Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 4

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 04

–**–**–

باب 4
،جب میرا دل بھر آئے تو زمین کے کنارے سے میں تجھے ہي پکاروں گا
زياده بلند مقام تک میري رہنمائي کرنا
سالمز 61:2
پروفیسر سالومن فري مین کي ملاقات موساد کے کپتان آرون سیماچ سے
دو سال قبل اس وقت ہوئي تھي جب کپتان پولیس کا سراغرساں تھا۔ اس وقت
پروفیسر کو انتہائي ماہر جعل سازوں کا پول کھولنے کے لئے بطور ماہر بلوايا گیا
تھا۔
يہ جعل ساز امیر سیاحوں کو بائبل کي تحارير، پرانے کپڑے جن کو
بحر
ِ
خصوصي طور پر اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ وه قديم دکھائي ديں اور ان میں
مردار سے نکلي تحارير سے لے کر عہد نامہ قديم تک کي گمشده کتب شامل
تھیں۔ پروفیسر کے خیال میں لالچي سیاحوں کو لوٹا جانا کوئي بري بات نہیں
تھي اور وه ان جعل سازوں کي مہارت کا گرويده بھي تھا۔ اسے اس بات پر خوب
ہنسي آتي تھي کہ امريکي يہودي اتنے احمق ہیں کہ “حال ہي میں دريافت
ہونے والي کتا ِ ب مو ٰس ؑي” خريدنے پر تل جاتے تھے۔
جعل سازوں کي فني مہارت اپنے عروج پر تھي لیکن قابلیت میں مار کھا
جاتے تھے۔ انہیں ارامیک زبان کي گرائمر اور اس کے الفاظ پر قديم تر زبانوں کے
اثرات کے بارے بہت کم معلومات تھیں۔ کم از کم پروفیسر کے لئے ان ا ُغلاط کي
نشاندہي کرنا ہمیشہ آسان اور ہنسي کا باعث بنتا تھا۔
کیپٹن سیماچ اس ساري تفتیش کا سربراه تھا اور دونوں نے مل کر جعل
سازوں کو اچھے سبق سکھائے۔ مقدمے کے دوران پروفیسر کپتان کي ذہانت کا
گرويده ہو گیا۔ اس نے کپتان کو ربیکا سے متعارف کرانے کا بھي سوچا۔ تاہم پھر
بیٹي کي نجي زندگي میں مداخلت نہ کرنے کے خیال سے رک گیا۔
پھر ايک دن بغیر بتائے کپتان اس کے دفتر پہنچ گیا۔ سالومن اس وقت اکیلا
تھا اور امتحاني پرچے کا آخري سوال تیار کر کے فارغ ہوا تھا۔ ربیکا سے چند
لمحے پہلے فون پر بات ہوئي تھي اور اسے اس بظاہر پیچیده امتحاني سوال
کے بارے سوچ سوچ کر ہنسي آ رہي تھي ساتھ ہي يہ بھي کہ گھر پہنچتے ہي
کھانا تیار ہوگا۔ اچانک دروازه کھلا۔
سفید قمیض اور پتلون میں ملبوس سیماچ فوجي ڈھنگ سے تن کر
سیدھا کھڑا تھا۔ سالومن اسے ديکھ کر حیران اور خوش ہوا۔ گرمجوشي سے
مصافحہ کر کے اسے بیٹھنے کا اشاره کرتے ہوئے اس کي مخفي پسند کي
روسي ووڈکا پیش کي۔کیپٹن کرسي پر بیٹھا لیکن شراب سے انکار کر ديا۔ سالومن کو احساس
ہوا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ اس کي حاضر دماغي کہ جس سے سالومن بہت متائثر
ہوتا تھا، کہیں کھو گئي تھي اور اس کا سر ايسي حالت میں تھا کہ جیسے
کسي آواز کو سننے کي کوشش کر رہا ہو۔ اپني عمر سے زياده کا دکھائي دے
رہا تھا۔
حالیہ دھوکے بازي کے بارے باتیں کرنے کے دوران پروفیسر کو ايسا لگا کہ
جیسے سیماچ اس بار بھي ايسے ہي کسي مسئلے کي خاطر آيا ہے۔ مگر
کیپٹن سیماچ نے سیدھے سادے انداز میں بتايا۔ “آپ کو ديکھ کر بہت خوشي
ہوئي پروفیسر، لیکن اس بار میں کسي جعل سازي کے سلسلے میں نہیں
”آيا۔
چھوٹے سفري بیگ سے اس نے سنہري سلنڈر نکالا اور اپنے سامنے میز
”پر رکھ کر بولا۔ “مجھے يہ چیز لائي ہے۔
پروفیسر کے منہ سے ايک آه نکلي۔ اس نے دراز سے ڈاکٹري دستانے
نکال کر پہنے اور ايک نرم سرے والے آلے کي مدد سے اس نے اس چیز کو
الٹايا۔ ستاره داؤد ؑي جو سارا ہي ہاتھي دانت میں جڑا اور ہیروں سے بنا تھا، کي
جھلک سے پروفیسر نے آه بھري تھي۔ بڑے محدب عدسے سے پروفیسر نے
اس کا عمیق جائزه لیا کہ اسے شايد اپني بصارت پر بھي بھروسہ نہ تھا۔ اس
“خزانے” کو پانے کي اولین خوشي کي جگہ اب اس کا تجربہ اور علم اس چیز
کا جائزه لینے کو بیدار ہو رہا تھا۔ ہاتھي دانت کي جانچ سے اس کي عمر کا
اندازه ہو سکتا تھا اور سونے اور ہیروں کي جانچ بھي اسے کھولنے سے قبل
لازمي تھي۔ ايسي چیزيں قديم بادشاہوں کے پاس ہوا کرتي تھیں جس میں
عموماً ايک کاغذ يا چمڑے کا پارچہ اور شايد چاندي يا تانبے کے کچھ سکے
امتداد
ِ
رکھے جا سکیں۔ سالومن کو يہ ديکھ کر اطمینان ہوا کہ يہ مہر اگرچہ
زمانہ سے گھس گئي تھي لیکن ابھي تک اصل حالت میں تھي۔ اسے ابھي
مہر کے نشان کي بھي جانچ کرني تھي۔ کیپٹن نے عقلمندي کا مظاہره کرتے
ہوئے اسے نہیں کھولا تھا۔ اس طرح جو کچھ بھي اس کے اندر تھا، وه سلامت
اور اصل تھا۔ پروفیسر نے سونے کي جانچ کے لئے کسوٹي اور ہیروں کي جانچ
کے لئے جوہريوں والا عدسہ نکالا۔
کیپٹن نے گلا صاف کیا اور بولا۔ “برا ِه کرم اس بارے کسي کو مت بتائیے
”گا۔
پروفیسر نے سر اٹھا کر اسے ديکھا اور ہنستے ہوئے بولا۔ “کیوں؟ کیا تم
“نے بھي لوٹ مار شروع کر دي ہے؟
کیپٹن شرمنده سا ہو گیا۔
پروفیسر نے سوچا کہ آخر يہ ہو کیا رہا ہے؟ اگرچہ اس نے آج سے قبل
ايسا شاہکار کبھي نہیں ديکھا تھا لیکن اسے علم تھا کہ ايسے نوادرات میں
شجره نسب، سرکاري رپورٹیں يا ساما ِن تجارت وغیره محفوظ کیے جاتے ہیں۔
میرے دوست جو کچھ تم لائے ہو، انمول ہے۔ لیکن اس میں احکا ِم عشره”
نہیں ہو سکتے۔ عین ممکن ہے کہ يہ کسي درباري، کسي شہزادے يا آڈيٹر کي
ملکیت ہو۔ اس میں موجود چیز زياده سے زياده اشیائے صرف کي فہرست ہي ہو”سکتي ہے۔
کیپٹن سیماچ خاموش رہا۔
موساد آخر اسے میرے پاس کیوں لائي ہے؟ کیا اس پر جعلي ہونے کا”
“شبہ ہے؟
کیپٹن نے پہلو بدلا۔ “پروفیسر، يہ جعلي نہیں اور موساد نے بھي نہیں
”بھیجا۔ يہ میں خود ذاتي طور پر لايا ہوں۔
اچھا۔ پھر يہ تمہارے پاس کیسے پہنچي؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
کیپٹن سیماچ نے اسے گھورنا شروع کر ديا۔
“ہمم؟”
”میں نہیں بتا سکتا۔”
کیوں؟” پروفیسر نے پوچھا۔”
کیپٹن ايک لحظے کو ہکلايا اور بولا۔ “يہ مجھے وہاں سے ملي ہے جہاں
”میں کام کے سلسلے میں گیا تھا اور يہ کام سرکاري راز ہے۔
شايد کیپٹن کو يہ صحرا میں ملي ہے۔ سالومن کي دھڑکن تیز ہونے لگي۔
“آرون، يہ جاننا بہت دشوار ہے۔ میں اس اعتماد کے لئے بہت خوش ہوں لیکن
”اس طرح میرے پاس لانا غیر قانوني فعل ہے۔
يہ سن کر کیپٹن ہلکا سا مسکرايا۔ طويل خاموشي کے بعد اس نے سر
ہلايا اور برا ِه راست پروفیسر کو گھورنے لگا۔ ايسے محسوس ہوا کہ جیسے اس
نے کوئي فیصلہ کر لیا ہے۔
مجھے ايک غار میں آندھي کے بعد نمودار ہونے والے ايک ڈھانچے کے”
”ہاتھ سے ملا ہے۔
“آندھي؟ نیگیو میں؟”
”نیگیو سے نہیں ملا۔”
“پھر کہاں سے؟”
شايد کیپٹن ضرورت سے زياده بول چکا تھا۔ اس کے چہرے کے تائثرات نرم
پڑ گئے۔
سالومن، پہلي فرصت میں میں آپ کے پاس آيا ہوں۔ اس کي وضاحت”
نہیں کر سکتا۔ يہ ايسے ہي ہے جیسے ۔ ۔ ۔ میرا خیال ہے کہ ۔ ۔ ۔ خیر ۔ ۔ ۔۔”
کیپٹن بوکھلايا ہوا تھا۔
وه سیدھا میز پر جھکا تو اس کي آنکھیں دہک رہي تھیں، اگلے ہي لمحے
اس نے کرسي کي پشت سے ٹیک لگا لي۔ کونے میں رکھے ريفريجريٹر سے
پروفیسر نے ووڈکا کے دو پیگ بنائے اور برف ڈالي۔ اسے کیپٹن کي گھبراہٹ پر
ترس آ رہا تھا۔ تاہم اسے وجہ سمجھ نہ آئي۔ شايد آندھي کے بعد نکلنے والے
ڈھانچے نے اس کے حواس باختہ کر ديے ہوں؟ تاہم قانون کو ايک طرف کر کے
اس نے کیپٹن کو پیگ ديا اور خود بھي پینے لگا۔
خیر آرون، میں اسے کھول کر ديکھتا ہوں۔ میرے آلات لیبارٹري میں ساتھ”
والے کمرے میں رکھے ہیں۔ ساتھ چلو، مل کر کام کرتے ہیں۔ اس طرح تمہیں
تسلي ہو گي۔” سالومن بولا۔
کیپٹن تشکر آمیز انداز میں مسکرايا لیکن سر کو نفي میں ہلا کر بولا۔”مجھے فوري واپس جانا ہے۔” پھر اس نے سالومن کو ايک کارڈ ديا اور بولا۔ “اس
پر موجود نمبر پر مجھ سے کسي وقت بھي بات کر سکتے ہیں۔ اگر کسي چیز
”کي ضرورت ہو تو۔ ۔ ۔۔
کھڑے ہو کر اس نے سالومن سے مصافحہ کیا۔
”میں آج رات کال کروں گا۔ شايد کچھ پتہ چل جائے۔”
کیپٹن اپنے پیچھے دروازه بند کر رہا تھا کہ پروفیسر بولا۔ “ڈھانچے کے بارے
”بھي بتاؤ۔ اس سے بھي شايد کچھ معلومات مل سکیں۔
”مڑے بغیر سیماچ بولا۔ “مجھے معلوم ہے کہ ڈھانچہ کہاں ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: