Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Last Episode 22

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 22

–**–**–

باب 22
ہم نے جنات اور انسان کو
اپني عبادت کے واسطے پیدا کیا ہے۔
قرآن 51:56
!ناشکري
مجھے علم تھا کہ وه کیا کہہ رہا تھا، اس کا مطلب ‘کفران‘ تھا يعني کسي
چیز کو چھپانا يا انکار کرنا۔ اورنیاس نے اس کے اندروني معني کو بیدار کیا تھا،
جیسے صوفي الله کے انکار کو الله کي رحمتوں کي ناشکري کي شکل میں
چھپاتا ہے۔
علي اور رامي بھي يہ بات سمجھ چکے تھے لیکن انہیں اورنیاس کي بات
کي ضرورت نہیں تھي۔ دونوں بہادروں نے آقا کے حکم کو بنا کسي جرح کے
قبول کیا تھا، جیسے انہوں نے اپني ذمہ داري کو نبھانے کے لیے آگ میں
چھلانگ لگائي تھي۔ صرف ربیکا اور اس کا باپ ہي تشکیک کا شکار تھے۔
مجھے نہیں سمجھ آئي۔” ربیکا نے کہا۔”
مجھے بھي۔” پروفیسر نے بھي تسلیم کیا۔”
آه، اسے سمجھنے کي خاطر تمہیں ہماري داستان کے آغاز کو جاننا ہوگا۔”
ہماري امید کو جاننے کي خاطر تمہیں شاه سلیما ؑن کو جاننا ہوگا۔ ايک بار میں
نے ا ؑن کي وه انگوٹھي چرائي تھي جس کي مدد سے و ؑه ہم پر حاکم تھے۔ ا ؑن
کي شکل اپنا کر میں ان کے تخت پر بیٹھ بھي گیا تھا لیکن میں ا ؑن کي مہرباني
اور دانش سے مار کھا گیا۔ آخرکار میں ہي ا ؑن کي جگہ مقبرے میں چلا گیا تاکہ
خالق حقیقي سے جا کر مل سکیں۔ سلیما ؑن ہي میرے پہلے اور آخري
ِ
وه اپنے
آقا تھے اے دوست۔” اس نے کہا۔
اس چوري کے بارے قديم داستانوں میں بھي ہمیں ذکر ملتا ہے۔””
پروفیسر نے کہا۔
اور میں نے يہ بھي پڑھا ہے کہ انہیں ہوا پر بھي قدرت تھي۔” رامي بولا۔”
اور انہیں پرندوں کي زبان کا بھي علم تھا۔” علي نے کہا۔”
!پرندے! میں پرندوں کو تو بھول ہي گیا تھا
ہمیں پوري داستان سنائیے!” میں نے درخواست کي۔”
ہاں، ہمیں اس سچي داستان کے بارے جاننا ہے اور اس انگوٹھي کے”
بارے بھي، تاکہ ہماري تسلي ہو سکے۔” پروفیسر نے بھي میرا ساتھ ديا۔
آه، انساني دل کو مطمئن کرنا میرے بس کي بات نہیں۔” اس کي آواز”میں خلوص تھا۔
“کیا مطلب؟”
بوڑھے فقیر نے آه بھري اور ايک لمحے کے لیے مجھے اس کي آنکھوں
کے پیچھے جلتي ہوئي آگ دکھائي دي جو ازل سے جلي آ رہي تھي۔
میرے کہنے کا مطلب يہ ہے کہ گوشت کا لوتھڑا، کہ جسے دل کہا جاتا”
ہے، ديوانوں، بچوں اور اولیاء میں ايک جیسا ہي ہوتا ہے۔ يہ محض گوشت کا
لوتھڑا ہے، کوئي ذہانت نہیں، کوئي روح نہیں اور نہ کوئي علم، تاہم انسان اسے
اکثر انہي ناموں سے ياد کرتا ہے۔ اس کے باوجود جسم کا ہر خلیہ اور ہر ايٹم
سچائي کو سمجھنے بنا جانتا ہے، جیسے میري روح کي آگ جانتي ہے۔
سچائي کو زندگي سے جانا جاتا ہے، دلیل سے نہیں، يہي اصل حقیقت ہے۔
تاہم اب کہانیوں کا وقت نہیں رہا۔ عظیم اجتماع پہلے ہي پہنچ چکا ہے اور آقا
“بالزيبول اس کے سامنے کھڑے ہیں۔
آپ کو کیسے پتہ؟” ربیکا نے مشکوک ہو کر پوچھا۔”
جنات ايک دوسرے کي سوچ کے آئینے ہوتے ہیں اور ہمارا باخبري پانچ”
حسوں اور چھ سمتوں سے آگے ہوتي ہے۔ ہمیں ديکھنے کے لیے انساني آنکھ
“اور بولنے کے لیے انساني زبان نہیں درکار ہوتي۔
آپ کے لیے تو بہت اچھا ہے۔ لیکن ہم اتنے خوش قسمت کہاں۔ پتہ نہیں”
ہم وہاں جا کر اس اجتماع کو کیوں نہیں ديکھ سکتے؟” پروفیسر نے کہا۔
تمہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ تاہم آقا کو تمہاري خواہش کا علم ہے۔ میں اب”
بھي تمہارا رہنما ہوں اور تمہاري آنکھوں کا بھي۔” اورنیاس نے مسکراتے ہوئے
جواب ديا۔
کیسے؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
ہماري حسوں کا جال انساني نہیں، لیکن انسان کي تخلیق اور جنات اور”
فرشتوں کے زوال کے بعد سے ہمیں انسان کي موجودگي میں فاني شکل
اختیار کرني ہوتي ہے۔ چاہے ہم اچھے ہوں يا برے۔ میں تمہاري انساني حسوں
کي رہنمائي کروں گا اور تم وہي سنو گے جو مجھے سنائي دے گا اور تم وہي
ديکھو گے جو مجھے دکھائي دے گا۔ تم سب اپني آنکھیں بند کرو اور خاموش ہو
جاؤ۔ میں تمہیں اپني برادري سے بچاؤں گا کیونکہ ان کے اجتماعي اذہان
“تمہارے ذہنوں کو متائثر کر سکتے ہیں۔
پروفیسر اور ربیکا نے فوراً ہي حامي بھر لي۔ علي اور رامي بھي اس بارے
کافي پرجوش ہو گئے اور مجھے فقیر کي بات يا اس کي قوت کے بارے کوئي
الجھن نہیں تھي۔ میں نے کاغذ پینسل ايک طرف رکھ ديا اور ہم سب نے آنکھیں
بند کر لیں۔
ستونوں کي روشني اپني اصل پر لوٹ آئي تھي اور ہماري بند آنکھوں سے
بھي ہلکا سا سرخ رنگ دکھائي دے رہا تھا اور جب فقیر کے دماغ نے ہمارے
دماغوں کو جکڑا تو ہمیں بہت عجیب لگا اور يہ سرخي آہستہ آہستہ خیال
خواني کے صاف اور واضح منظر میں بدل گئي۔
سب تعريفیں الله کے لیے ہیں، مجھے آقا، بالزيبول اور امینوکل دکھائي
ديے۔ کپیٹن سیماچ ان کے پیچھے سر جھکائے کھڑا تھا۔ يہ سب ايک اونچےچٹاني چھجے پر کھڑے تھے اور ان کے سامنے پہاڑوں سے گھري ايک وسیع اور
گہري وادي تھي۔ زمین پر جیسے ہر طرف آگ لگي ہوئي ہو۔ ہمارے سامنے
آسمان پر آگ کے شعلے اس طرح حرکت کر رہے تھے جیسے ٹوٹتے تارے ہوں
جو زمین پر اتر رہے ہوں۔ آخرکار ساري وادي بھر گئي۔ پہاڑوں پر بھي يہي کچھ ہو
رہا تھا اور پہاڑوں کي ڈھلوانیں بھي آگ سے بھر گئیں۔ متحرک شعلوں کے
درمیان انتہائي بھیانک، عجیب اور خوفناک شکلیں دکھائي دے رہي تھیں۔ لشکر
میں کچھ کا رنگ کم گہرا تھا اور ان کے انداز سے نخوت ٹپکتي تھي۔ اِدھر ُادھر
زنانہ شکلیں بھي دکھائي دے رہي تھیں اور مختلف عمروں کے جنات دکھائي
دے رہے تھے۔ کم عمر جنات سنہري آگ سے بنے تھے جن میں کہیں کہیں لال
رنگ دکھائي ديتا تھا اور بڑي عمر کے جنات جو ابتدائے آفرينش سے زنده تھے،
سفید آگ سے بنے ہوئے تھے۔ ہمارے چاروں اطراف جنات کي پوري نسل آزاد،
خاموش اور منتظر تھي۔
اپنے مقام کو بدلتے ہوئے اورنیاس نے ہمیں مختلف جگہوں سے مناظر
دکھائے۔ پہلے پہل ہم وادي کے سرے سے بہت دور تھے اور آقا بہت دور اور
بمشکل ہي نظر آ رہے تھے۔ پھر ہم قريب تر ہوئے اور پہاڑ کے دامن تک جا
پہنچے اور پھر ايک اور اونچے پہاڑ تک۔ اتني تیزي سے بدلتے ہوئے مناظر سے
ہمیں کچھ الجھن ہوئي لیکن جلد ہي ہم آقا کے قريب پہنچ گئے اور ان کے
پیچھے اور بائیں جانب رک گئے۔ میں نے ديکھا کہ بالزيبول نے اپنے ہاتھ اٹھائے
اور اس کا سیاه تاج اس کي نسل کے جنات کي روشني سے جگمگا رہا تھا۔
اس نے انساني آواز میں انہیں مخاطب کیا يا مجھے اس کي بات انسانوں
:جیسي لگي۔ اس نے پوري وادي کو مخاطب کیا
سنو اے جنات، میرے ہم نسل، َجن اور عفريت اور ُغل، خوشیاں مناؤ!”
عظیم شا ؑه کي روح بالآخر پہلے جہان تک پہنچ گئي ہے اور انہوں نے اپنے
وعدے کا پاس رکھا ہے۔ ان کي روح نے پہلے شعلے سے سفارش کي ہے اور
الله کي رحمت سے ان کا قاصد ان کا پیغام لے کر آيا ہے اور امید تازه ہو گئي
“ہے۔
قاصد، قاصد۔۔۔” میں نے بے شمار اذہان کو ايک ساتھ يہ بات سوچتے”
محسوس کیا اور يہ آواز بار بار دہرائي جاتي رہي اور اس کي شدت اتني تھي
کہ مجھے اپنا سانس تھمتا محسوس ہوا۔ آقا نے کیپٹن سیماچ کو نرمي سے
آگے بڑھايا اور وه چٹان کے سرے پر بالزبیول کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ پھر اس نے
اپنا جھکا ہوا سر اٹھايا اور ہر طرف جلنے والي آگ سے اس کے انساني نقوش
واضح دکھائي دينے لگے۔
بنیاه ه ه ه!” يک زبان ہو کر سب چلائے اور ہم حیرت سے گنگ ہو کر ره”
گئے۔ انہوں نے کیپٹن کو شاه سلیما ؑن کے دس ِت راست کے نام سے پکارا تھا
اور ان کي آواز کي شدت بہت زياده تھي۔ اب ہمارے کیپٹن نے اپنا دائیاں ہاتھ اٹھا
کر سب کو ايسے خاموش کرايا جیسے وه واقعي شاه سلیما ؑن کا دس ِت راست
:ہو۔ پھر اس نے واضح انساني زبان میں کہا
میرے پہلے آق ؑا ہمیشہ کے لیے جا چکے ہیں اور آپ سب جو اب تک ان کي
خالق حقیقي کي خدمت میں پہنچ
ِ
خدمت کرتے آئے ہیں، وه بادشا ؑه اب اپنےگئے ہیں۔ لیکن انہوں نے مجھے يہ پیغام دے کر زمانوں سے پار بھیجا ہے!” اس
نے اپنا سر پھر جھکا لیا اور جنات کي سرزمین پر مکمل خاموشي چھا گئي۔ ہوا
بھي اس کي بات سننے کو آہستہ ہو گئي۔ پھر جب اس نے سر اٹھايا تو اس
کي آنکھیں ايک عجب سي روشني سے جگمگا رہي تھیں۔ اس کي آواز میں
ايسي طاقت تھي جو پہلے کبھي نہ سني تھي۔ ہوا کے دوش پر يہ آواز وادي
سے ہوتي ہوئي پہاڑوں تک پھیل رہي تھي۔
نقش پا وادئ محبت میں جانے جاتے ہیں۔ انہیں”
ِ
يہ وه ہیں کہ جن کے
ہیکل جانتا ہے اور ٹھوس زمین بھي اور مقدس جگہ بھي۔ وه الله کے سب سے
بہترين خادم کے بیٹے ہیں، خالص، ظاہر اور ُچنیده۔ سنو اے ايمان والو، قطب آ
“گئے ہیں۔
جونہي اس نے سر جھکا کر قدم پیچھے کو بڑھائے تو میں نے اپنا سانس
روک لیا۔ آقا آگے بڑھ کر چٹان کے سرے تک پہنچ گئے۔ ہر طرف خاموشي تھي
اور اربہا نفوس ان کي بات سننے کے منتظر تھے۔ ان کي آنکھیں مہربان اور نرم
خو تھیں، صابر اور نڈر بھي۔ ان کے چہرے پر ايک روشني تھي اور ان کا لباده
ايسے چمک رہا تھا جیسے چاندني میں برف چمکتي ہے۔ انہوں نے اپني
آنکھیں اٹھا کر پہاڑوں کے اوپر خالي جگہ پر ديکھا اور ان کي گہري آواز سے
جیسے پوري شب بھر گئي۔
الله اکبر!” انہوں نے کہا۔”
الله اکبر!” اربہا اذہان کا جواب آيا۔ اورنیاس کي پناه کے باوجود ان کي اس”
عظیم ياس سے میں ہل کر ره گیا۔
پھر آقا نے ان کي جانب پیٹھ پھیري اور ايک بار پھر “الله اکبر!” کہا اور نماز
پڑھنا شروع کر دي۔ جب انہوں نے پہلي رکعت پوري کي تو جنات کي پوري
وادي نے سجده کیا اور پھر آقا کے پیچھے کھڑے ہو گئے، جیسے آگ کي
موجیں ہل رہي ہوں، آقا کي پیروي کر رہي ہوں۔ آقا ان کے امام تھے۔
الله اکبر! پہاڑ اور شہر کانپ کر ره گئے۔ جنات کي نماز خلاء تک پہنچ گئي۔
میرے لیے ان جذبات کے خلوص کے بارے بتانا ممکن نہیں جو میں نے ان
کے لیے محسوس کي کہ وه کتني شدت سے اور کتنے عرصے سے اس نماز
کو ترس رہے تھے۔
انسان کي پیدائش سے آج تک کوئي بھي امام ہماري امید کو جواب دينے”
نہیں آيا تھا۔” اورنیاس نے میرے ذہن کو پڑھ کر جواب ديا۔
جب آخري رکعت پوري ہوئي تو آقا نے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوئے پہاڑوں
کے اوپر خالي جگہ کي طرف ہاتھ اٹھائے اور بہت طويل وقفے کے بعد پھر اٹھے
اور وادي کي جانب رخ کیا اور اربہا اذہان کي توقعات کا بوجھ چھانے لگا۔
:آقا نے اپنے ہاتھ مجمع کے اوپر اٹھائے اور ان کي آواز گونجي
خلوص دل سے توبہ کرو!” قرآن کے الفاظ”
ِ
اے ايمان والو، الله کے سامنے
پہاڑوں سے ٹکرا کر لوٹے۔ “ايسے ہي لکھا ہے کہ سچائي کے راستے پر چلنے
والوں کا پہلا پڑاؤ توبہ ہوتي ہے۔ جو الله کي خدمت کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے
“پاک ہونا اولین شرط ہے۔
آہوں اور سسکیوں کي آواز بلند ہونے لگي اور ہوا پہلے سے کہیں زيادهتیزي سے شور کرنے لگي۔ حت ٰي کہ اورنیاس کي پوري کوشش بھي ہمیں
جنات کي سوچوں سے مکمل طور پر نہ بچا سکي اور ہر طرف سے ان کي
ناقابل برداشت
ِ
سوچیں ہم پر نازل ہونے لگیں۔ پہلے پہل تو يہ سب انتہائي
محسوس ہوا لیکن ہمارے رہنما نے فوراً اس بوجھ کو ہماري انساني سکت کے
مطابق ہلکا کر ديا۔ بہت سوں کو امید کي کرن دکھائي دينے لگ گئي لیکن بہت
ساروں کو شکوک و شبہات نے گھیر لیا اور بہت سوں پر غصے اور مايوسي کا
قبضہ ہو گیا اور خاموشي ٹوٹ گئي۔
پہاڑوں اور وادي سے ہزاروں کي تعداد میں برے جنات اڑنے لگے کہ وه
برائي میں بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ آسمان پر اڑتے ہوئے وه ٹوٹتے ہوئے تارے
لگتے تھے۔
آخري جنات میں سے ايک بہت اونچائي تک گیا اور پھر آقا اور اس چٹان کے
اوپر کھڑا ہو گیا اور عفريت کي انتہائي دہشتناک شکل بنا کر حقارت سے
ديکھنے لگ گیا۔
احمقو! ہم آزاد پیدا ہوئے تھے اور انسان کي آمد سے قبل تک آزاد ہي”
رہے۔ پھر داؤ ؑد کے بیٹے نے ہمیں ُغلام بنايا اور اب میں کسي دوسرے انسان کو
اپني روح پر قبضہ نہیں کرنے دوں گا۔” اس کي آواز کسي بد دعا کي طرح
پھیلتي گئي۔
او لعنتي، دفع ہو جا۔ جو چیز تیري سمجھ سے باہر ہے، تو اس پر ٹھٹھہ”
کرتا ہے، جو تحفہ مفت میں مل رہا ہے، اور تو اس کي قدر نہیں کر رہا۔ تیرا
اصلي آقا ابلیس ہي ہے جس نے سب سے پہلے غرور کیا اور شک کے دھوئیں
سے الله کي رحمت کو دور کر ديا۔ دفع ہو اور جل مر!” بالزيبول نے جواب ديا۔
عفريت کو يہ بے عزتي والے کلمات سن کر اور بھي آگ لگي اور اس کے
اور بھي ہم خیال اس کے ساتھ مدد کو آن پہنچے۔ تاہم آقائے جنات نے کوئي
توجہ نہ دي اور انہیں خاموشي سے گھورتا رہا۔ ان کي دماغي جنگ کي شدت
سے میرا دماغ مفلوج ہونے لگا کہ جنات کا سارا زور وہیں چلتا ہے اور وہیں لڑائي
ہوتي ہے۔ دوسروں نے شمولیت اختیار کي۔ گندي شکلوں والے ُغل عفريت کے
ساتھ اور َجن آقائے جنات کے ساتھ ہو گئے۔ لعنت ملامت کي جانے لگي اور ايک
دوسرے پر حملے اور ان کا رد شروع ہوا۔ ان کي لڑائي کي شدت سے بچنے کے
لیے میں آنکھیں کھولنے کا سوچنے لگا۔ تاہم ان میں سے بہت سارے غیر
يقیني حالت میں کسي نتیجے کے منتظر تھے اور شامل نہیں ہوئے۔
الحمدͿ، يہ لڑائي زياده دير نہیں چلي اور نہ ہي شديد تر ہوئي، عین
ممکن ہے کہ زمان و مکان کي قید سے آزاد اس جگہ کئي ہزار سال تک لڑائي
ہوئي ہو۔ آخرکار آقائے جنات کي عقل و دانش اور طاقت کے سامنے عفريت اور
ُغل نے را ِه فرار اختیار کي۔ میں ابھي تک کانپ رہا تھا اور پناه میں ہونے کے
باوجود اس جنگ کو محسوس کر سکتا تھا۔
آقا نے اس دوران کوئي حرکت نہیں کي اور نہ ہي جنگ کے نتیجے پر
کسي بھي طرح سے اثرانداز ہونے کي کوشش کي۔ تاہم اب، ہوا جو کہ آندھي
بن کر چنگھاڑ رہي تھي، آقا کي آواز اس کے اوپر گونجي۔
اے عظیم ترين باپ کي اولاد، سنو۔ میں اس ممنوعہ علاقے میں محض”الله کي مرضي اور اس کي رحمت سے آيا ہوں۔ الله نے داؤ ؑد کے بیٹے کو ان کي
ضد پر معاف کر ديا ہے اور ان کي نسل پر اب کوئي تکلیف نہیں آئے گي کہ
اسرائیل اب ايک بار پھر سے ملک بن گیا ہے اور امن قائم ہو گیا ہے۔ تو کیا الله
تمہیں معاف نہیں کرے گا؟ ہاں، میں الله کي رحمت کا پھل لے کر آيا ہوں!” پھر
آقا نے امینوکل کو آگے بڑھنے کا اشاره کیا۔ تیزي سے بدلتے واقعات کے دوران
میں اسے تو بھول ہي گیا تھا۔ تاہم جو جنات باقي ره گئے تھے، انہوں نے
امینوکل کو فوراً پہچان لیا۔
نقیب!” مجھے ان کي سرگوشي ذہن میں سنائي دي۔”
نقیب! اب میں نے بھي اسے جان لیا۔
آخرکار ايک ولي کي شخصیت پر سے نقاب اٹھ گیا۔ قرآن میں لکھا ہے، “بے
شک، الله کے دوستوں کو کوئي خوف نہیں ہوتا اور نہ ہي انہیں کوئي غم
“پہنچے گا۔
جونہي وه ان کے سامنے کھڑا ہوا، جنات نے اسے فوراً پہچان لیا اور اب ہم
بھي اسے پہچان گئے، اس کا چہره عجیب سي روشني سے منور تھا۔
الله کي رحمت کا پھل، میں نے سوچا اور اچانک مجھ پر انکشاف ہوا کہ آقا
کي کہاني والا اصلي چور يہي ہے جو تائب ہو کر ولي بن گیا ہے۔
کیا اورنیاس کو اس بارے علم ہے؟ میں نے سوچا۔
ايک چور دوسرے چور کو پہچانتا ہے۔” فوراً اس کا جواب میرے ذہن میں”
گونجا۔
آيا ربیکا اور پروفیسر کو اس بات کي سمجھ آئي يا نہیں لیکن ہماري روايات
میں سے ايک يہ ہے کہ الله کے دوست وه ہوتے ہیں جنہیں الله اپني دوستي
سے ممتاز کرتا ہے اور انہیں اپنے کاموں کے لیے منتخب کر لیتا ہے تاکہ
سچائي ان کي روحاني رہنمائي کے ساتھ واضح ہو سکے۔ ان میں سے چار ہزار
پوشیده افراد ہوتے ہیں اور انہیں ايک دوسرے کا علم نہیں ہوتا اور نہ ہي اپنے
مراتب سے آگاه ہوتے ہیں اور وه خود سے اور مخلوق سے پوشیده رہتے ہیں۔
باقي افراد ايک دوسرے کو جانتے ہیں اور لوگوں کو قريب لانے اور دور کرنے پر
قدرت رکھتے ہیں۔ ان میں سے 300کو اخیار کہا جاتا ہے، 40کو ابدال، 7کو
ابرار، 4کو اوتاد، 3کو نقباء )واحد نقیب( اور محض ايک کو قطب کہتے ہیں۔
سو میرے آقا، جو کہ قطب ہیں، نے سب کو مخاطب کیا: “تمہارے سامنے
الله کي مہرباني سے تمہارے لیے چني گئي رحمت موجود ہے، شاه سلیما ؑن
کي انساني دعائیں سني گئي ہیں اور بے انتہا مہربان الله نے تمہارے لیے
دوسرے انسان کو امید بنا کر بھیجا ہے، چاہے تم نے پہلے کے ساتھ اچھا
“!سلوک نہیں کیا
امینوکل جنات کے سامنے انتہائي عاجزي اور انکساري سے جھکا اور
انتہائي نرم آواز میں بولا اور سب نے اس کي بات کو سمجھا۔
آپ سب پر سلامتي ہو، کہ آپ مشکل وقت میں بھي مايوس نہیں ہوئے۔”
میں نے اپني مرضي سے لاپرواہي کا راستہ چنا اور کمترين سے بھي کمتر بن
گیا۔ جب میري ناامیدي اپني انتہا کو پہنچي اور ہر امید ختم ہو چکي تھي، الله
“نے مجھے اٹھايا اور اپنے تخت کے سامنے لا کر رکھ ديا۔اسے آہوں اور سسکیوں سے جواب ملا اور میرے دماغ میں ان کے لیے
امید کي کرن جگمگانے لگي۔ جنات کے اندر امید کا احساس مجھے بھي ہونے
لگا۔
پھر نقیب نے ہاتھ اٹھا کر اپني آنکھیں بند کیں اور خاموشي سے اس کي
سوچ اور اس کي توجہ کا وزن اس کے دماغ سے ان گنت اذہان تک پہنچنے لگا۔
خبردار، اگرچہ میں الله کے سامنے گرد کے ذرے سے بھي کمتر ہوں،”
اسي کي مرضي سے تم لوگوں کے بیچ تمہاري خاطر رہنے کو بھیجا گیا ہوں اور
میں تمہارا خادم اور تمہارا رہنما ہوں۔ اب ہمارے سامنے طويل راستہ ہے۔ جس کا
“!دل چاہے، جن کي خانقاه میں چلا آئے
عین اسي وقت اورنیاس نے ہمارا رابطہ توڑ ديا۔ اچانک ہي تاريکي کا
احساس ہم پر حاوي ہو گیا اور ہم محض پلکیں جھپکاتے ہي ره گئے۔ اس اچانک
تبديلي پر میرے سر میں شديد درد شروع ہو گیا کہ ہم اپني دماغ میں ہوتے
واقعات اتنے واقعات میں يکسر کھو چکے تھے۔
کیا ہوا؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
تمہیں جو ديکھنا تھا، تم نے ديکھ لیا۔ جنات کي نسل کا آخري اجتماع۔ اب”
“کوئي اجتماع نہیں ہوگا۔
عفريت اب کیا کريں گے؟” میں نے پوچھا۔ ان کے حملوں میں موجود برائي”
کا سوچ کر مجھے جھرجھري سي آ گئي۔
اورنیاس اس کا جواب دينے سے کترا رہا تھا اور اس نے بڑي احتیاط سے
الفاظ چنے، جیسے اس بات سے اسے تکلیف ہو رہي ہو۔ “ان کا راستہ مجھ
سے پوشیده ہے۔ اپني نسل کے حوالے سے مجھے پیش آگہي نہیں ہوتي۔
تاہم تمہاري بات بجا ہے۔ تم انہیں اتنا نہیں جانتے جتنا میں جانتا ہوں۔ پہلے وه
خالق حقیقي کے سامنے فرمانبردار تھے اور ان کا رہنما عزازيل تھا جو بعد
ِ
بھي
میں ابلیس کہلايا۔ افسوس، وه اتنے ہي برے ہیں جتنے کہ روشني کو نہ ديکھ
سکنے والے ہوں۔ ان میں امید کي کرن کا نکلنا بہت مشکل ہے اور میں بھي ان
کي طرح شرير تھا مگر شاه سلیما ؑن نے ہمیں اپنے تابع کر لیا۔ شايد جو بات ايک
کے لیے رحمت ہو، دوسرا اسے تکلیف سمجھے۔ انہیں آج بھي شاه سلیما ؑن
سے نفرت ہے اور يہ نفرت مسلسل بڑھتي جا رہي ہے اور اس میں غصہ اور
غرور بھي شامل ہیں۔ ابھي تو وه بالزيبول کي طاقت کے سامنے بھاگ گئے ہیں۔
الله کي مہرباني سے فلاح کا راستہ ان کے سامنے بھي کھول ديا گیا ہے اگرچہ
“میرے خیال میں وه اس پر نہیں چلیں گے۔
يعني اس معاملے میں انسان اور جنات ايک جیسے ہوئے؟” میرے پیچھے”
سے گہري آواز آئي۔
آقا اور کیپٹن سیماچ لوٹ آئے تھے۔ جتني تیزي سے ان کي روانگي ہوئي
تھي، اتني تیزي سے وه واپس آئے۔ تاہم بالزيبول اور نقیب وہیں ره گئے تھے۔
انہیں محفوظ ديکھ کر ہم بہت خوش ہوئے۔ آقا میرے ساتھ بیٹھ گئے جبکہ ربیکا
نے کھسک کر کیپٹن کے لیے جگہ بنائي۔ اب پروفیسر نے آقا کا رخ کیا۔
عفريت بھي نماز میں شامل تھا؟” اس نے کہا۔”
آقا نے جواب نہیں ديا اور انہوں نے فقیر کي سمت ديکھا۔ اورنیاس کےانساني نقوش پر اداسي سي چھا گئي لیکن پھر اس نے جواب ديا۔ “انسان
اپنے اعمال اور اپنے الفاظ سے الله کي عبادت کر سکتے ہیں، اگرچہ ايسا کم
ہي ہوتا ہے۔ مگر ہم ايسا کرنا چاہتے بھي ہیں لیکن کر نہیں سکتے۔ ہمیں اس
خوشي سے دور پھینک ديا گیا ہے۔ تاہم ہماري روحوں کي گہرائي میں آج بھي
“!اس سورج کي خوشي موجود ہے جو کبھي غروب نہیں ہوتا تھا
اس کي آواز میں درد اور کسک تھي جو اپني نسل کے لیے محسوس کر
رہا تھا۔ مجھے بہت دکھ ہوا۔ تاہم اس نے يہ بات قبول کر لي تھي جو اس راه پر
بہت آگے پہنچے متوکل کي علامت ہے۔
آقا نے سر ہلا کر ہمیں ديکھا۔ “تمام روحوں کو يہ بات ياد ہے۔ الله کي رضا
سے ان سب کے لیے راستہ کھل گیا ہے اور جیسے انہوں نے ايک بار الله کے
غضب کو للکارا تھا، اب وه اس کي رحمت کو اپنا سکتے ہیں۔ بہت سارے عفريت
شايد اس سے کترائیں گے لیکن ابھي بھي ان میں سے کئي واپس لوٹ آئے
ہیں اور نقیب بطور امام ان کي رہنمائي کر رہا ہے اور بالزيبول بھي اس کے ساتھ
ہے۔ ان کي ناشکري کے سبب دوسري نسل تیسري سے بھي زياده گر گئي
ہے لیکن انسانوں کے برعکس تمام جنات بخوبي جانتے ہیں کہ جب الله کے
روز قیامت پیش ہوں گے تو کیا ہوگا۔
ِ
“حضور
ابھي سب ‘الله اکبر‘ کہہ رہے ہیں جس کا حقیقي مطلب ہے کہ ‘اے الله،”
ہم تیرے سامنے قربان ہیں!‘ اور انہیں مختلف درجات میں تقسیم کیا جا رہا ہے
روز قیامت بھي ہوگا۔ اس
ِ
تاکہ نماز پڑھیں۔ يہي کام جنات اور انسان کے ساتھ
روز الله دونوں سے پوچھے گا: ‘جو زندگي ہم نے تمہیں عطا کي، تم اس میں
سے ہمارے لیے کیا لائے ہو؟ تمہاري زندگي کا خاتمہ کس کام پر ہوا؟ مختصراً
بتاؤ! تمہیں جو حسیں عطا کي گئي تھیں، انہیں کس کام لگايا؟ تم نے آنکھیں،
کان اور عقل استعمال کي، لیکن کیسے استعمال کي؟ ہم نے تمہیں يہ سب
نعمتیں اس لیے ديں تاکہ تم اچھے اعمال کي زمین پر ہل چلا سکو، اب بتاؤ کہ
تم نے کیا بويا اور کیا کاٹا؟ ہم نے تمہیں نعمتیں عطا کیں، تمہارا شکر کہاں
“‘ہے؟
پھر تمام جن و ُانس اپنے سر اٹھا کر جواب ديں گے اور پھر آه و ُبکا سنائي”
دے گي، مايوسي سے آنسو ايسے نکلیں گے جیسے کوئي دريا بہہ رہا ہو،
حالانکہ ان کي اپني زندگي میں ايک بھي آنسو نہیں نکلا ہوگا۔ افسوس، جہاز
کو ڈوبتا ديکھ کر سبھي الله کو ياد کريں گے۔ الله ہي اول ہے اور الله ہي آخر ہے
اور وہي واحد ہے جو مہربان اور نہايت رحم کرنے والا ہے۔ خبردار، الله کي محبت
اور انصاف اور اس کا غصہ اور اس کا رحم، سبھي ايک ہي ہیں اور وه اپني
“مخلوق کو کبھي ابدي تکلیف میں مبتلا نہیں کرے گا۔ الله کو سب علم ہے۔
آقا کي باتوں سے ہم سبھي ُگنگ ہو گئے۔ میں نے انہیں کبھي ايسے
بولتے نہیں سنا تھا مگر مجھے يہ علم تھا کہ ہر جگہ موجود جنات نے ان کي
باتیں سني ہیں۔
آقا نے میري جانب ايسے ديکھا جیسے انہیں میري سوچ کا احساس ہوا
ہو۔ “يہ بھي لکھ لو، انسان اور جنات کا توبہ میں کوئي حصہ نہیں۔ توبہ خالق کي
طرف سے مخلوق کو عطا ہوتي ہے، مخلوق سے خالق کو نہیں ملتي۔ يہخدائي نعمت ہے، جو الله کرے سب کو نصیب ہو۔ الله توبہ کي نعمت اسے عطا
کرتا ہے جسے چاہے عطا کرے اور جب چاہے عطا کرے۔ ہمارے ساتھ موجود دو
چور اس بات کے گواه ہیں”۔
میں الله کي رضا پر راضي ہوں جیسے سلیما ؑن راضي تھے اور انہوں نے”
بروقت اپني ضد اور ناشکري پر توبہ کر لي تھي۔ دائره مکمل ہو چکا۔ ہدايات کے
مطابق قاصد لوٹ آيا ہے اور امید کا راستہ کھل چکا ہے۔” اورنیاس بولا۔
معاف کیجیے گا آقا، مگر کون سا ‘راستہ‘ کھل چکا ہے؟” میں نے پوچھا۔”
اگر تمہارے کان اور آنکھیں بند تھے تو اب انہیں کھول لو۔ الله کي مہرباني”
سے شاه سلیما ؑن کا دوسرا محل اب جنّستان کي خانقاه بن چکا ہے اور نقیب
اس کا شیخ۔ اب جو جن بھي چاہے، وہاں جا سکتا ہے کہ الله کي رحمت وہیں
“ہے۔
حیرت سے میرا سانس رک گیا۔ بے شک میري آنکھیں اور میرے کان بند
تھے۔
اپنا منہ بھي بند کر لو اور لکھو کہ خدا کي عبادت اس کي مخلوق کي”
خدمت ہے اور محبت کا راستہ ہي جن و ُانس کے لیے امید کا راستہ ہے۔” آقا
نے ہنس کر کہا۔
آقا کے ُپر خلوص الفاظ نے ہماري روحوں کو گرما ديا اور ان کي توجہ،
سختي اور محبت بھري باتوں نے ہمارے دل پر کچھ ايسا اثر کیا کہ جس کے
بارے کہنا ممکن نہیں۔ محل کے ستونوں کي روشنیاں بھي تیز تر ہو گئیں۔
خاموشي سے میں نے اپنا ذکر جاري رکھا اور ايک مقدس روايت میرے دل میں آ
کر میرے ساتھ بیٹھ گئي: “ہم اپنے خادم کي سوچ سے بھي زياده قريب ہیں۔
اگر وه خاموشي سے ہمیں اپنے اندر ياد کرتا ہے تو ہم بھي اسے ويسے ہي ياد
کرتے ہیں۔ اگر وه ہمیں جلوت میں ياد کرے تو ہم بھي اسے اس سے بہتر جلوت
“میں ياد کرتے ہیں۔۔۔
پروفیسر ابھي درويش تو نہیں بنا تھا لیکن رونے کے قريب لگ رہا تھا۔ ربیکا
نے جس انداز سے کیپٹن سیماچ کو ديکھا، مجھے اس پر رشک آيا۔
آرون، وه تمہیں ‘بنیاه‘ کیوں کہہ رہے تھے؟ ايسا کیسے ہو سکتا ہے؟” اس”
نے لحظہ بھر توقف کے بعد پوچھا۔
میرا خیال ہے کہ ہم رشتہ دار ہیں۔” کیپٹن مسکرا کر بولا۔”
بے شک! يہ بنیاه کي نسل سے ہے۔ جنات کو دکھائي ديتا ہے، چاہے”
انسان نہ ديکھ پائیں۔” اورنیاس بولا۔
مجھے تو کچھ بھي سمجھ نہیں آئي۔ شاہوں کي پہلي کتاب میں لکھا”
ہے۔ چونکہ سلیما ؑن نے خدا سے رخ موڑا تھا تو ان کي تمام تر بادشاہت
ماسوائے ايک قبیلے کے، ان کي وفات کے بعد جیروبام کو ملتے۔” پروفیسر نے
کہا اور پھر جیب سے چھوٹي بائبل نکال کر اس نے پڑھا: “ہم داؤ ؑد کي اولاد کو
“تکلیف ديں گے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں۔
ہم سب اس کا مطلب جانتے تھے۔ خدا کا عذات ايک دائرے کي مانند ہوتا
ہے اور خدا کا وعده پورا ہوا۔ ہمیشہ کے لیے نہیں! شاه نے يہ الفاظ کیپٹن کے
گوشت پوست کي مدد سے تین ہزار سال بعد ادا کیے۔ امید کي آگ جنات کےاندر جل اٹھي تھي۔ الله کے حیران کن منصوبے نے میرے دل کو منور کر ديا۔ پھر
میں نے خاموشي سے جنات اور انسانوں کے لیے الله کي رحمت پر خاموشي
سے شکر ادا کیا۔
محبت تمام عیب چھپا لیتي ہے”۔ آقا نے ايک بار پھر میري سوچ پڑھتے”
ہوئے کہا۔
آپ ضرب الامثال کا حوالہ دے رہے ہیں جو شاه سلیما ؑن نے کہي تھیں۔ يہ”
انساني سائنس سے باہر کي بات ہے۔” پروفیسر نے آه بھر کر کہا۔
ايسا نہیں ہے۔ انسان اور کائنات کے جسماني ارتقا کے ساتھ ساتھ روح”
کا بھي ارتقا ہوا۔ دونوں ايک دوسرے سے منسلک ہیں۔ ايک کو سائنس سے
واضح کر سکتے ہیں تو دوسري کو سمجھنے کي خاطر دل کي سائنس کا
سہارا لینا پڑتا ہے”۔ آقا نے کہا۔
مہر سلیمان ؑي ابھي تک اثر رکھتي ہے؟ جیسا کہ انہوں نے اپنے خون”
ِ
کیا
سے لکھا؟” پروفیسر نے پوچھا۔
ہاں۔” اورنیاس نے جواب ديا۔”
کاش کہ مجھے وه انگوٹھي مل جاتي اور میں اس منحوس ہوا کو روک”
سکتي۔ ابھي تک اس کي آواز میں ذہن میں گونج رہي ہے۔” ربیکا نے مداخلت
کي۔
اس سے کوئي فائده نہیں ہوگا۔ اس میں اب طاقت نہیں رہي۔ اس”
انگوٹھي کي تاثیر صرف الله کي منشاء سے ملتي ہے۔ جب تک شاه سلیما ؑن
نے اپني انا پر خدا کے حکم کو ترجیح دي، تب تک اس انگوٹھي کي مدد سے
پوري دنیا ان کے سامنے سرنگوں رہي۔ لیکن يہ انگوٹھي الله کے حکم کے ايک
“حرف کو بھي نہیں بدل سکتي۔
خدا کا حکم؟ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟” ربیکا نے پوچھا۔”
ہوا اپني ابتداء سے کبھي بھي سست نہیں ہوئي اور دنیا کے اختتام تک”
ايسے ہي چلتي رہے گي۔ جو پر ہماري آگ کو قابو میں رکھ رہے ہیں، وه کبھي
اس ہوا کو کم نہیں ہونے ديں گے۔” اورنیاس نے جواب ديا۔
پر؟ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟” ربیکا نے اصرار کیا۔”
تم نے شايد کبھي ‘عزه‘ اور ‘عزائیل‘ کے بارے نہیں سنا؟ان کو ہمیشہ کے”
لیے زنجیروں میں جکڑا گیا ہے اور عذاب کي وجہ سے ان کے پر ہمیشہ متحرک
رہتے ہیں۔ ان کے غصے کي وجہ سے جنات مقید رہتے ہیں کہ کہیں ہماري آگ
نہ بجھ جائے”۔
“!عزه اور عزائیل۔ يعني ہاروت اور ماروت؟ ان کا ذکر ظہر میں ملتا ہے ”
ہاں۔ سچ ہے کہ وه تاريکي کے پہاڑوں میں موجود ہیں۔ انہیں فولادي”
زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے اور وه اس سے نکل نہیں سکتے۔” آقا نے بتايا۔
تو وه خود کو چھڑا کیوں نہیں لیتے؟ فرشتے؟” ہمدردي اور تعجب سے”
ربیکا بولي۔
يہ زنجیريں خدا کي مرضي کے لوہے سے بني ہیں جسے خدا کے غضب”
کي آگ سے ڈھالا گیا تھا۔ خدا کے سوا کوئي اور انہیں نہیں توڑ سکتا۔” آقا نے
سر ہلاتے ہوئے جواب ديا۔افسوس۔ ان کو بھي ہمارے نصیب کي سزا مل رہي ہے۔” اورنیاس بولا۔”
اور تمہاري امید بھي۔ محبت کے سوا اور کون خدائي قہر کو نرم کر سکتا”
ہے؟ خدا کي مہرباني کے سوا اور کون آنکھیں کھول سکتا ہے؟ خبردار، ‘خدا
کي رحمت اس کے غضب پر غالب ہوتي ہے!‘ ايسے ہي لکھا گیا ہے اور ايسے
ہي ہوا ہے اور خدا کي تمام مخلوقات محبت کے راستے پر چل سکتي ہیں،
چاہے وه جنات ہوں، انسان يا نکالے گئے فرشتے، چاہے ان کے ساٹھ ہزار پر ان
کے پیچھے گھسٹ رہے ہوں۔” آقا نے بتايا۔
الله! الله!” علي اور رامي چلائے۔ میں نے بھي ان کا ساتھ ديا۔ ربیکا رونے”
لگي اور ہم الله کے مختلف اسمائے حسنہ کي گردان کرنے لگے کہ آقا نے ہمیں
الله کي محبت کے بارے جس انداز سے بتايا تھا، اس سے ہماري روحیں مسرت
سے کانپ رہي تھیں اور ہمارے منہ سے بے ساختہ الله کا شکر اور تعريف نکل
رہي تھي۔ الله کے نام کا ذکر ہر سانس اور دھڑکن کے ساتھ ہماري زبانوں اور
ہمارے دل سے نکل رہا تھا اور ہمارے دل اور سانس لامتناہي سمندر میں گم ہو
گئے۔ ہم بچوں کي مانند روتے رہے کہ خدا کي محبت کو محدود نہیں کیا جا
سکتا اور بہت دير بعد ہم بولنے کے قابل ہوئے۔ بے شک ہمیں ايسا لگا کہ ہم
جیسے کسي سنہري دور سے گذر رہے ہوں جہاں ہمیں خدا کي قدرت سے
آگاہي ہو گئي تھي اور خوبصورتي کا احساس ہو گیا تھا اور خدا کي محبت اس
کي تمام مخلوقات میں اجاگر ہو رہي تھي۔
پروفیسر فري مین کي آنکھیں ابھي تک نم اور خوشي اور حیرت سے
پھیلي ہوئي تھیں۔
آقا نے اس کو ديکھا اور نرم آواز میں اسے مخاطب کیا۔ “آه، محبت نے
ساري ذہانت دھو ڈالي اور اب اس سے کوئي خطره نہیں رہا۔ شلومہ، تم بہت
“دور آن پہنچے ہو۔ شايد تم اتنے بھي برے طالبعلم نہیں تھے۔
پروفیسر آقا کي بات سن کر محض سر ہلانے اور ہنسنے کے علاوه اور
کچھ نہ کر سکا۔ ہم بھي اس کے ساتھ ہنسے اور ربیکا نے اس کا ہاتھ مضبوطي
سے تھام لیا۔
آقا کچھ کہتے کہتے رکے اور انہوں نے اورنیاس کي جانب ديکھا۔ “دروازے
ايک بار پھر ُکھل گئے ہیں۔” انہوں نے کہا۔
تھوڑي دير کے لیے۔” جن نے جواب ديا۔”
آؤ، چلیں۔ ہمیں جلدي روانہ کرنا پڑے گي۔” آقا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا۔”
بمشکل تمام ہم اپنا سامان اکھٹا کر کے محل سے نکل آئے۔ دوڑتے ہوئے ہم نے
سیڑھیاں طے کیں اور سن ِ گ مرمر کي سڑک پر چل پڑے۔ ہمارے پیچھے محل
کے ستونوں کي روشني ايسے ہو گئي تھي جیسے ہمیں خدا حافظ کہہ رہي
ہو۔ تیز ہوا ہمارے اردگرد گونج رہي تھي اور ايسے لگتا تھا کہ ہر طرف موجود
جنات ہمارے بارے سرگوشیاں کر رہے ہوں۔
اس گول عمارت کے سامنے کھلے ہوئے بڑے دروازے پر ُرک کر ہم نے
سرزمین جنات پر نگاه ڈالي۔ فقید المثال جنّستان ہمارے سامنے تھا اور
ِ
آخري بار
شہر کے پہاڑوں پر بني عمارات، ان کے چھجے اور ان کي جیومیٹري، ان میں
لگي ہوئي آگ جو اس منظر کو روشن کر رہي تھي، سب انساني عقل سے باہرکي چیزيں تھیں۔ میں نے نقیب کي قسمت کے بارے سوچا اور پھر ستاروں اور
چاند کي روشني کو ديکھنے کے خیال میں مگن ہو گیا۔ اور ہاں سورج بھي۔
سورج۔
جلدي کرو، ورنہ ہماري قسمت بھي ايسے ہو جائے گي۔” آقا چلائے۔ وه”
پہلے ہي اس عمارت کے اندر پہنچ کر آتشیں تالاب کے کنارے کھڑے تھے۔ نقیب
اور اورنیاس ان کے ساتھ تھے اور بالزيبول بھي، ان سب سے اوپر دکھائي دے
رہا تھا۔ ہم بعجلت آگے بڑھے لیکن آتشیں تالاب کے منظر سے میرا دل بیٹھ گیا۔
مجھے علم ہو گیا کہ ہم نے کیسے واپس جانا ہے۔
آقا میرے چہرے کو ديکھ کر ہنس پڑے اور اپني لبادے میں ہاتھ ڈال کر انہوں
نے چمڑے کا ايک مشکیزه نکالا۔
يہ لو، توارگ کي جانب سے ايک تحفہ”۔ آقا نے کہا۔”
اورنیاس نقیب کے سامنے جھکا۔ “يہ تحفہ اور تحفہ دينے والے، دونوں آپ
“کے شايا ِن شان ہیں۔ افسوس کہ میرے اپنے تحائف پیچھے ره گئے۔
بالزيبول نے اوپر سے ہي آه بھري اور بولا۔ “کاش کہ میں آپ کي شان کے
“مطابق کوئي تحفہ دے سکتا۔
سچ کي کوشش کرو اور اس پر ڈٹ جاؤ۔ اس سے بڑا کوئي عمل يا تحفہ”
نہیں”۔ يہ کہہ کر انہوں نے مشکیزے کا منہ کھول کر پاني کو شعلوں پر انڈيل
ديا۔
آقا نے مشکیزه کہاں سے بھرا تھا، مجھے فوراً علم ہو گیا۔ شعلوں پر پاني
گرنے سے آواز نہیں پیدا ہوئي بلکہ اس طرح اونچے ہو کر ناچنے لگے جیسے
پاني کا استقبال کر رہے ہوں اور بجھنا شروع ہو گئے۔ اورنیاس اور بالزيبول پوري
توجہ سے يہ منظر ديکھتے رہے کہ کیسے ايک چھوٹے سے مشکیزے کے پاني
نے اتنے بڑے تالاب کو خالص ترين پاني سے بھر ديا۔
جب آگ بجھ گئي تو میرا خیال تھا کہ تاريکي چھا جائے گي لیکن پاني
ايسے چمک رہا تھا جیسے کہ اس کي اپني روشني بھي ہو۔
روٹي اور مچھلي! معجزه!” پروفیسر حیرت سے بولا۔”
آقا ہنس پڑے۔ “معجزه تو نہیں۔ محبت کے سمندر کا پاني دل کي مانند
پھیل سکتا ہے، اس کا کوئي کناره نہیں ہوتا۔ آؤ اور اب اپنے آپ کو صاف کر لیں۔
ايسا وضو زندگي میں دوباره نہیں کر سکو گے۔” پھر انہوں نے ہمیں تالاب کے
کنارے جمع ہو کر اپنے چہرے پاني میں ڈبونے کا حکم ديا۔
علي اور رامي نے فوراً آقا کے حکم پر عمل کیا جبکہ ربیکا اور کیپٹن
سیماچ ان کے بعد پہنچے۔ پروفیسر فري مین اور میں جیسے سحرزده ہو گئے
ہوں۔ ساکن اور چمکدار پاني میں ہمارا عکس نہیں بن رہا تھا۔
قطره، موج اور بلبلے، سبھي ايک ہي ہیں۔” آقا نے فوراً کہا اور ہمارے سر”
پکڑ کر پاني میں ڈبو ديے۔ پاني میري آنکھوں، کانوں اور منہ میں بھر گیا۔ يہ
کیفیت اتني شديد تھي کہ کسي سانس کي مانند میرے اندر پھیل گئي اور
میرے جسم کا ہر خلیہ اس سے بھر گیا اور میرے احساس نے جیسے نور اني
پر کھولے ہوں اور سوچ کي طرف اڑنے کو تیار ہو گیا۔اختتامیہ
،اگر تم اپني روح کو محبت کي آگ میں پگھلاؤ گے
تب تمہیں علم ہوگا کہ محبت ہي تمہاري روح کي الکیمي ہے۔
،تم اس دنیا کي حدود سے باہر نکل جاؤ گے
اور لا متناہي تک پہنچ جاؤ گے۔
،جو تم نے نہیں سنا، وه سنائي دے گا
جو تم نے نہیں ديکھا، وه دکھائي دے گا۔
ہاتف اصفہاني
میں آقا کے گھر میں اپنے کمرے میں، اپنے بستر پر بیدار ہوا۔ نیند سے
بیداري کي کیفیت کے دوران سورج کي روشني ديکھتے ہوئے مجھے خیال آيا
کہ میں خواب ديکھ رہا تھا اور بیدار ہوتے ہوئے اتنا اچھا محسوس کر رہا تھا کہ کیا
بتاؤں۔ ايک بار پھر میں نے کوے کو صبح سويرے خدا کي حمد کرتے سنا اور ديگر
پرندے بھي باري باري اس کے ساتھ آواز ملاتے گئے۔
اٹھ کر بیٹھا تو ديکھا کہ میں نے پورے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور توارگ والا
نیلا کوٹ بھي میں نے پہنا ہوا تھا، جو مجھے بہت پہلے ديا گیا تھا، اور میں يہ
سوچ کر ہنس پڑا۔
لپک کر میں کھڑکي تک پہنچا اور چلايا۔ “اے کوے، تمہارے عمر دراز ہو۔”
میں خود کو نہ روک پايا۔ میرا دل خوشي سے بے حال ہو رہا تھا۔
محبت کے خالص پاني سے وضو کر کے میں نے خوف اور شک کو دھو ديا
تھا۔ میں نے دائره بند ہوتے ديکھا اور زندگي کي آگاہي کے ساتھ سچائي کا
بھي مشاہده کیا۔ خالص دل کے ساتھ میں ايک بار پھر ہنسا اور نماز ادا کي۔
پرندے بھي چہچہاتے رہے۔ خدا کي مہرباني اور محبت کے لازوال تشکر کے
احساس کے ساتھ میں نے خدا کے حضور دعا کي کہ وه اپني مخلوق پر اپنا
فضل جاري رکھے اور دونوں جہانوں کي مخلوقات اور جنّستان کے نئے شیخ پر
اپني رحمت جاري و ساري رکھے۔
اس کے بعد میں لپک کر نیچے اترا تاکہ آقا کي صبح کي چائے کے لیے
پاني گرم کروں اور آقا کو ڈھونڈا۔ اپنے ساتھیوں کے بارے مجھے کوئي خوف
نہیں تھا۔ میں نے ديکھ لیا تھا کہ انہوں نے بھي اس خالص پاني سے وضو کیا
تھا اور مجھے يقین تھا کہ وه بخیريت پہنچ گئے ہوں گے۔ آقا نے يہ نہیں بتايا تھاکہ وه کب واپس تشريف لائیں گے اور جب میں نے کیتلي کو آگ پر رکھا تو
مجھے لگا کہ مجھے وقت کا بالکل بھي احساس نہیں رہا۔ ہمارا سفر وقت کي
قید سے باہر اور آگ اور گہرے پاني سے ہوتا ہوا مکمل ہوا اور مجھے اب يہ بھي
اندازه نہیں تھا کہ ہماري دنیا میں اس وقت کون سا دن يا کون سا سال چل رہا
ہوگا۔
اس سے کیا فرق پڑتا۔ میں نے محض آقا کو تلاش کرنے کي خواہش کي
تھي کہ ان کے حضور بیٹھ سکوں۔ مجھے ان کے محبت بھرے دل میں ايک
عجیب سي ُپراسراريت دکھائي دي تھي اور اسي سے مجھے معلوم ہوا کہ
جب مولانا رومي نے اپنے پیر و مرشد جناب شمس تبريزي کے بارے آخري الفاظ
:کہے، ان کا کیا معني تھا
!میں مر چکا تھا، میں زنده ہوا
!میں رو رہا تھا، اب میں ہنس رہا ہوں
!محبت کا خزانہ آن پہنچا
!اور میں لازوال خزانہ بن گیا
اس طرح قطب، يعني دنیا کے قطب نے مجھے ايسے اپني طرف کھینچ لیا
جیسے لوہا چون مقناطیس کي طرف جاتا ہے۔ ڈھونڈے بنا میں ان تک جا پہنچا۔
آقا باغ میں سنگي بنچ پر بیٹھے تھے اور پرندے پھر سے ان کي خاطر چہچہا
رہے تھے۔
اچھا ہوا کہ تم جاگ گئے۔ شلومہ آج رات ہمارے ساتھ شامل ہو جائے گا۔”
ہمیں اس کے لیے مٹھائي اور ربیکا کے لیے کافي بھي خريدني ہے۔” آقا بولے۔
آقا، آپ کب واپس آئے؟” میں نے پوچھا۔”
جب تم نے مجھے ديکھا، اسي لمحے۔” انہوں نے جواب ديا۔”
“مگر آج کون سا دن ہے؟”
آج آج ہے۔ صوفي ہمیشہ آج میں زنده رہتا ہے اے طالبعلم۔” آقا نے ہنستے”
ہوئے جواب ديا۔
الحمدͿ!” میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ آقا اٹھے اور میں ان کے پیچھے”
چلنے لگا اور ہم ايک بار پھر بازار کو چل ديے۔
ايک بار پھر تاجروں نے اپني چیزيں آقا کے تحفتاً پیش کیں اور دعاؤں کا کہا
اور آقا نے ايک بار پھر انہیں ہدايت کي کہ يہ سب تحائف غريبوں میں بانٹ ديے
جائیں۔ تاہم کافي اور مٹھائي کي قیمت انہوں نے اصرار کر کے ادا کي۔
ايک بار پھر ہم پرانے شہر سے گذرے اور حرم الشريف مسجد سے ہو کر
آئے مگر اس بار فقیر دکھائي نہیں ديا جو پچھلي بار مسجد کي سیڑھیوں پر
بیٹھا لوگوں کو ان کے مستقبل کے بارے بتا رہا تھا۔
تم اس زندگي میں اسے دوباره نہیں مل سکتے۔ سرحد پر اس کي نسل”
روز قیامت
ِ
ناقابل عبور پاني کي مہر لگي ہے اور آسمان کے دروازے اب
ِ
کے لیے
ہي کھلیں گے۔” آقا نے سامنے ديکھتے ہوئے کہا۔
میں نے استفہامي انداز میں سر ہلايا لیکن اس سوچ سے اداس سا ہو
گیا۔ بے شک اس کے بیان کرده طويل سفر پر میں گیا تھا اور اس جن نے بہترينرہنما اور بہترين ساتھي کا کام ديا تھا۔ کاش مجھے اس کي پوري داستان کا
علم ہو پاتا۔ مجھے اس کي ياد ستاتي رہے گي۔
خانقاه واپسي پر ديکھا کہ وہاں پہلے سے ہي درويش جمع ہو چکے تھے
اور رات کے لیے ايک بڑي دعوت کا اہتمام ہو رہا تھا۔ خواتین کھانا بنا رہي تھیں اور
مرد حضرات کمروں کي صفائي کر رہے تھے۔ آقا کو ديکھ کر انہیں بہت خوشي
ہوئي اور آقا نے ان کے ساتھ چائے پي اور مختصر بات بھي کي اور پھر معذرت
کر کے اپني بیٹیوں سے ملنے چلے گئے۔ انہوں نے ہماري غیر حاضري پر کوئي
بات نہیں کي اور نہ ہي کسي نے کوئي سوال کیا اور نہ ہي آقا کے جانے کے
بعد کوئي ايسا اشاره کیا۔
تم پہلے سے کچھ بڑے لگ رہے ہو۔” موجده نے مجھے کہا اور میں نے”
ديکھا کہ وه ايک دوسرے کو اشارے کر رہے تھے۔
میں بھلا کیا جواب ديتا۔ جب میں باغ میں پہنچا تو علي اور رامي، ربیکا اور
کیپٹن سیماچ کو اپنا منتظر ديکھ کر بہت خوش ہوا۔ آقا يہاں سے گذرتے ہوئے
بتاتے گئے تھے کہ میں پہنچنے والا ہوں۔ اپنے درويش بھائیوں اور بہن کو گلے
سے لگا کر میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ جب ہم بازار گئے تھے تو يہ لوگ
پہنچ گئے تھے اور ربیکا نے بتايا کہ اس کا باپ بھي پہنچنے ہي والا ہے۔ اس نے
اپنے دفتر کا چکر لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہم ساتھ بیٹھ کر آہستہ سے باتیں
کرتے رہے جیسے ہم پرانے، بہت پرانے ساتھي ہوں۔
يہ لوگ بھي اپنے بستروں میں بیدار ہوئے اور ربیکا اور کیپٹن سیماچ نے
بھي توارگ لبادے اوڑھ رکھے تھے۔ ہم نے حیرت سے اپنے سر ہلائے۔ اس دنیا
میں دو ماه گذر چکے تھے اور ہم سب نے ايک دوسرے کو ديکھا اور ہنس پڑے۔
ہماري خوشي چھپائے نہیں چھپ رہي تھي۔ ہم ہنستے اور بولتے رہے۔ پھر
کیپٹن سیماچ نے ہمیں يہ کہہ کر حیران کر ديا کہ ہم اسے آرون کہہ کر پکاريں۔
میں نے اِدھر ُادھر ديکھا کہ شايد کسي نے ہماري باتیں سني ہوں لیکن
ہمارے علاوه باغ میں اور کوئي نہیں تھا۔ عموماً اس وقت کئي درويش باغ کي
ديکھ بھال میں مصروف ہوتے ہیں لیکن اس بار انہوں نے ہمیں اکیلا چھوڑ ديا تھا۔
خانقاه میں ايسي ہي سمجھداري کا مظاہره ہوتا رہتا ہے۔ میں نے اس کا تذکره
اپنے ساتھیوں سے کیا لیکن کسي کو حیرت نہیں ہوئي۔
ہم بدل گئے ہیں اور انہیں يہ تبديلي دکھائي دے رہي ہے۔” آرون نے کہا۔”
مجھے کسي نے بتايا کہ میں بڑا بڑا لگ رہا ہوں۔” میں نے بتايا۔”
تم واقعي اپني عمر سے بڑے لگ رہے ہو۔” ربیکا نے کہا۔”
اتنے بڑے کہ اب داڑھي مونچھیں نکل رہي ہیں۔” رامي نے کہا اور ہم سب”
ہنس پڑے۔
بے شک دل کے آئینے میں اپنے لڑکپن سے آگے نکل آئے تھے۔ جب آقا اور
پروفیسر فري مین باغ میں آئے تب بھي ہم باتیں کرتے ہوئے ہنس رہے تھے۔
اہا، اب تم لوگ چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کي جانب آ گئے ہو۔” ہمیں”
بیٹھے رہنے کا اشاره کر کے آقا نے کہا۔
کون سا بڑا جہاد، آقا؟” جب وه ہمارے ساتھ بیٹھے تو ربیکا نے پوچھا۔”
“نفس کے خلاف جہاد۔ يہ جہاد کبھي نہیں رکتا۔”پروفیسر فري مین نے سر ہلايا اور اس کي آنکھیں چمک رہي تھیں۔ وه
اپني عمر سے چھوٹا دکھائي دے رہا تھا۔
صرف آقا ہمیشہ جیسے ہي تھے، وه نہیں بدلے۔
اب، شلومہ کو شامل کرنے سے قبل ايک کام ره گیا ہے۔” آقا نے کہا۔”
پھر آقا پرانے درخت کے پیچھے جا کر وہاں سے فقیر کا وہي کشکول لے
آئے جو میں نے تب سے نہیں ديکھا تھا جب فقیر باغ میں آيا تھا۔
يہ فقیر کے تحائف ہیں جو وه يہاں چھوڑ گیا تھا۔ دو اندر اور ايک باہر اور تین”
پہلے ہي ديے جا چکے ہیں۔ کشکول خانقاه کے لیے ہے اور تین تحائف پہلے ہي
“ديے جا چکے ہیں اور فقیر کا پیغام بھي۔
پھر انہوں نے کشکول سے دو چیزيں نکال کر ايک مجھے تھمائي۔ چوکور
سي کوئي چیز تھي جو عام سے کپڑے میں لپٹي تھي اور ڈوري سے بندھي
ہوئي تھي۔
طالبعلم کے لیے، الفاظ۔” انہوں نے کہا۔”
پھر انہوں نے ايک اور چھوٹي سي تھیلي پروفیسر کو تھمائي کہ جس
“میں بمشکل ہي چند سکے سما سکتے اور کہا۔ “سالک کے لیے، کوشش۔
میں نے حیران ہو کر دوسروں کو ديکھا۔ پتہ نہیں لکھتے ہوئے میں نے
کتني باتیں محسوس ہي نہیں کي تھیں۔ میں نے ڈوري کھول کر کپڑا ہٹايا۔ اس
کے اندر کتاب تھي، شايد کوئي رسالہ۔ پہلے صفحے کو ديکھا تو لکھائي سمجھ
نہیں آئي۔ کسي عجیب سي عبراني تحرير تھي۔ يہ تحرير بہت قديم لگ رہي
تھي۔ میں نے اسے اس طرح کھولا کہ پروفیسر فري مین اسے ديکھ سکے۔
ہاں! يہ کنعاني زبان ہے اور حال ہي میں لکھي گئي ہے۔ کاغذ زرد ہے”
لیکن اس کے ريشے ابھي ٹوٹنا شروع ہوئے ہیں۔ يہ کتاب چالیس يا پچاس سال
سے زياده پراني نہیں۔” پروفیسر نے غور کرتے ہوئے کہا۔
میں کتاب پکڑے رہا اور اس نے احتیاط سے صفحے پلٹے۔ پتہ نہیں کیوں
میں اسے اپنے سے دور نہیں کرنا چاه رہا تھا اور نہ ہي پروفیسر نے میرے ہاتھ
سے لینے کي کوشش کي۔
خوب! کسي قسم کي تاريخ لگ رہي ہے۔ میں بخوشي تمہارے لیے”
ترجمہ کرنے کو تیار ہوں۔” اس نے کہا۔
میں نے احتیاط سے کتاب بند کر کے آقا کي جانب ديکھا۔
ہاں۔ يہ تم دونوں کے لیے ہے۔ تاہم ياد رکھو کہ يہ تحفہ کوئي معمولي”
“نہیں۔ عین ممکن ہے کہ يہ کہاني تمہیں بدل دے۔
گہرا سانس لے کر میں نے کتاب کو بند کر کے کپڑے میں لپیٹا اور رسي
سے باندھ ديا۔ اس کہاني کو جاننے کي مجھے زبردست خواہش ہوئي۔ میري
!آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں جب میں نے اس کے ايک نام کو جانا۔ منشي
شلومہ، اب تم اپنے تحفے کے بارے بتاؤ۔” آقا نے کہا۔”
پروفیسر فري مین کپڑے میں لپٹي کتاب سے اپني نظريں نہ ہٹا سکا اور
اس کي توجہ اس میں پوشیده چیزوں پر مرکوز تھي۔ غائب دماغي سے اس نے
اپني تھیلي کي ڈوري کو کھولا اور اسے اپني ہتھیلي پر الٹايا۔
آہستہ آہستہ اس کي آنکھیں اس پر مرکوز ہوئیں اور پھر وه اسے گھورنےلگا۔
خدا کي قدرت!” اس کے منہ سے سرگوشي نکلي۔”
ايک چھوٹي سي سونے کي انگوٹھي جس پر ايک خوبصورت سبز پتھر لگا
تھا۔ يہ پتھر مسطح اور ستارے کي شکل کا تھا۔
بچہ خوفزده اور دبکا بیٹھا تھا اور اس کے سامنے کھڑا ربي اس پر جیسے
چھايا ہوا ہو۔ پھر جھريوں سے بھرا ايک ہاتھ آگے بڑھا اور اس نے بچے کے ابرو کو
چھوؤا۔ اسي لمحے بچہ مطمئن ہو گیا۔ جیسے اس لمس سے اس کا خوف دور
ہو گیا ہو۔ بچہ اب بیٹھ گیا جیسے اس کي پريشانیاں اور تکالیف دور ہو گئي ہوں۔
تمہیں پتہ ہے کہ شاه سلیما ؑن کون ہیں؟” بوڑھے ربي نے پوچھا۔”
بچے نے اثبات میں سر ہلايا۔ “میري امي نے بتايا ہے۔ ان کے نام پر میرا نام
“لکھا گیا ہے۔ وه بہت ذہین تھے۔
ربي نے خوش ہو کر سر ہلايا اور لڑکا شرما گیا اور درست جواب دينے پر
خوش بھي ہوا۔
ہاں، شاه سلیما ؑن بہت ذہین اور ہوشیار تھے۔ بے شک تمہارا نام ان کے”
“نام پر رکھا گیا ہے۔ تم بھي بہت ذہین ہو۔ لیکن تمہیں علم ہے کہ ذہانت کیا ہے؟
لڑکا سوچ میں پڑ گیا۔
نہیں۔” آخرکار اس نے جواب ديا۔”
ربي اس کے جواب پر تھوڑا سا ہنسا۔
ذہانت دو چیزوں سے بنتي ہے۔ جیسے ہم آٹا اور پاني ملا کر آٹا گوندھتے”
“ہیں۔ اسي طرح خدا کي ياد اور اس ياد کي رہنمائي مل کر ذہانت بناتے ہیں۔
“ہمم؟”
مجھے علم ہے کہ تم ابھي اس بات کو نہیں جانتے اس لیے میں تمہیں”
“ايک کہاني سناتا ہوں۔
بچہ اب بڑي کرسي پر آرام سے دو زانو ہو کر بیٹھا اور بازو اپنے گرد باندھ
کر کہاني سننے کو تیار ہو گیا۔ ايسا لگ رہا تھا جیسے وه اپنے گھر میں اپنے
بستر پر ہو اور ماں سے لوري سننے کو تیار ہو۔ اسے کمرے سے باہر اپنے
والدين کي آوازيں سنائي دے رہي تھیں لیکن اب اسے ربي سے ڈر نہیں لگ رہا
تھا۔
ربي بچے کو ديکھ کر مسکرايا۔ “يہ کہاني تم ہمیشہ ياد رکھو گے۔” اس نے
کہا۔
“کیا بہت طويل کہاني ہے؟”
ہاں۔ بہت ہي طويل۔ تاہم میں تمہیں اس کا پہلا حصہ سناؤں گا۔ باقي کي”
کہاني تم خود جان لو گے۔” ربي بولا۔
کس بارے ہے؟” بچے نے بے چیني سے پوچھا۔”
يہ کہاني اس بارے ہے۔” کہتے ہوئے اس نے اپني جیب سے احتیاط سے”
ايک انگوٹھي نکالي۔ سونے کي چمکدار انگوٹھي تھي جس پر سبز رنگ کا ايکقیمتي پتھر ستارے کي شکل کا جڑا ہوا تھا۔ “اس جیسي ايک انگوٹھي کي مدد
سے سلیما ؑن کو پرندوں کي بولي سمجھ آتي تھي اور شیاطین کو قابو کر لیتے
“تھے۔ تمہیں پتہ ہے کہ شیاطین کیا ہوتے ہیں؟
لڑکے نے نفي میں سر ہلايا۔
آسیب ہوتے ہیں۔” ربي نے بتايا۔”
اوه! بلائیں۔” بچہ بولا۔”
ہاں۔” ربي نے سر ہلا کر جواب ديا۔”
پھر شاه سلیما ؑن کو يہ انگوٹھي کہاں سے ملي؟” بچے نے پوچھا۔”
خدا نے انہیں يہ انگوٹھي عطا کي تھي۔ لو، يہ انگوٹھي لو۔” يہ کہہ کر”
ربي نے احتیاط سے انگوٹھي اس بچے کے ننھے سے ہاتھ پر رکھ دي۔ انگوٹھي
بڑي اور بھاري تھي اور بچے نے اسے کافي دير تک ديکھا جیسے سنہري
انگوٹھي اور سبز پتھر نے اسے جکڑ لیا ہو۔
کیا يہ جادوئي انگوٹھي ہے؟” بچے نے بڑي امید سے پوچھا۔”
نہیں۔ اس کي تاثیر محض خدا کي طرف سے اس کے پہننے والے کو عطا”
ہوتي ہے۔” ربي بولا۔
پھر آپ اس کے ساتھ کیا کريں گے؟” بچے نے انگوٹھي واپس ديتے ہوئے”
پوچھا۔ وه تھوڑا سا مايوس لگ رہا تھا۔
میں اسے تب تک محفوظ رکھوں گا جب تک کسي اور کو دينے کا وقت نہ”
“آ جائے۔
“کسے ديں گے؟”
“خدا کي مرضي کہ يہ کسے ملے گي۔”
“کیا کبھي خدا يہ انگوٹھي مجھے بھي دے گا؟”
شايد۔ جب تمہارا دل اتنا سمجھدار ہو جائے گا کہ تمہیں اس کا استعمال”
آ جائے۔” ربي نے سنجیدگي سے جواب ديا۔
میں نے جھک کر انگوٹھي کو قريب سے ديکھنا چاہا مگر پروفیسر نے فوراً
مٹھي بند کر دي۔ مجھے معلوم نہیں کہ آيا دوسروں نے انگوٹھي ديکھي بھي يا
نہیں۔ صرف ربیکا اپنے باپ کو ديکھ رہي تھي۔
اب چونکہ تحائف ديے جا چکے ہیں اور کھانے کا وقت قريب آ رہا ہے۔”
شلومہ، اس لیے تمہاري شمولیت اس سے پہلے ہو جائے گي۔ جب تم تیار ہو
جاؤ گے تو اسحاق تمہیں مجھ تک پہنچا دے گا۔” يہ کہہ کر آقا اٹھے اور خانقاه
کے اندر چلے گئے۔ علي، رامي اور آرون بھي ان کے ساتھ چل ديے۔
ربیکا اپنے باپ کے ساتھ بیٹھي رہي اور میں نے اسے شمولیت کي تقريب
اور اس کي علامتي اہمیت کے بارے بتايا۔ اس نے اپنا سر نہ اٹھايا اور مجھے
گمان ہوا کہ آيا پروفیسر میري بات سن بھي رہا ہے کہ نہیں۔ اس کي مٹھي
ابھي تک بند تھي۔
“۔۔۔ پھر ہم مٹھائي کھائیں گے۔ اگر آپ نے انگوٹھي خريدني ہو تو۔۔۔”
مجھے سالومن کہہ کر مخاطب کرو۔ اور انگوٹھي میرے پاس ہے، اسے”
خريدنے کي کیا ضرورت۔” اس نے اچانک میري بات کاٹ کر ربیکا کي جانبديکھتے ہوئے کہا۔
اس طرح دعوت، موسیقي اور خوش خوش تالیوں کے ساتھ پروفیسر
سالومن فري مین کو ہمارے ساتھ درويش بنا ديا گیا اور علي کي ‘نے‘ بھي
گونجتي رہي اور يہ ‘نے‘ اس نے آگ اور پاني سے بھي بچا کر رکھي تھي۔ اس
کي آواز سے ہمارے دل پر خدا کي عظمت کا اور بھي گہرا اثر ہوا اور ہم حمد و
ثنا کرنے لگے۔
شمولیت کي تقريب اور لذيذ کھانے کے بعد ہم ايک بار پھر باغ میں آقا کي
بات سننے کو بیٹھ گئے۔
اے درويش، خدا کو جانے والے راستے کي بنیاد محبت ہے اور يہي اس کا”
اصول ہے۔ محبت کے مراحل میں کئي مقام اور کئي حالتیں آتي ہیں اور يہ
“راستہ اور يہ محبت کبھي ختم نہیں ہو سکتي۔
ابن عثمان مکي نے بہت پہلے ‘کتا ِ ب محبت‘ میں لکھا تھا کہ خدا نے”
ِ
عمر
انساني جسم سے بھي 7000سال قبل روحیں بنائي تھیں اور انہیں اپنے
قريب رکھا۔ اس سے بھي 7000سال قبل خدا نے شعور پیدا کیا اور اسے ايک
حد میں قید کر ديا۔ پھر خدا نے اس سے بھي 7000سال قبل دل پیدا کیا اور
اسے انضمام کي حالت میں رکھا۔ پھر خدا نے اپني خوبصورتي کو ہر روز 360بار
انساني دل پر عیاں کیا اور اس پر اپنا فضل ہر روز 360بار ڈالا۔ پھر خدا نے شعور
“کو محبت کے بارے بتايا اور روح پر 360بار لطف و کرم کي بارش کي۔
پھر جب انہوں نے خدا کي بنائي کائنات کو ديکھا تو خود کو سب سے”
“زياده قیمتي پايا اور غرور اور فخر میں مبتلا ہو گئے۔
پھر خدا نے روح پر روک لگائي۔ خدا نے دل اور شعور کو روح میں اور روح”
کو جسم میں قید کر ديا۔ پھر خدا نے ان پر مختلف سوچیں ڈالیں اور ہر ايک کو
اس کي منزل کي جانب روانہ کر ديا۔ جسم عبادت کے لیے جھکتا ہے اور روح
محبت کے لیے۔ شعور خدا کي قربت پر اور دل ان سب کے ساتھ مل کر خدا کے
“حضور پہنچتا ہے۔
آقا اپنا پائپ جلانے کو رکے اور جب ان کے پائپ سے سفید دھواں نکلا تو
انہوں نے ہمارے چہروں پر تجسس ديکھا۔ “وضاحت مت مانگو۔ محبت کي
وضاحت نہیں کي جا سکتي۔ محبت کي وضاحت محبت نہیں کیونکہ محبت
لفظوں سے ماوراء ہے۔ بے شک اگر ساري دنیا بھي محبت کي طرف متوجہ ہو
تو بھي وه ناکام رہیں گے اور اگر وه اس سے دور بھاگنا چاہیں تو بھي ناکام رہیں
گے۔ محبت خدائي تحفہ ہے۔ اسے پايا نہیں جا سکتا اور نہ ہي اس سے لڑا جا
“سکتا ہے۔
بہت سارے درويشوں نے آقا کي بات پر آہیں بھريں جبکہ میرا دل خوش ہوا۔
جب رات کو تمام درويش جانے لگے تو ہم نے ايک دوسرے کو اپنے ہمراہي
سمجھ کر معانقہ کیا کہ ہمارے دل ايک ہي راستے پر چلنے والے ہمراہي ہیں اور
ہم سب بہن بھائي ہیں۔
آرون اور ربیکا نے آقا کي تقرير کے دوران ايک دوسرے کو نہیں ديکھا اور نہ
ہي بعد میں، چائے اور مٹھائیاں ختم بھي ہو گئیں۔ تاہم جب سب لوگ چلے گئےتو بھي ربیکا اور آرون ايک دوسرے کے ساتھ رہے اور مجھے صاف دکھائي دے رہا
تھا۔ کوئي وضاحت نہیں درکار تھي۔
آخرکار ربیکا نے اپنے باپ کا گال چوما جب وه اکیلا بیٹھا تھا۔ پروفیسر نے
رات خانقاه میں گذارني تھي اور درويش بننے پر غور کرنا تھا۔ میں آقا کے ساتھ
ربیکا اور آرون کو چھوڑنے بیروني دروازے تک گیا۔ کوئي بھي جانا نہیں چاہتا تھا
اور ہر کسي نے کچھ نہ کچھ بات کي۔ آخرکار میں نے دونوں کے گال چومے اور
وه آقا کے آگے جھک کر دل پر ہاتھ رکھ کر چلے گئے۔
ہم نے انہیں گلي میں دور جاتے ہوئے ديکھا۔ شام کو ہونے والي بارش
سے کھیت ابھي تک نم تھے اور جب چاند نکلا تو تازگي کا احساس موجود تھا۔
دونوں ايک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتے گئے اور کبھي کبھار کوئي آواره
بدلي چاند کے آگے آ جاتي۔
جب وه سڑک پر پہنچے تو آقا نے گیٹ بند کر ديا اور آہستگي سے ہنسے۔
“محبت کي خواہش جنت سے آيا ُدلار ہے”۔ انہوں نے کہا۔
جب ہم گھر کے اندر کي طرف چلے تو آقا نے رک کر ديکھا۔ چودہويں کا
چاند پورا تھا اور ستارے بھي معمول سے بڑے اور خوب چمک رہے تھے۔ آقا نے
اپنے لبادے میں ہاتھ ڈال کر بند مٹھي باہر نکالي۔ آہستگي سے انہوں نے مٹھي
کھولي تو اس میں بھورے رنگ کا پتنگا تھا جو بظاہر بے حس و حرکت اور مرده
لگ رہا تھا۔ آقا نے اپني انگش ِت شہادت سے اسے ٹہوکا ديا اور آہستگي سے
پھونک ماري۔ پر ہلنے لگے اور پھر پھڑپھڑائے۔ آقا نے ہاتھ آسمان کي جانب اٹھايا
تو پتنگا اڑنے لگا۔ ہوا کے ساتھ حرکت کرتا ہوا يہ پتنگا جیسے کسي اندروني
نظم کي پابندي کر رہا ہو جو محض اس کي نسل میں موجود ہو۔ تاہم اس کا
راستہ نہیں بدلا۔ بلند سے بلند تر ہوتے ہوئے میري نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
مجھے پتہ تھا کہ اس کا رخ چاند کي طرف ہے اور اس کے محبوب کي طرف۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: