري دونوں کو ديکھا لیکن ان کي بات کو نہ سمجھ سکا۔
البتہ اتنا معلوم ہو گیا کہ امینوکل کو ہمارے مقصد کے بارے کچھ نہ کچھ ضرور
علم ہے۔ عمر میں وه آقا سے بڑا تھا اور اپنے دنیاوي مرتبے کي بناء پر اس کي
شخصیت مرعوب کن تھي۔ پھر بھي وه آقا سے کچھ دبا دبا دکھائي ديتا تھا۔
مجھے گمان ہوا کہ اس سارے سلسلے میں امینوکل بھي کسي نہ کسي طور
ملوث ہے۔
رات کے کھانے کے لیے ہم امینوکل کے صحن میں بیٹھے جہاں امینوکل
نے آگ جلا لي تھي۔ افارنو ہمارے چائے لايا اور باورچي خانے سے خواتین کے
بولنے کي ہلکي سي آواز آ رہي تھي۔ میں گذشتہ کئي ہفتوں سے ان کي
تیمارداري کي وجہ سے ان کو بخوبي جاننے لگ گیا تھا اور آقا کي آمد ان کے
لیے بھي خوشي کا سبب تھي۔ افارنو کے اطوار سے ناپسنديدگي ظاہر ہوتي
تھي۔
آپ کے خیال میں کیا ہڈياں کھودنے والے ابھي تک زنده ہوں گے؟” اس نے”
سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔
بظاہر اس کا سوال اپنے باپ سے تھا لیکن جواب آقا نے ديا۔ “اگر الله کي
مرضي ہوئي تو کیوں نہیں۔” انہوں نے کہا۔ “کم از کم اسحاق اور میں تو سچ
”کي تلاش میں علي الصبح نکل رہے ہیں۔
ان کي خوراک اور پاني کب کا ختم ہو گیا ہوگا۔ میں نے ان احمقوں کو بہتر”
”جگہوں کے بارے بتايا بھي تھا۔
بے شک تم نے بتايا تھا اور الله تمہارا حساب آسان کرے۔ لیکن لالچ بري”
بلا ہے۔ اسے چھپايا نہیں جا سکتا۔ تمہیں لگے گا کہ يہ تمہارے دل چھپي ہوئي
”ہے لیکن اس کا سر اور بازو باہر کو لپک رہے ہوتے ہیں۔
افارنو يہ جواب سن کر کچھ بے چین ہوا۔ “احمق ہي ہڈيوں کي تلاش میں
”صحرا میں آئیں گے۔ بیکار کي بکواس۔
ہڈيوں کے پیچھے تو سونا بھي کمتر ہے بیٹے۔” امینوکل بولا۔ “ہم سب”
”کي ہڈياں ہي بچتي ہیں۔
بے شک۔” آقا نے اضافہ کیا۔ “بہتر ہے کہ اچھے سنار کو ديکھا جائے جس”
”کا کام کھرا اور لازوال ہو۔
يہ سن کر افارنو کا ضبط قائم نہ ره سکا اور غصے کے مارے اٹھ کر اس نے
اجازت مانگي اور گھر میں چلا گیا۔
اس کے ر ِد عمل نے مجھے افسرده کر ديا۔ اس کے باپ کي ذہانت اور آقا
کي توجہ بھي اس کے دل کو نہ چھو سکي۔
اس کا اگلا سفر آخري ہوگا۔” آقا نے کہا۔”
امینوکل نے آه بھري۔ “میرا بھي۔” اٹھتے ہوئے وه بولا اور اپنے بیٹے کي
طرح گھر میں چلا گیا۔
آقا کے الفاظ سن کر مجھے افارنو کے بارے تشويش ہونے لگي مگر مجھے
وجہ سمجھ نہ آ سکي۔ آقا نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
اس کے لیے پريشان مت ہو۔” انہوں نے کہا۔ “الله کسي کے فعل سے”لاعلم نہیں ہوتا۔ محض الله کي رحمت اور اس کي مغفرت ہي ہوتي ہے جو اسے
برائي کو عیاں ہونے سے روکتي ہے۔ ہر انسان کے اعمال اس کے مقدر کا تعین
کرتے ہیں اور افارنو کي ضد اس کي قسمت پر مہر ثبت کر چکي ہے۔ افسوس،
”اس کے اونٹوں پر لدا وزن بہت بھاري ہے۔
اگلے ہي لمحے آقا بھي گھر کے اندر چلے گئے اور میں آگ بجھانے کو
اکیلا ره گیا۔ میں نے آقا سے ان کي بات کي وضاحت نہیں پوچھي۔ اونٹوں پر
لدے وزن کے بارے کہي گئي کہاوت عموماً سمگلروں کے بارے ہوتي ہے۔ انہوں
نے اسے خطرے سے پیشگي آگاہي دينے کي کوشش کي لیکن قبائلي غرور
اور حرص نے اس کے دل کو سخت کر ديا تھا۔ میں نے آگ پر مٹي پھینکي اور
کوئلوں کو بجھتے ديکھتا رہا۔ مجھے علم ہو گیا تھا کہ میں افارنو کو پھر نہیں
ديکھ پاؤں گا۔
اگلي صبح وه جا چکا تھا۔ ايک لفظ بولے بنا چلا گیا۔ حرص نے اسے اس
کے آخري کارواں میں شامل کرا ديا تھا۔ نہ تو آقا اور نہ ہي امینوکل نے اس بارے
بات کي۔ انہوں نے اس کے گرد قسمت کا دائره تنگ ہوتے ديکھ لیا تھا لیکن
اسے بچانا اب ممکن نہیں رہا تھا۔
پھر بھي اگلا دن نکلا اور ہم سب ناشتے کے لیے جمع ہوئے تو میں نے
آگے کے بارے سوچنا شروع کیا۔ میرے بھائي بہن بہت بے چین ہوں گے اور
مجھے فکر تھي کہ وه اب بھوک اور پیاس سے مرنے والے ہوں گے۔
میں نے اس بارے بات نہیں کي اور نہ ہي اس بارے کسي اور نے بات کي۔
آقا اور امینوکل دسترخوان پر ايک دوسرے کي طرف منہ کر کے بیٹھے اور بار بار
ايک دوسرے کو ديکھ کر سر ہلاتے اور آه بھرتے جیسے دونوں بولے بغیر گفتگو
کر رہے ہوں۔
کھانے کے بعد امینوکل نے برتن اور دسترخوان ہٹايا تو آقا میري جانب مڑے
اور بولے۔ “جو کچھ تم نے سنا ہے، اس پر خاموش رہنا۔ روايات کي پاسداري نہ
کرنے پر پريشان مت ہو۔ ہمیں بہت کچھ کرنا ہے اور وقت بہت کم ہے۔ ہمیں آگ
”بجھنے سے قبل دائرے میں داخل ہونا ہے۔
آگ بجھنا! يہي الفاظ تو شاه سلیما ؑن نے کیپٹن سیماچ کے منہ سے ادا”
کیے تھے۔ لیکن کون سي آگ بجھ رہي تھي؟
آقا کھڑے ہوئے اور میں نے ان کي پیروي کي۔ ہمارا رخ صحن سے نکل کر
گلي کي طرف ہو گیا۔ امینوکل وہاں ہماري اسي لینڈ روور کے ساتھ کھڑا تھا
جس پر بیٹھ کر ہم صحرا میں داخل ہوئے تھے۔ مجھے اپني آنکھوں پر يقین نہیں
آيا۔ دھلي دھلائي جیپ سامان سے لدي ہوئي تھي لیکن تھي وہي گاڑي۔
ہمارا میزبان اسے وادي سے واپس لايا تھا۔” آقا نے بتايا۔ “اچھي حالت”
”میں ہے۔
آقا کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ديکھا تو میرا دل خوشي سے بلیوں
اچھلنے لگا۔ امینوکل ان کے ساتھ والي نشست پر بیٹھ گیا۔ میں گاڑي میں بیٹھا
تو انجن غرايا۔ ہم اسي گلي سے تیز رفتاري سے نکلے۔ صحرا پہنچ کر بھي
ہماري رفتار کم نہ ہوئي۔ گاڑي آقا کے اشارے پر اس طرح چل رہي تھي جیسے
وه آقا کي سوچ پڑھ رہي ہو۔ ہم اس طرح چکر کاٹتے اور مڑتے جا رہے تھےجیسے کسي غیر مرئي چیزوں سے بچ رہے ہوں۔
سارا دن ہم سفر کرتے رہے اور بمشکل کھانے، ايندھن اور نماز کو رکتے۔
صحرا گذرتا رہا اور دوپہر کو ہم ارگ پہنچ گئے۔ اب ريت کے چھوٹے ٹیلوں کي جگہ
سینکڑوں فٹ اونچي ريتلي پہاڑيوں نے لے لي۔ آقا اسي طرح بے فکري سے
گاڑي چلاتے رہے اور پہاڑيوں کے درمیان سے راستے تلاش کر کے آگے کو
بڑھتے رہے اور ہم اپنے گمشده ساتھیوں کے قريب سے قريب تر ہوتے گئے جو
اس رکي ہوئي رات میں ہمارے منتظر تھے۔
سورج غروب ہونے کے بعد دھندلکے میں ہمارے سامنے ايسي رکاوٹ آئي
جسے ہم عبور نہ کر سکتے تھے۔ ہزاروں فٹ اونچي ريتلي پہاڑيوں کا عظیم
دائره ہمارے سامنے تھا۔ میں حیران تھا کہ میرے ايک لفظ کہے بنا آقا براه راست
ہمیں وہي لے آئے جو ہماري منزل تھي۔ يہ پہاڑياں اس عظیم طوفان کے نتیجے
میں بني تھیں۔ ان کے درمیان وہي گمنام شہر تھا جسے چھوڑ کر میں آيا تھا۔
روشني ختم ہو رہي تھي اور چوٹي تک پہنچنے کو کم ہي وقت بچا تھا۔
لینڈروور وہیں چھوڑ کر ہم آقا کي رہنمائي میں نکلے۔ ان کے عین پیچھے
امینوکل تھا جو بغیر کسي دقت کے چڑھتا رہا۔ ہمارے نیچے موجود ريت پتھر کي
طرح سخت تھي لیکن آقا کے قدموں کے نیچے اس طرح ہٹتي جا رہي تھي
جیسے ان کے لیے باقاعده راستہ بنا رہي ہو۔
ستارے نکل آئے تھے جب ہم اس پہاڑي کي چوٹي سے ہو کر گمشده
شہر تک پہنچے۔ راستے میں ہم نے کسي جگہ آسماني دروازے کو عبور کیا
ہوگا لیکن مجھے اس کا علم نہیں۔ ساکن ستاروں کي روشني میں میں نے
سفید پتھر سے بني اس عمارت کا گنبد ديکھا جو دوسري عمارتوں سے زياده
اونچي تھي۔
میري را ِه فرار کي مخالف سمت ہم اندر داخل ہوئے اور اس درخت کے
مغرب کي سمت سے اندر آئے۔ يہ وہي درخت تھا جس کے نیچے طوفان کے
دوران ہم رکے تھے۔
آگ جل رہي تھي اور درخت کے نیچے تین انساني جسموں کو ديکھ کر
میں نے حیرت سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔
آقا، ہمیں دير ہو گئي۔” میں نے کہا۔”
آگ اپنے آپ نہیں جلتي۔” آقا نے نرمي سے کہا۔ “اور ُمردوں کو ويسے”
”بھي آگ کي ضرورت نہیں ہوتي۔ دوڑ کر جاؤ اور انہیں جگاؤ۔
“!میں لپک کر پہنچا اور چلايا۔ “جاگو! جاگو
میرے تینوں ساتھي فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور میں نے انہیں گلے لگا لیا۔
مجھے ديکھ کر وه بہت خوش تھے۔
تمہیں کیا ہوا تھا؟ کہاں چلے گئے تھے؟” ربیکا نے پوچھا۔”
پتہ نہیں!” میں نے جواب ديا اور اسے بتايا کہ فقیر کے آخري حکم نے”
مجھے کیسے جانے پر مجبور کیا اور کیسے صحرا میں میں گم ہو گیا اور پھر
کیسے لوگوں نے مجھے تلاش کر کے میري جان بچائي۔
انہوں نے مجھے ايسے ديکھا جیسے میں ديوانہ ہو گیا ہوں۔ “تم تو محض
چند گھنٹے ہي غائب رہے ہو۔” پروفیسر نے کہا۔ “تمہیں ہماري آواز نہیں سنائي” دي؟ ہم تمہیں بلا رہے تھے۔ تمہارا نام لے رہے تھے۔
میں نے حیرت سے سر ہلايا اور ديکھا کہ پروفیسر کے ماتھے پر پٹي
بندھي تھي اور کیپٹن سیماچ کا بائیاں بازو پٹي میں لپٹا تھا۔
پر مجھے تو گئے ہوئے مہینہ ہو گیا ہے۔” میں نے جواب ديا۔ “اور اب آقا”
”میرے ساتھ آئے ہیں۔
اگلے لمحے آقا اور امینوکل بھي پہنچ گئے جس سے میرے ساتھي
ششدر ره گئے۔
خدايا۔” پروفیسر بولا۔”
بے شک۔” آقا نے مسکراتے ہوئے جواب ديا۔ “الله کي رحمت سے تم لوگ”
”يہاں تک پہنچے ہو، حالانکہ يہ جگہ دنیا کا انتہائي بیروني کناره ہے۔
ربیکا اور کیپٹن سیماچ نے انہیں حیرت سے ديکھا اور اپنے سر ايسے
جھٹکے جیسے نیند سے بیدار ہوئے ہوں۔
آقا۔” دونوں نے ايک ساتھ سرگوشي کي اور آگے بڑھ کر ان کے ہاتھوں کو”
چومنے کي کوشش کي لیکن آقا نے دونوں کو گلے سے لگا لیا۔
آؤ۔” انہوں نے کہا۔ “میرے ساتھ میرا پرانا دوست بھي ہے جو کسي حد”
تک طب میں عمل دخل رکھتا ہے۔ آگ کے پاس بیٹھ کر تمہارے زخموں کا علاج
” کرتے ہیں۔
پھر آقا نے امینوکل کا تعارف کرايا اور اس نے مسکرا کر انہیں مختصراً
تعارفي کلمات کہے۔ توارگ کم گو مشہور ہیں۔ ہم آگ کے پاس بیٹھ گئے اور
پروفیسر میرے پاس بیٹھ کر آقا کو مسلسل ديکھے گیا۔ اس کے کندھے جھک
گئے تھے اور بہت تھکا ہوا دکھائي دے رہا تھا۔ مجھے اس کے وسوسوں کا بوجھ
معلوم تھا۔
آہستگي سے امینوکل نے پروفیسر کي پٹي اتار کر زخم کا جائزه لیا۔
معمولي سا زخم ہے۔” اس نے کہا۔ “زخم بالکل صاف ہے اور جلد ہي بھر”
”جائے گا۔
ربیکا نے سر ہلايا اور امینوکل کا شکريہ ادا کیا لیکن پروفیسر خاموش رہا۔
کیپٹن سیماچ کي چوٹ بھي معمولي تھي۔ اس کے بازو میں ہلکي سي موچ آ
گئي تھي اور اس نے بتايا کہ اس نے ربیکا کے اصرار پر اسے پٹي سے باندھا
ہوا تھا۔ پھر اس نے اپنے بازو کو حرکت دے کر بھي دکھايا۔
خوب۔” آقا نے کہا۔ “علي اور رامي کو بچانے کے لیے ہمارے پاس زياده”
”وقت نہیں۔
يہ سن کر انہیں اور بھي زياده حیرت ہوئي۔ کیپٹن اور ربیکا کو يہ جان کر
بہت خوشي ہوئي کہ علي اور رامي ابھي زنده ہیں۔ انہیں آقا کي بات پر کوئي
شک نہیں گذرا۔ پروفیسر فري مین ابھي تک دھچکے سے باہر نہیں نکل پايا تھا۔
اسے تو ابھي اس بات پر بھي يقین نہیں آ رہا تھا کہ میں ايک ماه کے لیے غائب
ہوا تھا۔
مگر میري آنکھوں کے سامنے دونوں نے اس شیطان کے پیچھے شعلوں”
“چھلانگ لگائي تھي۔” اس نے کہا۔ “پھر وه کیسے زنده بچے؟
آقا نے شانے اچکائے۔ “وه اپنے فرض اور اپني محبت کے لیے پرخلوص تھےاس لیے آگ انہیں کوئي نقصان نہیں دے سکتي۔ آقائے جنات انہیں کوئي نقصان
نہیں پہنچا سکتا۔ وه انہیں نہیں جان سکا۔ میں اب بھي اورنیاس کے ساتھ
”سوچوں میں ہوں اور وه ان کے ساتھ ہے۔
پروفیسر فري مین نے ايک منٹ کے لیے آقا کو ديکھا پھر اس نے جو ديکھا،
اسے وه نہیں جھٹلا سکا۔ اس کي آنکھوں میں آنسو تھے۔
بے شک میں ہي احمق ہوں۔” اس نے کہا۔ “میري ماں کے خواب نے”
مجھے پناه لینے کا اشاره کیا تھا اور میں اسے نہ سمجھ پايا۔ آپ میري پناه گاه
ہیں۔ آقا۔ مجھے اب يقین ہو گیا ہے۔ آپ اپنے سب سے ضدي اور احمق شاگرد
”کو اپني پناه میں بطور درويش قبول کر لیں۔
اصل پناه صرف الله کي ہوتي ہے اے دوست۔” آقا نے کہا۔ “الله کي”
مہرباني اور کرم سے ہي تم يہاں تک پہنچے ہو۔ الله کے حکم سے میں تمہیں
”خوش آمديد کہتا ہوں۔
ربیکا رونے لگي اور اس نے باپ کے گلے لگ گئي۔ اس کي آنکھوں سے
بے يقیني جھلک رہي تھي۔ میرا دل بھي ان کے لیے خوش ہو گیا۔ سائے بھي
کم تاريک دکھائي دينے لگے۔
تمہاري شمولیت ابھي نہیں ہو سکے گي۔” آقا نے کہا۔ “اس بیکراں”
کائنات کي حدود ہو سکتي ہیں لیکن دل کي سائنس کي کوئي حد نہیں۔
طبعیات کے قوانین اپني جگہ اٹل لیکن وه ابھي اس جگہ کچھ نہیں کر سکتے۔
صرف الله کي محبت ہي زمین اور آسمان کو قابو کیے ہوئے ہے اور ہر چیز تھم
”چکي ہے۔
ہمیں آقا کي بات سمجھنے میں کچھ وقت لگا اور ہم سب نے بیک وقت
ہي آسمان کو ديکھا۔ ان کي بات سچ تھي۔ ستاروں کے مقامات بدل چکے تھے۔
سیريئس اور کاپیلا غروب ہو چکے تھے۔ انٹاريس اور ويگا بلند ہو چکے تھے۔ آقا
کي آمد سے وه نامعلوم رکاوٹ دور ہو گئي تھي۔ وه ستارے جو اب تک اپني
محو گردش تھے۔ آسمان کے دروازے بند
ِ
جگہ ساکن تھے، اب اپنے مداروں میں
ہونے والے تھے۔
ہاں۔” آقا نے کہا۔ “پو پھٹنے والي ہے۔ دنیا کي سرحد پر يہ بہت جلدي آ”
”جاتي ہے۔
بے شک۔” امینوکل نے آه بھري۔ “ہمارے لوگوں کا رہنما اب غروب ہو چکا”
”ہے۔
کیا آپ کا اشاره ہوگو کي طرف ہے جو مجموعہ اوپفیوچس میں ہے؟””
پروفیسر نے آسمان کي طرف اشاره کرتے ہوئے پوچھا۔ “مجھے معلوم ہے کہ
”تمہارے کاروان اس کي مدد سے سمت جانچتے ہیں۔
ہم اسے حجوج کے نام سے پکارتے ہیں۔” امینوکل نے آگ کو ديکھتے”
ہوئے کہا۔
مجھے احساس ہوا کہ وه محض ستاروں کے بارے بات نہیں کر رہا۔ مگر
دوسروں کو افارنو کے بارے علم نہیں تھا۔
ستاروں سے اب ہمارا کوئي واسطہ نہیں رہا۔” آقا نے کہا۔ “اگرچہ تم”
لوگوں نے بالزيبول کو بے نقاب ہوتے ديکھا، مگر تم اسے نہیں پہچانتے۔ جن کادل آگ کا بنا ہوتا ہے اور آگ ہي اس کا خون ہوتي ہے، بغیر دھواں ديے اور لازوال،
”اور جنات انسان سے محبت نہیں کرتے۔
افسوس۔” امینوکل نے کہا۔ “ايسا ہي ہے۔ جنات قديم ترين ستاروں سے”
بھي پرانے ہیں اور ان کي طاقت شروع سے ان کے ساتھ ہوتي ہے۔ فاني انسان
”انہیں کوئي نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
پھر بھي اورنیاس نے انساني شکل بنائي ہوئي تھي۔” کیپٹن سیماچ نے”
کہا۔
ہاں، پتہ نہیں کیوں؟” پروفیسر نے جواب ديا۔”
يہ بات تم خود اس سے پوچھ لینا۔” آقا نے جواب ديا۔ “جب وه دوباره ملے”
”گا۔
پروفیسر فري مین کي آنکھیں يہ سوچ کر پھیل گئیں لیکن میري آنکھیں
محض اپني حفاظت کے خیال سے پھیلي تھیں۔
فقیر کا لمس ہمیں کھا جاتا؟” مجھے ياد آيا کہ فقیر ہر ممکن کوشش کر”
کے ہم سے دور رہتا تھا۔
آقا نے اثبات میں سر ہلايا۔ “جنات لمس کو محسوس نہیں کر سکتے، مگر
ہاں، جب تم ان سے ان کي سطح پر جا کر رابطہ کرو۔ انساني جسم کي وجہ
سے اس پر انساني حدود لاگو ہوتي تھیں لیکن اس کي فطرت نہیں بدلي۔ اپني
نسل میں وه بہت اونچا درجہ رکھتا ہے ورنہ اسے يہ تحفہ نہ ملتا۔ خیر يہ الگ
”کہاني ہے۔
کیا اس پر اعتبار کیا جا سکتا ہے؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
”مجھے تو اعتبار ہے۔”
پروفیسر نے سر ہلايا۔
جب ہم ان کي حدود عبور کريں گے تو تمہیں فاصلے کا خیال رکھنا ہوگا۔””
آقا نے تنبیہ کي۔ “ان کي اپني سرزمین پر ان کي طاقت تمہیں تباه کر سکتي
”ہے، اگر وه چاہیں تو۔ سب سے زياده بالزيبول سے خبردار رہنا۔
بے شک! مجھے خوب ياد ہے کہ بچپن میں میري والده مجھے جنات کے
خونخوار آقا کے بارے بتايا کرتي تھي کہ شرارتي بچوں کو وه کیسے سزا ديتا
ہے۔ میرا پريشان چہره ديکھ کر آقا ہنس پڑے۔
تمہیں ڈرنے کي ضرورت نہیں ہے اسحاق۔” آقا نے ہنستے ہوئے کہا۔”
“کوئي بھي عفريت عالم کي تقرير نہیں برداشت کر سکتا۔” ان کي اس بات پر
ہم سب ہنس پڑے۔ آقا ہمیشہ سے ايسے ہي ہیں۔
اب تم سب اپنے دل مضبوط بنا لو۔” انہوں نے کہا۔ “يقین کرو کہ الله نے”
اس زمین پر يا آسمانوں پر کہیں بھي کوئي چیز انسان سے زياده طاقتور نہیں
”بنائي۔
ان کي يہ بات سن کر ہم سب کو سکون ملا۔ مجھے ان کي بات پر پورا
اعتبار تھا کہ الله کي اجازت سے قطب جنات اور انسان، دونوں پر طاقت رکھتے
ہیں لیکن میري توجہ آس پاس موجود ريتلي پہاڑيوں پر دکھائي دينے والي صبح
کي روشني پر مرکوز ہو گئي۔ اپني دنیا میں سورج غروب ہوئے بمشکل ايک
گھنٹہ ہوا ہوگا اور يہاں صبح ہو گئي تھي۔اب جلدي کرو۔” آقا نے کہا۔ “روشني اس سرزمین پر تین ہزار سال سے”
نہیں پڑي۔ اسے برداشت نہیں کر پائے گي۔” مزيد کچھ کہے بنا آقا اٹھے اور
کنويں والي عمارت کو چل پڑے۔ ہم نے فوراً ان کي پیروي کي۔
تھوڑي دير میں ہم کنويں کے پاس پہنچ گئے اور سورج اتني تیزي سے بلند
ہو رہا تھا کہ جیسے اسے فوراً غروب ہونے کي عجلت ہو۔ آقا اس سے بے نیاز
تھے اور ان کے قدم تیز۔ مشرقي در سے وه اندر داخل ہوئے اور اِدھر ُادھر
ديکھے بنا سیدھے کنويں اور اس پر رکھے ڈھکن کو جا پہنچے۔
احتیاط کیجیے گا۔” پروفیسر فري مین نے کہا۔ “بہت گہرا کنواں ہے،”
جیسے جہنم کي گہرائیوں کا دروازه ہو اور اس میں يک بیک آگ بھڑک اٹھتي
”ہے۔
بے شک يہ دروازے کا کام کرتا ہے۔” آقا نے کہا۔ “تمہیں سبق اچھي طرح”
ياد ہے۔ تاہم يہ اس لفظ کا ايک معني ہے۔” پھر وه کنويں کے ڈھکن کے اوپر
خاموشي سے کھڑے ہو گئے۔
کسي نے بات کرنے کي جرأت نہیں کي۔ مسلمانوں کے لیے جہنم سے
زياده بري کوئي چیز نہیں۔ آقا نے ضرور کچھ ايسا ديکھا ہے کہ وه چپ کر گئے۔
پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ کي دو انگلیوں سے اپنے ہونٹوں کو چھو کر ڈھکن
کے وسط میں لگي مہر پر رکھ ديا۔
ان کے اس انداز سے مجھے بہت حیرت ہوئي اور ايسا لگا جیسے ہمارے
اردگرد کا ماحول بدل گیا ہو۔ شدت سے ايسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے
کوئي ہماري حرکات کو ديکھ رہا ہو۔ اگر ايسا تھا بھي تو آقا ذرا بھي نہ جھجھکے۔
ڈھکن ہٹا دو!” انہوں نے حکم ديا اور ہم چاروں نے مل کر فوراً ڈھکن ہٹا کر”
احتیاط سے زمین پر رکھ ديا۔
امینوکل نے سب سے پہلے کنويں میں جھانکا اور رونے لگا۔ اس بے پناه
گہرے اور تاريک کنويں میں اب صاف اور بہترين پاني موجود تھا اور ايسے چمک
رہا تھا جیسے آئینہ ہو۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھونا چاہا جیسے سراب ہو۔
پاني کو مت چھونا!” میرے ہاتھ کو ہلتا ديکھ کر آقا نے کہا۔”
يہ کیسا پاني ہے؟ کہاں سے آيا ہے؟” پروفیسر نے سرگوشي کي۔”
تمام چشمے اس سمندر میں جا گرتے ہیں جہاں سب سرچشمے جاتے”
ہیں۔ اگر تم انتظار کرتے کہ فقیر ڈھکن ہٹاتا تو تمہیں بھي پاني ہي ملتا۔ بالزيبول
کي آگ وہیں رہتي اور اورنیاس کا جسم آگ سے نہ جل کر ختم ہوتا۔ رک جاؤ۔ يہ
وه حد ہے جسے جنات عبور نہیں کر سکتے۔ يہاں پشون، گیہوں، پراتھ اور ہديکل
”ملتے ہیں۔
جنت کے چاروں دريا!” پروفیسر فري مین نے حیرت سے پوچھا۔”
آقا نے جواب نہیں ديا۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کو پاني کے اوپر ہلايا اور کچھ
پڑھا جو مجھے سنائي نہیں ديا۔ اسي لمحے آئینے جیسا پاني دوسري دنیا
کي کھڑکي بن گیا۔
ناقابل برداشت تاريکي نے ہماري آنکھوں پر پرده تان ديا اور کنويں سے
ِ
انتہائي سرد ہوا آنے لگي۔ شاں شاں کرتي آواز اس طوفان سے بھي زياده تیز
تھي جو ہم بھگتا کر آئے تھے۔ ايسے لگتا تھا کہ جیسے کنواں زنده ہو۔الله ہمیں حفظ و امان میں رکھے! يہ کوئي سراب نہیں تھا لیکن سرد اور
برفاني ہوا کچھ دير تک رہي پھر ہمیں انتہائي اونچي سیاه پہاڑياں دکھائي ديں
جو چاند سے بھي زياده بلند تھیں۔ شفاف پاني سے وه صاف دکھائي دے رہي
تھیں جن پر ازل سے آگ جل رہي تھي۔
!سیاہي کے پہاڑ
اس منظر پر میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر آقا میرا بازو نہ
تھامتے تو میں شايد بیہوش ہو جاتا۔ پھر سے آنکھیں کھولیں تو منظر غائب تھا۔
دوسرے لوگ بھي اس سے نظريں چرا رہے تھے لیکن ان کي آنکھوں سے ابھي
تک اس منظر کي دہشت عیاں تھي۔
میں ايسا نہیں کر سکتا! میں نے سوچا اور میرا دل تیزي سے دھڑک رہا
تھا۔ صرف آقا کے مضبوط ہاتھ نے میرا بازو تھام کر مجھے گرنے سے روکے رکھا۔
پھر روشني آئي اور اس نے میرے دل کو صاف کر ديا۔ سورج ہمارے سروں
پر موجود سوراخ سے دکھائي دے رہا تھا اور سنہري رنگ کي روشني سیدھا
کنويں پر اتر رہي تھي اور پاني آئینے کي مانند چمک رہا تھا۔
لیکن پھر پاني کي سطح نیچي ہونے لگي جیسے روشني اسے پي رہي
ہو۔
چلو۔” آقا نے کیپٹن سیماچ سے کہا اور کنويں کي منڈير پر چڑھ گئے۔”
کیپٹن نے ان کا اشاره فوراً سمجھا اور امینوکل کو اوپر چڑھنے میں مدد دي۔
ربیکا ان کے پیچھے لپکي اور اپنے باپ کو اپنے ساتھ لے آئي۔
میں کھڑا انہیں ديکھتا رہا اور ابھي تک وه خوفناک منظر اور روشني سے
چمکتے پاني کے مابین لٹکتا رہا۔ پھر آقا نے میرے گندورا کو گردن کے مقام سے
پکڑا اور اس طرح اٹھا کر بہ آساني اپنے ساتھ کھڑا کر ديا جیسے میں کوئي ننھا
سا بچہ ہوں۔ آقا نے میرا اور امینوکل کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔ بے اختیار میں نے ربیکا
کا ہاتھ پکڑا اور اس نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑا اور پھر پروفیسر نے کیپٹن سیماچ کا
ہاتھ تھام لیا۔ جب امینوکل نے کیپٹن کا ہاتھ پکڑا تو دائره مکمل ہو گیا۔
الله اکبر۔” آقا نے کہا۔ “الله کے بناء زندگي کا پاني آگ ہے۔” اور پھر انہوں”
نے پاني میں قدم رکھ ديا۔
ہم سب نیچے گرتے چلے گئے لیکن دائره اسي طرح برقرار رہا اور سورج
کي روشني بھي آ رہي تھي۔ کنويں کي ديواروں کي سیاہي جیسے غائب ہو
گئي ہو اور پاني نیچے ہوتا جا رہا تھا۔ میرا دل اچھل کر حلق میں آن پھنسا کہ
مجھے احساس ہو گیا کہ ہم خلاء میں گر رہے تھے جیسے گرد کے ذرے
روشني کي لکیر میں ناچتے ہیں۔ ہمارے لبادے ہمارے اوپر پھڑپھڑا رہے تھے اور
آقا يہ ديکھ کر ہنس پڑے۔ ہم نیچے ہوتے گئے اور پاني نزديک آتا گیا اور میں
موجود دنیا بھي قريب تر ہوتي گئي۔ جیسے سمندر میں چھ قطرے گر رہے ہوں۔
اور بس۔

Read More:  Aanai Ke Adamkhor Wehshi By Maqbool Jahangir – Read Online – Last Episode 14

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: