Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 21

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 21

–**–**–

باب 21
اس سمندر کا پاني آگ ہے؛
لہريں آتي ہیں اور گمان ہوتا ہے جیسے
تاريکي کے پہاڑ ہوں۔
ديوا ِن حکیم سینائي
کہا جاتا ہے کہ جب جسم سو رہا ہو تو روح کو نت نئے اسرار دکھائي ديتے
ہیں اور روح انہیں ہمیشہ ياد رکھتي ہے۔
افسوس کہ مجھے اس سے زياده کچھ ياد نہیں کہ جب آقا نے نرمي سے
میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے جگايا تو مجھے کچھ ياد نہیں تھا۔ بہت دور
سے تیز روشني آ رہي تھي جو بیتلگوئز ستارے سے بھي زياده روشن تھي۔
ايک لمحے کو ايسا لگا کہ جیسے میں خانقاه میں ہوں اور دير تک سوتا ره گیا
ہوں۔ لیکن اس بار جب میں بیدار ہوا تو زمیني گھر میں نہیں تھا۔
ہم ايک بہت بڑے تہہ خانے میں تھے اور ہمارے پاس ہي پگھلي ہوئي آگ
کا تالاب تھا۔ گرمي ناقابل برداشت تھي اور سرخ روشني آنکھوں میں چبھ رہي
تھي۔ آقا نے مجھے اٹھايا اور میں نے اپنے اوپر، بہت اوپر رات کا آسمان ديکھا جو
مکمل طور پر تاريک اور ستاروں کے بناء تھا۔
آقا، ہم کہاں ہیں؟” میں نے کانپتے ہوئے گھٹي آواز میں کہا۔ میري آواز اس”
تہہ خانے میں گونج کر ره گئي۔
جہاں الله ہمیں لايا ہے۔” انہوں نے نرمي سے کہا اور مجھے ايک راستے”
کي طرف لے گئے۔
آگ سے دور لے جانے والا ہر قدم میري توانائي میں اضافہ کر رہا تھا اور آقا
کے ہاتھوں سے جیسے توانائي کي لہريں میرے بازو میں منتقل ہوتي جا رہي
ہوں۔ مجھے يہ ديکھ کر بہت حیرت ہوئي کہ میرے کپڑے بالکل خشک تھے۔
مجھے پورا يقین تھا کہ ہم پاني سے ہو کر گذرے ہوں گے۔ کیا تالاب کي گرمي
سے سوکھ گئے ہوں گے؟ مجھے ياد نہ آيا۔ میں نے مڑ کر جلتے ہوئے تالاب کو
:ديکھا اور آقا کے آخري الفاظ ياد آ گئے
!الله کے بناء حیات بخش پاني بھي آگ ہے
يہ سوچ کر میں پیچھے ہٹ گیا اور اپنے بازو پر آقا کي گرفت مضبوط ہوتے
محسوس کي۔ خاموشي سے اپنا ذکر کرتا رہا اور يہ بھي سوچ رہي کہ ہمارا کیا
بنے گا۔ يہ تو بات تو واضح تھي کہ ہم آنے والے راستے سے واپس نہیں جا
سکتے۔ میں نے خیر مقدمي الفاظ کہے لیکن جواب نہ ملا تو ہم ان کے پاس رکگئے۔ ہم اس تاريک اور عظیم شہر میں داخل ہو گئے اور دہشت اور حیرت سے
مناظر ديکھنے لگے جو پہلے کسي انسان نے نہیں ديکھے تھے۔ جنات کي
سرزمین۔
تاريکي کے پہاڑوں نے ہمیں گھیر لیا جو تاح ِد نگاه بلند تھے۔ کوئلے کي
مانند سیاه لیکن عجیب ساخت کے تھے۔ جیسے بغیر دھوئیں کي آگ ہو ۔
جیسے تاريک رات میں ہزاروں سوراخوں سے آگ کے شعلے روشن ہوں۔
وقت کا احساس ختم ہو گیا کہ جیسے ہم ابتدائے آفرينش کو پہنچ گئے
ہوں۔ يخ بستہ ہوا مسلسل چلتي رہي جیسے کسي نامعلوم سرزمین سے آ
رہي ہو۔
خدايا، ہمارے سامنے والا شہر ہماري توقعات سے بھي عجیب تر تھا۔
ايسے لگتا تھا کہ جیسے پورا شہر ہي تاريک پہاڑوں سے بنا ہو، جو کہ ہمارے
دنیاوي پہاڑوں سے کہیں بلند تھے اور ہر سمت پھیلے ہوئے تھے۔
ہر پہاڑ جیسے چمکدار پتھروں سے بنا ہو اور ان میں موجود لاکھوں دريچوں
سے آگ کے شعلے لپک رہے ہوں جو گھومتے ہوئے اس کے اوپر تک جا رہے
ہوں۔ جگہ جگہ سینکڑوں کلومیٹر وسیع چھجے بنے ہوئے تھے اور ہر ايک کا طرز
تعمیر مختلف تھا اور ڈبل آرچ وے تھے۔ انہیں تھوڑا سا ابھي مختلف زاويے سے
ديکھا جائے تو الگ نمونہ دکھائي ديتے تھے۔ معمولي سي بھي پیش قدمي ہو
يا سر کو ذرا سا بھي موڑا جائے تو مناظر بالکل بدل جاتے تھے۔
چھجوں کي جانب مت ديکھو۔ ان کا پیغام تمہاري سمجھ سے باہر ہے۔”“
آقا نے تنبیہہ کي۔
پیغام؟ شايد ان کي جیومیٹري میں کوئي ايسا پیغام چھپا ہوا ہے جو اوپر
سے ہي دکھائي دے سکتا ہو۔ تاہم مجھے کوئي سیڑھیاں نہیں دکھائي ديں۔
پوري عمارات کي جیومیٹري انساني پہنچ سے باہر لگ رہي تھي اور ايسي
تعمیرات ناديده پروں والے جنات کے سوا اور کوئي نہیں کر سکتا تھا۔
شايد يہ بل دار عمارتیں اسي زبان کا کوئي حصہ تھیں۔ انہیں جیومیٹري
کے مجموعوں کي شکل میں بنايا گیا تھا اور کسي وجہ سے مجھے ہمارے باغ
میں درختوں کي ترتیب سے مشابہہ لگ رہي تھي اگرچہ يہاں نہ تو کوئي پودا
تھا اور نہ ہي کوئي درخت اور نہ ہي کوئي رنگ يا کوئي اور چیز۔
الله کے بناء کچھ بھي نہیں اگ سکتا۔ میں نے جھرجھري لے کر اپنے
ہمراہیوں کو ديکھا۔ صرف پروفیسر فري مین پر ماحول نے اثر نہیں ڈالا تھا۔ وه
پیچھے ره کر آتشیں تالاب کے گرد والي عمارت کو ديکھ رہا تھا۔
يہ عمارت اس عمارت کي نقل تھي جو صحرا میں پراسرار کنويں کے گرد
بني تھي۔ تاہم موجوده عمارت اس سے کئي گنا زياده بڑي تھي۔ پتہ نہیں اس
گمشده شہر کي طرح کي اور کون کون سي تعمیرات يہاں موجود ہوں گي۔
پروفیسر کي سوالیہ نگاہوں میں میرا ہي سوال جھلک رہا تھا۔
آقا، يہ جگہ۔ ۔ ۔ يہ کون سي جگہ ہے؟” اس نے عاجزي سے پوچھا۔“
پراني داستانوں میں اس کا نام ‘جنّستان‘ درج ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاه“
سلیما ؑن نے خود اس تعمیر کي نگراني کي تھي۔” آقا نے جواب ديا۔
جنّستان۔ اور صحرا والے کھنڈرات؟” اس نے پوچھا۔“انہیں بھي شاه سلیما ؑن نے تیار کرايا تھا۔ انہوں نے يہ دونوں بنوائے تھے۔“
ان کي چاہت نے ان دونوں کو ايسے جوڑا تھا جیسے تاريکي اور آگ کا تعلق
”روشني اور پاني سے ہے۔
ان کي چاہت کیا تھي آقا؟” میں نے پوچھا۔“
”علم اور امید۔“
پھر کیا ہوا؟” ربیکا نے پوچھا۔“
علم نے ايک کو تباه کیا اور امید مايوسي میں بدل گئي۔ يہاں حقیقي“
خطره يہي ہے۔” آقا نے آه بھر کر جواب ديا۔
میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ جیسے يہ اربہا آتشیں شعلے ايک لحظے کو
بھڑکے ہوں، جیسے انہیں آقا کے جذبات کا خیال ہو۔ “تاہم الله بے انتہا مہربان
”ہے اور ہم پالمیرا سے کوئي گھٹیا سکے تلاش نہیں کرنے آئے۔
پالمیرا؟ صحرا میں واقع وه کھنڈرات پالمیرا کے تھے۔” پروفیسر کو واقعي“
دھچکا لگا۔
ہاں” آقا نے جواب ديا۔“
پالمیرا۔” اس نے سرگوشي کي اور مڑ کر ربیکا اور کیپٹن سیماچ کو ديکھا۔“
“پالمیرا شہر کے بارے کہا جاتا ہے کہ وه شاه سلیما ؑن نے ملکہ صبا کے لیے
بنوايا تھا۔ اسے ‘جادو کا شہر‘ بھي کہتے تھے کیونکہ ملکہ صبا کو ‘جادو کي
ملکہ‘ بھي کہا جاتا ہے۔ پراني داستانوں میں اس شہر کو روحیں اور شیاطین
”ملاقات کے لیے استعمال کرتے تھے جو تاريکي کے پہاڑوں میں ہوتي تھي۔
ايسا ہي ہے۔” کیپٹن نے تصديق کي۔ جیسے وه يہ بات پہلے سے جانتا“
ہو۔
ملکہ صبا کي قبر بھي يہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاه سلیما ؑن نے اپنے“
ہاتھوں انہیں دفن کیا تھا۔” پروفیسر نے بات جاري رکھي۔
کیپٹن سیماچ کچھ نہ بولا۔ اس نے امینوکل کو ديکھا جو اس کے پاس ہي
ناقابل بیان تائثرات تھے۔
ِ
کھڑا تھا۔ دونوں کے چہرے پر ايک ہي لیکن
لیکن جنات کہاں ہیں؟” ربیکا نے پوچھا۔“
آقا نے اپنے ہونٹوں پر انگلي رکھي۔
ہر جگہ۔” انہوں نے سرگوشي کي۔“
يہ بات سن کر میرے جسم میں سرد لہر دوڑ گئي۔ اگرچہ کچھ عجیب نہیں
دکھائي دے رہا تھا لیکن وه عجیب اونچي عمارتیں اور ان سے بھي زياده اونچے
پہاڑ اور ان میں جلتي آگ اس مکمل تاريک رات کو روشن کر رہي تھي۔ میں نے
سننے کي کوشش کي لیکن محض تیز ہوا کي آواز ہي سنائي ديتي رہي۔
خیر، اب ہم کیا کريں گے؟ کہاں جائیں گے؟” پروفیسر فري مین نے پوچھا۔“
آقا نے جواب نہیں ديا۔ ان کي آنکھیں بند تھیں اور عجیب مہربان سي
لہريں ان سے نکل رہي تھیں، جیسے تاريکي میں روشني ہوتي ہے۔ جب ہم
انہیں ديکھنے لگے تو انہوں نے آنکھیں کھولیں اور نرم آواز میں کہا۔
اب انتظار کرو۔ راستہ بنايا جا رہا ہے۔ ہمارا انتظار ہو رہا ہے اور ہمارا رہنما آ“
چکا ہے۔” انہوں نے کہا۔
جب ہم نے آقا کي نظروں کا تعاقب کیا تو ہمارے سامنے ہمارا کئي بار کارہنما ايک بار پھر انساني شکل سن ِ گ مرمر کے راستے پر چلتا آ رہا تھا جس کے
کنارے سونے سے بنے ہوئے تھے۔ ہماري حیرت ديکھیے کہ ہم بھي اسي
راستے پر کھڑے تھے۔ يہ راستہ اچانک ہي ہمارے قدموں تلے نمودار ہو گیا تھا
اور ہمارے پیچھے شہر کو جا رہا تھا اور دو انتہائي بلند ستونوں کے درمیان ہوتا
ہوا بل کھا کر ہماري نظروں سے اوجھل ہو رہا تھا۔ تاہم سڑک کا اس طرح اچانک
نمودار ہونا بھي میري توجہ اورنیاس کو فقیر کي شکل میں ديکھ کر حیران ہونے
سے نہ روک پايا۔
يہ تو پھر سے انسان بن گیا، آقا۔” میں نے پوچھا۔“
نہیں۔ جس شکل میں وه ايک بار آ چکا تھا، وه ختم ہو گئي ہے۔ اب اس کا“
”عکس باقي ہے جو ہماري انساني سوچ کے لیے بنايا گیا ہے۔
میں نے سر ہلايا۔ آقا کي عقابي نگاہوں کو دھوکا دينا آسان نہیں تھا لیکن
پھر بھي فقیر کے جلنے کے منظر پر دہشت ياد آ گئي۔ کیا اسي وجہ سے ہمیں
کوئي اور جن دکھائي نہیں دے رہے تھے؟ کیا وه ہماري انساني حدود کا خیال
رکھ رہے تھے؟ میرے پاس کوئي جواب نہیں تھا لیکن اورنیاس آقا کے سامنے آ
کر جھک گیا۔
ہزاروں بار خوش آمديد اے انسانوں اور جنات کے قطب۔ ہماري امید واپس آ“
گئي، الله بہت مہربان ہے۔” اس نے زمین پر ماتھا رکھتے ہوئے کہا۔
الحمدͿ۔ تمام تعريفیں الله کے لیے ہیں اور الله کي مہرباني سے ہم يہاں“
پہنچ سکے ہیں۔ اٹھو اور تسلي رکھو۔ اپنے نسل کے سب سے وفادار امام۔” آقا
نے جواب ديا۔
میرے ساتھي اور میں بھي حیرت کے مارے فقیر کو اٹھ کر اپنے سامنے
کھڑا ہوتے ديکھتے رہے، وہي پرانا فقیر جو ہمارا کئي بار رہنما ره چکا تھا۔ عکس
بالکل اصل جیسا تھا۔ اگرچہ میں اس کي اصل شکل، لمبے دانت اور مکروه
شکل ديکھ چکا تھا لیکن آقا کے سامنے اس کي عاجزي اور فرمانبرداري ديکھ کر
مجھے اپنے خیالات پر شرمندگي ہونے لگي۔ جن ہو يا نہ ہو، وه مجھ سے کہیں
بہتر طالبعلم تھا۔
اب جلدي کرو۔ میں اپنے درويشوں سے ملنا چاہتا ہوں۔” آقا نے کہا۔“
اے قطب، ابھي لیجیے۔” يہ کہ کر جن جھکا اور پھر ہمارے آگے چلنے لگا۔“
عموماً کوئي شاگرد اپنے آقا کے آگے نہیں چل سکتا لیکن میں سمجھ گیا کہ
آقا نے اسے بغیر کچھ آگے چلنے کا حکم دے ديا ہے۔ آقا نے اسے امام کہہ کر
پکارا تھا، يہ عہده اسے ايمان کي وجہ سے ہي نہیں ملا تھا بلکہ اس کے اع ٰلي
مرتبے کو ظاہر کرتا تھا۔ اس کے ناموں میں ايک اور نام، حالانکہ میرا خیال تھا کہ
ہمیں اس کے سارے نام پتہ چل چکے ہیں۔
يہ دن بہت عجیب تھا، اگر اسے دن کہہ سکیں تو۔ ہم خاموشي سے
چلتے رہے اور میں سوچتا رہا کہ کیا کبھي سورج ان تاريک اور خوفناک چوٹیوں پر
ابھرا ہوگا؟ اور مجھے کوئي جن دکھائي نہیں ديے مگر ايسا محسوس ہو رہا تھا
کہ ہزاروں آنکھیں ہمیں گھور رہي ہوں۔ شايد جنات ہمیں پريشاني سے بچانے
کي خاطر پوشیده ہوں؟ ہزاروں جنات کا يکايک نمودار ہونا ہمارے لیے بہت
دہشتناک ہوتا۔آقا نے میري جانب ديکھ کر نرمي سے کہا۔ “اور تمہارا خیال ہے کہ وه
تمہارے خیالات نہیں جانتے؟ يقین کرو کہ تمہاري موجودگي ان کے لیے اس
سے کہیں زياده دہشتناک ہے جتني کہ ان کي موجودگي تمہارے لیے ہوتي۔
”خیال رکھنا۔
آقا کي بات سے میرے چہرے کا رنگ بدل گیا، حالانکہ میں ان کي بات
پوري طرح نہ سمجھ پايا۔ بچپن میں میں نے جن، عفريت، ُغل اور سیلات کے
بارے بہت ڈراؤني کہانیاں سني تھیں اور انہوں نے میرے بچگانہ خوف کو فوراً
پڑھ لیا۔ آقا نے ہمارے رہنما کو جاسوس القلوب کہا تھا اور اگرچہ اس نے محض
آقا سے بات کي تھي مگر میں نے اپنا ذکر کرتے ہوئے خاموشي سے اورنیاس
سے معافي مانگنا شروع کر دي۔
سب خاموش رہے۔ پھر ہم مڑ کر انہي دونوں عظیم ستونوں کے نیچے سے
گذرے اور پھر مجھے ہماري منزل دکھائي دي۔
اس تاريک شہر کے عین وسط میں ايک انساني عمارت تھي جو سن ِ گ
مرمر اور بِلور سے بني ہوئي تھي۔ اس عمارت کي تعمیر ڈھیروں ستونوں پر کي
گئي تھي اور ايسے چمک رہي تھي جیسے انگوٹھي میں جڑا ہوا نگینہ۔
خبردار، بادشاه کا محل ہے۔” فقیر نے ہمارے سامنے جھک کر ايسے کہا“
جیسے کسي شاہي دربار میں مہمانوں کي آمد کا اعلان کیا جاتا ہے۔
پروفیسر فري مین کو کچھ کہے جانے کي ضرورت نہیں تھي اور وه تیار تھا،
کیپٹن سیماچ بھي سختي سے ہونٹ بند کیے کھڑا تھا جیسے اسے پراني
ياديں حیران کر رہي ہوں اور ربیکا دونوں کے درمیان کھڑي ہو گئي اور ان کے بازو
تھام لیے اور آقا کے اشارے کا انتظار کرنے لگي۔
مجھے معلوم نہیں کہ میں کیا سوچوں۔ تاريکي میں اربوں آتشیں شعلوں
کے بیچ کھڑي يہ عمارت جیسے اپني روشني سے جگمگا رہي تھي جیسے
سراب ہو۔
کیا يہ بھي فري ِب نظر ہے آقا؟” میں نے پوچھا۔“
کہا Iahar-Halibanonنہیں! تمہارے سامنے لبنان کا جنگل ہے جسے“
جاتا تھا۔ يہ شاه سلیما ؑن کا محل ہے جو لگ بھگ پچاس میٹر لمبا، پچیس میٹر
چوڑا اور پندره میٹر بلند ہے اگرچہ اس میں کوئي بھي ارضي لکڑي نہیں۔ جنات
نے بادشاه کے حکم پر بنايا تھا اور جنات کي تمام صلاحیتیں اس پر خرچ ہو گئیں
اور انہیں صرف وہي ساز و سامان استعمال کرنا تھا جو ان کي سرزمین پر ملتا
”تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اسي کے اندر سب سے بڑا خزانہ موجود ہے۔
مہر والي انگشتري!” پروفیسر نے پوچھا۔”
ديکھیں گے۔” آقا کا جواب تھا۔”
محل کي بنیاد بہت اونچي تھي اور انسانوں کے واسطے اس کے چاروں
گوشوں پر سیڑھیاں موجود تھیں۔ جب اس پر سے گذر کر اوپر پہنچے تو میں نے
کل 33سیڑھیاں گنیں اور اوپر بے شمار ستونوں کا جیسے جنگل کھڑا ہو۔
ہر ستون جیسے ايک ہي قلم سے بنايا گیا ہو، ان کي سطح ہموار اور
بالکل گول تھي۔ ہر ايک کے اندر جیسے کوئي دھیمي سي روشني چھپي
ہوئي ہو۔ آقا يہاں رک گئے اور ان کا سر ايسے جھکا ہوا تھا جیسے وه کچھ سنرہے ہوں۔ میں نے بھي سننے کي کوشش کي لیکن احساس ہوا کہ ہوا کي آواز
بھي نہیں سنائي دے رہي تھي۔ میں اس چبوترے کے کنارے پر گیا تو ہوا کي
آواز آنے لگي۔ جب میں واپس ہوا تو آواز گم ہو گئي۔ کیا شان تھي کہ ہوا بھي ان
کے سامنے بے بس تھي۔
گول ستونوں کو اس طرح بنايا گیا تھا جیسے يہ رات اور روح، دونوں
تاريکیوں کے خلاف رکاوٹ ہو۔ میں يہ نہیں جان سکا کہ ستونوں سے نکلنے
والي روشني ان ستونوں کي فطري خاصیت تھي يا پھر معماروں نے کوئي
فنکاري دکھائي تھي۔ میں نے ايک ستون پر ہاتھ رکھا تو وه گرم تھا اور ايسے لگا
جیسے اس کے اندر نبض چل رہي ہو۔
ايسے لگتا ہے جیسے يہ ستون زنده ہوں!” میں نے کہا تو سہي لیکن“
میرے ساتھي پہلے ہي ايسي باتوں پر حیران ہونا چھوڑ چکے تھے۔
پروفیسر بہت الجھ گیا تھا اور آتشي شیشے سے ايک ستون کا جائزه لے
رہا تھا۔ کیپٹن سیماچ اور ربیکا دونوں ايک ستون کي طرف بڑھے اور ايک ساتھ
ہاتھ رکھے۔ عین اسي وقت يہ روشني تیز تر ہو گئي اور ان کے چہرے ايک ہي
وقت جگمگا اٹھے۔ دونوں نے ايک دوسرے کو ايسے حیرت سے ديکھا جیسے
انہوں نے پہلے کبھي ايک دوسرے کو نہ ديکھا ہو۔
آقا نے مجھے آگے آنے کا اشاره کیا اور جب میں ان کے پاس کھڑا ہوا تو
خوشي سے میرے دل کي دھڑکن تیز ہو گئي۔
الحمدͿ، مجھے علي کي ‘نے‘ کي صاف آواز سنائي دينے لگي۔
اس کي گہري اور بھاري آواز سن ِ گ مرمر سے ٹکرا کر گونجتي ہوئي اور
ستونوں سے ہوتي ہوئي پورے محل کو بھر رہي تھي۔ کسي عجیب الکیمي
سے اس آواز میں بِلور کي سفیدي اور ستونوں کے اندر کي روشني ملي ہوئي
تھیں۔
ہمارا رہنما ہمیں تیزي سے لے کر آگے بڑھا اور پھر دو بڑے دروازے ہمارے
سامنے کھلے ملے جن کي دوسري جانب شاه کا عظیم دربار تھا۔
اس دربار کے دوسرے سرے پر علي آلتي پالتي مارے سن ِ گ مرمر کي
چھوٹي میز پر بیٹھا تھا۔ اس نے وہي لباس پہنا تھا جو آخري بار میں نے ديکھا
تھا۔ رامي بھي اس کے ساتھ بیٹھا تھا۔
الحمدͿ! میں نے سرگوشي کي اور میرے دل نے کلمہ شکر ادا کیا۔ زنده!
حالانکہ آقا اس بارے بتا چکے تھے کہ علي اور رامي بالکل ٹھیک ہیں اور ہمارے
منتظر بھي۔
سرے پر ُرک کر ہم نے سن گن لي۔ اگر انہوں نے ہمیں آتے سنا بھي ہو تو
بھي انہوں نے کوئي تائثر نہ ديا۔ ان کي آنکھیں بند تھیں اور علي اتنا خوب ‘نے‘
بجا رہا تھا کہ میں نے آج تک نہیں سني تھي۔ ہر ُسر اتنا صاف اور خوبصورت تھا
:جیسے پاني پر سورج کي روشني پڑ رہي ہو۔ پھر رامي نے گنگنانا شروع کر ديا
محبت کے چاند سے
،دوري کے بادل چھٹ گئے ہیں
ان ديکھي تاريکي سےصبح کي روشني آنے لگي ہے
ان لازوال الفاظ نے ہمیں جکڑ لیا اور ہم اسي طرح حاضر اور غیر حاضري
کي کیفیت سے گذرنے لگے جیسے اس محل کے ستونوں میں روشني جل
بجھ رہي تھي۔ روشني اور موسیقي سے بھرے سماع کي کیفیت اتني
خوبصورت تھي کہ میں اس شخصیت کو نہ ديکھ پايا جو بیٹھ کر سن رہي تھي۔
اس عظیم دربار کے دوسرے سرے پر اونچے اور کالے تخت پر وه بیٹھا اور
بہت طويل قامت دکھائي دے رہا تھا۔ گردن سے پیروں تک کالے رنگ کا لباده
اوڑھا ہوا تھا اور اپنے انداز و اطور سے ايسا لگ رہا تھا جیسے پیدائش سے ہي
اسے بادشاه بننے کي تربیت دي گئي ہو۔ انتہائي گہرے رنگ کا سن ِ گ
سلیماني سے بنا تاج اس کے سر پر تھا جس کي آب و تاب شیشے کو بھي
مات کر رہي تھي اور سخت اطوار اس کي شخصیت پر ہیبت ناک لبادے کي طرح
تھي۔ اس کے چہرے کے سخت تائثرات ايسے لگ رہے تھے جیسے کسي پتھر
پر ثبت ہوں اور آنکھیں پہاڑوں کي مانند جل رہي تھیں۔
مجھے علم تھا کہ يہ سب محض فري ِب نظر ہے جو اس نے اپنے قیديوں
کي خاطر اور اب ہماري خاطر اپنايا ہوا ہے۔ لیکن مجھے اس کي پہلي بار کنويں
سے آمد ابھي تک ياد تھي جیسے آگ کا ستون نکلا ہو اور اٹھتا ہوا آسمان کے
نچلے سرے تک جا پہنچا ہو۔ اس کا رنگ کوئلے کي مانند سیاه تھا۔ میں نے
سوچا کہ شايد اس نے اپنے قیديوں کو ڈرانے کي خاطر يہ رنگ چنا ہو يا پھر
جنات بھي اس اصول سے مبرا نہ ہوں کہ ان کو اپنے باطن اور ظاہر کو ايک جیسا
ہي رکھنا ہوتا ہے۔ اسي طرح اورنیاس ہمارے رہنما فقیر کے روپ میں تھا تو يہ
بالزيبول تھا، آقائے جنات۔
آج بھي يہ سوچ کر میرے جسم میں جھرجھري دوڑ جاتي ہے کہ اگر اس
نے میري جانب ديکھا بھي ہوتا تو میرا کیا حشر ہوتا۔ وه اس وقت اتنا خوفناک
دکھائي دے رہا تھا۔ اگر اسے ہماري آمد کي اطلاع ہو بھي گئي تھي تو بھي
اس نے اپنے رويے سے ظاہر نہیں ہونے ديا۔
اگلے ہي لمحے آقا نے تالي بجائي۔ تالي کي آواز گرجدار انداز میں
ستونوں سے ٹکرا کر لوٹي اور انہیں ہماري آمد کا احساس ہو گیا۔
بالزيبول نے مداخلت پر آہستگي سے اپنا سر اٹھايا اور ہمیں لاتعلقي سے
ديکھا، جیسے وه کافي دير سے ہمارا منتظر ہو۔ علي اور رامي اس کیفیت سے
نکل آئے اور خوشي کا نعره لگا کر انہوں نے سماع ختم کیا۔
آقا!” دونوں ايک ساتھ چلائے اور ستونوں کي روشني ان کي خوشي کے”
ساتھ تیز ہو گئي۔ دونوں دوڑ کر آقا کے سامنے گرے لیکن آقا نے انہیں اٹھنے کا
حکم ديا اور دونوں کو ايک ساتھ گلے سے لگايا۔
آقائے جنات اس دوران بے حس اپني جگہ بیٹھا رہا اور نہ ہي اس کے
تائثرات بدلے۔ خاموشي سے اس نے ہمارا جائزه لیا اور مجھے معلوم نہیں کہ
اس کي نگاہوں کي کیفیت ہمت ہارنے کي تھي يا پھر انکار کي۔
اے بادشاه، کیا آپ قطب کا استقبال نہیں کريں گے؟ وه اور ان کے”
ساتھي آگ اور گہرے پاني سے ہو کر ہم تک ہماري ضرورت کے تحت آن پہنچے
ہیں۔” اورنیاس نے پوچھا۔بالزيبول کسي انسان کي مانند سیدھا کھڑا ہوا۔ لیکن وه محض آقا کي
طرف ديکھتا رہا اور اس کي نظريں جیسے ہوا کو بھي چھید رہي ہوں۔
مجھے علم ہے کہ اس محفوظ دنیا میں کیا ہوتا ہے۔ الله کے حکم سے”
حديں مقرر کر دي گئي تھیں اور صرف الله کے حکم سے ہي آپ اسے پار کر
سکتے ہیں۔ تاہم آپ کي آمد کا کیا مقصد ہے؟ آپ کے خدام آپ کو واپس مل
گئے ہیں لیکن آپ کا ذہن اور آپ کي سوچ مجھ سے پوشیده ہے، سچ ہے کہ
انسان اپني گفتار میں چھپا ہوتا ہے۔ سو، بولیے، اے جنات اور انسانوں کے
قطب، کہ آپ کیا گانا گانے آئے ہیں؟” اس نے کھردرے انداز میں پوچھا۔
اس کے سخت الفاظ سے مجھے خوفزده ہوتے ہوئے بھي بہت غصہ آيا
لیکن آقا کو اس سے خوف نہیں محسوس ہوا۔
بے شک، الله کے حکم سے حدود مقرر ہوئي ہیں اور اس کا غصہ بھي،”
جیسا کہ تم جان لو گے۔ اگرچہ تم میرے ذہن کو نہیں جانتے مگر میں تمہارے
“ذہن کو جانتا ہوں۔
:ہماري حیرت ديکھیے کہ آقا نے واقعي گانا شروع کر ديا
میري سوچ کے مرغزاروں میں افسوس کے سوا کچھ نہیں اگتا
میرے باغ میں دشمني کے علاوه کوئي پھول نہیں پیدا ہوتا
میرے دل کا صحرا بنجر ہے
وہاں تو مايوسي بھي نہیں اگتي
علیحدگي اور نقصان والے گانے کے بول علي کے امید بھرے گانے کے
بولوں جتنے قديم تھے اور آقا کے گانے کے ساتھ ساتھ ستونوں کي روشني
مدھم ہوتي گئي اور ہمارے سائے نیم تاريکي میں دکھائي دينے لگے تاہم فقیر
اور بادشاه دونوں کا سايہ نہیں بن رہا تھا۔
!جنات کے سائے نہیں بنتے
آقا کے ارادے کے بارے مجھے معلوم نہیں۔ تاہم جب ان کي بھاري آواز اس
عمارت میں گونجي تو شاه کي آنکھوں سے جیسے آگ کے شرارے نکلنے
لگے۔ مجھے لگا کہ ہماري شامت آ گئي ہے۔
جب آقا کي آواز کي گونج ختم ہوئي تو مجھے توقع تھي کہ اب شاه کي
آنکھوں سے نکلنے والي آگ ہمیں کھا جائے گي لیکن ہوا اس کے برعکس،
جیسے آقا کي آواز کے بوجھ تلے شا ِه جنات دبتا جا رہا ہو۔ ہوتے ہوتے شا ِه جنات
گھٹنوں کے بل گر گیا، جیسے آقا کے الفاظ کا بوجھ اس کي برداشت سے باہر
ہو۔
تاہم اس حالت میں بھي وه انسان جتنا لمبا تھا مگر اس کي آنکھیں
جیسے بجھتے ہوئے انگارے ہوں۔ اس گانے کے الفاظ جیسے اس کے دل پر لگے
ہوں اور وه بولنے کے قابل نہ رہا ہو۔
بالزيبول نے اٹھنے کي کوشش کي لیکن آقا نے اپنا ہاتھ بلند کیا تو ستونوں
کي روشني ايک دم بڑھ گئي اور دن کا سا سماں پیدا ہو گیا۔ شا ِه جنات نے ايک
ہاتھ سے اپنا چہره ڈھک لیا اور اسي طرح گھٹنوں کے بل جھکا رہا۔
ڈرو مت۔ میں تمہارے لیے خوشي لے کر آيا ہوں۔ شاه سلیما ؑن کي روح”نے وه پیغام بھیجا ہے جس کا تمہیں مدتوں سے انتظار تھا اور ان کي روح نے
بادشا ِه حقیقي کے سامنے تمہاري نسل کي سفارش کي ہے۔
اچانک مجھے سسکي کي آواز آئي، جیسے تیز ہوا گذري ہو۔ ہمارے آس
پاس ہر جگہ موجود جنات نے آقا کے الفاظ سنے۔ بالزيبول نے اپني ُپرغرور نظريں
جھکائیں اور ان سے حقارت غائب ہو گئي۔ آہستہ آہستہ آگے کو جھک رک اس
نے اپنا ماتھا سن ِ گ مرمر کے فرش سے لگا ديا۔
بے شک، توبہ کا پھل جب پکتا ہے تو شاخ جھک جاتي ہے۔ اٹھو اور”
حوصلہ رکھو کہ میں تمہارے لیے الله کي رحمت کا پیغام لايا ہوں۔” آقا نے کہا۔
بالزيبول نے اپنا سر اٹھايا لیکن کھڑا نہ ہو پايا لیکن گھٹنوں کے بل جھکي
حالت میں بھي اس کا شاہانہ رعب صاف دکھائي دے رہا تھا اور يہ رعب فقیر
اظہار تشکر کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے۔
ِ
میں پوشیده تھا۔ اس نے
اے جنات اور انسان کے آقا، آپ کي مہرباني پر ہزاروں رحمتیں نازل ہوں۔”
ابتدائے آفرينش سے ہماري ضد نے ہمیں اچھوت بنائے رکھا ہے اور محض
سلیما ؑن کے ُغلام ہونے کي وجہ سے ہمیں کوئي امید دکھائي ديتي ہے۔ تاہم
ا ؑن کي رحلت کے بعد عفريت کا زہر پھیلتا گیا ہے اور آگ تقريباً بجھ چکي ہے”۔
اس نے کہا۔
اس کے الفاظ میں چھپے غم سے مجھے بہت ہمدردي محسوس ہوئي۔
شاه سلیما ؑن کي روح نے بلاشبہ کیپٹن سیماچ کے منہ سے کہا تھا، “آگ بجھ
رہي ہے!” تاہم اگر آگ امید کي علامت تھي تو ہم کون سي امید اور کون سي
رحمت لائے تھے جو اس آگ کو جاري رکھ پاتي؟
الحمدͿ! بے شک، تمام انسانوں اور جنات کو اپنے خالق سے رجوع کرنا”
چاہیے ورنہ ان کے لیے تاريکي اور مصیبت ہے۔ تاہم میں پیغام اور پیغام رساں،
دونوں کو لايا ہوں۔ ہمیں مل کر سارے اجتماع سے مخاطب ہونا ہے۔” آقا نے کہا۔
پھر انہوں نے امینوکل اور کیپٹن سیماچ کو بلا کر اپنے ساتھ کھڑا کر ديا۔
بالزيبول پورے قد کے ساتھ کھڑا ہو کر انہیں پوري توجہ سے ديکھنے لگا۔
سب جمع ہو گئے ہیں۔” اس نے کہا۔”
آخر وه وقت آ ہي گیا جب ہماري محنت کا پھل ملنا تھا اور دائره پورا ہو جاتا۔
آقا ہماري طرف مڑے اور ہمیں اورنیاس کے ساتھ کھڑے رہنے کا حکم ديا۔ “ہماري
غیرحاضري میں اورنیاس تمہاري حفاظت کرے گا۔” يہ کہہ کر آقا مڑے اور سیدھا
اس بڑے کمرے کے دوسرے سرے پر موجود ايک بڑے دروازے سے گذرے۔
امینوکل اور کیپٹن سیماچ ان کے پیچھے تھے اور آخر میں بالزيبول يعني آقائے
جنات گیا۔
میں نے اپنے ساتھیوں کو ديکھا۔ علي اور رامي تو حکم کے مطابق انتظار
کو تیار تھے اور سن ِ گ مرمر کے فرش پر بیٹھ گئے لیکن پروفیسر میري طرح ہي
آقا کے اس طرح اچانک روانہ ہونے پر پريشان تھا۔ میں دروازے کو لپکا اور
پروفیسر اور ربیکا میرے پیچھے آئے۔ حالانکہ اس کي ضرورت نہیں تھي۔
اگلے ہي لمحے ہم دروازے سے نکل کر باہر بالکوني پر پہنچ گئے جو محل
کے عقب میں تھي۔ فوراً ہي چنگھاڑي ہوئي ہوا سے جیسے ہمارے کان پھٹنے
لگے۔ تاہم ہمیں يہ ديکھ کر شديد حیرت ہوئي کہ آقا اور ديگر افراد پہلے ہيسیڑھیوں سے نیچے اتر کر تاريک وادي میں بہت دور جا چکے تھے۔ ان کا راستہ
پہاڑوں پر جلنے والي بے شمار جگہوں پر جلنے والي آگ سے روشن تھا۔
وه لوگ پہلے ہي اتني دور جا چکے تھے کہ ہم ان کے پیچھے نہ جا پاتے۔
آقا کے حکم کي خودبخود تعمیل ہو چکي تھي۔
جب وه نظروں سے اوجھل ہو گئے تو ہم واپس دربار میں آئے اور فقیر ہمارا
منتظر تھا۔
ان کے لیے فکر نہ کرو، عفريت انہیں کوئي نقصان نہیں پہنچا سکتا اور نہ”
ہي بغض يہاں داخل ہو سکتا ہے۔ اور تمہارا کیپٹن ان کے ساتھ محفوظ ہے۔” فقیر
نے آخري فقره ربیکا کو ديکھتے ہوئے ادا کیا اور ربیکا يہ سن کر شرما گئي۔
فقیر ايک میز پر آلتي پالتي مار کر بیٹھ گیا۔ ہم اس کے پیروں میں بیٹھے۔
تکیہ يا کوئي قالین وغیره نہیں تھے لیکن اس نے ہمیں کہا کہ اپنے سامان میں
موجود کھانے پینے کي چیزوں سے پیٹ بھر لیں۔
خاموشي سے ہم نے تھوڑا بہت کھايا۔ پروفیسر پريشاني سے اپنے ہونٹ
چبا رہا تھا۔ فقیر، میں اسے اسي نام سے سوچ رہا تھا، مہربان سي مسکراہٹ
سے ہمیں ديکھے جا رہا تھا۔
آقا کو تمہاري سوچوں کا علم ہے اور مجھے حکم ديا ہے کہ تمہارے”
سوالات کے جوابات دوں۔ پوچھو جو پوچھنا ہے۔” فقیر نے کہا۔
يہ کیا ہو رہا ہے؟” پروفیسر فري مین نے کچھ پرسکون ہوتے ہوئے پوچھا۔”
وه لوگ جنات کے عظیم اجتماع کو جا رہے ہیں تاکہ ان کي پوري نسل”
پیغام رساں کو ديکھ سکے اور پیغام کو سن سکے”۔
اور آرون، کیپٹن سیماچ ہي ان کا پیغام رساں ہے؟” ربیکا نے پوچھا۔ اسے”
پیچھے ره جانے پر اب مزيد پريشاني ہو رہي تھي۔ فقیر نے اثبات میں سر ہلايا۔
لیکن پیغام ہے کیا؟ اس کا کیا مطلب ہوگا؟” ربیکا نے پوچھا۔”
تمہیں آقا کے الفاظ کي سمجھ نہیں آئي؟ وه ہمارے لیے امید کا پیغام”
لائے ہیں”۔
“کون سي امید؟”
“الله کے احساس کي۔”
ربیکا نے حیران ہو کر اسے ديکھا لیکن مجھے جہاز پر کہے گئے فقیر کے
الفاظ ياد تھے کہ جہنم کے باسي اس دنیا کي نسبت جہنم میں زياده خوش
ہیں، کہ انہیں الله کا احساس ہو گیا ہے۔
يہ احساس گم کب ہوا تھا؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
“دنیا کي پیدائش پر۔”
“کیسے؟”
اہل ايمان کے خلاف گنا ِه کبیره”
ِ
ہم لوگوں نے الله کي نافرماني کي۔ ہم نے
“کا ارتکاب کیا ہے، چاہے وه انسان ہو يا جنات۔
“کون سا گناه؟”
“ناشکري۔”

Read More:  Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 15

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: