Aaqa e Jinnat By Irving Karchmar Translated by Muhammad Monsoor – Episode 5

0

آقائے جنات از اورنگ کارچمر/ محمد منصور – قسط نمبر 05

–**–**–
باب 5
سنبھلو۔ میں اپني روح تم میں ڈالنے لگا ہوں
میرے الفاظ تم پر واضح ہو جائیں گے
ضرب الامثال 1:23
پروفیسر نے سلنڈر کو بہ آساني کھول کر اندر موجود کاغذ کا چوکور ٹکڑا
نکال لیا۔ سلنڈر بذا ِ ت خود ٹھوس سونے سے بنا تھا اور اس پر لگے جواہرات بے
مثل تھے۔ ہاتھي دانت کا رنگ امتدا ِد زمانہ سے پیلا پڑ چکا تھا لیکن گذرے زمانے
کے حساب سے اس کي حالت بہت اچھي تھي۔ صحرائي غار۔۔۔ البتہ مہر سے
زياده معلومات نہیں ملیں۔ اسے بنانے میں شايد ہموار پتھر استعمال ہوا تھا۔
تاہم اس کي حیرت کا سبب يہ تھا کہ کاغذ کي تحرير آرامي کي بجائے
کنعاني تھي۔ اگرچہ يہ تحرير فونیقي اور مؤاب سے مشابہہ لیکن عبراني کي
قديم ترين معلوم شکل تھي۔ اس نے آرام سے اپنے جذبات پر قابو پايا۔ اسے
بخوبي علم تھا آرامي اور کنعاني زبانوں کے ادوار ايک دوسرے پر چھائے ہوئے
تھے۔ قديم ترين آرامي زبان کي تحرير کا تعلق چوتھي صدي قبل مسیح سے
تھا جو مصر میں بالائي دريائے نیل کے علاقے سے دريافت ہوا تھا۔ يہ خط
يروشلم کے ہیکل کے بڑے پجاري کو لکھا گیا تھا۔ جبکہ کنعاني رسم الخط
يہوديوں نے پہلي صدي قبل مسیح تک استعمال کي تھي۔ حت ٰي کہ سامريوں
نے اپني مذہبي تحرير میں اسي کي ايک قسم استعمال کي تھي۔
تاہم سولومن کو يقین تھا کہ يہ تحرير اتني بھي جديد نہیں۔ آٹھويں صدي
کي عبراني زبان کي اپني مخصوص علامات اور نشانیاں تھیں تاہم يہ تحرير
دسويں صدي کي فونیقي تحارير سے مماثل تھیں جو جبیل سے ملي تھیں۔
اس نے فوراً ہي اس تحرير کو ہوا بند لفافے میں محفوظ کر لیا کہ ہوا سے
معمولي سا تعامل بھي اسے خراب کر سکتا تھا۔ پھر اس نے طاقتور محدب
عدسے سے ديکھا تو اسے چوڑے دائرے دکھائي ديئے۔ جیسے يہ۔ ۔ ۔ اف خدايا۔
تقويم جیسے تھے۔ Gezerيہ تو
آثار قديمہ کے
ِ
ماہرين
ِ
يہ تقويم قديم ترين عبراني تحرير سمجھي جاتي ہے۔
کا شہر Gezerمطابق يہ شايد دسويں صدي سے تعلق رکھتي ہے جب
اسرائیل کا حصہ تھا۔ اسے بائبل کا حوالہ بھي ياد تھا: 1۔ بادشاه 9:16۔ اسے
اس دور کا مطالعہ بہت پسند تھا کہ يہ شاه سلیما ؑن کا دور تھا۔ ہوا بند سلنڈر
اور خشک صحرا کي ريت نے اسے اچھے طريقے سے محفوظ رکھا تھا اور اب
اسے کیپٹن سیماچ نے دريافت کیا۔ بے اعتباري سے اس نے سر ہلايا۔ہو سکتا ہے کہ يہ تحرير کل لکھي گئي ہو۔ اسے دريافت کے بارے مزيد
معلومات درکار تھیں۔ اگرچہ اس نے خود کو جتانے کي بہت کوشش کي لیکن
اس پر عجیب بچگانہ سا جوش چھا رہا تھا۔
اس کي دوسري جانب يہ عجیب سي کیا چیز تھي؟ دو باہم دائرے اور
ستاره داؤدي کسي مہر کي طرح لگ رہا تھا تاہم اس نے ايسي کوئي چیز پہلے
کبھي نہیں ديکھي تھي۔ ستارے کے نیچے اور اندر لکھے ہوئے الفاظ اسے
الجھا گئے۔ اس نے آج تک کوئي بھي ايسا کاغذ نہیں ديکھا تھا جو دونوں اطراف
سے لکھا گیا ہو۔ اس نے جھرجھري لي۔ اسے اپني صلاحیت پر شک نہیں تھا۔
جلد ہي اسے پتہ چل جانا تھا۔
کیپٹن سیماچ کو گئے دو گھنٹے ہو چکے تھے۔ اب شام کے سات بج رہے
تھے اور وه اکیلا اس معمے میں گم تھا۔ اسے اس بات کا يقین تھا کہ يہ تحرير
بہت ہي پراني اور قديم ہے اور اسے کسي صحرا سے لايا گیا ہے۔ اس نے
محکمہ موسمیات کو فون کر کے پوچھ لیا تھا کہ حال ہي میں کوئي آندھي
نہیں آئي تھي۔
کاغذ کي اس قسم کے بارے اسے بخوبي علم تھا کہ چاہے کتنا ہي ہوا
بند کر کے نہ رکھا جاتا، اسرائیل کے موسم میں جلد ہي خراب ہو جاتي، چاہے
صحرائے نیگیو ہي میں کیوں نہ ہو۔ بہت زياده نمي ہوتي ہے۔ نہیں۔ يہ کسي دور
دراز کے صحرا سے آيا ہے۔ آرون کہہ چکا تھا کہ يہ نیگیو سے نہیں۔ اسے کیپٹن
سیماچ کي بتائي ہوئي کہاني کے ايک حصے تک تو يقین آ گیا۔ شواہد ہیں کہ
بہت قديم دور میں عبرانیوں نے اس طرح کا کاغذ استعمال کیا ہو۔ اس کاغذ کي
تیاري میں استعمال ہونے والے پودے يعني “گومیاه” کے بارے کتا ِ ب خروج اور
إشعیا دونوں جگہ تذکره ہے لیکن اس طرح کے کاغذ کے بارے کچھ نہیں کہا گیا۔
سالومن نے اس خیال پر قہقہہ لگايا کہ اس کے سامنے دنیا کا سب سے پہلا
اور بہترين حالت میں تحرير شده اس نوعیت کا کاغذ رکھا ہے۔ قديم ترين کاغذ
جس پر اصل تحرير مٹا کر نئي تحرير لکھي گئي تھي، وادئ مرابعات سے نکالي
بحر مردار کے ساتھ ہے۔ اس کا تعلق ساتويں صدي قبل مسیح
ِ
گئي تھي جو
سے تھا۔
سالومن نے سیاہي کا ايک ننھا سا حصہ ٹیسٹ کے لئے نکالا جس کے
نتائج سے اس کا جوش اور بھي بڑھ گیا۔ بالسم کي گوند کو کوئلے اور پاني
سے ملايا گیا تھا۔ يہ سیاہي بہت پرانے دور کي تھي۔ تالمود کے دور میں
لکھائي کے لئے کھوکھلے نرسل کي قلمیں استعمال ہوتي تھیں جنہیں
گولموس کہا جاتا تھا۔ محدب عدسے کي مدد سے الفاظ کے جوڑوں کو ديکھا تو
اسے پتہ چلا کہ قلم کي نوک اس طرح کاٹي گئي تھي کہ وه چوڑي تو تھي
لیکن بٹي نہیں تھي۔
اگلا مرحلہ اس متن کا ترجمہ تھا۔ پہلي سطر تو آسان تھي کہ آج بھي
اس طرح خط کا آغاز کیا جاتا ہے۔ تاہم اگلے دو الفاظ نے اسے چند لمحے کے
لئے چپ کر ديا۔
میں، زدوق
اس نے ايسي کیفیت میں ان الفاظ کو ديکھا جو حیراني اور غیر يقیني کےدور حکومت میں ہیکل کا بڑا
ِ
بین بین تھي۔ زدوق شاه سلیما ؑن کے ابتدائي
پجاري تھا۔ اس دور میں ہیکل تعمیر ہوا تھا۔ اس کے بارے کہا جاتا تھا کہ وه
دوسرا آرون ہے يعني مو ٰس ؑي کا بھائي جو پہلا بڑا پجاري بنا۔ ايسي شخصیت
جو تابو ِ ت سکینہ کے سامنے کھڑا ہو سکے۔
اس نے زبردستي ايک وقفہ لیا تاکہ اپني منتشر سوچوں کو مجتمع کر کے
باقي متن کا ترجمہ شروع کرے۔ دوپہر کے کھانے سے بچا ہوا ايک سیب کھانے
کے بعد اس نے سگريٹ سلگايا اور کھلي کھڑکي میں کھڑے ہو کر طلوع ہوتے
چاند کو ديکھا۔ ہمیشہ کي طرح ہي رات کے صاف آسمان کو ديکھنے سے اس
کا ذہن ُپرسکون ہوا۔ پلکیں جھپکاتے ہوئے وه سوچوں میں ڈوب گیا۔
سالومن کو ياد نہیں کہ کتني دير تک وه کھڑکي پر کھڑا رہا۔ تاہم گھڑيال
کي آواز سے پتہ چلا کہ ايک گھنٹہ گذر چکا ہے۔ اسے حیرت ہوئي۔ اس کا ذہن
پہلے کبھي اس طرح گم نہیں ہوا تھا۔ اسے تو يہ بھي ياد نہیں رہا کہ وه سوچ
کیا رہا تھا۔ احساس کي دنیا میں لوٹتے وقت اسے کچھ کچھ ياد تھا۔ کیا يہ خواب
تھا؟ مجھے کیا ہوا؟ کیا میں کھڑے کھڑے سو گیا؟
تاہم اسے تھکن نہیں محسوس ہوئي۔ وه بالکل ہوشیار اور بیدار تھا۔ اپني
میز کے ساتھ بیٹھ کر اس نے ترجمہ شروع کرنا چاہا تو ياد آيا کہ اس نے ابھي
تک اپني بیٹي کو اس بارے نہیں بتايا کہ وه دير سے گھر آئے گا۔ اب اسے فون
کر کے بیٹي کو بتانا تھا کہ اسے بہت دير ہو جائے گي۔ اب اس کي اصل
مشکلات شروع ہو رہي تھیں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: