Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 3

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 03

–**–**–

باب 3
سہاگے سے سونے کي پرکھ ہوتي ہے
)گلستان )گلابوں کا باغ
مشرف الدين سعدي
اس طرح ہمارے حلقے میں وه تین اجنبي آن پہنچے جن کے ساتھ ہماري
زندگي کے تانے بانے بنے جانے تھے۔
ہماري روايات کے مطابق وه ننگے پیر اندر داخل ہوئے اور آقا نے ہمیں بیٹھے
رہنے کا اشاره کر کے اٹھ کر ان کا استقبال کیا۔ بظاہر يہي لگتا تھا کہ آقا کو ان
کا انتظار تھا تاہم مجھے ان کي آمد کے لمحے پر حیرت ہوئي اور ايسا لگتا تھا
کہ کسي کو بھي اس بات پر يقین نہیں آيا۔ خوف سے میرے رونگٹے کھڑے ہو
گئے۔
آقا نے معمر آدمي کو ايسے خوش آمديد کہا جیسے وه ان کا پرانا دوست
ہو۔ معانقہ کر کے اس کے گالوں کو چوما۔ انہوں نے مہمانوں سے متعلق پراني
فارسي کہاوت “مہمان حبیب الله است” دہرائي جس کا مفہوم تھا کہ مہمان الله
کے دوست ہوتے ہیں۔ پھر وه نوعمر خاتون کي طرف مڑے اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ
کر جھکے اور اسے خوش آمديد کہا۔ پھر انہوں نے تیسرے اور نوجوان مرد کو
خاموشي اور توجہ سے ديکھتے ہوئے مصافحہ کیا۔
میرے پاس بیٹھي ہوئي خواتین کے منہ کھلے تھے اور وه يک ٹک ديکھے
جا رہي تھیں۔ اس خوبصورت اور سنولائے چہرے والے اجنبي کو ديکھنے والوں
میں آقا کي بیٹیاں بھي تھیں۔ اس کے سرخ بال دھوپ سے تانبے کي رنگت کے
بن گئے تھے۔ تیکھے نقوش میں بھوري آنکھیں پوري طرح ُکھبي ہوئي تھیں۔
پراني کہاوت کے مطابق کسي اور زلیخا کے لئے ايک اور يوسف۔ بظاہر خواتین
يہي سوچ رہي تھیں۔ ‘دل ِشکن‘، ايک عورت نے دوسري سے سرگوشي کي۔
تاہم آقا نے خواتین کے ر ِدعمل کو نظرانداز کر کے مہمانوں کي جانب رخ کیا
اور ان کا تعارف کرانے لگے۔ درويش ان کي عین اس وقت آمد پر کافي متذبذب
لگ رہے تھے لیکن انہوں نے ادب سے کھڑے ہو کر تعظیم دي، جو را ِه سلوک کا
طريقہ ہے۔ کہتے ہیں کہ ادب کا آغاز تصوف کي خوبي کے طور پر ہوا تھا۔
آقا نے مہمانوں کے لیے کرسیاں منگوائیں لیکن مہمانوں نے ہمارے ساتھ
گھاس پر بیٹھنا پسند کیا۔ چائے کي ذمہ داري مسعود کي تھي جو تیز چائے
کي تین پیالیاں لايا۔ دونوں مردوں نے تو پیالیاں اٹھا لیں لیکن عورت نے انکار کر
ديا۔ آقا نے حکم ديا کہ اس خاتون کے لئے وه کافي لائي جائے جو انہوں نے
صبح خريدي تھي۔ خاتون اس بات پر بہت حیران ہوئي۔ پھر ہم سب کے لئے بھيچائے اور مٹھائیاں آ گئیں۔
معمر شخص پروفیسر شلومہ فري مین تھا، جسے سلمان کے نام سے
پکارتے ہیں اور وه يروشلم يونیورسٹي میں عجائبات کا پروفیسر تھا۔ ايسا لگتا
تھا کہ وه بہت برس قبل آکسفورڈ میں ہمارے آقا کے شاگرد رہا ہو۔ چھ فٹ سے
بھي زياده لمبے اور داڑھي مونچھوں بے نیاز پروفیسر کے سر پر چھوٹے بال
تھے۔ اس کي جسامت نسبتاً بھاري تھي اور لگتا تھا کہ اس کا زياده تر وقت
کرسي پر ہي گذرتا ہوگا۔
نوجوان خاتون پروفیسر کي بیٹي ربیکا تھي اور پچیس برس کي رہي
ہوگي۔ اس کي جسامت کسي طويل قامت رقاصہ جیسي تھي اور کمر اکڑائے
ساتھ بیٹھي تھي۔ اس کے بال کالے اور گھنگھريالے تھے جو شايد اس کي ماں
کي طرف سے اسے ملے تھے۔ تیکھے نقوش اور بڑي بڑي بھوري آنکھوں کي
وجہ سے شايد وه خوبصورت کہلائي جا سکتي ہو لیکن اس کے ہونٹوں کي
ساخت سے اس کے ضدي اور منہ زور ہونے کا پتہ چلتا تھا۔
دل ِشکن” نے اپنا تعارف آرون سیماچ کے نام سے کرايا جو پروفیسر کا”
ساتھي اور دوست تھا۔ تاہم اس کي فوجي وضع قطع مجھ جیسے کنده نا تراش
سے بھي نہ چھپ سکي۔
لی ٰلي جو کہ پرانے درويشوں میں سے ايک تھي، لوٹا اور چلمچي اٹھائے
کمرے میں داخل ہوئي اور ايک سفید تولیہ اس کے بازو میں لپٹا ہوا تھا۔ جب وه
ادب کے ساتھ آقا کے سامنے ان کے ہاتھ دھلانے کو جھکي تو مجھے اس کي
کالي آنکھیں اب تک ياد ہیں۔ پھر اس نے تعظیم سے جھک کر تینوں مہمانوں
کے ہاتھ دھلائے۔ پروفیسر نے بھي دل پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوئے تعظیم دي۔
نوجوان اور خاتون جو ابھي تک کچھ لیے ديے بیٹھے تھے، اس انداز سے نسبتاً
بہتر محسوس کرنے لگے۔
مٹھائیوں کا دور چلا اور ہم سب خاموشي اور حیرت سے بیٹھے پروفیسر
سلیمان فري مین اور شیخ عامر الہادي کے گذرے دور کي کہانیاں سنتے رہے۔
میں آقا کے ماضي کي باتیں بتانے سے قاصر ہوں کہ مجھے اس بارے
محض اتنا ياد ہے کہ وه ان باتوں پر ہنس رہے تھے اور ہم انگشت بدنداں بیٹھے
رہے کہ ہمیں آقا کي جواني کے بارے کم علم تھا۔ ابھي بھي جب میں يہ سب
لکھ رہا ہوں تو میري سوچیں ايسے منتشر ہو رہي تھیں جیسے سوکھے پتے ہوا
کے جھونکے سے منتشر ہوتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ آقا کے راز ہمیشہ راز ہي رہتے ہیں۔ مجھے اس پر ذرا بھي
شک نہیں۔
چائے پینے کے بعد پیالیاں اٹھا لي گئیں اور آقا کي دوسري بیٹي نے
”دروازے میں آ کر آقا کو بتايا کہ “کھانا لگ چکا ہے۔
آقا نے کہا۔ “بسم الله۔ شروع الله کے نام سے۔” تمام درويش ايک ساتھ
کھڑے ہو کر آقا کي ہدايت کا انتظار کرنے لگے۔ ہمارے مہمان بھي اٹھے اور آقا کا
انتظار کرنے لگے۔ پھر آقا اٹھے اور ہمیں خانقاه کے اس کمرے میں لے گئے
جہاں کھانا تیار تھا۔
فرش پر بچھے ايراني قالین پر لمبا صفراء يعني دسترخوان بچھا تھا جس پرپلیٹیں اور چمچے کانٹے اور پاني سے بھرے گلاس رکھے تھے۔ اس شب خدمت
پر مامور افراد کھانے کي قابیں لانا شروع ہو گئے۔ کھانے کي زياده تر چیزيں باغ
سے ہي لي گئي تھیں جن میں مالٹے، انگور، اخروٹ، لیموں کي قاشیں، بادام،
مٹر اور تندور کي گرم روٹیاں شامل تھیں۔ دہي میں دھینے اور کھیرے، سلاد،
بھاپ اڑاتا مٹن پلاؤ، انار کي چٹني اور مرغي کا گوشت بھي تھا۔ باورچي خانے
میں ايک خاص میٹھا بھي رکھا تھا۔ ہم خوراک کو تاثیر کے اعتبار سے سرد يا
گرم کہتے ہیں کہ ان کي انساني جسم پر ٹھنڈي تاثیر ہوتي ہے کہ گرم۔ تاہم
اس سے مراد کھانے کا درجہ حرارت نہیں۔ گرمیاں شروع تھیں اور موسم بہت
گرم ہو چلا تھا، اس لیے موسم کي مناسبت سے سرد کھانے پیش کیے گئے۔
ہماري روايات کے مطابق آقا سب سے پہلے بیٹھے۔ ايسے مواقع پر آقا کے
لئے بھیڑ کي کھال کا غالیچہ بچھايا جاتا ہے جو ان کے مرتبے کو ظاہر کرتا ہے
اور ان کے سہارے کے لیے کڑھا ہوا تکیہ رکھا تھا جس پر الله کے اسمائے
حسنہ میں سے ايک اسم کو آقا کي مرحومہ بیوي نے کاڑھا تھا۔ ان کے پیچھے
اور اوپر ديوار پر ايک ساده کشکول اور دو کلہاڑياں نصب تھیں جو ہمارے سلسلے
کي علامت ہیں۔ درويش ايک کلہاڑي سے دنیا کي خواہش کو اور دوسرے جہان
کي امید کو کاٹتا ہے اور باقي صرف الله رہتا ہے۔ يہي را ِه سلوک ہے۔
آقا نے پروفیسر فري مین کو اپنے دائیں اور سیماچ کو بائیں جانب بیٹھنے
کا اشاره کیا۔ انہوں نے ربیکا کو اپنے عین سامنے بیٹھنے کا کہا۔ “جسم کے
لیے خوراک اور روح کے لئے حسن۔” انہوں نے کہا۔ ان کي غیرمتوقع تعريف پر
ربیکا شرم سے کچھ لال ہوئي۔ آقا کي بیٹیاں مسکرائیں۔
جب مہمان بیٹھ گئے تو آقا نے ہمارا رخ کیا اور زياده تر کو ويسے ہي چھوڑ
کر محض چند افراد کي نشست کي ترتیب بدلي۔ مجھے ربیکا کے دائیں جبکہ
علي کو بائیں جانب اور رامي کو علي کے ساتھ بٹھايا۔
آقا کا کوئي بھي فعل بے مقصد نہیں ہوتا اور اکثر ان کي دي ہوئي ترتیب
سے توانائیوں کو توازن ملتا ہے، چاہے وه نوجوان اور بوڑھي ہوں، زنانہ يا مردانہ يا
کہ مدارج کے اعتبار سے۔ آقا کي اس ترتیب کا کیا مقصد تھا، مجھے معلوم نہیں
لیکن وه دونوں بھي میري طرح ربیکا کے ساتھ بیٹھنے پر خوش دکھائي ديے۔
شايد پورے حلقے میں ہم تینوں ہي غیر شادي شده تھے۔ ربیکا کي شخصیت
میں ايک ڈھکي چھپي سي کشش تھي جو اس کي سخت گیر طبعیت کے
باوجود عیاں تھي۔ مجھے يہ بات صاف محسوس ہوئي حالانکہ اب تک اس نے
کل دس الفاظ بھي نہیں بولے ہوں گے۔
کھانے کي قابیں پہلے آقا کے سامنے لائي گئیں اور آقا نے انہیں مہمانوں
کو پیش کیا اور پھر ديگر افراد کو قابیں ديں حت ٰي کہ سب نے کھانا نکال لیا۔
ابھي کسي نے کھانا شروع نہیں کیا تھا۔ مہمانوں کو آداب کے بارے شايد پہلے
ہي بتا ديا گیا تھا کہ وه ہاتھ باندھے اور سر جھکائے بیٹھے رہے۔
جب سب افراد نے کھانا پلیٹوں میں نکال لیا تو آقا نے نمک کي چٹکي
ہتھیلي پر ڈالي اور اسے چکھ کر “بسم الله” کہا اور روٹي کو دہي میں ڈبو کر
کھانا شروع کر ديا۔ ہمارے ہاں رسمي دعا نہیں ہوتي لیکن الله کي ياد کے بغیر
کھايا گیا کھانا ايسے ہي ہے جیسے شیطان کے ساتھ کھايا گیا ہو۔يہ بھي ہماري روايات کا حصہ ہے کہ کھانے کا آغاز اور اختتام آقا ہي کرتے
ہیں۔ چونکہ آقا بہت کم کھاتے ہیں، اس لیے وه آہستہ آہستہ کھاتے ہیں تاکہ
سب افراد اپنا پیٹ اطمینان سے بھر سکیں۔ میں نے ديکھا کہ ربیکا آقا کو ديکھ
رہي تھي اور اس نے بھي بہت کم کھايا۔ کنکھیوں سے میں نے اس کے مضبوط
ہاتھوں کو روٹي اور چمچ پکڑتے ديکھا۔
جلد ہي پروفیسر فري مین کے سوا ہم سب فارغ ہو گئے۔ عموماً ہم
خاموشي سے کھانا کھاتے ہیں لیکن کھانے کے آغاز میں آقا نے دبے لفظوں ان
سے کوئي سوال کیا تھا جو کسي نے نہ سنا، اور اس کا جواب بھي اس طرح
نیچي آواز میں اور اتنا طويل تھا کہ پروفیسر کھانا بھول گیا۔ آقا تب تک روٹي کا
ايک چھوٹا سا ٹکڑا چباتے رہے جب تک پروفیسر نے کھانا ختم نہ کر لیا۔
آقا نے سب کي طرف ديکھ کر تسلي کي کہ ہر کوئي کھانا کھا چکا ہے،
پھر انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ سے دسترخوان کو چھو کر انگلیاں چومیں۔
الحمدͿ۔ سب تعريفیں الله کے لیے ہیں۔” انہوں نے کہا۔”
کھانا ختم ہوا۔ ہم سب ايک ساتھ کھڑے ہوئے اور آقا اٹھے اور مہمانوں اور
درويشوں کو لے کر کمرے سے نکلے اور باغ میں چلے آئے۔ پروفیسر فري مین
اور سیماچ آہستہ سے ايک دوسرے سے بات کرتے باہر آئے جبکہ ربیکا دروازے
میں ايک لمحے کو رکي اور ان لوگوں کو کام کرتے ديکھنے لگي جو دسترخوان
اٹھانے پر مامور تھے۔
ذرا سي دير میں پلیٹیں، چمچ اور گلاس وغیره جمع کر کے باورچي خانے
ُدھلنے کے لئے پہنچا ديئے گئے۔ پھر دسترخوان کو صاف کر کے تہہ کیا گیا۔ پھر
آقا کي نشست کے سامنے ايک خادم نے جھک کر دسترخوان کو اپني پیشاني
سے لگايا۔ پھر اس نے دسترخوان کو چوما جو عزت اور احترام کي علامت تھي
اور اٹھ کر مڑے بنا دروازے کو چل پڑا۔ ادب کي نیت سے ہم اپنے آقا يا ان کي
کسي بھي نشست کي طرف پیٹھ نہیں کرتے۔
ربیکا کچھ نہ بولي۔ لگتا تھا کہ اس رسم نے اس پر خاصا اثر کیا ہے۔ وه اس
وقت بھي اتني ہي مسحور ُکن لگ رہي تھي جیسي کہ آتے وقت لگي تھي۔
تاہم آقا يا ان کے مہمانوں کو منتظر رکھنا مناسب نہ تھا اس لیے میں نے ہلکے
سے اس کے بازو کو چھوا اور اسے لے کر باغ آن پہنچا۔
جب سب بیٹھ گئے تو چائے اور ساتھ بادام سے بني خاص مٹھائي پیش
کي گئي۔ چاند نیچا ہو چکا تھا لیکن ابھي بھي ديوار کے اوپر سے دکھائي دے
رہا تھا۔
تمہاري آمد سے قبل ہم لوگ شاه سلیما ؑن کے بارے بات کر رہے تھے۔””
“آقا نے پروفیسر فري مین کو بتايا۔ “شايد تم اس بارے کچھ مزيد بات کرنا چاہو؟
پروفیسر نے اپني بیٹي اور سیماچ پر ايک نظر ڈالي اور کہا۔ “کیوں نہیں۔
میں کبھي کبھار لیکچر ديا کرتا ہوں۔” ہنستے ہوئے اس نے اپنا گلا صاف کیا۔
ان کا اصل نام جديده تھا يعني الله کا دوست۔ اسے بعد میں شیلومو،”
دور حکومت میں زياده
ِ
سلیما ؑن کہا گیا جس کا معني ہے امن کا بادشاه۔ ان کے
تر امن قائم رہا۔ ان کے ديگر نام بِن )ہیکل بنانے کي وجہ سے(، جیکیہ )انہوں نے
”معلوم دنیا پر حکومت کي( اور ايتھیل )الله جس کے ساتھ ہو( بھي ہیں۔پروفیسر نے رک کر آقا کي جانب ديکھا جنہوں نے آہستگي سے سر ہلايا۔
اس بارے بہت کم باتیں وثوق سے کہي جا سکتي ہیں۔” پروفیسر نے اب”
ہمیں ديکھتے ہوئے اپني بات جاري رکھي۔ “بائبل کي روايات کي اکثريت، تالمود،
يوس ؑف کا قصہ اور قرآن میں بھي يہ درج ہیں لیکن ان پر بھي شکوک پائے جاتے
دور طالبعلمي میں شیخ ہادي نے کئي بار اس بات کي
ِ
ہیں۔ پھر بھي میرے
نشاندہي کي ہے کہ حقائق کو ان کے سرد مہري اور سچ کو گرمي سے پہچانا
جا سکتا ہے۔ سلیما ؑن سے بہت ساري کہانیاں وابستہ ہیں تاہم تقريباً ساري
”ہي علامتي ہیں۔ ان میں سے ايک کہاني شايد آپ لوگوں کے کام کي ہو۔
پروفیسر رکا اور کہنہ مشق استاد کي مانند ہمارے چہروں سے اپني بات
کے اثر کا اندازه لگايا۔
مہر سلیما ؑني کو لے لیں جو چھ کونوں والا ستاره ہے۔””
ِ
مثال کے طور پر
پروفیسر نے کہا۔
پھر پروفیسر نے لکھنے کچھ مانگا تو ايک تختہ سیاه اور چاک پیش کیا گیا۔
اس نے ستاره بنايا۔
يہ نشان قديم اور معني خیز ہے۔ اس میں چھ حرکات کو دکھايا گیا ہے،”
اوپر، نیچے، آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں۔ اسے مکمل ہندسہ کہا جاتا ہے کہ
تخلیق بھي چھ دن میں ہوئي تھي۔ اس میں پہلا جفت نمبر 2اور پہلا طاق نمبر
3شامل ہے۔ باہم گتھي ہوئي مثلثیں فطرت کے مردانہ اور زنانہ پہلوؤں کو ظاہر
کرتي ہیں۔ اس کے علاوه فعال عقل اور تحمل پسند روح بھي، جو خداون ِد واحد
کي ذات سے نمودار ہوتي ہیں۔ ان کا مجموعہ تخلیق ہے اور کائنات کے ساتھ ہم
”آہنگي بھي۔
مسدس کے مختلف پہلوؤں میں يہ چار بنیادي فطري اجزاء بھي شامل”
ہیں۔” پروفیسر نے چار مثلثیں بناتے ہوئے کہا۔
اوپر کو بني مثلث آگ کو، نیچے کو بني مثلث پاني کو ظاہر کرتي ہے۔ اوپر”
والي مثلث کے ساتھ والي ہوا کو اور نیچے کے ساتھ والي مثلث مٹي کو ظاہر
مہر سلیما ؑني بناتي ہیں: تمام عناصر کي روح، تمام
ِ
کرتي ہے۔ يہ سب مل کر
”اشکال کے رحجان اور جہاں تمام متضاد ملتے ہیں۔
پروفیسر اپنا سانس بحال کرنے کو رکا اور آقا کو ديکھا۔ دونوں ہنسنے لگے۔
آقا ابھي ہنس رہے تھے کہ پروفیسر نے اپني بیٹي کو ديکھا۔ “مذہبي
علامات پر شیخ ہادي کا يہ پہلا لیکچر تھا۔ بہت مزه آيا تھا۔” اس نے کہا۔
آقا نے ہلکا سا جھک کر کہا۔ “میرے نالائق ترين طالبعلم کي طرف سے
”ہونے والي کمال کي تعريف۔
دونوں پھر ہنس پڑے اور ہم نے بھي ان کا ساتھ ديا۔ لمحہ بھر بعد پروفیسر
نے بات جاري رکھي۔
مہر سلیما ؑني کہتے ہیں تاہم درحقیقت يہ ان کي مہر”
ِ
بعض ذرائع اسے
نہیں۔” اس نے رک کر اپني بیٹي کو ديکھا۔ آقا اسے خاموشي سے ديکھتے
رہے۔ میں نے سوچا کہ شايد کسي اور نے بھي غور کیا ہو کہ پروفیسر نے
‘درحقیقت‘ کہا ہے، ‘سچ‘ نہیں۔
میجن داؤد ہے جو ڈھا ِل سلیما ؑني بھي”
ِ
کہا جاتا ہے کہ شش پہلو ستارهمہر سلیما ؑني پنج پہلو يعني پینٹا گرام ہے۔” ايک لمحہ رک کر
ِ
کہلاتا ہے جبکہ
پروفیسر نے ہمارے چہروں پر جیسے کوئي تائثر تلاش کرنے کي کوشش کي
لیکن ناکام رہا۔
شلومہ، بات جاري رکھو۔ ہمیں پوري داستان سنني ہے۔” آقا نے کہا۔”
پہلي بار آقا نے اپنے دوست کو اس کے نام سے پکارا تھا اور ايسا لگا کہ
جیسے پروفیسر پر اس کا اثر ہوا ہو۔ آرام سے بیٹھي حالت سے سیدھا ہو کر
اس نے کندھے سیدھے کئے اور اپني پشت کے پٹھوں کو اکڑايا۔
پھر اس نے بات جاري رکھي۔ “ہاں، لکھا ہوا ہے کہ جب سلیما ؑن نے ہیکل
کي تعمیر شروع کرائي تو ان کے وزير عساف نے شکايت کي کہ اس کے گھر
سے اور ديگر ملکوں سے بھي قیمتي جواہرات چوري ہو رہے ہیں۔ حت ٰي کہ
سلیما ؑن کا شاہي خزانہ بھي اس سے محفوظ نہیں۔ عساف کي عقلمندي
مشہور تھي اور اسے يقین تھا کہ کوئي عام چور ايسي حرکت نہیں کر سکتا۔
”اس نے خیال ظاہر کیا کہ يہ کسي بدروح کي حرکت ہو سکتي ہے۔
سلیما ؑن نے عاجزي سے الله کے سامنے دعا کي کہ اس بدروح کو ان کے”
قبضہ میں ديا جائے تاکہ وه اس سے بازپرس کر سکیں۔ دعا فوراً قبول ہوئي۔
میکائیل فرشتے نے نمودار ہو کر بادشاه کو پورے عالم کي سب سے بڑي طاقت
دي۔ يہ ايک چھوٹي سي سونے کي انگوٹھي تھي جس میں ايک تراشیده
”قیمتي پتھر جڑا ہوا تھا۔
میکائیل نے کہا۔ “اے داؤد کے بیٹے، شاه سلیما ؑن، يہ انگوٹھي لے لیں۔”
الله نے آپ کے لئے يہ تحفہ بھیجا ہے۔ اس انگوٹھي کو پہن لیں تو زمین کے
”تمام تر شیاطین چاہے وه نر ہوں يا ماده، آپ کے قبضے میں آ جائیں گے۔
قرو ِن وسط ٰي کي کئي روايات کے مطابق اس انگوٹھي پر جادو کا قديم”
نشان مخ ّمس نقش تھا کیونکہ کہا جاتا ہے کہ سلیما ؑن کو جادو پر بھي قدرت
تھي۔ اگرچہ میں ايسا نہیں سمجھتا۔ مخ ّمس سلیما ؑن سے بھي پرانے دور کي
علامت ہے اور پہلي بار اسے بابل میں کلدان کے شہر ُار میں مٹي کے برتنوں پر
”ديکھا گیا تھا۔
ديگر ذرائع کے مطابق يہ انگوٹھي خالص سونے سے بني تھي جس میں”
سن ِ گ شامیر جڑا تھا۔ شايد يہ ہیرا ہو يا آسمان سے آيا ہوا کوئي اور سبز پتھر ہو،
جو ہیکل کا حصہ کہا جاتا ہے۔ اس پتھر کو آٹھ کونوں والے ستارے کي شکل میں
کاٹا گیا تھا۔ اس پر شش پہلو مہر ثبت تھي اور اس مہر کے وسط میں الله کے
”بابرکت نام “يہوه” کے چار حروف کنده تھے۔
پروفیسر نے پھر رک کر اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرا۔
سیماچ کو ديکھتے ہوئے اس نے پھر سے بات شروع کي۔ “کوئي بھي پتھر
مہر سلیما ؑني والا۔ اس کے ذريعے ان کو پوري دنیا پر
ِ
اتنا مشہور نہیں ہوا جتنا
”حکومت مل گئي۔ البتہ موت ان کي دسترس سے باہر تھي۔
پروفیسر نے اپني بیٹي کو ديکھا اور پھر آقا کي جانب، جیسے کسي
اشارے کا منتظر ہو۔ وه پرجوش نظر آ رہا تھا۔
آقا نے مداخلت کي۔ “ہاں۔ موت پر صرف الله کا قابو ہے۔ موت کا اس کے
علاوه اور کوئي علاج نہیں کہ اس کي آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ديکھا جائے۔مہر
ِ
جو پیدا ہوا، اسے موت سے ُمفر نہیں۔ يہ بات ماننے میں ہي عافیت ہے۔
سلیما ؑني رکھنے والے سلیما ؑن کو بھي موت پر قابو نہیں اور آج وه خاک میں
”پیوست ہیں۔ تاہم بات جاري رکھو۔
پروفیسر فري مین بیٹھے بیٹھے تھوڑا سا جھکا اور بات جاري رکھي۔
“انگوٹھي پہننے کے بعد سلیما ؑن نے اس بدروح کو حاضر ہونے کا حکم ديا۔ يہ
انگوٹھي ان کے دائیں ہاتھ کي درمیاني انگلي میں موجود تھي اور اس کي مدد
سے اپني تخت کے نیچے اشاره کر کے کہا ‘خدائے واحد کي دي ہوئي اس
انگوٹھي کي طاقت سے میں اس چور بدروح کو بلاتا ہوں کہ میرے سامنے آئے‘۔

فوراً ہي بھڑکتي آگ کا ايک ستون نمودار ہوا جو کمرے کي بلند چھت کو”
چھو رہا تھا اور اچانک ہي بجھ گیا۔ شعلے نے اپني شکل بدلي يا پھر شعلہ
محض اس کي آمد کي علامت تھا۔ تاہم شعلے کي جگہ اب دکھائي دينے والا
عفريت رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا کہ اس کے ہاتھ میں شاہي خزانے سے چرائے
گئے جواہرات تھے۔ اسے اتني حیرت ہوئي اس کے ہاتھ سے جواہرات گر گئے۔
اس کي آنکھیں مسلسل گھوم رہي تھیں۔ اس کي آنکھوں سے بھي حیرت
ظاہر ہو رہي تھي کہ کیسے ايک فاني انسان اس سے زياده طاقت رکھ سکتا
”ہے۔
اس کا قد بادشاه سے دو گنا سے بھي زياده اور گولیاتھ سے بھي زياده”
لمبا تھا جسے بادشاه کے والد داؤد نے ہلاک کیا تھا۔ اس عفريت کي ہیبت اتني
تھي کہ عقلمند وزير عساف بھي ڈر کر پیچھے ہو گیا۔ صرف سلیما ؑن اس کے
”سامنے کھڑے رہے۔
عفريت نے سلیما ؑن کا چہره اور اپني طرف اٹھا ہوا ہاتھ ديکھا جس میں”
مہر سلیما ؑني والي انگوٹھي تھي۔ اس پر نظر پڑتے ہي عفريت کي بنا پلک کي
ِ
آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور اس نے اتنے زور سے چیخ ماري کہ محل کي
بنیاديں ہل گئیں۔ اس چیخ کو پوري سلطنت کے لوگوں نے سنا اور کانوں پر ہاتھ
رکھ کر خوف کے مارے زمین پر گر گئے۔ کھیتوں میں ہل چلاتے بیل اور اڑتے
پرندے بھي مر گئے۔ ايسي چیخ تھي جیسے کسي ذي روح کو جنہم کي آگ
”میں ڈالا گیا ہو۔
تاہم انگوٹھي میں الله کي عطا کرده طاقت کي وجہ سے عفريت بے بس”
”تھا۔ گھٹنوں کے بل گر کر اس نے بادشاه سے عرض کي۔
”رحم میرے آقا‘۔ جن نے دہائي دي۔‘”
“اے عفريت، اپنا نام بتا‘۔ سلیما ؑن نے حکم ديا‘”
” اے عظیم بادشاه، میرا نام اورنیاس ہے‘۔‘”
” تو نے میرے محل میں ايسي نیچ حرکت کیوں کي؟ سچ بتا‘۔ ‘”
اے میرے آقا، میري بے انتہا اشتہا اس کا سبب بني‘۔ اس نے اپنے بارے‘”
بتايا کہ وه ايسي مخلوق ہے جو اپنے لمبے دانتوں کي مدد سے ارضي جواہرات
”کو چیر کر ان کي روشني پیتي تھي۔
تو جواہرات کي روشني کیوں پیتا ہے؟‘۔ عساف وزير نے مداخلت کي۔‘”
” ‘ايسا تو کبھي کسي سے نہیں سنا‘۔جواب میں جن خاموش رہا۔
”سچ سچ جواب دے‘۔ بادشاه نے حکم ديا۔‘”
”اے دانائي کے بادشاه، آپ میرا جواب جانتے ہیں‘۔ عفريت نے جواب ديا۔‘”
سلیما ؑن نے اپنے دل میں جھانکا کہ ان پر بھي مو ٰس ؑي کي طرح دانائي”
کے 49دروازے وا تھے۔ 49کا عدد اس روايت سے لیا گیا ہے جس کے مطابق
توريت کے ہر لفظ کے 49مطالب ہوتے ہیں۔ جب انہیں جواب ملا تو وه حیرت میں
”ڈوب گئے اور انہوں نے عفريت پر رحم اور ترس بھري نگاه ڈالي۔
بھاري سانس لیتے ہوئے پروفیسر رکا۔ “شايد تمہارے آقا اس کا جواب دے
سکیں کہ برسوں پہلے انہوں نے مجھے بھي بتايا تھا۔” اس نے ہماري محويت
ديکھتے ہوئے کہا۔
ہم سب نے آقا کي طرف ديکھا۔ ان کي آنکھوں میں چمک تھي اور انہوں
نے سر ہلايا۔
عفريت کے غم کي وجہ جاننے کي کوشش کرو۔ جواہرات اس دنیا کے”
آغاز کے وقت تب پیدا ہوئے تھے جب قديم جنگلات پہاڑوں کے تلے دب کر تباه
ہوئے۔ ہنگامے کے اس دور میں فرشتوں اور جنات کو بے دخل کیا گیا تھا اور دنیا
ٹوٹ گئي۔ اس وقت کے جنگلات میں سورج کي روشني سبز حیات کي شکل
میں موجود تھي جو وقت کے ساتھ ساتھ اپني شکل بدل کر جواہرات بني۔ انہیں
تراش خراش کے بعد پالش کیا جاتا ہے تو يہي روشني نمودار ہوتي ہے۔ اس
طرح عفريت اورنیاس کہ جس پر آسمان کا نور حرام قرار ديا گیا تھا، اس پہلي
”صبح کي روشني کو پیتا اور اپنے غم و اندوه کو ہلکا کرتا ہے۔
آقا رک کر پائپ پینے لگے۔
واه۔ ہر درويش اس داستان سے بہت متائثر لگ رہا تھا۔ سیماچ بھي متائثر
تھا اور میرے ساتھ بیٹھي ربیکا کي آنکھیں حیرت سے پھیلي ہوئي تھیں۔ ہم کہا
خلوص
ِ
کرتے تھے کہ جب آقا بولتے ہیں تو فرشتے بھي سنتے ہیں کیونکہ وه
دل سے بات کرتے ہیں۔
پروفیسر فري مین نے بات جاري رکھي۔ “اس طرح سلیما ؑن نے اپني مہر
کي مدد سے اورنیاس کي گردن پر اپني حاکمیت کي مہر گرم کر کے ثبت کي۔
اس دن سے اورنیاس کي درخواست پر اسے ہیکل کي تعمیر کے لئے پتھر
”کاٹنے پر مامور کر ديا گیا۔
سلطنت میں گڑبڑ کرنے والے ديگر جنات کو بلوايا گیا: صاف رنگت اور”
شکل والي عورت اونسکلیس، ہیبريو مذہب کا ماننے والا اور توريت کا پیروکار
اسموڈيئس، راکھ کا عفريت ٹیفروس اور اس کي سات زنانہ بدروحیں جنہوں نے
خود کو تاريکي کے 36عناصر کي حیثیت سے مشہور کیا ہوا تھا اور ربدوس
مہر سلیما ؑني
ِ
بھي جو کتے کي شکل کي لالچي بدروح تھي۔ ان سب کو گرم
”سے داغا گیا۔
اور بھي بہت سے جنات تھے لیکن ان کا تذکره کسي اور قصے میں۔”
موجوده قصے کي مناسبت سے ايک جن کا تذکره کرتے ہیں کہ جس کا جسم
”اور اعضاء انسان کي مانند لیکن سر غائب تھا۔
اس جن نے کہا ‘میں حسد ہوں اور مجھے لوگوں کے سر کھانے میں مزه”” آتا ہے۔ میں ہمیشہ بھوکا رہتا ہوں۔ اس وقت مجھے آپ کا سر چاہیئے‘۔
پروفیسر نے آخري الفاظ اس طرح چیخ کر اور ايسا چہره بنا کر کہے کہ ہم
سب پہلے تو ڈرے اور پھر ہنسنے لگے۔
”آقا مسکرائے اور بولے۔ “بے شک، حسد روح کا قید خانہ ہے۔
ربیکا اس دوران حیرت اور ستائش سے اپنے باپ کي داستان سن رہي
تھي، بولي۔ “اب مجھے ياد آيا۔ آپ يہ کہاني سوتے وقت سناتے تھے اور میں
”سوچتي تھي کہ يہ بالکل سچي کہاني ہے۔
بغیر اجازت بولنا درويش کے لئے برا سمجھا جاتا ہے لیکن يہ پابندي
مہمانوں پر نہیں ہوتي۔ ہم سب ہنسنے لگے۔
جب ہماري پیالیوں میں چائے اور ربیکا کي پیالي میں کافي انڈيلي گئي تو
باغ پر خاموشي چھا گئي۔ ہم کھنگارنے اور اپني نشستیں مزيد آرام ده بنانے
لگے اور آقا نے اپنے ہاتھ اٹھا کر ہماري توجہ اپني جانب مبذول کرائي۔ رات
گذرنے والي تھي اور سورج کچھ دير میں طلوع ہو جاتا۔
وه بولے۔ “جنہیں جانا ہے، انہیں اجازت ہے۔ جو رکنا چاہیں، وه خانقاه کے
”اندر آ جائیں۔
بہت سارے افراد اٹھ کر آقا اور مہمانوں کو تعظیم ديتے ہوئے چلے گئے۔
باقي سب نشست کے کھلے کمرے میں پہنچ کر ايراني قالینوں پر گاؤ تکیوں
سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ ہمارا رخ آقا کي جانب تھا جو بھیڑ کي کھال پر بیٹھے
تھے۔
پھر انہوں نے میرے، علي اور رامي کے علاوه باقي سب افراد کو سونے
بھیج ديا۔ ہم نے اپنے روکے جانے پر کوئي سوال نہیں کیا۔ اصل بات ہم سب پر
واضح ہو چکي تھي کہ مہمانوں کي آمد کا کوئي خاص مقصد ہے، حالانکہ میں
ابھي اس راه پر پہلا قدم رکھ رہا تھا۔
آقا نے ٹھہري آواز میں ہمیں مخاطب کیا۔ “اب جو کچھ کہا جائے گا اور جو
تم سنو گے، اس بارے میں تمہیں خاموش رہنے کي قسم ديتا ہوں۔ شلومہ! اب
”بتاؤ کہ تم کیسے آئے۔
ہم نے اپنا رخ پروفیسر کي جانب موڑا جو اس وقت سیماچ کي سرگوشي
سن کر نفي میں جواب دے رہا تھا۔ پھر اس نے اپني بیٹي کي جانب ديکھا جس
نے اپنے تائثرات بدلے بناء سر ہلايا۔
ربیکا نے اپنے کاندھے پر لٹکے بڑے بیگ سے سفید تولیے میں لپٹي ايک
چیز نکال کر آقا کے سامنے رکھ دي۔ میں نے تینوں مہمانوں کے چہرے پر
تجسس کے آثار ديکھے اور جب آقا نے تولیے کو ہٹايا تو میرے بدن میں
جھرجھري سي دوڑ گئي۔ جو چیز ظاہر ہوئي، اس نے ہماري سانسیں بے ترتیب
کر ديں۔
قیمتي پتھروں سے جڑا سنہري سلنڈر کھڑکي سے آتي ہوئي صبح کي
اولین کرنوں میں جگمگايا اور ستارے کي مانند دکھائي ديا۔
علي اور رامي کے منہ سے بیک وقت “الله” نکلا۔ میں سانس روکے بیٹھا
رہا۔ سب خاموش رہے اور بادل کے ايک آواره ٹکڑے نے سورج کي روشني روک
دي۔آقا کچھ نہ بولے۔ انہوں نے انگلي کي مدد سے سلنڈر ہلايا تو ستاره
مہر سلیما ؑني سامنے آئي جو ساري کي ساري ہیروں سے بني
ِ
داؤد ؑي يعني
اور ہاتھي دانت کے دائرے میں انتہائي نفاست سے پیوست تھي۔ پھر بھي ہم
سب خاموش رہے۔
کیپٹن سیماچ، تمہیں يہ کہاں سے ملي؟” آقا نے سیماچ کي آنکھوں میں”
آنکھیں ڈالتے ہوئے پوچھا۔
کیپٹن؟” علي اور رامي اسي وقت میري جانب ديکھ رہے تھے۔”
آندھي سے ظاہر ہونے والي ايک غار میں ڈھانچے کے ہاتھ میں ملي”
تھي۔” اس نے فوراً اور جذبات سے عاري آواز میں بتايا۔
آقا نے پروفیسر کي طرف ديکھتے ہوئے کہا۔ “شلومہ، پوري کہاني سنتے
”ہیں۔
پروفیسر نے کیپٹن سیماچ کو ديکھا جس نے نظريں جھکا لیں۔ پھر
”پروفیسر نے اپني بیٹي کو ديکھا جو بولي۔ “بتائیے۔
اس طرح يہ قصہ بیان ہوا اور میں اسے ِمن و عن بیان کرتا ہوں۔ الله میري
رہنمائي کرے کہ اس کا قلم دل کے کھیت سے کاٹا گیا ہے اور وہیں سچ رہتا
ہے۔

Read More:  Barda Novel By Riaz Aqib Kohler – Episode 55

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: